Al-Baqara 2:139

Al-Baqara · from ayah 139

2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۚ— وَلَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۚ— وَنَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَ ۟ۙقُلۡ اَ تُحَآجُّوۡنَـنَا فِى اللّٰهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمۡۚ وَلَنَآ اَعۡمَالُـنَا وَلَـكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡۚ وَنَحۡنُ لَهٗ مُخۡلِصُوۡنَۙ

(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "Do you argue with us about Allah while He is our Lord and your Lord? For us are our deeds, and for you are your deeds. And we are sincere [in deed and intention] to Him."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 16 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:139

اے نبیؐ! اِن سے کہو: "کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو؟حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجیئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہم تو اسی کے لئے مخلص ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو ؟ حالانکہ وہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار (یہ) اور (بات ہے کہ) ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے عمل تمہارے لیے۔ اور ہم نے تو اپنی بندگی اسی کے لیے خالص کرلی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیں: کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑا کرتے ہو حالانکہ وہ ہمارا (بھی) رب ہے، اور تمہارا (بھی) رب ہے اور ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں، اور ہم تو خالصۃً اسی کے ہو چکے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا رب اور تمہارا رب ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال اور ہم اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہیے : کیا تم لوگ ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جبکہ وہی ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی ؟ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ اور ہم خالصتہ اسی کی بندگی کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں حجت کر رہے ہو۔ حالانکہ وہی ہمارا بھی رب ہے، وہی تمہارا بھی ہے۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اور ہم خالص اسی کے لیے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کیا تم لوگ ہم سے جھگڑا کرتے ہو اللہ کے بارے میں، حالانکہ وہی رب ہے ہمارا بھی، اور تمہارا بھی، اور ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں، اور ہم اس کیلئے خالص کرنے والے ہیں، (اپنی عبادت و بندگی کو)

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے باب میں حجت کئے جاتے ہو۔ درآنحالیکہ وہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے۔ اور ہمارے عمل ہمارے لیے ہیں اور تمہارے عمل تمہارے لیے اور ہم تو اسی کے لیے خالص ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ ان سے) کہیے کیا تم ہم سے جھگڑ رہے ہو (دلیل بازی کر رہے ہو) اللہ کے بارے میں ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اور ہمارے لیے ہوں گے ہمارے عمل اور تمہارے لیے ہوں گے تمہارے عمل اور ہم تو خالص اسی کے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے بنی ان سے کہو ! کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں۔ تمہارے اعمال تمہارے لئے، ہم اللہ ہی کے لئے اپنی بندگی کو خاص کرچکے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet, say to them, "Do you argue with us concerning AIIah, whereas He is our Lord and also your Lord? We shall be accountable to Him for our deeds and you for yours; so we have dedicated our worship to Him alone.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say: :Would you argue with us about Allah, when He is our Lord as well as your Lord? For us our deeds, and for you your deeds! And we are faithful to Him.

— Muhammad Taqi Usmani

Say: :Would you argue with us about Allah, when He is our Lord as well as your Lord? For us our deeds, and for you your deeds! And we are faithful to Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say (O Muhammad to the Jews and Christians), "Dispute you with us about Allah while He is our Lord and your Lord And we are to be rewarded for our deeds and you for your deeds. And we are sincere to Him (i.e. we worship Him alone and none else, and we obey His orders)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto the People of the Scripture): Dispute ye with us concerning Allah when He is our Lord and your Lord? Ours are our works and yours your works. We look to Him alone.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "Do you argue with us about Allah while He is our Lord and your Lord? For us are our deeds, and for you are your deeds. And we are sincere [in deed and intention] to Him."

— Saheeh International

(Muhammad), ask the People of the Book, "Why should you argue with us about God, Who is our Lord as well as yours, when we are sincere in our belief in God?

— Muhammad Sarwar

Say: Do you dispute with us about Allah, and He is our Lord and your Lord, and we shall have our deeds and you shall have your deeds, and we are sincere to Him.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: contend ye with us regarding Allah, whereas He is our Lord even as He is Your Lord And unto us our works, and unto you your works, and we are His devotees.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: Will ye dispute with us about Allah, seeing that He is our Lord and your Lord; that we are responsible for our doings and ye for yours; and that We are sincere (in our faith) in Him?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:139

