Al-Baqara 2:128

Al-Baqara · from ayah 128

2:128

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪— وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا ۚ— اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۟رَبَّنَا وَاجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَيۡنِ لَـكَ وَ مِنۡ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسۡلِمَةً لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبۡ عَلَيۡنَا ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ

اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Our Lord, and make us Muslims [in submission] to You and from our descendants a Muslim nation [in submission] to You. And show us our rites and accept our repentance. Indeed, You are the Accepting of repentance, the Merciful.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 15 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:128

اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا مکمل فرمانبردار بنا لے اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پیدا کر جو تیری پوری تابع دار ہو اور ہم کو ہماری عبادتوں کے طریقے سکھا دے اور ہماری توبہ قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی معاف کردینے کا خوگر (اور) بڑی رحمت کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنے حکم کے سامنے جھکنے والا بنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک امت کو خاص اپنا تابع فرمان بنا اور ہمیں ہماری عبادت (اور حج کے) قواعد بتا دے اور ہم پر (رحمت و مغفرت) کی نظر فرما، بیشک تو ہی بہت توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہمارے رب ! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے دکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو ہی نہایت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے ایک جماعت پیدا کر جو تیری فرمانبردار ہو۔ اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتلا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بیشک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہمارے رب ہم دونوں کو تو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری ذریت میں سے تو اپنی ایک فرمانبردار امت اٹھا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بیشک تو توبہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے ہمارے پروردگار، بنا دے ہمیں اپنی فرمانبرداری کرنے والے، اور ہماری نسل میں سے بھی (پیدا فرما) ایک ایسی امت، جو تیری فرمانبردار ہو، اور ہمیں دکھا (اور سکھا) دے طریقے ہماری عبادت کے، اور توجہ فرما ہم پر، بیشک تو ہی ہم سب کی توبہ قبول کرنے والا بڑا ہی مہربان،

— مولانا اسحاق مدنی

اے پروردگار ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا دے۔ اور ہماری نسل سے ایک فرمانبردار امت پیدا کر۔ اور ہم کو ہمارے دینی قاعدے بتلادے۔ اور ہمارے حال پر توجہ رکھ۔ یقیناً تو تو بڑا توجہ فرمانے والا ہے بڑا مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اے ہمارے رب ! ہمیں اپنا مطیع فرمان بنائے رکھ اور ہم دونوں کی نسل سے ایک امت اٹھائیو جو تیری فرماں بردار ہو اور ہمیں حج کرنے کے قاعدے بتلا دے اور ہم پر اپنی توجہ فرما یقیناً تو ہی ہے بہت زیادہ توبہ کا قبول فرمانے والا (اور شفقت کے ساتھ رجوع کرنے والا) اور رحم فرمانے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ہمارے رب ! ہم دونوں کو اپنا فرمان بردار بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم یعنی فرمانبردار ہو اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Lord, make us Your Muslims (submissive servants) and also raise from our offspring a community which should be Muslim (submissive to Your Will). Show us the ways of Your worship and forbear our shortcomings: You are Forgiving and Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Our Lord, make us both submissive to You, and (make) of our progeny as well, a people submissive to You and show us our ways of Pilgrimage and accept our repentance. Indeed, You - and You alone - are the Most-Relenting, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Our Lord, make us both submissive to You, and (make) of our progeny as well, a people submissive to You and show us our ways of Pilgrimage and accept our repentance. Indeed, You - and You alone - are the Most-Relenting, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Our Lord! And make us submissive unto You and of our offspring a nation submissive unto You, and show us our Manasik, and accept our repentance. Truly, You are the One Who accepts repentance, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Our Lord! And make us submissive unto Thee and of our seed a nation submissive unto Thee, and show us our ways of worship, and relent toward us. Lo! Thou, only Thou, art the Relenting, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Our Lord, and make us Muslims [in submission] to You and from our descendants a Muslim nation [in submission] to You. And show us our rites and accept our repentance. Indeed, You are the Accepting of repentance, the Merciful.

— Saheeh International

Lord, make us good Muslims (one who submits himself to God) and from our descendants make a good Muslim nation. Teach us the rules of worship and accept our repentance; You are All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

Our Lord! and make us both submissive to Thee and (raise) from our offspring a nation submitting to Thee, and show us our ways of devotion and turn to us (mercifully), surely Thou art the Oft-returning (to mercy), the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Our Lord! make us twain submissive unto Thee, and of our progeny community submissive unto Thee, and show us our rites, and relent toward us! verily Thou! Thou art the Relentant, the Merciful!

