Al-Baqara 2:138

Al-Baqara · from ayah 138

2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ— وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ؗ— وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ ۟صِبۡغَةَ اللّٰهِ ‌ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً وَّنَحۡنُ لَهٗ عٰبِدُوۡنَ

(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[And say, "Ours is] the religion of Allah. And who is better than Allah in [ordaining] religion? And we are worshippers of Him."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 16 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:138

کہو: "اللہ کا رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے مسلمانوں ! کہہ دو کہ) ہم پر تو اللہ نے اپنا رنگ چڑھا دیا ہے اور کون ہے جو اللہ سے بہتر رنگ چڑھائے ؟ اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(کہہ دو: ہم) اللہ کے رنگ (میں رنگے گئے ہیں) اور کس کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہے اور ہم تو اسی کے عبادت گزار ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کا رنگ (اختیار کرو) اور رنگ میں اللہ سے بہتر کون ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(نیز ان سے کہہ دو کہ : ہم نے) اللہ کا رنگ (قبول کیا) اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہوسکتا ہے۔ اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، یہ اللہ کا رنگ اختیار کرو، اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(کہو رنگ اپنانا ہے تو) اللہ کا (معنوی اور ایمان و یقین والا) رنگ اپناؤ، اس سے بڑھ کر اچھا رنگ اور کون سا ہوسکتا ہے ؟ اور ہم بہرحال اسی (وحدہ لاشریک) کے عبادت گزار ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

(ہمارے اوپر) اللہ کا رنگ ہے۔ اور اللہ سے بہتر کون رنگ (دینے والا) ہے ؟۔ ہم تو اس کی بندگی کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے تو اختیار کرلیا ہے اللہ کے رنگ کو اور اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہوگا ؟ اور ہم تو بس اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کا رنگ اختیار کرو، اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Say, "Take Allah's colour, and who can give a better colour than Allah? Therefore, we worship and submit to Him alone. "

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(We dye ourselves with) the colouring of Allah! For who is better in colouring than Allah? We are to worship none but Him.

— Muhammad Taqi Usmani

(We dye ourselves with) the colouring of Allah! For who is better in colouring than Allah? We are to worship none but Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

[Our Sibghah (religion) is] the Sibghah of Allah (Islam) and which Sibghah can be better than Allah's And we are His worshippers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(We take our) colour from Allah, and who is better than Allah at colouring. We are His worshippers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[And say, "Ours is] the religion of Allah. And who is better than Allah in [ordaining] religion? And we are worshippers of Him."

— Saheeh International

Say, "Belief in God and following the guidance of Islam are God's means of purification for us. Islam is the baptism of God. No one is a better baptizer than He and we Muslims worship Him."

— Muhammad Sarwar

(Receive) the baptism of Allah, and who is better than Allah in baptising? and Him do we serve.

— Muhammad Habib Shakir

Ours is the dye of Allah! and who is better at dyeing than Allah! And we are His worshippers.

— Abdul Majid Daryabadi

(Our religion is) the Baptism of Allah: And who can baptize better than Allah? And it is He Whom we worship.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:138

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 137–138

شرط نجات یعنی اپنے ایمان دار صحابیو ! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقینا حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لئے کافی ہوگا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس حضرت عثمان ؓ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب حضرت عثمان کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت (فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) 2۔ البقرۃ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 137 اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ ”ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کرلیا“ ، دوسرے یہ کہ ”اللہ کا رنگ اختیار کرو“۔ مسیحیّت کے ظہور سے پہلے یہودیوں کے ہاں یہ رسم تھی کہ جو شخص ان کے مذہب میں داخل ہوتا، اسے غسل دیتے تھے اور اس غسل کے معنی ان کے ہاں یہ تھے کہ گویا اس کے گناہ دھل گئے اور اس نے زندگی کا ایک نیا رنگ اختیار کرلیا۔ یہی چیز بعد میں مسیحیوں نے اختیار کرلی۔ اس کا اصطلاحی نام ان کے ہاں اسطباغ (بپتسمہ) ہے اور یہ اصطباغ نہ صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو ان کے مذہب میں داخل ہوتے ہیں، بلکہ بچّوں کو بھی دیا جاتا ہے۔ اسی کے متعلق قرآن کہتا ہے، اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دین و ایمان ایک گہرا رنگ ہے جو انسان کے چہرہ بشرہ سے نظر آنا چاہئے صِبْغَةَ اللّٰهِ اس سے پہلی آیت میں دین اسلام کو حضرت ابراہیم ؑ کی طرف منسوب کیا گیا تھا مِلَّةَ اِبْرٰھٖمَ حَنِيْفًا اس جگہ اس کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے بتلا دیا کہ دین درحقیقت اللہ تعالیٰ کا ہے کسی پیغمبر کی طرف اس کی نسبت مجازی کردی جاتی ہے اور اس جگہ ملت کو صبغت کے لفظ سے تعبیر کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ ہوگیا اول تو نصاریٰ کی ایک رسم کی تردید ہوگئی ان کی عادت یہ تھی کہ جو بچہ پیدا ہو اس کو ساتویں روز ایک رنگین پانی میں نہلاتے تھے اور بجائے ختنہ کے اسی نہلانے کو بچہ کی طہارت اور دین نصرانیت کا پختہ رنگ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہود و نصاری کو دعوت : یہود و نصاری کو مخاطب کر کے دعوت دی گئی ہے کہ اگر اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہو تو یہودیت و نصرانیت کو چھوڑ کر یہ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ یہ کلمہ جامعہ جس کا اوپر ذکر گزرا، اپنے اندر اللہ کی تمام ہدایتوں اور اس کے تمام نبیوں اور تمام رسولوں کو سمیٹے ہوئے ہے، یہ وہ کلمہ ہے جس سے زندگی پر خدا کا اصلی رنگ چڑھتا ہے، پس اگر زندگی کو خدا کے رنگ میں رنگنا ہے تو اس رنگ میں رنگو، اس رنگ سے بڑھ کر کس کا رنگ ہوسکتا ہے ؟ اس میں یہود و نصاری کے بپتسمہ کی طرف ایک تعریض بھی ہے اور بغیر کس فعل کے لفظ صیغہ کا منصوب ہونا ہمارے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کوئی ایسا صیغہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

