Explained with ayahs 120–121
دین حق کا باطل سے سمجھوتہ جرم عظیم ہے
آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تجھ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے لہذا تو بھی انہیں چھوڑ اور رب کی رضا کے پیچھے لگ جا تو نے انہیں دعوت رسالت پہنچا دیں۔ دین حق وہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے تو اس پر جم جا۔ حدیث شریف میں ہے میری امت کی ایک جماعت حق پر جم کر دوسروں کے مقابلہ میں رہے گی اور غلبہ کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ قیامت آئے پھر اپنے نبی کو خطاب کر کے دھمکایا کہ ہرگز ان کی رضا مندی اور ان سے صلح جوئی کے لئے اپنے دین میں سست نہ ہونا ان کی طرف نہ جھکنا ان کی نہ ماننا فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی مذہب ہے خواہ وہ یہود ہوں نصرانی ہوں یا…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 121
مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناراضی کا سبب یہ تو ہے نہیں کہ وہ سچے طالب حق ہیں اور تم نے ان کے سامنے حق کو واضح کرنے میں کچھ کمی کی ہے۔ وہ تو اس لیے تم سے ناراض ہیں کہ تم نے اللہ کی آیات اور اس کے دین کے ساتھ وہ منافقانہ اور بازی گرانہ طرز عمل کیوں اختیار نہ کیا، خدا پرستی کے پردے میں وہ خود پرستی کیوں نہ کی، دین کے اصول و احکام کو اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے میں اس دیدہ دلیری سے کیوں نہ کام لیا، وہ ریاکاری اور گندم نمائی و جو فروشی کیوں نہ کی، جو خود ان کا اپنا شیوہ ہے۔ لہٰذا انہیں راضی کرنے کی فکر چھوڑ دو ، کیونکہ جب تک تم ان کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرلو،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور کبھی خوش نہ ہوں گے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جب تک کہ آپ (خدانخواستہ) ان کے مذہب کے (بالکل) پیرونہ ہوجائیں (اور یہ محال ہے پس ان کا راضی ہونا محال ہے اور اگر کبھی اس قسم کی بات ان کی زبان یا حال سے مترشح ہو تو) آپ (صاف) کہہ دیجئے کہ (بھائی) حقیقت میں ہدایت کا تو وہی راستہ ہے جس کو خدا نے (ہدایت کا راستہ) بتلایا ہے (اور دلائل سے ایسا راستہ صرف اسلام ہونا ثابت ہوچکا ہے پس راہ ہدایت وہی رہا) اور (یہ امر کہ آپ نعوذ باللہ ان کے مذہب کے پیرو ہوجائیں محال اس لئے ہے کہ اس سے ایک محال لازم آتا ہے کیونکہ) اگر آپ ان کے غلط خیالات کا اتباع کرنے لگیں (جس کو وہ اپنا مذہب سمجھتے ہیں مگر…
Read the full tafseer →: یہود و نصاریٰ کی اصلی بیماری : مشرکین کے رویہ سے مایوس کردینے کے بعد یہ آنحضرت ﷺ پر یہود اور نصاریٰ کا رویہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ بھی تم سے اس وقت تک راضی ہونے والے نہیں ہیں جب تک تم ان کی ملت کے پیرو نہ بن جاؤ۔ یعنی یہودیت یا نصرانیت نہ اختیار کرلو۔ اس لیے کہ ان کے سامنے سوال صرف حق کی وضاحت اور دلائل کے ظہور کا نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے طریقہ پر جمود کا ہے۔ وہ حق سے زیادہ اپنی خواہشات کے پرستار ہیں اور تمہارے لیے خدا کی طرف سے ”العلم“ یعنی علم وحی کے آجانے کے بعد ان کی خواہشات و بدعات کی پیروی کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ اس وجہ سے ان کو یہ فیصلہ کن جواب دے دو کہ اصل ہدایت تو وہ ہے جو…
Read the full tafseer →120۔ 1 یعنی یہودیت یا نصرانیت اختیار کرلے۔
120۔ 2 جو اب اسلام کی صورت میں ہے، جس کی طرف نبی کریم ﷺ دعوت دے رہے ہیں، نہ کہ تحریف شدہ یہودیت و نصرانیت۔
120۔ 3 یہ اس بات پر وعید ہے کہ علم آجانے کے بعد بھی اگر محض ان پر خود غلط لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ان کی پیروی کی تو تیرا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ یہ دراصل امت محمدیہ کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ اہل بدعت اور گمراہوں کی خوشنودی کے لئے وہ بھی ایسا کام نہ کریں، نہ دین میں مداخلت اور بےجا دخل کا ارتکاب کریں۔
