Explained with ayahs 137–138
شرط نجات
یعنی اپنے ایمان دار صحابیو ! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقینا حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لئے کافی ہوگا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس حضرت عثمان ؓ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب حضرت عثمان کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت (فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) 2۔ البقرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
سورة الْبَقَرَة 136
پیغمبروں کے درمیان تفریق نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان اس لحاظ سے فرق نہیں کرتے کہ فلاں حق پر تھا اور فلاں حق پر نہ تھا یا یہ کہ ہم فلاں کو مانتے ہیں اور فلاں کو نہیں مانتے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر بھی آئے ہیں، سب کے سب ایک ہی صداقت اور ایک ہی راہ راست کی طرف بلانے آئے ہیں۔ لہٰذا جو شخص صحیح معنی میں حق پرست ہے، اس کے لیے تمام پیغمبروں کو برحق تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ جو لوگ کسی پیغمبر کو مانتے اور کسی کا انکار کرتے ہیں وہ حقیقت میں اس پیغمبر کے بھی پیرو نہیں ہیں، جسے وہ مانتے ہیں، کیونکہ انہوں نے دراصل اس عالمگیر صراط مستقیم کو نہیں پایا ہے، جسے…
Read the full tafseer →اللغات والبلاغۃ
الشِقَاقٍ قال البیضاوی ہو المناواۃ والمخالفۃ فان کل واحد من المخالفین فی شق غیر شق الآخر، الصبغۃ بالکسر فعلۃ من صبغ وہی الحالۃ اللتی یقع علیہا الصبغ،
خلاصہ تفسیر
(یعنی جب اوپر طریق اسلام میں دین حق کا منحصر ہونا ثابت ہوچکا) سو اگر وہ (یہود و نصاریٰ) بھی اسی طریق سے ایمان لے آویں جس طریق سے تم (اہل اسلام) ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہ (حق) پر لگ جاویں گے اور اگر وہ (اس سے) روگردانی کریں تو (تم ان کی روگردانی سے کچھ تعجب نہ کرو کیونکہ) وہ لوگ تو (ہمیشہ سے) برسر مخالفت ہیں ہی (اور اگر انکی مخالفت سے کچھ اندیشہ ہو) تو (سمجھ لیجئے کہ) آپ کی طرف سے عنقریب ہی نمٹ لیں گے ان سے اللہ…
Read the full tafseer →یہود و نصاری کے لیے نجات کی راہ : یعنی اگر یہی کلمہ جامعہ وہ بھی قبول کرلیں، جس طرح تم تمام انبیاء اور تمام ہدایتوں پر ایمان لائے ہو اسی طرح یہ بھی ایمان لائیں تو بلاشبہ وہ راہ یاب ہوں گے۔ راہ یاب ہونے کا راستہ یہودی یا نصرانی ہونا نہیں ہے جیسا کہ یہود و نصاری دعوی کرتے ہیں، بلکہ اس کا راستہ وہی ہے جو تم نے اختیار کیا ہے۔ یعنی تمام نبیوں اور تمام رسولوں پر بلا کسی تفریق و تعصب کے ایمان لانا۔ اگر وہ اس چیز سے انکار کرتے ہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ تمہاری مخالفت کے درپے ہیں اور اتحاد و اتفاق کی راہ چھور کر یہ اللہ اور اس کے رسولوں کے خلاف اپنی ایک الگ پارٹی کھری رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر…
Read the full tafseer →137۔ 1 صحابہ کرام بھی اسی مزکورہ طریقے پر ایمان لائے تھے، اس لئے صحابہ کرام کی مثال دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح سے صحابہ کرام ! تم ایمان لائے ہو تو پھر یقینا وہ ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ اگر وہ ضد اور اختلاف میں منہ موڑیں گے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی سازشیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی کفایت کرنے والا ہے۔ چناچہ چند سالوں میں ہی یہ وعدہ پورا ہوا اور بنو قینقاع اور بنو نضیر کو جلا وطن کردیا گیا اور بنو قریظہ قتل کئے گئے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے وقت ایک مصحف عثمان ان کی اپنی گود میں تھا اور اس آیت کے جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–137