138۔ 1 عیسائیوں نے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا ہے جو ہر عیسائی بچے کو بھی اور ہر اس شخص کو بھی دیا جاتا ہے جسکو عیسائی بنانا مقصود ہوتا ہے اس رسم کا نام ان کے ہاں پبتسمہ ہے۔ یہ ان کے نزدیک بہت ضروری ہے، اس کے بغیر وہ کسی کو پاک تصور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور کہا اصل رنگ تو اللہ کا رنگ ہے۔ اس سے بہتر کوئی رنگ نہیں اور اللہ کے رنگ سے مراد وہ دین فطرت یعنی دین اسلام ہے۔ جس کی طرف ہر نبی نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی امتوں کو دعوت دی۔ یعنی دعوت توحید۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 138–139

87: اس میں عیسائیوں کی رسم بپتسمہ (Baptisma) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے اصطباغ (رنگ چڑھانا) بھی کہا جاتا ہے، کسی شخص کو عیسائی بنتے وقت وہ اسے غسل دیتے ہیں جو بعض اوقات رنگا ہوا پانی ہوتا ہے، ان کے خیال میں اس طرح اس پر عیسائی مذہب کا رنگ چڑھ جاتا ہے، یہ بپتسمہ پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ہر بچہ ماں کے پیٹ سے گنہگار پیدا ہوتا ہے اور جب تک وہ بپتسمہ نہ لے گا گنہگار رہتا ہے اور یسوع مسیح کے کفارے کا حق دار نہیں ہوتا، قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ اس بےسر وپا خیال کی کوئی حقیقت نہیں، رنگ چڑھانا ہے تو اللہ کا رنگ چڑھاؤ جو توحید خالص کا رنگ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 135–138

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “ رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یہودی ان آیتوں سے پھرگئے اور اسلام قبول نہ کیا اور نصرانیوں نے بھی انکار کردیا اور شیخی میں آکر کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک رنگ ہے جو مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ نصرانیوں نے ایک زرد رنگ بنا رکھا تھا اور یہ دستور تھا کہ جب ان کے بچہ پیدا ہوتا یا کوئی ان کے دین میں آتا تو اس کو اس رنگ میں غوطہ دے کر کہتے کہ خاصہ پاکیزہ نصرانی ہوگیا۔ سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مسلمانو کہو ہم نے خدا کا رنگ یعنی (دین حق) قبول کیا کہ اس دین میں آکر سب طرح کی ناپاکی سے پاک ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 138 صِبْغَۃَ اللّٰہِ ج مِلَّۃَ اِبْرَاھِیْمَ کی طرح صِبْغَۃَ اللّٰہِ میں بھی مضاف کی نصب بتارہی ہے کہ یہ مرکب اضافی مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

170 جب کوئی شخص یہودی مذہب میں داخل ہوتا تو وہ اسے غسل دیتے اور کہتے کہ اس کے سب سابقہ گناہ دھل گئے اور عیسائی اس غسل کے پانی میں زرد رنگ بھی ملا لیا کرتے۔ اور یہ غسل صرف مذہب میں نئے داخل ہونے والوں کو ہی نہیں بلکہ نومولود بچوں کو بھی دیا جاتا اور اس رسم کو وہ اصطباغ یا بپتسمہ کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان رسمی رنگوں میں کیا رکھا ہے۔ رنگ تو صرف اللہ کا ہے جو اس کی بندگی سے چڑھتا ہے اور ان اہل کتاب سے کہہ دو کہ ہم اس کی بندگی کرتے اور اسی کا رنگ اختیار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