Read the full tafseer →77: اگرچہ حضور رسالت مآب ﷺ سے یہ بات ناقابل تصور تھی کہ آپ کفار کی خواہشات کے پیچھے چلیں، لیکن اس آیت نے فرض محال کے طور پر یہ بات کہہ کر اصول یہ بتلادیا کہ اللہ کے نزدیک شخصیات کی اہمیت ان کی ذات کی وجہ سے نہیں ؛ بلکہ اللہ کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے، آنحضرت ﷺ ساری مخلوقات میں سب سے افضل اسی بنا پر ہیں کہ اللہ کے سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر ! یہود ونصاریٰ آپ کے خلاف برسرپیکار ہیں گے ، آپ کے خلاف سازشیں کرتے رہیں گے ۔ کبھی آپ سے مصالحت نہ کریں گے اور نہ ہی کبھی آپ سے راضی ہوں گے ۔ الا یہ کہ آپ اپنے مشن کو چھوڑ دیں ، حق کو ترک کردیں ، جو یقین آپ کو حاصل ہے ، اسے خیرباد کہہ دیں اور یہ لوگ جس کجروی ، شرک اور جاہلی تصورات میں مبتلا ہیں اسے اختیار کرلیں ۔ جیسا کہ اس سے پہلے قریب ہی بیان ہوچکا ہے ۔
وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “
یہ ہے وہ اصل سبب ان کے انکار حق کا ۔ یہ نہیں کہ شاید ان کے سامنے…
Read the full tafseer →3 یعنی یہود اور نصاریٰ کو امر حق سے سروکار نہیں۔ اپنی ضد پر اڑ رہے ہیں وہ کبھی تمہارا دین قبول نہ کریں گے۔ بالفرض اگر تم ہی ان کے تابع ہوجاؤ تو خوش ہوجاویں گے اور یہ ممکن نہیں تو اب ان سے موافقت کی امید نہ رکھنی چاہیے۔
4 یعنی ہر زمانہ میں معتبر وہی ہدایت ہے جو اس زمانہ کا نبی لائے سو اب وہ طریقہ اسلام ہے نہ کہ طریقہ یہود و نصاریٰ ۔
5 یہ بات بطریق فرض ہے۔ یعنی بالفرض اگر آپ ایسا کریں تو قہر الٰہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ یا منظور تنبیہ ہے امت کو کہ اگر کوئی مسلمان ہو کر قرآن کو سمجھ کر دین سے پھرے گا تو اس کو عذاب سے کوئی نہ چھڑا سکے گا۔
Read the full tafseer →آیت 120 وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ ط لہٰذا آپ ان سے امید منقطع کر لیجیے۔ اس لیے کہ زیادہ امید ہو تو پھر مایوسی ہوجاتی ہے۔ اقبال نے بندۂ مؤمن کے بارے میں بہت خوب کہا ہے : ع
اس کی امیدیں قلیل ‘ اس کے مقاصد جلیل !
مقصد اونچا ہو ‘ لیکن امید قلیل رہنی چاہیے۔ اللہ چاہے گا تو ہوجائے گا ‘ نہیں چاہے گا تو نہیں ہوگا۔ بندۂ مؤمن کا کام اپنی حد تک اپنا فرض ادا کردینا ہے۔ اس سے زیادہ کی خواہش اگر اپنے دل میں پالیں گے تو کسی عجلت پسندی میں گرفتار ہوجائیں گے اور کسی راہ یسیر یا راہ قصیر short cut کے ذریعے منزل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اپنے آپ کو بھی…
Read the full tafseer →144 یہاں ملت سے مراد وہ دین نہیں جو تورات میں یا انجیل میں مذکور ہے بلکہ وہ دین ہے جس میں وہ سب خرافات بھی شامل ہیں جنہیں ان لوگوں نے دین سمجھ رکھا ہے اور وہ رنگ ڈھنگ بھی جو یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لہذا انہیں خوش رکھنے کی فکر چھوڑ دیجئے کیونکہ جب تک آپ عقائد و اعمال کی انہیں گمراہیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں اس وقت تک ان کا آپ ﷺ سے راضی ہونا محال ہے۔
145 اللہ کی طرف سے ہدایت ہر زمانہ میں اس زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ہی آتی ہے اور وہی ہدایت معتبر ہوتی ہے جو اس زمانہ کا نبی لائے۔ سو اس دور میں اللہ کی ہدایت قرآن میں ہے اور اسی پر سب کو ایمان لانا ضروری ہے۔ چناچہ حضرت جابر…
Read the full tafseer →432 ۔ (خواہ آپ ان کی کتنی ہی رعایت ملحوظ رکھیں اور ان کے ساتھ برتاؤ کتنی ہی غمخواری اور دلسوزی کا رکھیں) یہ حکم۔ نصرانیوں سے متعلق ہے جو بہرحال اہل کتاب تھے اور مسلمانوں کے ساتھ مشترک ایمان سلسلہ وحی ونبوت پر رکھتے تھے، تو جو کھلے ہوئے اہل شرک ہیں، اور اسلامی عقائد سے اشتراک کسی درجہ کا بھی نہیں رکھتے، ان کی رضا جوئی اور ان سے توقع صلح رکھنے کا جو حکم ہوگا ظاہرہی ہے۔
433 ۔ (یعنی اس مذہب کے جو انہوں نے گڑھ رکھا ہے۔ اور اپنے دین حق سے دستبردارنہ ہوجائیں) ملۃ کے معنی مذہب اور طریقہ کے ہیں۔ الملۃ الشریعۃ اوالدین (قاموس) قال ابو اسحاق الملۃ السنۃ والطریقۃ (تاج) دین اور ملت میں فرق یہ ہے کہ دین کا…
