Al-Baqara 2:141

Al-Baqara · from ayah 141

2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ— لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ— وَلَا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟۠تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ۚ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is a nation which has passed on. It will have [the consequence of] what it earned, and you will have what you have earned. And you will not be asked about what they used to do.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 16 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:141

وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر چکے اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ امت ہے جو گزرچکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے، تم ان کےاعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(بہرحال) وہ ایک امت تھی جو گزر گئی۔ جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے، اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، جو اس نے کمایا وہ اس کے لئے تھا اور جو تم کماؤ گے وہ تمہارے لئے ہوگا، اور تم سے ان کے اعمال کی نسبت نہیں پوچھا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی۔ ان کی کمائی ان کے لیے ہے۔ اور تمہاری تمہارے لیے۔ اور ان کے اعمال کے بارے میں تم سے بازپرس نہ ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ایک گروہ تھا جو گزر چکا، اس کو ملے گا جو کچھ اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو کچ تم نے کمایا اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کے بابت تم سے سوال نہ ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، ان کے لئے ہے انکی وہ کمائی جو انہوں نے کی، اور تمہارے لئے ہے وہ کمائی جو تم نے کی، اور تم سے پوچھ نہیں ہوگی ان کاموں کے بارے میں جو وہ لوگ کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ ایک جماعت ہے جو گزر چکی۔ ان کا کیا ہوا ان کے آگے آئے گا اور تمہارا کیا ہوا تمہارے آگے آئے گا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کی پوچھ کچھ تم سے نہ ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے ہے جو کمائی انہوں نے کی اور تمہارے لیے ہے جو کمائی تم نے کی اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لئے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے لئے ہے جو تم نے کیا اور تم سے ان کے اعمال کے متعلق کچھ پوچھ نہیں ہوگی

— محترمہ رفعت اعجاز

They were a people who have passed away and they shall be repaid for what they earned and you for what you earn: you will not be questioned as to what they did. "

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are a people who have passed away. For them is what they earned, and for you is what you earned, and you shall not be questioned about what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

Those are a people who have passed away. For them is what they earned, and for you is what you earned, and you shall not be questioned about what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That was a nation who has passed away. They shall receive the reward of what they earned, and you of what you earn. And you will not be asked of what they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those are a people who have passed away; theirs is that which they earned and yours that which ye earn. And ye will not be asked of what they used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is a nation which has passed on. It will have [the consequence of] what it earned, and you will have what you have earned. And you will not be asked about what they used to do.

— Saheeh International

That nation is gone, they have reaped what they sowed and the same applies to you. You are not responsible for their deeds.

— Muhammad Sarwar

This is a people that have passed away; they shall have what they earned and you shall have what you earn, and you shall not be called upon to answer for what they did.

— Muhammad Habib Shakir

That are a community who have passed away; unto them shall be that which they earned, and unto you that which ye earn; and ye shall be questioned not of that which they were wont to Work.

— Abdul Majid Daryabadi

That was a people that hath passed away. They shall reap the fruit of what they did, and ye of what ye do! Of their merits there is no question in your case:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:141

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 139–141

مشرکین کے اعمال پر بیزاری مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی ﷺ کو دے رہا ہے کہ " تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں " اور جگہ فرمایا آیت (فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ) 6۔ الانعام :147) یعنی " اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے (نیک) کام سے اور میں تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 140–141

سورة الْبَقَرَة 140 یہ خطاب یہود و نصاریٰ کے ان جاہل عوام سے ہے جو واقعی اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ یہ جلیل القدر انبیا سب کے سب یہودی یا عیسائی تھے۔ سورة الْبَقَرَة 141 یہ خطاب ان کے علما سے ہے، جو خود بھی اس حقیقت سے ناواقف نہ تھے کہ یہودیت اور عیسائیت اپنی موجودہ خصوصیّات کے ساتھ بہت بعد میں پیدا ہوئی ہیں، مگر اس کے باوجود وہ حق کے اپنے ہی فرقوں میں محدود سمجھتے تھے اور عوام کو اسی غلط فہمی میں مبتلا رکھتے تھے کہ انبیا کے مدّتوں بعد جو عقیدے، جو طریقے اور جو اجتہادی ضابطے اور قاعدے ان کے فقہا، صوفیہ اور متکلّمین نے وضع کیے، انہیں کی پیروی پر انسان کی فلاح اور نجات کا مدار ہے۔ ان علما سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 139–141

