عہد جو مترادف حکم ہے
یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھناعہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا۔ بھی اسی میں شامل ہے طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
سورة الْبَقَرَة 127
حضرت ابراہیم ؑ نے جب منصب امامت کے متعلق پوچھا تھا، تو ارشاد ہوا تھا کہ اس منصب کا وعدہ تمہاری اولاد کے صرف مومن و صالح لوگوں کے لیے ہے، ظالم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس کے بعد جب حضرت ابراہیم ؑ رزق کے لیے دعا کرنے لگے، تو سابق فرمان کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے صرف اپنی مومن اولاد ہی کے لیے دعا کی، مگر اللہ تعالیٰ نے جواب میں اس غلط فہمی کو فوراً رفع فرما دیا اور انہیں بتایا کہ امامت صالحہ اور چیز ہے اور رزق دنیا دوسری چیز۔ امامت صالحہ صرف مومنین صالح کو ملے گی، مگر رزق دنیا مومن و کافر سب کو دیا جائے گا۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ اگر کسی کو رزق دنیا فراوانی کے ساتھ مل رہا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جس وقت ابراہیم ؑ نے (دعا میں) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اس (موقع) کو ایک (آباد) شہر بنا دیجئے (اور شہر بھی کیسا) امن (امان) والا اور اس کے بسنے والوں کو پھلوں (کی قسم) سے بھی عنایت کیجئے (اور میں سب بسنے والوں کو نہیں کہتا بلکہ خاص) ان کو (کہتا ہوں) جو ان میں اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہوں (باقیوں کو آپ جانیں) حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (کہ چونکہ رزق ہمارا خاص نہیں ہے اس لئے ثمرات سب کو دوں گا مومن کو بھی) اور اس شخص کو بھی جو کافر رہے (البتہ نجات آخرت چونکہ اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے) (اس واسطے) ایسے شخص کو (جو کہ کافر رہے)…
Read the full tafseer →سرزمین حرم کے دو خاص مسئلے :“ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ۔ اے میرے رب اس سرزمین کو امن کی سرزمین بنا اور اس کے ساکنوں کو پھلوں کی روزی عطا فرما ”آمن کے عنی مامون و مطمئن کے ہیں۔ یہ دعا حضرت ابراہیم نے اس سرزمین کے لیے فرمائی ہے جس پر حضرت اسماعیل ؑ کو بسایا اور جہاں حرم کی تعمیر کی۔ یہ علاقہ جیسا کہ واضح ہوچکا ہے، تہذیب و تمدن اور آبادی و زرخیزی سے بالکل محروم تھا، خانہ بدوش قبائل پانی اور چراگاہوں کی تلاش میں موسموں کے تغیر کے ساتھ ساتھ ادھر سے ادھر منتقل ہوتے رہتے تھے۔ معاش کا ذریعہ یا تو گلہ بانی تھا یا شکار یا پھر لوٹ مار۔ اس وجہ سے اس سرزمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
26۔ 1 اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی دعائیں قبول فرمائیں، یہ شہر امن کا گہوارہ بھی ہے اور وادی (غیر کھیتی والی) ہونے کے باوجود اس میں دنیا بھر کے پھل فروٹ اور ہر قسم کے غلے کی وہ فراوانی ہے جسے دیکھ کر انسان حیرت و تعجب میں ڈوب جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
81: اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی یہ حرمت رکھی ہے کہ نہ صرف مسجد حرام میں بلکہ اس کے ارد گرد کے وسیع علاقے میں جسے حرم کہا جاتا ہے، نہ کسی انسان کو قتل کیا جاسکتا ہے نہ شدید دفاعی ضرورت کے بغیر جنگ کرنا جائز ہے، نہ کسی جانور کا شکار حلال ہے، نہ کوئی خود رو پودا اکھاڑنے کی اجازت ہے، نہ کسی جانور کو قید رکھا جاسکتا ہے، اس طرح یہ صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں حیوانات اور نباتات کے لئے بھی امن کی جگہ ہے۔
82: مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ تعمیر کیا تھا، یہ پتھر آج بھی موجود ہے اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو بیت اللہ کا طواف کرے سات چکر لگانے کے بعد اس…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا ایک بار پھر اس بات کی تائید کرتی ہے کہ اللہ کا یہ گھر بیت الامن ہے ۔ اور ایک بار پھر یہاں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اسلام میں وراثت ونیابت کا مداراخلاقی فضیلت اور نیکی پر ہے ۔ اس سے پہلی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو ہدایت دی گئی تھی کہ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ” میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “
تو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خوب سمجھ گئے کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے دعائے رزق میں مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ ، جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، کہہ کر از خود غلط لوگوں کو مستثنیٰ کردیا تھا۔ اس لئے کہ وہ…
Read the full tafseer →5 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بوقت بنائے کعبہ یہ دعا کی کہ یہ میدان ایک شہر آباد اور با امن ہو سو ایسا ہی ہوا۔
6 یعنی اس کے رہنے والے جو اہل ایمان ہوں ان کو روزی دے میووں کی اور کفار کے لئے دعا نہ کی تاکہ وہ مقام لوث کفر سے پاک رہے۔
7 حق تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں کفار کو بھی رزق دیا جائے گا اور رزق کا حال امامت جیسا نہیں کہ اہل ایمان کے سوا کسی کو مل ہی نہ سکے۔
Read the full tafseer →آیت 126 وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَہْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط
یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود ہی احتیاط برتی اور اپنی ساری اولاد کے لیے یہ دعا نہیں کی ‘ بلکہ صرف ان کے لیے جو اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہوں۔ اس لیے کہ پہلی دعا میں وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا : لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ لیکن یہاں معاملہ مختلف نظر آتا ہے۔
قَالَ وَمَنْ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیْلاً
جو لوگ ایمان سے محروم ہوں گے انہیں میں امامت میں شامل نہیں کروں گا ‘ لیکن بہرحال…
Read the full tafseer →154 یعنی اس بےآب وگیاہ اور ویران سے مقام کو ایک پرامن شہر بنا دے اور جو لوگ یہاں آباد ہوں انہیں پھلوں کا رزق مہیا فرما۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول ہوئی اور یہ مقام آج تک پرامن اور قابل احترام ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی حرمت کی از سر نو توثیق کردی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
ابو شریح نے عمر و بن سعید کو (جو یزید کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا) کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن خطبہ ارشاد فرمایا۔ پہلے حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا : اللہ نے مکہ کو حرام کیا ہے۔ لوگوں نے نہیں کیا، تو جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے نہ وہاں خون بہانا درست ہے اور…
Read the full tafseer →455 ۔ ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی یہ دعائیں جس حیرت انگیز طریقہ پر پوری ہوئیں وہ خود ایک معجزہ ہے۔ پہلی دعا یہ تھی کہ شہر مکہ کو امن والا بنا دیا جائے۔ آس پاس کے رہنے والے لٹیرے اور خونخوار، لوٹ مار، قتل وخون کا بازار گرم، وسائل سفر محدود و خطرناک، راستہ غیر محفوظ۔ اس پر بھی حج وزیارت کے لیے حاجیوں اور زائروں کا تانتا صدیوں سے بندھا ہوا۔ اور اب امن وامان کے لحاظ سے مکہ اور حوالی مکہ آپ اپنی نظیر ہیں۔ نہ ڈاکے پڑتے ہیں، نہ قافلے لٹتے ہیں۔ نہ لاشے تڑپتے نظر آتے ہیں۔ اور شریعت اسلامی نے تو شہر ومضافات شہر کو ” حرم “ ہی قرار دے دیا۔ یعنی ان حدود کے اندر جانور تک کا شکار نہیں کیا جاسکتا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
وَاِذْجَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّنَّاسِ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت سے جو بیت اللہ کے بانی اول ہیں، بیت اللہ کی دو خصوصیتیں اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ہیں، ایک مَثَابَۃً لِّنَّاسِ لوگوں کے لئے ثواب ی جگہ اور دوسرے معنی ہیں بار بار لوٹ کر آنے کی جگہ (یعنی) مرکز، دوسری خصوصیت امن کی جگہ یعنی یہاں کسی دشمن کا خوف نہیں رہتا، چناچہ زمانہ جاہلیت میں بھی حدود حرم میں کسی دشمن جان سے بھی انتقام نہیں لیتے تھے، اسلام نے ان کے اس احترام کو نہ صرف یہ کہ باقی رکھا بلکہ اس کی مزید تاکید اور توسیع کردی حتی کہ حرم میں خودروگھاس وغیرہ بھی اکھاڑنا ممنوع قرار دیدیا۔