Read the full tafseer →وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰاریٰ : الخ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی خواہ کتنی بھی رعایت کریں مگر یہ آپ ﷺ سے راضی ہونے والے نہیں ہیں اس لئے کہ ان کی ناراضگی کی وجہ عناد اور حسد وعناد میں اضافہ کے سوا کی نتیجہ نکلا ؟ ان لوگوں کی ناراضگی کا سبب یہ تو ہے نہیں کہ وہ سچے طالب حق ہیں اور آپ ﷺ نے ان کے سامنے حق کو واضح کرنے میں کچھ کمی کی ہے، بلکہ ان کی خواہش اور تمنا تو یہ ہے کہ آپ بھی ان کی طرف گندم نمائی اور جو فروشی کیوں نہیں کرتے ؟ جو خود ان کا شیوہ ہے یہ لوگ تو صرف ایک ہی صورت سے راضی ہوسکتے ہیں کہ آپ ان ہی کے رنگ میں رنگ جائیں اور خدا پرستی کے پردے میں نفس پرستی اختیار کرلیں،…
Read the full tafseer →وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ۭ ( اور ہرگز نہ خوش ہو نگے آپ سے یہودی اور نہ عیسائی تاوقتیکہ نہ اختیار کرلیں آپ ان کا دین) ملت وہ طریقہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے واسطے اپنے انبیاء کی زبانی مقرر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اہل کتاب نے جناب رسول اللہ ﷺ سے صلح کی درخواست کی تھی اور یہ طمع دلاتے تھے کہ اگر آپ ہمیں مہلت دیں گے تو ہم ایمان لے آئیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ثعلبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب حضور اہل کتاب کے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے تو مدینہ کے یہود اور بخران کے نصاریٰ اس بات کی امید میں…
Read the full tafseer →(120) اور آپ ﷺ سے مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے عیسائی کبھی بھی خوش نہ ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کے دین اور قبلہ کا اتباع نہ کرلیں، اے محمد ﷺ آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کا دین اسلام اور اس کا قبلہ وہ بیت اللہ ہے۔ اب اگر اس چیز کے بیان کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کا دین اسلام اور اس کا قبلہ کعبہ ہے، آپ ان کے دین اور قبلہ کا اتباع کریں گے تو عذاب الہی سے بچانے کے اندر نہ کوئی قریب والا آپ کو نفع پہنچا سکے گا اور نہ کوئی مددگار عذاب کو روک سکے گا۔
شان نزول : (آیت) ”ولن ترضی“۔ (الخ)
یہ آیت ثعلبی ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے نصاری اس بات کی امید میں تھے…
Read the full tafseer →اس آیت میں سخت وعید ہے کہ یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لیے بالفرض اگر رسول اللہ ﷺ بھی ان کی خواہش کے پیچھے لگ جائیں تو ان کے بچنے کی بھی کوئی صورت نہیں۔ اس آیت کے مخاطب اگرچہ رسول اللہ ﷺ ہیں، مگر سمجھا یا امت کو گیا ہے : ”أَھْوَاءٌ“ ”ھَوًی“ کی جمع ہے، یعنی خواہش۔ یعنی اصل ہدایت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ قرآن و سنت ہے، ان لوگوں کے پاس اصل ہدایت نہیں، صرف حسب خواہش بنایا ہوا دین ہے۔ بدعت کو بھی ”ھَوٰی“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی دین میں اپنی خواہش کے مطابق بنا کر داخل کی جاتی ہے، جس طرح یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لیے ان کی اھواء و بدعات کی پیروی باعث ہلاکت ہے، اسی طرح کسی بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 120
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولن ترضٰی عنک الیھود ولا النصری حتی تتبع ملتھم اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اس کا معنی یہ ہے کہ اے پیارے محمد ! ﷺ جو یہ آیات کا مطالبہ کرتے ہیں ان کی غرض ایمان لانے کی نہیں ہے بلکہ اگر آپ وہ سب کچھ لے بھی آئیں جس کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں تو پھر بھی یہ آپ سے راضی نہ ہوں گے۔ انہیں تو صرف یہی چیز راضی کرے گی کہ آپ جس دین اسلام پر ہیں اس کی پیروی چھوڑ دیں۔ کہا جاتا ہے : رضی یرضی رضا رضا ورضواناً ورضواناً ومرضاۃً ۔ یہ واوی ہے، تثنیہ میں رضوان کہا جاتا ہے۔ کسائی نے رضیان حکایت کیا ہے۔ ممدود بھی حکایت کیا گیا ہے۔ گویا یہ راضی یراضی مراضاۃ ورضائ کا مصدر…
Read the full tafseer →یہود و مسلمان کبھی ایک نہیں ہوسکتے
(1) امام ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مدینہ کے یہودی اور نجران کے نصاری یہ امید رکھتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں جب اللہ تعالیٰ نے قبلہ کو کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا تو یہ بات ان پر بہت بھاری گزری اور وہ اس بات سے ناامید ہوگئے کہ (مسلمان) ان کے دین کو موافقت کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ولن ترضی عنک الیھود ولا النصاری “۔