497 ۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے صبغنا اللہ صبغۃ (بیضاوی) کانہ قیل صبغنا اللہ صبغۃ (ابوسعود) یعنی ہمیں اللہ نے اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ اور اللہ کے رنگ سے مراد اس کے دین فطری یعنی اسلام سے ہے۔ اے دین اللہ (مدارک) والمراد بھادینہ الذی فطرالناس علیہ (جلالین) یہی دین اللہ کے معنی ابن عباس ؓ صحابی اور مجاہد، ابوالعالیہ، قتادہ وغیرہ متعدد تابعین سے مروی ہیں (ابن کثیر) روئے سخن اوپر سے یہود ونصاری کی طرف چلا آرہا ہے۔ ان دونوں کے ہاں بڑی اہمیت ایک خاص قسم کے رسمی تطہیری غسل کی تھی، جسے بپتسمہ یا اصبطاغ کہا جاتا تھا۔ انہیں کی اصطلاح میں ارشاد ہورہا ہے کہ اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا ہے، لازم پکڑنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 138–139

صِبْغَۃَ اللہِ اس سے پہلی آیت میں دین اسلام کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرکے کہا گیا تھا مِلَّۃ اِبْرَاھِیمَ حنیْفًا اس جگہ دین کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے بتلا دیا کہ دین در حقیقت اللہ تعالیٰ کا ہے، کسی پیغمبر کی طرف اس کی نسبت مجازاً کردی جاتی ہے اور اس جگہ ملت کو صبغۃ کے لفظ سے تعبیر کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ کردیا اول تو نصاریٰ کی تردید ہوگئی نصاریٰ کے یہاں ایک ضروری رسم یہ تھی کہ بچہ کو پیدائش کے ساتویں روز ایک زرد رنگ کے پانی میں نہلاتے تھے اور ختنہ کے بجائے اسی نہلانے کو بچہ کی طہارت اور دین نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے، نصرانیوں کی اصطلاح میں اس رسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

