سناٹے کی آغوش میں زندگی
اب جہاں پر بیت اللہ بنا ہوا ہے یہاں ایک ٹیلہ تھا اور سنسان بیابان تھا کوئی اپنے سہنے والا وہاں نہ تھا یہاں پہنچ کر ماں بیٹے کو بٹھا کر پاس تھوڑی سی کھجوریں اور مشکیزہ پانی کا رکھ کر آپ چلے گئے جب خلیل اللہ نے پیٹھ موڑی اور جانے لگے تو مائی حاجرہ نے آواز دی اے خلیل اللہ ہمیں اس دہشت و وحشت والے بیابان میں یکہ و تنہا چھوڑ کر جہاں ہمارا کوئی مونس و ہمدم نہیں آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں ؟ لیکن حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اس طرف توجہ تک نہ کی، منہ موڑ کر بھی نہ دیکھا حضرت ہاجرہ کے بار بار کہنے پر بھی آپ نے التفات نہ فرمایا تو آپ فرمانے لگیں اللہ کے خلیل آپ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
سورة الْبَقَرَة 127
حضرت ابراہیم ؑ نے جب منصب امامت کے متعلق پوچھا تھا، تو ارشاد ہوا تھا کہ اس منصب کا وعدہ تمہاری اولاد کے صرف مومن و صالح لوگوں کے لیے ہے، ظالم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس کے بعد جب حضرت ابراہیم ؑ رزق کے لیے دعا کرنے لگے، تو سابق فرمان کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے صرف اپنی مومن اولاد ہی کے لیے دعا کی، مگر اللہ تعالیٰ نے جواب میں اس غلط فہمی کو فوراً رفع فرما دیا اور انہیں بتایا کہ امامت صالحہ اور چیز ہے اور رزق دنیا دوسری چیز۔ امامت صالحہ صرف مومنین صالح کو ملے گی، مگر رزق دنیا مومن و کافر سب کو دیا جائے گا۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ اگر کسی کو رزق دنیا فراوانی کے ساتھ مل رہا…
Read the full tafseer →اپنے نیک عمل پر بھروسہ اور قناعت نہ کرنے کی تعلیم
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا حضرت خلیل اللہ ؑ نے حکم ربانی کی تعمیل میں ملک شام کے ہرے بھرے خوش منظر خطہ کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ کے خشک پہاڑوں کے درمیان اپنے اہل و عیال کو لاڈلا اور بیت اللہ کی تعمیر میں اپنی پوری توانائی خرچ کی یہ موقع ایسا تھا کہ ایسے مجاہدے کرنے والے کے دل میں عجب پیدا ہوتا تو وہ اپنے عمل کو بہت کچھ قابل قدر سمجھتا لیکن یہاں حضرت خلیل اللہ ؑ ہیں رب العزت کی بارگاہ عزت و جلال کو پہچاننے والے ہیں کہ کسی انسان سے اللہ تعالیٰ کے شایان شان عبادت و اطاعت ممکن نہیں ہر شخص اپنی قوت وہمت کی مقدار سے کام کرتا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ کوئی بھی…
Read the full tafseer →تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی دعا : قواعد، قاعدہ کی جمع ہے۔ قاعدہ کے معنی بنیاد اور اساس کے ہیں۔ اوپر والی آیت میں اس گھر کی تعمیر کے حکم کا حوالہ تھا۔ اب آگے یہ یاد دلایا جا رہا ہے کہ اس کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل نے کیا دعا کی تھی، اس گھر کے ساتھ ان کی کیا آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ تھیں اور مستقبل میں اس سے کس فیض عالم گیر کے جاری ہونے کی انہوں نے اپنے پروردگار سے التجا کی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشت کا یہ حصہ صرف قرآن کے ذریعہ سے ہمارے علم میں آیا ہے، اس لیے کہ یہود نے جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا، تورات سے خاص اس حصہ کو یا تو حذف کردیا یا اس میں اپنے حسب منشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
26۔ 1 اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی دعائیں قبول فرمائیں، یہ شہر امن کا گہوارہ بھی ہے اور وادی (غیر کھیتی والی) ہونے کے باوجود اس میں دنیا بھر کے پھل فروٹ اور ہر قسم کے غلے کی وہ فراوانی ہے جسے دیکھ کر انسان حیرت و تعجب میں ڈوب جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
83: بیت اللہ جسے کعبہ بھی کہتے ہیں درحقیقت حضرت آدم ؑ کے وقت سے تعمیر چلاآتا ہے لیکن حضرت ابراہیم ؑ کے دور میں وہ حوادث روزگار سے منہدم ہوچکا تھا، حضرت ابراہیم ؑ کو اسے از سر نو انہی بنیادوں پر تعمیر کرنے کا حکم ہوا تھا جو پہلے سے موجود تھیں اور اللہ تعالیٰ نے بذریعۂ وحی آپ کو بتادی تھیں، اسی لئے قرآن کریم نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ وہ بیت اللہ تعمیر کررہے تھے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی بنیادیں اٹھا رہے تھے