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 139–141

مشرکین کے اعمال پر بیزاری مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی ﷺ کو دے رہا ہے کہ " تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں " اور جگہ فرمایا آیت (فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ) 6۔ الانعام :147) یعنی " اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے (نیک) کام سے اور میں تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 138 ”یعنی ہم یہی تو کہتے ہیں کہ اللہ ہی ہم سب کا رب ہے اور اسی کی فرمانبرداری ہونی چاہیے۔ کیا یہ بھی کوئی ایسی بات ہے کہ اس پر تم ہم سے جھگڑا کرو ؟ جھگڑے کا اگر کوئی موقع ہے بھی، تو وہ ہمارے لیے ہے، نہ کہ تمہارے لیے، کیونکہ اللہ کے سوا دوسروں کو بندگی کا مستحق تم ٹھیرا رہے ہو نہ کہ ہم۔ ”اَ تُحَآ جُّوْنَنَا فِی اللہِ“ کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”کیا تمہارا جھگڑا ہمارے ساتھ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ہے“ ؟ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اگر واقعی تمہارا یہ جھگڑا نفسانی نہیں ہے، بلکہ خدا واسطے کا ہے، تو یہ بڑی آسانی سے طے ہوسکتا ہے۔ سورة الْبَقَرَة 139 یعنی تم اپنے اعمال کے ذمّے دار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 139–141

خلاصہ تفسیر آپ (ان یہود و نصاری سے) فرما دیجئے کہ کیا تم لوگ (اب بھی) ہم سے حجت کئے جاتے ہو حق تعالیٰ کے معاملہ میں (کہ وہ ہم کو قیامت میں نہ بخشیں گے) حالانکہ وہ ہمارا اور تمہارا (سب کا) رب (اور مالک) ہے (سو ربوبیت میں تو تمہارے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں جیسا تمہارے بعض دعو وں سے اختصاص مفہوم ہوتا ہے مثل نحن ابناء اللہ) اور ہم کو ہمارا کیا ہوا ملے گا اور تم کو تمہارا کیا ہوا ملے گا (یہاں تک تو تمہارے نزدیک بھی مسلم ہے) اور (اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ) ہم نے صرف حق تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے اپنے (دین) کو (شرک وغیرہ سے) خالص کر رکھا ہے (بخلاف تمہارے طریقہ موجودہ کے کہ علاوہ منسوخ ہونے کے خود شرک سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہود و نصاری سے اظہار براءت : یعنی اگر اس کلمہ جامعہ کو نہیں مانتے جو تمام نبیوں اور رسولوں اور اللہ کی اتاری ہوئی تمام ہدایتوں پر ایمان اور اللہ ہی کی بندگی و اطاعت کے اقرار پر مشتمل ہے، بلکہ اس بات پر اڑ گئے ہیں کہ خدا کے بعض نبیوں کو مانیں گے بعض کو نہیں مانیں گے، اس کی بعض ہدایتوں کو قبول کریں گے، بعض کو نہیں قبول کریں گے در آنحالیکہ یہ تمام انبیاء و رسل خدا ہی کے بھیجے ہوئے اور یہ ساری ہدایتیں اسی کی نازل کی ہوئی ہیں تو اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ وہ خود خدا کے بارے میں تم سے جھگڑ رہے ہیں، گویا ان کا خدا کوئی اور ہے اور تمہارا خدا کوئی اور، حالانکہ تمہارا اور ان کا رب ایک ہی ہے۔ اگر انہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

139۔ 1 کیا تم ہم سے اس بارے میں جھگڑتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے لئے اخلاص و نیاز مندی کے جذبات رکھتے ہیں اور اسی کے احکامات کی پیروی کرنے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ ہمارا ہی نہیں تمہارا بھی ہے اور تمہیں بھی اس کے ساتھ یہی معاملہ کرنا چاہیے جو ہم کرتے ہیں اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہارا عمل تمہارے ساتھ، ہمارا عمل ہمارے ساتھ۔ ہم تو اسی کے لئے خاص عمل کا اہتمام کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 138–139

