Al-Baqara 2:119

Al-Baqara · from ayah 119

2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ۙ— وَّلَا تُسْـَٔلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ۟اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَـقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ۙ‌ وَّلَا تُسۡئَـلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِيۡمِ

(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We have sent you, [O Muhammad], with the truth as a bringer of good tidings and a warner, and you will not be asked about the companions of Hellfire.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 14 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:119

(اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہوگی کہ) ہم نے تم کو علم حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا ور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں، ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور جہنمیوں کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) بیشک ہم نے تمہیں کو حق دے کر اس طرح بھیجا ہے کہ تم (جنت کی) خوشخبری دو اور (جہنم سے) ڈراؤ) اور جو لوگ (اپنی مرضی سے) جہنم (کا راستہ) اختیار کرچکے ہیں ان کے بارے میں آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے محبوبِ مکرّم!) بیشک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہلِ دوزخ کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں کی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور تجھ سے جہنم والوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے آپ ﷺ کو یقینا حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ سے متعلق آپ سے باز پرس نہ ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے اور تم سے دوزخ میں جانے والوں کے بارے میں کوئی پرسش نہیں ہوگی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک ہم نے بھیجا آپ کو (پیغمبر !) حق کے ساتھ، خوشخبری سنانے والا، اور خبردار کرنے والا بنا کر، اور آپ سے پوچھ نہیں ہوگی دوزخیوں کے بارے میں،

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور آپ سے اہل دوزخ کی بابت کچھ بھی پوچھ نہ ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر اور آپ ﷺ سے سوال نہیں کیا جائے گا جہنمیوں کے بارے میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے آپ ﷺ کو علم حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں ان کی طرف سے تم ذمہ دار اور جواب دہ نہیں ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(what greater Sign could there be than that) We have sent you with the knowledge of the Truth and made you a bearer of good tidings and a Warner? Now, you are not responsible and answerable for those who are bent upon going to Hell.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, We have sent you with the truth, as a bearer of good tidings, and a warner, and you will not be asked about the people of Hell.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, We have sent you with the truth, as a bearer of good tidings, and a warner, and you will not be asked about the people of Hell.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We have sent you (O Muhammad) with the truth (Islam), a bringer of glad tidings (for those who believe in what you brought, that they will enter Paradise) and a warner (for those who disbelieve in what you brought, that they will enter the Hellfire). And you will not be asked about the dwellers of the blazing Fire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We have sent thee (O Muhammad) with the truth, a bringer of glad tidings and a warner. And thou wilt not be asked about the owners of hell-fire.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We have sent you, [O Muhammad], with the truth as a bringer of good tidings and a warner, and you will not be asked about the companions of Hellfire.

— Saheeh International

We have sent you (Muhammad) for a genuine purpose to proclaim glad news and warnings. You will not be blamed for the dwellers of blazing hell.

— Muhammad Sarwar

Surely We have sent you with the truth as a bearer of good news and as a warner, and you shall not be called upon to answer for the companions of the flaming fire.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We have sent thee with the truth, as a bearer of glad tidings and a warner, and thou shalt not be questioned of the fellows of the Flame.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily We have sent thee in truth as a bearer of glad tidings and a warner: But of thee no question shall be asked of the Companions of the Blazing Fire.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:119

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

آپ ﷺ نصیحت کی حد تک مسؤل ہیں حدیث میں ہے خوشخبری جنت کی اور ڈراوا جہنم سے لا تسئل کی دسری قرأت ما تسئل بھی ہے اور ابن مسعود کی قرأت میں لن تسئل بھی ہے یعنی تجھ سے کفار کی بابت سوال نہیں کیا جائے گا جیسے فرمایا آیت (فانما علیک البلغ وعلینا الحلساب یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمہ ہے اور فرمایا آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ 22؀ۙ) 88۔ الغاشیہ :21) تو نصیحت کرتا رہ تو صرف نصیحت کرنے والا ہے ان پر داروغہ نہیں اور جگہ فرمایا آیت (نحن اعلم بما یقولون) الخ ہم ان کی باتیں بخوبی جانتے ہیں تم ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو تو قرآن کی نصیحتیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 120 یعنی دوسری نشانیوں کا کیا ذکر، نمایاں ترین نشانی محمد ﷺ کی اپنی شخصیّت ہے۔ آپ ﷺ کے نبوت سے پہلے کے حالات، اور اس قوم اور ملک کے حالات جس میں آپ ﷺ پیدا ہوئے، اور وہ حالات جن میں آپ نے پرورش پائی اور 40 برس زندگی بسر کی، اور پھر وہ عظیم الشان کارنامہ جو نبی ﷺ ہونے کے بعد آپ نے انجام دیا، یہ سب کچھ ایک ایسی روشن نشانی ہے جس کے بعد کسی اور نشانی کی حاجت نہیں رہتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (چونکہ رسول اللہ ﷺ کی شان رحمۃ للعالمینی کا تقاضا یہ ہوسکتا تھا کہ آپ کو اس جہالت اور عناد کی بدولت دل تنگی پیش آتی اور ان کے ایمان نہ لانے کی کوئی صورت سمجھ میں نہ آنے کے سبب آپ ملول وآزردہ خاطر ہوجاتے اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ اے رسول) ہم نے آپ کو ایک سچا دین دے کر (خلق کی طرف) بھیجا ہے کہ (ماننے والوں کو) خوش خبری سناتے رہئے اور (نہ ماننے والوں کو سزا سے) ڈراتے رہئے اور آپ سے دوزخ میں جانے والوں کی باز پرس نہ ہوگی (کہ ان لوگوں نے کیوں نہیں قبول کیا اور کیوں دوزخ میں گئے آپ اپنا کام کرتے رہئے آپ کو کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی کوئی فکر نہیں کرنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 118–119