خلاصہ تفسیر آپ (ان یہود و نصاری سے) فرما دیجئے کہ کیا تم لوگ (اب بھی) ہم سے حجت کئے جاتے ہو حق تعالیٰ کے معاملہ میں (کہ وہ ہم کو قیامت میں نہ بخشیں گے) حالانکہ وہ ہمارا اور تمہارا (سب کا) رب (اور مالک) ہے (سو ربوبیت میں تو تمہارے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں جیسا تمہارے بعض دعو وں سے اختصاص مفہوم ہوتا ہے مثل نحن ابناء اللہ) اور ہم کو ہمارا کیا ہوا ملے گا اور تم کو تمہارا کیا ہوا ملے گا (یہاں تک تو تمہارے نزدیک بھی مسلم ہے) اور (اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ) ہم نے صرف حق تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے اپنے (دین) کو (شرک وغیرہ سے) خالص کر رکھا ہے (بخلاف تمہارے طریقہ موجودہ کے کہ علاوہ منسوخ ہونے کے خود شرک سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بعینہ یہی آیت اوپر بھی گزر چکی ہے۔ جس سیاق میں یہ اوپر آئی ہے اسی سیاق میں یہاں بھی آئی ہے۔ وہاں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر آیت 134۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

141۔ 1 اس آیت میں پھر کسب و عمل کی اہمیت بیان فرما کر بزرگوں کی طرف سے لگاؤ یا ان پر اعتماد کو بےفائدہ قرار دیا گیا۔ جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا اس کا سلسلہ اسے اگے نہیں بڑھائے گا۔ مطلب ہے کہ تمہارے خاندان کی نیکیوں سے تمہیں کوئی فائدہ اور ان کے گناہوں پر تم سے پوچھ گیچھ نہیں ہوگی بلکہ ان کے عملوں کی بابت تم سے یا تمہارے عملوں کی بابت ان سے نہیں پوچھا جائے گا آیت (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) 35:18۔ آیت (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) 53:39 کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 140–141

88: یہ حقیقت دراصل ان کو بھی معلوم ہے کہ یہ تمام انبیاء کرام توحید خالص کا درس دیتے رہے ہیں اور ان بےبنیاد عقیدوں سے انبیاء کرام کا کوئی تعلق نہیں ہے خود ان کی کتابوں میں یہ حقیقت واضح طور پر لکھی ہوئی موجود ہے اور ان میں نبی آخرالزمان ﷺ کی بشارتیں بھی موجود ہیں جو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں، مگر یہ ظالم ان کو چھپائے بیٹھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب بات اپنی انتہائی بلندی تک جاپہنچتی ہے ۔ اس مسئلے کا خاطر خواہ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا دیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب (علیہم السلام) کے مابین اور ان کے موجود نام نہاد پیروکاروں کے درمیان مکمل تضاد پایا جاتا ہے ۔ وہ کچھ اور تھے اور یہ کچھ اور ۔ اس لئے یہاں خاتمہ کلام اس فقرے پر کیا جاتا ہے جو پہلے گزرچکا ہے تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (141) ” یہ کچھ لوگ تھے جو گزرچکے ۔ ان کی کمائی ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یہی آیت عنقریب گزر چکی ہے مگر چونکہ اہل کتاب کے دل میں اپنی بزرگ زادگی کی وجہ سے یہ خیال خوب جم رہا تھا کہ ہمارے اعمال کیسے ہی برے ہوں بالآخر ہمارے باپ دادا ہم کو ضرور بخشوائیں گے۔ اس لئے اس بیہودہ خیال کے روکنے کے لئے تاکیدًا اس آیت کو مکرر بیان فرمایا، یا یوں کہو کہ پہلی آیت میں اہل کتاب کو خطاب تھا اور اس آیت میں آپ کی امت کو ہے کہ اس بیہودہ خیال میں ان کا اتباع نہ کریں کیونکہ ایسی توقع اپنے بزرگوں سے ہر کسی کے دل میں آہی جاتی ہے جو سراسر بیوقوفی ہے۔ اب اس کے بعد یہود وغیرہ کی دوسری بیوقوفی کی اطلاع دی جاتی ہے جو بہ نسبت تحویل قبلہ عنقریب ظاہر ہونے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 141 تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ ج یہ اس مقدس جماعت کے گل سرسبد تھے جن کا تذکرہ ہوا۔ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ ج۔ جو عمل انہوں نے کمائے وہ ان کے لیے ہیں ‘ تمہارے لیے نہیں۔ تمہارے لیے وہی ہوگا جو تم کماؤگے۔ وَلاَ تُسْءَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا کیا ‘ تم سے تو یہ سوال ہوگا کہ تم نے کیا کیا !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

