امام توحید
اس آیت میں خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ کی بزرگی کا بیان ہو رہا ہے جو توحید میں دنیا کے امام ہیں انہوں نے تکالیف پر صبر کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری میں ثابت قدمی اور جوان مردی دکھائی فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان مشرکین اور اہل کتاب کو جو ملت ابراہیم کے دعویدار ہیں ذرا ابراہیم ؑ کی فرماں برداری اور اطاعت گزاری کے واقعات تو سناؤ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ دین حنیف پر اسوہ ابراہیمی پر کون قائم ہے وہ یا آپ اور آپ کے اصحاب ؟ قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت (وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ) 53۔ النجم :37) ابراہیم وہ ہیں انہوں نے پوری وفاداری دکھائی اور فرمایا آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 124
قرآن میں مختلف مقامات پر ان تمام سخت آزمائشوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے، جن سے گزر کر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کیا تھا کہ انہیں بنی نوع انسان کا امام و رہنما بنایا جائے۔ جس وقت سے حق ان پر منکشف ہوا، اس وقت سے لے کر مرتے دم تک ان کی پوری زندگی سراسر قربانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں جتنی چیزیں ایسی ہیں، جن سے انسان محبّت کرتا ہے، ان میں سے کوئی چیز ایسی نہ تھی، جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو۔ اور دنیا میں جتنے خطرات ایسے ہیں، جن سے آدمی ڈرتا ہے، ان میں سے کوئی خطرہ ایسا نہ تھا، جسے انہوں نے حق کی راہ میں نہ جھیلا ہو۔
سورة الْبَقَرَة…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جس وقت امتحان کیا حضرت ابراہیم ؑ کا ان کے پروردگار نے چند باتوں میں (اپنے احکام میں سے) اور وہ ان کو پورے طور سے بجا لائے (اس وقت) حق تعالیٰ نے (ان سے) فرمایا کہ میں تم کو (اس کے صلہ میں نبوت دے کر یا امت بڑھا کر) لوگوں کو مقتدا بناؤں گا انہوں نے عرض کیا اور میری اولاد میں سے بھی کسی کو (نبوت دیجئے) ارشاد ہوا کہ (آپ کی درخواست منظور ہے مگر اس کا ضابطہ سن لیجئے کہ) میرا (یہ) عہدہ (نبوت) خلاف ورزی (قانون) کرنے والوں کو نہ ملے گا (سو ایسے لوگوں کو تو صاف جواب ہے البتہ اطاعت کرنے والوں میں سے بعض کو نبوت دی جائے گی)
معارف و مسائل
اس آیت میں حق تعالیٰ کے خاص پیغمبر حضرت ابراہیم ؑ…
Read the full tafseer →ابتلاء کا مقصد : ابتلاء کے معنی جانچنے اور امتحان کرنے کے ہیں۔ یہ ابتلاء بندوں کی تربیت اخلاقی کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے۔ اسی چیز سے بندوں کی وہ صلاحیتیں ابھرتی اور نشوونما پاتی ہیں جو ان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمائی ہیں اور اسی سے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہوتا ہے۔ یہ امتحان نرم اور سخت، سرد اور گرم، خوش کن اور رنج دہ، حوصلہا فزا اور ہمت آزما دونوں طرح کے حالات کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور کسی صورت میں بھی اس سے مقصود بندے کو دکھ میں مبتلا کرنا نہیں ہوتا بلکہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا صرف اس کی صلاحیتوں کو ابھارنا اور پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ یہاں یہ اشارہ کافی ہے۔ آگے اس پر مفصل بحثیں…
Read the full tafseer →124۔ 1 کلمات سے مراد احکام شریعت، مناسک حج، ذبح پسر، ہجرت نار نمرود وغیرہ وہ تمام آزمائشیں ہیں، جن سے حضرت ابراہیم ؑ گزارے گئے اور ہر آزمائش میں کامیاب اور کامران رہے، جس کے صلے میں امام الناس کے منصب پر فائز کئے گئے، چناچہ مسلمان ہی نہیں، یہودی، عیسائی حتٰی کہ مشرکین عرب سب ہی میں ان کی شخصیت محترم اور پیشوا مانی جاتی ہے۔
24۔ 2 اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس خواہش کو پورا فرمایا، جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، ہم نے نبوت اور کتاب کو اس کی اولاد میں کردیا، پس ہر نبی جسے اللہ نے مبعوث کیا اور ہر کتاب جو ابراہیم ؑ کے بعد نازل فرمائی، اولاد ابراہیم ہی میں یہ سلسلہ رہا (ابن کثیر) اس کے ساتھ ہی…