اسماعیل مراد ہیں۔ اوپر اہل کتاب کے اعتراضات اور ان کی وسوسہ اندازیوں کا ذکر فرمایا تھا۔ اب اسی متحدہ محاذ ’ مخالفت ‘ کے تیسرے رکن یعنی مشرکین کے بعض مطالبات کا ذکر کرکے ان کا جواب دیا ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ محمد ﷺ یہ دعوی کرتے ہیں کہ خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو خدا نے انہی کو ہمارے اندر سے ہم کلامی کے لیے کیوں منتخب کیا، آخر ہم جو قریش کے سردار اور لیڈر ہیں اور اثر و اقتدار میں محمد ﷺ سے کہیں اونچے ہیں، خدا ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا ؟ اس مطالبہ کا جواب قرآن نے بعض جگہ دیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا ہے کہ ”کسی انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے براہ راست کلام کرے، وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 118–119

118۔ 1 اس سے مراد مشرکین عرب ہیں جنہوں نے یہودیوں کی طرح مطالبہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست گفتگو کیوں نہیں کرتا، یا کوئی بڑی نشانی نہیں دکھا دیتا ؟ جسے دیکھ کر ہم مسلمان ہوجائیں جس طرح کہ (وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا 90 ۝ ۙ اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا 91 ۝ ۙ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا 92 ۝ ۙ اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 117–119

76: عیسائی تو حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے ہی ہیں، بعض یہودی حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے، اور مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، یہ آیت ان سب کی تردید کررہی ہے، مطلب یہ ہے کہ اولاد کی ضرورت اسے ہوسکتی ہے جو دوسروں کی مدد کا محتاج ہو، اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا مالک ہے اور اسے کسی کام میں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، پھر وہ اولاد کا محتاج کیوں ہو ؟ اسی دلیل کو اگر منطقی پیرائے میں بیان کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگی کہ اولاد اپنے باپ کا جزء ہوتی ہے اور ہر کل اپنے جزء کا محتاج ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ چونکہ ہر احتیاج سے پاک ہے اس لئے اس کی ذات بسیط ہے جسے کسی جزء کی حاجت نہیں،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ ” ہم نے تم کو علم حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ “ ان کلمات میں اس قدر زور ہے کہ وہ گمراہی پھیلانے والوں کے گمراہ کن شبہات کو ختم کردیتے ہیں ۔ سازشیوں کی سازشوں کی جڑ کاٹ دیتے ہیں اور منافقین کی تلبیس اور تلقین کو ختم کردیتے ہیں ، نیز ان کلمات کا صوتی زیروبم بھی حزم ویقین کا مظہر ہے۔ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ” خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ “ یعنی پیغام حق پہنچانا اور تبلیغ کرنا آپ کا بنیادی فریضہ ہے ، آپ اطاعت کرنے والوں کو خوشخبری دیں گے اور نافرمانوں کو ڈرائیں گے ۔ اس پر آپ کا فریضہ ادا ہوجائے گا ۔ وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ (119) ” جو جہنم سے رشتہ جوڑ چکے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 119 اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا لا آپ ﷺ ‘ کی بنیادی حیثیت یہ ہے کہ آپ ﷺ اہل حق کو جنت اور اس کی تمام تر نعمتوں کی بشارت دیں ‘ اور جو غلط راستے پر چل پڑیں ‘ کفر کریں ‘ منافقت میں مبتلا ہوں ‘ ملحد ہوں اور بدعملی کریں ان کو آپ ﷺ ‘ خبردار کردیں کہ ان کے لیے جہنم تیار کردی گئی ہے۔ آپ ﷺ کا کام دعوت ‘ ابلاغ ‘ تبلیغ اور نصیحت ہے۔ وَّلاَ تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ۔ جو لوگ اپنے طرز عمل کی بنا پر جہنم کے مستحق قرار پا گئے ہیں ان کے بارے میں آپ ﷺ ذمہّ دار نہیں ہیں۔ آپ ﷺ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ کیوں جہنم میں پہنچ گئے ؟ آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے یہ جہنمی کیوں ہوگئے ؟…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

