دعائے ابراہیم ؑ کا ماحصل
اہل حرم کے لیے یہ دعا بھی ہے کہ آپ کی اولاد میں سے ہی رسول ان میں آئے چناچہ یہ بھی پوری ہوئی۔ مسند احمد ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " میں اللہ جل شانہ کے نزدیک آخری نبی اس وقت سے ہوں جبکہ آدم ابھی مٹی کی صورت میں تھے " میں تمہیں ابتدائی امر بتاؤں میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا اور حضرت عیسیٰ نے دی اور میری ماں نے دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل چمکا دئے۔ " مطلب یہ ہے کہ دنیا میں شہرت کا ذریعہ یہ چیزیں ہوئی۔ آپ کی والدہ صاحبہ کا خواب بھی عرب میں پہلے ہی مشہور ہوگیا تھا اور وہ کہتے ہیں کہ بطن آمنہ سے کوئی بڑا شخص پیدا ہوگا بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
سورة الْبَقَرَة 129
اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ محمد ﷺ کا ظہور دراصل حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ہمارے پروردگار اور (یہ بھی دعا ہے کہ) اس جماعت کے اندر (جس کے پیدا ہونے کی دعا اپنی اولاد میں سے کر رہے ہیں) انہی میں کا ایک ایسا پیغمبر بھی مقرر کیجئے جو ان لوگوں کو آپ کی آیات پڑھ کر سنایا کریں اور ان کو (آسمانی) کتاب (کے مضامین) کی اور (اس میں) خوش فہمی (کا سلیقہ حاصل کرنے) کی تعلیم دیا کریں اور ان کو (اس تعلیم و تلاوت کے ذریعہ جہالت کے خیالات اور اعمال سے) پاک کریں بلاشبہ آپ ہی ہیں غالب القدرت کامل الانتظام،
تشریح لغات
يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ مصدر تلاوۃ سے مشتق ہے، تلاوت کے اصلی معنی اتباع اور پیروی کے ہیں اصطلاح قرآن و حدیث میں یہ لفظ قرآن کریم اور دوسری آسمانی…
Read the full tafseer →“ ان میں انہی میں سے ایک رسول اٹھا، یعنی ہماری ذریت میں سے ”۔ چونکہ اس موقع پر حضرت ابراہیم کے ساتھ صرف حضرت اسماعیل ؑ ہی تھے اور وہی اس وادی غیر ذی زرع میں بسائے جا رہے تھے اس وجہ سے اس دعا کا تعلق لازما انہی کی ذریت سے تھا۔ اس کا کوئی تعلق بھی حضرت اسحاق کی ذریت سے نہیں ہوسکتا۔ تورات کے الفاظ سے بھی یہی بات نکلتی ہے کہ آخری نبی کی بعثت حضرت اسماعیل کی نسل سے ہونے والی تھی۔ تثنیہ باب 18 میں حضرت موسیٰ کی جو مشہور پیشین گوئی ہے اس میں فرمایا ہے“ تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا ”آگے چل کر ہے“ میں ان کے لیے انہیں کے بھائیوں میں سے ”۔ یہ الفاظ صاف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس سے…
Read the full tafseer →129۔ 1 یہ حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی آخری دعا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے حضرت محمد رسول ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا میں اپنے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا، حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں (الفتح الربانی ج 20، ص 181، 189)
129۔ 2 کتاب سے مراد قرآن مجید اور حکمت سے مراد حدیث ہے۔ تلاوت آیات کی تعلیم کتاب و حکمت کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی نفس تلاوت بھی مقصود اور باعث اجر وثواب ہے۔ تاہم اگر ان کا مفہوم و مطلب بھی سمجھ میں آجاتا ہے تو سبحان اللہ، سونے پر سہاگہ ہے۔ لیکن اگر قرآن کا ترجمہ و مطلب نہیں آتا، تب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
84: دل سے نکلی ہوئی اس دعا کی تاثیر کسی ترجمے کے ذریعے دوسری زبان میں منتقل نہیں کی جاسکتی چنانچہ ترجمہ صرف اس کا مفہوم ہی ادا کرسکتا ہے یہاں اس دعا کو نقل کرنے کا مقصد ایک تو یہ دکھانا ہے کہ انبیاء اپنے بڑے بڑے کارنامے پر بھی مغرور ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور اور زیادہ عجز ونیاز کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے کارنامے کا تذکرہ کرنے کے بجائے اپنی ان کوتاہیوں پر توبہ کرتے ہیں جو اس کام کی ادائیگی میں ان سے سرزد ہونے کا امکان ہو دوسرے ان کا ہر کام صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہوتا ہے لہذا وہ اس پر مخلوق سے تعریف کرانے کی فکر کے بجائے اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا مانگتے ہیں۔ تیسرے یہ ظاہر کرنا…
