شوق زیارت اور بڑھتا ہے
" مثابتہ " سے مراد بار بار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوت مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن وامان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا اثر…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 126
پاک رکھنے سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ کوڑے کرکٹ سے اسے پاک رکھا جائے۔ خدا کے گھر کی اصل پاکی یہ ہے کہ اس میں خدا کے سوا کسی کا نام بلند نہ ہو۔ جس نے خانہء خدا میں خدا کے سوا کسی دوسرے کو مالک، معبُود، حاجت روا اور فریاد رس کی حیثیت سے پکارا، اس نے حقیقت میں اسے گندا کردیا۔ یہ آیت ایک نہایت لطیف طریقے سے مشرکین قریش کے جرم کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ ظالم لوگ ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کے وارث ہونے پر فخر تو کرتے ہیں، مگر وراثت کا حق ادا کرنے کے بجائے الٹا اس حق کو پامال کر رہے ہیں۔ لہٰذا جو وعدہ ابراہیم ؑ سے کیا گیا تھا، اس سے جس طرح بنی اسرائیل مستثنیٰ ہوگئے ہیں، اسی طرح یہ…
Read the full tafseer →حل لغات مثابۃ یہ لفظ ثاب یثوب ثوباً ومثاباً سے ماخوذ ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں اس لئے مثابہ کے مرجع کے ہوگئے جہاں آدمی بار بار لوٹ کرجائے
خلاصہ تفسیر
(اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ) جس وقت ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کا معبد اور (مقام) امن (ہمیشہ سے) مقرر رکھا اور (آخر میں امت محمدیہ کو حکم دیا کہ برکت حاصل کرنے کے لئے) مقام ابراہیم کو (کبھی کبھی) نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیا کرو اور ہم نے (بناء کعبہ کے وقت) ابراہیم و (حضرت) اسمعٰیل (علیہما السلام) کی طرف حکم بھیجا کہ میرے (اس) گھر کو خوب پاک (صاف) رکھا کرو بیرونی اور مقامی لوگوں (کی عبادت) کے واسطے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →‘ بیت ‘ سے مراد بیت اللہ ہے : بیت سے مرد بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ ہے۔ قرآن مجید میں اس شکل میں یہ لفظ خانہ کعبہ ہی کے الیے استعمال ہوا ہے۔ تورات کی کتاب پیدائش باب 12 میں اس کو بیت ایل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایل عبرانی میں اللہ کو کہتے ہیں۔
‘ مثابۃ ’ کا مفہوم : مثابۃ کے معنی مرکز و مرجع کے ہیں، جس کی طرف سب رجوع کریں، جس کے ساتھ سب وابستہ ہوں، جو سب کا مرکز اور سب کا قبلہ ہو۔
‘ للناس ’ سے مراد :“ للناس ”سے یہاں مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکرانِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا میں ہوا ہے۔ یعنی وہ تمام ذریت ابراہیم جس کی امامت و پیشوائی حضرت ابراہیم ؑ کو حاصل ہوئی عام اس سے کہ وہ حضرت اسحاق کی نسل سے…
Read the full tafseer →125۔ 1 حضرت ابراہیم کی نسبت سے جو اس کے بانی اول ہیں، بیت اللہ کی دو خصوصیتیں اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ایک (لوگوں کے لئے ثواب کی جگہ) دوسرے کے معنی ہیں لوٹ لوٹ کر آنے کی جگہ جو ایک مرتبہ بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہوجاتا ہے، دوبارہ سہ بارہ آنے کے لئے بیقرار رہتا ہے یہ ایسا شوق ہے جس کی کبھی تسکین نہیں ہوتی بلکہ روز افزوں رہتا ہے دوسری خصوصیت امن کی جگہ یعنی یہاں کسی دشمن کا خوف بھی نہیں رہتا چناچہ زمانہء جاہلیت میں بھی لوگ حدود حرم میں کسی دشمن جان سے بدلہ نہیں لیتے تھے۔ اسلام نے اس کے احترام کو باقی رکھا، بلکہ اس کی مزید تاکید اور توسیع کی۔
25۔ 2 مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے، جس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
81: اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی یہ حرمت رکھی ہے کہ نہ صرف مسجد حرام میں بلکہ اس کے ارد گرد کے وسیع علاقے میں جسے حرم کہا جاتا ہے، نہ کسی انسان کو قتل کیا جاسکتا ہے نہ شدید دفاعی ضرورت کے بغیر جنگ کرنا جائز ہے، نہ کسی جانور کا شکار حلال ہے، نہ کوئی خود رو پودا اکھاڑنے کی اجازت ہے، نہ کسی جانور کو قید رکھا جاسکتا ہے، اس طرح یہ صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں حیوانات اور نباتات کے لئے بھی امن کی جگہ ہے۔