87: اس میں عیسائیوں کی رسم بپتسمہ (Baptisma) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے اصطباغ (رنگ چڑھانا) بھی کہا جاتا ہے، کسی شخص کو عیسائی بنتے وقت وہ اسے غسل دیتے ہیں جو بعض اوقات رنگا ہوا پانی ہوتا ہے، ان کے خیال میں اس طرح اس پر عیسائی مذہب کا رنگ چڑھ جاتا ہے، یہ بپتسمہ پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ہر بچہ ماں کے پیٹ سے گنہگار پیدا ہوتا ہے اور جب تک وہ بپتسمہ نہ لے گا گنہگار رہتا ہے اور یسوع مسیح کے کفارے کا حق دار نہیں ہوتا، قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ اس بےسر وپا خیال کی کوئی حقیقت نہیں، رنگ چڑھانا ہے تو اللہ کا رنگ چڑھاؤ جو توحید خالص کا رنگ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب قرآن مجید کی یہ دندان شکن محبت اور دلیل اپنے فیصلہ کن انجام تک یوں پہنچتی ہے۔ قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ (139) ” اے نبی ان سے کہو ! کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ۔ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لئے ۔ اور ہم اللہ ہی کے لئے اپنی بندگی خالص کرچکے ہیں۔ “ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی صفت ربوبیت میں کسی کو مجال اختلاف نہیں۔ وہ ہمارا بھی رب اور تمہارا بھی رب ہے ۔ ہم اپنے اعمال کا حساب دیں گے اور تم اپنے اعمال کے جوابدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اللہ تعالیٰ کی نسبت تمہارا نزاع کرنا اور تمہارا یہ سمجھنا کہ اس کی عنایت و رحمت کا ہمارے سوا کوئی مستحق نہیں لغو بات ہے وہ جیسا تمہارا رب ہے ہمارا بھی رب ہے اور ہم جو کچھ اعمال کرتے ہیں خالص اسی کے لئے کرتے ہیں۔ تمہاری طرح زعم آبا و اجداد اور تعصّب و نفسانیت سے نہیں کرتے پھر کیا وجہ کہ ہمارے اعمال وہ مقبول نہ فرمائے اور تمہارے اعمال مقبول ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 139 قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰہِ وَہُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ ج۔ ربّ بھی ایک ہے اور اس کا دین بھی ایک ہے ‘ ہاں شریعتوں میں فرق ضرور ہوا ہے۔ وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ج وَنَحْنُ لَہٗ مُخْلِصُوْنَ ۔ ہم اس کے لیے اپنے آپ کو اور اپنی بندگی کو خالص کرچکے ہیں۔ یہاں پے در پے آنے والے تین الفاظ کو نوٹ کیجیے۔ یہ مقام میرے اور آپ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آیت 136 ان الفاظ پر ختم ہوئی تھی : وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ہم اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ ان میں تو ہم بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد آیت 138 کے اختتام پر یہ الفاظ آئے : وَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ اور ہم اس ہی کی بندگی کرتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

171 یہود و نصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ لہذا اس کی جملہ نوازشات اور الطاف و اکرام کے مستحق صرف ہم ہی ہیں۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اللہ جیسا تمہارا پروردگار ہے ویسا ہی ہمارا بھی ہے۔ وہ تو جس طرح کے کوئی شخص عمل کرے گا اسی کے مطابق اس پر نوازشات کرے گا۔ اور اس لحاظ سے ہم تم سے بہتر بھی ہیں کہ ہم فقط اسی کی بندگی کرتے ہیں اور تم شرک بھی کئے جاتے ہو اور یہ اندازہ اب تم خود لگا سکتے ہو کہ آئندہ اس کی نوازشات اور الطاف و اکرام کس پر ہونا چاہئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

500 ۔ خطاب اگرچہ سارے اہل باطل کے لیے عام ہے۔ ، لیکن سیاق میں خاص طور پر مراد یہود ونصاری ہیں۔ ذکروافیہ وجوھا احدھا انہ خطاب للیھود والنصری وھو الیق بنظم الایۃ (کبیر) 501 ۔ (توکم از کم اس کی ذات وصفات کے باب میں تو تمہیں کوئی مغالطہ یا غلط فہمی نہ رہنا چاہیے) یعنی اے اہل کتاب جب ہمارے تمہارے درمیان کوئی اختلاف پروردگار کے تعین میں نہیں۔ تو اول تو اس کی توحید پر قائم رہنا چاہیے۔ اور تثلیث فی التوحید یا توحید فی التثلیث اور خدا کے فرزند، بروز ومظہر وغیرہ قسم کے قسم کے خرافات سے بالکل بچنا چاہیے۔ دوسرے جب اس کی صفات کمالیہ پر ایمان ہے، تو وہ اپنی حکمت و ربوبیت کے تقاضا سے جس نسل کے جس فرد کو بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 138–139