Read the full tafseer →اس کے بعد وہ مزید التجا کرتے ہیں کہ ازمنہ بعیدہ میں بھی وہ ان کی ہدایت کے لئے مستقل بندوبست فرمائیں۔
وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (129) ” اے اللہ ! ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول مبعوث فرما جو تیری آیات تلاوت کرے ، ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیوں کو پاک کردے ۔ بیشک تو غالب و حکیم ہے ۔ “
حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کی اس دعا کی قبولیت کے نتیجے میں اب اس رسول کریم کی بعثت ہوئی اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد ، اور آپ کی بعثت حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
1 یہ دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دونوں نے مانگی کہ ہماری جماعت میں ایک جماعت فرمانبردار اپنی پیدا کر اور ایک رسول ان میں بھیج جو ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ایسا نبی جو ان دونوں کی اولاد میں ہو بجز سرور کائنات ﷺ کوئی نہیں آیا اس کی وجہ سے یہود کے گذشتہ خیال کا پورا رد ہوگیا۔ علم کتاب سے مراد معانی و مطالب ضرور یہ ہیں جو عبارت سے واضح ہوتے ہیں اور حکمت سے مراد اسرار مخفیہ اور رموز لطیفہ ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 129 رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ
فِیْہِمْ سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کی نسل یعنی بنی اسماعیل مراد ہے۔ وہ دونوں دعا کر رہے تھے کہ پروردگار ! ہماری اس نسل میں ایک رسول مبعوث فرمانا جو انہی میں سے ہو ‘ باہر کا نہ ہو ‘ تاکہ ان کے اور اس کے درمیان مغائرت اور اجنبیت کا کوئی پردہ حائل نہ ہو۔
یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ
کتاب کا صرف پڑھ کر سنا دینا تو بہت آسان کام ہے۔ اس کے بعد کتاب اور اس میں موجود حکمت کی تعلیم دینا اور اسے دلوں میں بٹھانا اہم تر ہے۔
وَیُزَکِّیْہِمْ ۔
ان کا تزکیہ کرے اور ان کے دلوں میں تیری…
Read the full tafseer →160 یعنی اہلیان شہر مکہ میں سے رسول مبعوث فرما۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے نبی عربی پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں۔ (احمد، بحوالہ مشکوٰۃ، باب فضائل سید المرسلین صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ الفصل الثانی)
161 حکمت کے لفظی معنی سمجھ اور دانائی ہے۔ پھر اس میں وہ سب طور طریقے بھی شامل ہوجاتے ہیں جو کسی کام کو عملی طور پر سر انجام دینے کے لیے ضروری ہوں۔ پہلی قسم کو حکمت علمی اور دوسری قسم کو حکمت عملی کہتے ہیں اور امام شافعی…
Read the full tafseer →466 ۔ (آیت) ” منہم “ یہ قید خوب خیال میں رہے۔ دعائے ابراہیمی ابھی چل رہی ہے۔ ابھی ابھی آپ اور حضرت اسمعیل (علیہما السلام) دونون ملکر عرض کرچکے ہیں۔ کہ اے پروردگار ہم دونوں کی نسل میں سے ایک امت مسلمہ ایک اپنی فرمانبردار امت پیدا کر۔ اور اس کے معا بعد (آیت) ” منہم “ کا لفظ لاتے ہیں۔ کھلی ہوئی مراد نسل اسمعیلی سے ہے۔ لفظ ھم کا مرجع ذریۃ کو بھی سمجھا گیا ہے اور امت مسلمہ کو بھی۔ والضمیر فی منہم یحتمل ان یعود علی الذریۃ ویحتمل ان یعود علی امت مسلمۃ (بحر) ماحصل دونوں کا ایک ہی ہے یعنی نسل اسمعیلی۔ اور یہ جزوتاریخ سے اپنی جگہ ثابت ہے کہ صحیح النسب نسل اسمعیل (علیہ السلام) قوم عرب ہی رہ گئی تھی، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
آیت نمبر 127 تا 129
ترجمہ : اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اس گھر کی بنادیں یا دیواریں اٹھا رہے تھے یعنی اس کی تعمیر کر رہے تھے مِنَ البَیْت، یَرْفَعُ کے متعلق ہے، اور اِسْمَاعِیْلُ کا عطف اِبْرَاھِیْمُ پر ہے، دونوں دعاء کرتے جاتے تھے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہماری طرف سے اس تعمیر کو قبول فرما تو باتوں کا سننے والا اور کاموں کا جاننے والا ہے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا کہ جو تیری فرمانبردار ہو، اور مِنْ تبعیضیہ ہے، اور سابق میں لَا یَناَلُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ آجانے کی وجہ سے مِنْ تبعیضیہ لائے ہیں،…