— Abdul Majid Daryabadi

"Our Lord! make of us Muslims, bowing to Thy (Will), and of our progeny a people Muslim, bowing to Thy (will); and show us our place for the celebration of (due) rites; and turn unto us (in Mercy); for Thou art the Oft-Returning, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:128

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

تعمیر کعبہ پھر ایک مدت کے بعد حضرت ابراہیم کو اجازت ملی اور آپ تشریف لائے تو حضرت اسماعیل کو زمزم کے پاس ایک ٹیلے پر تیر سیدھے کرتے ہوئے پایا، حضرت اسماعیل باپ کو دیکھتے ہی کھڑے ہوگئے اور با ادب ملے جب باپ بیٹے ملے تو خلیل اللہ ؑ نے فرمایا اے اسماعیل مجھے اللہ کا ایک حکم ہوا ہے آپ نے فرمایا ابا جان جو حکم ہوا ہو اس کی تعمیل کیجئے، کہا بیٹا تمہیں بھی میرا ساتھ دینا پڑے گا۔ عرض کرنے لگے میں حاضر ہوں اس جگہ اللہ کا ایک گھر بنانا ہے کہنے لگے بہت بہتر۔ اب باپ بیٹے نے بیت اللہ کی نیو رکھی اور دیواریں اونچی کرنی شروع کیں، حضرت اسماعیل پتھر لا لا کردیتے جاتے تھے اور حضرت ابراہیم چنتے جاتے تھے جب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 126–128

سورة الْبَقَرَة 127 حضرت ابراہیم ؑ نے جب منصب امامت کے متعلق پوچھا تھا، تو ارشاد ہوا تھا کہ اس منصب کا وعدہ تمہاری اولاد کے صرف مومن و صالح لوگوں کے لیے ہے، ظالم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس کے بعد جب حضرت ابراہیم ؑ رزق کے لیے دعا کرنے لگے، تو سابق فرمان کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے صرف اپنی مومن اولاد ہی کے لیے دعا کی، مگر اللہ تعالیٰ نے جواب میں اس غلط فہمی کو فوراً رفع فرما دیا اور انہیں بتایا کہ امامت صالحہ اور چیز ہے اور رزق دنیا دوسری چیز۔ امامت صالحہ صرف مومنین صالح کو ملے گی، مگر رزق دنیا مومن و کافر سب کو دیا جائے گا۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ اگر کسی کو رزق دنیا فراوانی کے ساتھ مل رہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ یہ دعا بھی اسی معرفت و خشیت کا نتیجہ ہے جو حضرت خلیل اللہ ؑ کو حاصل تھی کہ اطاعت و فرمانبرداری کے بےمثال کارنامے بجا لانے کے بعد بھی یہ دعا کرتے ہیں کہ ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لیجئے وجہ یہ ہے کہ جتنی کسی کو حق تعالیٰ کی معرفت بڑہتی جاتی ہے اتنا ہی اس کا یہ احساس بڑہتا جاتا ہے کہ ہم حق وفاداری اور حق فرنبرداری پورا ادا نہیں کر رہے، وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اس دعا میں بھی اپنی اولاد کو شریک فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ والے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اولاد کی قربانی پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ان کو اپنی اولاد سے کس قدر محبت ہوتی ہے مگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دعا کی وضاحت : دعا کے بیچ بیچ میں بار بار“ ربنا ”کا اعادہ اور دعا کے مناسب صفاتِ الٰہی کا حوالہ دعا کے آداب میں سے ہے۔ اس سے دعا شرفِ قبولیت حاصل کرتی ہے۔ یہ دعا ان دونوں چیزوں کے حکیمانہ استعمال کی بہترین مثال ہے۔ سب سے پہلے باپ بیٹے نے جس چیز کی دعا کی ہے وہ خود اپنے مسلم بنائے جانے کی ہے۔ مسلم کے معنی خدا کے کامل فرمانبردار کے ہیں۔ اس سے کئی حقیقتیں روشنی میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایمان و اسلام اور طلب خشیت وتقوی کی دعاؤں میں انسان سب سے پہلے اپنے آپ کو سامنے رکھے، یہ چیزیں ایسی نہیں جن سے کوئی بھی مستغنی ہوسکے اگرچہ وہ کتنا ہی عالی مقام ہو۔ دوسری یہ کہ اسلام کے درجات و مراتب کی کوئی حد و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 126–128

26۔ 1 اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی دعائیں قبول فرمائیں، یہ شہر امن کا گہوارہ بھی ہے اور وادی (غیر کھیتی والی) ہونے کے باوجود اس میں دنیا بھر کے پھل فروٹ اور ہر قسم کے غلے کی وہ فراوانی ہے جسے دیکھ کر انسان حیرت و تعجب میں ڈوب جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 127–128

83: بیت اللہ جسے کعبہ بھی کہتے ہیں درحقیقت حضرت آدم ؑ کے وقت سے تعمیر چلاآتا ہے لیکن حضرت ابراہیم ؑ کے دور میں وہ حوادث روزگار سے منہدم ہوچکا تھا، حضرت ابراہیم ؑ کو اسے از سر نو انہی بنیادوں پر تعمیر کرنے کا حکم ہوا تھا جو پہلے سے موجود تھیں اور اللہ تعالیٰ نے بذریعۂ وحی آپ کو بتادی تھیں، اسی لئے قرآن کریم نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ وہ بیت اللہ تعمیر کررہے تھے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی بنیادیں اٹھا رہے تھے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع فرمان بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مطیع ہو ۔ ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما ، بیشک تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ یہ اس معاونت کی امید ہے جو یہ دونوں اسلام کی طرف ہدایت پانے کے سلسلے میں اللہ سے رکھتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں یہ پختہ شعور تھا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں ہیں ، یہ کہ ہدایت صرف اس کی ہدایت ہے ، اس کی معاونت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 128–129