Read the full tafseer →(وَلَنْ تَرْضٰی : اور ہرگز راضی نہیں ہوں گے ) (عَنْکَ : آپ ﷺ سے ) ( الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی : یہودی اور نہ ہی عیسائی) (حَتّٰی : یہاں تک کہ ) (تَتَّبِعَ : آپ ﷺ پیروی کریں) (مِلَّتَھُمْ : ان کے عقیدوں کی) (قُلْ : آپ ﷺ کہئے ) (اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ : بیشک اللہ کی ہدایت) (ھُوَ الْھُدٰی : ہی کل ہدایت ہے ) (وَلَئِنِ : اور اگر) (اتَّبَعْتَ : آپ ﷺ نے پیروی کی ) (اَھْوَآئَ ھُمْ : ان کی خواہشات کی) (بَعْدَ الَّذِیْ : اس کے بعد جو ) (جَآئَ کَ : آیا آپ کے پاس) (مِنَ الْعِلْمِ : العلم میں سے ) (مَالَکَ : تو نہیں ہے آپ ﷺ کے لئے) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف ) سے) (مِنْ وَّلِیٍّ : کوئی بھی کارساز)…
Read the full tafseer →یہود و نصاریٰ راضی نہیں ہوسکتے جب تک ان کے دین کا اتباع نہ کیا جائے
تفسیر معالم التنزیل ص 110 ج 1 میں ہے کہ یہود و نصاریٰ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپس میں کچھ صلح کرلیں (یعنی بعض چیزوں میں آپ نیچے اتر جائیں اور کچھ ڈھیل دے دیں تو ہم آپ کا دین قبول کرلیں گے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ تفسیر قرطبی ص 93 ج 2 میں آیت بالا کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اے محمد ﷺ ان کا اپنے تجویز کردہ دلائل و معجزات کا مطالبہ اس لیے نہیں ہے کہ ان کے کہنے کے مطابق معجزات ظاہر ہوجائیں تو یہ واقعی ایمان لے آئیں گے حقیقتہً بات یہ ہے کہ آپ ان کے سامنے وہ معجزات لے آئیں جن کا یہ سوال کرتے ہیں تب بھی آپ سے ہرگز راضی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
خاتمۂ کلام واتمام حجت والزام تسلیۂ سید انام علیہ افضل الصلوۃ والسلام
انا ارسلنک بالحق بشیرا ونذیر ا۔۔ الی۔۔ فاولئک ھم الخاسرون۔
(ربط) یہاں تک بنی اسرائیل کی قباحتوں اور شناعتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا شنائع بنی اسرائیل کی تفصیل کی ابتداء کفران نعمت اور دناءت اور خست سے فرمائی۔ کما قال تعالی۔
واذ قلتم یموسی لن نصبری علی طعام واحد۔
اور وہ وقت یاد کرو جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہ کریں گے۔
اور پھر درمیان میں ان کی قساوت قلب کو ذکر فرمایا
ثم قست قلوبکم من بعد ذلک فھی کالحجارۃ او اشد قسوۃ۔
پھر سخت ہوگئے تمہارے دل اس کے بعد پس وہ پتھر کی مانند ہیں یا اس سے بھی زیادہ…
Read the full tafseer →227 یہ آنحضرت ﷺ کو بطور زجر وتنبیہ فرمایا کہ وہ شرک وگمراہی میں اس قدر پختہ ہیں کہ کبھی توحید کو نہیں مانیں گے اس لیے آپ ان کی خواہشات کا اتباع نہ کرنا۔ آنحضرت ﷺ کو یہود ونصاریٰ کے مسلمان ہوجانے کی انتہائی خواہش تھی اور آپ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ فرماتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس معمولی ملاطفت سے یہ راضی ہونے کے نہیں۔ یہ تو آپ سے صرف اسی صورت میں راضی ہوسکتے ہیں کہ آپ ان کی شریعت کی اتباع کرلیں اور ان کا دین اپنا لیں۔ یہودی حضرت عزیر کو اور عیسائی حضرت مسیح (علیہما السلام) کو خدا کا نائب اور متصرف ومختار سمجھ کر پکارتے ہیں، آپ بھی ان کو پکارنا شروع کردیں اور ان کی دیگر مشرکانہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
گذشتہ سے پیوستہ :
یہود ونصاری کی خرابیاں مختلف انداز میں بیان ہو رہی ہیں ، اس سے پیشتر اس بات کا ذکر بھی آچکا ہے کہ اہل کتاب چاہتے ہیں کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ بھی پہلے دین یعنی یہودیت یا نصرانیت کی طرف پلٹ آئیں ، ان کی خواہش یہ ہے کہ اہل ایمان کمزور ہوجائیں اگرچہ ان پر حق واضح ہوچکا ہے ، تاہم وہ حسد کی بنا پر نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، نبی کریم ﷺ بعض باتوں میں موافقت بھی کرنے تھے مقصد یہ تھا کہ شاید یہ لوگ ہمارے ہو کر ایمان لے آئیں چناچہ مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ہجرت کے بعد بھی سولہ (16) سترہ (17) ماہ تک قبلہ بیت المقدس ہی رہا مگر بعد…
