Al-Baqara 2:136

Al-Baqara · from ayah 136

2:136

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤی اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ— لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ ۖؗ— وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ۟قُوۡلُوۡٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَآ اُنۡزِلَ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَمَآ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى وَعِيۡسٰى وَمَآ اُوۡتِىَ النَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ

(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O believers], "We have believed in Allah and what has been revealed to us and what has been revealed to Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the Descendants and what was given to Moses and Jesus and what was given to the prophets from their Lord. We make no distinction between any of them, and we are Muslims [in submission] to Him."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 16 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:136

مسلمانو! کہو کہ: "ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مسلمانو) کہہ دو کہ : ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کلام پر بھی جو ہم پر اتارا گیا اور اس پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر اتارا گیا، اور اس پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور اس پر بھی جو دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے عطا ہوا۔ ہم ان پیغمبروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے، اور ہم اسی (ایک خدا) کے تابع فرمان ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے مسلمانو!) تم کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس (کتاب) پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر (بھی) جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیھما السلام) کو عطا کی گئیں اور (اسی طرح) جو دوسرے انبیاء (علیھم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئیں، ہم ان میں سے کسی ایک (پر بھی ایمان) میں فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (معبودِ واحد) کے فرماں بردار ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد کی طرف اتارا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو تمام نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(مسلمانو) ! تم اہل کتاب سے یوں کہو کہ : ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر اتارا گیا ہے اور اس پر بھی جو حضرت ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب اور ان کی اولاد پر اتارا گیا تھا۔ اور اس وحی و ہدایت پر بھی جو موسیٰ عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان انبیاء میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے اور ہم تو اسی (ایک اللہ) کے فرمانبردار ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور اس چیز پر ایمان لائے جو موسیٰ و عیسیٰ اور نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے ملی، ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم صرف اسی کے فرمانبردار ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو (تم مانو یا نہ مانو تمہاری مرضی) ہم تو بہرحال ایمان لائے اللہ پر اور اس (وحی) پر جو اتاری گئی ہماری طرف، اور اس پر بھی جسے اتارا گیا ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اور ان کی اولاد کی طرف، اور جو کچھ کہ دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ کو، اور اس سب پر بھی جو کہ دیا گیا دوسرے تمام انبیاء کرام کو، ان کے رب کی جانب سے، ہم ان کے درمیان کسی بھی طرح کی کوئی تفریق نہیں کرتے، اور ہم بہرحال اسی (وحدہ لاشریک) کے فرمانبردار ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

کہہ دو کہ ہم تو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو ہم پر اتارا گیا۔ اور جو ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ اور اولاد (یعقوب علیہ السلام) پر اتارا گیا۔ اور جو موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ کو دیا گیا اور اس پر جو دوسرے انبیاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا۔ اور ہم ان میں سے کسی کے درمیان بھی فرق نہیں کرتے۔ اور ہم اللہ ہی کے حکم بردار ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہو ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور جو کچھ نازل کیا گیا ہماری جانب اور جو کچھ نازل کیا گیا ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف اور جو کچھ دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ کو اور جو کچھ دیا گیا تمام نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ہم ان میں سے کسی کے مابین تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے مطیع فرمان ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(مسلمانو !) کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے، جو ابراہیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ یعقوب ؑ اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے لیے مطیع ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

O Muslims, say to them, "We believe in Allah and the Guidance which has been sent down to us and which was sent to Abraham, Ismail, Isaac and Jacob and his descendants and which was given by their Lord to Moses and Jesus and to all other Prophets. We do not discriminate against any of them and we have completely surrendered to Allah as Muslims."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say (O, Muslims) : :We believe in Allah, and in what has been revealed to us, and in what has been revealed to Ibrahim, Ismai'l (Ishmael) , IsHaq (Isaac) , Ya'qub and his children, and in what has been given to Musa and lsa, (Jesus) and what has been given to the prophets from their Lord: We make no difference between any of them, and to Him we submit ourselves.

— Muhammad Taqi Usmani

Say (O, Muslims) : :We believe in Allah, and in what has been revealed to us, and in what has been revealed to Ibrahim, Ismail (Ishmael) , IsHaq (Isaac) , Yaqub and his children, and in what has been given to Musa and lsa, (Jesus) and what has been given to the prophets from their Lord: We make no difference between any of them, and to Him we submit ourselves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say (O Muslims): "We believe in Allah and that which has been sent down to us and that which has been sent down to Ibrahim (Abraham), Isma`il (Ishmael), Ishaq (Isaac), Ya`qub (Jacob), and to Al-Asbat (the offspring of the twelve sons of Ya`qub), and that which has been given to Musa (Moses) and `Isa (Jesus), and that which has been given to the Prophets from their Lord. We make no distinction between any of them, and to Him we have submitted (in Islam)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muslims): We believe in Allah and that which is revealed unto us and that which was revealed unto Abraham, and Ishmael, and Isaac, and Jacob, and the tribes, and that which Moses and Jesus received, and that which the prophets received from their Lord. We make no distinction between any of them, and unto Him we have surrendered.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O believers], "We have believed in Allah and what has been revealed to us and what has been revealed to Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the Descendants and what was given to Moses and Jesus and what was given to the prophets from their Lord. We make no distinction between any of them, and we are Muslims [in submission] to Him."