1 یہ دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دونوں نے مانگی کہ ہماری جماعت میں ایک جماعت فرمانبردار اپنی پیدا کر اور ایک رسول ان میں بھیج جو ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ایسا نبی جو ان دونوں کی اولاد میں ہو بجز سرور کائنات ﷺ کوئی نہیں آیا اس کی وجہ سے یہود کے گذشتہ خیال کا پورا رد ہوگیا۔ علم کتاب سے مراد معانی و مطالب ضرور یہ ہیں جو عبارت سے واضح ہوتے ہیں اور حکمت سے مراد اسرار مخفیہ اور رموز لطیفہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 128 رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ نوٹ کیجیے ‘ یہ دعا ابراہیم علیہ السلام کر رہے ہیں۔ تو میں اور آپ اگر اپنے بارے میں مطمئن ہوجائیں کہ میری موت لازماً حق پر ہوگی ‘ اسلام پر ہوگی تو یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ چناچہ ڈرتے رہنا چاہیے اور اللہ کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہیے۔ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ۔ وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا اے پروردگار ! تیرا یہ گھر تو ہم نے بنا دیا ‘ اب اس کی زیارت سے متعلق جو رسومات ہیں ‘ جو مناسک حج ہیں وہ ہمیں سکھا دے۔ وَتُبْ عَلَیْنَاج ۔ ہم پر اپنی شفقت کی نظر فرما۔ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

157 یہ دونوں پیغمبر جب خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو ساتھ ساتھ دعا بھی کر رہے تھے کہ الٰہی : ہماری یہ خدمت قبول فرما اور اپنا مسلم (مطیع فرماں) بنا، اور ہماری اولاد میں سے ایک مسلم قوم پیدا کر، اور مسلم وہ ہوتا ہے جو اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اپنے آپ کو کلیتاً اللہ کے سپرد کر دے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرے۔ اس عقیدے اور طرز عمل کا نام اسلام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے۔ 158 مناسک کا لفظ عموماً حج کے آداب و ارکان اور قربانی کے احکام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کے وسیع مفہوم میں عبادت کے سب طریقے شامل ہیں۔ 159 انبیاء سے عمداً کوئی گناہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

461 ۔ (اور زیادہ) (آیت) ” مسلمین “ کے معنی یہاں دو طرح کیے گئے ہیں۔ ایک اللہ کی توحید کے ماننے والے بلاشائبہ شرک وشرکت۔ اے موحدین مخلصین لانعبد الاایاک (کبیر) دوسرے اسلام کے عام احکام کے پابند۔ اے قائمین بجمیع شرائع الاسلام (کبیر) لیکن دونوں معنی ایک دوسرے کے منافی بالکل نہیں۔ مسلم کے ترجمہ فرمانبردار میں نہ وہ وسعت ہے، نہ وہ لطف جو خود لفظ مسلم میں ہے۔ مسلمون اے منقادون للحق مذعنون لہ (راغب) فرمانبردار بندے یا مسلم تو ہو اس وقت ہی تھے جب دعا کررہے تھے۔ دعا کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ ہماری فرمانبرداری میں مزید ترقی دے۔ والمعنی زدنا اخلاصا واذ عانا لک (کشاف) والمراد طلب الزیادۃ فی الاخلاص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 127–129

آیت نمبر 127 تا 129 ترجمہ : اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اس گھر کی بنادیں یا دیواریں اٹھا رہے تھے یعنی اس کی تعمیر کر رہے تھے مِنَ البَیْت، یَرْفَعُ کے متعلق ہے، اور اِسْمَاعِیْلُ کا عطف اِبْرَاھِیْمُ پر ہے، دونوں دعاء کرتے جاتے تھے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہماری طرف سے اس تعمیر کو قبول فرما تو باتوں کا سننے والا اور کاموں کا جاننے والا ہے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا کہ جو تیری فرمانبردار ہو، اور مِنْ تبعیضیہ ہے، اور سابق میں لَا یَناَلُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ آجانے کی وجہ سے مِنْ تبعیضیہ لائے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ ( اور اے ہمارے پروردگار ہم کو بنا اپنا فرمانبردار) یعنی اے اللہ ہم کو اپنے تمام حکموں کا خالص فرماں بردار بنادے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ حقیقی مسلمان وہ ہے کہ جس سے کوئی معصیت صادر نہ ہو اور دوسرے لوگ اس کی ایذاء سے بچے ہوئے ہوں اسلام حقیقی سے ایسا ہی اسلام مراد ہے اور یہ درجہ بعد اطمینان نفس کے نصیب ہوتا ہے۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۠ ( اور ہماری نسل میں بھی ایک گروہ فرمانبردر پیدا کر) مِن تبعیضیہ ہے۔ ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(128) اے ہمارے پروردگار ! خالص ہمیں اپنی توحید اور عبادت پر قائم رکھ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک خالص اپنی توحید و عبادت پر کار بند ہونے والی جماعت پیدا فرما اور ہمیں آداب و احکام حج سے باخبر رکھ اور ہماری کمزوریوں، کوتاہیوں کو معاف فرما، یقیناً تو معاف کرنے والا اور ایمان لانے والوں پر رحم کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 127–128