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا ( اور) ( یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا کہ خداوندا بنا اس ( شہر) کو امن کا شہر یعنی امن والا جیسے عیشۃ راضیۃ پسند یدہ زندگی یا یہ معنی کہ جو اس مکان میں آجائے وہ امن میں ہوجاتا ہے۔ جیسے لیل نائم ( رات سونے والی) یعنی رات میں سونے والا۔
وَّارْزُقْ اَھْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ ( اور عطا فرما اس میں رہنے والوں کو پھل) پھلوں کی دعا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس لیے فرمائی کہ مکہ ایسی جگہ ہے کہ وہاں زراعت وغیرہ کچھ نہیں خشکی کا ملک ہے منقول ہے کہ طائف جو مکہ معظمہ سے کچھ دور ہے شام کے شہروں میں سے تھا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی تو…
Read the full tafseer →(126) اور حضرت ابراہیم ؑ نے جب یہ دعا کی کہ اس شہر کو امن والا شہر بنادے کہ سب اس شہر میں آسکیں اور یہاں کے لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں انہیں مختلف قسم کے پھلوں سے روزی عطا فرما ،
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے میرا انکار کیا اسے بھی دنیا میں رزق دوں گا، پھر اسے لے جا کر (قیامت کے دن) جہنم میں ڈال دوں گا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور مکہ معظمہ کو امن والا شہر بنادیا۔ اب حرم کی حدود میں کسی کا خون بہانا، اس کے درختوں کو کاٹنا، شکار کو بھگانا وغیرہ جائز نہیں اور رزق کی وہ فراوانی فرمائی کہ مکہ میں کھیتی باڑی نہ ہونے کے باوجود وہاں سارا سال دنیا بھر کے تازہ پھل اور ہر قسم کا غلہ اتنی فراوانی سے ملتا ہے کہ ابراہیم ؑ کی دعا کی قبولیت آنکھوں سے نظر آتی ہے۔
اس سے پہلے ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد کے لیے امامت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا، اب ابراہیم ؑ نے رزق کی دعا ظالموں کو نکال کر صرف ایمان والوں کے لیے کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 126
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلداً امناً اس سے مراد مکہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد اور دوسرے لوگوں کے لئے امن اور خوشحال زندگی کی دعا مانگی (1) ۔ روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے جبریل سے فرمایا : شام سے طائف کو اکھیڑ۔ پس جبریل نے طائف کے ساتھ بیت اللہ کے اردگرد سات چکر لگائے۔۔۔۔ طائف کو طائف اسی لئے کہا جاتا ہے (2) ۔۔۔۔۔ پھر طائف کو تہامہ میں اتارا، مکہ اور اس کے قریب کا علاقہ اس وقت چٹیل تھا۔ نہ پانی تھا نہ کوئی نبات۔ پس اللہ تعالیٰ نے مکہ کے اردگرد کے علاقہ جیسے طائف وغیرہ میں برکت…
Read the full tafseer →(1) احمد، مسلم، نسائی، ابن جریر نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ منورہ کو دونوں پتھر کے کناروں کے درمیان حرم بناتا ہوں نہ اس میں شکار کیا جائے گا نہ اس کے کانٹے دار درختوں کو کاٹا جائیگا۔
(2) مسلم، ابن جریر نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ منورہ کو اس کے دو پتھریلے کناروں کے درمیان حرم بناتا ہوں۔
(3) احمد نے ابو قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا پھر آپ نے سعد کی زمین میں ایک ٹیلہ پر…
Read the full tafseer →(وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ) (اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے) ( رَبِّ : اے میرے ربّ ! ) (اجْعَلْ : تو بنا دے) (ھٰذَا : اس کو ) (بَلَدًا اٰمِنًا : امن میں ہونے والا شہر) (وَّارْزُقْ : اور تو رزق دے ) (اَھْلَـــــــہٗ : اس کے لوگوں کو ) (مِنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے) (مَنْ : اس کو جو ) (اٰمَنَ : ایمان لائے ) (مِنْھُمْ : ان میں سے ) (بِاللّٰہِ : اللہ پر ) (وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر) (قَالَ : اس نے کہا) (وَمَنْ کَفَرَ : اور جس نے کفر کیا) (فَاُمَتِّعُـــہٗ : تو میں فائدہ اٹھانے کے لئے دوں گا اس کو (بھی) (قَلِیْــــــــلًا : تھوڑا سا سامان) (ثُمَّ : پھر) (اَضْطَرُّہٗ : میں…