Read the full tafseer →رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ ( اور اے رب ہمارے بھیج ان میں ایک پیغمبر ان ہی میں کا) اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو بھی قبول فرمایا اور جناب رسول اللہ ﷺ کو اپنی رحمت کاملہ سے نبی بنا کر بھیجا۔ عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آدم ( علیہ السلام) ہنوز آب و گل کے درمیان تھے مگر میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین تھا میں تمہیں اپنی شروع کی حالت بتاؤں میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور عیسیٰ کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں جو کہ میری پیدائش کے وقت میری ماں نے دیکھا تھا کہ مجھ سے ایک ایسا نور نکلا ہے کہ اس کی روشنی سے شام کے محل روشن ہوگئے۔ اس حدیث کو علامہ…
Read the full tafseer →(129) اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں اسی خاندان میں سے ایک رسول (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث اور گناہوں سے پاک صاف کرنے کی وجہ سے پاکیزہ بنائے، بلاشبہ جو تیرے اس رسول کی دعوت پر لبیک نہ کہے، جس کو تو نے ان کی طرف بھیجنا ہے، اس سے شدید انتقام لینے پر قدرت رکھنے والا ہے اور رسول کے مبعوث فرمانے میں تو غالب حکمت والا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت ابراہیم ؑ کا امتحان لیا تھا، چناچہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کلمات کو پایہ تکمیل تک پہنچا یا اور ان ہی کلمات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔
Read the full tafseer →یہ ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی دعا کا خاتمہ ہے۔ ”رَسُوْلًا“ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں، کیونکہ اسماعیل ؑ کی اولاد میں آپ ﷺ کے سوا کوئی دوسرا نبی نہیں ہوا۔ اصحاب رسول ﷺ نے آپ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں اپنے متعلق بتائیں، تو آپ نے فرمایا : ”میں اپنے باپ ابراہیم ؑ کی دعا اور عیسیٰ ؑ کی بشارت ہوں اور میری والدہ کو جب میرا حمل ٹھہرا تو انھوں نے دیکھا کہ ان (کے بدن) سے ایک نور نکلا جس سے بصریٰ روشن ہوگیا اور بصریٰ شام کی سرزمین سے ہے۔“ (اسے امام حاکم نے روایت کیا، امام ذہبی نے صحیح کہنے میں ان کی موافقت کی۔ (مستدرک : 2؍601، ح : 4176) شیخ البانی نے اسے صحیح کہا۔ (سلسلہ الصحیحہ : 1545) شام کی تخصیص اس لیے ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 129
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ربنا وابعث فیھم رسولاً ، رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ حضرت ابی کی قراءت میں ہے وابعث فی آخرھم رسولا منھم حضرت خالد بن معدان نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت نے آپ سے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں اپنی ذات کے بارے میں بتایئے۔ فرمایا : ہاں میں اپنے باپ ابراہیم کی دعوت ہوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں۔ اور رسول بمعنی مرسل (بھیجا گیا) ہے یہ رسالت سے مفعول کا وزن ہے۔ ابن انباری نے کہا : ہوسکتا ہے کہ عربوں کے اس قول سے ہو : ناقة مرسال ورسلة۔ جب اونٹنی آرام سے چلنے والی ہو دوسری اونٹنیوں کے آگے چلنے والی ہو اور مہمل جماعت کے لئے…
Read the full tafseer →(1) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں اللہ کے نزدیک ام الکتاب میں خاتم النبین تھا جبکہ آدم (علیہ السلام) اپنی منی میں گوندھے ہوئے تھے میں تم کو اس کی ابتداء سے مطلع کروں گا میں اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں اور اپنی ماں کا خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا اور اس طرح نبیوں کی مائیں دیکھتی ہیں۔
(2) امام احمد، ابن سعد، طبرانی، ابن مردویہ اور بیہقی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کے معاملہ کی ابتداء کیا ہے ؟ فرمایا میں…