Read the full tafseer →80: یہاں سے حضرت ابراہیم ؑ کے کچھ حالات و واقعات شروع ہورہے ہیں اور پچھلی آیتوں سے ان واقعات کا دو طرح گہرا تعلق ہے، ایک بات تو یہ ہے کہ یہودی عیسائی اور عرب کے بت پرست یعنی تینوں گروہ جن کا ذکر اوپر آیا ہے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا پیشوا مانتے تھے، مگر ہر گروہ یہ دعوی کرتا تھا کہ وہ اسی کے مذہب کے حامی تھے، لہذا ضروری تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں صحیح صورت حال واضح کی جائے، قرآن کریم نے یہاں یہ بتلایا ہے کہ ان کا تینوں گروہوں کے باطل عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی ساری زندگی توحید کی تبلیغ میں خرچ ہوئی اور انہیں اس راستے میں بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا جن میں وہ پورے اترے، دوسری بات…
Read the full tafseer →خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے ۔ ذرا روئیداد ابتلائے ابراہیم (علیہ السلام) کو یاد کرو ۔ آپ کو کچھ احکام دئیے گئے ۔ آپ پر کچھ بندشیں عائد کی گئیں اور آپ نے پوری وفاکیشی سے ان اوامر نواہی پر عمل کیا ۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وفا کیشی کو سراہتے ہوئے فرمایا وَاِبرَاھِیمَ الَّذِی وَفّٰی ” اور ابراہیم جنہوں نے احکام پورے کئے۔ “ یہ وہ بلند وبالامقام ہے جس تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہنچے ۔ اس مقام تک جہاں اللہ تعالیٰ خود بندے کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی شہادت دیتا ہے جبکہ بحیثیت انسان ای ضعیف اور پر تقصیر مخلوق ہے اور اس کے لئے وفا یعنی پوری اطاعت ممکن نہیں…
Read the full tafseer →8 جیسے حج کے افعال اور ختنہ اور حجامت اور مسواک وغیرہ، سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان احکام کو اللہ کے ارشاد کے موافق اخلاص کے ساتھ بجا لائے اور سب کو پوری طرح سے ادا کیا جس پر لوگوں کے پیشوا بنائے گئے۔
9 یعنی تمام انبیاء تیری متابعت پر چلیں گے۔
1 بنی اسرائیل اس پر بہت مغرور تھے کہ ہم اولاد ابراہیم (علیہ السلام) میں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کیا ہے کہ نبوت و بزرگی تیری اولاد میں رہے گی اور ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ اور ان کے دین کو سب مانتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ ان کو سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ تھا وہ ان سے تھا جو نیک راہ پر چلیں…
Read the full tafseer →سورة البقرۃ کے ابتدائی اٹھارہ رکوعوں میں روئے سخن مجموعی طور پر سابقہ امت مسلمہ یعنی بنی اسرائیل کی جانب ہے۔ ابتدائی چار رکوع اگرچہ عمومی نوعیت کے حامل ہیں ‘ لیکن ان میں بھی یہود کی طرف روئے سخن کے اشارے موجود ہیں۔ چوتھے رکوع کے آغاز سے پندرہویں رکوع کی ابتدائی دو آیات تک ‘ ان دس رکوعوں میں ساری گفتگو صراحت کے ساتھ بنی اسرائیل ہی سے ہے ‘ اِلّا یہ کہ ایک جگہ اہل ایمان سے خطاب کیا گیا اور کچھ مشرکین مکہ کا بھی تعریض کے اسلوب میں تذکرہ ہوگیا۔
اس کے بعد اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل دو شاخیں ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ…
Read the full tafseer →149 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تمام دنیا کی امامت ایسے ہی نہیں مل گئی تھی بلکہ آپ کی سن شعور سے لے کر مرنے تک پوری زندگی قربانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں انسان جن چیزوں سے محبت کرتا ہے ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہ تھی جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو اور ان کی خاطر مصائب نہ جھیلے ہوں جن میں سے چند ایک یہ ہیں :
1۔ آپ ایک بت گر اور بت فروش کے گھر پیدا ہوئے۔ باپ چاہتا تھا کہ بیٹا اس کام میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ لیکن آپ (علیہ السلام) نے الٹا احسن انداز میں سمجھانا شروع کردیا۔ جب باپ آپ (علیہ السلام) کی طرف سے مایوس ہوگیا تو گھر سے نکال دینے کی دھمکی دے دی۔ آپ (علیہ…
Read the full tafseer →443 ۔ یہ نام پہلی بار قرآن میں آیا ہے۔ قرآن کے مخاطب اول اہل عرب تھے۔ جو شخصیتیں ان کے لیے معلوم ومعروف تھیں، قرآن ان کے نام ان کے سامنے بےتکلف بغیر کسی مزید تعارف کے لیے آتا ہے۔ اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) تو وہ بزرگ تھے جن سے علاوہ مشرکین عرب کے یہود ونصاری بھی خوب ہی واقف تھے، ان کا تعارف اور بھی غیر ضروری تھا۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) وہی ہیں۔ جو اسلامی عقیدہ کے علاوہ یہودی ونصرانی عقیدہ میں بھی ایک جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ توریت میں آپ کا نام ابرام اور ابراہم دونوں طرح سے آیا ہے۔ توریت کی روایت ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش :
وَاِذِابْتَلٰی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمَاتٍ (الآیۃ) قرآن میں مختلف مقامات پر ان تمام آزمائشوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے، جن سے گزر کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کیا تھا کہ انہیں بنی نوع انسان کا امام بنادیا جائے، جس وقت سے حق ان پر منکشف ہوا اس وقت سے لے کر دم واپسیں تک ان کی پوری زندگی سراسر قربانی ہی قربانی تھی، دنیا میں جتنی چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان محبت کرتا ہے ان میں سے کوئی چیز ایسی نہ تھی جس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو اور دنیا میں جتنے خطرات ایسے ہیں جن سے آدمی ڈرتا ہے ان میں سے کوئی…
Read the full tafseer →وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ ( اور یاد کرو) جب آزمایا ابراہیم کو اس کے پروردگار نے چند باتوں میں) ہشام نے اس تمام سورت میں ابراہیم کو ابراھام پڑھا ہے اور اس سورت میں ابراہیم پندرہ جگہ ہے اور سورة نساء میں تین مقام پر اور سورة انعام میں ایک بار آخر میں اور سورة توبہ کے آخر میں دو جگہ اور سورة ابراہیم میں ایک جگہ اور سورة نحل میں دو جگہ اور مریم میں تین جگہ اور عنکبوت میں ایک جگہ اور شوریٰ میں ایک جگہ اور ذاریات میں ایک جگہ اور نجم میں ایک جگہ اور حدید میں ایک جگہ اور ممتحنہ میں ایک جگہ۔ ان کل تینتیس مقام پر ہشام نے ابراہام پڑھا ہے اور تمام قرآن شریف میں ابراہیم اٹھتر جگہ ہے…
Read the full tafseer →(124) حضرت ابراہیم ؑ خلیل اللہ پر جو احسانات ہوئے اللہ تعالیٰ اب ان کا ذکر فرماتے ہیں۔
کہ حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے دس خصلتوں کی تکمیل کا حکم دیا جن میں سے پا نچ سر میں تھیں اور بانچ باقی بدن میں چناچہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی پوری طرح تعمیل کی اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جن کلمات کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مخاطب فرمایا، حضرت ابراہیم ؑ نے ان سب کی پوری پوری تکمیل فرما دی، اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو مخاطب کرکے کہا کہ میں آپ کو اپنا نائب بناتا ہوں تاکہ سب آپ کی اتباع و پیروی کریں، حضرت ابراہیم ؑ نے عرض کیا کہ میری اولاد میں سے کوئی…
Read the full tafseer →بِكَلِمٰتٍ) بعض مفسرین نے ان باتوں سے مراد والد، قوم اور بادشاہ کو توحید کی دعوت، بت پرستی، ستارہ پرستی اور شاہ پرستی کی تردید، آگ میں پھینکے جانے پر صبر، پھر ہجرت، مصر کے جبار بادشاہ کی دست درازی کے باوجود استقامت، بیوی بچے کو وادی غیر ذی ذرع میں چھوڑنا اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے پر مکمل آمادگی کو لیا ہے۔ بعض نے آگے آنے والی آیات میں مذکور بیت اللہ کی تعمیر و تطہیر اور حج کے مناسک اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : اَسلِم : (فرماں بردار ہوجا) پر فرماں بردار ہونے کے اقرار، پھر اس کے عملی ثبوت کو مراد لیا ہے۔ [ ابن أبی شیبۃ عن مجاہد ] تفسیر عبد الرزاق میں صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مذکور ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 124
اس میں بیس مسائل ہیں (٭) ۔
مسئلہ نمبر 1: جب کعبہ اور قبلہ کا ذکر جاری تھا تو اس کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرما دیا کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کو بنایا تھا۔ یہود کا حق تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین سے انحراف نہ کرتے کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے تھے۔ الابتلاء کا معنی آزمائش کرنا ہے۔ اس کا معنی حکم دینا ہے اور مکلف بنانا ہے۔ ابراھیم، اس کی سریانی زبان میں تفسیر وہ ہے جو ماوردی نے ذکر کی ہے اور عربی میں وہ ہے جو ابن عطیہ نے ذکر کی ہے اب رحیم (4) (مہربان باپ)
سہیلی نے کہا : اکثر سریانی اور عربی زبان میں اتفاق واقع ہوتا ہے…