86: بعض یہودیوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب (اسرائیل) ؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ وہ یہودیت کے دین پر رہیں، یہ آیت اس کا جواب ہے۔ اس آٰیت کو سورة آل عمران کی آیت 65 کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو بات اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–138
یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “
رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ…
Read the full tafseer →2 یعنی ان کی دشمنی اور ضد سے خوف مت کرو اللہ ان کے شر اور مضرت سے تمہارا محافظ ہے۔ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ خدا سب کی باتوں کو سنتا اور سب کے حال اور نیت کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 137 فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ
یعنی وہ ضد اور ہٹ دھرمی کی روش ترک کردیں اور ٹھیک ٹھیک وہی دین اور وہی راستہ اختیار کریں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے تمہیں دیا گیا ہے۔ٌ
فَقَدِ اہْتَدَوْا ج وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِیْ شِقَاقٍ ج۔
اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہٹ دھرمی اور ضدم ضدا میں مبتلا ہوچکے ہیں اور دشمنی اور مخالفت پر اڑے ہوئے ہیں۔ َ ّ
فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ ج
آپ فکر نہ کریں ‘ آپ ﷺ مداہنت compromise کی کسی دعوت کی طرف توجہ ہی نہ کریں ‘ کچھ دو کچھ لو کا معاملہ آپ بالکل بھی نہ سوچیں۔ آپ ان کی مخالفتوں سے مرعوب نہ ہوں اور ان کی…
Read the full tafseer →169 یعنی ان اہل کتاب کا حق سے اعراض اور ہٹ دھرمی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور اللہ انہیں سزا دینے کو کافی ہے۔ یعنی یہود بنو نضیر جلاوطن ہوئے اور جزیہ دینا قبول کیا اور بنو قریظہ قیدی اور قتل ہوئے اور نجران کے عیسائیوں نے بھی جزیہ دینا قبول کیا۔
Read the full tafseer →493 ۔ (اور اپنے ایمان کی بنا پر نجات کے مستحق ہوگئے) خطاب مسلمانوں سے ہے، اور ” یہ لوگ “ سے مراد وہی منکر و کافر اہل کتاب ہیں جن کا سلسلہ اوپر سے چلا آرہا ہے۔ اس میں بشارت ہے کہ اتنی ضدوعناد کے باوجود اگر اب بھی وہ ایمان لے آئیں تو ان کا پچھلا کفر وعناد ان کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔ (آیت) ” فان “ کیسے اشارہ اس طرف ہے کہ اب جب کہ تعلیمات اسلامی کا مغز ان پر پوری طرح واضح ہوگیا۔
494 ۔ (حق وراہ راست سے) یعنی اتنی واضح ہدایت پہنچ جانے کے بعد اگر اب بھی ایمان نہ لائیں، تو اب جو انہیں مخالفت ہے وہ مخالفت ہی کی غرض سے، ضد اور عداوت ہی کی بنا پر ہے۔ اس لیے نہیں کہ وضوح حق میں کوئی خفایا ابہام باقی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 137 تا 141
ترجمہ : سو اگر وہ یعنی یہود و نصاریٰ اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو ہدایت یافتہ ہوں گے (لفظ) مثل زائدہ ہے اور اگر وہ اس پر ایمان لانے سے روگردانی کریں تو وہ صریح اختلاف میں ہیں یعنی تمہاری مخالفت میں، لہٰذا اطمینان رکھو، اے محمد ﷺ ان کی دشمنی میں اللہ عنقریب آپ کی کفایت کرے گا، وہ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کے حالات کو جاننے والا ہے، اور اللہ ان کے لئے کافی ہوگیا، بنی قریظہ کو قتل کرکے اور بنی نضیر کو جلاوطن کرکے اور ان پر جزیہ عائد کرکے اللہ کا رنگ اختیار کرو (صِبْغَۃَ اللہِ ) مصدر ہے آمَنَّا کی تاکید کے لئے اور اس کا نصب فعل مقدر کی وجہ سے ہے،…
Read the full tafseer →فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ( سو اگر ایمان لادیں وہ جس طرح تم ایمان لائے ہو) بِمثْلِ مَا اٖمَنْتُمْ میں باء زائد ہے جیسے جَزَاءُ سَیِّءَۃٍ بمثْلِھَا میں باء زائد ہے مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تمہارے ایمان لانے کی طرح ایمان لاویں۔ یا یہ کہا جائے کہ مثل کا لفظ بیچ میں زائد ہے جیسے کہ آیت کریمہ : وَ شَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰی مِثْلِہٖ میں مثل کا لفظ زائد کہا گیا ہے اور ابن عباس ؓ کی قرأت فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ اس اخیر توجیہ کی مؤید بھی ہے۔
فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ ( تو بیشک ہدایت پائیں گے اور اگر انحراف…
Read the full tafseer →(137) لہٰذا اگر یہ اہل کتاب تمام انبیاء کرام اور ان پر نازل ہونے والی تمام کتابوں پر ایمان لے آئیں تو یہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے مطابق گمراہی سے درست راستے پر آجائیں گے۔
اور اگر یہ تمام انبیاء کرام اور ان پر نازل ہونے والی کتب پر ایمان لانے سے منکر ہوجائیں تو یہ دین کی مخالفت کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ آپ سے ان کی اس محنت کو انھیں قتل اور جلا وطن کرکے ختم کردے گا، اور وہ ان کی باتوں کو سننے والا اور ان کی سزا سے اچھی طرح واقف ہے۔
Read the full tafseer →(شِقَاقٍ) یہ ”شِقٌّ“ میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، یعنی بعض کا ایک شق میں اور بعض کا دوسری شق میں ہو کر مقابلے میں آجانا۔
یعنی یہ لوگ ان چیزوں پر ایمان لائیں جن پر تم ایمان لائے ہو، جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے، تو واقعی وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اور اگر وہ منہ موڑیں تو محض مخالفت اور ضد کی وجہ سے ایسا کریں گے۔
اس وعدے کے مطابق واقعی اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے کافی ہوگیا، بنو نضیر اور بنو قینقاع مدینہ سے نکالے گئے، بنو قریظہ قتل ہوئے اور بالآخر تمام یہود و نصاریٰ پورے جزیرۂ عرب سے جلا وطن کردیے گئے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 137
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان اٰمنوا بمثل مآ اٰمنتم بهٖ ققد اھتدوا یہ خطاب حضرت محمد ﷺ اور آپ کی امت کو ہے۔ اس کا معنی ہے : اگر یہ ایمان لائیں تمارے ایمان کی مثل اور تصدیق کریں تمہاری تصدیق کی طرح تو وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ دونوں ایمانوں کے درمیان مماثلت ہے۔ بعض نے فرمایا : باء زائدہ مؤکدہ ہے۔ ابن عبس اس طرح پڑھتے تھے جس طرح طبری نے حکایت کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : زائدہ مؤکدہ ہے۔ ابن عبس اس طرح پڑھتے تھے جس طرح طبری نے حکایت کیا ہے۔ فان آمنوا بالذی آمنتم به قفد اھتدوا۔ یہ قراءت کا معنی ہے اگرچہ مصحف کے مخالف ہے۔ مثل کا لفظ زائدہ ہے جسے اس قول میں ہے : لیس کمثلهٖ شیء (الشوریٰ :11) (یعنی…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوں نہ کہو لفظ آیت ” فان امنو بمثل امنتم بہ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں۔ لیکن تم یوں کہو لفظ آیت ” فان امنوا بالذی امنتم بہ “ (یعنی اگر وہ ایمان لائیں اس ذات کے ساتھ جیسا کہ تم اس ذات کے ساتھ ایمان لائے ہو) ۔
(نوٹ) حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت میں لفظ مثل زائد ہے اس لئے انہوں نے یہ فرمایا کہ یوں کہو لفظ آیت ” فان امنو بالذی امنتم بہ “ مگر ہماری قرأت میں بمثل کا باء زائد ہے۔ جیسے لفظ آیت ” جزاء سیءۃ بمثلہا “ میں باء زائد ہے اب آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر وہ تمہارے ایمان لانے کی طرح ایمان لائیں۔
(2)…
Read the full tafseer →(فَاِنْ اٰمَنُوْا : پس اگر وہ لوگ ایمان لائیں) (بِمِثْلِ مَا : اس کے مانند) (اٰمَنْتُمْ : تم لوگ ایمان لائے) (بِہٖ : جیسے ) (فَقَدِ اھْتَدَوْا : تو ان لوگوں نے ہدایت پا لی) ( وَاِنْ تَوَلَّوْا : اور اگر وہ لوگ اعراض کریں) (فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ) (ھُمْ : وہ لوگ) (فِیْ شِقَاقٍ : مخالفت کرنے میں (اَڑے ہوئے) ہیں) (فَسَیَکْفِیْکَھُمُ : تو بےنیاز کرے گا آپ ﷺ ‘ کو ان سے) ( اللّٰہُ : اللہ ) (وَھُوَ : اور وہی) (السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ : ہر حال میں سننے والا جاننے والا ہے)
کی
کَفٰی (ض) کِفَایَۃً : (1) کسی ضرورت کی تکمیل کے لئے دوسروں سے بےنیاز ہونا۔ کافی ہونا (لازم ۔ اس مفہوم میں…