142 مثلاً تمہارے پاس جو رسول آیا ہے۔ تم خود جانتے ہو اس نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا تو کیا جو شخص کسی انسان سے جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ اللہ پر جھوٹ تراش سکتا ہے ؟ نیز تم یہ جانتے ہو کہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہی نہیں۔ اس کا کوئی استاد بھی نہیں پھر وہ ایسا کلام پیش کرتا ہے جس کے مقابلہ میں کلام لانے سے تم سب کے سب عاجز ہو تو کیا صرف یہی بات اللہ کے وجود، نبی کی نبوت اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا واضح ثبوت نہیں ؟ مگر جو شخص ماننے کا ارادہ ہی نہ رکھتا ہو کوئی بھی نشانی اسے ایمان لانے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ 143 یعنی آپ ﷺ کا کام صرف اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دینا ہے۔ اب اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

430 ۔ (سارے عالم کے لیے اے ہمارے پیغمبر) (آیت) ” بالحق “ حق کے ساتھ، دین حق کے ساتھ یا راہ حق کا ہادی بنا کر یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ حقانیت وصداقت کے ساتھ مع اس کی ساری قوتوں اور دلائل کے۔ (آیت) ” بشیر “ مومنین مطیعین کے حق میں کہ جو آپ کے پیغام کو مان لیں گے ان سے دنیا وآخرت دونوں کی فلاح کا وعدہ ہے (آیت) ” نذیر “ منکروں اور سرکشوں کے حق میں کہ جو آپ ﷺ کے پیام سے بغاوت کریں گے ان کی آخرت تو یقیناً اور دنیا اکثر تباہ ہو کر رہے گی۔ اقبال، لطف وقہر اوسراپا رحمتے آں بہ یاراں ایں بہ اعدارحمتے۔ 431 ۔ ( اور اہل دوزخ وہی ہوں گے جو آپ کے منکر ہیں) تو مطلب یہ ہوا کہ منکرین کے انجام کی ذمہ داری آپ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 118–119

وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُکَلِّمُنَا اللہُ (الآیۃ) الذین لا یعلمون سے مراد مشرکین عرب ہیں جنہوں نے یہودیوں کی طرح مطالبہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست گفتگو کیوں نہیں کرتا ؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ خدایا تو خود ہمارے سامنے آخر کہے کہ یہ میری کتاب ہے تم لوگ اس کی پیروی کرو یا پھر ہمیں کوئی ایسی نشانی دکھائی جائے جس سے ہمیں یقین آجائے کہ محمد ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ یعنی آج کے گمراہوں نے کوئی اعتراض اور کوئی مطالبہ ایسا پیش نہیں کیا جو ان سے پہلے گمراہ پیش نہ کرچکے ہوں، قدیم زمانہ سے آج تک گمراہی کا ایک ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بالْحَقِّ ( ہم نے تجھ کو بھیجا ہے حق ( کلام) دے کر) ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ بالحق میں حق سے مراد قرآن ہے جیسا کہ آیت کریمہ : بل کذبوا بالحق لما جآء ھُم ( بلکہ جھٹلایا انہوں نے حق کو جب) ان کے پاس آیا) میں بھی الحق سے مراد قرآن پاک ہے۔ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ( خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا) یعنی اہل طاعت کے لیے خوشخبری دینے والے اور اہل معصیت کے واسطے ڈرانے والے۔ وَّلَا تُسْـــَٔـلُ ( اور تجھ سے پوچھ نہ ہوگی) نافع اور یعقوب نے ولا تسأل کو صیغہ نہی معروف سے اور باقی قراء نے رفع سے مضارع منفی مجہول سے پڑھا ہے۔ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ ( دوزخ والوں کی) جحیم سخت آگ کو کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(119) اے محمد ﷺ ہم نے آپ ﷺ کو اللہ کی توحید اور قرآن حکیم کے ساتھ بھیجا ہے، آپ ﷺ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے لیے جنت کی خوشخبری دینے والے اور جو کفر کرے اس کو دوزخ سے ڈرانے والے ہیں اور آپ سے اہل جہنم کے بارے میں سوال نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی آپ کا کام حق پہنچاتے ہوئے خوش خبری دینا اور ڈرانا ہے، آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ مسلمان کیوں نہیں ہوئے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 119 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا ارسلنک بالحق بشیرًا، بشیراً حال کی بنا پر منصوب ہے اور نذیراً اس پر معطوف ہے۔ ان کا معنی گزر چکا ہے۔ ولا تسئل عن اصحب الجحیم مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ یہود پر عذاب نازل کرتا تو یہ ایمان لے آتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : ولا تسئل عن اصحب الجحیم۔ تسأل کے رفع کے ساتھ یہ جمہور کی قراءت ہے بشیراً ، نذیراً پر عطف کی بنا پر محل نصب میں ہوگا۔ معنی یہ ہے کہ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا درآں حالیکہ آپ بشارت دینے والے، ڈرانے والے اور غیر مسؤل ہیں۔ سعید اخفش نے کہا : لا تسأل (تاء کے فتحہ اور لام کے ضمہ کے ساتھ) اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) وکیع، سفیان بن عینیہ، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کاش کہ مجھے علم ہوتا کہ میرے والدین کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا۔ تو اس پر یہ آیت پاک نے آپ کو دنیا سے اٹھا لیا (میں نے کہا یہ حدیث مرسل ہے اور ضعیف الاسناد ہے) ۔ (2) ابن جریر نے داؤد بن ابی عاصم ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میرے ماں باپ کہاں ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی (میں نے کہا یہ دوسری حدیث معضل الاسناد اور ضعیف الاسناد اور ضعیف ہے ان سے کوئی حجت قائم نہیں ہوسکتی اور نہ وہ حدیث حجت ہے جو اس سے پہلے ہے۔ (3) ابن المنذر نے اعرج نے (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(اِنَّا : بیشک ہم نے ) (اَرْسَلْنٰکَ : بھیجا آپ ﷺ کو ) (بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ) (بَشِیْرًا : خوشخبری دینے والا ہوتے ہوئے) ( وَّنَذِیْرًا : اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے) ( وَلَا تُسْئَلُ : اور آپ سے نہیں پوچھا جائے گا) ( عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِِ : دوزخ والوں کے بارے میں) ترکیب : ” اِنَّا “ دراصل ” اِنَّ نَا “ ہے۔ ضمیر منصوبہ ’ نَا ‘ ’ اِنَّ ‘ کا اسم ہے۔ ” اَرْسَلْنٰکَ “ سے ” نَذِیْرًا “ تک جملہ فعلیہ ” اِنَّ “ کی خبر ہے۔ ” اَرْسَلْنَا “ فعل ہے ‘ اس میں شامل ” نَا “ ضمیر متصل مرفوع کی ضمیر اس کا فاعل ہے اور ضمیر مفعولی ” کَ “ مفعول ہے۔ ” بالحق “ جار ومجرور یا تو ضمیر مفعولی ” کَ “ سے حال…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بشیر و نذیر بنا کر بھیجے گئے اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے یہ فرمایا ہے کہ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اور آپ کا عہدہ یہ ہے کہ آپ جنت کی بشارت دیں اور دوزخ سے ڈرائیں بشارت میں وہ اعمال بتانا داخل ہے جود خول جنت کا سبب ہیں جن میں سب سے بڑی چیز ایمان ہے اور ڈرانے کے مفہوم میں ان اعمال سے باخبر کرنا شامل ہے جو دوزخ میں لے جانے والے ہیں جن میں سب سے بڑی چیز کفرو شرک ہے، اور یہ جو فرمایا کہ (وَّ لَا تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ) (کہ آپ سے دوزخ والوں کے بارے میں سوال نہ ہوگا) اس میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ مسلمان نہ ہوں آپ ان کے بارے میں پریشان نہ ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 119–121