173 یہ آیت انہی الفاظ سے پہلے بھی گزر چکی ہے (آیت نمبر 134) وہاں اس آیت کے مخاطب یہود تھے اور یہاں یہودی، عیسائی اور مسلمان سبھی مخاطب ہیں اور اسے دوبارہ لانے سے غرض صرف مزید تنبیہ و تاکید ہے کہ نجات اخروی کے لیے اپنے انبیاء و صالحین پر بھروسہ کرنا بالکل عبث بات ہے۔ تم اپنے اعمال کے لیے خود جواب دہ ہوگے اور خود ہی ان کی سزا بھگتو گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

507 ۔ (اور محض ان کے نام کا انتساب بغیر ان کے سے اعمال و عقائد کے ہرگز کافی نہیں) (آیت) ” تلک امۃ “ سے مراد ہیں قوم اسرائیل کے اکابر سلف، خصوصا اجداد ثلثہ ابراہیم واسحق ویعقوب (علیہ السلام) جن کی اولاد ہونے پر اسرائیلیوں کو حد سے زیادہ ناز تھا۔ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 503 ۔ 508 ۔ (آخرت میں) یعنی نہ ان کے ایمان و اعمال صالحہ سے تمہیں کچھ نفع پہنچے گا، اور نہ تمہارے کفر و اعمال سیۂ سے انہیں کوئی ضرر ہوگا ، 509 ۔ یہود کی کتابوں میں آج تک یہ تعلیمات موجود ہیں کہ ” جس طرح انگور کی زندہ و شاداب بیل ایک بےجان ستون کے سہارے بڑھتی اور پھیلتی رہتی ہے۔ اسی طرح زندہ یہودی اپنے آنجہانی اور مرحوم مورثوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ الخ یہ آیت ابھی گزر چکی ہے اس کو مکرر لانے کی وجہ یہود کے ایک زعم باطل کی نفی کرنی ہے کہ ہمارے اعمال و عقائد خواہ کتنے ہی برے ہوں مگر ہماری پیغمبرزادگی اور ان سے ربط وتعلق کی وجہ سے ہمارے آباء و اجداد ہم کو ضرور بخشوا لیں گے، اسی بیہودہ خیال کی تردید کے لئے اس آیت کو دوبارہ لایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـَٔـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ( یہ ایک جماعت تھی جو گذر چکی 1 ؂ ان کا کیا ہوا ان کے کام آئے گا اور تمہارا کیا ہوا تمہارے کام آئے گا اور تم سے ان کیلئے ہوئے کی پوچھ گچھ نہ ہوگی) اس مضمون کو مبالغہ کے لیے مکرر بیان فرمایا تاکہ اپنے آباو اجداد کے بھروسے پر نہ رہیں اور بعض نے کہا ہے کہ پہلے مضمون میں تو خطاب اہل کتاب کو تھا اور اس میں ہم کو ہے کہ مبادا یہ مسلمان ان کا قتدا کرنے لگیں اور بعض نے کہا ہے کہ پہلی آیت سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں اور دوسری سے یہود اور نصاریٰ کے آباؤ اجداد ‘ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(141) یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی، اس کے لیے اس کی نیکیاں ہیں اور تمہارے لیے تمہارے نیک کام ہیں، اور وہ جو دنیا میں کام کرتے تھے، بدلہ کے دن تم سے ان کی باز پرس نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس آیت میں دوبارہ تنبیہ فرمائی کہ نجات کا تعلق تو اپنی کمائی اور اپنے عمل پر ہے، اگر نجات چاہتے ہو تو ان انبیاء و صالحین کی طرح خود عمل کرو، ورنہ محض ان کی طرف نسبت اور ان کی کرامتیں بیان کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ أَبْطَأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہُ) [ مسلم، الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع۔۔ : 2699، عن أبی ہریرۃ ؓ ]”جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔ ‘