82: مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ تعمیر کیا تھا، یہ پتھر آج بھی موجود ہے اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو بیت اللہ کا طواف کرے سات چکر لگانے کے بعد اس…
Read the full tafseer →یہی گھر ہے اللہ کا آج جس کا مجاور اہل قریش ، اہل ایمان کو خوفرزدہ کررہے ہیں ، انہیں طرح طرح کی اذیتیں دے رہے ہیں ، انہوں نے محض دین و ایمان کے جرم میں ان پر طرح طرح کے مصائب ڈھائے ، یہاں تک کہ وہ اس گھر کے پڑوس اور اس کی برکات کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ، حالانکہ اس گھر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا کہ یہ مرکز عوام ہوگا اور تمام لوگ ہر طرف سے اس کا رخ کریں گے ۔ یہاں انہیں کوئی خوفزدہ کرنے والا نہ ہوگا۔ یہاں انہیں روحانی اور جسمانی امن و طمانیت حاصل ہوگی ۔ کیونکہ یہ گھر بذات خود مجسمہ امن منبع طمانیت اور جائے سلامت ہے۔
لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →2 یعنی ہر سال بغرض حج وہاں لوگ مجتمع ہوتے ہیں اور جو وہاں جا کر ارکان حج بجا لاتے ہیں وہ عذاب دوزخ سے مامون ہوجاتے ہیں یا وہاں کوئی کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔
3 مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کو تعمیر کیا تھا۔ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کا نشان ہے اور اسی پتھر پر کھڑے ہو کر حج کی دعوت دی تھی اور وہ جنت سے لایا گیا تھا جیسے حجر اسود۔ اب اس پتھر کے پاس نماز پڑھنے کا حکم ہے اور یہ حکم استحبابی ہے۔
4 یعنی وہاں برا کام نہ کرے اور ناپاک اس کا طواف نہ کرے اور تمام آلودگیوں سے صاف رکھا جاوے۔
Read the full tafseer →آیت 125 وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا ط وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی ط۔
دورِجدید کے بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مقام ابراہیم علیہ السلام سے مراد کوئی خاص پتھر نہیں ہے ‘ بلکہ اصل میں وہ پوری جگہ ہی مقام ابراہیم ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام آباد ہوئے تھے۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہمارے سلف سے چلی آرہی ہے اور اس کے بارے میں پختہ روایات ہیں کہ جس طرح حجر اسود جنت سے آیا تھا ایسے ہی یہ بھی ایک پتھر تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جنت سے لایا گیا تھا۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے دوران آپ علیہ السلام اس پر کھڑے ہوتے تھے اور جیسے جیسے تعمیر اوپر جا رہی…
Read the full tafseer →151 مثابۃ بمعنی لوگوں کے بار بار آتے اور جاتے رہنے کی جگہ (بغرض حج، عمرہ، طواف، اور عبادت نماز وغیرہ)
152 وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے رہے۔ اسی پر کھڑے ہو کر آپ نے لوگوں کو حج کے لیے پکارا۔ یہ پتھر خانہ کعبہ کے صحن میں ہے اور آج کل اسے ایک چھوٹی سی شیشہ کی گنبد نما عمارت میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کہا کرتے تھے تین باتوں میں میری رائے اللہ کے علم کے موافق ہوگئی۔ (جن میں ایک یہ تھی) میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اچھا ہو اگر آپ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کو نماز کی جگہ قرار دے دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار…
Read the full tafseer →449 ۔ (آیت) ” بیت “ کے لفظی معنی گھر کے ہیں (جہاں رات بسر کی جائے) (آیت) ” البیت “ سے متفقہ طور پر مراد بیت الحرام یا خانہ کعبہ ہے۔ شہر مکہ معظمہ کے اندر کی یہ عمارت روئے زمین پر خدائے واحد کی عبادت کا قدیم ترین مکان ہے اور قرآن نے اس حقیقت کا اعلان کھلے لفظوں میں ادا کردیا ہے۔ (آیت) ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا۔ مسیحیت کو کعبی کی تقدیس و برکت کے ساتھ ساتھ کعبہ کی یہ قدامت بھی نہایت شاق ہے لیکن انکار قدامت پر کوئی دلیل ہر ممکن کوشش کے بعد آج تک قائم نہیں ہوسکی ہے۔ بلکہ انیسویں صدی عیسوی کے ربع آخر میں انگریز مصنف باسورتھ اسمتھ کو لکھنا پڑا :۔” یہ وہ معبد ہے جس کی قدامت عہد تاریخ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
وَاِذْجَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّنَّاسِ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت سے جو بیت اللہ کے بانی اول ہیں، بیت اللہ کی دو خصوصیتیں اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ہیں، ایک مَثَابَۃً لِّنَّاسِ لوگوں کے لئے ثواب ی جگہ اور دوسرے معنی ہیں بار بار لوٹ کر آنے کی جگہ (یعنی) مرکز، دوسری خصوصیت امن کی جگہ یعنی یہاں کسی دشمن کا خوف نہیں رہتا، چناچہ زمانہ جاہلیت میں بھی حدود حرم میں کسی دشمن جان سے بھی انتقام نہیں لیتے تھے، اسلام نے ان کے اس احترام کو نہ صرف یہ کہ باقی رکھا بلکہ اس کی مزید تاکید اور توسیع کردی حتی کہ حرم میں خودروگھاس وغیرہ بھی اکھاڑنا ممنوع قرار دیدیا۔
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ…
Read the full tafseer →وَاِذْ جَعَلْنَا (اور ( یاد کرو) جب ٹھہرایا ہم نے) ابو عمرو اور ہشام نے اِذ جَعَلْنَا میں اور جہاں کہیں ایسا موقع ہو ذ کو ج میں ادغام کیا ہے اور اسی طرح و اذ کے ذ کو وَ اِذْ زَیَّنَ کے ذ میں اور وَ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ کے س میں اور وَ اِذْ صَرَّفْنَا کے ص میں اور وَ اِذْ تَبَرَّاء کے ت میں اور وَ اِذْ دَخَلُوْا کی د میں اور اتمام کرکے پڑھا ہے اور ابن ذکوان نے صرف د میں تو ادغام کیا ہے اور کسی جگہ نہیں کیا اور خلف نے د اور ت میں کیا ہے اور خلاد اور کسائی نے ج کی صورت میں صرف اظہار کیا ہے اور نافع اور ابن کثیرا ور عاصم ان سب صورتوں میں اذ کی ذال کو اظہار کرتے ہیں۔
الْبَيْتَ ( بیت کو) اس سے مراد…
Read the full tafseer →(125) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ان کی اتباع کا حکم دیا کہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مقبول بنایا ہے کہ لوگ جذب وشوق میں وہاں جاتے ہیں اور اس مقام پر جانے والے کے لیے وہ جگہ باعث امن ہے، اور اے امت محمدیہ ﷺ مقام ابراہیم کو اپنا قبلہ بنا لو اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ و اسمعیل ؑ کو حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو اس میں قیام کرنے والوں اور تمام ممالک کے لوگوں کو اس میں پانچوں نمازیں پڑھنے کے لیے بتوں سے پاک کردیں۔
شان نزول : (آیت) ”واتخذوا من مقام ابراھیم ’(الخ)
امام بخاری ؒ وغیرہ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ تین باتوں میں، میں نے اپنے پروردگار سے موافقت کی۔ میں نے عرض…
Read the full tafseer →(مَثَابَةً) یہ ثاب یَثُوْبُ (لوٹنا) سے ظرف ہے، یعنی ”لوٹ کر آنے کی جگہ“ لوگ بار بار اللہ کے گھر کی طرف لوٹ کر آتے ہیں، کبھی ان کا دل نہیں بھرتا۔ دیکھیے سورة حج (27) اور سورة ابراہیم (37) دوسری خصوصیت یہ کہ اسے سرا سر امن والی جگہ بنادیا، جاہلیت میں بھی آدمی اپنے دشمن کو دیکھتا مگر اسے کچھ نہ کہتا۔ اسلام نے اس احترام کو باقی رکھا، بلکہ اس میں تاکید اور اضافہ کیا۔
3 مقام ابراہیم ؑ کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم ؑ نے کعبہ تعمیر کیا۔ صحیح مسلم میں حجۃ الوداع کے واقعہ میں جابر ؓ سے مذکور ہے کہ نبی ﷺ طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کی طرف آئے اور یہ آیت پڑھی :…
Read the full tafseer →آیت نمبر 125
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ جعلنا البیت مثابۃً للناس وامناً اس میں دو مسئلہ ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جعلنا بمعنی صیرنا ہے کیونکہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ البیت سے مراد کعبہ ہے۔ مثابۃ کا معنی ہے مرجع کہا جاتا ہے ثاب یثوب مثاباً ومثابۃً وثؤوباً وثوباناً ۔ مثابۃ مصدر ہے اس کے ساتھ صفت بیان کی گئی ہے اس سے مراد وہ جگہ ہے جس کی طرف لوٹا جاتا ہے۔ ورقہ بن نوفل نے کعبہ کے بارے میں کہا :
مثاباً لافناء القبائل کلھا تخب الیھا الیعملات الذوامل (1)
کعبہ تمام قبائل کا مرجع ہے اس کی طرف اونٹ آہستہ چلنے والے آتے ہیں۔