خاتمۂ کلام واتمام حجت والزام تسلیۂ سید انام علیہ افضل الصلوۃ والسلام انا ارسلنک بالحق بشیرا ونذیر ا۔۔ الی۔۔ فاولئک ھم الخاسرون۔ (ربط) یہاں تک بنی اسرائیل کی قباحتوں اور شناعتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا شنائع بنی اسرائیل کی تفصیل کی ابتداء کفران نعمت اور دناءت اور خست سے فرمائی۔ کما قال تعالی۔ واذ قلتم یموسی لن نصبری علی طعام واحد۔ اور وہ وقت یاد کرو جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہ کریں گے۔ اور پھر درمیان میں ان کی قساوت قلب کو ذکر فرمایا ثم قست قلوبکم من بعد ذلک فھی کالحجارۃ او اشد قسوۃ۔ پھر سخت ہوگئے تمہارے دل اس کے بعد پس وہ پتھر کی مانند ہیں یا اس سے بھی زیادہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

226 حق سے مراد قرآن اور دین اسلام ہے اور ظرف ارسلنا کے متعلق ہے (کبیر ص 701 ج 1) بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًایہ ضمیر خطاب سے حال ہے۔ وَّلَا تُسْـــَٔـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْم۔ جو لوگ کفر و انکار کر کے جہنم میں چلے گئے ان کے متعلق آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ کی تبلیغ کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوا، وہ ایمان کیوں نہیں لائے اور جہنم میں کیوں چلے گئے۔ جب اہل کتاب اور مشرکین کا کفر و انکار، ضد اور عناد کی حد تک پہنچ گیا۔ تو اس پر آنحضرت ﷺ کو محض شفقت علی الخلق کی بنا پر رنج اور افسوس ہوا۔ کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ اس فکر میں کیوں پڑتے ہیں۔ ہم نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 116–119

(اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے) اہل کتاب کے غلط عقائد کی بحث مسلسل چلی آرہی ہے ان آیات میں ان کی ایک اور بدعقیدگی کا بیان ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے (آیت) ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ اس غلط عقیدے میں یہ تینوں گروہ شامل ہیں یعنی یہود ، نصاری اور مشرکین ” قالوا “ کی ضمیر ان تینوں کی طرف لوٹتی ہے ، سورة توبہ میں موجود ہے کہ یہودیوں کے ایک فرقہ نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنایا ہے ، (آیت) ” وقالت الیھود عزیر ابن اللہ “۔ اگرچہ تمام یہود کا یہ عقیدہ نہیں ہے ، تاہم ایک گروہ ایسا ہے جو اہل کتاب میں شامل ہے مگر عقیدہ یہ رکھتا ہے اسی طرح نصاری کا عقیدہ تو واضح ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا۝ 0 ۙ وَّلَا تُسْـــَٔـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ۝ 119 رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] وقال : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 118–119

ترکیب : قال فعل الذین موصول لا یعلمون صلہ مجموعہ فاعل لولا کلمہ تخضیض یکلمنا اللہ جملہ معطوف علیہ او تاتینا آیہ معطوف مجموعہ مقولہ ہوا قال فعل الذین من قبلہم صلہ و موصول فاعل کذلک مفعول مقدم مثل مضاف قولہم مضاف الیہ مجموعہ بدل یا بیان ہے کذلک سے تشابہت فعل قلوبہم فاعل جملہ محل حال میں ہے بحذف قدر الذین سے بالحق جار مجرور موضع حال میں ہے تقدیرہ ارسلناک و معک الحق بشیرًا و نذیرًا دونوں حال ہیں کاف ارسلناک سے۔ تفسیر : عیسائیوں کا جاہلانہ اعتقاد بیان کرکے عرب کے جاہلوں کے اقوال نقل کرتا ہے جو ان کی تعلیم سے رسول کریم ﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں کیا کرتے تھے تاکہ معلوم ہو کہ پیر اور مرید دونوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّا اَرْسَلْنٰـکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلاَ تُسْئَلُ عَنْ اَصْحَابِ الْجَحِیْمِ ۔ (ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر اور آپ سے اہل دوزخ کی بابت سوال نہیں کیا جائے گا) (البقرۃ : 119) مخالفین سے کہا جارہا ہے کہ دنیا کو جس حق کی ضرورت ہے اور جو سچائی انسان کے اندر کی آواز ہے۔ جس پر قائم رہ کر انسان کو دنیوی اور اخروی کامیابی نصیب ہوسکتی ہے اور جس کی روشنی سے جہالت اور کفر کی تاریکیاں دور ہوسکتی ہیں۔ اور جس پر عمل کے نتیجے میں انسان کو آسودگی نصیب ہوسکتی ہے۔ وہ حق دے کر اللہ تعالیٰ نے اے پیغمبر آپ کو بھیج دیا ہے۔ آپ اللہ کے آخری نبی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 118–119