Read the full tafseer →وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ 0 ۭ قُلْ اِنَّ ھُدَى اللہِ ھُوَالْہُدٰى 0 ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ 0 ۙ مَا لَكَ مِنَ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ 120 ؔ
رضي
يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی:
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ترکیب : ولن ترضیٰ فعل عنک اس کے متعلق الیہود والنصاری فاعل حتی تتبع فعل انت فاعل ملتہم مفعول جملہ غایۃ قل فعل انت فاعل ان ھدی اللہ اسم ان ھو ضمیر فصل الہدی خبر جملہ مقولہ ولئن میں لام تاکید ان شرطیہ اتبعت الخ شرط مالک الخ جواب شرط الذین موصول آتینہم الکتاب جملہ خبریہ صلہ یتلون حق تلاوتہ حال مقدرہ ھم سے یا کتاب سے حق منصوب بوجہ مفعول مطلق ہونے کے تقدیرہ، یتلون تلاوتہ حقا اولئک مبتداء یؤمنون بہ جملہ خبریہ مجموعہ خبر الذین ومن شرطیہ یکفربہ جملہ شرط فاولئک ھم الخاسرون جواب شرط۔
تفسیر : اس جگہ خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو یہ بات بتلاتا ہے کہ گویہ دین حق ہے اور اس کی اندرونی و بیرونی خوبیاں اس کی حقانیت…
Read the full tafseer →وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ط قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰیط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ۔ (البقرۃ : 120)
(اور ہرگز خوش نہیں ہوں گے آپ سے یہود اور نصاریٰ جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہوجائیں۔ آپ کہہ دیجئے ! کہ بیشک اللہ کی ہدایت وہی ہدایت ہے، اگر آپ پیروی کرنے لگیں ان کی خواہشات کی بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آچکا تو آپ کے لیے اللہ کی گرفت کے مقابلے میں نہ کوئی دوست ہوگا نہ مددگار)
اہلِ کتاب کی اصل بیماری کا تجزیہ
اہلِ کتاب اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کفر اور یہود و نصاریٰ کے تمام کے تمام مطالبات بھی مان لیے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا اے رسول ! آپ اپنا کام کرتے رہیں کیونکہ آپ ﷺ کو ان کا ہر مطالبہ پورا کرنے اور ہر حال میں انہیں راضی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ آپ حق کی شہادت اور ان کے برے کاموں کے انجام سے ڈراتے ہیں۔ ہدایت تو وہی لوگ پائیں گے جو کتاب اللہ کو اخلاص نیت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
صحابہ کرام ؓ کو رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ اہل کتاب پڑھے لکھے اور اپنے دین پر قائم ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود رسالت مآب ﷺ پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ انہی کو تسلی دینے کے لیے براہ راست رسول محترم ﷺ کو خطاب کرتے…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 120:
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ : ( ہرگز تم سے یہودونصاریٰ خوش نہ ہونگے جب تک کہ تم اختیار نہ کرو ان کا دین) گویا انہوں نے اس طرح کہا۔ کہ ہم ہرگز تم سے راضی نہ ہونگے اگرچہ تم ہماری رضا مندیوں کی طلب میں انتہا کردو۔
یہود کے دخول اسلام سے مایوسی :
یہاں تک کہ تو ہماری ملت کی اتباع کرے۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کا یہود و نصاریٰ کے دخول اسلام سے مایوس ہونا ظاہر کیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کا کلام ذکر کیا۔
تفسیر آیت 120:
قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ : (کہہ دیں کہ اللہ ہی کی ہدایت) وہی ہدایت جس کو وہ اپنے بندوں کے لیے پسند کرتے ہیں۔
ھُوَالْھُدٰی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 120۔:
(آیت)” ولن ترضی عنک الیھود والا النصاری حتی تتبع ملتھم قل ان ھدی اللہ ھو الھدی “ اور یہ اس طرح کہ وہ حضور ﷺ سے مصالحت کا سوال کرتے اور آپ کو اس کا طمع دلاتے کہ اگر حضور ﷺ ان کو مہلت دیں تو وہ حضور ﷺ کی پیروی کریں گے ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ، اس کا معنی یہ ہوا کہ آپ اگرچہ ان سے مصالحت فرمالیں تو اس پر بھی راضی نہ ہوں گے ، یہ مصالحت تو آپ سے صرف حیلے بہانے کے طور پر طلب کرتیء ہیں اور یہ آپ سے اور کسی طور پر راضی نہ ہوں گے ، مگر یہ کہ آپ ان کی ملت کی پیروی کرلیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ قبلہ کے بارے میں ہے اور یہ اس طرح کہ یہود مدینہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