صِبْغَۃَ اللہِ اس سے پہلی آیت میں دین اسلام کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرکے کہا گیا تھا مِلَّۃ اِبْرَاھِیمَ حنیْفًا اس جگہ دین کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے بتلا دیا کہ دین در حقیقت اللہ تعالیٰ کا ہے، کسی پیغمبر کی طرف اس کی نسبت مجازاً کردی جاتی ہے اور اس جگہ ملت کو صبغۃ کے لفظ سے تعبیر کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ کردیا اول تو نصاریٰ کی تردید ہوگئی نصاریٰ کے یہاں ایک ضروری رسم یہ تھی کہ بچہ کو پیدائش کے ساتویں روز ایک زرد رنگ کے پانی میں نہلاتے تھے اور ختنہ کے بجائے اسی نہلانے کو بچہ کی طہارت اور دین نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے، نصرانیوں کی اصطلاح میں اس رسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قُلْ : اے محمد ﷺ ! آپ ( یہود سے) کہہ دیجئے۔ اَتُحَاۗجُّوْنَـــنَا فِي اللّٰهِ ( کیا تم جھگڑا کرتے ہو خدا کے بارہ میں) یعنی اللہ کے دین میں اور اس بارے میں کہ اس نے عرب میں سے پیغمبر پیدا فرمایا اور تم میں سے پیغمبر نہ بنایا جھگڑتے ہو۔ وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ( حالانکہ وہی ہمارا اور تمہارا رب ہے) یعنی اس بارے میں ہم تم برابر ہیں کہ حق تعالیٰ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی اسے کسی خاص قوم سے زیادہ خصوصیت نہیں اور وہ پنے بندوں میں سے جسے چاہے نبوت کے لیے انتخاب کرلے اس میں تمہارا کچھ اجارہ نہیں۔ وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ( اور ہمارے واسطے ہیں ہمارے اعمال اور تمہارے لئے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(139) اے محمد ﷺ آپ یہود ونصاری سے کہہ دیجیے کہ تم ہم سے اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملہ میں تنازعہ کرتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے، ہمارے لیے ہمارا دین ہے، تم پر تمہارے اعمال اور تمہارا دین ہے، ہم تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت اور اسی کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یہود مسلمانوں سے جھگڑتے کہ تمام انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہوئے ہیں، پھر یہ آخری نبی عرب سے کیسے مبعوث ہوگئے ؟ ہمارا دین سب سے بہتر اور تمام انبیاء کا دین ہے، تو اس آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے کہ ہمارا تمہارا سب کا رب ایک ہے اور ہم عبادت میں مخلص بھی ہیں، پھر تمہارا یہ کہنا کہ ہم بہتر ہیں، یہ کیسے درست ہوسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 139 حسن نے کہا : ان کا جھگڑ نا یہ تھا کہ انہوں نے کہا : ہم تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فریبی ہیں کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا ہم تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فریبی ہیں کیونکہ ہمارے آباء اور ہماری کتب مقدم ہیں۔ اور اس لئے کہ ہم نے بتوں کی عبادت نہیں کی۔ آیت کا معنی یہ ہے : اے محمد ! ﷺ ان سے کہو : یعنی ان یہود ونصاریٰ کو کہو جو یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تم سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریبی ہیں اپنے آباء اور اپنی کتب کے مقدم ہونے کی وجہ سے، اس میں دین کی تقدیم کی کیا تاثیر ہے۔ فی اللہ کا معنی ہے : اللہ کے دین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 139–141

(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اتحاجوننا “ سے مراد ہے ” اتخاصمونا “ یعنی کیا ہم سے جھگڑا کرتے ہو۔ (2) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اتحاجوننا “ سے مراد ہے ” قل اتحاجوننا “ یعنی تم ہم سے جھگڑتے ہو۔ (3) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن کتم شھادۃ عندہ من اللہ “ میں یہودیوں کا وہ قول مراد ہے جو انہوں نے ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کے بارے میں کہا تھا کہ وہ یہودی اور نصرانی تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اگر تمہارے پاس کوئی شہادت ہے تو مجھ سے وہ شہادت نہ چھپاؤ۔ اور تحقیق اللہ تعالیٰ جانتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(قُلْ : کہو) (اَتُحَآجُّوْنَنَا : کیا تم لوگ دلیل بازی کرتے ہو ہم سے ؟ ) ( فِی اللّٰہِ : اللہ (کے بارے ) میں) (وَھُوَ رَبُّنَا ) (حالانکہ وہ ہمارا رب ہے) (وَرَبُّــکُمْ : اور تمہارا رب ہے) (وَلَنَـآ : اور ہمارے لئے ہی ہیں) (اَعْمَالُــنَا : ہمارے اعمال) (وَلَــکُمْ : اور تمہارے لئے ہی ہیں) (اَعْمَالُــکُمْ : تمہارے اعمال) ( وَنَحْنُ : اور ہم ) (لَــہٗ : اس کے لئے ہی ) (مُخْلِصُوْنَ : خالص کرنے والے ہیں (اپنے اعمال کو) ترکیب : ” اَتُحَاجُّوْنَنَا “ میں ہمزہ استفہام کا ہے۔” تُحَاجُّوْنَ “ فعل مضارع ہے اور اس کے ساتھ ضمیر مفعولی ” نَا “ ہے۔ ” وَھُوَ رَبُّنَا “ کا واوحالیہ ہے۔ ” ھُوَ “ مبتدأ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ یہود و نصاری سے فرمادیں کہ تم ہم سے اللہ کے دین کے بارے میں جو حجت بازی کرتے ہو اور کہتے ہو کہ جو دین اللہ کو پسند ہے وہ یہودیت اور نصرانیت ہے۔ تمہارا یہ کہنا اور اپنے خیال کے مطابق جنت میں داخل ہونے کے خواب دیکھنا غلط ہے۔ وہ ہمارا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے سب کو اسے راضی کرنے کے لیے فکر مند ہونا لازم ہے اور اس نے جس دین اور جس ملت کو جس زمانہ میں ذریعہ نجات بنایا اسی کو اختیار کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے عرب میں سے ایک نبی کو چن لیا۔ اسی نبی پر ایمان لانا فرض ہے تم ایمان نہیں لاتے اور ہم سے جھگڑتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 139–141