— Saheeh International

(Muslims), say, "We believe in God and what He has revealed to us and to Abraham, Ishmael, Isaac, and their descendants, and what was revealed to Moses, Jesus, and the Prophets from their Lord. We make no distinction among them and to God we have submitted ourselves."

— Muhammad Sarwar

Say: We believe in Allah and (in) that which had been revealed to us, and (in) that which was revealed to Ibrahim and Ismail and Ishaq and Yaqoub and the tribes, and (in) that which was given to Musa and Isa, and (in) that which was given to the prophets from their Lord, we do not make any distinction between any of them, and to Him do we submit.

— Muhammad Habib Shakir

Say: we believe in Allah and that which hath been sent down unto us and that which was sent down unto Ibrahim and Ismai'l and Ishaq and Ya'qub and the tribes, and that which was vouchsafed unto Musa and lsa, and that which was vouchsafed unto the prophets from their Lord; we differentiate not between any of them, and unto Him are submissive.

— Abdul Majid Daryabadi

Say ye: "We believe in Allah, and the revelation given to us, and to Abraham, Isma'il, Isaac, Jacob, and the Tribes, and that given to Moses and Jesus, and that given to (all) prophets from their Lord: We make no difference between one and another of them: And we bow to Allah (in Islam)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:136

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب ! اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ جو کچھ حضرت محمد مصطفے ٰ ﷺ پر اترا اس پر تو وہ تفصیل وار ایمان لائیں اور جو آپ سے پہلے انبیاء پر اترا، اس پر بھی اجمالاً ایمان لائیں۔ ان اگلے انبیاء کرام میں سے بعض کے نام بھی لے دئے اور باقی نبیوں کا مجمل ذکر کردیا۔ ساتھ ہی فرمایا کہ یہ کسی نبی کے درمیان تفریق نہ کریں کہ ایک کو مانیں اور دوسرے سے انکار کر جائیں جو عادت اوروں کی تھی کہ وہ انبیاء میں تفریق کرتے تھے، کسی کو مانتے تھے، کسی سے انکاری تھے، یہودی حضرت عیسیٰ ؑ اور محمد ﷺ تینوں کو نہیں مانتے تھی۔ ان سب کو فتویٰ ملا کہ آیت (اُولٰۗىِٕكَ هُمُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 136–137

سورة الْبَقَرَة 136 پیغمبروں کے درمیان تفریق نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان اس لحاظ سے فرق نہیں کرتے کہ فلاں حق پر تھا اور فلاں حق پر نہ تھا یا یہ کہ ہم فلاں کو مانتے ہیں اور فلاں کو نہیں مانتے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر بھی آئے ہیں، سب کے سب ایک ہی صداقت اور ایک ہی راہ راست کی طرف بلانے آئے ہیں۔ لہٰذا جو شخص صحیح معنی میں حق پرست ہے، اس کے لیے تمام پیغمبروں کو برحق تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ جو لوگ کسی پیغمبر کو مانتے اور کسی کا انکار کرتے ہیں وہ حقیقت میں اس پیغمبر کے بھی پیرو نہیں ہیں، جسے وہ مانتے ہیں، کیونکہ انہوں نے دراصل اس عالمگیر صراط مستقیم کو نہیں پایا ہے، جسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 135–136

خلاصہ تفسیر اور یہ (یہودی و نصرانی) لوگ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی ہوجاؤ (یہ تو یہود نے کہا تھا) یا نصرانی ہوجاؤ (یہ نصاریٰ نے کہا تھا) تم بھی راہ (حق) پر پڑجاؤ گے (اے محمد ﷺ آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ ہم تو (یہودی یا نصرانی کبھی نہ ہوں گے بلکہ) ملت ابراہیم (یعنی اسلام) پر رہیں گے جس میں کجی کا نام نہیں (بخلاف یہودیت ونصرانیت کے جس میں علاوہ محرف ہونے کے اس کے منسوخ ہو چکنے کے سبب اب اس میں کجی آگئ) اور ابراہیم ؑ مشرک بھی نہ تھے (مسلمانو ! یہود و نصاریٰ کے جواب میں جو تم نے اجمالاً کہا ہے کہ ہم ملت ابراہیمی پر رہیں گے اس ملت کی تفصیل بیان کرنے کے لئے) کہہ دو کہ (اس ملت پر رہنے کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