Read the full tafseer →اہل مکہ کے لیے حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کے لیے اللہ جل شانہ سے درخواست کی کہ اس کو امن والا شہر بنا دیجیے، اللہ جل شانہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس کو بلد امین قرار دیا جس کے متعلق بعض احکام گزشتہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں بیان ہوچکے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی دعا کی کہ اس شہر کے رہنے والوں کو جو بھی ان میں سے اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو رزق دیا جائے جو طرح طرح کے پھلوں سے ہو۔ چونکہ انہوں نے پہلے لاَ یَناَلُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ کا اعلان سن لیا تھا اس لیے دعا میں اہل ایمان کی تخصیص کردی اور عرض کیا پھلوں کا…
Read the full tafseer →دعاء ابراہیم برائے حرم وساکنانِ حرَم
قال تعالیٰ واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا بلد۔۔۔ الی۔۔ وبئس المصیر
(ربط) جب خانہ کعبہ کی فضیلت اور اس کا مکان تعظیم اور معبد ابراہیم ہونا بتلا چکے تو آئندہ اس شہر اور اس کے ساکنین کے حق میں حضرت ابراہیم کی دعائیں ذکر فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب حضرت ابراہیم نے اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ بنانے کا پختہ ارادہ فرمایا تو یہ دعا کی کہ اے پروردگار اس لق ودق صحرا کو آباد شہر اور پر امن بنادے کیونکہ رسم حج کی بقاء بدون شہر کی آبادی کے ممکن نہیں اور شہر کی آبادی بدون امن کے باقی نہیں رہ سکتی۔ بدامنی سے شہر ویران ہوجاتا ہے اور اس شہر کے ساکنین کو قسم قسم کے پھل…
Read the full tafseer →242 یہاں بھی اِذْ کا فاعل محذوف ہے یعنی اذکر ھا۔ بَلَدًاسے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ اٰمِنًافاعل نسبت کے لیے ہے جیسا کہ تامرولابن ای ذا امن۔ یہ پہلی دعاء کا پہلا حصہ ہے اس میں مکہ شہر کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کی دعاء ہے کہ اس شہر اور اس کے مضافات کو ڈاکوٓں، چوروں اور غارت گروں سے محفوظ رکھنا تاکہ وہاں کے باشندے امن وچین سے تیری خالص عبادت کرسکیں اور تیری توحید پھیلا سکیں۔ 243 یہ پہلی دعا کا دوسرا حصہ ہے مکہ اور اس کے مضافات پہاڑوں اور ریگستانوں سے گھرے ہوئے ہیں جہاں کھیتی باڑی کا کوئی امکان نہیں اس لیے ان کے معاشی اطمینان کے لیے بھی دعا کی کہ انہیں پھلوں سے روزی مہیا کی جائے۔ مَنْ اٰمَنَ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
گذشتہ سے پیوستہ :
بنی اسرائیل کی خرابیوں کے تذکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت اور رسالت کا ذکر کیا ہے قرآن پاک کی حقانیت بھی بیان ہوئی ہے مگر اس سلسلہ کی بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ سے شروع ہوئی ، کیونکہ اگلی آیات میں اس دعا کا ذکر ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت کے متعلق کی تھی گویا اس سارے سلسلہ کی بنیاد تو وہاں سے شروع ہوتی ہے ، مگر پہلے تمہیدا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت اور پیشوائی کا ذکر فرمایا ہے آپ پر آنے والی آزمائش کا ذکر آیا اور پھر ان تمام امتحانوں میں آپ کی کامیابی کا بیان بھی آیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو امامت…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ 0 ۭ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِيْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّہٗٓ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ 0 ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 126
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
(…