صِبْغَةَ اللّٰهِ ( لے لیا ہم نے رنگ اللہ کا) اس سے اللہ کا دین مراد ہے کلبی قتادہ اور حسن نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح اس کی تفسیر نقل کی ہے دین کو رنگ سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ جیسے رنگ کپڑے پر چڑھ جاتا ہے اسی طرح دین دار پر دین کا اثر ہوجاتا ہے صبغۃ اللہ ترکیب میں یا تو اٰمَنَّا کا مفعول مطلق من غیر لفظ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا ملت ابراہیم سے بدل ہونے کے سبب منصوب ہے یا حالت نصب میں ذکر کرنے سے مراد ہے برانگیختہ کرنا تقدیر عبارت اس طرح ہو گیعَلَیْکُمْ صبغۃ اللہ (اللہ کے رنگ کو اپنے اوپر لازم پکڑو) اور بعض مفسرین نے کہا کہ صبغۃ اللہ سے مراد ختنہ ہے کیونکہ اس سے مختون خون آلودہ ہوجاتا ہے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(138) اللہ تعالیٰ ہی کے دین کی اتباع کرو، اس سے بہتر اور کون سا دین ہوسکتا ہے اور زبان حال سے کہو کہ ہم اس ذات کی توحید بیان کرنے والے اور اسی کی عبادت و توحید کا اقرار کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ) اس پر نصب فعل امر ”اِلْزَمُوْا“ کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے، یعنی اللہ کا رنگ اختیار کرو اور مضارع ”نَلْتَزِمُ“ کے ساتھ بھی، یعنی ہم اللہ کا رنگ اختیار کرتے ہیں۔ اس آیت میں ”اللہ کے رنگ“ سے مراد دین اسلام یا وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اس کو ”صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نصاریٰ نے نصرانیت کے لیے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا تھا، جب کوئی بچہ پیدا ہوتا یا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہوتا تو اس کو اس پانی سے غسل دیتے اور کہتے کہ یہ اب پاک اور صحیح معنوں میں نصرانی ہوا ہے۔ اس رسم کا نام ان کے ہاں معمودیہ یا بپتسما دینا ہے۔ چناچہ اس آیت میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 138 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : صبغة اللہ اخفش وغیرہ نے کہا : اس سے مراد اللہ کا دین ہے یہ ملة سے بدل ہے۔ کسائی نے کہا : یہ اتبعوا کی تقدیر پر منصوب ہے یا اغراء کی بناء پر منصوب ہے یعنی الزموا صبغة اللہ۔ اللہ کے دین کو لازم پکڑو۔ اگر اسے مرفوع پڑھا جائے تب بھی جائز ہے۔ یعنی ھی صبغة اللہ۔ شیبان نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ فرمایا : یہود اپنے بیٹوں کو یہودا رنگ کرتے تھے اور نصاریٰ اپنے بیٹوں کو نصاریٰ رنگ چڑھاتے تھے۔ اور اللہ کا رنگ اسلام ہے۔ زجاج نے کہا : یہ دلیل ہے کہ مبغة، ملة سے بدل ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا۔ ابواسحق نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر و ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” صبغۃ اللہ “ سے مراد وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” صبغۃ اللہ “ سے مراد وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ (3) ابن مردویہ اور الضیاء میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ ! کیا تیرا رب رنگ کرتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ ان کے رب نے ان کو آواز دی اے موسیٰ ! وہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب رنگ کرتا ہے ان سے کہو ہاں ! میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(صِبْغَۃَ اللّٰہِ : (ہم قبول کرتے ہیں) اللہ کے دین کو) (وَمَنْ : اور کون) (اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے) (صِبْغَۃً : بلحاظ دین کے) (وَنَحْنُ : اور ہم) (لَــہٗ : اس کی ہی ) (عٰبِدُوْنَ : بندگی کرنے والے ہیں) ص ب غ صَبَغَ (ف) صَبْغًا : کسی پر کوئی رنگ چڑھانا۔ بپتسمہ دینا۔ مذہب میں پختہ کرنا۔ صِبْغَۃٌ : مذہب کا رنگ ‘ بپتسمہ کا رنگ ‘ دین ( آیت زیر مطالعہ) صِبْغٌ : سالن یا سرکہ وغیرہ (کیونکہ ان میں پانی پر کوئی رنگ چڑھ جاتا ہے) ۔ { تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ } (المؤمنون :20) ” وہ اگتا ہے چکنائی کے ساتھ اور سالن کے ساتھ کھانوں والوں کے لئے۔ “ ترکیب : ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ہم کو اللہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے علامہ واحدی نے اسباب النزول میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نصاری کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کا کوئی بچہ سات دن کا ہوجاتا تھا تو اسے پانی میں رنگ دیتے تھے اور اس پانی کو معمودی کہتے تھے۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح سے اسے پاک کردیں۔ اور (چونکہ ختنہ نہیں کرتے تھے) اس لیے کہتے تھے کہ یہ عمل ختنہ کی جگہ ہے جس سے طہارت حاصل ہوگئی جب یہ کام کرلیتے تھے تو یہ سمجھتے تھے کہ اب پکا نصرانی ہوگیا۔ اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور بتادیا کہ صحیح رنگ وہی ہے جس رنگ میں اللہ نے اپنے مومن بندوں کو رنگ دیا۔ اصل رنگ 1 ؂ ترجمہ علی ان ” مثل “ زائدۃ کما فی تفسیر الجلالین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 136–138

تعلیم طریقۂ ایمان قال تعالیٰ ۔ قولوا امنا باللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ونحن لہ عبدون گزشتہ آیات میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ یہ کہہ دو کہ ہم یہودی اور نصرانی نہیں بلکہ ملت ابراہیمی کے متبع ہیں۔ آئندہ آیت میں طریقۂ ایمان کی تعلیم وتلقین فرماتے ہیں کہ اس طور پر اپنے ایمان کو ظاہر کرو کہ شریعت موسویہ اور شریعت عیسویہ کے کفر اور انکار کا ایہام نہ ہو لہذا جب تم اپنے ایمان کا علان کرو تو اس طرح کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر یعنی اس کے تمام اسماء وصفات پر اور اس کے تمام احکام پر اور اس کتاب اور شریعت پر ایمان لائے جو ہماری طرف بھیجی گئی اور ان تمام صحیفوں پر ایمان لائے کہ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

262 یہ منصوب ہے اور اس کا عامل محذوف ہے۔ قُولُوْا اٰمَنا کی مناسبت سے یہاں قَبِلْنَا کو حذف ماننا زیادہ موزوں ہے۔ ای قبلنا صِبْغۃَ اللہِ اور صِبْغَۃَ اللہِ سے سے مراد دین توحید اور ملت حصہ ہے۔ نصرانی اپنے بچوں اور ان کے مذہب میں داخل ہونے والوں کو ایک خاص قسم کے زرد رنگ میں نہلایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اب یہ پاکیزہ اور پکا نصرانی بن گیا ہے اور گناہوں سے پاک ہوگیا ہے اس فعل کو وہ ھمیسھ کہتے ہیں تو اس کے جواب میں مسلمانوں کو ارشاد ہوا کہ تم کہو کہ ہم نے تو اللہ کے دین اور اس کی توحید کا رنگ قبول کرلیا ہے۔ جس سے ہر قسم کی نجاست دور ہوجاتی ہے۔263 یہاں استفہام انکار کے لیے ہے یعنی اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 135–138