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح لوگوں کا اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرانا غلط ہے۔ اسی طرح ان کا براہ راست اللہ تعالیٰ کو دیکھنے یا اس سے براہ راست بات کرنے کا مطالبہ بھی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زیارت دنیا کی آنکھوں سے کرنا نا ممکنات میں سے ہے۔ اہل کفر کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ جب بھی وہ انبیاء کے مقابلے میں لا جواب ہوئے تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جس خدا نے آپ کو نبی بنایا ہے وہ براہ راست ہمیں اپنے آپ پر ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا ؟ یا پھر ہمارے پاس ایسے دلائل و معجزات کیوں نہیں آتے ؟ جن کو دیکھتے ہی ہم آپ کی رسالت اور خدا کی خدائی پر ایمان لانے کے لیے مجبور ہوجائیں۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 119: اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًاوَّنَذِیْرًا : (بےشک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا) یعنی مؤمنوں کو ثواب کی خوش خبری اور کفار کو عقاب سے ڈرانے والے۔ وَّلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ : (تجھ سے پوچھ نہ ہوگی دوزخ والوں کے متعلق) ہم ان کے متعلق آپ سے پوچھ گچھ نہ کریں گے کہ وہ آپ کے پیغام پہنچانے اور دعوت میں پوری کوشش صرف کرنے کے باوجود کیوں ایمان نہیں لائے۔ نحو : بِالْحَقِّ یہ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا کی طرح حال ہے۔ یعنی غیر مؤول ہے یہ جملہ مستانفہ ہے قراءت : نافع (رح) نے لَاتَسْئَلْ نہی کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دو تفسیریں : مطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

119۔ (آیت)” انا ارسلناک بالحق “ یہاں بالحق بمعنی بالصدق ہے (یعنی حق سچ کے ساتھ ہم نے آپ کو بھیجا ہے) ” ویستنبئونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق “ یعنی ۔ وہ سچ ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں بالحق کے معنی ہیں کہ قرآن کے ساتھ اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت)” بل کذبوا بالحق لما جاء ھم “ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں بالحق کا معنی اسلام اور اس کے احکام ہیں اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت)” وقل جاء الحق “ حضرت مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ ہم نے آپ کو بےفائدہ و فضول نہیں بھیجا ، ہم نے صرف آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وما…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

آنحضرت ﷺ کو کبھی کبھی اس بات کا رنج ہوتا تھا کہ باوجود کم فہمایش اور کافی دلیلوں کے اہل عرب اور اہل کتاب میں کے بہکے ہوئے لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا یہ رنج رفع کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ باوجود فہمائش کے جو لوگ راہ راست پر نہیں آتے ان کے باب میں قیامت کے دن تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ راہ راست پر کیوں نہیں آئے۔ راہ راست پر لانا خدا کا کام ہے تمہارا کام صرف اتنا ہی ہے کہ راہ راست والوں کو نجات اخروی کی خوش خبری کی اور گمراہی کو خرابی عقبیٰ کی آیتیں سنانے کی کوشش کرتے رہو۔ اسکے بعد علم الٰہی میں جن لوگوں کا راہ راست پر نہ آنا اور ان سے دوزخ بھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 118–119

یعنی اہل کتاب وغیرہ میں سے جہلاء نے کہا : ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کلام کیوں نہیں کرتا جس طرح وہ اپنے رسولوں سے کلام کرتا ہے۔ (آیت) اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰيَةٌ ۭ” یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی “ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو وہ اپنی فاسد عقلوں اور باطل آراء کے ذریعے سے طلب کرتے تھے۔ ان فاسد آراء کے بل بوتے پر انہوں نے خالق کے مقابلے میں جسارت کی اور اس کے رسولوں کے سامنے تکبر سے کام لیا۔ جیسے انہوں نے کہا : (آیت) لن نومن لک حتی نر اللہ جھرۃ (البقرہ 55) ” ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو ان ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ “ (آیت) یسئلک اھل الکتاب۔۔ تا۔۔ من ذالک۔ (النساء…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 117–124

قو ل باری ہے : واذا ابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن (یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب پر پورا اتر گیا) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک میں آزمایا حسن بصری کے قول کے مطابق یہ آزمائش حضرت اسماعیلی (علیہ السلام) کی قربانی اور کواکب کے ذریعے کی گئی (کواکب کے ذریعے آزمائش کا ذکر قرآن میں موجود ہے) طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طہارت کے حکم کے ذریعے آزمایا۔ اس سلسلے میں سر کے ساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 118–119