Read the full tafseer →ترکیب : وعطف جملہ بر کلام سابق قال فعل ابراھیم فاعل رب اجعل الخ جملہ مقولہ اجعل بمعنی صیّر ھذا مفعول اول بلدا مفعول ثانی موصوف آمنا صفت جملہ معطوف علیہ وارزق معطوف براجعل انت اس کا فاعل اھلہ مفعول من الثمرات متعلق ہے ارزق سے من الخ اہلہ سے بدل بعض ہے من موصولہ امن منہم باللہ والیوم الآخر جملہ اس کا صلہ قال فعل اللہ اس کا فاعل و من کفر الخ جملہ اس کا مقولہ من بمعنی الذی کفر ای یکفر اس کا یہ صلہ محلاً منصوب ہے تقدیرہ قال و ارزق من کفر پس ارزق فعل محذوف ہے اس پر فامتعہ دلالت کرتا ہے۔
تفسیر : خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ خیر و برکات اور یہ امن و عافیت چونکہ کافروں کو بھی حاصل ہے ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدً اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط قَالَ وَمَنْ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّہٗٓ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔
(اور یا دکرو ! جب کہ ابراہیم نے دعا کی اے رب ! اس سرزمین کو امن کی سرزمین بنا اور اس کے باشندوں کو جو ان میں سے اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائیں پھلوں کی روزی عطا فرما۔ فرمایا، جو کفر کریں گے، انھیں بھی کچھ دن بہرہ مند ہونے کی مہلت دوں گا۔ پھر میں ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف دھکیلوں گا اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے) (البقرۃ : 126)
مومنین…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور مکہ کے مرکز ہونے کا ثبوت اور ان کی اہل مکہ کے لیے خصوصی دعائیں۔
سورۃ ابراہیم آیت 37 میں بیان ہوا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اہل خانہ کو بیت اللہ کے پڑوس میں چھوڑ کر جا رہے تھے۔ تو انہوں نے دوسری دعاؤں کے ساتھ یہ بھی التجا اور دعا کی تھی کہ بار الہٰا ! میں اپنی رفیقۂ حیات اور لخت جگر کو ایسی سر زمین پر چھوڑ رہا ہوں جو بنجر اور غیر آباد ہے۔ اس لیے ان کی روزی کا انتظام فرما۔ ساکنین مکہ کے لیے رزق کی دعا کرتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تخصیص کے ساتھ عرض کی کہ الٰہی ! رزق صرف ان لوگوں کو ملنا چاہیے جو تیری ذات کبریا…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا : (جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب بنا اس شہر کو امن والا) یعنی نمبر 1: اس شہر کو کر دے۔ نمبر 2: اس مکان کو کر دے۔
بَلَدًا ٰامِنًا کا مطلب :
بَلَدًا اٰمِنًا : (امن والا شہر) نمبر 1۔ امن والا۔ یہ اس طرح ہے جیسے عیشۃ راضیۃ۔
نمبر 2۔ ان کے لئے امن والا بنا جو اس میں رہیں یہ اس طرح ہے جیسا کہتے ہیں۔ لیل نائم۔ گہری نیند والی رات۔
نحو ! ہذا۔ یہ مفعول اول ہے اور بلدا مفعول دوم ہے اور امنا اس کی صفت ہے۔
وَّارْزُقْ اَہْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ : (اور عطا کر اس کے رہنے والوں کو پھل) کیونکہ اہل مکہ کے ہاں پھل نہ تھے۔ پھر اس کا بدل دے۔
مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰہِ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 126۔ :
(آیت)” واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا “ یعنی مکہ مکرمہ اور کہا گیا ہے کہ حرم مراد ہے (آیت)” بلدا آمنا “ یعنی امن والا جس کے باسی امن سے ہوں ۔ (آیت)” وارزق اھلہ من الثمرات “ یہ دعا اس لیے فرمائی کیونکہ وہ ایسی وادی میں تھے جو کھیتی والی نہ تھی ، قصص میں ہے کہ طائف شام کے علاقہ اردن سے تھا جب حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا انہوں نے علاقہ طائف کو وہاں سے اکھاڑا اور بیت اللہ شریف کے ارد گرد سات چکر دلوائے اور جہاں اب ہے اس جگہ رکھ دیا ، پس اس طائف سے مکہ مکرمہ کے اکثر پھلوں کا تعلق ہے ، (آیت)” من آمن منھم باللہ والیوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
(125 ۔ 128) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے یہ مراد ہے کہ شرک کی باتوں بت پرستی وغیرہ سے اس کو پاک رکھا جاوے 1۔ سورة حج کی آیت { وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِ بْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتَ اَنْ لاَّ تُشْرِکَ نِیْ شَیْئًا } ( 26۔ 22) سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ بنانے کے لئے وہ خالی جگہ اس ہدایت سے بتائی گئی تھی کہ وہ اس گھر کو ایسی خالص توحید کی نیت سے بناویں کہ یہ گھر بت پرستی سے پاک رہے اور جب خالی جگہ پر کعبہ بن گیا اور آیندہ نسل…