امت مسلمہ کا موقف : یہ یہود و نصاریٰ کی دعوت کہ یہودی یا نصرانی بنو تو ہدایت پاؤگے کا مسلمانوں کی طرف سے جواب ہے کہ تم کہہ دو کہ ہم اللہ اور اللہ کی اس ہدایت پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر اتری ہے اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق یعقوب اور اولاد یعقوب کی مختلف شاخوں پر ان کے انبیاء کے واسطہ سے اتری ہے اور اس ہدایت پر بھی ہمارا ایمان ہے جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کے وسطہ سے اتری ہے اور اس ہدایت پر بھی ہمارا ایمان ہے جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو ان کے رب کی جانب سے ملی۔ ہم ان انبیاء کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ ہی کے فرمانبردار ہیں۔ خدا کی شریعت اور اس کے نبیوں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

136۔ 1 یعنی ایمان یہ ہے کہ تمام انبیاء علیھم السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بھی ملا یا نازل ہوا سب پر ایمان لایا جائے، کسی بھی کتاب یا رسول کا انکار نہ کیا جائے۔ کسی ایک کتاب یا نبی کو ماننا، کسی کو نہ ماننا، یہ انبیاء کے درمیان تفریق ہے جس کو جائز نہیں رکھا۔ البتہ عمل اب صرف قرآن کریم کے ہی احکام پر ہوگا۔ پچھلی کتابوں میں لکھی ہوئی باتوں پر نہیں کیونکہ ایک تو وہ اصلی حالت میں نہیں رہیں، تحریف شدہ ہیں، دوسرے قرآن نے ان سب کو منسوخ کردیا ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 133–137

86: بعض یہودیوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب (اسرائیل) ؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ وہ یہودیت کے دین پر رہیں، یہ آیت اس کا جواب ہے۔ اس آٰیت کو سورة آل عمران کی آیت 65 کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو بات اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 135–138

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “ رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ہم سب رسولوں اور سب کتابوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور سب کو حق سمجھتے ہیں اور اپنے اپنے زمانہ میں سب واجب الاتباع ہیں اور ہم خدا کے فرمانبردار ہیں جس وقت جو نبی ہوگا اس کے ذریعہ سے جو احکام خداوندی پہنچیں گے اس کا اتباع ضروری ہے۔ بخلاف اہل کتاب کے کہ اپنے دین کے سوا سب کی تکذیب کرتے ہیں، چاہے ان کا دین منسوخ ہی ہوچکا ہو اور انبیاء کے احکام کو جھٹلاتے ہیں جو خدا کے احکام ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 136 قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَآ اُنْزِلَ الآی اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ ج لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ز ہم سب کو مانتے ہیں ‘ کسی کا انکار نہیں کرتے۔ ایک بات سمجھ لیجیے کہ ایک ہے تفضیل یعنی کسی ایک کو دوسرے سے زیادہ افضل سمجھنا ‘ یہ اور بات ہے ‘ اس کی نفی نہیں ہے۔ سورة البقرۃ ہی میں الفاظ آئے ہیں : تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ آیت 253 یہ سب رسول فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر۔ جبکہ تفریق یہ ہے کہ ایک کو مانا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

168 فرق اس لحاظ سے کہ فلاں نبی حق پر تھا اور فلاں حق پر نہ تھا یا ہم فلاں کو مانتے ہیں یا فلاں کو نہیں مانتے۔ کیونکہ سب انبیاء (علیہم السلام) ایک ہی صداقت اور ایک ہی راہ راست کی طرف بلاتے رہے ہیں۔ اور سب انبیاء کرام اپنے سے پہلوں کی تصدیق اور بعد میں آنے والوں کی بشارت دیتے اور ان پر ایمان لانے کی تاکید کرتے رہے ہیں۔ اب اگر مثال کے طور پر یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اپنی کتاب تورات پر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ محض باپ دادا کی تقلید میں ایک پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ ان کا اصل دین نسل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