Read the full tafseer →ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ! کلام کا آغاز حکایتی ہے ۔ ایک قصے کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ ” اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ “
اب قاری انتظار میں ہے کہ یہ حکایت آگے بڑھے گی ، لیکن اچانک ہمارے تصور کے اسکرین پر ایسا منظر آتا ہے کہ گویا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اس پر سامنے آتے ہیں ۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا تصور نہیں بلکہ ہم اپنی آنکھوں سے ان حضرات کو دیکھ رہے ہیں ۔ وہ ہمارے سامنے حاضر ہیں اور قریب ہے کہ ہم ان حضرات کی یہ رقت آمیز دعا اپنے کانوں سے سن لیں۔
زمزمہ دعا ،…
Read the full tafseer →8 قبول کر ہم سے اس کام کو (کہ تعمیر خانہ کعبہ ہے) تو سب کی دعا سنتا ہے اور نیت کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 127 وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ ط۔
باپ بیٹا دونوں بیت اللہ کی تعمیر میں لگے ہوئے تھے۔ یہاں لفظ قَوَاعِدَ جو آیا ہے اسے نوٹ کیجیے ‘ یہ قاعدہ کی جمع ہے اور بنیادوں کو کہا جاتا ہے۔ اس لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کے اصل معمار اور بانی نہیں ہیں۔ کعبہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ سورة آل عمران آیت 96 میں الفاظ آئے ہیں : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ للنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا یہی ہے جو مکہ میں ہے۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے…
Read the full tafseer →156 قسطلانی (رح) نے کہا کہ کعبہ دس بار تعمیر ہوا۔ سب سے پہلے اسے فرشتوں نے بنایا۔ دوسری بار آدم (علیہ السلام) نے (آپ (علیہ السلام) کی عمر ہزار سال تھی) تیسری بار شیث (علیہ السلام) (آدم کے بیٹے) نے اور یہ تعمیر طوفان نوح (علیہ السلام) میں گرگئی۔ چوتھی بار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پانچویں بار قوم عمالقہ نے، چھٹی بار قبیلہ جرہم نے، ساتویں بار قصی بن کلاب نے (جو رسول اللہ ﷺ کے جد امجد ہیں) آٹھویں بار قریش نے (آپ کی بعثت سے پہلے جب کہ حطیم کی جگہ چھوڑ دی تھی) نویں بار حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے (اپنے دور خلافت میں) دسویں بار حجاج بن یوسف نے۔ اور اس کے بعد آج تک اس علاقہ پر مسلمانوں کا ہی قبضہ…
Read the full tafseer →458 ۔ (آیت) ” البیت سے مراد خانہ کعبہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں (آیت) ” الکتب “ جس طرح قرآن کریم ہے النبی جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ، (آیت) ” البیت “ اسی طرح کعبۃ اللہ ہے۔ (آیت) ” یرفع “ کا لفظ قابل غور ہے۔ بنیادیں اول بار رکھی نہیں جارہی تھیں وہ تو حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے عہد ہی میں رکھ گئے تھے، عمارت کے منہدم ہوجانے کے بعد اب انہیں از سر اٹھایا جارہا تھا، بلند کیا جارہا تھا، مسیحیوں کو خانہ کعبہ سے جو ضد اور اس کی قدامت سے جو کد ہے بالکل ظاہر ہے۔ ہر امکانی کوشش اپنے قلم سے اس کی مخالفت میں کرچکے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے باوجود حقیقت ہی ہے۔ آفتاب کے وجود سے روز روشن میں انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
آیت نمبر 127 تا 129
ترجمہ : اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اس گھر کی بنادیں یا دیواریں اٹھا رہے تھے یعنی اس کی تعمیر کر رہے تھے مِنَ البَیْت، یَرْفَعُ کے متعلق ہے، اور اِسْمَاعِیْلُ کا عطف اِبْرَاھِیْمُ پر ہے، دونوں دعاء کرتے جاتے تھے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہماری طرف سے اس تعمیر کو قبول فرما تو باتوں کا سننے والا اور کاموں کا جاننے والا ہے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا کہ جو تیری فرمانبردار ہو، اور مِنْ تبعیضیہ ہے، اور سابق میں لَا یَناَلُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ آجانے کی وجہ سے مِنْ تبعیضیہ لائے ہیں،…