Read the full tafseer →یعنی جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس گھر کو امن کی جگہ بنائے اور یہاں کے رہنے والوں کو مختلف قسم کے پھلوں سے رزق عطا کرے۔ پھر جناب ابراہیم ( علیہ السلام) نے ادب الٰہی کی خاطر اس دعا کو ایمان کی قید لگا کر اہل ایمان کے لئے خاص کردیا۔ چونکہ ان کی پہلی دعا مطلق تھی اس لئے اس کے جواب کو ” غیر ظالم “ کی قید سے مقید کیا گیا ہے۔
پس جب حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کے لئے رزق کی دعا کی اور اس کے لئے ایمان کی شرط عائد کی اور اللہ تعالیٰ کا رزق مومن اور کافر، نافرمان اور فرمانبردار سب کو ملتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ كَفَرَ ) ” اور جس نے کفر کیا “…
Read the full tafseer →قول باری ہے : واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا بلدا امنا (اور یہ کہ ابراہیم نے دعا کی۔ اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے) اس آیت میں دو معنوں کا احتمال ہے اول یہ کہ یہ شہر مامون فیہ ہو، یعنی اس میں امن و امان رہے جس طرح یہ قول باری ہے : فی عیشۃ راضیۃ یعنی فی عیشۃ مریضۃ (پسندیدہ زندگی میں) دوم یہ کہ اس سے مراد مکہ میں رہنے والے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے : واسئل القریۃ (اور گائوں سے پوچھو) یعنی گائوں والوں سے پوچھو، یہ تعبیر مجاز پر مبنی ہے، اس لئے کہ امن اور خوف شہر کو لاحق نہیں ہوتے۔ بلکہ شہر میں رہنے والوں کو لاحق ہوتے ہیں۔
آیت میں جس امن کی التجا کی گئی ہے اس کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔…
Read the full tafseer →350 حضرت ابراہیم کی دعا اور اس کی بےمثال قبولیت : سو حضرت ابراہیم نے مکہ مکرمہ کے امن کیلئے مخلصانہ دعا فرمائی اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کو بےمثال قبولیت سے نوازا گیا۔ سو اللہ پاک نے حضرت ابراہیم خلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعاء کو شرف قبولیت سے ایسا نوازا کہ جتنا امن و سکون وہاں بخشا ہے، پوری روئے زمین میں کسی بھی اور جگہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں پایا جاتا، یہاں تک کہ وہاں شکار ممنوع، وہاں کا درخت کاٹنا ممنوع، " لقطہ " اٹھانا ممنوع، اور جو بھی وہاں پہنچ گیا، وہ امن والا ہوگیا۔ { وََمَنْ دََخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا } سبحان اللہ ! کیا کہنے اس شان کرم کے۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ سو…
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا
تشریح : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کعبہ سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے اللہ جل جلالہ سے دعا کی کہ اے میرے رب ! اس بےآب وگیاہ جگہ کو ایک بارونق شہر بنا دے۔ شہر بھی ایسا کہ جہاں مکمل امن وامان ہو، کوئی خونریزی اور دنگا فساد نہ ہو، بالکل پرامن شہر ہو۔ دوسری دعا یہ کہ یہاں رہنے والے جو مومن اور پاک باز ہوں ان کو پھل اور میوے کھانے کو دے۔ ثمرات سے مراد صرف پھل ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے تمام آسائش و آرام کی چیزیں جو انسان کے لئے ضروری ہیں سب ہی عطا کر دے۔ حق تعالیٰ نے ان کی دونوں دعائیں قبول کیں اور اب ہمارے سامنے شہر مکہ امن کا شہر ہے۔ قتل و غارت گری کا وہاں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
آیات 122- 129
اسرارو معارف
ہر طرح کے عقلی ، نقلی اور اعجازی جواب ارشاد فرما کر جب سب طرف سے عاجز کردیا اور حضور ﷺ کی حقانیت واضح ہوگئی تو پھر خطاب براہ راست بنی اسرائیل کو ہوا کہ اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے احسانات و انعامات جو میں نے تم پر کئے یاد کرو ، یہ میرا ہی احسان تھا کہ تمہیں تمہارے دور کی پوری دنیا پہ فضیلت عطاء کی۔