(120 ۔ 121) ۔ اہل کتاب ملنے جلنے کے وقت کبھی کبھی مسلمانوں سے ایسی باتیں ظاہر کرتے تھے جن سے توقع ہوتی تھی کہ شاید وہ راہ راست پر آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے دل کا حال اپنے رسول کو جتلایا کہ وہ لوگ اپنے ہی دین کو راہ راست سمجھتے ہیں۔ اس لئے جب تک انسان ان جیسا نہ ہوجاوے وہ لوگ ہرگز رضا مند نہیں ہوسکتے اس واسطے ان لوگوں کی ظاہری باتیں دل سے نہیں ہیں محض اوپری ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے اپنے دین کے اکثر احکام کو بدل ڈالا ہے اور کچھ احکام ان کے دین کے منسوخ ہوگئے ہیں۔ اس بات کے معلوم ہوجانے کے بعد بھی ان جیسا جو کوئی ہوجائے گا اس سے اللہ تعالیٰ مواخذہ کرے گا۔ اور اللہ کے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کے دین کی اتباع نہ کریں کیونکہ وہ اپنے اس دین کے داعی ہیں جس پر وہ عمل پیرا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی ہدایت ہے، لہٰذا آپ ان سے کہہ دیجیے ! (آیت) اِنَّ ھُدَى اللّٰهِ ” بیشک اللہ کی ہدایت “ یعنی وہ ہدایت جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے (آیت) ھُوَ الْهُدٰى ۭ” وہی درحقیقت ہدایت ہے۔ “ اور وہ مذہب جس پر تم گامزن ہو محض خواہشات نفس کی پیروی ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ (آیت) وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–124
قو ل باری ہے : واذا ابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن (یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب پر پورا اتر گیا) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک میں آزمایا حسن بصری کے قول کے مطابق یہ آزمائش حضرت اسماعیلی (علیہ السلام) کی قربانی اور کواکب کے ذریعے کی گئی (کواکب کے ذریعے آزمائش کا ذکر قرآن میں موجود ہے) طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طہارت کے حکم کے ذریعے آزمایا۔ اس سلسلے میں سر کے ساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم اور…
Read the full tafseer →333 ہٹ دھرموں کے لئے محرومی ہی محرومی ـ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : ۔ سو ہٹ دھرم لوگ کبھی نور حق و ہدایت سے مستفید و فیضیاب نہیں ہوسکیں گے کہ ان کے مذہب کی پیروی آپ کیلئے ممکن نہیں، اور جو ناممکن پر موقوف و معلق ہو وہ بھی ناممکن و محال ہے۔ پس ان ہٹ دھرم لوگوں کا ایمان لانا ناممکن ہے۔ لہذا آپ ﷺ اپنی عظیم الشان رحمت وشفقت کی بناء پر ان کے پیچھے لگ کر خود تکلیف نہ اٹھائیں، کہ ان کی محرومی ان کے اپنے ہی عناد، اِعراض اور استکبار ہی کا نتیجہ ہے۔ آپ ﷺ کا اس میں بہرحال کوئی قصور نہیں۔ اور ہٹ دھرم لوگ نور حق و ہدایت سے کبھی مستفید و فیضیاب نہیں ہوسکتے، کیونکہ اس سے استفادہ اور فیضیابی کیلئے اصل اور بنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
واضح دلائل اور نبی ﷺ کی ذمہ داریاں
تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ اللہ خود ہمارے سامنے آکر ہم سے بات کیوں نہیں کرتا اور ہمیں کوئی نشانی کیوں نہیں دکھاتا کہ ہم آپ ﷺ کو آخری نبی مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ اس سے پہلے یعنی یہود و نصاریٰ نے بھی ایسی ہی باتیں کیں تھیں۔ بدنیت اور خراب لوگ ہر زمانے اور ہر قوم کے ایک ہی جیسی باتیں کرتے ہیں۔ بےکار حجت بازی کرتے ہیں اور ان کے دل عقلیں پاک بازی اور حق شناسی سے بالکل خالی ہیں۔ یہ آپ سے معجزہ کی فرمائشیں کرتے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ کی شخصیت بذات خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے آپ ﷺ کی امانت، دیانت، پاکبازی اور امی (ان پڑھ) ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–121
آیات 113- 121
اسرارو معارف