الْقَوَاعِدَ بنیادیں، ابن عباس ؓ نے فرمایا، یعنی بیت اللہ کی وہ بنیادیں جو اس سے پہلے موجود تھیں۔ [ تفسیر عبد الرزاق بسند صحیح ] اس سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ پہلے تعمیر ہوچکا تھا، اب از سر نو اس کی بنیادیں اٹھائی جا رہی تھیں۔ سورة حج (26) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین فرمائی۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (96)۔ اس کے بعد بیت اللہ کئی دفعہ تعمیر ہوا۔ جاہلیت میں جب سیلاب سے کعبہ منہدم ہوگیا تو قریش نے دوبارہ اس کی تعمیر کی، مگر مال کی کمی کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ باہر چھوڑ دیا، جسے حطیم کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ بھی اس کے لیے پتھر اٹھا کر لاتے رہے۔ ابن اسحاق کے مطابق آپ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 128 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ربنا واجعلنامسلمین لک یہاں واجعلنا بمعنی صیرنا ہے اور مسلمین مفعول ثانی ہے۔ دونوں (ابراہیم و اسماعیل) نے ثبات اور دوام کی دعا مانگی۔ یہاں اسلام سے مراد ایمان اور اعمال دونوں ہیں۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الدین عند اللہ الاسلام (آل عمران : 19) اس آیت میں دلیل ہے ان علماء کی جو کہتے ہیں کہ ایمان اور اسلام ایک شے ہیں۔ ایک اور آیت سے انہوں نے اپنے اس قول کو قوت دی ہے۔ فاخرجنا ان کان فیھا من المؤمنین۔ فماوجد نا فیھا غیر بیتٍ من المسلمین۔ ( الذاریات) ( ہم نے نکال لیا وہاں کے تمام ایمانداروں کو پس نہ پایا ہم نے اس ساری بستی میں بجز ایک مسلم گھر کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم نے عبد الکریم (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ربنا واجعلنا مسلمین “ کے بارے میں روایت کیا کہ مسلمین سے مراد مخلصین ہے۔ (2) ابن ابی حاتم نے سلام بن ابی مطیع (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا وہ (دونوں یعنی ابراہیم و اسماعیل) پہلے ہی مسلمان تھے لیکن ان دونوں نے اللہ تعالیٰ سے ثابت قدم رہنے کا سوال کیا تھا۔ (3) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اس قول لفظ آیت ” ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک “ سے عرب کے لوگ مراد ہیں۔ واما قولہ تعالیٰ : وارنا مناسکنا : (4) سعید بن منصور، ابن ابی حاتم الازرق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(رَبَّــنَا : اے ہمارے ربّ ) (وَاجْعَلْنَا : اور تو بنا دے ہم دونوں کو) (مُسْلِمَیْنِ : فرماں بردار) (لَکَ : اپنا) (وَ : اور (تو بنا دے) مِنْ ذُرِّیَّتِنَا : ہماری نسل سے) (اُمَّــۃً مُّسْلِمَۃً : ایک فرماں بردار امت) (لَّکَ : اپنی) (وَ : اور) (اَرِ : تو سمجھا دے ) (نَا : ہم کو) (مَنَاسِکَنَا : ہماری بندگی کے طریقے) (وَتُبْ عَلَیْنَا : اور تو توبہ قبول فرما ہماری) ( اِنَّکَ : بیشک تو ) (اَنْتَ التَّوَّابُ : ہی تو بار بار توبہ قبول کرنے والا) (الرَّحِیْمُ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ) ا م م اَمَّ (ن) اِمَامَۃً وَاَمًّا وَاِمَامًا ۔ الْقَوْمَ وَبِالْقَوْمِ : امام بننا۔ اُمَّـــــۃٌ : امت ‘…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

امت مسلمہ کے لیے دعا اور اس کی قبولیت : حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) نے اپنی ذریت میں سے امت مسلمہ کے پیدا ہونے کی دعا بھی کی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ چونکہ ارشاد خداوندی (لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ ) سے یہ معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی ساری ذریت مومن نہ ہوگی اس لیے انہوں نے یوں عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہماری ذریت میں سے امت مسلمہ بنا دینا بعض حضرات کا فرمانا ہے کہ اس سے عرب مراد ہیں، جو حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن بندوں کو اپنے دین و ایمان کی فکر رکھتے ہوئے اپنی نسل اور ذریت کے دین و ایمان کے لیے بھی فکر مند ہونا چاہیے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–134