Read the full tafseer →وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ (اور ( وہ وقت یاد کرو) جب اٹھا رہے تھے ابراہیم بنیادیں 1 خانہ کعبہ کی) یَرْفَعُ گذشتہ حال کی حکایت ہے قواعد جمع ہے قاعد کی جس کے معنی بنیاد کے ہیں۔ قواعد صفات غالبہ سے ہے۔ قعود کو ثبات کے معنی میں مجازاً لے کر اس سے قواعد کو مشتق کیا ہے اور بنیادوں کو اٹھانے سے مراد ہے تعمیر کرنا۔ کسائی نے کہا ہے کہ قواعد کے معنی دیواروں کے ہیں کیونکہ ہر دیوار اپنے مافوق کا قاعدہ ہوتی ہے اور اس کا اٹھانا تعمیر کرنا ہے۔
وَاِسْمٰعِيْلُ ( اور اسماعیل) اس کا ابراہیم پر عطف ہے اور مفعول کو مقدم لا کر فاصلہ اس لیے کردیا کہ تعمیر کرنے والے تو صرف ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →(127) اور جب حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کے لیے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور حضرت اسمعیل ؑ ان کے ساتھ تعاون کررہے تھے، جب دونوں اس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے دعا کی، پروردگار عالم ہماری اس اپنے گھر کی تعمیر کو قبول فرما، بلاشبہ آپ دعاؤں کو سننے والے اور قبولیت کو کرنے والے ہیں۔
اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اپنے گھر کی تعمیر میں تو ہماری نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
الْقَوَاعِدَ بنیادیں، ابن عباس ؓ نے فرمایا، یعنی بیت اللہ کی وہ بنیادیں جو اس سے پہلے موجود تھیں۔ [ تفسیر عبد الرزاق بسند صحیح ] اس سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ پہلے تعمیر ہوچکا تھا، اب از سر نو اس کی بنیادیں اٹھائی جا رہی تھیں۔ سورة حج (26) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین فرمائی۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (96)۔ اس کے بعد بیت اللہ کئی دفعہ تعمیر ہوا۔ جاہلیت میں جب سیلاب سے کعبہ منہدم ہوگیا تو قریش نے دوبارہ اس کی تعمیر کی، مگر مال کی کمی کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ باہر چھوڑ دیا، جسے حطیم کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ بھی اس کے لیے پتھر اٹھا کر لاتے رہے۔ ابن اسحاق کے مطابق آپ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 127
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ یرفع۔۔۔۔ واسمعیل، القواعد سے مراد اس کی بنیادیں ہیں۔ یہ ابو عبیدہ اور فراء کا قول ہے۔ کسائی نے کہا : اس سے مراد دیواریں ہیں، معروف بنیاد ہے۔ حدیث میں ہے : نیت اللہ کو جب گرایا گیا تو اس سے بڑے بڑے پتھر نکلے۔ ابن زبیر نے کہا : یہ وہ پتھر ہیں جن سے حضرت ابراہیم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ بعض نے فرمایا : وہ بنادیں مٹ گئی تھیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان پر مطلع فرمایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : بیت اللہ کو ان ارکان پر رکھا گیا تھا جو آپ نے دیکھے تھے اور دنیا کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے۔ پھر زمین کو اس کے نیچے سے پھیلایا…
Read the full tafseer →حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ
(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قواعد سے مراد بیت اللہ کی بنیادیں ہیں۔
(2) احمد، عبد بن حمید، بخاری، ابن جریر، ابن ابی حاتم، الجندی، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے دلائل میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اے نوجوانوں کی جماعت مجھ سے پوچھ لو بلاشبہ مجھے شک ہے کہ میں تمہارے درمیان سے چلا جاؤں لوگوں نے آپ سے بہت سے سوال کئے ایک آدمی نے ان سے عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے آپ مقام کے بارے میں بتلائیے کیا وہ ایسا ہی ہے جیسا ہم بیان کرتے ہیں انہوں نے پوچھا تم کیا بیان کرتے تھے۔ عرض کیا ہم یہ کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) جب تشریف…