اعمش نے مثابات جمع پڑھا ہے (2) ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ثواب…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذجعلنا البیت “ سے مراد کعبہ ہے۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” مثابۃ للناس “ سے مراد ہے کہ لوگ اس کی طرف اکھٹے ہوتے ہیں پھر لوٹ جاتے ہیں۔
(3) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ لفظ آیت ” مثابۃ لناس “ سے مراد ہے کہ ان کی اس کے متعلق کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی وہ حاضر ہوتے ہیں زیارت کرتے ہیں پھر گھر واپس جاتے ہیں پھر لوٹ آتے ہیں۔
(4) عبد بن حمید، ابن جریر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذجعلنا البیت مثابۃ للناس “ سے مراد ہے کہ ہر جگہ سے اس کی طرف آتے ہیں۔
(5) سفیان بن…
Read the full tafseer →(وَاِذْ جَعَلْنَا : اور جب ہم نے بنایا) (الْبَیْتَ : اس گھر کو ) (مَثَابَۃً : اپنے اصل کی طرف لوٹنے کا ایک ٹھکانہ) (لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لئے ) (وَاَمْنًا : اور امن میں ہونا) (وَاتَّخِذُوْا : اور تم لوگ بنائو) (مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ میں سے) (مُصَلًّی : نماز کی جگہ) (وَعَھِدْنَا : اور ہم نے تاکید کی ) (اِلٰی اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو اور اسماعیل (علیہ السلام) کو) (اَنْ طَھِّرَا : کہ وہ دونوں پاک رکھیں) (بَیْتِیَ : میرے گھر کو ) (لِلطَّآئِفِیْنَ : طواف کرنے والوں کے لئے) (وَالْعٰکِفِیْنَ : اور اعتکاف کرنے والوں کے لئے…
Read the full tafseer →کعبہ شریف کو مرجع اور جائے امن بنایا
حضرت ابراہیم علی نبینا (علیہ الصلوۃ والسلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام چلے گئے تھے۔ ان کی ایک بیوی حضرت سارہ تھی اور ان سے جو اولاد تھی وہ سب وہیں رہتے تھے۔ دوسری بیوی حضرت ہاجرہ تھی، جن سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے۔ ان کو، اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو بحکم خدا آپ مکہ معظمہ میں چھوڑ گئے، جو اس وقت سنسان اور چٹیل میدان تھا جس کا واقعہ انشاء اللہ سورة ابراہیم کی تفسیر کے ذیل میں بیان ہوگا جب اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے ذبح کرنے کا حکم ہوا جس کی بجا آوری میں کامیاب ہوگئے۔ نیز…
Read the full tafseer →قصہ بنائے خانہ تجلی آشیانہ و فضائل قبلۂ اسلام وتلقین آداب بیت حرام
قال تعالیٰ ۔ واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ والرکع السجود۔
گزشتہ آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت اور فضیلت کو بیان فرمایا اور ظاہر ہے کہ منصب امامت اور امامت کا لقب۔ صاحب قبلہ ہونے کی طرف مشیر ہے اس لیے آئندہ آیات میں قبلۂ ابراہیمی کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ خانہ تجلی آشیانہ وہی گھر ہے جس کو ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) کی شرکت اور معیت میں بنایا تھا اور اسی معبد کے ارد گرد اسمعیل اور اس کی ذریت کو آباد کیا اور طرح طرح کی دعائیں کیں اور مقصود یہ ہے کہ بنی اسرائیل متنبہ ہوجائیں کہ یہ نبی امی خاندان…
Read the full tafseer →239 البیت سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ مثابۃً اسم ظرف ہے اور تا مبالغہ کے لیے ہے یعنی وہ مقام جہاں لوگ بار بار آئیں۔ امن مصدر ہے جس سے مراد موضع امن یعنی امن کی جگہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلا میں کامیابی کے ذکر کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مرجع ومامون بنادیا ہے کہ دور دور سے لوگ ہزاروں کی تعداد میں خصوصا حج کے موقع پر وہاں جمع ہوتے ہیں اور جو لوگ حرم کعبہ کی حدود میں داخل ہوجاتے ہیں وہ اللہ کی پناہ اور اس کے حفظ میں ہوتے ہیں۔ انسان تو انسان ان حدود میں پرندوں اور جانوروں کا شکار بھی جائز نہیں۔ وہ بھی وہاں محفوظ ومامون ہیں۔ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
گذشتہ سے پیوستہ :