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 141 اس آیت کو دوبارہ ذکر فرمایا کیونکہ یہ تہدید و تخویف کا معنی ضمن میں لئے ہوئے ہے یعنی جب یہ انبیاء اپنی امامت اور فضل کے باوجود اپنے کسب کی جزا پائیں گے تو تم اس کے زیادہ لائق ہو۔ پس تاکید واجب تھی اس لئے اس کا تکرار فرمایا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 139–141

(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اتحاجوننا “ سے مراد ہے ” اتخاصمونا “ یعنی کیا ہم سے جھگڑا کرتے ہو۔ (2) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اتحاجوننا “ سے مراد ہے ” قل اتحاجوننا “ یعنی تم ہم سے جھگڑتے ہو۔ (3) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن کتم شھادۃ عندہ من اللہ “ میں یہودیوں کا وہ قول مراد ہے جو انہوں نے ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کے بارے میں کہا تھا کہ وہ یہودی اور نصرانی تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اگر تمہارے پاس کوئی شہادت ہے تو مجھ سے وہ شہادت نہ چھپاؤ۔ اور تحقیق اللہ تعالیٰ جانتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(تِلْکَ : وہ) (اُمَّــۃٌ : ایک امت ہے جو) (قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہے) ( لَھَا : اس کے لئے ہی ہے ) (مَا کَسَبَتْ : وہ جو اس نے کمایا) (وَلَــکُمْ : اور تم لوگوں کے لئے ہی ہے ) (مَّا کَسَبْتُمْ : وہ جو تم لوگوں نے کمایا) (وَلَا تُسْئَلُوْنَ : اور تم لوگوں سے نہیں پوچھا جائے گا) (عَمَّا : اس کے بارے میں جو ) (کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کیا کرتے تھے)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نسب پر غرور کرنے والوں کو تنبیہ یہ آیت مکر رہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہود کو دوبارہ متنبہ فرمایا ان کی طبیعتوں میں جو باپ دادوں پر فخر کرنا اور نسب پر بھروسہ کرنا مستحکم تھا اس کے نافع نہ ہونے پر دوبارہ بطور تاکید کے تنبیہ فرمائی اور بتادیا کہ اللہ تمہیں تمہارے اعمال پر جزا دے گا اور تمہارا باپ دادوں کا عمل تمہیں کچھ نفع نہ دے گا اور قیامت کے دن تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادے کیا عمل کرتے تھے (یعنی ان کے اعمال کا بالکل ذکر نہ ہوگا) بلکہ تم سے تمہارے اعمال کا سوال ہوگا اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ یہ آیت پہلے جو گزری ہے وہاں اہل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 139–141

تلقین جواب از مجادلۂ اہل کتاب قال تعالیٰ قل اتحاجوننا فی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ وال تسئلون عما کانوا یعملون اور اگر اہل کتاب آپ سے اس بارے میں مجادلہ کریں کہ ہم خدا کے رنگ کے ساتھ رنگین ہیں ہمارا دین اور ہماری کتاب تمہارے دین اور تمہاری کتاب سے مقدم ہے نبوت و رسالت ہمیشہ ہمارے ہی خاندان میں رہی اور ہم اللہ کے محبوب ہیں تو آپ ان کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں مجادلہ کیے چلے جاتے ہو۔ حالانکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اس کی ربوبیت کسی کے ساتھ مخصوص نہیں سب کو عام ہے جو اس کے حکم کے مطابق طاعت اور عبادت کرے گا وہ قبول ہوگی ورنہ رد۔ اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