Read the full tafseer →اگر دشمنان دین اسلام نہ لائیں تو وہ مخالفت ہی پر تلے ہوئے ہیں
اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے اور حضور اقدس ﷺ کو تسلی بھی ہے، ارشاد ہے کہ اپنے اپنے دین کو ہدایت پر بتانے والے اگر اسی طرح کے مومن ہوجائیں جس طرح کے تم مومن ہو اور ان سب چیزوں پر ایمان لائیں جن پر تم ایمان لائے ہو تو وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں گے اور اگر وہ اعراض کریں اور اس ایمان سے رو گردانی کریں جو اللہ کے نزدیک معتبر ہے اور جسے تم پیش کرتے ہو تو سمجھ لو کہ ان کو خواہ مخواہ ضد ہے حق قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور انہوں نے حق کی مخالفت پر کمر باندھی ہوئی ہے تھوڑا سا موقع ان کو مل رہا ہے۔ اے نبی ﷺ اللہ تعالیٰ عنقریب تمہاری طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
تعلیم طریقۂ ایمان
قال تعالیٰ ۔ قولوا امنا باللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ونحن لہ عبدون
گزشتہ آیات میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ یہ کہہ دو کہ ہم یہودی اور نصرانی نہیں بلکہ ملت ابراہیمی کے متبع ہیں۔ آئندہ آیت میں طریقۂ ایمان کی تعلیم وتلقین فرماتے ہیں کہ اس طور پر اپنے ایمان کو ظاہر کرو کہ شریعت موسویہ اور شریعت عیسویہ کے کفر اور انکار کا ایہام نہ ہو لہذا جب تم اپنے ایمان کا علان کرو تو اس طرح کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر یعنی اس کے تمام اسماء وصفات پر اور اس کے تمام احکام پر اور اس کتاب اور شریعت پر ایمان لائے جو ہماری طرف بھیجی گئی اور ان تمام صحیفوں پر ایمان لائے کہ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل…
Read the full tafseer →261 یہود ونصاریٰ مدعی تھے کہ ہدایت کا مدار یہودیت اور نصرانیت ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا اصل معیار بیان فرمایا کہ اصل ہدایت تو انبیاء کرام اور ان کی تعلیمات کی پیروی کا نام ہے اس کے بعد آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ یہود ونصاریٰ اور مشرکین اگر ایسا ہی ایمان لے آئیں جیسا کہ تمہارا ایمان ہے یعنی تمام انبیاء پر ایمان تو پھر یقینا وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ ۔ اور اگر وہ تم جیسا ایمان لانے سے پہلو تہی کریں اور اس سے انکار کریں تو سمجھ لو کہ یہ لوگ بغض وحسد اور ضدوعناد میں گرفتار ہیں طلب ہدایت یا احقاق حق ان کا مقصد نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–138
گذشتہ سے پیوستہ :
یہود ونصاری اور مشرکین تینوں گروہ ملت ابراہیمی کے مخالف تھے خصوصا اہل کتاب یعنی یہودونصاری اپنی یہودیت اور نصرانیت کو ہی ملت ابراہیمی کے مخالف تھے ، خصوصا اہل کتاب یعنی یہود ونصاری اپنی یہودیت اور نصرانیت کو ہی ملت ابراہیمی خیال کرتے تھے ، اور دوسروں کو بھی یہی چیز اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے مدینہ طیبہ کے اطراف میں رہنے والے یہودیوں میں ایک بڑا عالم عبداللہ بن صوریا مشہور زمانہ تھا اس نے خود آنحضرت ﷺ کو دعوت دی کہ آپ یہودیت اختیار کرلیں ہدایت پا جائیں گے ، دلیل اس کی بھی یہی تھی کہ وہی اصل ابراہیمی طریقے پر قائم ہیں حالانکہ ان کا یہ دعوے غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ یہودیت توراۃ…
Read the full tafseer →فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا 0 ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ 0 ۚ فَسَيَكْفِيْكَہُمُ اللہُ 0 ۚ وَھُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 137 ۭ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