Read the full tafseer →(رَبَّــنَا : اے ہمارے ربّ ) (وَابْعَثْ : اور تو بھیج) (فِیْھِمْ : ان میں ) (رَسُوْلًا : ایک ایسا رسول) (مِّنْھُمْ : ان ) (میں سے یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ : جو پڑھ کر سنائے ان کو) (اٰیٰتِکَ : تیری آیات) (وَیُعَلِّمُھُمُ : اور جو تعلیم دے ان کو) (الْکِتٰبَ : کتاب کی) (وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کی) (وَیُزَکِّیْھِمْ : اور جو تزکیہ کرے ان کا) ( اِنَّکَ : بیشک تو
اَنْتَ الْعَزِیْزُ : ہی تو بالادست ) (الْحَکِیْمُ : حکمت والا ہے)
ع ز ز
عَزَّ (ض) عِزًّا : مغلوبیت سے محفوظ ہونا ‘ سخت ہونا۔
عَزَّ (ن) عَزًّا : کسی پر غالب آنا ۔ { وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ۔ } (صٓ) ” اور وہ غالب آیا مجھ پر بات میں۔ “
عِزٌّ:…
Read the full tafseer →اہل مکہ میں سے ایک رسول بھیجنے کی درخواست اور اس کی مقبولیت
اس آیت میں بھی حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ ہے کعبہ شریف بناتے ہوئے جو دعائیں ان دونوں حضرات نے کی تھیں ان میں سے ایک یہ دعا بھی ہے کہ اے ہمارے رب ان میں سے ایک رسول مبعوث فرما۔ اس رسول سے خاتم النّبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں جو عربی بھی تھے اور مکی بھی اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) دونوں کی نسل میں سے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی انبیاء (علیہ السلام) مبعوث ہوئے سب انہی کی نسل میں سے تھے۔ اور حضرت سرورعالم خاتم النّبیین ﷺ کے علاوہ سب بنی اسحاق تھے اور صرف آپ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
دعاء ابراہیمی برائے وجود امت مسلمہ وقوم مسلمانان و ظہور رسول محترم از ساکنان حرم کہ صاحب قرآن و خاتم پیغمبراں باشد
قال تعالیٰ ۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک۔۔۔ الی۔۔۔ انک انت العزیز الحکیم
(ربط) ان دونوں بزرگوں نے اپنی فراست صادقہ اور نور نبوت سے یہ سمجھا کہ جب ہم کو ایسے خانہ تجلی آشیانہ کی تعمیر کا حکم ہوا ہے تو لا محالہ اس کے ہمرنگ کسی ایسی عبادت کا بھی حکم ہونے والا ہے جو عشق اور محبت کا رنگ لیے ہوئے ہو۔ اور ان عبادتوں کا بجا لانے والا صورۃً اگرچہ انسان ہوگا مگر معنیً ہمرنگ ملائک ہوگا گویا کہ دربار خداوندی کا معاینہ اور مشاہدہ کر رہا ہے اور جس امت کے لیے اس گھر کو قبلہ بنایا جائے گا اس کو ایسے…
Read the full tafseer →247 ھُمْ ضمیر کا مرجع اُمَّةً مُّسْلِمَةًہے۔ رَسُوْلًا مِّنْھُمْیہاں بھی ھُمْ کا مرجع اُمَّةً مُّسْلِمَةًاور اُمَّةً مُّسْلِمَةًکے ساتھ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآکی قید گذر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم دونوں کی اولاد میں جو امت مسلمہ ہو ان میں سے ایک رسول برپا کرنا یہ دعا صرف اسی صورت میں پوری ہوسکتی ہے جب کہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ان صفات کا حامل رسول مبعوث ہو لہذا حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں پیدا ہونے والے انبیاء کے ذریعے یہ دعاء پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ ذُرِّيَّتِنَآ میں نَا سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں اس لیے کہ بنائے کعبہ کے وقت یہی…
Read the full tafseer →گذشتہ سے پیوستہ :
جس وقت حضرت ابراہیم اور اسمعیل (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو ساتھ ساتھ دعا بھی مانگ رہے تھے دعا کے بعض حصے گذشتہ درس میں بیان ہوچکے ہیں سب سے پہلے انہوں نے عرض کیا (آیت) ” ربنا تقبل منا “۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے یہ عمل قبول فرمائے (آیت) ” انک انت السمیع العلیم “۔ تو سنتا بھی ہے اور ہر شخص کی نیت اور ارادے کو بھی جانتا ہے دونوں باپ بیٹے نے اپنی عاجزی کا اظہار کیا اور عرض کیا کہ ہمارے اس عمل کا مقصد محض تیری رضا ہے لہذا تو ہم سے یہ عمل قبول کرلے ۔
دعا کے دوسرے حصے میں عرض کیا (آیت) ” ربنا واجعلنا مسلمین لک “ اے ہمارے پروردگار ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار…
Read the full tafseer →رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ 0 ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 129 ۧ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–130