تلقین جواب از مجادلۂ اہل کتاب قال تعالیٰ قل اتحاجوننا فی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ وال تسئلون عما کانوا یعملون اور اگر اہل کتاب آپ سے اس بارے میں مجادلہ کریں کہ ہم خدا کے رنگ کے ساتھ رنگین ہیں ہمارا دین اور ہماری کتاب تمہارے دین اور تمہاری کتاب سے مقدم ہے نبوت و رسالت ہمیشہ ہمارے ہی خاندان میں رہی اور ہم اللہ کے محبوب ہیں تو آپ ان کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں مجادلہ کیے چلے جاتے ہو۔ حالانکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اس کی ربوبیت کسی کے ساتھ مخصوص نہیں سب کو عام ہے جو اس کے حکم کے مطابق طاعت اور عبادت کرے گا وہ قبول ہوگی ورنہ رد۔ اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

264 یہ خطاب یہودونصاری سے ہے اور فی اللہ میں مضاف محذوف ہے۔ ای فی دینہ اوالقرب منہ (قرطبی ص 140 ج 2) ۔ حضرت شیخ نے فرمایا یعنی تم ہم سے اللہ کے دین اور اس کی توحید کے بارے میں جھگڑتے ہو کہ اللہ کا سچا دین یہودیت اور نصرانیت ہے اور حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو خدا کے نائب اور مختار اور متصرف مانے بغیر خدا راضی نہیں ہوسکتا۔ نیز ہم چونکہ اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ اس لیے ہم خدا سے زیادہ قریب ہیں قالوا نحن اولی باللہ منکم لاننا ابناء اللہ واحباء ہ (قرطبی ص 145 ج 2) وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۔ لیکن یہ تمہارا جھگڑا بالکل لغو ہے۔ اس لیے کہ جس طرح وہ تمہارا رب ہے اسی طرح وہ ہمارا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 139–141

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ یہود ونصاری مسلمانوں کو اپنے باطل مذہب کی طرف دعوت دیتے تھے کہ یہودی اور نصرانی ہوجاؤ تو ہدایت پا جاؤ گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے کہلوایا کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں اور اسی پر کاربند رہیں گے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے اور شرک کرنے والوں میں نہیں تھے اس کے بعد ملت اسلام اور ملت ابراہیم کا اہل اصول اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بیان کیا گیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ تم اعلان کر دو کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اس کی توحید اور اس کی کتاب کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف نازل کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَتُحَاۗجُّوْنَـــنَا فِي اللہِ وَھُوَرَبُّنَا وَرَبُّكُمْ۝ 0 ۚ وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ۝ 0 ۚ وَنَحْنُ لَہٗ مُخْلِصُوْنَ۝ 139 ۙ حاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] ، وقال تعالی: وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 137–139