Read the full tafseer →( وَاِذْ : اور جب ) ( یَرْفَعُ : بلند کر رہے تھے) ( اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) ) (الْقَوَاعِدَ : بنیادوں کو ) ( مِنَ الْبَیْتِ : اس گھر کی ) (وَاِسْمٰعِیْلُ : اور اسماعیل (علیہ السلام) ) (رَبَّـنَا : (تو وہ دونوں کہتے تھے) اے ہمارے ربّ ) (تَقَبَّلْ : تو قبول فرما) (مِنَّا : ہم سے ) ( اِنَّکَ اَنْتَ : بیشک تو ہی) (السَّمِیْعُ : سننے والا) (الْعَلِیْمُ : جاننے والا ہے)
ق ع د
قَعَدَ (ن) قُعُوْدًا : بیٹھنا۔ { وَقَعَدَ الَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَــہٗ ط } (التوبۃ :90) ” اور بیٹھے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ بولا اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے “۔
اُقْعُدْ (فعل امر) : تو بیٹھ۔ { وَقِیْلَ…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کا کعبہ شریف تعمیر کرنا
کعبہ شریف پہلے فرشتوں نے پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنایا پھر عرصہ دراز کے بعد جب طوفان نوح کی وجہ سے اس کی دیواریں مسمار ہوگئیں اور عمارت کا ظاہری پتہ تک نہ رہا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر کعبہ شریف کی بنیادیں اٹھائیں اور کعبہ بنایا (کما ذکرہ الازرقی) چونکہ جگہ معلوم نہ تھی اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو متعین کر کے اس کی جگہ بتادی گئی جس کا ذکر سورة حج کی آیت کریمہ (وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرَاھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ) میں فرمایا ہے۔ بنائے ابراہیمی میں حطیم کا حصہ…
Read the full tafseer →دعاء ابراہیم (علیہ السلام) واسمعیل (علیہ السلام) برائے قبولیت خدمت تعمیر بیت اللہ
قال تعالیٰ ۔ واذ یرفع ابراھم القواعد۔۔ الی۔۔ انت السمیع العلیم۔
اور اس وقت کو بھی یاد کرو کہ جب ابراہیم خود اپنے ہاتھ سے اس گھر کی بنیادوں کو اٹھا رہے تھے یعنی اس پر تعمیر کرتے تھے اور دیواریں چنتے جاتے تھے اور اسی طرح اسمعیل بھی ان کے ساتھ بلند کرنے میں مشغول تھے اور یہ دونوں بزرگ اس وقت نہایت عجز اور انکساری کے ساتھ یہ کہتے جاتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار اپنے فضل سے ہماری اس محنت اور خدمت کو قبول فرما تحقیقی تو ہی ہماری دعاؤں کو سننے والا ہے اور تو ہی ہماری نیت اور ہمارے ذوق وشوق کو جاننے والا ہے محض اپنے لطف و…
Read the full tafseer →245 وَاِذْ يَرْفَعُ , وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُپر معطوف ہے اور اِذْ کا عامل یَقُوْلَانِ ہے رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاسے پہلے محذوف ہے (روح ص 384 ج 1) ویجوز ان یکون القول المحذوف ھو العامل فی اذ (بحر ص 388 ج 1) قواعد قاعدۃ کی جمع ہے جس کے معنی بنیاد کے ہیں۔ اسمعیل کا عطف ابراہیم پر ہے۔ یعنی جب دونوں باپ بیٹا بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو اس وقت دعا مانگ رہے تھے کہ اے اللہ۔ محض اپنے فضل و رحمت سے ہمارے اعمال قبول فرما۔ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔ انت ضمیر فصل اور خبر کا معرفہ ہونا حصر پر دلالت کرتا ہے اور جملہ کا اسمیہ اور ان سے مؤکد ہونا دونوں بزرگوں کی قوت یقین اور پختگی ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
ربط آیات :
اس آیت کا تعلق سابقہ درس کی آیت مبارکہ (آیت) ” واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس “۔ کے ساتھ ہے وہاں پر تھا کہ اس بات کو یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ شریف کو لوگوں کے رجوع کی جگہ مرکز ہدایت اور جائے امن بنایا اس کے ساتھ مقام ابراہیم کا ذکر ہوا ، بیت اللہ شریف کو پاک وصاف رکھنے کا حکم ہوا ، وہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر بھی تھا جس میں اہالیان شہر مکہ کے لیے پھلوں کی روزی طلب کی گئی تھی ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا جسے ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے ۔
(تاریخ کعبہ)
آیت زیر درس میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کا ذکر ہے یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل…