دعاء ابراہیمی برائے وجود امت مسلمہ وقوم مسلمانان و ظہور رسول محترم از ساکنان حرم کہ صاحب قرآن و خاتم پیغمبراں باشد قال تعالیٰ ۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک۔۔۔ الی۔۔۔ انک انت العزیز الحکیم (ربط) ان دونوں بزرگوں نے اپنی فراست صادقہ اور نور نبوت سے یہ سمجھا کہ جب ہم کو ایسے خانہ تجلی آشیانہ کی تعمیر کا حکم ہوا ہے تو لا محالہ اس کے ہمرنگ کسی ایسی عبادت کا بھی حکم ہونے والا ہے جو عشق اور محبت کا رنگ لیے ہوئے ہو۔ اور ان عبادتوں کا بجا لانے والا صورۃً اگرچہ انسان ہوگا مگر معنیً ہمرنگ ملائک ہوگا گویا کہ دربار خداوندی کا معاینہ اور مشاہدہ کر رہا ہے اور جس امت کے لیے اس گھر کو قبلہ بنایا جائے گا اس کو ایسے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

246 مُسْلِمَيْنِ لَكَ ۔ اَسْلَمَ وَجْهَھ سے ماخوذ ہے۔ ای مخلصین موحدین لک (روح ص 285 ج 1) ای موحدین مخلصین لا نعبد الا ایاک (کبیر ص 730 ج 1) یعنی ہمیں مزید اخلاص نصیب فرما اور اپنی توحید اور خالص عبادت پر ثبات و دوام عنایت کر کہ ہمیشہ دل وجان اور زبان سے ہر نفع اور نقصان میں تجھے ہی پکاریں اور مالی، بدنی اور زبانی عبادتیں تیری ہی بجا لائیں۔ یعنی ہمیں صفت اخلاص، اپنی توحید، اور خالص عبادت پر قائم رکھ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآکا عطف اِجْعَلْنَا کی ضمیر مفعول پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری اولاد میں بھی ہمیشہ ایک ایسی جماعت برقرار رہے جو توحید کی پابند ہو، صرف تیری ہی عبادت کرے اور صرف تجھے ہی پکارے،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 127–128

ربط آیات : اس آیت کا تعلق سابقہ درس کی آیت مبارکہ (آیت) ” واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس “۔ کے ساتھ ہے وہاں پر تھا کہ اس بات کو یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ شریف کو لوگوں کے رجوع کی جگہ مرکز ہدایت اور جائے امن بنایا اس کے ساتھ مقام ابراہیم کا ذکر ہوا ، بیت اللہ شریف کو پاک وصاف رکھنے کا حکم ہوا ، وہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر بھی تھا جس میں اہالیان شہر مکہ کے لیے پھلوں کی روزی طلب کی گئی تھی ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا جسے ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے ۔ (تاریخ کعبہ) آیت زیر درس میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کا ذکر ہے یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّكَ۝ 0 ۠ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا۝ 0 ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۝ 128 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 127–130

ترکیب : واذیرفع فعل ابراھیم فاعل القواعد جمع قاعدۃ بمعنی بنیاد مفعول من البیت کائنۃ کے متعلق ہو کر حال ہے قواعد سے واسماعیل معطوف ہے ابراہیم پر یہ دونوں ذی الحال اور یقولان محذوف فعل بافاعل ربنا تقبل منا الخ اس کا مفعول یرفع اپنے فاعلوں اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا اجعلنا میں نامفعول اول مسلمین مفعول ثانی لک متعلق مسلمین سے و حرف عطف۔ ذریتنا مفعول اول امتہ موصوف مسلمۃ صفت لک متعلق مسلمۃ سے یہ سب مفعول ثانی یتلو اور یعلمہم اور یزکیہم سب رسولاً کی صفت واقع ہوئے ہیں۔ تفسیر : اس جگہ خدائے تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے خلوص اور ان کی دعا کا ذکر کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَـکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّـکَص وَاَرِنَامَنَا سِکَنَا وَاتُبْ عَلَیْنَا ج اِنَّـکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔ (البقرۃ : 128) (اے ہمارے رب ! ہم دونوں کو تو اپنا مسلم (فرمانبردار) بنا اور ہماری ذریت میں سے تو اپنی امت مسلمہ (ایک فرمانبردار امت) اٹھا اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والارحم فرمانے والا ہے) دعا کی وضاحت تعمیر بیت اللہ کے دوران جو دعائیں بیت اللہ کے پاکیزہ معماروں کے لبوں تک آئیں اور انھیں اللہ کی کتاب میں ذکر فرماکر پروردگار نے لافانی کردیا۔ یہ دعائیں اپنی گہرائی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 127–128