268 یہود اور نصاریٰ کے دلوں میں اپنے آباء و اجداد پر فخر و غرور مضبوطی سے بیٹھ چکا تھا اور وہ اپنی نجات کے بےبس اپنے اسلاف ہی کے اعمال کو کافی سمجھتے تھے اس لیے ان کے اس بےفائدہ فخر کو توڑنے کے لیے اور انہیں اس غلط خیال کے بد انجام سے ڈرانے کے لیے اس آیت کا اعادہ کیا گیا۔ تکریر لما تقدم للمبالغۃ فی التحذیر عما استحکم فی الطباع عن الفتخار بالآباء والاتکال علیہم (روح ص 401 ج 1) یہاں تک توحید و رسالت کے نقلی دلائل کا بیان تھا۔ اب آگے رسالت کے متعلق یہود اور نصاریٰ اور مشرکین کے بعض شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔۔ پہلا شبہ : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 139–141

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ یہود ونصاری مسلمانوں کو اپنے باطل مذہب کی طرف دعوت دیتے تھے کہ یہودی اور نصرانی ہوجاؤ تو ہدایت پا جاؤ گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے کہلوایا کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں اور اسی پر کاربند رہیں گے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے اور شرک کرنے والوں میں نہیں تھے اس کے بعد ملت اسلام اور ملت ابراہیم کا اہل اصول اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بیان کیا گیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ تم اعلان کر دو کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اس کی توحید اور اس کی کتاب کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف نازل کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تِلْكَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ۝ 0 ۚ لَہَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ۝ 0 ۚ وَلَا تُسْـَٔـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 141 ۧ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 140–141

ترکیب : قل فعل بافاعل اہمزئہ استفہام انکاری اتحاجوننا الخ جملہ استفہامیہ اس کا مقولہ ام معادلۃ للہمزۃ فی قولہ تعالیٰ اتحا جو ننا یعنی ان دونوں باتوں میں سے کون سی کرتے ہو۔ ہم سے خدا میں جھگڑا کرتے ہو کہ وہ خاص ہمارا ہی خدا ہے بغیر یہودی یا نصرانی ہونے کے نجات ممکن نہیں۔ اس پر کوئی دلیل یا برہان بھی رکھتے ہو یا محض تقلید اور افترا سے کام لیتے ہو یا یہ کہو کہ ابراہیم اور اسماعیل و اسحاق و یعقوب و اسباط یہودی و نصرانی تھے ہم ان کے پیرو ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ام اللہ مبتدا و الخبر محذوف ای ام اللہ اعلم ام متصلہ ہے۔ ای ایکم اعلم استفہام انکاری ہے۔ شہادۃ موصوف عند ثابت کے متعلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ ج لَھَا مَاکَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (یہ گروہ تھا جو گزر چکا اس کو ملے گا جو کچھ اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے کمایا اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کی بابت تم سے سوال نہ ہوگا) (البقرۃ : 141) یہ آیت کریمہ اسی رکوع میں اس سے پہلے بھی گزر گئی ہے۔ اس میں چونکہ ان کے بنیادی روگ کا ذکر کیا گیا ہے جس نے ان کی دینی زندگی تباہ کردی ہے۔ اس لیے دوبارہ انھیں خبردار کیا جارہا ہے کہ تم اپنے کرتوتوں کے بارے میں شائد اس لیے بےدھڑک واقع ہوئے ہو کہ تمہیں کسی گرفت کا اندیشہ نہیں۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم اللہ کے نبیوں کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 140–141

فہم القرآن ربط کلام : انبیائے کرام فرقہ واریت سے مبرّا حضرات تھے اور ان کو فرقہ واریت میں گھسیٹنا اللہ تعالیٰ کی شہادت کو ٹھکرانے اور چھپانے کے مترادف ہے۔ یہود و نصاریٰ انتہائی ہٹ دھرم لوگ ہیں جو جغرافیائی حقائق ‘ تاریخی شواہد اور الہامی دلائل سننے کے باوجود بھی رسول معظم ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک اپنی ضد پر قائم اور جھوٹا دعو ٰی کیے جا رہے ہیں کہ ہدایت کا راستہ یہودی اور عیسائی ہونے میں ہے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کو یہودی اور عیسائی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کو حکم دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ماکسبت کا مقصد : تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ : (یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لئے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے کام آئے گا جو تم کرتے ہو۔ تم سے ان کے متعلق پوچھ گچھ نہ ہوگی۔ نمبر 1۔ یہ تاکید کے لئے لائے۔ نمبر 2۔ پہلی مرتبہ لا کر انبیاء ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ اور دوسری مرتبہ لا کر اسلاف یہود و نصاریٰ مراد لیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 141۔: (آیت)” تلک امۃ “ الخ یہ آیت کریمہ دوبارہ تاکید (مضمون) کی خاطر لائی گئی ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 139–141