بنی اسرائیل کی خرابیوں کے تذکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت اور رسالت کا ذکر کیا ہے قرآن پاک کی حقانیت بھی بیان ہوئی ہے مگر اس سلسلہ کی بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ سے شروع ہوئی ، کیونکہ اگلی آیات میں اس دعا کا ذکر ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت کے متعلق کی تھی گویا اس سارے سلسلہ کی بنیاد تو وہاں سے شروع ہوتی ہے ، مگر پہلے تمہیدا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت اور پیشوائی کا ذکر فرمایا ہے آپ پر آنے والی آزمائش کا ذکر آیا اور پھر ان تمام امتحانوں میں آپ کی کامیابی کا بیان بھی آیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو امامت…
Read the full tafseer →وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا 0 ۭ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّى 0 ۭ وَعَہِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَہِّرَا بَيْـتِىَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ 125
بيت
أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ،
( ب ی ت ) البیت
اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی…
Read the full tafseer →ترکیب : واذ معمول ہے عامل محذوف کا البیت مفعول اول جعلنا کا مثابۃ مفعول ثانی وامنا اس پر معطوف اتخذوا امر حاضر معروف انتم فاعل من بمعنی فی یجوزان یکون للتبعیض ویجوزان یکون زائدۃ مصلی ظرف مفعول ہے اتخذ و اکا وعہدنا فعل بافاعل الی ابراھیم و اسماعیل متعلق ہے عہدنا سے ان طہرا الخ میں ان مفسرہ ہے بمعنی ای اس تقدیر پر یہ عہد کی تفسیر ہے اور ممکن ہے کہ مصدریہ ہو ای بان رکع راکع کی جمع اور السجود ساجد کی۔
تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کئی باتوں میں آزمایا تو پورا پایا چونکہ اور باتوں کو اہل کتاب بھی تسلیم کرتے تھے مگر منجملہ ان کے ایک بڑی بھاری بات کعبہ کی…
Read the full tafseer →وَاِذْ جَعَلْنَاالْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًاط وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰاہٖمَ مُصَلًّیط وَعَھِدْنَآاِلٰٓی اِبْرٰاھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّـآئِفِیْنَ وَالْعٰـکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ۔
(اور یاد کرو ! جب کہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالو اور ابراہیم اور اسماعیل کو ذمہ دار بنایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو) (البقرۃ : 125)
البیت کا مفہوم
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت کا ذکر کرنے کے بعد یہ بتایا جارہا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بیت اللہ کا متولی ہونے کا ثبوت فراہم کیا گیا۔
اس جہان رنگ و بو میں بیشمار خوبصورت سے خوبصورت ترین عمارات و محلات موجود ہیں۔ جن کے حسن و جمال میں اضافہ کرنے کے لیے لاکھوں، کروڑوں، اربوں روپے خرچ ہوئے اور کیے جا رہے ہیں۔ ان کو دیکھو تو عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن کوئی ایسی جگہ یا عمارت نہیں جس کے دیدار کو اہل جہاں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو اور جس کے لیے اتنی دنیا کے دل تڑپتے ہوں یہ اکرام و اعزازصرف ایک عمارت کو نصیب ہوا جس کو عام پتھروں سے اٹھایا گیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس کو بیت اللہ قرار دیا…
Read the full tafseer →125: وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ : (اور جب ٹھہرایا ہم نے گھر کو) بیت سے مراد کعبہ ہے یہ نام اس پر غالب آگیا جیسا کہ ثریا کو نجم کہا جاتا ہے۔
ملتجی فی الحرم کی دلیل :
مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ : (لوگوں کے لیے اجتماع کی جگہ) حجاج وعمار کے لیے مرجع ہے۔ کہ وہاں سے جدا ہو کر پھر اس کی طرف لوٹتے ہیں۔
وَاَمْنًا : (اور امن کا مقام) امن کی جگہ جنایت کرنے والا وہاں پناہ لے تو اس پر تعرض نہیں کیا جاتا۔ یہاں تک کہ وہ خود نکل جائے اور یہ ہمارے لیے مسئلہ ملتجی فی الحرم کے متعلق دلیل ہے۔
مقام ابراہیم (d) کی مراد :
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہِیْمَ مُصَلًّی : (اور بنا لو ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے…
Read the full tafseer →خاصیت آیت 125۔
(آیت)” وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَا إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ أَن طَہِّرَا بَیْْتِیَ لِلطَّائِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ (125)