اب ان کا حال دیکھئے کہ یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کا مذہب کوئی بنیاد ہی نہیں رکھتا انجیل کے کتاب اللہ ہونے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا دیکھا دیکھی نصاریٰ نے دین موسوی اور تورات کا انکار کردیا اور لگے کہنے یہ بےبنیاد نظریات ہیں حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں اور آسمانی کتب بنیادی عقائد کی یکساں تبلیغ کرتی ہیں اور توحید و رسالت ، آخرت حشر ونشر کے حقائق ایک سے بیان کرتی اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں تو اس طرح ان دونوں گروہوں نے گویا خود اپنی کتاب کا بھی انکار کردیا۔ اور انہی کی طرح جہلاء اور مشرکین کو بھی کتب الٰہیہ کے انکار کا موقع مل گیا…
Read the full tafseer →ف 1 اس آیت میں سخت وعید اور تہدید ہے کہ یہود و نصاری کو خوش کرنے کے لیے اگر تم نے انے مشن کو چھوڑ دیا تو سمجھ ہو کہ بس تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی اس آیت کے مخاطب گو آنحضرت ﷺ ہیں مگر پوری امت کے اہل علم حضرات کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ اہل بدعت اور بیروال مذاہب باطلہ کے پاس خاظر کے لیے سنت کی پیری میں کسی قسم کی مداہنت سے کام نہ لیں۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(2:120) لن یرضی۔ مضارع منفی تاکید بلن واحد مؤنث غائب۔ یہاں الھیود (اسم جمع) ” یہودیوں کی جماعت “ کے لئے آیا ہے۔ یہود ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔
ولا النصاری۔ اور نہ ہی نصاری راضی ہوں گے۔
ملتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا دین۔ ان کا مذہب۔
ھدی اللہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اللہ کی ہدایت۔ یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایت۔
الھدی۔ اسم معرف باللام۔ اصل ہدایت ۔ یعنی اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ اور اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت ہی اسلام ہے۔ تو گویا اسلام ہی حق ہے (جس طرف یہ کفار بلاتے ہیں وہ حق نہیں ہے)
لئن۔ لام اور ان سے مرکب ہے لام تاکید کا ہے اور ع ان شرطیہ۔
اتبعت۔ ماضی واحد مذکر حاضر اتباع (افتعال)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121
لو لا یکلمنا (ہم سے بات کیوں نہیں کرتا) ۔ تشابھت (ایک جیسے ہیں، ملتے جلتے ہیں ) ۔ قد بینا (یقیناً ہم نے بیان کیا، واضح کردیا) ۔ ارسلنک (ہم نے آپ کو بھیجا) ۔ لا تسئل (تو نہیں پوچھا جائے گا) ۔ اصحب الجحیم (دوزک والے) ۔ لن ترضی (وہ ہرگز خوشی نہ ہوں گے) ۔ حتی تتبع (جب تک تو پیروی نہ کرے) ۔ ملت (دین، طریقہ، مذہب) ھدی اللہ (اللہ کی ہدایت، اللہ کی رہنمائی) ۔ اتبعت (تو نے پیروی کی) ۔ اھواء (ھوا) خواہشات ، تمنائیں) ۔ ولی (حمایتی) نصیر (مددگار) ۔ حق تلاوتہ (اس کی تلاوت کا حق اداکرکے) ۔
تشریح : آیت نمبر 118 تا 121
جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات نازل ہوتیں یا کوئی معجزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اسکی آیتوں میں کچھ ردوبدل نہیں کرتے بلکہ اس کے احکام کے پورے پابند ہیں ۔ پھر فرمایا جو لوگ اس ڈھنگ پر نہیں وہ ٹوٹے نقصان وخسارہ میں ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ چند روز دنیا کے لئے انہوں نے اپنی عقبیٰ برباد کی اس سے بڑھ کر اور کیا ٹوٹا (نقصان) ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
[79] یعنی سب سے بڑی نشانی تو رسول اکرم ﷺ کی سیرت اور آپ کا وہ عظیم الشان کارنامہ ہے جو منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد آپ نے انجام دیا۔
[80] یعنی آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے اور بس۔ آپ سے اس بارے میں پرسش نہ ہوگی کہ یہ جہنم میں جانے والے لوگ جہنم میں کیوں گئے، ایمان کیوں نہیں لائے ؟
Read the full tafseer →(ف 3) یعنی یہودی اور عیسائی اپنے غلط عقائد پر قانع ہیں ، چاہتے ہیں کہ آپ انکی گمراہیوں کا ساتھ دیں ، مگر یہ کیسے ممکن ہے ، آپ کا یہ منصب نہیں کہ آپ ان کے خیالات کو کوئی وقعت دیں ۔
حل لغات :
جحیم : دوزخ :