(139 ۔ 141) ۔ اہل کتاب کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہے جو انہوں نے کہی تھی۔ کہ { کُوْنُوْا ھُوْدًا اَّوْ نَصَرٰی } مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم تم سب ایک خدا کے بندے اور فرمانبردار ہیں پھر تم جو اپنے آپ کو صاحب ہدایت اور راودوں کو گمراہ سمجھتے ہو اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے رہی ہماری دلیل وہ خود تمہاری کتابیں ہیں جن میں یہ موجود ہے کہ نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے اور نبی ہوجانے کے بعد اور کوئی دین قائم نہیں رہ سکتا اگرچہ تم نے اپنی کتابوں کی وہ آیتیں بدل ڈالی ہیں لیکن تمہارے علماء کے عبد اللہ بن سلام وغیرہ جو سلام لے آئے ہیں وہ تم کو ہر روقت قائل کرتے ہیں اس پر بھی تم کو کچھ حجت ہے۔ تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا مکرر ذکر اس لئے فرمایا کہ وہ مخلوق سے اپنا تعلق منقطع کرلیں۔ بھروسہ صرف اسی عمل اور اسی صفت پر کرنا چاہیے جس سے انسان خود متصف ہو، نہ کہ اپنے اسلاف اور اپنے آباؤ و اجداد کے اعمال پر کیونکہ اپنے اعمال ہی حقیقی فائدہ دیتے ہیں نہ کہ بڑے انسانوں کی طرف انتساب محض۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 138–142

قول باری ہے : سیقول السفھاء من الناس ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا ( نادان لوگ ضرور کہیں گے، انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکا یک پھرگئے) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ حضور ﷺ مکہ میں نیز ہجرت کے بعد ایک عرصے تک مدینہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت براء بن عازب ؓ نے کہا ہے کہ حضور ﷺ کی مدینہ تشریف آور کے سترہ مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا ہے کہ سولہ ماہ بعد۔ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ یہ عرصہ نو ماہ یا دس ماہ کا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

385 صرف آباء و اَجداد کا انتساب کافی نہیں : جیسا کہ یہود و نصاریٰ کا دعویٰ اور گھمنڈ تھا اور ان کا کہنا تھا ۔ { نَحْنُ اَبْنَائُ اللّٰہ وَاَحِبَّائہ } ۔ کہ " ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں "۔ سو اس ارشاد سے آباء و اجداد کے انتساب پر بڑائی کے زعم و گھمنڈ پر ضرب کاری کو مکرر ذکر فرمایا تاکہ ان کے دماغوں سے یہ زعم نکل جائے کہ ہم بڑوں اور بزرگوں کی اولاد ہیں۔ اور یہی انتساب ہمارے لئے کافی ہے۔ ہم بخشے بخشوائے ہیں۔ اللہ کے بیٹے، اور اس کے پیارے ہیں { اَبْنَائُ اللّٰہ وَاَحِبََّائہُ } دوزخ کی آگ ہمیں چھوئیگی بھی نہیں، بجز گنتی کے کچھ دنوں کے { لَنْ تََمَسَّنَا النَّار الاَّ اَیَّامًا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اپنے اعمال کا بدلہ تشریح : اللہ جل شانہ یہودیوں اور عیسائیوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں میں انکے بارے میں خوب جانتا ہوں وہ اصل توحید پر قائم تھے، ان کی نیکیاں ان کے کام آئیں گی تمہارے یا کسی اور کے کام نہیں آئیں گی اور تمہیں تمہارے بزرگوں کی نیکیاں نہ بچا سکیں گی۔ جیسا کہ تم اپنے بزرگوں کی نیکیوں پر بھروسہ کرتے ہوئے تمام برائیاں اور نافرمانیاں کرتے ہو۔ دوسروں کے اعمال پر بھروسہ رکھنا سخت نادانی اور بھول ہے، دنیا میں بہت سی قومیں اسی غلط فہمی کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگئیں، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اعمال کا بدلہ ہمیں دیا جائے گا اور ان کے اعمال کا بدلہ ان کو دیا جائے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