488 ۔ (اللہ کے ہاں سے ہمارے پیغمبر کے واسطہ سے) خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔ یعنی ہمیں تو نسلی یا قومی تعصب کسی سے بھی نہیں۔ ہمارا رشتہ اسمعیلی، اسرائیلی ہر شریعت الہی سے بس اعتقاد وانقیاد ہی کا ہے۔ (آیت) ” الاسباط “ جمع ہے سبط کی۔ اور معنی ہیں اولاد کی اولاد یا پوتے اور نواسے۔ الاسباط اولاد اولاد وقیل اولاد البنات (تاج) عوام میں صرف نواسوں کے معنی میں مشہور ہے۔ لیکن ائمہ لغت کی تصریح ہے کہ پوتوں اور نواسوں دونوں کے لیے عام ہے۔ کلام الائمۃ صریح فی انہ یشتمل ولد الابن اولابنۃ کما صرح بہ ابن سیدہ (تاج) بنی اسمعیل کی شاخیں جس طرح قبائل میں تقسیم ہوتی گئیں۔ بنی اسرائیل کی شاخیں اسی طرح اسباط کہلائیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قَوْلُوْآ آمَنَّا بِاللہِ ومآ اُنْزِلَ (الآیۃ) یہ عام مسلمانوں کو خطاب ہے یعنی کہ ہمیں تو نسلی یا قوی تعصب کسی سے بھی نہیں ہے، ہمارا رشتہ اسماعیلی، اسرائیلی، ہر شریعت الہیٰ سے بس اعتقادی و انقیادی ہے یعنی ایمان تو یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ کی طرف سے جو کچھ ملایا نازل ہوا سب پر ایمان لایا جائے کسی بھی کتاب یا رسول کا انکار نہ کیا جائے، بعض کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا یہ انبیاء کے درمیان تفریق ہے جس کو اسلام جائز نہیں رکھتا، البتہ عمل اب صرف قرآن پر ہوگا۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کا تاریخی تعارف : سابق میں مذکور انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قُوْلُوْٓا ( کہہ دو ) یہ مؤمنین کو خطاب ہے۔ اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا ( ہم ایمان رکھتے ہیں خدا پر اور اس پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا) اس سے مراد قرآن مجید ہے اسے اس لیے مقدم فرمایا کہ قرآن ہی اور کتابوں پر ایمان لانے کا سبب ہے۔ وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ ( اور اس پر بھی جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور اولاد یعقوب ( علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا) اس سے دس صحیفے مراد ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل ہوئے تھے ان ہی دس پر ان کی اولاد کا عمل در آمد رہا۔ اسی واسطے ان کے نزول کو اولاد کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(136) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنین کو توحید کا طریقہ بتایا تاکہ یہود اور نصاری کی توحید کی جانب رہنمائی ہوسکے چناچہ فرمایا کہ کہو ہم رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت اسحاق ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت یعقوب ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت یعقوب ؑ کی اولاد اور ان کی کتابوں پر اور حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی توریت پر اور حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی انجیل پر اور تمام انبیاء سابقین (علیہم السلام) اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان لائے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو نبوت اور توحید بیان فرمائی ہے اس پر بھی ہمیں پورا ایمان حاصل ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وَالْاَسْبَاطِ) یہ ”سِبْطٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی آسانی سے پھیلنا ہے۔ اولاد کی اولاد کو بھی اسی پھیلاؤ کی وجہ سے ”سِبْطٌ“ کہتے ہیں۔ (مفردات) یعقوب ؑ کے بارہ بیٹے تھے، ان کی اولاد کے بارہ قبائل ”الْاَسْبَاطِ“ کہلاتے ہیں۔ ”الْاَسْبَاطِ“ پر الف لام کی وجہ سے ”اس کی اولاد“ اور ”وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ“ میں ”لَهٗ“ پہلے آنے کی وجہ سے ”ہم اسی کے فرماں بردار ہیں“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو اصل ہدایت اور ایمان کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی قرآن پاک سے پہلے جتنی آسمانی کتابیں اور جتنے انبیاء و رسل آئے، جن میں سے بعض کے نام قرآن مجید میں آئے ہیں اور بعض کے نہیں آئے، سب پر مجملاً ایمان لایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 136 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قولوا اٰمنا باللہ بخاری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : اہل کتاب عبرانی زبان میں تو رات پڑھتے تھے اور اہل اسلام کے لئے عربی میں تفسیر بیان کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو بلکہ تم کہو : ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو نازل کیا گیا۔ محمد بن سیرین نے کہا : جب کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو بلکہ تم کہو : ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو نازل کیا گیا۔ محمد بن سیرین نے کہا : جب تجھے کہا جائے تو مومن ہے ؟ تو تو کہہ : اٰمنا باللہ ومآ انزل الینا ومآ انزل الیٰ ابراھٖم واسمٰعیل واسحٰق الآیۃ۔ اکثر سلف نے کسی کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم نے معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان لاؤ تم تورات، زبور، انجیل پر، اور چاہئے کہ قرآن تمہاری گنجائش رکھتا ہے (2) امام احمد، مسلم ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ (نماز) فجر کی پہلی رکعت میں (سورۃ) بقرہ کی یہ آیت لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ کی تلاوت کرتے تھے اور دوسری رکعت میں لفظ آیت ” امنا باللہ، واشھد بانا مسلمون (52) “ تلاوت فرماتے تھے۔ (3) امام حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر فجر کی پہلی رکعت میں لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(قُوْلُوْآ : تم لوگ کہو) (اٰمَنَّا : ہم لوگ ایمان لائے) (بِاللّٰہِ : اللہ پر) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُنْزِلَ : اتارا گیا) (اِلَــیْنَا : ہماری طرف) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُنْزِلَ : اتارا گیا) (اِلٰی اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف) (وَاِسْمٰعِیْلَ : اور اسماعیل (علیہ السلام) ) (ی طرف) (وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف) (وَیَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) کی طرف) (وَالْاَسْبَاطِ : اور ان کی نسل کی طرف) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُوْتِیَ مُوْسٰی : دیا گیا موسٰی (علیہ السلام) کو) (وَعِیْسٰی : اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ کے تمام نبیوں اور تمام کتابوں پر ایمان لانے کا حکم تفسیر درمنثور میں بحوالہ ابن اسحاق و ابن جریر وغیر ھما حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن صوریا اعور (یہودی) نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ ہدایت صرف وہی ہے جس پر ہم ہیں لہٰذا تم ہمارا اتباع کرو۔ ہدایت پا جاؤ گے۔ اور نصاری نے بھی اسی طرح کی بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے آیت (وَقَالُوْا کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصَارٰی تَھْتَدُوْا) (الآیۃ) نازل فرمائی۔ (ص 140 ج 1) مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے دین کو ہدایت بتایا اور اس کی دعوت دی اور نصاری نے اپنے دین کو ہدایت بتایا اور اس کی دعوت دی اللہ جل شانہ نے ان کی تردید فرمائی کہ تم ہدایت پر نہیں ہو تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 136–138