گذشتہ سے پیوستہ : یہود ونصاری اور مشرکین تینوں گروہ ملت ابراہیمی کے مخالف تھے خصوصا اہل کتاب یعنی یہودونصاری اپنی یہودیت اور نصرانیت کو ہی ملت ابراہیمی کے مخالف تھے ، خصوصا اہل کتاب یعنی یہود ونصاری اپنی یہودیت اور نصرانیت کو ہی ملت ابراہیمی خیال کرتے تھے ، اور دوسروں کو بھی یہی چیز اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے مدینہ طیبہ کے اطراف میں رہنے والے یہودیوں میں ایک بڑا عالم عبداللہ بن صوریا مشہور زمانہ تھا اس نے خود آنحضرت ﷺ کو دعوت دی کہ آپ یہودیت اختیار کرلیں ہدایت پا جائیں گے ، دلیل اس کی بھی یہی تھی کہ وہی اصل ابراہیمی طریقے پر قائم ہیں حالانکہ ان کا یہ دعوے غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ یہودیت توراۃ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

صِبْغَۃَ اللہِ۝ 0 ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَۃً۝ 0 ۡوَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ۝ 138 صبغ الصَّبْغُ : مصدر صَبَغْتُ ، والصِّبْغُ : الْمَصْبُوغُ ، وقوله تعالی: صِبْغَةَ اللَّهِ [ البقرة/ 138] ، إشارة إلى ما أوجده اللہ تعالیٰ في الناس من العقل المتميّز به عن البهائم کالفطرة، وکانت النّصاری إذا ولد لهم ولد غمسوه بعد السّابع في ماء عموديّة يزعمون أنّ ذلک صِبْغَةٌ ، فقال تعالیٰ له ذلك، وقال : وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً [ البقرة/ 138] ، وقال : وَصِبْغٍ لِلْآكِلِينَ [ المؤمنون/ 20] ، أي : أدم لهم، وذلک من قولهم : اصْطَبَغْتُ بالخلّ «1» . ( ص ب غ ) الصبغ یہ صبغت ( ص) کا مصدر ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 137–139

ترکیب : فان شرطیہ آمنوا فعل بافاعل 1 ؎ بمثل میں ب زائدہ ہے مثل صفت ہے مصدر محذوف کی ما مصدریہ ہے تقدیرہ ان آمنو ایمانا مثل ایمانکم پس یہ جملہ شرط ہے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مثل زائد ہو جیسا کہ لیس کمثلہ شیء میں ک زائد ہے جس سے مراد قرآن اور نبی ہے اور بہ کی ضمیر اس کی طرف پھرتی ہے تقدیرہ ان امنوا بما آمنتم بہٖ یعنی جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اگر اس پر یہ لوگ بھی ایمان لائے تو راہ پالیں گے۔ فقد اھتدو اجواب شرط اور اسی طرح وان تولو اصبغۃ اللہ منصوب ہے فعل محذوف کی طرف صبغۃ اللہ ومن استفہام … کے لیے مبتدا احسن ممیز صبغۃ تمیز مجموعہ خبر۔ تفسیر : یہود ونصاریٰ کے دعویٰ کا الزامی اور تحقیقی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

صِبْغَۃَ اللّٰہِ ج وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً ز وَنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 138) (اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں) گزشتہ آیات میں یہود کی طرف سے یہودیت اور نصرانیت کی دعوت کے جواب میں انھیں دعوت دی گئی تھی کہ تم اس طرح اللہ اور رسول پر ایمان لائو جس طرح مسلمان ایمان لائے ہیں۔ یہ ایمان ایسا ہے جس میں تمام سابق انبیاء اور سابقہ شریعتوں پر ایمان بھی شامل ہے۔ اس ایمان میں کسی ذہنی تحفظ، کسی قومی انانیت، اور کسی گروہی انفرادیت کا کوئی جواز نہیں۔ جس طرح مسلمانوں نے تمام انتسابات مٹاکر اور تمام تعصبات کو یکسر ختم کرکے ملت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 137–138