Read the full tafseer →وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ 0 ۭ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا 0 ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 127
رفع
الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ
[ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2]
( رع ) الرفع
کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–130
ترکیب : واذیرفع فعل ابراھیم فاعل القواعد جمع قاعدۃ بمعنی بنیاد مفعول من البیت کائنۃ کے متعلق ہو کر حال ہے قواعد سے واسماعیل معطوف ہے ابراہیم پر یہ دونوں ذی الحال اور یقولان محذوف فعل بافاعل ربنا تقبل منا الخ اس کا مفعول یرفع اپنے فاعلوں اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا اجعلنا میں نامفعول اول مسلمین مفعول ثانی لک متعلق مسلمین سے و حرف عطف۔ ذریتنا مفعول اول امتہ موصوف مسلمۃ صفت لک متعلق مسلمۃ سے یہ سب مفعول ثانی یتلو اور یعلمہم اور یزکیہم سب رسولاً کی صفت واقع ہوئے ہیں۔
تفسیر : اس جگہ خدائے تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے خلوص اور ان کی دعا کا ذکر کرتا ہے…
Read the full tafseer →وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُط رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاط اِنَّـکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔
( اور یاد کرو جب کہ ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے انھوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہماری جانب سے قبول فرما، بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے) (البقرۃ : 127)
تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا
کس قدر والہانہ اندازِ بیان ہے کہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں کو بتایا جارہا ہے کہ وہ کیسا مبارک اور انسانیت کے لیے قابل فخر وقت ہوگا جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ بنی اسرائیل کے لوگو !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بانی کعبہ ہونے کا مزید ثبوت کیونکہ باقاعدہ بیت اللہ کا حج انہی کے زمانے سے شروع ہوا اور انہی پر مناسک حج اتارے گئے تھے۔
تاریخ عالم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ بانئ کعبہ کے نام سے مشہور ہیں اس اعزاز پر فخر کرنے کی بجائے اپنے رب کے سامنے حضور قلب اور عجز کے ساتھ فریاد کر رہے ہیں اے رب کریم ! تیرے گھر کی تولیّت اور تعمیر محض تیرے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ہماری کیا حیثیت کہ ہم تیرے گھر کی تعمیر اور خدمت کا اعزاز پائیں۔ ہماری التجا ہے کہ اسے دنیا میں سکون کا گہوارہ ‘ مرکزہدایت اور…
Read the full tafseer →127۔ وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاہِیمُ : (جب ابراہیم بلند کر رہے تھے) یہ زمانہ ماضی کی حکایت بیان کی۔
الْقَوَاعِدَ : (خانہ کعبہ کی بنیادیں) القواعد جمع قاعدہ کی ہے اور قاعدہ کہتے ہیں جو اوپر کے لئے بنیادو جڑ کا کام دے۔ یہ صفت غالبہ ہے ورنہ اس کا معنی قائم ہونے والی اور رفع الاساس اس پر تعمیر کرنے کو کہتے ہیں۔ کیونکہ جب اس پر تعمیر کی جائے گی۔ تو وہ پستی سے بلندی میں منتقل ہوجائے گی اور قصیر ہونے کے بعد طویل ہوجائے گی۔
مِنَ الْبَیْتِ : (بیت اللہ کی) بیت سے مراد بیت اللہ وہ کعبہ شریف ہے۔
وَاِسْمٰعِیْلُ : (اور اسماعیل) اس کا عطف ابراہیم پر ہے ابراہیم ( علیہ السلام) معماری کر رہے تھے اور اسماعیل ان کو…
Read the full tafseer →(تفسیر) 127۔:
اور اس کو میں نے حرام کیا جس دن سے میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس کو میں نے سات فرشتوں کے ذریعے سے محفوظ کیا جو اس کی طرف مائل ہیں ۔ اس کا رزق تین راستوں سے آتا ہے اس (مکہ) کے لیے گوشت اور پانی میں برکت ڈالی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” واذ یرفع ابراھیم القواعد من البیت واسماعیل “ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ والی جگہ کو زمین کے پیدا کرنے سے دوہزار سال پہلے پیدا کیا اور یہ جگہ پانی پر سفید جھاگ کی شکل میں تھی پس زمین کو اس کے نیچے سے پھیلایا گیا ، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو آپ نے وحشت محسوس کی ۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