ترکیب : واذیرفع فعل ابراھیم فاعل القواعد جمع قاعدۃ بمعنی بنیاد مفعول من البیت کائنۃ کے متعلق ہو کر حال ہے قواعد سے واسماعیل معطوف ہے ابراہیم پر یہ دونوں ذی الحال اور یقولان محذوف فعل بافاعل ربنا تقبل منا الخ اس کا مفعول یرفع اپنے فاعلوں اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا اجعلنا میں نامفعول اول مسلمین مفعول ثانی لک متعلق مسلمین سے و حرف عطف۔ ذریتنا مفعول اول امتہ موصوف مسلمۃ صفت لک متعلق مسلمۃ سے یہ سب مفعول ثانی یتلو اور یعلمہم اور یزکیہم سب رسولاً کی صفت واقع ہوئے ہیں۔
تفسیر : اس جگہ خدائے تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے خلوص اور ان کی دعا کا ذکر کرتا ہے…
Read the full tafseer →رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ طاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ (البقرۃ : 129)
(اے ہمارے رب ! تو ان میں انھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیتیں سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے، بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے)
” رَبَّنَا “ سے صفت ربوبیت کی توجہ دلا کر رسالت پر دلیل قائم کی :
اس دعا کا ایک ایک لفظ انتہائی قابل توجہ اور از بس سبق آموز ہے۔ رَبَّنَا کہہ کر اللہ کی صفت ربوبیت کے حوالہ سے عرض کی کہ اے ہمارے رب ! ہمیں زندگی کی جو نعمتیں، زندگی کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے لیے خصوصی دعا جس میں واضح ثبوت ہے کہ آخری نبی بنی اسماعیل میں سے مکہ میں ہوگا۔
قرآن مجید کے الفاظ سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دعا اس وقت کی جب انہوں نے اپنی رفیقۂ حیات اور لخت جگر کو بیت اللہ کے قریب ٹھہرایا تھا۔ کچھ دعائیں تعمیر کعبہ کے دوران اور باقی تکمیل کے بعد اللہ کے حضور کی گئیں۔ آخری دعا میں ایک ایسے نبی کی ضرورت کا تذکرہ ہے جو نا صرف اسی قوم سے ہو بلکہ اس کی پیدائش بھی مکہ معظمہ میں ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس دعا میں نبوت کی غرض وغایت اور…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 129:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ : (اے ہمارے رب تو بھیج ان میں) سے مراد امت مسلمہ ہے۔
رَسُوْلًا مِّنْہُمْ : (رسول انہی میں سے) انہی میں سے پس اللہ تعالیٰ نے ان میں محمد ﷺ کو بھیجا۔ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ انا دعوۃ ابی ابراہیم و بشریٰ عیسیٰ و رؤیا امّی۔ (رواہ احمد۔ الحاکم ٗالبزار) میں اپنے والد ابراہیم ( علیہ السلام) کی دعا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں) خواب یہ تھا۔ کہ آپ کی والدہ محترمہ نے ولادت سے قبل ایک روشنی اپنے سے نکلتی ہوئی دیکھی جس نے مکہ کو بھر دیا۔
یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ : (جو ان پر تیری آیات پڑھے) ان پر پڑھتا ہے اور ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
(تفسیر) 128۔:
(آیت)” ربنا واجعلنا مسلمین لک “ موحدین مطیع اور مخلص اور اپنی ذات عالی کے حضور جھکنے والا بنا ۔ ” ومن ذریتنا “ ہماری اولاد (میں سے) امۃ جماعت اور امت نبیوں کے پیروکاروں کو کہا جاتا ہے ، (آیت)” مسلمۃ لک “ تیرے حضور عاجزی کرنے والے جھکنے والے ” وارنا “ ہمیں سکھا اور ہمیں معرفت بخش ، ابن کثیر نے راء کو ساکن کر کے پڑھا ہے یعنی ” ارنا “ پڑھا ہے اور ابو عمر ؓ نے اختلاس کے ساتھ پڑھا یعنی حرکت کو بھرپور نہیں پڑھا اور باقیوں نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے ، ابن عامر اور ابوبکر نے ” ارنا “ کو ساکن کرنے میں حم سجدہ میں موافقت کی ہے۔ ” ارنا “ اصل میں ” ارئنا “ تھا ، پس تخفیف کے لیے ہمزہ کو حذف…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا یہ خاتمہ ہے جو انہوں نے اپنی اس اولاد اور اولاد الاولاد کے لئے کی تھی جو مکہ میں سکونت کرنے والی تھی۔ ابو العالیہ قتادہ وغیرہ سلف نے کہا ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل حرم میں سے ایک رسول کے پیدا ہونے کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری دعا تو قبول ہوگئی لیکن اس دعا کے اثر کا ظہور آخری زمانہ میں ہوگا۔ اور سلف کے اس قول کی تائید عرباض بن ساریہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام احمد بن ماجر اور بیہقی نے سند معتبر سے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم کے پیدا ہونے سے پہلے اگرچہ میرا نام لوح محفوظ میں خاتم النبیین…