بنی اسرائیل کے ساتھ بات اس قدر طویل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں بھی ایک عالم میں یہی لوگ سربراہ تھے بلکہ مذاہب عالم پر چھائے ہوئے تھے اور خود مشرکین عرب بھی اپنی مشکلات میں ان کی طرف رجوع کرتے۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے سوال کرنے کے لئے مدینہ آتے اور…
Read the full tafseer →ف 1 اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا زکر ہے جو انہوں نے منصب امامت کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور میں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور مکہ معظمہ کو ان والا شہر قرار دے دیا۔ اب حرم کی حدود میں اس کے درختوں کو کا ٹنا۔ شکار کو بھگانا وغیرہ جائز نہیں ہے۔ دوسری دعا میں مومنوں کے لیے پھلوں کے رزق کی دعا کی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رزق کا معاملہ امامت سے مختلف ہے۔ دنیا میں رزق ہر مومن کافر کو ملے گا مگر آخرت میں کفار کو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا اسمعیل (علیہ السلام) کے مکہ سکونت اختیار کرلینے اور حضرت اسحاق (علیہ…
Read the full tafseer →(2:126) واؤ ملاحظہ ہو 2:124 ۔ اور یاد کرو جب۔
رب۔ اصل میں یا ربی تھا۔ یا حرف نداء محذوف ہے ۔ اور ی ضمیر متکلم کو تخفیفاً گرا دیا گیا۔ اے میرے رب اجعل۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب جعل (باب فتح) مصدر ۔ تو کردے۔ تو بنا دے۔ ای صیر تو بنا دے ھذا۔ یعنی کعبہ اور اس کے اردگرد کی وادی۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے :۔
ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم (14:37)
اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد وادی (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ یہ مفعول اول ہے اجعل کا۔
بلدا امنا۔ بلدا (شہر) مفعول ثانی۔ موصوف ۔ امنا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ امن سے امن والا ۔ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–129
لغات القرآن : آیت نمبر 124 تا 129
ابتلی (آزمایا) ۔ کلمت (چند باتیں) ۔ اتمھن (اس نے پورا کر دکھایا) ۔ امام (رہنما، پیشوا، سردار) ۔ ذریتی (میری اولاد) ۔ لا ینال (نہیں ملے گا) ۔ امن (امن و سکون کی جگہ) ۔ مصلی (نماز کی جگہ) ۔ طھرا (تم دونوں پاک رکھو گے) ۔ الطائفین (طواف کرنے والے) ۔ العاکفین (اعتکاف کرنے والے) ھذا بلدا (اس شہر کو ، اس بستی کو) ۔ امتع (میں سامان دوں گا، فائدہ دوں گا) ۔ اضطر (میں کھینچوں گا) ۔ المصیر (ٹھکانا) ۔ یرفع (بلند کرتا ہے) ۔ القواعد (دیواریں) مسلمین (فرماں بردار) ارنا ( ہمیں دکھا دے، ہمیں سکھا دے) ۔ مناسک (حج کے احکام، عبادت) ۔ ابعث (بھیج دے) ۔ یتلوا (تلاوت کرتا ہے، پڑھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
شان نزول : حضرت عمر ؓ نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ ٹھہرانے کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی ہے ۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں یہ پتھر کعبہ کی ایک دیوار میں لگا ہوا تھا ۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو نکال کر اس جگہ رکھ دیا جہاں اب موجود ہے ۔ حض کے وقت طواف سے فارغ ہونے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل پڑھنا سنت ہے۔ مکہ اللہ کا گھر ہے اور مدینہ اللہ کے رسول کا گھر ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اسے روایت ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے مراد یہ کہ شرک کی باتوں اور بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–139
[84] یعنی اپنے عقائد اور اپنی عبادت میں ہر طرف سے پاک صاف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
خلوص کا پھل :
(1) ابراہیم (علیہ السلام) جس وقت تعمیر کعبہ میں مصروف تھے ان کے منہ سے جو کلمات نکل رہے تھے وہ یہ تھے کہ ربنا تقبل منا یعنی اے خدا ہمارے خلوص و ایثار کو قبول فرما ، گو وہ نہیں جانتے تھے کہ کعبہ کی تعمیر ایک قوم و ملت کی تعمیر ہے ، انسنایت کے مرکز عظمی کی بنیدیں ہیں جو رکھی جارہی ہیں ، لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ حضرت ابراہیم کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات قبولیت کا خلعت فاخرہ پہنیں ، تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ خلوص کی خدا کے نزدیک کیا قیمت ہے ۔