آیات 130- 141 اسرارو معارف حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ، آپ کا مذہب ، آپ کے عقائد اور اعمال انسانیت کی معراج ہیں۔ ان سے پھرنے والا شخص وہی ہوسکتا ہے جو انسانی قدروں سے بالکل ہی واقفیت نہ رکھتا ہو اور انتہائی درجے کا احمق ہو۔ ورنہ جسے فطرت سلیمہ نصیب ہوگی وہ ان کمالات کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسی مبارک ہستی ہیں کہ ہم سرفراز فرما کر اپنے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے مقرب ومقبول بندوں میں سے ہیں تو ایک ایسا کردار ، جو دو عالم میں سر بلندی و سرفرازی عطا کرے اور قرب الٰہی کا سبب اور وسیلہ بنے اسے کوئی ہو ش مند انسان تو چھوڑنے سے رہا بلکہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اس آیت میں دوبارہ تنبیہہ اور تہدید کی ہے کہ آخری نجات اور سعادت کا تعلق تو کسب و عمل پر ہے اگر نجات چاہتے ہو تو عمل صالح میں ان انبیاء اور صالحین کی اتباع کرو ورنہ محض ان شخصیتوں کی طرف انتساب اور ان کی کرامتیں بیان کرنا مفید نہیں ہو سکے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ من ابطاء بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ / کہ جس کے عمل کنے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب آگے بڑھ سکے گا۔ (ابن کثیر) اس سے ان لوگوں کی عبرت حاصل کرنی چاہیے جو خود بےعمل رہ کر اپنے بزرگو کے اعمال پر تکیہ کر کے اپنے آپ کو بےبنیاد اور غلط قسم کی آرزؤں میں مگن رکھتے ہیں۔ (ترجمان )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 140–141

(2:140) ام۔ معادلۃ للھمزۃ ہے (یعنی ہمزہ استفہام انکاری جو اوپر اتحاجوننا میں آیا ہے اسی معنی میں یہ آتا ہے) (ای وقل یا محمد) ام تقولون ۔۔ کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور اسباط یہودی یا نصرانی تھے ؟ تمہارا کہنا بھی بےبنیاد اور ناقابل تسلیم اور افتراء ہے کیونکہ یہودیت اور نصرانیت تو ان حضرات (علیہم السلام) کے بعد کی بات ہے انما حدثت الیہودیۃ والنصرانیۃ بعدھم وثبت کذبکم یا معشر الیہود والنصری علی ابراہیم وبنیہ۔ مقصود یہ ہے کہ تمہاری یہ دونوں باتیں محاجۃ فی دین اللہ وقولکم کانوا ابراہیم ۔۔ الخ۔ ھودا اور نصاری بالکل غلط ہیں۔ قل (ای قل یا محمد) تو کہہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–141

لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141 یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 139–141

شان نزول : اہل کتاب کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جو انہوں نے کہی تھی کہ ہم سب ایک خدا کے بندے اور فرمانبردار ہیں پھر تم جو اپنے آپ کو صاحب ہدایت اور اوروں کو گمراہ سمجھتے ہو اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے ۔ رہی ہماری دلیل وہ خود تمہاری کتابیں ہیں ۔ جن میں یہ موجود ہے کہ نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے اور نبی ہوجانے کے بعد اور کوئی دین قائم نہیں رہ سکتا ۔ اگرچہ تم نے اپنی کتابوں کی وہ آیتیں بدل ڈالی ہیں لیکن تمہارے علماء میں سے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ جو اسلام لے آئے ہیں وہ تم کو ہر وقت قائل کرتے ہیں۔ اس پر بھی تم کو کچھ حجت ہے تو ہمارا کیا ہمارے آگے آوے گا اور تمہارا کیا تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 140–141

[85] شہادت چھپانے سے مراد رسول اللہ ﷺ کے ظہور کی شہادت جو ان کی کتابوں میں موجود تھی اور اب بھی اس کا پتہ چلتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 141–142