ترکیب : فان شرطیہ آمنوا فعل بافاعل 1 ؎ بمثل میں ب زائدہ ہے مثل صفت ہے مصدر محذوف کی ما مصدریہ ہے تقدیرہ ان آمنو ایمانا مثل ایمانکم پس یہ جملہ شرط ہے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مثل زائد ہو جیسا کہ لیس کمثلہ شیء میں ک زائد ہے جس سے مراد قرآن اور نبی ہے اور بہ کی ضمیر اس کی طرف پھرتی ہے تقدیرہ ان امنوا بما آمنتم بہٖ یعنی جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اگر اس پر یہ لوگ بھی ایمان لائے تو راہ پالیں گے۔ فقد اھتدو اجواب شرط اور اسی طرح وان تولو اصبغۃ اللہ منصوب ہے فعل محذوف کی طرف صبغۃ اللہ ومن استفہام … کے لیے مبتدا احسن ممیز صبغۃ تمیز مجموعہ خبر۔
تفسیر : یہود ونصاریٰ کے دعویٰ کا الزامی اور تحقیقی…
Read the full tafseer →فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِاھْتَدَوْا ج وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِیْ شِقَاقٍ ج فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُط وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔
(اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ اعراض کریں تو پھر وہ درپے مخالفت ہیں ان کے مقابلے میں تمہارے لیے اللہ کافی ہوگا وہ سننے والا اور جاننے والا ہے)
(البقرۃ : 137)
کلمہ جامعہ پر ایمان اور ایمان کے لیے نمونہ
گزشتہ آیت کریمہ کی صورت میں جس طرح ایک کلمہ جامعہ پیش کیا گیا جس کے ماننے سے آدمی اس راستے کا مسافر بن جاتا ہے جو اسلام کا راستہ ہے اور جس کی منزل جنت ہے۔ اسی طرح اس کلمہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
فہم القرآن
ربط کلام : صحابہ کرام ؓ نبی ﷺ کی دعوت کے وارث اور اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے جس وجہ سے ان کے ایمان کو ایمان کی کسوٹی قرار دیا گیا ہے۔
اے یہود و نصاریٰ اور دنیا کے لوگو ! اگر تم صحابہ کرام ؓ کی طرح ایمان اور تسلیم و رضا کا رویہ اختیار کرلو تو ہدایت پا جاؤ گے۔ اگر لوگ نبی کی دعوت اور صحابہ کے طریقہ کا انکار کریں تو پھر سمجھ جائیے کہ یہ لوگ مخالفت برائے مخالفت کی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مسلمانو ! بےپرواہ ہوجاؤ کفار کا حسد و بغض اور اختلاف تم کو حقیقی اور دائمی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شرارتوں سے تمہیں محفوظ رکھنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اللہ ان کی…
Read the full tafseer →مثل کے صحیح مفہوم کی وضاحت میں تین اقوال :
137۔ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْا : (پس اگر وہ ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے تو بیشک وہ ہدایت پاجائیں گے) آیت کا ظاہر مشکل ہے اس لئے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی مثل ہو حالانکہ وہ اس سے بلند وبالا ہے۔
نمبر 1۔ پس کہا گیا ہے کہ بازاء اور مثل یہ مصدر محذوف کی صفت ہے اصل عبارت یہ ہے۔
فان امنوا ایمانا مثل ایمانکم۔ پس اگر وہ ایمان لائیں ایسا ایمان جو تمہارے ایمان کی طرح ہو ہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ اور بآء کا اضافہ نئی چیز نہیں ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے سورة یونس آیت نمبر 27 والذین کسبوا…
Read the full tafseer →137۔ (آیت)” فان امنوا بمثل ما امنتم بہ “ جس کے ساتھ تم ایمان لائے ہو اور اسی طرح حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ پڑھتے تھے اور لفظ (مثل) صرف بطور صلہ کے وارد ہوا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں (آیت)” لیس کمثلہ شیئ “ جس میں لفظ مثل کا کوئی معنی نہیں ہے لہذا (آیت)” لیس کمثلہ شیئ “ لیس ھو کشیئ “ کے معنی میں ہے اس میں لفظ مثل کا کوئی معنی نہیں اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے پس اگر وہ ایمان لائیں ان تمام کے ساتھ جس کے ساتھ تم ایمان لائے ہو ، یعنی ایسا لائے جیسا کہ تمہارا ایمان ہے اور ایسی توحید اختیار کریں جیسا کہ تم نے توحید اختیار کی اور کہا گیا ہے پس اگر وہ ایمان لائیں جیسا کہ تم ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(137 ۔ 38) ۔ اوپر ملت ابراہیمی کا ذکر فرما کر اس آیت میں مسلمانوں کو یہ فہمایش ہے کہ اگر تمہاری طرح اہل کتاب بھی راہ راست پر آ کر سب کتب آسمانی اور انبیاء پر ایمان لاویں اور ملت ابراہیمی کے پورے پابند ہوجاویں تو جان لینا کہ انہوں نے ہدایت الٰہی کا راستہ پالیا اور اگر ایسا نہ ہو تو ان کی ہٹ دھرمی ہے اور اس ہٹ دھرمی کے سبب سے وہ تم سے مخالفت کریں تو کچھ خوف نہ کرو تمہاری مدد کے لئے اللہ کا فی ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان اہل کتاب میں کچھ تو قتل کئے گئے اور کچھ جلا وطن ہوئے اور بعضوں کو جزیہ دینا پڑا۔ نافع کہتے ہیں میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ شہادت کے وقت حضرت عثمان کا خون اسی آیت {…
Read the full tafseer →یعنی اے اہل ایمان ! اگر الہ کتاب اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم تمام انبیاء ومرسلین ( علیہ السلام) اور تمام کتابوں پر ایمان لائے ہو، جن میں سب سے پہلے اور سب سے اولیٰ ہستی جس پر ایمان لایا جائے، حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء ﷺ ہیں جو تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن ہے اور انہوں نے اللہ وحدہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ (فَقَدِ اھْتَدَوْا) تو ان کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی مل گئی جو نعمتوں والی جنت تک پہنچانے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے اس ایمان کے بغیر ہدایت تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–137
قول باری ہے : فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم ( اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے) اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے لیے اپنے دشمنوں کے معاملے میں کافی ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کی کثرت عداد اور ان کی شدید مخاصمت کے باوجود اپنے نبی ﷺ کے لیے کافی ہوگیا اور اس کی دی ہوئی خبر خارج میں پیش آنے والے واقعات کے عین مطابق پائی گئی۔ اسی طرح یہ قول باری ہے : واللہ یعصمد من الناس ( اللہ آپ کو لوگوں کے ہاتھوں سے بچائے گا) چناچہ اللہ نے آپ کو لوگوں سے بچایا اور ان کے مکروفریب نیز ریشہ دوانیوں سے آپ کو اپنے حفظ میں رکھا۔…
Read the full tafseer →377 حضرات صحابہ کرام کا ایمان معیار حق و صداقت : یعنی اگر یہ لوگ سب انبیاء و رسل پر اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح کہ تم لائے ہو تو یہ ہدایت پا گئے اور کامیاب ہوگئے۔ سو یہ ایک بڑا اہم اور بنیادی ضابطہ ہے جو یہاں بیان فرمایا گیا ہے، اور جس سے ھدایت و ضلالت کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے، کہ کون حق و ہدایت پر ہے، اور کون نہیں۔ پس جو بھی کوئی صحابہ کرام کی طرح کا ایمان نہ رکھتا ہو، وہ حق اور ہدایت پر نہیں ہوسکتا، خواہ اس کا تعلق پہلے کی امتوں سے ہو یا اس امت سے۔ پھر ان بدبخت لوگوں کے حق پر ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ جو حضرات صحابہ کرام کے ایمان کو نمونہ و مثال بنانے کی بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
مسلمان کی وضاحت
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے ایمان کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی مقبول ہے جیسا ایمان آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کا تھا اس کے علاوہ اگر ذرا بھی نفاق، شرک اور نافرمانی کا اثر موجود ہو تو ایسا ایمان اللہ تعالیٰ کو نامنظور ہے۔ رب جل شانہ فرماتے ہیں : اے پیغمبر ﷺ آپ نے ہمارا پیغام پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اسلام قبول کرکے کامیاب ہوجائیں، ہم ان کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیں گے اور اگر یہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی پر اڑے رہتے ہیں تو آپ ﷺ اس کی بالکل فکر نہ کریں ہم ان کے ظاہر و باطن سے پوری طرح آگاہ ہیں تو ہم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
آیات 130- 141
اسرارو معارف
حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ، آپ کا مذہب ، آپ کے عقائد اور اعمال انسانیت کی معراج ہیں۔ ان سے پھرنے والا شخص وہی ہوسکتا ہے جو انسانی قدروں سے بالکل ہی واقفیت نہ رکھتا ہو اور انتہائی درجے کا احمق ہو۔ ورنہ جسے فطرت سلیمہ نصیب ہوگی وہ ان کمالات کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔
ابراہیم (علیہ السلام) ایسی مبارک ہستی ہیں کہ ہم سرفراز فرما کر اپنے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے مقرب ومقبول بندوں میں سے ہیں تو ایک ایسا کردار ، جو دو عالم میں سر بلندی و سرفرازی عطا کرے اور قرب الٰہی کا سبب اور وسیلہ بنے اسے کوئی ہو ش مند انسان تو چھوڑنے سے رہا بلکہ جس…
Read the full tafseer →ف 6 اس آیت میں مسلمانوں کی ہدایت اور ایمان کی تعلیم فرمائی ہے یعنی قرآن پاک سے پہلے جتنی آسمانی کتابیں ہیں اور جنتے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہو گزرے ہیں سب پر مجملا ایمان لانا اور عمل کرنا ضرور ہے اس سلسلہ میں بعض انبیاء کے اسماء صراحت سے اور بقیہ کی طرف اجمالی اشارہ فرمادیا ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو رات انجیل اور زبور کے سچا ہونے کا اقرا کرو مگر عمل صرف قرآن پر کرو کیونکہ قرآن کے نزول سے پہلی تما کتابیں منسوخ ہوگئی ہیں حضرت ابوہریرہ سے ایک اور روایت میں ہے کہ اہل کتاب عبرانی زبان تورات پڑھتے اور مسلمانوں کے سامنے عربی میں۔ اس کی تفیسری کر کے سناتے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کتاب…
Read the full tafseer →(2:137) فان امنوا بمثل ما امنتم بہ۔ میں فان شرطیہ ہے۔ امنوا فعل بافاعل بمثل میں ب زائدہ اور تاکید کے لئے ہے۔ مثل صفت ہے مصدر محذوف کی۔ اور ما مصدریہ ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ ان امنوا ایمانا مثل ایمانکم اگر وہ تمہارے ایمان کی طرح ایمان لے آویں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مثل زائد ہو جیسا کہ لیس کمثلہ شیء (42:11) اس جیسی کوئی شے نہیں۔ آیت میں ک زائد ہے۔ جس سے مراد قرآن اور نبی ہے۔ اور بہ کی ضمیر اس کی طرف راجع ہے۔ تقدیرہ۔ ان امنوا بما امنتم بہ یعنی جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اگر اس پر یہ لوگ بھی ایمان لائیں تو راہ پالیں گے۔
یہ جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ فقد اھتدوا جواب شرط۔ ترجمہ ہوگا : تو یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141
یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔…
Read the full tafseer →شہادت کے وقت حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کا خون جس آیت پر گرا تھا : اوپر ملت ابراہیمی کا ذکر فرما کر اس آیت میں مسلمانوں کو یہ فہمائش ہے کہ اگر تمہاری طرح اہل کتا بھی راہ راست پر آکر سب کتب آسمانی اور انبیاء پر ایمان لاویں اور ملت ابراہیمی کے پورے پابند ہوجاویں تو جان لینا کہ انہوں نے ہدایت الٰہی کا راستہ پالیا اور اگر ایسا نہ ہو تو ان کی ہٹ دھرمی ہے ۔ اور اس ہٹ دھرمی کے سبب سے وہ تم سے مخالفت کریں تو کچھ خوف نہ کرو ، تمہاری مدد کے لئے اللہ کافی ہے ۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ ان اہل کتاب میں سے کچھ تو قتل کئے گئے اور کچھ جلاوطن ہوئے اور بعضوں کو جزیہ دینا پڑا ۔ نافع کہتے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–139
[84] یعنی اپنے عقائد اور اپنی عبادت میں ہر طرف سے پاک صاف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
حلقہ توحید کی سعتیں :