تعلیم طریقۂ ایمان قال تعالیٰ ۔ قولوا امنا باللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ونحن لہ عبدون گزشتہ آیات میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ یہ کہہ دو کہ ہم یہودی اور نصرانی نہیں بلکہ ملت ابراہیمی کے متبع ہیں۔ آئندہ آیت میں طریقۂ ایمان کی تعلیم وتلقین فرماتے ہیں کہ اس طور پر اپنے ایمان کو ظاہر کرو کہ شریعت موسویہ اور شریعت عیسویہ کے کفر اور انکار کا ایہام نہ ہو لہذا جب تم اپنے ایمان کا علان کرو تو اس طرح کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر یعنی اس کے تمام اسماء وصفات پر اور اس کے تمام احکام پر اور اس کتاب اور شریعت پر ایمان لائے جو ہماری طرف بھیجی گئی اور ان تمام صحیفوں پر ایمان لائے کہ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

258 یہ خطاب مسلمانوں سے ہے کہ تم انہیں جواب دو کہ ہم یہودیت یا نصرانیت کو نہیں جانتے۔ ہم تو خدائے واحد کی توحید پر ایمان رکھتے ہیں وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا۔ اور اپنے آخری رسول کی وساطت سے جو کچھ اس نے ہم پر اتارا ہے، ہم اسے بھی مانتے ہیں۔259 حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں مختلف خاندانوں کو قبائل کہا جاتا ہے اسی طرح بنی اسرائیل کے خاندان اسباط کہلاتے تھے۔ والسبط فی بنی اسرائیل بمنزلۃ القبیلۃ فی ولد اسمعیل (قرطبی ص 141 ج 2) یعنی ہم ان تمام صحائف کو بھی مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم، اسمعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) پر نازل ہوئے نیز ان صحائف کو جو بنی اسرائیل میں ہونے والے باقی تمام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 135–138

گذشتہ سے پیوستہ : یہود ونصاری اور مشرکین تینوں گروہ ملت ابراہیمی کے مخالف تھے خصوصا اہل کتاب یعنی یہودونصاری اپنی یہودیت اور نصرانیت کو ہی ملت ابراہیمی کے مخالف تھے ، خصوصا اہل کتاب یعنی یہود ونصاری اپنی یہودیت اور نصرانیت کو ہی ملت ابراہیمی خیال کرتے تھے ، اور دوسروں کو بھی یہی چیز اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے مدینہ طیبہ کے اطراف میں رہنے والے یہودیوں میں ایک بڑا عالم عبداللہ بن صوریا مشہور زمانہ تھا اس نے خود آنحضرت ﷺ کو دعوت دی کہ آپ یہودیت اختیار کرلیں ہدایت پا جائیں گے ، دلیل اس کی بھی یہی تھی کہ وہی اصل ابراہیمی طریقے پر قائم ہیں حالانکہ ان کا یہ دعوے غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ یہودیت توراۃ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْـبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ۝ 0 ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ۝ 0ؗۖ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ۝ 136 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 135–136