(125 ۔ 128) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے یہ مراد ہے کہ شرک کی باتوں بت پرستی وغیرہ سے اس کو پاک رکھا جاوے 1۔ سورة حج کی آیت { وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِ بْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتَ اَنْ لاَّ تُشْرِکَ نِیْ شَیْئًا } ( 26۔ 22) سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ بنانے کے لئے وہ خالی جگہ اس ہدایت سے بتائی گئی تھی کہ وہ اس گھر کو ایسی خالص توحید کی نیت سے بناویں کہ یہ گھر بت پرستی سے پاک رہے اور جب خالی جگہ پر کعبہ بن گیا اور آیندہ نسل…
Read the full tafseer →یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے اور اس عظیم کام پر تسلسل اور پابندی سے لگے ہوئے تھے اور یہ کہ اس وقت ان پر خوف اور امید کی کیسی کیفیت طاری تھی، حتی کہ اس عظیم عمل کے باوجود انہوں نے دعا کی کہ ان کا عمل قبول کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو اور انہوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لئے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہوجانے اور اعضاء وجوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔
Read the full tafseer →قول باری ہے : واذیرفع ابراھیم القوا عد من البیت واسمعیل (اور یہ کہ ابراہیم اور اسماعیل جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے) تاآخر آیت بیت کی اساس اور بنیاد کو قواعد البیت کہتے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں تعمیر کعبہ کے بارے میں یہ اختلاف رائے ہے کہ آیا آپ نے اس کی پرانی بنیادوں پر دیواریں اٹھائی تھیں یا نئی بنیادیں رکھی تھیں ؟ معمر نے ایوب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوںں نے حضرت ابن بع اس سے زیر بحث آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ ان بنیادوں سے مراد وہ بنیادیں ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعمیر کعبہ سے پہلے موجود تھیں۔ عطاء سے بھی اسی قسم کی روایت منقول ہے۔…
Read the full tafseer →355 حضرت ابراہیم کے عجزو انکسار اور خلوص و للہیت کا ایک نمونہ : یعنی ہماری یہ محنت و سعی اگرچہ تیرے یہاں قبول فرمائے جانے کے لائق نہیں اے ہمارے رب ! کہ تیری شان بہت ہی بڑی ہے، مگر تو اپنے کرم اور شان رحمت و عنایت سے اسے شرف قبولیت سے نواز دے۔ اور یہ مطلب لفظ " تَقَبَّلَ " سے نکلتا ہے جو کہ باب " تَفَعَّل " سے ہے۔ کیونکہ حضرات علماء و مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جو چیز قابل قبول ہوتی ہے اس کے لئے عموماً قبول یعنی ثلاثی مجرد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اور جو چیز قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتی، اس کے لئے " تقبل " یعنی ثلاثی مزید کا صیغہ استعمال ہوتا ہے، جو کہ تکلف پر دلالت کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعائیں
تشریح : حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے، صاف کہا گیا ہے کہ بنیادیں موجود تھیں ان کے اوپر دیواریں اٹھا رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ بنیادیں حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے زمانے میں رکھ گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی مدد سے بنیادیں ڈھونڈ لیں اور پھر عمارت تعمیر کی، تعمیر کعبہ کے دوران دونوں باپ بیٹا دعائیں کرتے جاتے تھے کہ اے اللہ تبارک تعالیٰ ہماری فرمانبرداری اور اطاعت میں اور بھی اضافہ کر دے اور ہمیں پکا مسلمان بنا دے۔ بیشک اے اللہ تو ہی سب سے زیادہ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
آیات 122- 129
اسرارو معارف