فہم القرآن ربط کلام : صحابہ کرام ؓ نبی ﷺ کی دعوت کے وارث اور اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے جس وجہ سے ان کے ایمان کو ایمان کی کسوٹی قرار دیا گیا ہے۔ اے یہود و نصاریٰ اور دنیا کے لوگو ! اگر تم صحابہ کرام ؓ کی طرح ایمان اور تسلیم و رضا کا رویہ اختیار کرلو تو ہدایت پا جاؤ گے۔ اگر لوگ نبی کی دعوت اور صحابہ کے طریقہ کا انکار کریں تو پھر سمجھ جائیے کہ یہ لوگ مخالفت برائے مخالفت کی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مسلمانو ! بےپرواہ ہوجاؤ کفار کا حسد و بغض اور اختلاف تم کو حقیقی اور دائمی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شرارتوں سے تمہیں محفوظ رکھنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اللہ ان کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صبغۃ اللہ کی مراد حقیقی : 138۔ صِبْغَۃَ اللّٰہِ : (ہم نے اللہ تعالیٰ کا رنگ لے لیا) نحو۔ صبغۃ اللّٰہ سے مراد اللہ کا دین یہ مصدر مؤکد ہے اور اٰمنا باللّٰہ سورة البقرۃ آیت نمبر 8۔ منصوب ہے۔ یہ فِعلۃٌ کا وزن ہے جو صبغ سے ہے جیسے جِلسۃ جَلَسَ سے۔ صبغۃ دراصل اس حالت کو کہتے ہیں۔ جس پر رنگنا واقع ہوتا ہے۔ مراد اللہ تعالیٰ کا پاک کرنا ہے کیونکہ ایمان دلوں کو پاک کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نصاریٰ اپنے بچوں کو زرد پانی میں ڈبوتے اور اس کو معمودیہ کہتے اور کہتے یہ بچوں کی تطہیر ہے جب ان میں سے کوئی یہ فعل کرلیتا تو کہتا اب وہ واقعۃً نصرانی بن گیا اس پر مسلمانوں کو حکم ملا کہ وہ ان کو کہیں۔ اٰمنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 138۔: (آیت)” صبغۃ اللہ “ کلبی (رح) قتادہ (رح) اور حسن (رح) کی روایت میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ صبغۃ اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا دین ہے اور دین کو اللہ تعالیٰ نے رنگ کا نام اس لیے دیا کہ جس طرح کپڑے پر رنگ کا اثر ظاہر ہوتا ہے اسی طرح دین کا اثر بھی دین دار پر نمایاں ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ دین کو رنگ اس لیے فرمایا گیا کہ دین دار بھی دین کو لازم پکڑتا ہے اور جدا نہیں ہوتا جس طرح کہ رنگ کپڑے کے ساتھ لازم ہوجاتا ہے اور جدا نہیں ہوتا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ صبغۃ اللہ سے مراد فطرت اللہ ہے اور یہ تاویل اول تاویل کے قریب ہے اور بعض نے کہا کہ صبغۃ اللہ سے مراد سنت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 137–138

(137 ۔ 38) ۔ اوپر ملت ابراہیمی کا ذکر فرما کر اس آیت میں مسلمانوں کو یہ فہمایش ہے کہ اگر تمہاری طرح اہل کتاب بھی راہ راست پر آ کر سب کتب آسمانی اور انبیاء پر ایمان لاویں اور ملت ابراہیمی کے پورے پابند ہوجاویں تو جان لینا کہ انہوں نے ہدایت الٰہی کا راستہ پالیا اور اگر ایسا نہ ہو تو ان کی ہٹ دھرمی ہے اور اس ہٹ دھرمی کے سبب سے وہ تم سے مخالفت کریں تو کچھ خوف نہ کرو تمہاری مدد کے لئے اللہ کا فی ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان اہل کتاب میں کچھ تو قتل کئے گئے اور کچھ جلا وطن ہوئے اور بعضوں کو جزیہ دینا پڑا۔ نافع کہتے ہیں میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ شہادت کے وقت حضرت عثمان کا خون اسی آیت {…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی اللہ کا رنگ اختیار کرلو، اللہ کے رنگ سے مراد اللہ کا دین ہے، اس کے تمام ظاہری، باطنی اعمال اور تمام اوقات میں اس کے تمام عقائد پر عمل کرو یہاں تک کہ یہ دین تمہارا رنگ اور تمہاری صفات میں سے ایک صفت بن جائے۔ پس جب یہ دین تمہاری صفت بن جائے گا تو یہ تمہارے لئے اس بات کو ضروری کر دے گا کہ تم خوشی، اختیار اور محبت سے اللہ کے حکموں کے آگے سرتسلیم خم کردو اور دین تمہاری فطرت اور طبیعت بن جائے گا۔ جیسے کپڑے کو مکمل طور پر رنگ دیا جائے تو یہ رنگ اس کپڑے کی صفت بن جاتا ہے، تب تمہیں دنیاوی اور آخروی سعادت حاصل ہوجائے گی، کیونکہ دین مکارم اخلاق، محاسن اعمال اور بلند متربہ امور کو اختیار کرنے پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 138–142

قول باری ہے : سیقول السفھاء من الناس ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا ( نادان لوگ ضرور کہیں گے، انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکا یک پھرگئے) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ حضور ﷺ مکہ میں نیز ہجرت کے بعد ایک عرصے تک مدینہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت براء بن عازب ؓ نے کہا ہے کہ حضور ﷺ کی مدینہ تشریف آور کے سترہ مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا ہے کہ سولہ ماہ بعد۔ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ یہ عرصہ نو ماہ یا دس ماہ کا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