ترکیب : فان شرطیہ آمنوا فعل بافاعل 1 ؎ بمثل میں ب زائدہ ہے مثل صفت ہے مصدر محذوف کی ما مصدریہ ہے تقدیرہ ان آمنو ایمانا مثل ایمانکم پس یہ جملہ شرط ہے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مثل زائد ہو جیسا کہ لیس کمثلہ شیء میں ک زائد ہے جس سے مراد قرآن اور نبی ہے اور بہ کی ضمیر اس کی طرف پھرتی ہے تقدیرہ ان امنوا بما آمنتم بہٖ یعنی جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اگر اس پر یہ لوگ بھی ایمان لائے تو راہ پالیں گے۔ فقد اھتدو اجواب شرط اور اسی طرح وان تولو اصبغۃ اللہ منصوب ہے فعل محذوف کی طرف صبغۃ اللہ ومن استفہام … کے لیے مبتدا احسن ممیز صبغۃ تمیز مجموعہ خبر۔ تفسیر : یہود ونصاریٰ کے دعویٰ کا الزامی اور تحقیقی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قْلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِیْ اللّٰہِ وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ ج وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ج وَنَحْنُ لَہٗ مُخْلِصُوْنَ ۔ (کہہ دو ! کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہی ہمارا بھی رب ہے وہی تمہارا بھی رب ہے ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں اور ہم خالص اسی کے لیے ہیں) (البقرۃ : 139) یہود و نصاریٰ سے اظہارِ برأت آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ یہود و نصاریٰ سے کہیے کہ اگر تم اس کلمہ جامعہ کو قبول کرنے اور اللہ کے رنگ کو اختیار کرنے سے انکار کرتے ہو اور تمہیں اپنی روش پر اصرار ہے کہ تم اللہ کے نبیوں میں تفریق اور تقسیم جاری رکھو گے جس کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انحراف اور اس کے احکام کا انکار کرنے والا عملًا اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! اب ان سے پوچھیے کیا تم ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہو جس کی توحید اور اطاعت کا رنگ ہم نے اختیار کرلیا ہے جو ہمارا مالک ‘ ہمیں پالنے والا اور تمہارا مالک اور تمہیں بھی روزی مہیا کرنے والا ہے۔ جب ہم ایک ہی مالک کی مخلوق اور ایک ہی رازق کے در کے سوالی اور محتاج ہیں تو پھر اس ذات کبریا کے بارے میں ہمارے ساتھ کیوں جھگڑتے ہو ؟ ایک مالک ‘ خالق اور ایک ہی رازق ماننے والوں کو ایک ہی امت ہونا چاہیے اگر تم دنیا وآخرت کی سب سے بڑی سچائی توحید کو ماننے کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 139: قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنََا فِی اللّٰہِ : (کہہ تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہو) یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی شان میں ہم سے جھگڑا کرتے ہو اور اس پر جھگڑتے ہو کہ اس نے تمہاری بجائے عرب سے پیغمبر چنا۔ اور تم کہتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی پر کلام اتارنا ہوتا تو وہ ہم پر اتارتا۔ گویا تم اپنے کو نبوت کا بڑا حق دار قرار دیتے ہو۔ وَہُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمْ : (حالانکہ وہ ہمارا رب ہے اور تمہارا رب) ہم اس کے بندے ہونے میں سب شریک ہیں اور وہ ہمارا رب ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور عظمت اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے ان کو پہنچاتا ہے۔ وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

139۔ (آیت)” قل “ یا محمد یہود و نصاری کو فرمادیجئے (آیت)” اتحاجوننا فی اللہ “ اللہ تعالیٰ کے دین میں تم ہم سے جھگڑتے ہو ” محاجہ “ کا معنی المجادلۃ فی اللہ ہے حجت کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنا اور یہ اس طرح کہ انہوں نے کہا کہ بیشک انبیاء کرام (علیہم السلام) ہم میں سے تھے اور ہمارے دین پر تھے اور ہمارا دین قدیم ہے لہذا ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تمہاری نسبت زیادہ قریب ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” قل اتحاجوننافی اللہ ۔۔۔۔۔۔ وھو ربنا وربکم “ اللہ تعالیٰ کی نسبت ہم اور تم برابر ہیں کیونکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی (آیت)” ولنا اعمالنا ولکم اعمالکم “ ہر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 139–141

(139 ۔ 141) ۔ اہل کتاب کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہے جو انہوں نے کہی تھی۔ کہ { کُوْنُوْا ھُوْدًا اَّوْ نَصَرٰی } مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم تم سب ایک خدا کے بندے اور فرمانبردار ہیں پھر تم جو اپنے آپ کو صاحب ہدایت اور راودوں کو گمراہ سمجھتے ہو اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے رہی ہماری دلیل وہ خود تمہاری کتابیں ہیں جن میں یہ موجود ہے کہ نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے اور نبی ہوجانے کے بعد اور کوئی دین قائم نہیں رہ سکتا اگرچہ تم نے اپنی کتابوں کی وہ آیتیں بدل ڈالی ہیں لیکن تمہارے علماء کے عبد اللہ بن سلام وغیرہ جو سلام لے آئے ہیں وہ تم کو ہر روقت قائل کرتے ہیں اس پر بھی تم کو کچھ حجت ہے۔ تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(محاجۃ) دو یا دو سے زائد افراد کے درمیان اس مباحثہ اور مجادلہ کو کہا جاتا ہے جس کا تعلق اختلافی مسائل سے ہوتا ہے، ہر فریق اپنے مدمقابل کے خلاف اپنی بات میں کامیابی حاصل کرنا اور مدمقابل کے قول کا ابطال کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے دونوں ہی دلیل قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں مطلوب یہ ہے کہ یہ مباحثہ نہایت احسن طریقے سے ہو۔ قریب ترین راستے کے ذریعے سے گمراہ کو حق کی طرف لوٹایا جائے۔ فریق مخالف کے سامنے دلیل بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کردیا جائے۔ اگر آپ ان مذکورہ امور سے باہر نکل جائیں تو مباحثہ نہیں بلکہ جھگڑا کہلائے گا، یہ ایک مخاصمت ہوگی جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور اس جھگڑے اور مخاصمت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 138–142