ہر طرح کے عقلی ، نقلی اور اعجازی جواب ارشاد فرما کر جب سب طرف سے عاجز کردیا اور حضور ﷺ کی حقانیت واضح ہوگئی تو پھر خطاب براہ راست بنی اسرائیل کو ہوا کہ اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے احسانات و انعامات جو میں نے تم پر کئے یاد کرو ، یہ میرا ہی احسان تھا کہ تمہیں تمہارے دور کی پوری دنیا پہ فضیلت عطاء کی۔
بنی اسرائیل کے ساتھ بات اس قدر طویل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں بھی ایک عالم میں یہی لوگ سربراہ تھے بلکہ مذاہب عالم پر چھائے ہوئے تھے اور خود مشرکین عرب بھی اپنی مشکلات میں ان کی طرف رجوع کرتے۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے سوال کرنے کے لئے مدینہ آتے اور…
Read the full tafseer →ف 2 اس آیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کا تذکرہ ہے۔ اس کی تعمیر پر مختلف ادوار گزر چکے ہیں۔ آیت سے ظاہر ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور پھر اس کی تعمیر کی بعض مفسرین نے بیت اللہ (کعبہ) کی قدامت ثابت کرنے کے لیے اس کا آدم (علیہ السلام) سے بھی پہلے کا قرار دیا ہے بلکہ یہاں تک کہ منھامدت الا رض اور یہ کہ خانہ کعبہ آسمان سے نازل ہوا، طوفان نوح کے وقت دوبارہ آسمان پر آٹھا لیا گیا۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کے بعد جملہ انبیاء اس کی زیارت سے مشرف ہوتے رہے۔ عرفہ کے مقام پر حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہ السلام) کا تعارف ہوا اور جدہ میں حضرت ام ما حوا (علیہ…
Read the full tafseer →(2:127) یرفع۔ مضارع (بمعنی حکایت حال ماضی یعنی وہ فعل مضارع جو کسی گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے استعمال کیا جائے) صیغہ واحد مذکر۔ غائب۔ دفع۔ باب فتح۔ مصدر سے وہ اٹھا رہا تھا۔ وہ بلند کر رہا تھا۔
القواعد۔ جمع اس کی واحد دو طرح سے ہے۔
(1) القاعدۃ۔ جس کے معنی بنیاد ہے۔ دیوار کا وہ حصہ جس پر پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ القواعد بنیادیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں مستعمل ہے۔
القاعد۔ وہ عمر رسیدہ عورت جو حمل اور حیض کے قابل نہ رہی ہو۔ یہاں تاء تانیث لانے کی ضرورت نہیں جو صفات عورتوں کے لئے مخصوص ہیں ان میں تاء تانیث ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مرو سے اشتباہ ہی نہیں ہوتا جو تاء تانیث ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–129
لغات القرآن : آیت نمبر 124 تا 129
ابتلی (آزمایا) ۔ کلمت (چند باتیں) ۔ اتمھن (اس نے پورا کر دکھایا) ۔ امام (رہنما، پیشوا، سردار) ۔ ذریتی (میری اولاد) ۔ لا ینال (نہیں ملے گا) ۔ امن (امن و سکون کی جگہ) ۔ مصلی (نماز کی جگہ) ۔ طھرا (تم دونوں پاک رکھو گے) ۔ الطائفین (طواف کرنے والے) ۔ العاکفین (اعتکاف کرنے والے) ھذا بلدا (اس شہر کو ، اس بستی کو) ۔ امتع (میں سامان دوں گا، فائدہ دوں گا) ۔ اضطر (میں کھینچوں گا) ۔ المصیر (ٹھکانا) ۔ یرفع (بلند کرتا ہے) ۔ القواعد (دیواریں) مسلمین (فرماں بردار) ارنا ( ہمیں دکھا دے، ہمیں سکھا دے) ۔ مناسک (حج کے احکام، عبادت) ۔ ابعث (بھیج دے) ۔ یتلوا (تلاوت کرتا ہے، پڑھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
شان نزول : حضرت عمر ؓ نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ ٹھہرانے کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی ہے ۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں یہ پتھر کعبہ کی ایک دیوار میں لگا ہوا تھا ۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو نکال کر اس جگہ رکھ دیا جہاں اب موجود ہے ۔ حض کے وقت طواف سے فارغ ہونے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل پڑھنا سنت ہے۔ مکہ اللہ کا گھر ہے اور مدینہ اللہ کے رسول کا گھر ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اسے روایت ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے مراد یہ کہ شرک کی باتوں اور بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–139
[84] یعنی اپنے عقائد اور اپنی عبادت میں ہر طرف سے پاک صاف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
خلوص کا پھل :