تعیین قبلہ : (ف 1) حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جب تک صاف وصریح حکم کسی چیز کے متعلق نازل نہ ہوجاتا ، اہل کتاب کی موافقت فرماتے اس لئے کہ وہ بہرحال مشرکین مکہ سے زیادہ راہ راست پر تھے ، اسی بنا پر جب تک قبلہ کی تعین نہ ہوئی آپ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھتے رہے سترہ اٹھارہ ماہ تک تو بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھا ، اب انکار ہے قرآن حکیم نے ان شبہات کے متعلق فرمایا کہ یہ محض سفاہت وعدم تدبر پر مبنی ہیں ، ورنہ صرف تعیین قبلہ کا مسئلہ اتنا اہم نہ تھا کہ یہ اس پر اس قدر معاندانہ توجہ صرف کرتے ، جب کہ اصول میں اور عقائد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور جب کہ اب بھی مسلمان ویسے نماز اور خدا کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 وہ بڑے لوگوں کی ایک جماعت تھی جو اپنے زمانے میں گزر چکی جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے لئے ہے اور ان کے کام آئے گا اور جو کچھ تم کما رہے ہو اور کسب کر رہے ہو وہ تمہارے کام آئیگا۔ اور ان کے اعمال کی تم سے کوئی باز پرس اور پوچھ گچھ تک نہ کی جائیگی۔ (تیسیر) مطلب وہی ہے کہ جو کچھ وہ کر گئے اس کے متعلق تم سے سوال تک نہ ہوگا چہ جائے کہ ان کا محض انتساب تمہارے کام آئے اور وہ بھی ایسی حالت میں جب کہ تمہارے اعمال تمہارے عقائد ان بزرگوں کے صریح خلاف ہوں تو اس صورت میں تمہاری ان کے ساتھ نسبت یا فرضی محبت کے جھوٹے دعوے کب کام آسکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف مکہ کی عظمت، خانہ کعبہ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ جب خالی تذکرہ بھی نہ ہوگا تو اس سے تم کو نفع پہنچنا درکنار بلکہ اس کے برعکس یہ (ثابت ہوتا ہے کہ کسی بزرگ سے محض کسی نسبت کا ہونا نجات آخرت کے لیے کافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہاں اکابرین یہود ایک امت تھے : 258: ” تِلْكَ اُمَّةٌ“ سے مراد قوم اسرائیل کے اکابر اسلاف خصوصاً اجداد ثلاثہ ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) جنکی اولاد ہونے پر بنی اسرائیل کو سب سے زیادہ فخر ہے ان سب کا گویا نام لے کر بنی اسرائیل کو کہا جارہا ہے کہ یادر کھو انکے اعمال صالح سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا اور نہ تمہارے کفر اور اعمال سیئہ سے انہیں کوئی ضرر ہوگا اور آج جو تم نے اپنی کتابوں میں لکھ لیا ہے وہ ان بزرگوں پر اترے ہوئے کلام میں ہرگز نہیں پایا جاتا یہ تمہاری تحریف ہے۔ جس میں تم کو بڑی مہارت ہے۔ ” جس طرح انگور کی زندہ و شاداب بیل ایک بےجان ستون کے سہارے بڑھتی اور پھیلتی رہتی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 139–141

These three verses bring to an end the section of the Surah in which certain claims of the Jews and the Christians have been refuted -- for example, their assertion that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) (Abraham), Sayyidna Ismail (علیہ السلام) (Ishmael), Sayyidna Ishaq (علیہ السلام) (Isaac), Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) (Jacob) and the prophets (علیہم السلام) in his lineage were either Jews or Christians, and the claim that they were the chosen people and would have the exclusive privilege of being sent straight to Paradise which would be denied to Muslims. The earlier verses have established…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 140–141

140. This remark is addressed to the ignorant mass of Jews and Christians who sincerely believed that all the Prophets belonged to their religious denomination. 141. This remark is addressed to the Jewish and Christian theologians who were not unaware that Judaism and Christianity, with their existing characteristics, had emerged at a relatively late period in history. They nevertheless considered Truth to he confined to their own religious sects. They also perpetuated the misunderstanding that man's ultimate happiness and success lay in following the beliefs, institutions and legal codes…

Read the full tafseer →