Read the full tafseer →(1) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم (انہوں نے اسے صحیح بھی کہا ہے) اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” واذابتلی ابرہم ربہ بکلمت “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو طہارت کے ساتھ آزمایا۔ پانچ کا تعلق سر سے ہے اور پانچ کا تعلق جسم سے ہے سر میں پانچ چیزیں یہ ہیں۔ مونچھوں کا کترنا، کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا اور مسواک کرنا اور سر کے (بالوں) میں مانگ نکالنا اور جم میں پانچ چیزیں یہ ہیں۔ ناخن کا کاٹنا، زیر ناف بالوں کا مونڈنا، ختنہ کرنا اور بغل کے بال اکھاڑنا اور پاخانہ پیشاب کی جگہ کو پانی سے دھونا۔
امتحانی کلمات کون سے ہیں ؟
(2)…
Read the full tafseer →(وَاِذِ ابْتَلٰی : اور جب آزمایا ) (اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو) (رَبُّـــــہٗ : ان کے رب نے ) (بِکَلِمٰتٍ : کچھ فرمانوں سے) (فَاَتَمَّھُنَّ تو انہوں نے پورا کیا ان کو) ( قَالَ : اس نے ( یعنی اللہ نے) کہا) (اِنِّیْ : کہ میں ) (جَاعِلُکَ : بنانے والا ہوں آپ (علیہ السلام) کو) (لِلنَّاسِ : لوگوں کے لئے ) (اِمَامًا : ایک پیشوا) (قَالَ : انہوں (علیہ السلام) نے کہا) (وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ : اور میری نسل میں سے) (قَالَ : اس نے کہا ) (لَا یَنَالُ : نہیں پہنچتا) (عَھْدِیْ : میرا وعدہ) (الظّٰلِمِیْنَ : چیزوں کو غلط جگہ رکھنے والوں کو)
ت م م
تَمَّ (ض) تَمَامًا : کسی چیز کی ہر کمی یا نقص کا دور…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا آزمائشوں میں پورا اترنا اور ان کی امامت کا اعلان فرمانا
اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش کا پھر اس میں ان کے پورا اترنے کا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ان کو چند کلمات کے ذریعہ آزمایا۔
کلمات کی تشریح اور توضیح جن کے ذریعہ آزمایا گیا :
ان کلمات سے کیا مراد ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین کرام نے بہت کچھ لکھا ہے۔ کلمات جمع ہے کلمۃ کی اور کلمہ لفظ مفرد بامعنی کو کہا جاتا ہے اور کلام کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں کلمات سے احکام شرعیہ مراد ہیں جن کا ابراہیم (علیہ السلام) کو مکلف بنایا گیا تھا۔ جو احکام ان کو دیے گئے انہوں نے ان کو…
Read the full tafseer →قصۂ کامیابی ابراہیم خلیل (علیہ السلام) در امتحان خداوند جلیل وتحویل کلام از ذکر بنی اسرائیل بسوئے ذکر بنی اسمعیل علیہ السلام۔
قال تعالیٰ واذ ابتلی ابراہیم ربہ بکلمت۔۔۔ الی۔۔۔ قال لا ینال عہدی الظلمین
(ربط): بنی اسرائیل اس بات پر مغرور تھے کہ ہم اہل کتاب اور اہل علم اور اولاد ابراہیم ہیں اس لیے ہم ہی سب کے متبوع اور مقتداء اور پیشوا اور امام ہیں۔ امامت اور سیادت ہمارے ہی گھر میں رہے گی۔ ہمیں کسی کے اتباع کی کیا ضرورت۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ شانہ نے حضرت ابراہیم کا قصہ ذکر فرمایا جس سے چند امور کا بیان کرنا مقصود ہے۔ اول یہ کہ امام اور مقتدا وہی ہوسکتا ہے جو ظالم اور فاسق نہ ہو اور تمہارا کفر…
Read the full tafseer →236 اِذْ کا عامل قال ہے جو آگے آرہا ہے۔ والاتخیار ان یکون العامل فیہ ملفوظا بہ وھو قال انی جاعلک (بحر ص 374 ج 1) ابتلا کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے تو اس سے اس کا مقصد بندوں کے احوال کو جاننا نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو پہلے بھی جانتا ہے بلکہ اس سے ان کے احوال کا خود ان کے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے اظہار مقصود ہوتا ہے تاکہ خود ان بندوں پر اپنی حقیقت واضح ہوجائے اور دوسروں کو اس سے سبق حاصل ہوسکے۔ وابتلاء اللہ العباد لیس لیعلم احوالھم بالابتلائ ولانہ عالم بھم ولکن لیعلم العباد احوالھم (معالم ص 88 ج 1) کلمات کلمہ کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ امور اور…
Read the full tafseer →گذشتہ دروس پر ایک نظر۔
سورة بقرہ کی ابتداء میں قرآن پاک کے کتاب ہدایت ہونے کا بیان تھا ، اس کے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے تین گروہوں کا ذکر کیا پہلا گروہ ہدایت کو قبول کرنے والوں کا دوسرا منکرین کا اور تیسرا منافقین کا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع سے اپنی توحید کا اقرار اور اپنی عبادت کے لیے کہا پھر قرآن پاک کی صداقت اور حقانیت کو بیان فرمایا ، اس کے ساتھ پیغمبر (علیہ السلام) کی نبوت اور آپ کی صداقت کا ذکر کیا اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے آگے تخلیق آدم (علیہ السلام) اور پھر ان کی خلافت ارضی کا ذکر کیا ، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت میں طے ہوچکا تھا ۔