Read the full tafseer →(رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ ) یعنی ہماری اولاد میں رسول مبعوث فرما تاکہ وہ ان دونوں کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا : (يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ ) یعنی وہ لفظاً لفظاً حفظ کرنے اور حفظ کروانے کے لئے تیری آیات کی تلاوت کرے۔ (وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ) یعنی معافی سمجھاتے ہوئے انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے (وَيُزَكِّيْهِمْ ) یعنی اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تربیت کرے اور اعمال قبیحہ سے ان کو بچائے، کیونکہ قبیح اور ردی اعمال کے ہوتے ہوئے نفس پاک نہیں ہوسکتا۔ (اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ ) یعنی تو ہر چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
قول باری ہے : ومن یرغب عن ملۃ ابراھیم الا من سفہ نفسہ (اب کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کرلیا، اس کے سوا اور کون یہ حرکت کرسکتا ہے) یہ آیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے شرائع میں سے ان امور کے لزوم پر دلالت کرتی ہے جن کا نسخ ثابت نہ ہوا ہو۔ اس آیت میں یہ بات بھی بتلا دی گئی ہے کہ جو شخص حضرت محمد ﷺ کے طریقے سے نفرت کرے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے سے نفرت کرنے والا شمار ہوگا، اس لئے کہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی شریعت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت پر نہ صرف مشتمل ہے، بلکہ اس پر اضافہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
357 حضرت ابراہیم کی دعاء امت مسلمہ کیلئے : یعنی ایسی فرمانبردار امت کہ ان کے عقائد بھی صحیح ہوں، اور اعمال و اخلاق بھی درست ہوں، اور وہ سچے دل سے تیرے آگے جھکنے والے ہوں، کہ تیری اطاعت و بندگی اور فرمانبرداری ہی میں بندے کی سعادت اور اس کی کامیابی ہے، ورنہ اس کی کوئی قدرو قیمت نہیں۔ سو اولاد وہی نعمت ہے جو ایمان و یقین کی دولت سے سرشار اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے والی، اور اس کی اطاعت و بندگی کے شرف سے مشرف ہو ورنہ وہ کس کام کی۔ بلکہ دین و ایمان سے محروم اولاد ۔ والعیاذ باللہ ۔ انسان کیلئے عذاب اور اس کی دشمن ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے اور اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعائیں
تشریح : حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے، صاف کہا گیا ہے کہ بنیادیں موجود تھیں ان کے اوپر دیواریں اٹھا رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ بنیادیں حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے زمانے میں رکھ گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی مدد سے بنیادیں ڈھونڈ لیں اور پھر عمارت تعمیر کی، تعمیر کعبہ کے دوران دونوں باپ بیٹا دعائیں کرتے جاتے تھے کہ اے اللہ تبارک تعالیٰ ہماری فرمانبرداری اور اطاعت میں اور بھی اضافہ کر دے اور ہمیں پکا مسلمان بنا دے۔ بیشک اے اللہ تو ہی سب سے زیادہ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
آیات 122- 129
اسرارو معارف
ہر طرح کے عقلی ، نقلی اور اعجازی جواب ارشاد فرما کر جب سب طرف سے عاجز کردیا اور حضور ﷺ کی حقانیت واضح ہوگئی تو پھر خطاب براہ راست بنی اسرائیل کو ہوا کہ اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے احسانات و انعامات جو میں نے تم پر کئے یاد کرو ، یہ میرا ہی احسان تھا کہ تمہیں تمہارے دور کی پوری دنیا پہ فضیلت عطاء کی۔