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بانی کعبہ ہونے کا مزید ثبوت کیونکہ باقاعدہ بیت اللہ کا حج انہی کے زمانے سے شروع ہوا اور انہی پر مناسک حج اتارے گئے تھے۔ تاریخ عالم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ بانئ کعبہ کے نام سے مشہور ہیں اس اعزاز پر فخر کرنے کی بجائے اپنے رب کے سامنے حضور قلب اور عجز کے ساتھ فریاد کر رہے ہیں اے رب کریم ! تیرے گھر کی تولیّت اور تعمیر محض تیرے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ہماری کیا حیثیت کہ ہم تیرے گھر کی تعمیر اور خدمت کا اعزاز پائیں۔ ہماری التجا ہے کہ اسے دنیا میں سکون کا گہوارہ ‘ مرکزہدایت اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 128: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ : (اے ہمارے رب تو بنا ہمیں اپنا فرمانبردار) نمبر 1۔ مسلمین کا معنی ہم اپنے چہروں کو تیرے لئے خالص کرنے والے ہیں اور یہ اسی طرح ہے جیسا البقرہ آیت نمبر 112 میں من اسلم وجہہ للّٰہ۔ دوسرا قول : عاجز و فرمانبرداری اختیار کرنے والے ہیں۔ یہ اس طرح ہے جیسے کہیں اسلم لہ واستسلم۔ یعنی عاجزی کی اور یقین کرلیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے اخلاص اور اپنے اوپر یقین میں اضافہ فرما۔ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ : (اور ہماری اولاد میں سے) نحو : یہ اجعل کے متعلق ہے تو ہماری اولاد میں سے کر دے۔ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ : (ایک فرمانبردار جماعت) نمبر 1۔ من تبعیضیہ ہے نمبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 128–129

(تفسیر) 128۔: (آیت)” ربنا واجعلنا مسلمین لک “ موحدین مطیع اور مخلص اور اپنی ذات عالی کے حضور جھکنے والا بنا ۔ ” ومن ذریتنا “ ہماری اولاد (میں سے) امۃ جماعت اور امت نبیوں کے پیروکاروں کو کہا جاتا ہے ، (آیت)” مسلمۃ لک “ تیرے حضور عاجزی کرنے والے جھکنے والے ” وارنا “ ہمیں سکھا اور ہمیں معرفت بخش ، ابن کثیر نے راء کو ساکن کر کے پڑھا ہے یعنی ” ارنا “ پڑھا ہے اور ابو عمر ؓ نے اختلاس کے ساتھ پڑھا یعنی حرکت کو بھرپور نہیں پڑھا اور باقیوں نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے ، ابن عامر اور ابوبکر نے ” ارنا “ کو ساکن کرنے میں حم سجدہ میں موافقت کی ہے۔ ” ارنا “ اصل میں ” ارئنا “ تھا ، پس تخفیف کے لیے ہمزہ کو حذف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 125–128

(125 ۔ 128) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے یہ مراد ہے کہ شرک کی باتوں بت پرستی وغیرہ سے اس کو پاک رکھا جاوے 1۔ سورة حج کی آیت { وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِ بْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتَ اَنْ لاَّ تُشْرِکَ نِیْ شَیْئًا } ( 26۔ 22) سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ بنانے کے لئے وہ خالی جگہ اس ہدایت سے بتائی گئی تھی کہ وہ اس گھر کو ایسی خالص توحید کی نیت سے بناویں کہ یہ گھر بت پرستی سے پاک رہے اور جب خالی جگہ پر کعبہ بن گیا اور آیندہ نسل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا) یعنی ارادہ اور مشاہدہ کے ذریعے ہمیں ہمارا طریق عبادت سکھا۔ تاکہ یہ زیادہ مؤثر ہو۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ مناسک سے مراد تمام اعمال حج ہوں۔ جیسا کہ اس معنی پر آیت کریمہ کا سیاق وسباق دلالت کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز مراد ہو اور وہ سارا دین اور تمام عبادات ہیں۔۔۔ جیسا کہ عموم لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ (النسک) کا معنی عبادت کرنا ہے پھر عرف کے لحاظ سے حج کی عبادات کے لئے اس لفظ کا استعملا غالب آگیا۔ پس ان کی دعا کا حاصل علم نافع اور عمل صالح کی توفیق مانگنا ہے۔ بندہ جیسا بھی ہو اس سے تقصیر ہو ہی جاتی ہے اس لئے وہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے : وارنا منا سکنا (ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا) کہ اجاتا ہے کہ لغت میں نسک کے اصل معنی غسل یعنی دھونے کے ہیں۔ اگر ایک شخص اپنے کپڑے دھو لے تو اس موقعہ پر کہا جائے گا کہ ” نسک ثوبہ “ اس سلسلے میں ایک شعر بھی پیش کیا گیا ہے۔ ولا ینبت الموعی سباح عراعر ولونسکت بالماء ستۃ اشھر (پہاڑوں کی شوز زدہ چوٹایں کوئی چراگاہ نہیں اگا سکتیں خواہ چھ برسوں تک پانی سے ان کی دھلائی کیوں نہ کی جاتی رہے) شرع میں نسک عیادت کا اسم ہے۔ کہا اجتا ہے ” رجل ناسک “ یعنی عابد شخص حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ حضور ﷺ یوم الاضحی کو گھر سے نکلے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : آج کے دن ہماری پہلی عبادت نماز ہوگی اور پھر جانور کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 128–129