(ف 2) اسلام ہر قسم کی تنگ دلی سے بالا ہے ، وہ کسی خاص تعلیم پر ایمان لانے کی تاکید نہیں کرتا ، بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم ہر صداقت کو مانو ، ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی مانو اور اسمعیل (علیہ السلام) کو بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اور مسیح (علیہ السلام) کو بھی (علیہم السلام) اجمعین ۔ اور ہر اس چیز پر یقین رکھو جو اللہ کے پیغمبروں کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہے ، اس لئے کوئی تفصیل نہیں مسلمان مجبور ہے کہ وہ ہر سچائی کا احترام کرے ، اس لئے اسے تو اللہ سے محبت ہے ، اور جب اس کی اطاعت وفرمانبرداری کا جوا جو اپنے کندھوں پر ڈال لیا تو پھر ہر حکم جو اس کی طرف سے وصول ہوا شائستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
ف 1 سو اگر وہ یہود و نصاریٰ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بلا شبہ وہ بھی ہدایت یافتہ اور راہ یاب ہوجائیں گے اور صحیح راستہ سے لگ جائیں گے اور اگر وہ دعوت حق کو قبول کرنے سے اعراض کریں اور منہ پھیریں تو جائے تعجب نہیں ہے کیونکہ وہ تو بس مخالفت ہی میں مبتلا ہیں اور وہ تو ہیں ہی برسر پیکار اب عنقریب اللہ تعالیٰ ان کی شرارت کے مقابلہ میں آپکی مدد کرنے کے لئے کفایت فرمائیگا اور ان کے مقابلہ میں آپ کے لئے کافی ہوگا اور وہ سب باتیں سنتا اور سب کے حال کو جاننے والا ہے ہم پر تو اللہ تعالیٰ نے دین فطرت کا رنگ چڑھا دیا ہے اور اللہ سے بہتر رنگ چڑھانے میں دوسرا کون ہوسکتا ہے اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–139
ف 1۔ حکم میں صحیفے اور کتابیں سب داخل ہیں حاصل مضمون کا یہ ہوا کہ دیکھو ہمارا دین کیسا انصاف اور حق کا ہے کہ سب انبیاء کو مانتے ہیں سب کتابوں کو سچا مانتے ہیں سب کے معجزات کو حق سمجھتے ہیں گوبوجہ منسوخ ہونے اکثر احکام کے دوسری مستقل شریعت محمدیہ پر عمل کرتے ہیں لیکن انکار اور تکذیب کسی کی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →پھر اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ کی طرف منہ کر کے کہا جاتا ہے :
251: ” یہ لوگ “ سے مراد وہی منکر و کافر و اہل کتاب ہیں جن کا سلسلہ اوپر سے چلا آرہا ہے گویا مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان لوگوں کے متعلق کہا جارہا ہے بلکہ ان کو بشارت دی جا رہی ہے کہ اتنی ضدو عناد کے باوجود اگر اب بھی وہ ایمان لے آئیں تو ان کا پچھلا کفر وعناد ان کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا ” فَاِنَّ “ سے اشارہ اس طرح ہے کہ اب جب کہ تعلیمات اسلامی کا مغزان پر پوری واضح ہوگیا ہے یعنی اگر اتنی واضح ہدایت پہنچ جانے کے بعد اگر اب بھی ایمان نہ لائیں تو اب انہیں جو مخالفت ہے وہ مخالفت ہی کی غرض سے ضد اور عداوت ہی کی بنا پر ہے اس لئے نہیں کہ…
Read the full tafseer →The definition of ` Iman ایمان
From the beginning of the Surah Ai-Baqarah upto this place, different verses have been explaining the nature and essence 'Iman ایمان (faith), sometimes succinctly and sometimes in detail. Verse 137 defines 'Iman ایمان in a simple and short phrase which is at the same time so comprehensive that all possible details and explanations are inherent in it. The earlier verses having established that the only religion which is valid at present is Islam, this verse assures the Muslims that the Jews and the Christians can find the guidance only "if they believe just as…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
136. To make no distinction between the Prophets means not to hold some of them to he right and the others to be wrong, not to recognize some to have been the recipients of Divine revelation and the others not. All the Prophets sent by God invited men to the same Truth and to the same way. Hence for anyone who is really a lover of Truth it is necessary that he should recognize all of them to be its bearers. Those who believe in one particular Prophet and disbelieve in others do not in fact believe even in that particular Prophet in whom they, claim to believe, for they have not grasped the…
Read the full tafseer →