بنی اسرائیل کے ساتھ بات اس قدر طویل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں بھی ایک عالم میں یہی لوگ سربراہ تھے بلکہ مذاہب عالم پر چھائے ہوئے تھے اور خود مشرکین عرب بھی اپنی مشکلات میں ان کی طرف رجوع کرتے۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے سوال کرنے کے لئے مدینہ آتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
ف 3 یہ حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کی دعا کی کا خاتمہ ہے رسولا سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں کیونکہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی دوریت میں انحضرت ﷺ کے سوا کوئی دوسرا نبی نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا، عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔ زمانہ حمل میں میں آمنہ ؓ نے ایک خواب دیکھا تھا کہ ان کے اندر سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام محلات روشن ہوگئے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت کا تو قرآن نے ذکر کیا ہ۔ اور خواب میں شام کی تخصیص اس لیے ہے کہ آخر زمانہ میں شام ہی اسلام کا مرکز بنے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →(2:129) ابعث امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ بعث (باب فتح) مصدر بمعنی بھیجنا۔ تو بھیج۔ اسی باب سے بمعنی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا۔ یا کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا بھی آتا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے ثم بعثنکم من بعد موتکم (2:56) پھر موت آجانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرنو زندہ کیا۔ یہاں اس آیت میں بمعنی بھیج آیا ہے۔
فیہم اور منھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع یا امۃ مسلمۃ ہے یا الذریۃ ہے۔ الذریۃ زیادہ مناسب ہے۔
رسولا۔ مفعول ہے فعل ابعث کا۔ اور یتلوا۔ یعلمھم۔ یزکیہم یہ سب رسولا کی صفت واقع ہوتے ہیں۔
یتلوا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تلاوۃ (باب نصر) مصدر ۔ جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنایا کرے۔
ویعلمہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–129
لغات القرآن : آیت نمبر 124 تا 129
ابتلی (آزمایا) ۔ کلمت (چند باتیں) ۔ اتمھن (اس نے پورا کر دکھایا) ۔ امام (رہنما، پیشوا، سردار) ۔ ذریتی (میری اولاد) ۔ لا ینال (نہیں ملے گا) ۔ امن (امن و سکون کی جگہ) ۔ مصلی (نماز کی جگہ) ۔ طھرا (تم دونوں پاک رکھو گے) ۔ الطائفین (طواف کرنے والے) ۔ العاکفین (اعتکاف کرنے والے) ھذا بلدا (اس شہر کو ، اس بستی کو) ۔ امتع (میں سامان دوں گا، فائدہ دوں گا) ۔ اضطر (میں کھینچوں گا) ۔ المصیر (ٹھکانا) ۔ یرفع (بلند کرتا ہے) ۔ القواعد (دیواریں) مسلمین (فرماں بردار) ارنا ( ہمیں دکھا دے، ہمیں سکھا دے) ۔ مناسک (حج کے احکام، عبادت) ۔ ابعث (بھیج دے) ۔ یتلوا (تلاوت کرتا ہے، پڑھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
شان نزول : حضرت عمر ؓ نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ ٹھہرانے کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی ہے ۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں یہ پتھر کعبہ کی ایک دیوار میں لگا ہوا تھا ۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو نکال کر اس جگہ رکھ دیا جہاں اب موجود ہے ۔ حض کے وقت طواف سے فارغ ہونے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل پڑھنا سنت ہے۔ مکہ اللہ کا گھر ہے اور مدینہ اللہ کے رسول کا گھر ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اسے روایت ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے مراد یہ کہ شرک کی باتوں اور بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–139
[84] یعنی اپنے عقائد اور اپنی عبادت میں ہر طرف سے پاک صاف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
دعائے خلیل اور نوید مسیحا :