357 حضرت ابراہیم کی دعاء امت مسلمہ کیلئے : یعنی ایسی فرمانبردار امت کہ ان کے عقائد بھی صحیح ہوں، اور اعمال و اخلاق بھی درست ہوں، اور وہ سچے دل سے تیرے آگے جھکنے والے ہوں، کہ تیری اطاعت و بندگی اور فرمانبرداری ہی میں بندے کی سعادت اور اس کی کامیابی ہے، ورنہ اس کی کوئی قدرو قیمت نہیں۔ سو اولاد وہی نعمت ہے جو ایمان و یقین کی دولت سے سرشار اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے والی، اور اس کی اطاعت و بندگی کے شرف سے مشرف ہو ورنہ وہ کس کام کی۔ بلکہ دین و ایمان سے محروم اولاد ۔ والعیاذ باللہ ۔ انسان کیلئے عذاب اور اس کی دشمن ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے اور اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 127–129

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعائیں تشریح : حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے، صاف کہا گیا ہے کہ بنیادیں موجود تھیں ان کے اوپر دیواریں اٹھا رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ بنیادیں حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے زمانے میں رکھ گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی مدد سے بنیادیں ڈھونڈ لیں اور پھر عمارت تعمیر کی، تعمیر کعبہ کے دوران دونوں باپ بیٹا دعائیں کرتے جاتے تھے کہ اے اللہ تبارک تعالیٰ ہماری فرمانبرداری اور اطاعت میں اور بھی اضافہ کر دے اور ہمیں پکا مسلمان بنا دے۔ بیشک اے اللہ تو ہی سب سے زیادہ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 122–129

آیات 122- 129 اسرارو معارف ہر طرح کے عقلی ، نقلی اور اعجازی جواب ارشاد فرما کر جب سب طرف سے عاجز کردیا اور حضور ﷺ کی حقانیت واضح ہوگئی تو پھر خطاب براہ راست بنی اسرائیل کو ہوا کہ اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے احسانات و انعامات جو میں نے تم پر کئے یاد کرو ، یہ میرا ہی احسان تھا کہ تمہیں تمہارے دور کی پوری دنیا پہ فضیلت عطاء کی۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بات اس قدر طویل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں بھی ایک عالم میں یہی لوگ سربراہ تھے بلکہ مذاہب عالم پر چھائے ہوئے تھے اور خود مشرکین عرب بھی اپنی مشکلات میں ان کی طرف رجوع کرتے۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے سوال کرنے کے لئے مدینہ آتے اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 128–129

ف 3 یہ حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کی دعا کی کا خاتمہ ہے رسولا سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں کیونکہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی دوریت میں انحضرت ﷺ کے سوا کوئی دوسرا نبی نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا، عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔ زمانہ حمل میں میں آمنہ ؓ نے ایک خواب دیکھا تھا کہ ان کے اندر سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام محلات روشن ہوگئے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت کا تو قرآن نے ذکر کیا ہ۔ اور خواب میں شام کی تخصیص اس لیے ہے کہ آخر زمانہ میں شام ہی اسلام کا مرکز بنے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:128) ربنا ۔۔ انت العزیز الحیم یہ دعا ہے جو کہ ربنا تقبل منا سے شروع ہوئی تھی۔ مسلمین۔ اسم فاعل تثنیہ مذکر مسلم واحد۔ دو فرمانبردار مسلمان۔ مسلمۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث مسلمات جمع ۔ فرمانبردار مسلمان۔ اور ہماری اولاد (یا نسل) میں سے بھی ایک گروہ اپنا فرمانبردار بناتے رہو۔ ارنا۔ ار۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ اراء ۃ (افعال) مصدر سے رء ی مادہ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم تو ہمیں دکھا۔ مناسکنا۔ اسم ظرف منسک کی جمع مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی اد کا۔ ہمارے حج اور عبادت کے طریقے۔ نسک عبادت ۔ پرستش۔ نسک قربانی ناسک عابد۔ دین کے راہ پر چلنے والا۔ منسک قربانی کی جگہ۔ دین…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 124–129

لغات القرآن : آیت نمبر 124 تا 129 ابتلی (آزمایا) ۔ کلمت (چند باتیں) ۔ اتمھن (اس نے پورا کر دکھایا) ۔ امام (رہنما، پیشوا، سردار) ۔ ذریتی (میری اولاد) ۔ لا ینال (نہیں ملے گا) ۔ امن (امن و سکون کی جگہ) ۔ مصلی (نماز کی جگہ) ۔ طھرا (تم دونوں پاک رکھو گے) ۔ الطائفین (طواف کرنے والے) ۔ العاکفین (اعتکاف کرنے والے) ھذا بلدا (اس شہر کو ، اس بستی کو) ۔ امتع (میں سامان دوں گا، فائدہ دوں گا) ۔ اضطر (میں کھینچوں گا) ۔ المصیر (ٹھکانا) ۔ یرفع (بلند کرتا ہے) ۔ القواعد (دیواریں) مسلمین (فرماں بردار) ارنا ( ہمیں دکھا دے، ہمیں سکھا دے) ۔ مناسک (حج کے احکام، عبادت) ۔ ابعث (بھیج دے) ۔ یتلوا (تلاوت کرتا ہے، پڑھتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 125–129