میں نے علمائے عارفین کے ہاتھ کا لکھا ہوا دیکھا ہے کہ جو شخص رات کو یہ آیت پڑھ کر نیت کرکے سوئے میں فلاں وقت جاگوں تو اسی وقت ضرور جاگ جائے گا ۔
(تفسیر) 125۔:
(آیت)” واذ جعلنا البیت “ یعنی کعبہ (آیت)” مثابۃ للناس “ لوگوں کے لیے جائے رجوع کہ چاروں اطراف کے لوگ وہاں آتے ہیں ، حضرت مجاہد (رح) ، سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اس (کعبہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
(125 ۔ 128) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے یہ مراد ہے کہ شرک کی باتوں بت پرستی وغیرہ سے اس کو پاک رکھا جاوے 1۔ سورة حج کی آیت { وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِ بْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتَ اَنْ لاَّ تُشْرِکَ نِیْ شَیْئًا } ( 26۔ 22) سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ بنانے کے لئے وہ خالی جگہ اس ہدایت سے بتائی گئی تھی کہ وہ اس گھر کو ایسی خالص توحید کی نیت سے بناویں کہ یہ گھر بت پرستی سے پاک رہے اور جب خالی جگہ پر کعبہ بن گیا اور آیندہ نسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ جن کی امامت و جلالت تمام گروہوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اہل کتاب کے تمام گروہ ان کی پیشوائی کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسی طرح مشرکین مکہ بھی ان کو پیشوا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند باتوں میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا امتحان لیا یعنی چند اوامرونواہی میں جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ جھوٹا شخص جو ابتلاء و امتحان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ایسے شخص سے علیحدہ ہوجائے جو سچا ہے تاکہ سچے شخص کے درجات بلند ہوں، اس کی قدر و قیامت زیادہ ہو، اس کے اعمال…
Read the full tafseer →قول باری ہے : واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس وامنا (اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لئے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا) بیت سے بیت اللہ، یعنی کعبہ مراد ہے صرف بیت کے علی الاطلاق ذکر پر اس لئے اکتفا کرلیا گیا کہ اس پر الف لام داخل ہے کیونکہ الف لام کا دخول ایک معہود چیز کو معرف بنانے یا جنس کا مفہوم ادا کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اس کلام کے مخاطبین کو علم تھا کہ یہاں جنس مراد نہیں ہے اس لئے اس کا انصراف اس چیز یعنی کعبہ کی طرف ہوگیا جو مخاطبین کے نزدیک معہود تھی۔ قول باری : مثابۃ للناس کی تفسیر میں حسن سے مروی ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ لوگ اس کی طرف ہر سال لوٹ لوٹ کر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس…
Read the full tafseer →347 " مثابۃ " کا معنیٰ و مطلب ؟ : یعنی یہ مصدر میمی ہے بمعنی ظرف مکان۔ یعنی " مرکز "، اور " مرجع " (صفوۃ البیان، جواہر القرآن، وغیرہ) ۔ " ثَابَ یَثُوْبُ ثَوْبًا وَثوْابًا وَ ثَئُوْبًا " سے ماخوذ ہے بمعنی لوٹنا، رجوع کرنا۔ پس للہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے اس گھر کو ایسا عظیم الشان اور بےمثل مرکز بنادیا کہ دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں کو اس سے وابستہ و پیوستہ کردیا، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ روئے زمین کے مسلمان اس کی طرف کھچے ہوئے چلے آتے ہیں۔ سال کے بارہ مہینوں، مہینے کے تیس دنوں، اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں یہ سلسلہ برابر بغیر کسی توقف وانقطاع کے لگاتار…
Read the full tafseer →خانہ کعبہ کی اہمیت