اس کے بعد بنی اسرائیل کا ذکر شروع ہوتا…
Read the full tafseer →وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّہُنَّ 0 ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا 0 ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ 0 ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَہْدِي الظّٰلِــمِيْنَ 124
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ…
Read the full tafseer →ترکیب : واذا محل نصب میں ہے اذکر محذوف سے ابتلی فعل ابراھیم مفعول ربہ فاعل بکلمٰۃ متعلق ہے ابتلی کے فاتم فعل ضمیر ہوراجع ابراہیم کی طرف فاعل ھن مفعول راجع کلمات کی طرف قال فعل ضمیر ہوراجع رب کی طرف فاعل انی الخ جملہ مقولہ انی میں ی اسم ان جاعلک الخ جملہ خبرک مفعول اول جاعل کا اماما مفعول ثانی للناس متعلق جاعل کے یہ تمام جملہ ابتلی کا بیان ہے یا جملہ مستانفہ ہے ومن ذریتی اس کا عطف کاف ہے ای و بعض ذریتی کما تقول و زیدا فی جواب ساکر مک ای واجعل فریقامن ذریتی اماما لاینال فعل عہدی فاعل الظلمین مفعول سب جملہ مقولہ ہوا قال کا جو جواب ہے سوال ابراہیم کا۔
تفسیر : مکہ بلکہ عرب کے لوگ اور یہود و نصاریٰ…
Read the full tafseer →وَاِذِا بْتَلٰٓی اِبْرَاھٖمَ رَبُّـہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّط قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاط قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ط قَالَ لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ (البقرۃ : 124)
(اور ( وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگار نے چند امور میں آزمایا اور انھوں نے وہ انجام دے دیئے ارشاد ہوا کہ میں یقینا تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں، بولے اور میری نسل سے بھی ؟ ارشاد ہوا کہ میرا وعدہ نافرمانوں کو نہیں پہنچتا)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو انسانی ہدایت کے لیے مقتدیٰ اور امام بنایا گیا۔ انہی سے تاریخ کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کا کردار اور ان کا اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں پورا اترنے کے بعد مقام و مرتبہ۔
اے بنی اسرائیل آج تم اپنے فرسودہ نظریات ‘ مذہبی تعصبات اور معمولی مفادات کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ تمہارے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کی شان تو یہ تھی کہ جب اس کے رب نے اسے امتحانات کے ذریعے آزمایا تو اس نے اولاد ‘ وطن ‘ عزت و اقبال گویا کہ ہر چیز اللہ کے راستے میں قربان کردی۔ اس طرح وہ آزمائشوں سے گزر کر اپنے رب کے ہاں سرخرو ہوئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بھاری آزمائشوں کے لیے چند کلمات کا لفظ استعمال فرما کر اس بات کی…
Read the full tafseer →124: وَاِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ : (جب آزمایا ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات کے ساتھ) واذ۔ اذکر محذوف ہے۔ ابتلاء کا معنی اوامرونواہی سے امتحان کرنا ہے اور بندوں کے اختبار کا مطلب اس چیز کا ظہور جس کو ہم نہیں جانتے۔ اللہ کی طرف سے اختبار کا مطلب جس کو اپنے علم سے جانتا ہے اس کا ظاہر فرمانا۔
نتیجہ ابتلائ :
شاہد و غائب میں کسی خفی امر کا ظاہر ہونا۔ اسی وجہ سے تو ابتلاء کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاسکتی ہے۔
دوسرا قول : یہ کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ کا امتحان کرنا یہ مجاز ہے۔ اس سے کہ بندے کو دو کاموں میں ایک کے کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔ جن کاموں کا اللہ تعالیٰ ارادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–124
(تفسیر) 122۔:
ابن عامر (رح) نے ابراہیم کے لفظکو بعض جگہوں پر ابراھام پڑھا ہے اور یہ تینتیس جگہیں اور کل مقامات ننانوے (99) ہیں جہاں ابراہیم کا لفظ آیا ہے ، ابراہیم عجمی نام ہے اس لیے یہ منصرف نہیں بلکہ غیر منصرف ہے اور یہ ابراہیم بن تارخ اور یہ تارخ آزر بن ناخور ہے، ان کی پیدائش اھواز کے علاقہ سوس میں ہوئی اور کہا گیا ہے کہ بابل میں ہوئی اور کہا گیا ہے کہ مقام کو ثی میں ہوئی اور کہا گیا ہے کسکر کے مقام پر ہوئی اور کہا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت حران میں ہوئی اور ان کے والد نمرود بن کنعان کی سرزمین بابل لے آئے اور ابتلاء کا معنی آزمانا اور امتحان میں ڈالنا ہے اور اس کا معنی امر…