ترکیب : قالوا فعل ضمیر ھم راجع یہود و نصاریٰ کی طرف فاعل کونوا فعل انتم فاعل ھودا او نصارٰی خبر جملہ مفعول قالوا ای قال الیہود کونوا ہوداً وقالت النصارٰی کونوا انصاری تہتدوا جواب امر ملت منصوب ہے۔ بتقدیر نتبع حنیفا حال ہے ابراہیم سے اور ممکن ہے کہ فاعل نتبع سے ہو وماکان من المشرکین جملہ مستانفہ قولوا فعل بافاعل آمنا باللہ الخ جملہ مفعول وما انزل معطوف ہے اللہ پر وقس علیہ احد چونکہ حیز نفی میں ہے اس لیے جمع کے معنی دیتا ہے اس لیے لفظ بین کی اضافت احد کی طرف درست ہوئی اور بعض کہتے ہیں احد بمعنی فریق ہے اور بین ہمیشہ غیر واحد کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ تفسیر : پہلے انبیاء کا طریق ہدایت چھوڑ کر یہود و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُوْلُوْآ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْ ج لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْز وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (مسلمانو ! کہو ! ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور اس ہدایت پر ایمان لائو جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی اور ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 135–136

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب لوگوں کو یہودی اور عیسائی ہونے کی دعوت دیتے ہیں حالانکہ لوگوں کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت دینا چاہیے۔ لہٰذا اے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ آپ لوگوں کو وہی دعوت دیں جو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد عالی دیا کرتی تھی۔ وہ دعوت توحید خالص اور دین اسلام کی دعوت تھی۔ فکر و عمل کے لحاظ سے کمزور جماعتیں لوگوں کو اپنی طرف راغب رکھنے اور اپنے بوسیدہ نظریات کو منوانے کے لیے ہمیشہ سے بزرگوں کا نام ناجائز استعمال کرتی آئی ہیں۔ ایسے لوگ فکری دولت سے اس قدر محروم ہوتے ہیں کہ وہ صدیوں پہلے فوت شد گان بزرگوں کو بھی اپنے بوسیدہ نظریات کا حامل ثابت کرنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

136۔ قُوْلُوْا : (تم کہو) نمبر 1۔ یہ ایمان والوں کو خطاب ہے۔ نمبر 2۔ یہ کفار کو خطاب ہے یعنی تم ان کو کہو کہ تم حق قبول کرلو ورنہ تم باطل پر ہو۔ اٰمَنَّابِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا : (ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو ہماری طرف اتارا گیا) انزل الینا سے مراد قرآن مجید ہے۔ سبط کی تفسیر : وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرَاہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَ سْبَاطِ : (اور جو ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسماعیل اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف بھیجا گیا) السبط کا معنی پوتے ٗ نواسے ٗ حسن و حسین ؓ سبط رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ای الاسباط حفدۃ یعقوب کے پوتے اور ان کے بارہ بیٹوں کی اولاد مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 136۔: (آیت)” قولوا امنا باللہ واما انزل الینا “ یعنی قرآن ” وما انزل الی ابراھیم “ اور وہ دس صحیفے (واسماعیل واسحاق و یعقوب والاسباط) یعنی اولاد یعقوب اور وہ بارہ خاندان ، ان کے ایک خاندان کو سبط کہا جاتا ہے ، ان کو سبط کا نام اس لیے دیا گیا کہ اولاد یعقوب میں سے ہر ایک کے ہاں ایک جماعت پیدا ہوئی کسی آدمی کے سبط کا معنی اس کا پوتا یا نواسا ہوتا ہے اسی باعث حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو سبط رسول کہا گیا اور بنی اسرائیل کے سبط ایسے تھے جیسے اہل عرب کے ہاں قبائل ہیں جو کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں یا پھر شعوب اہل عجم کے ہاں ہیں ۔ (گویا کہ یہ اصطلاحی نام ہے کسی بڑے خاندان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

یہودونصاریٰ کے دین میں ایک یہ بھی عیب تھا اور اب بھی موجود ہے کہ وہ سب انبیاء کو نہیں مانتے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اور نبی آخر الزمان کے منکر ہیں نصاریٰ نبی آخر الزمان کے منکر ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو فرمایا کہ تم پر جو قرآن اترا ہے اس پر ایمان لا کر عمل بھی اس کے موافق کرو اور اعتقاد میں سب انبیاء کو حق جانو یہود اور نصاریٰ کی طرح بعض انبیاء کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا کسی طرح ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ توحید ہر نبی کے دین میں ہے اس سبب سے ایک نبی کے انکار سے بھی توحید کا انکار لازم آجاتا ہے جو عین کفر کا عقید ہے جس طرح بنی اسماعیل میں قبائل ہیں اسی طرح بنی اسرائیل میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ آیت کریمہ ان تمام امور پر مشتمل ہے جن پر ایمان لانا واجب ہے۔ جان لیجیے کہ ایمان، جو ان اصولوں کے ساتھ دل کی پوری تصدیق کا نام ہے اور اس کا اقرار، قلوب اور اعضاء کے اعمال کو متضمن ہے اور اس اعتبار سے اس میں اسلام داخل ہے اور اس میں تمام اعمال صالحہ بھی داخل ہیں۔ پس تمام اعمال صالحہ ایمان کا حصہ اور اس کے آثار میں سے ہیں۔ جب ایمان کا علی الاطلاق ذکر ہوگا تو مذکورہ امور اس میں داخل ہوں گے۔ اسی طرح جب اسلام کا علی الاطلاق ذکر کیا جائے گا تو ایمان بھی اس کے اندر داخل ہوگا۔ جب ایمان اور اسلام کو مقرون اور ایک ساتھ ذکر کیا جائے گا تب ایمان، قلب کے اقرار و تصدیق کا نام اور اسلام، اعمال ظاہرہ کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 135–137