تشریح : خانہ کعبہ، بیت اللہ اور قبلہ۔ یہ تینوں نام اس مسجد کے ہیں جس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے تعمیر کیا۔ مکہ مکرمہ میں ایک بہت بڑی مسجد ہے جسے مسجد حرام یعنی حرمت والی مسجد کہا جاتا ہے۔ اس کے صحن میں خانہ کعبہ ہے، خانہ کعبہ ایک مربع نما عمارت ہے جو پتھروں کی بنی ہوئی ہے اور اس پر ایک خوبصورت غلاف چڑھا ہوا ہے۔ یہ عمارت سطح زمین سے کافی اونچی ہے، شرقی دیوار میں ایک دروازہ ہے، عمارت کے اندر ستون ہیں، جن پر چھت قائم ہے، یہ سب سے پہلا اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جو زمین پر بنایا گیا اس کی عظمت و بزرگی یہ ہے کہ اس کو اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
آیات 122- 129
اسرارو معارف
ہر طرح کے عقلی ، نقلی اور اعجازی جواب ارشاد فرما کر جب سب طرف سے عاجز کردیا اور حضور ﷺ کی حقانیت واضح ہوگئی تو پھر خطاب براہ راست بنی اسرائیل کو ہوا کہ اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے احسانات و انعامات جو میں نے تم پر کئے یاد کرو ، یہ میرا ہی احسان تھا کہ تمہیں تمہارے دور کی پوری دنیا پہ فضیلت عطاء کی۔
بنی اسرائیل کے ساتھ بات اس قدر طویل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں بھی ایک عالم میں یہی لوگ سربراہ تھے بلکہ مذاہب عالم پر چھائے ہوئے تھے اور خود مشرکین عرب بھی اپنی مشکلات میں ان کی طرف رجوع کرتے۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے سوال کرنے کے لئے مدینہ آتے اور…
Read the full tafseer →ف 6، مقام ابراہیم (علیہ السلام) کی تفسیر میں مختلف اقوال اور پھر وہاں کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کی جیسا کہ حاجی لوگ پڑھتے ہیں۔ نیز یہ آیت بھی حضرت عمر ؓ کے موافقات سے ہے جن کی تعداد اٹھار ہے۔_ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(2:125) واذ۔ ای واذکراذ۔ یاد کرو جب (ملاحظہ ہو 2:124)
البیت۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے اگرچہ بیت عام ہے۔ جیسے النجم کا اطلاق ثریا پر اکثر آتا ہے۔
مثابۃ یہ جعلنا کا مفعول ثانی ہے مثابۃ۔ ظرف مکان ہے لوگوں کے لوٹنے کی جگہ۔ اس کا مادہ ثوب ہے جس کا معنی اصلی حالت کی طرف لوٹنا۔ یا کسی کام کی اصلی غرض کی طرف لوٹنا ہے جو غرض پہلے سوچ لی گئی ہو۔ آغاز عمل انجام فکر ہوتا ہے اور آخر عمل اول فکر ۔ یعنی آدمی پہلے سوچتا ہے۔ جب سوچ چکتا ہے تو کام شروع کرتا ہے۔ کام ختم ہوجاتا ہے تو سوچی ہوئی غرض کا حصول سامنے آجاتا ہے اور عمل نتیجہ سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ بس اسی سوچی ہوئی غرض کے ظہور فعلی کی طرف لوٹنے کو ثوب کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–129
لغات القرآن : آیت نمبر 124 تا 129
ابتلی (آزمایا) ۔ کلمت (چند باتیں) ۔ اتمھن (اس نے پورا کر دکھایا) ۔ امام (رہنما، پیشوا، سردار) ۔ ذریتی (میری اولاد) ۔ لا ینال (نہیں ملے گا) ۔ امن (امن و سکون کی جگہ) ۔ مصلی (نماز کی جگہ) ۔ طھرا (تم دونوں پاک رکھو گے) ۔ الطائفین (طواف کرنے والے) ۔ العاکفین (اعتکاف کرنے والے) ھذا بلدا (اس شہر کو ، اس بستی کو) ۔ امتع (میں سامان دوں گا، فائدہ دوں گا) ۔ اضطر (میں کھینچوں گا) ۔ المصیر (ٹھکانا) ۔ یرفع (بلند کرتا ہے) ۔ القواعد (دیواریں) مسلمین (فرماں بردار) ارنا ( ہمیں دکھا دے، ہمیں سکھا دے) ۔ مناسک (حج کے احکام، عبادت) ۔ ابعث (بھیج دے) ۔ یتلوا (تلاوت کرتا ہے، پڑھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
شان نزول : حضرت عمر ؓ نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ ٹھہرانے کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی ہے ۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں یہ پتھر کعبہ کی ایک دیوار میں لگا ہوا تھا ۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو نکال کر اس جگہ رکھ دیا جہاں اب موجود ہے ۔ حض کے وقت طواف سے فارغ ہونے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل پڑھنا سنت ہے۔ مکہ اللہ کا گھر ہے اور مدینہ اللہ کے رسول کا گھر ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اسے روایت ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے مراد یہ کہ شرک کی باتوں اور بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–139
[84] یعنی اپنے عقائد اور اپنی عبادت میں ہر طرف سے پاک صاف۔
Read the full tafseer →کائنات کا مرکز عبادت :