یہ محض فریب نفس ہے کہ مخلص انسان کی قدر نہیں ہوتی ، یہ خدا کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف ہے ، خدا کے نزدیک خلوص اور صرف خلوص ایسی چیز ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
ف 2 اور وہ بات بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے مرجع اور جمع ہو نیکی جگہ اور موضع امن اور مقام اطمینان مقرر کیا اور یہ حکم دیا کہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کو برکت حاصل کرنے کی غرض سے نماز پڑھنے کی جگہ بنائو کہ طواف سے فارغ ہوکر وہاں دورکعتیں پڑھا کرو اور ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا کہ خانہ کعبہ کو زائرین اور آفاقی لوگوں کے لئے اور مجاورین و مقامی لوگوں کے لئے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک اور صاف رکھنا یعنی تعمیر کے بعد اس کی تطہیر کا خوب اہتمام کرنا اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ جب ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ شہر ہونے کی دعا اس واسطے کی تھی کہ اس وقت یہ مقام بالکل جنگل تھا پھر اللہ نے شہر کردیا۔
2۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو کافروں کے لیے دعائے رزق نہیں مانگی غالبا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ پہلی دعا کے جواب میں اللہ نے ظالمین کو ایک نعمت کی صلاحیت سے خارج فرما دیا تھا اس لیے ادبا اس دعا میں ان کو شامل نہیں کیا کہ کبھی مرضی کے خلاف ہو۔
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مناجات بدرگاہ قاضی الجاجات اور پہلی طلب :
235: فطرت انسانی کے تقاضے بھی بڑے عجیب ہیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی آباد کاری کا مسئلہ درپیش ہے اور حکم یہی ہے کہ اس جگہ اپنی اولاد میں سے ایک کو ٹھہرانا ضروری ہے اور یہ وادی بھی غیر ذی زرع ہے اس کے پیش نظر آپ کی زبان سے جو دعا نکلتی ہے اس میں دونوں کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
! اے اللہ ! اس شہر کو امن کا گہوراہ بنا دے اور یہ ایک قسم کا جنگل ہے اس کو آباد شہر بنا دے گویا ایک طرف اللہ کا حکم ہے اور دوسری طرف اولاد جیسی پیاری چیز کو جدا کرنے کا معاملہ ، اس دعا میں کیا درد ہوگا وہی جان سکتا ہے جس کو یہ معاملہ درپیش…
Read the full tafseer →The prayers of Ibrahim (علیہ السلام)
Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) always carried out the commandments of Allah without losing a moment, and was ready to make all kinds of sacrifices in His way, whether they involved worldly goods, or wife and children, or his own likes and dislikes. All the same, having affection and love for one's family is not only a natural urge in man, but also a divine commandment. This is what manifests itself in the present verses, where we find him praying for the well-being of his family in this world as much as in the other.
The prayer begins with the word Rabb…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
127. (Here a distinction is made between honouring a people by entrusting it with the religious leadership and guidance of the world, and bestowing on it an abundant means of livelihood - Ed.) When Abraham enquired who merited world leadership it was made clear to him that only his truly believing and righteous children, to the exclusion of the wrong-doing ones, were worthy of it. This occasioned God to clarify that the religious leadership of the world was quite distinct from its livelihood. Men of faith alone were entitled to the former, whereas both believers and unbelievers would be…
Read the full tafseer →