382 اللہ کے رنگ سے بڑھ کر اچھا رنگ اور کسی کا ہوسکتا ہی نہیں : یعنی استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اللہ کے رنگ سے بڑھ کر اچھا رنگ اور کسی کا نہیں ہوسکتا۔ پس اصل میں اسی کا فکر و اہتمام کرنے کی ضرورت ہے، کہ وہی معنوی، روحانی، اور باطنی رنگ ہے جو اصل مطلوب ہے۔ جو انقلاب آفریں اور حیات بخش ہے۔ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے والا ہے۔ اس کے سوا باقی سب بےبنیاد اور بےحقیقت ظاہر داریاں ہیں، اور بس۔ جو محض دھوکے کا سامان ہیں اور ان کے جال میں پھنس کر لوگ اپنی متاع عمر کو یونہی ضائع کررہے ہیں، اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح یہ اپنا کس قدر سنگین اور ہولناک نقصان کرتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 137–140

مسلمان کی وضاحت تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے ایمان کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی مقبول ہے جیسا ایمان آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کا تھا اس کے علاوہ اگر ذرا بھی نفاق، شرک اور نافرمانی کا اثر موجود ہو تو ایسا ایمان اللہ تعالیٰ کو نامنظور ہے۔ رب جل شانہ فرماتے ہیں : اے پیغمبر ﷺ آپ نے ہمارا پیغام پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اسلام قبول کرکے کامیاب ہوجائیں، ہم ان کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیں گے اور اگر یہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی پر اڑے رہتے ہیں تو آپ ﷺ اس کی بالکل فکر نہ کریں ہم ان کے ظاہر و باطن سے پوری طرح آگاہ ہیں تو ہم ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

آیات 130- 141 اسرارو معارف حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ، آپ کا مذہب ، آپ کے عقائد اور اعمال انسانیت کی معراج ہیں۔ ان سے پھرنے والا شخص وہی ہوسکتا ہے جو انسانی قدروں سے بالکل ہی واقفیت نہ رکھتا ہو اور انتہائی درجے کا احمق ہو۔ ورنہ جسے فطرت سلیمہ نصیب ہوگی وہ ان کمالات کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسی مبارک ہستی ہیں کہ ہم سرفراز فرما کر اپنے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے مقرب ومقبول بندوں میں سے ہیں تو ایک ایسا کردار ، جو دو عالم میں سر بلندی و سرفرازی عطا کرے اور قرب الٰہی کا سبب اور وسیلہ بنے اسے کوئی ہو ش مند انسان تو چھوڑنے سے رہا بلکہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رنگ سے مراد اسلام یا وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ (وحیدی) اور اس کو صبغتہ اللہ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ نصاری نے عیسایت کے لیے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا تھا جب کوئی بچہ پیدا ہوتا یا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہوتا تو اس کو اس پانی سے غسل دیتے اور کہتے کہ اب پاک اور صحیح معنوں میں نصرانی ہوا ہے۔ اس رسم کا نام ان کے ہاں معمودیہ یعنی بتبسمہ دینا ہ۔ (قرطبی) چناچہ اس آیت میں ان کی تردید فرمائی کہ سب سے بہتر رنگ اللہ کا رنگ ہے یعنی دین اسلام ہے جسے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر تمام انبیاء لیکر مبعوث ہوئے ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

صبغۃ اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا رنگ۔ صبغۃ اسم مصدر ہے۔ رنگ کی ہیئت اور کیفیت کو صبغۃ کہتے ہیں۔ صبغۃ اللہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) یہ امنا (آیت 136 متذکرہ بالا) کا مفعول مطلق من غیر لفظ ہے اور مدیں وجہ منصوب ہے اور صبغۃ اللہ سے اللہ کا دین مراد لیا ہے۔ اور ہم ایمان لائے اللہ کے دین پر۔ (2) یہ ملۃ ابراہیم سے بدل ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے ملت ابراہیم سے مراد اللہ کا دین لیا ہے۔ (3) اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے۔ مثلاً تقدیر کلام ہے (1) علیکم صبغۃ اللہ اللہ کے رنگ کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔ (2) صبغنا اللہ صبغتہ۔ اللہ نے ہمیں اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ مصدر کو تاکید کے لیے بطور مفعول مطلق لایا گیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–141

لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141 یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رنگ سے مراد اس آیت میں اللہ کا دین ہے ، اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ نصاریٰ نے اگرچہ یہ طریقہ نکالا ہے کہ وہ جس کو عیسائی کرتے ہیں تو زرد رنگ میں اس کو نہلاتے ہیں ، لیکن اے مسلمانو ! تم کو اللہ کی توحید کا رنگ ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیے کہ یہ اللہ کا رنگ ہے ، اور اللہ سے بہتر کسی کا رنگ نہیں ہے ۔ اور اہل کتاب سے کہہ دو کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے موافق خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ اس لیے ہم کو اسی کا رنگ کافی ہے ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