Read the full tafseer →مشرکین مکہ اہل کتاب سب کا سلسلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ سب مانتے تھے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر ان میں سے کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حال اور ملت ابراہیمی کا حال بیان فرمایا کہ یہ سب لوگ قاتل ہوں۔ بنی اسرائیل کو یہ دعویٰ تھا کہ ہم اولاد ابراہیم میں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ نبوت ان کے ہی گھر میں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ وعدہ الٰہی کے موافق نبوت تو اب بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانہ میں ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق و اسماعیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ جن کی امامت و جلالت تمام گروہوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اہل کتاب کے تمام گروہ ان کی پیشوائی کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسی طرح مشرکین مکہ بھی ان کو پیشوا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند باتوں میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا امتحان لیا یعنی چند اوامرونواہی میں جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ جھوٹا شخص جو ابتلاء و امتحان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ایسے شخص سے علیحدہ ہوجائے جو سچا ہے تاکہ سچے شخص کے درجات بلند ہوں، اس کی قدر و قیامت زیادہ ہو، اس کے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–124
قو ل باری ہے : واذا ابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن (یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب پر پورا اتر گیا) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک میں آزمایا حسن بصری کے قول کے مطابق یہ آزمائش حضرت اسماعیلی (علیہ السلام) کی قربانی اور کواکب کے ذریعے کی گئی (کواکب کے ذریعے آزمائش کا ذکر قرآن میں موجود ہے) طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طہارت کے حکم کے ذریعے آزمایا۔ اس سلسلے میں سر کے ساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم اور…
Read the full tafseer →342 حضرت ابراہیم کے قصے سے عبرت پذیری کی تعلیم و تلقین : سو تم لوگ حضرت ابراہیم کے اس قصے کو یاد کرو کہ اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، کہ حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی ہستی وہ عظیم الشان اور جلیل القدر ہستی ہے جن کو سب ہی اپنا مقتدا و پیشوا مانتے ہیں۔ یہود بھی، اور نصاریٰ بھی۔ اور مشرکین مکہ کے تو فخر و اعتزاز کی اساس و بنیاد ہی یہ تھی کہ ہم نسل ابراہیمی سے تعلق رکھتے، اور ان کے بنائے گھر کے مجاور و متولی اور خادم و کارندے ہیں، جبکہ مسلمان ہیں ہی ملت ابرا ہیمی پر۔ تو ایسے میں حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی صدق و صفا سے بھرپور، اور ایثار و قربانی والی زندگی، کا آئینہ ان…
Read the full tafseer →یوم آخرت میں گرفت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قیادت و امامت
تشریح : اللہ تعالیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان بڑا پیارا مکالمہ بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف ہوجائے یہ بڑے جلیل القدر نبی تھے، نبی کریم ﷺ کے جد امجد تھے، آپ کا وطن بابل تھا، آپ کے والد کا نام آذر تھا، ان کی نسل میں دو سلسلے چلے۔ ایک حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور دوسرا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے چلا۔ پہلے سلسلے کے نبیوں کو اسرائیلی انبیاء کہا جاتا ہے مثلاً حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
آیات 122- 129
اسرارو معارف
ہر طرح کے عقلی ، نقلی اور اعجازی جواب ارشاد فرما کر جب سب طرف سے عاجز کردیا اور حضور ﷺ کی حقانیت واضح ہوگئی تو پھر خطاب براہ راست بنی اسرائیل کو ہوا کہ اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے احسانات و انعامات جو میں نے تم پر کئے یاد کرو ، یہ میرا ہی احسان تھا کہ تمہیں تمہارے دور کی پوری دنیا پہ فضیلت عطاء کی۔