قول باری ہے : فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم ( اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے) اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے لیے اپنے دشمنوں کے معاملے میں کافی ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کی کثرت عداد اور ان کی شدید مخاصمت کے باوجود اپنے نبی ﷺ کے لیے کافی ہوگیا اور اس کی دی ہوئی خبر خارج میں پیش آنے والے واقعات کے عین مطابق پائی گئی۔ اسی طرح یہ قول باری ہے : واللہ یعصمد من الناس ( اللہ آپ کو لوگوں کے ہاتھوں سے بچائے گا) چناچہ اللہ نے آپ کو لوگوں سے بچایا اور ان کے مکروفریب نیز ریشہ دوانیوں سے آپ کو اپنے حفظ میں رکھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

374 " اَسباط " کا معنی و مفہوم ؟ : " اَسباط " سے مراد ہے اولاد یعقوب۔ سو جس طرح بنی اسماعیل کی اولاد میں مختلف خاندانوں کو قبائل کہا جاتا ہے اسی طرح بنی اسرائیل کی اولاد میں ان کو " اَسباط " کہا جاتا تھا۔ اور حضرت یعقوب کی یہ اولاد بارہ کی تعداد میں تھی، جن سے آگے مختلف خاندان چلے اور پھیلے۔ بہرکیف ارشاد یہ فرمایا گیا ہے کہ ان سب حضرات کا دین ایک ہی دین تھا، یعنی اسلام اور ہم نے اسی دین حق کو اپنا رکھا ہے۔ اب اگر تم لوگ بھی اس کو اپناؤ گے تو خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا ورنہ اس کا بھگتان خود تم ہی کو بھگتنا ہوگا۔ سو دین حق سے محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سب سے بڑی محرومی ہے، جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے تشریح : اس آیت میں مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ تم یہود و نصاریٰ کو ان کی اصلیت بتا دو ، کیونکہ یہ اپنے حسد، بغض اور ہٹ دھرمی میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، کسی نبی کو مانتے ہیں، کسی کو نہیں مانتے اور پھر ان کے خیال میں آخرت و نجات محض نسل اور قوم کی وجہ سے ہوگی، چاہے اعمال کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں۔ اس کے برعکس ہم مسلمان نہ صرف محمد ﷺ پر اور قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، بلکہ ہمارے عقیدہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم تمام انبیاء و رسل ان کی کتابوں اور ان کی تعلیمات کو بھی سچا سمجھتے ہیں، کیونکہ تمام انبیاء و رسل نے سچائی اور توحید کا ہی پیغام دیا ہے اولاد یعقوب (علیہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

آیات 130- 141 اسرارو معارف حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ، آپ کا مذہب ، آپ کے عقائد اور اعمال انسانیت کی معراج ہیں۔ ان سے پھرنے والا شخص وہی ہوسکتا ہے جو انسانی قدروں سے بالکل ہی واقفیت نہ رکھتا ہو اور انتہائی درجے کا احمق ہو۔ ورنہ جسے فطرت سلیمہ نصیب ہوگی وہ ان کمالات کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسی مبارک ہستی ہیں کہ ہم سرفراز فرما کر اپنے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے مقرب ومقبول بندوں میں سے ہیں تو ایک ایسا کردار ، جو دو عالم میں سر بلندی و سرفرازی عطا کرے اور قرب الٰہی کا سبب اور وسیلہ بنے اسے کوئی ہو ش مند انسان تو چھوڑنے سے رہا بلکہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 الا سباط۔ یہ سبط کی جمع ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے ان میں سے ہر ایک کی اولاد سبط کہلاتی ہے یہ لفظ قبیلتہ کے مترادف ہے۔ مفردات )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:136) اس آیت میں جہاں بھی ما آیا ہے وہ ماصولہ ہے۔ قولوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم کہو۔ ای قالوا ایھا المؤمنون لہولاء الیھود والنصاری۔ ای مؤمنو۔ ان یہود و نصاری سے کہہ دو ۔ وما انزل الینا۔ اور جو نازل کیا گیا ہماری طرف یعنی قرآن۔ الاسباط۔ قبیلے۔ ایک دادا کی اولاد۔ سبط کی جمع ہے جس کے معنی پوتے، نواسے دونوں کے آتے ہیں۔ مگر نواسے کے معنی میں اس کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ جب اسباط بہود یا اسباط بنی اسرائیل کہا جائے ۔ تو اس سے مراد قبیلہ ہوتا ہے جو ایک دادا کی اولاد ہو۔ اوتی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دیا گیا۔ اسے دیا گیا۔ بین درمیان ۔ بیچ۔ جدائی۔ ملاپ۔ دو چیزوں کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–141

لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141 یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 135–136

شان نزول : یہود اپنے دین کو راہ راست بتلا کر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہمارے دین کو اختیار کرلو، اگر دنیا میں نجات کا طریقہ ہے تو یہی ہے ۔ اسی طرح نصاریٰ بھی کہتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کو جواب دیا جائے کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے پیرو ہیں جس میں کسی طرح شرک کا لگاؤ نہیں ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بت پرستی سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو ، باپ کو ، قوم کو سب کچھ چھوڑا ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 136–137

حلقہ توحید کی سعتیں : (ف 2) اسلام ہر قسم کی تنگ دلی سے بالا ہے ، وہ کسی خاص تعلیم پر ایمان لانے کی تاکید نہیں کرتا ، بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم ہر صداقت کو مانو ، ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی مانو اور اسمعیل (علیہ السلام) کو بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اور مسیح (علیہ السلام) کو بھی (علیہم السلام) اجمعین ۔ اور ہر اس چیز پر یقین رکھو جو اللہ کے پیغمبروں کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہے ، اس لئے کوئی تفصیل نہیں مسلمان مجبور ہے کہ وہ ہر سچائی کا احترام کرے ، اس لئے اسے تو اللہ سے محبت ہے ، اور جب اس کی اطاعت وفرمانبرداری کا جوا جو اپنے کندھوں پر ڈال لیا تو پھر ہر حکم جو اس کی طرف سے وصول ہوا شائستہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 135–136

(ف 2) اور یہ یہود و نصاری مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم یہودی ہوجائو یا نصرانی ہوجائو تاکہ تم بھی راہ پر آجائو اور راہ یافتہ ہوجائو۔ یعنی یہود کہتے ہیں یہودی ہوجائو نصرانی کہتے ہیں نصاریٰ ہوجائو ۔ اے نبی ! آپ فرما دیجئے ہم نہ یہودی ہوں گے نہ نصرانی ہوں گے نہ نصرانی بلکہ ہم تو اس ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر قائم رہیں گے جو ماسوای اللہ سے ہٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کا ہوگیا تھا اور وہ مشرکوں میں شامل نہ تھا یہ جن مسلمانوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے ہیں وہ ان سے کہہ دیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف محمد ﷺ کی وساطت سے بھیجی گئی اور ہم ان چیزوں کو بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 136–139

ف 1۔ حکم میں صحیفے اور کتابیں سب داخل ہیں حاصل مضمون کا یہ ہوا کہ دیکھو ہمارا دین کیسا انصاف اور حق کا ہے کہ سب انبیاء کو مانتے ہیں سب کتابوں کو سچا مانتے ہیں سب کے معجزات کو حق سمجھتے ہیں گوبوجہ منسوخ ہونے اکثر احکام کے دوسری مستقل شریعت محمدیہ پر عمل کرتے ہیں لیکن انکار اور تکذیب کسی کی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان میں مثالی نمونہ ہی اگر دیکھنا ہے تو بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کا ایمان ہی ہو سکتا ہے : 250: ایمان کی حقیقت تو کہیں مجمل اور کہیں مفصل بیان ہوتی ہی رہی ہے اور آئندہ قرآن کے صفحات میں بھی ہوگی لیکن غور کرو کہ اس آیت میں ایک ایسا اجمال ہے جو تمام تفصیلات اور تشریحات پر حاوی ہے کیونکہ ” اَنْتُمْ “ کے مخاطب رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ہیں۔ اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول ومعتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے اختیار فرمایا جو ایمان اس سے سرمو مختلف ہو وہ اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ ملت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 135–136

The earlier verses have defined the religion (Millat مِلَّت of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and established that its present form is Islam. Now, the Jews and the Christians, in spite of their pretension to be his followers, did not in actual fact follow his religion. Each of these two groups, instead of accepting Islam, used to ask the Muslims to accept its own religion in order to find true guidance. No doubt, each of these two religions was, in its own time and for its own time, a genuine religion, but in its present form each had become distorted, and had also been abrogated by Allah.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 136–137

136. To make no distinction between the Prophets means not to hold some of them to he right and the others to be wrong, not to recognize some to have been the recipients of Divine revelation and the others not. All the Prophets sent by God invited men to the same Truth and to the same way. Hence for anyone who is really a lover of Truth it is necessary that he should recognize all of them to be its bearers. Those who believe in one particular Prophet and disbelieve in others do not in fact believe even in that particular Prophet in whom they, claim to believe, for they have not grasped the…

Read the full tafseer →