(ف 2) مثابۃ کے معنی مرجع عام اور جاذب مرکز کے ہیں جس طرف لوگ کسی مضبوط تعلق کی وجہ سے کھینچے آئیں ، اسلام کی صداقت کی بہت بڑی دلیل اس کی ہمہ گیری جاذبیت بھی ہے ، اور جذب و کشش کا سب سے بڑا مرکز بیت اللہ ہے ، آج سے کئی ہزار سال پہلے دانیال نبی نے بطور مکاشفہ کہا تھا میں آسمان سے نیا یروشلم اترتا ہوا دیکھتا ہوں ۔ حضرت ابراہیم نے کئی سو سال پہلے وادی غیر ذی زرع میں بےآب وگیاہ زمین میں اللہ کا ایک گھر بنایا اور دعا کی ، فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم کہ ساری کائنات کے دل اللہ کے اس گھر کے ساتھ وابستہ ہو یہ امن وسعادت کا بہت بڑا مقام قرار پائے ۔ یہاں کے لوگ دنیوی لذائذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
ف 2 اور وہ بات بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے مرجع اور جمع ہو نیکی جگہ اور موضع امن اور مقام اطمینان مقرر کیا اور یہ حکم دیا کہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کو برکت حاصل کرنے کی غرض سے نماز پڑھنے کی جگہ بنائو کہ طواف سے فارغ ہوکر وہاں دورکعتیں پڑھا کرو اور ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا کہ خانہ کعبہ کو زائرین اور آفاقی لوگوں کے لئے اور مجاورین و مقامی لوگوں کے لئے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک اور صاف رکھنا یعنی تعمیر کے بعد اس کی تطہیر کا خوب اہتمام کرنا اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ جب ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →ف 4۔ مقام امن دو وجہ سے فرمایا ایک تو یہ کہ اس میں حج وعمرہ و نماز طواف کرنے سے عذاب دوزخ سے امن ہوتا ہے دوسرے اس وجہ سے کہ اگر کوئی خونی حدود کعبہ میں جس کو حرم کہتے ہیں جاگھ سے تو وہاں سے سزائے موت نہ دیں گے۔
5۔ مقام ابراہیم ایک خاص پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر آپ نے کعبہ کی عمارت بنائی وہ کعبہ کے پاس ایک محفوظ جگہ رکھا ہے اور وہاں نفلیں پڑھنا ثواب ہے۔
Read the full tafseer →دنیا کی قدیم عبادت گاہ بیت اللہ ہی ہے :
231: یوں تو پوری دنیا میں سب سے پہلے جو عبادت گاہ تعمیر کی گئی وہ بیت اللہ ہی ہے قرآن و حدیث اور تاریخ سب کی شہادتیں اس پر موجود ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) منہدم شدہ بیت اللہ کے معمار ہیں نہ کہ موجد تعمیر ، تاہم ابراہیم (علیہ السلام) کے دور میں بھی سر زمین عرب میں بیت اللہ کے سوا کوئی عبادت گاہ نہ تھی۔ یمن ، حضرت موت۔ خلیج فارس کے کناروں ، شام کے جنگلوں اور حیر و عراق عرب سے لوگ ہر سال یہاں جمع ہو کر فریضہ حج ادا کیا کرتے تھے ۔ مورخین اس کی قدامت کی کوئی تاریخ متعین نہیں کرسکتے۔ نقش انسانی کے ساتھ ہی یعنی معاً بعد اس کا نقش…
Read the full tafseer →The History of Ka'bah
In the course of the story of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، we now come to the building of the "House of Allah" - the Ka'bah کعبہ . An answer is thus being given to the Jews who used to deny the Holy Prophet ﷺ on the ground of their assumption that prophethood could not be given to anyone outside their own clan, and who used to scoff at the Muslims for turning towards the Ka'bah کعبہ in their prayers, and to believe that the Hajj was no more than a custom of the ignorant Arabs. The earlier verse had made it clear that prophethood could not be given to the unjust and…
Read the full tafseer →126. 'Purify My House' does not merely mean keeping it clean of dirt and filth. The real purity and cleanliness of the House of God rests in the fact that in it the name of God alone should be glorified. If someone declares in its sacred precincts that anything other than God is his Lord, his object of worship and adoration, the dispenser of man's needs and requirements, the hearer of man's supplications, then such a person is guilty of desecrating the House of God.
This verse also contains a hint as to the evil-doing of the people of the Quraysh. They boasted that they were the inheritors of…
Read the full tafseer →