(1) ابراہیم (علیہ السلام) جس وقت تعمیر کعبہ میں مصروف تھے ان کے منہ سے جو کلمات نکل رہے تھے وہ یہ تھے کہ ربنا تقبل منا یعنی اے خدا ہمارے خلوص و ایثار کو قبول فرما ، گو وہ نہیں جانتے تھے کہ کعبہ کی تعمیر ایک قوم و ملت کی تعمیر ہے ، انسنایت کے مرکز عظمی کی بنیدیں ہیں جو رکھی جارہی ہیں ، لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ حضرت ابراہیم کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات قبولیت کا خلعت فاخرہ پہنیں ، تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ خلوص کی خدا کے نزدیک کیا قیمت ہے ۔
یہ محض فریب نفس ہے کہ مخلص انسان کی قدر نہیں ہوتی ، یہ خدا کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف ہے ، خدا کے نزدیک خلوص اور صرف خلوص ایسی چیز ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
ف 1 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ کی بنیادیں بلند کررہا تھا اور اساس کعبہ پر دیواریں اٹھا رہا تھا اور اس کے ہمراہ اسکا لڑکا بھی اس کام میں شامل تھا دونوں باپ بیٹے جناب باری کی خدمت میں عرض کر رہے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہماری اس خدمت کو اور ہمارے اس عمل کو قبول فرمالے بیشک تو خوب سننے والا جاننے والا ہے اور ہمارے پروردگار ہم کو اور زیادہ مخلص اور مطیع و فرمانبردار بنادے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کر جو تیری مطیع و فرمانبردار ہو اور اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ہمارے حج کے احکام بتادے اور سکھادے اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ توجہ فرماتے ہوئے ہماری…
Read the full tafseer →ف 3۔ حضرت اسماعیل کی شرکت دو طرح ہوسکتی ہے یا تو پتھر گارا دیتے ہوں گے یا کسی وقت چنائی بھی کرتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →کعبہ کی تعمیر ابراہیمی تعمیراول نہیں تھی :
237: یرفع کا لفظ ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بنیادیں اول بار رکھی نہیں جا رہی تھی وہ تو حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے عہد میں رکھ گئے تھے۔ عمارت کے منہدم ہوجانے کے بعد اب انہیں ازسر نو اٹھایا جا رہا تھا اور بلند کیا جا رہا تھا اہل کتاب کو اور خصوصاً مسیحوں کو بیت اللہ سے جو ضد ہے اس کی قدامت سے جو کد ہے اس کے پہلا گھر ہونے سے بالکل ظاہر ہے وہ ہر امکانی کوشش اپنے قلم سے اس کی مخالفت میں کرچکے ہیں لیکن حقیقت اس کے باوجود حقیقت ہی ہے ۔ آفتاب کے وجود سے پھر وہ بھی روز روشن میں آخر انکار کہاں تک کیا جاسکتا ہے ؟ جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن میں تحریر کرتا ہے…
Read the full tafseer →Verse 127 shows another essential quality of this great prophet. In obedience to Allah, he had left the fertile land of Syria and made his wife and child to settle in the barren desert, and now he was taking up the labour of building "the House of Allah." This was a moment when a man who had been bearing such hardships in the way of Allah could normally be expected to feel satisfied with himself and relax in a mood of self-congratulation. But "the Friend of Allah" recognized the Majesty of Allah, and knew that no creature can possibly worship or obey his Creator as is His due, but within his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
127. (Here a distinction is made between honouring a people by entrusting it with the religious leadership and guidance of the world, and bestowing on it an abundant means of livelihood - Ed.) When Abraham enquired who merited world leadership it was made clear to him that only his truly believing and righteous children, to the exclusion of the wrong-doing ones, were worthy of it. This occasioned God to clarify that the religious leadership of the world was quite distinct from its livelihood. Men of faith alone were entitled to the former, whereas both believers and unbelievers would be…
Read the full tafseer →