بنی اسرائیل کے ساتھ بات اس قدر طویل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں بھی ایک عالم میں یہی لوگ سربراہ تھے بلکہ مذاہب عالم پر چھائے ہوئے تھے اور خود مشرکین عرب بھی اپنی مشکلات میں ان کی طرف رجوع کرتے۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے سوال کرنے کے لئے مدینہ آتے اور…
Read the full tafseer →ف 4 ان کلمات کی تعیین میں علما کے مختلف اقوال منقول ہیں مناسک حج سنن فطرت دعوت توحید ہجرت وغیرہ سب امور اس کے تحت ذکر کئے گئے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ جملہ آزمائشیں مرادہوں جن پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ثابت قدرم اور پکے نکلے سو اللہ تعالیٰ نے ان کو امامت اور پیشوائی کے شرف سو نوازا۔ ابن جریر) امام شوکانی لکھتے ہیں جب ان کلمات کا تعیین کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں تو بہتر یہ ہے کہ بعد کی آیات کو ان کا بیان قرار دیا جائے۔ (شوکانی)5 جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کا امام بنادیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے حق میں دعا فرمائی چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی…
Read the full tafseer →(2:124) اذ۔ ظرف زمان ہے اس سے قبل فعل اذکروا یا اذکر محذوف ہے۔ تم یاد کرو جب ۔ یا تو یاد کر جب۔
ابتلی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے آزمایا۔ اس نے امتحان لیا۔ ابتلاء (افتعال) مصدر سے ابتداء کے دو مقصد ہوتے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ امتحان لینے والا اس شخص کی لیاقت اور صلاحیت سے پوری طرح باخبر ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ اس کی لیاقت و صلاحیت کا تو ممتحن کو پوری طرح علم ہو مگر اوروں کی نظر میں اس کی حالت کا پیش کرنا منظور ہو کہ وہ کس قابلیت و صلاحیت کا مالک ہے۔ قرآن مجید میں ابتلاء کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو دوسرے معنی مراد ہوتے ہیں۔
ابتلاء کے اصل معنی کسی امر شاق کی تکلیف ودینے کے ہیں۔ یہ بلاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–129
لغات القرآن : آیت نمبر 124 تا 129
ابتلی (آزمایا) ۔ کلمت (چند باتیں) ۔ اتمھن (اس نے پورا کر دکھایا) ۔ امام (رہنما، پیشوا، سردار) ۔ ذریتی (میری اولاد) ۔ لا ینال (نہیں ملے گا) ۔ امن (امن و سکون کی جگہ) ۔ مصلی (نماز کی جگہ) ۔ طھرا (تم دونوں پاک رکھو گے) ۔ الطائفین (طواف کرنے والے) ۔ العاکفین (اعتکاف کرنے والے) ھذا بلدا (اس شہر کو ، اس بستی کو) ۔ امتع (میں سامان دوں گا، فائدہ دوں گا) ۔ اضطر (میں کھینچوں گا) ۔ المصیر (ٹھکانا) ۔ یرفع (بلند کرتا ہے) ۔ القواعد (دیواریں) مسلمین (فرماں بردار) ارنا ( ہمیں دکھا دے، ہمیں سکھا دے) ۔ مناسک (حج کے احکام، عبادت) ۔ ابعث (بھیج دے) ۔ یتلوا (تلاوت کرتا ہے، پڑھتا…
Read the full tafseer →شان نزول : مشرکین مکہ ، اہل کتاب سب کا سلسلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اس لئے انہیں سب مانتے تھے لیکن ان کے طریقہ پر کوئی نہ تھا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق واسمٰعیل (علیہ السلام) نے اپنے دونوں بیٹوں کے حق میں نبوت کی دعا کی تھی وہ قبول ہوئی ۔ ایک مدت تک اولاد اسحاق میں اس دعا کے اثر سے نبوت رہی ، اب بنی اسماعیل میں آئی۔ یہ کیا بےانسافی نہ ہوتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی اولاد ہمیشہ کے لئے اس دعائے ابراہیمی کا اثر باقی رہے اور ایک محروم رہے ۔ مشرکین مکہ تو یہ دعوٰ ی تاھ کہ ہم اولاد ابراہیم ہونے کے علاوہ اس گھر کے خدمت گار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں…
Read the full tafseer →[82] قرآن میں مختلف مقامات پر ان تمام سخت آزمائشوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے جن سے گزر کر ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کیا تھا کہ انہیں بنی نوع انسان کا امام و راہنما بنایا جائے۔
اولوالعزم پیغمبر۔ جدِّ امجد نوح (علیہ السلام) ۔ جن سے نویں پشت میں سلسلہ نسب جا ملتا ہے۔ تورات کی رو سے آپ 2200 ق۔ م عراق کے قصبہ ار میں پیدا ہوئے۔ قرآن مجید میں آپ (علیہ السلام) کا ذکر چالیس 40 سے زیادہ مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ اور پیارے نبی کو '' امام الناس '' (البقرہ : 144) '' حنیف اور مسلم '' (آل عمران : 76 صفحہ 031) '' خلیل '' (النساء : 125 صفحہ 802) '' امت '' (النحل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–124
منصب امام و نبوت :