قول باری ہے : سیقول السفھاء من الناس ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا ( نادان لوگ ضرور کہیں گے، انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکا یک پھرگئے) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ حضور ﷺ مکہ میں نیز ہجرت کے بعد ایک عرصے تک مدینہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت براء بن عازب ؓ نے کہا ہے کہ حضور ﷺ کی مدینہ تشریف آور کے سترہ مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا ہے کہ سولہ ماہ بعد۔ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ یہ عرصہ نو ماہ یا دس ماہ کا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

383 اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی اساس صدق و اخلاص : کہ اس کے یہاں صرف وہی عمل قابل قبول ہوسکتا ہے جو خالص اسی کیلئے ہو۔ اس میں اور کسی طرح کا کوئی شائبہ تک نہ ہو۔ اور جب اللہ یہ بتاتا ہے کہ یہ سب حضرات اسی کے مسلم و فرمانبردار تھے، اور ان سب کا دین اسلام ہی تھا، تو پھر تم لوگ اس کے برعکس دوسرے بےبنیاد دعوے کس طرح کرتے ہو ؟ اور یہودیت اور عیسائیت وغیرہ کے مختلف ناموں سے دین کے دوسرے مختلف ایڈیشن کس طرح تصنیف کرتے اور ان کو رواج دیتے ہو ؟ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی اساس و بنیاد صدق و اخلاص ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ویسا جو اس کے یہاں شرف قبولیت پانے والا ہو ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین -

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 137–140

مسلمان کی وضاحت تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے ایمان کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی مقبول ہے جیسا ایمان آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کا تھا اس کے علاوہ اگر ذرا بھی نفاق، شرک اور نافرمانی کا اثر موجود ہو تو ایسا ایمان اللہ تعالیٰ کو نامنظور ہے۔ رب جل شانہ فرماتے ہیں : اے پیغمبر ﷺ آپ نے ہمارا پیغام پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اسلام قبول کرکے کامیاب ہوجائیں، ہم ان کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیں گے اور اگر یہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی پر اڑے رہتے ہیں تو آپ ﷺ اس کی بالکل فکر نہ کریں ہم ان کے ظاہر و باطن سے پوری طرح آگاہ ہیں تو ہم ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

آیات 130- 141 اسرارو معارف حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ، آپ کا مذہب ، آپ کے عقائد اور اعمال انسانیت کی معراج ہیں۔ ان سے پھرنے والا شخص وہی ہوسکتا ہے جو انسانی قدروں سے بالکل ہی واقفیت نہ رکھتا ہو اور انتہائی درجے کا احمق ہو۔ ورنہ جسے فطرت سلیمہ نصیب ہوگی وہ ان کمالات کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسی مبارک ہستی ہیں کہ ہم سرفراز فرما کر اپنے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے مقرب ومقبول بندوں میں سے ہیں تو ایک ایسا کردار ، جو دو عالم میں سر بلندی و سرفرازی عطا کرے اور قرب الٰہی کا سبب اور وسیلہ بنے اسے کوئی ہو ش مند انسان تو چھوڑنے سے رہا بلکہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یہود مسلمانوں سے نزاع کرتے کہ جملہ انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہوئے ہیں پھر یہ آخری نبی سے کیسے مبعوث ہوگئے ہمارا دین بہتر اور تمام انبیاء کا دین ہے۔ اس آیت میں ان کی تردید فرمائی ہے ہمارا تمہارا سب کا پروردگار ایک ہے اور ہم عبادت میں مخلص بھی ہیں پھر تمہار یہ کہنا کہ ہم بہتر ہیں صحیح نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:139) اتحاجوننا۔ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ تحاجون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ محاجۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ جس کے معنی دوسرے سے حجت کرنے کے۔ یا جھگڑنے کے ہیں۔ نا ضمیر جمع متکلم ۔ کیا تم ہم سے (اللہ) کے دین کی بابت جھگڑتے ہو۔ فی اللہ۔ ای فی دین اللہ۔ اللہ کے دین کی بابت۔ اس کے متعلق یا اس کے بارے میں ۔ مخلصون۔ اخلاص (افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ اخلاص کے معنی ہیں کسی چیز کو ہر ممکن ملاوٹ سے پاک کردینا۔ یہ خلوص کا متعدی ہے جس کے معنی آمیزش سے پاک و صاف اور خالی ہونا ہے۔ یعنی ہم خدا کی اطاعت یا بندگی خالص کرنے والے ہیں۔ ہماری عبادت محض خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–141

لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141 یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 139–141