(ف 1) وہ جن کو کتاب دی گئی اور وہ اسے پڑھتے ہیں ، اس کے مصداق کون لوگ ہیں ؟ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے ، بعض کے خیال میں اس سے مراد مسلمان ہیں ، کیونکہ اس کے بعد فرمایا ہے کہ یہی لوگ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے بعد یہ فرمایا کہ جو شخص انکار کرے گا ‘ وخائب و خاسر رہے گا ، ظاہر ہے کہ قرآن حکیم کے سوا کوئی کتاب اس درجہ شائستہ عمل نہیں کہ اسے چھوڑ کر خسران لازمی طور پر ہو ، بعض کی رائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ف 2 اور یہ یہود و نصاریٰ آپ سے ہرگز کبھی خوش نہ ہوں گے جب تک آپ ان کی ملت اور ان کے دین کے متبع اور پیرو نہ ہوجائیں اور چونکہ یہ بات ان کے طرز عمل سے ظاہر ہے اس لئے اے نبی آپ ان سے فرما دیجئے کہ ہدایت یعنی حقیقی سیدھی راہ تو وہی ہے جو راہ خدا تعالیٰ کسی کو بتادے اور اے پیغمبر اگر کبھی آپ خدانخواستہ اس بات کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح اور قطعی علم آچکا ہے ان کی خواہشات اور ان کے خیالات فاسدہ کی پیروی کرنے لگیں تو پھر آپکو اللہ تعالیٰ سے بچانے والا نہ کوئی آپ کا حمایتی ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب یعنی توریت و انجیل دی ہے اور وہلوگ اس کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہوئے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–124
ف 3۔ یہاں تک یہود کی چالیں اور قباحتیں جن میں سے بعض میں نصاری بھی شریک ہیں بیان فرمائی گئیں ہیں آگے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے امید ایمان نہ رکھنی چاہیے اور اس میں رسول اللہ کا ازالہ غم وفکر ہے کہ آپ ان کے عام طور پر ایمان لانے سے مایوس ہوجائیے اور پریشانی اور کلفت دل سے دور کردیجیے اور علاوہ ان کے ان کی ایک اور قباحت کا بیان ہے کہ رسول اللہ کا اتباع کرنے کی ان کو کیا توفیق ہوتی وہ یہاں تک بلند پروازی کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو اپنی راہ پر چلانے کی فکر محال میں ہیں۔
Read the full tafseer →یہود نصاریٰ آپ سے کبھی خوش نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ آپ ان کی مان لیں :
226: یہاں بالکل صاف صاف فرما دیا کہ اے پیغمبر اسلام اور پیغمبر کے ساتھیو ! یہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کبھی آپ سے خوش نہیں ہو سکتے یعنی ایک لمحے کے لئے بھی ان کی ناراضگی دور نہیں ہو سکتی کیونکہ اسلام کی عداوت و دشمنی ان میں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ انہوں نے ایک رب کو رب مان لیا ہے اور ظاہر ہے کہ نا مسلمان رب کو رب ماننے سے باز آسکتے ہیں اور نہ ہی وہ مخالفت چھوڑ سکتے ہیں ۔ اسی معصیت کی طرف درج ذیل آیت میں اشارہ ہے :
وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ…
Read the full tafseer →Being anxious to save as many men as possible from misguidance and damnation, the Holy Prophet ﷺ took great pains to convince the deniers, and was specially lenient and gentle with the People of the Book. In this verse, Allah informs him that their denial is not due to lack of convincing arguments and proofs, but is motivated by pride and self-satisfaction, for each of the two groups -- namely, the Jews and the Christians -- believes its own religion to be the only genuine religion, and there is no likelihood of pleasing either of them until and unless the Holy Prophet ﷺ accepts their…
Read the full tafseer →121. The cause of their disconcertment with the Prophet (peace be on him) was not that they were earnest seekers after the Truth which the Prophet had failed to make clear to them. The real cause of their unhappiness was that he had not resorted to hypocrisy and trickery, in regard to religious matters, that unlike them he did not pursue self-interest and self-indulgence under the fagade of godliness and piety, that he did not twist religious principles and injunctions without scruple, as the Jews were wont to do in order to make them suit their desires and fancies, that he did not resort to…
Read the full tafseer →