(ف 1) ان آیات میں تین باتیں بتائی ہیں ۔ حضرت ابراہیم کا ابتلا ، امامت کی خوشخبری ، حضرت ابراہیم کا مطالبہ اور اس کا جواب ابتلا کے متعلق حضرت ابن عباس کا خیال ہے کہ وہ دس خصائل ہیں جنہیں فطرت انسانی کی اصلاح سے گہرا تعلق ہے اور حضڑت ابراہیم ان میں کامیاب نکلے ۔ یعنی ان پر پوری طرح عمل کیا ، دس باتیں یہ ہیں ۔ (1) کلی کرنا (2) ناک میں پانی دینا (3) کنگھار کرنا (4) مونچھیں تراشوانا (5) مسواک کا استعمال کرنا (6) ختنہ کرانا (7) بغل کو صاف رکھنا (8) بال زیر ناف صاف کرنا (9) ناخن کٹوانا (10) اور پانی سے طہارت کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ حضرت ابراہیم فطرت کے قوانین کو سمجھتے…
Read the full tafseer →ف 1 اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور ان کا امتحان لیا سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان تمام باتوں کو پورا کردیا اور وہ پوری طرح ان امور کو بجا لائے اس امتحان کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تم کو لوگوں کا امام اور مقتدا بنائوں گا یہ سن کر حضرت ابراہیم نے عرض کی اور میری اولاد میں سے بھی بعض بعض کو پیشوا اور مقتدا بنائیے گا ارشاد ہوا میرا یہ عہد اور خدمت انسانی کا یہ عہدہ اور منصب ظالموں کو نصیب نہیں ہوگا۔ (تیسیر)
ابتلاء کے معنی امتحان کے ہیں قرآن میں ابتلا اور بلا عام طور سے اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور کہیں کہیں علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–124
ف 3۔ یہاں تک یہود کی چالیں اور قباحتیں جن میں سے بعض میں نصاری بھی شریک ہیں بیان فرمائی گئیں ہیں آگے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے امید ایمان نہ رکھنی چاہیے اور اس میں رسول اللہ کا ازالہ غم وفکر ہے کہ آپ ان کے عام طور پر ایمان لانے سے مایوس ہوجائیے اور پریشانی اور کلفت دل سے دور کردیجیے اور علاوہ ان کے ان کی ایک اور قباحت کا بیان ہے کہ رسول اللہ کا اتباع کرنے کی ان کو کیا توفیق ہوتی وہ یہاں تک بلند پروازی کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو اپنی راہ پر چلانے کی فکر محال میں ہیں۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش کا ذکر :
229: اس آیت میں اللہ نے اپنے پیغمبر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے مختلف امتحانات اور ان میں ان کی کامیابی پھر اس کے انعام و صلہ کا ذکر فرمایا ہے۔ پھر جب انعام کی خوشخبری سن کر حضرت خلیل اللہ نے ازراہ پیار و محبت اپنی اولاد کے لئے اس انعام کی درخواست کی تو انعام پانے کا ایک خاص ضابطہ ارشاد فرمایا جس میں سیدنا خلیل اللہ کی درخواست کی منظوری مشروط طور میں دی گئی کہ یہ انعام خاص آپ کی ذریت کو بھی ملے گا لیکن جو لوگ آپ کی ذریت میں سے نافرمان اور ظالم ہوں گے وہ یہ انعام نہ پاسکیں گے ۔
اس جگہ چند باتیں غور طلب ہیں :
! امتحان کسی شخص کی قابلیت معلوم کرنے کے…
Read the full tafseer →(34.) So far a whole section of this Surah has been dealing directly with the conduct of the Jews in the course of their history, and their present hostility to Islam, delineating the inner motives and mainsprings of this rabid opposition. As we have seen, they were proud of being the children of Jacob and of Abraham (Sayyidna Ya` qub and Sayyidna Ibrahim علیہما السلام), and believed that, being the chosen people of God, they had the exclusive privilege of being the leaders of humanity, and hence the station of prophethood could not be conferred on anyone who did not belong to their race.…
Read the full tafseer →124. At various places the Qur'an enumerates the severe tests through which Abraham passed. It was only after these had been completed successfully that he was able to establish his worthiness to serve as the religious guide and leader of all mankind. From the moment when the truth was revealed to him till the moment he died, his life was a continuous tale of sacrifice and suffering for his cause. There is no conceivable object of man's love and attachment in the world which Abraham did not sacrifice for the sake of the truth. Likewise, there is no conceivable danger which instinctively…
Read the full tafseer →