شان نزول : اہل کتاب کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جو انہوں نے کہی تھی کہ ہم سب ایک خدا کے بندے اور فرمانبردار ہیں پھر تم جو اپنے آپ کو صاحب ہدایت اور اوروں کو گمراہ سمجھتے ہو اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے ۔ رہی ہماری دلیل وہ خود تمہاری کتابیں ہیں ۔ جن میں یہ موجود ہے کہ نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے اور نبی ہوجانے کے بعد اور کوئی دین قائم نہیں رہ سکتا ۔ اگرچہ تم نے اپنی کتابوں کی وہ آیتیں بدل ڈالی ہیں لیکن تمہارے علماء میں سے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ جو اسلام لے آئے ہیں وہ تم کو ہر وقت قائل کرتے ہیں۔ اس پر بھی تم کو کچھ حجت ہے تو ہمارا کیا ہمارے آگے آوے گا اور تمہارا کیا تمہارے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) اس آیت میں یہودیوں ‘ عیسائیوں اور مشرکوں سے مشترکہ خطاب ہے کہ تم خدا کے احکام ونواہی کے متعلق ہم سے کیوں بحث ومناظرہ کرتے ہو جبکہ ہم سب کا وہ رب ہے ، جو مناسب سمجھتا ہے وہ فرماتا ہے اور فرماتا ہے اور جس کو مناسب سمجھتا ہے اس منصب کے لئے منتخب فرمالیتا ہے ہم اور تم اعتراض کرنے والے کون ؟ یہ تو خالصتا اس کے اختیار میں ہے پھر اگر بفرض محال عہدہ نبوت کا تعلق اعمال اکتساب سے بھی ہو تو بھی کیا تم سے زیادہ اخلاص و عادات کو سنوارو ، پھر اسلام پر اعتراض کرو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 139–140

ف 2 اے نبی آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کیا تم لوگ ہم سے اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کج بحثی اور کٹ حجتی کئے جاتے ہو حالانکہ وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور ہمارا بھی پروردگار ہے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور ہم نے تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے اعمال کو اور اپنے دین کو خالص کر رکھا ہے کیا تم اب یہی کہے جاتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہ سب لوگ یہودی یا نصرانی تھے آپ ان سے فرماتے اچھا یہ تو بتائو تم زیادہ ان لوگوں کے دین سے واقف ہو یا اللہ تعالیٰ حالانکہ تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 136–139

ف 1۔ حکم میں صحیفے اور کتابیں سب داخل ہیں حاصل مضمون کا یہ ہوا کہ دیکھو ہمارا دین کیسا انصاف اور حق کا ہے کہ سب انبیاء کو مانتے ہیں سب کتابوں کو سچا مانتے ہیں سب کے معجزات کو حق سمجھتے ہیں گوبوجہ منسوخ ہونے اکثر احکام کے دوسری مستقل شریعت محمدیہ پر عمل کرتے ہیں لیکن انکار اور تکذیب کسی کی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب سے کہا جا رہا ہے کہ جھگڑا چھوڑ دو کیونکہ تمہارا اور ہمارا رب ایک ہی ہے : 254: اے اہل کتاب جب ہمارے تمہارے درمیان کوئی اختلاف پروردگار کے تعین میں نہیں تو اول تو اس کی توحید پر قائم رہنا چاہئے اور تثلیث فی التوحید یا توحید فی التثلیث اور اللہ کے فرزند وبروز و مظہر وغیرہ قسم کے خرافات سے بالکل بچنا چاہئے دوسرے جب اس کی صفات کمالیہ پر ایمان ہے تو اپنی حکمت و ربوبیت کے تقاضا سے جس نسل کے جس فرد کو بھی چاہے نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دے وہ ہر طرح کا مالک و مختار ہے پھر اسرائیلی اور غیر اسرائیلی کسی خاصل نسل کا اجارہ نہیں اس لئے کہ اس وقت بھی نبوت جاری تھی اب جب نبوت کو ختم کردیا گیا اب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 139–141

These three verses bring to an end the section of the Surah in which certain claims of the Jews and the Christians have been refuted -- for example, their assertion that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) (Abraham), Sayyidna Ismail (علیہ السلام) (Ishmael), Sayyidna Ishaq (علیہ السلام) (Isaac), Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) (Jacob) and the prophets (علیہم السلام) in his lineage were either Jews or Christians, and the claim that they were the chosen people and would have the exclusive privilege of being sent straight to Paradise which would be denied to Muslims. The earlier verses have established…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

138. The one principle that the Prophet and his followers unreservedly stood for was that God alone should be served. Does that call for dispute and quarrel? If anyone, it is the Muslims who are entitled to quarrel with the Jews and Christians, for it is they rather than the Muslims who insist that others beside God should also be made objects of service and adoration. An alternative translation of this portion could be: 'Would you then dispute with us for the sake of Allah?' In this case the meaning of the verse would be that if their dispute was sincere, it was easy to put an end to it by,…

Read the full tafseer →