شان نزول : حضرت عمر ؓ نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ ٹھہرانے کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی ہے ۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں یہ پتھر کعبہ کی ایک دیوار میں لگا ہوا تھا ۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو نکال کر اس جگہ رکھ دیا جہاں اب موجود ہے ۔ حض کے وقت طواف سے فارغ ہونے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل پڑھنا سنت ہے۔ مکہ اللہ کا گھر ہے اور مدینہ اللہ کے رسول کا گھر ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اسے روایت ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے مراد یہ کہ شرک کی باتوں اور بت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 128–129

دعائے خلیل اور نوید مسیحا : (ف 1) حضرت ابراہیم نے سات دعائیں اللہ سے کیں ۔ (1) رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا (2) وَّارْزُقْ اَھْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ (3) رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا (4) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ (5) وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا (6) وَتُبْ عَلَيْنَا (7) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا ۔ پہلی دعا بلد امین کے متعلق ہے ۔ دوسری وہاں کے رہنے والوں کے لیے ، تیسری میں قبولیت کے لیے استدعا ہے ، چوتھی میں اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اسلام و اخلاص طلب کیا ۔ پانچویں میں مناسک و احکام کی تشریح چاہی ہے ، چھٹی میں توبہ و رحمت کی درخواست کی ہے اور ساتویں میں فرمایا کہ اللہ ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 127–129

ف 1 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ کی بنیادیں بلند کررہا تھا اور اساس کعبہ پر دیواریں اٹھا رہا تھا اور اس کے ہمراہ اسکا لڑکا بھی اس کام میں شامل تھا دونوں باپ بیٹے جناب باری کی خدمت میں عرض کر رہے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہماری اس خدمت کو اور ہمارے اس عمل کو قبول فرمالے بیشک تو خوب سننے والا جاننے والا ہے اور ہمارے پروردگار ہم کو اور زیادہ مخلص اور مطیع و فرمانبردار بنادے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کر جو تیری مطیع و فرمانبردار ہو اور اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ہمارے حج کے احکام بتادے اور سکھادے اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ توجہ فرماتے ہوئے ہماری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 128–134

ف 4۔ جس جماعت کا اس آیت میں ذکر ہے وہ صرف بنی اسماعیل ہیں جن میں جناب رسول اللہ مبعوث ہوئے۔ پس جہاں جن پیغمبر کے لیے دعا ہے اس سے مراد صرف آپ ہوئے کیونکہ یہ دعا دونوں صاحبوں نے کی ہے تو وہی جماعت مراد ہوسکتی ہے جو دونوں کی اولاد ہو اور پیغمبر کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ وہ اس جماعت سے ہوں تو جماعت بنی اسماعیل میں سے ہیں اس لیے حدیث صحیح میں ارشاد نبوی ہے کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ظہور ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بارگاہ رب ذوالجلال میں امت مسلمہ کے لئے دُعا : 239: بارگاہ رب ذوالجلال سے مانگتے قت انکساری و عاجزی لازمی و ضروری ہے۔ دیکھو ! دونوں باپ بیٹا مسلمان تو پہلے ہی سے تھے جب دعا کر رہے تھے لیکن کہتے یہی ہیں کہ اے اللہ ! ہماری فرمانبرداری میں مزید ترقی فرما اور ہماری نسل سے بھی ایک فرمانبردار امت پیدا فرما یعنی امت مسلمہ۔ دعا کی قبولیت کا اندازہ اسی سے لگا لو کہ وہ امت آج تک اسی نام سے مشہور چلی آرہی ہے۔ دوست دشمن کی زبان پر ” امت مسلمہ “ کے الفاظ جاری ہیں دونوں بزرگ فرماتے ہیں کہ اے اللہ ! ہماری اولاد میں ایک ایسی جماعت ہمیشہ رہے جو تیرے احکام کی پیروی اور اتباع کو اپنی زندگی کا مقصد اصلی بنائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 128 reports that he further prayed to Allah "to make" him and his son obedient to His commandments and to His Will. This prayer too proceeds from the same sense of fear and awe, and from the same knowledge. He has, all his life, been performing exemplary deeds of obedience, and yet he prays to "be made" obedient. It is so, because the more one grows in one's knowledge of Divine Majesty, the more one comes to realize that one is not being faithful and obedient as is due. It is significant. that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) included his descendants too in his prayer. This shows that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 126–128

127. (Here a distinction is made between honouring a people by entrusting it with the religious leadership and guidance of the world, and bestowing on it an abundant means of livelihood - Ed.) When Abraham enquired who merited world leadership it was made clear to him that only his truly believing and righteous children, to the exclusion of the wrong-doing ones, were worthy of it. This occasioned God to clarify that the religious leadership of the world was quite distinct from its livelihood. Men of faith alone were entitled to the former, whereas both believers and unbelievers would be…

Read the full tafseer →