انکار کا نتیجہ : (ف 3) ان آیات میں بتایا کہ ایمان وہی ثمر و سود مند ہے جو کامل ہو ، یعنی پورے نظام اسلامی کو مانا جائے ورنہ راہ راست سے بھٹک جانے کا خطرہ ہے اور وہ لوگ جو اسلام کے نظام وحدت پر عمل پیرا نہیں ہیں ، ان کا شقاق واختلاف کے مرض ہیں مبتلا رہنا لازمی وناگزیر ہے ، اس لئے کہ اسلام کے سوا جتنی راہیں ہیں ‘ ان سب میں تعصب وجہالت کے کانٹے بچھے ہیں ، سب غیر مستقیم ہیں ، اسلام اور صرف اسلام ہی رواداری ، مسالمت اور اطاعت حق کا سچا مبلغ ہے ۔ الہی رنگ : حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ صبغ فلان سے مراد کسی خاص عقیدہ کی تلقین کرنا ہے یعنی صبغۃ اللہ سے مراد اللہ کا دین ہے ، دین کو اللہ کے رنگ سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 137–138

ف 1 سو اگر وہ یہود و نصاریٰ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بلا شبہ وہ بھی ہدایت یافتہ اور راہ یاب ہوجائیں گے اور صحیح راستہ سے لگ جائیں گے اور اگر وہ دعوت حق کو قبول کرنے سے اعراض کریں اور منہ پھیریں تو جائے تعجب نہیں ہے کیونکہ وہ تو بس مخالفت ہی میں مبتلا ہیں اور وہ تو ہیں ہی برسر پیکار اب عنقریب اللہ تعالیٰ ان کی شرارت کے مقابلہ میں آپکی مدد کرنے کے لئے کفایت فرمائیگا اور ان کے مقابلہ میں آپ کے لئے کافی ہوگا اور وہ سب باتیں سنتا اور سب کے حال کو جاننے والا ہے ہم پر تو اللہ تعالیٰ نے دین فطرت کا رنگ چڑھا دیا ہے اور اللہ سے بہتر رنگ چڑھانے میں دوسرا کون ہوسکتا ہے اور ہم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 136–139

ف 1۔ حکم میں صحیفے اور کتابیں سب داخل ہیں حاصل مضمون کا یہ ہوا کہ دیکھو ہمارا دین کیسا انصاف اور حق کا ہے کہ سب انبیاء کو مانتے ہیں سب کتابوں کو سچا مانتے ہیں سب کے معجزات کو حق سمجھتے ہیں گوبوجہ منسوخ ہونے اکثر احکام کے دوسری مستقل شریعت محمدیہ پر عمل کرتے ہیں لیکن انکار اور تکذیب کسی کی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نصاریٰ کی ایک رسم اصطباغ کا رَد : 253: نصاری کی رسومات مذہبی میں سے ایک رسم ” اصطباغ “ تھی جو اس طرح ادا کی جاتی تھی کہ جو بچہ پیدا ہوتا اس کو ساتویں روز ایک رنگین پانی میں نہلاتے تھے اور اس نہلانے کو بچہ کی طہارت اور مذہب نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے اس آیت نے بتلادیا کہ یہ رنگ تو پانی کے ساتھ دھل کر ختم ہوگیا اور اس کے بعد اس کا کوئی اثر نہ رہا اصل رنگ تو دین کا رنگ ہے ، ایمان کا رنگ ہے جس سے ظاہری اور باطنی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور یہ رنگ تامین حیات باقی رہتا ہے۔ اس رسم اصطباع کو انجیل کی زبان میں ” بپتسمہ “ کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ دوسرے دین و ایمان کو رنگ فرما کر اس کی طرف بھی اشارہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Colour of Allah Verse 138 delineates Islam as the "colouring of Allah", and explains this "colouring" as the unalloyed worship of Allah and total submission to Him. Verse 135 has identified Islam with "the religion of Ibrahim." If we put Verse 135 and 138 together, it becomes clear that essentially Islam - or any authentic religion, for that matter – is the religion of Allah, and that the association of a religion with the name of a prophet can only be symbolised. Verse 138 presents religion as "colouring" صبغہ (Sibghah). The expression carries within itself several levels of meaning.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

137. This verse can be translated in two ways. One of these is: 'We have taken on Allah's colour.' The other is: 'Take on Allah's colour.' On the eve of the advent of Christianity the Jews followed the practice of bathing everyone who embraced their religion. This ritual bath signified that all his previous sins had been washed away and that he had adopted a different colour for his life. This practice was subsequently taken over by the Christians and is termed 'baptism'. Not only converts but even new-born babies were baptized. The Qur'anic remarks here refer to this institution. The Qur'an…

Read the full tafseer →