326 علم حق کے نور سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ : اور اس طرح ایسے لوگ حق اور حقیقت کے ادراک سے بیخبر ہوتے ہیں کہ اس طرح کے احمقانہ اور گستاخانہ سوالات کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے، جو علم کے نور سے محروم ہوتے ہیں۔ ورنہ جو لوگ حق اور حقیقت کا علم رکھتے ہیں ان کی شان ہی الگ ہوتی ہے۔ وہ ایسے سوالات کبھی نہیں کرتے۔ سو علم اصل میں وہی ہے جو انسان کو حق اور حقیقت سے آگاہ و روشناس کرے ورنہ انسان جاہل ہی ہے خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ اٹھائے ہوئے ہو، بلکہ وہ جہل بسیط سے بڑھ کر جہل مرکب کا شکار ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس حق اور حقیقت کا علم ہی وہ اصل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 118–121

واضح دلائل اور نبی ﷺ کی ذمہ داریاں تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ اللہ خود ہمارے سامنے آکر ہم سے بات کیوں نہیں کرتا اور ہمیں کوئی نشانی کیوں نہیں دکھاتا کہ ہم آپ ﷺ کو آخری نبی مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ اس سے پہلے یعنی یہود و نصاریٰ نے بھی ایسی ہی باتیں کیں تھیں۔ بدنیت اور خراب لوگ ہر زمانے اور ہر قوم کے ایک ہی جیسی باتیں کرتے ہیں۔ بےکار حجت بازی کرتے ہیں اور ان کے دل عقلیں پاک بازی اور حق شناسی سے بالکل خالی ہیں۔ یہ آپ سے معجزہ کی فرمائشیں کرتے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ کی شخصیت بذات خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے آپ ﷺ کی امانت، دیانت، پاکبازی اور امی (ان پڑھ) ہونے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 113–121

آیات 113- 121 اسرارو معارف اب ان کا حال دیکھئے کہ یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کا مذہب کوئی بنیاد ہی نہیں رکھتا انجیل کے کتاب اللہ ہونے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا دیکھا دیکھی نصاریٰ نے دین موسوی اور تورات کا انکار کردیا اور لگے کہنے یہ بےبنیاد نظریات ہیں حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں اور آسمانی کتب بنیادی عقائد کی یکساں تبلیغ کرتی ہیں اور توحید و رسالت ، آخرت حشر ونشر کے حقائق ایک سے بیان کرتی اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں تو اس طرح ان دونوں گروہوں نے گویا خود اپنی کتاب کا بھی انکار کردیا۔ اور انہی کی طرح جہلاء اور مشرکین کو بھی کتب الٰہیہ کے انکار کا موقع مل گیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

بشیراو نزیرا (بشارت دینے والا۔ اور ڈرانے والا) دونوں حال ہیں ارسلنک کے کاف سے۔ اصحب الجحیم مضاف مضاف الیہ۔ دوزخی۔ جحیم دہکتی ہوئی آگ۔ جحم آگ کے سخت بھڑکنے کو کہتے ہیں (باب سمع) سے آتا ہے۔ جحیم بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ سخت بھڑکنے والی آگ، دوزخ ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 118–121

لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121 لو لا یکلمنا (ہم سے بات کیوں نہیں کرتا) ۔ تشابھت (ایک جیسے ہیں، ملتے جلتے ہیں ) ۔ قد بینا (یقیناً ہم نے بیان کیا، واضح کردیا) ۔ ارسلنک (ہم نے آپ کو بھیجا) ۔ لا تسئل (تو نہیں پوچھا جائے گا) ۔ اصحب الجحیم (دوزک والے) ۔ لن ترضی (وہ ہرگز خوشی نہ ہوں گے) ۔ حتی تتبع (جب تک تو پیروی نہ کرے) ۔ ملت (دین، طریقہ، مذہب) ھدی اللہ (اللہ کی ہدایت، اللہ کی رہنمائی) ۔ اتبعت (تو نے پیروی کی) ۔ اھواء (ھوا) خواہشات ، تمنائیں) ۔ ولی (حمایتی) نصیر (مددگار) ۔ حق تلاوتہ (اس کی تلاوت کا حق اداکرکے) ۔ تشریح : آیت نمبر 118 تا 121 جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات نازل ہوتیں یا کوئی معجزہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان نزول : آنحضرت ﷺ کو اس بات کا رنج ہوتا تھا کہ باوجود کامل فہمائش اور کافی دلیلوں کے اہل عرب اور اہل کتاب میں سے بہکے ہوئے لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا یہ رنج رفع کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی کہ راہ راست پر لانا خدا کا کام ہے۔ تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ راہ راست والوں کو نجات اخروی کی خوشخبری اور گمراہوں کو خرابی عقبیٰ کی آیتیں سناتے رہو۔ اس کے بعد علم الہی میں جن لوگون کا راہ راست پر نہ آنا اور ان سے دوزخ بھرا جانا قرار پا چکا ہے وہ تو آخر ہو کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 119–120