(ف 1) حضرت ابراہیم نے سات دعائیں اللہ سے کیں ۔ (1) رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا (2) وَّارْزُقْ اَھْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ (3) رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا (4) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ (5) وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا (6) وَتُبْ عَلَيْنَا (7) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا ۔
پہلی دعا بلد امین کے متعلق ہے ۔ دوسری وہاں کے رہنے والوں کے لیے ، تیسری میں قبولیت کے لیے استدعا ہے ، چوتھی میں اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اسلام و اخلاص طلب کیا ۔ پانچویں میں مناسک و احکام کی تشریح چاہی ہے ، چھٹی میں توبہ و رحمت کی درخواست کی ہے اور ساتویں میں فرمایا کہ اللہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
ف 1 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ کی بنیادیں بلند کررہا تھا اور اساس کعبہ پر دیواریں اٹھا رہا تھا اور اس کے ہمراہ اسکا لڑکا بھی اس کام میں شامل تھا دونوں باپ بیٹے جناب باری کی خدمت میں عرض کر رہے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہماری اس خدمت کو اور ہمارے اس عمل کو قبول فرمالے بیشک تو خوب سننے والا جاننے والا ہے اور ہمارے پروردگار ہم کو اور زیادہ مخلص اور مطیع و فرمانبردار بنادے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کر جو تیری مطیع و فرمانبردار ہو اور اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ہمارے حج کے احکام بتادے اور سکھادے اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ توجہ فرماتے ہوئے ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
ف 4۔ جس جماعت کا اس آیت میں ذکر ہے وہ صرف بنی اسماعیل ہیں جن میں جناب رسول اللہ مبعوث ہوئے۔ پس جہاں جن پیغمبر کے لیے دعا ہے اس سے مراد صرف آپ ہوئے کیونکہ یہ دعا دونوں صاحبوں نے کی ہے تو وہی جماعت مراد ہوسکتی ہے جو دونوں کی اولاد ہو اور پیغمبر کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ وہ اس جماعت سے ہوں تو جماعت بنی اسماعیل میں سے ہیں اس لیے حدیث صحیح میں ارشاد نبوی ہے کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ظہور ہوں۔
Read the full tafseer →رسول عربی ﷺ کے حق میں دعائے مخصوص :
240: سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی دعا ابھی جاری ہے جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکا کہ امت مسلمہ سے مراد اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہی میں ہے اب ” مِّنْهُمْ “ کی قید نے مزید وضاحت کردی کہ اس سے مراد نسل اسماعیل (علیہ السلام) ہی ہے۔ لفظ ھم کا مرجع امت مسلمہ کو بھی سمجھا گیا ہے اور ذریۃ کو بھی اور ماحصل دونوں کا ایک ہی ہے یعنی نسل اسماعیل ، اور یہ بات تاریخ سے اپنی جگہ ثابت ہے کہ نسل اسماعیل قوم عرب ہی میں رہ گئی اسلئے لازمی تھا کہ یہ پیغمبر عرب ہی میں پیدا ہو ۔ پھر ” رَسُوْلًا “ جو صیغہ واحد اور پھر اعراب کی تنوین گویا اشارہ…
Read the full tafseer →The prayer of Ibrahim (علیہ السلام) for the Holy Prophet ﷺ
Let us start by commenting on certain words which occur in this verse. The Arabic word Yatlu يَتْلُو (translated in English as "recite", or "read out" ) comes from the word Tilawah, (تلاوہ) which lexically signifies "to follow, to obey", but in the terminology of the Qur'an and the Hadith denotes the recitation or reading of the Holy Qur'an or of a Di-vine Book, for one who reads a Divine Book is also required to obey it fully.
The word also suggests that it is obligatory to read the Holy Qur'an exactly as it has been revealed by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
128. The term 'purification' used here embraces the purification of beliefs and outlook, morals, habits and customs, and social, cultural and political life; the purification of man's life in its totality.
129. This has been said in order to indicate that the advent of Muhammad (peace be on him) was in fact God's response to the prayer of Abraham (peace be on him) .
Read the full tafseer →