[79] یعنی سب سے بڑی نشانی تو رسول اکرم ﷺ کی سیرت اور آپ کا وہ عظیم الشان کارنامہ ہے جو منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد آپ نے انجام دیا۔ [80] یعنی آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے اور بس۔ آپ سے اس بارے میں پرسش نہ ہوگی کہ یہ جہنم میں جانے والے لوگ جہنم میں کیوں گئے، ایمان کیوں نہیں لائے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

بشیر ونذیر رسول ﷺ : (ف 2) تمام انبیاء (علیہ السلام) کی طرح آپ ﷺ کا منصب بھی بشارت ونذار ہے ، یعنی وہ جو ان کی اطاعت کریں ، دین واخری کی خوشخبریاں اور مژدے ان کے لئے ہیں اور جو انکار ومخالفت میں پیش پیش ہیں ، دونوں جہان کی رسوائیاں انکے حصہ میں ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اے پیغمبر ہم نے آپ کو خلق کی ہدایت کے لئے دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ آپ ایمان لانے والوں کو خوش خبری دیں اور منکروں کو عذاب خدا سے ڈرائیں اور آپ سے اہل دوزخ اور اصحاب جحیم کی کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ (تیسیر) مدعا یہ ہے کہ آپ تک یہود کے دعاوی اور ان کے اقال فاسدہ کا رد تھا اسی سلسلے میں نبی کریم ﷺ کی نبوت کا اعلان کیا اور آپ کی تسلی فرمائی۔ اعلان تو اس لئے کیا کہ اہل کتاب حق کو لے کر آئے ہیں اور آپ کا لقب بشیر و نذیر ہے اگر وہ چاہیں تو اہل کتاب سے دریافت کرلیں اور تسلی اس لئے کہ آپ اہل کتاب سے توقعات قائم نہ کریں یہ لوگ ماننے والے نہیں اور کسی کے ایمان لانے نہ لانے کے آپ ذمہ دار بھی نہیں اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 119–124

ف 3۔ یہاں تک یہود کی چالیں اور قباحتیں جن میں سے بعض میں نصاری بھی شریک ہیں بیان فرمائی گئیں ہیں آگے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے امید ایمان نہ رکھنی چاہیے اور اس میں رسول اللہ کا ازالہ غم وفکر ہے کہ آپ ان کے عام طور پر ایمان لانے سے مایوس ہوجائیے اور پریشانی اور کلفت دل سے دور کردیجیے اور علاوہ ان کے ان کی ایک اور قباحت کا بیان ہے کہ رسول اللہ کا اتباع کرنے کی ان کو کیا توفیق ہوتی وہ یہاں تک بلند پروازی کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو اپنی راہ پر چلانے کی فکر محال میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بعثت کی ضرورت : 225: ممکن تھا کہ اہل کتاب کی کج بحثیوں اور جاہلانہ باتوں سے رسول اللہ ﷺ تنگ دل ہوتے جیسے کئی جگہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہے : لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ 003 (الشعر 26 : 3) ” اے پیغمبر اسلام ! آپ شاید اس غم میں اپنی جان کھو بیٹھیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ “ اس لئے آپ ﷺ کے اطمینان قلب کے لئے یہاں ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم کو خواہ مخواہ رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ پوری دنیا کے حالات و واقعات کا مکمل تقاضا تھا کہ اب وہ خاتم الانبیاء تشریف لائے جس کے بعد رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہونے والا ہے۔ اس جگہ ذرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The implication of Verse 118 was that those who persisted in their denial of the Holy Prophet ﷺ did so out of sheer malice and ignorance, and could not be expected to reform themselves. Since he has been sent as the mercy for all the worlds", the thought of their being incorrigible was likely to make him sad on their account. So, in this verse Allah offers him a consolation. He has been sent down to men, bearing the truth and the genuine faith. His function is twofold -- to give glad tidings to those who accept the truth, and warnings of dire punishment to those who deny. Allah assures him…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

120. Why speak of other signs when the most conspicuous sign of Truth is the very person of Muhammad? Let us recall his life before the commencement of his prophethood, the conditions existing in the area where, and the people among whomn, he was born, the manner in which he was brought up and spent the first forty years of his life, and then his glorious achievements as a Prophet. What further signs could we want in support of his message?

Read the full tafseer →