طلب نظارہ۔ ایک حماقت
رافع بن حریملہ نے حضور ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کیوں نہیں کہتا ؟ ہم بھی تو خود اس سے اس کا کلام سنیں، اس پر یہ آیت اتری مجاہد کہتے ہیں یہ بات نصرانیوں نے کہی تھی، ابن جریر فرماتے ہیں یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ آیت انہی سے متعلق بیان کے دوران میں ہے لیکن یہ قول سوچنے کے قابل ہے قرطبی فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ آپ کی نبوت کی اطلاع خود جناب باری ہمیں کیوں نہیں دیتا ؟ یہی بات ٹھیک ہے واللہ اعلم۔ بعض اور مفسر کہتے ہیں یہ قول کفار عرب کا تھا اسی طرح بےعلم لوگوں نے بھی کہا تھا ان سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 117
ان کا مطلب یہ تھا کہ خدا، یا تو خود ہمارے سامنے آکر کہے کہ یہ میری کتاب ہے اور یہ میرے احکام ہیں، تم لوگ ان کی پیروی کرو، یا پھر ہمیں کوئی ایسی نشانی دکھائی جائے، جس سے ہمیں یقین آجائے کہ محمد ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔
سورة الْبَقَرَة 118
یعنی آج کے گمراہوں نے کوئی اعتراض اور کوئی مطالبہ ایسا نہیں گھڑا ہے، جو ان سے پہلے کے گمراہ پیش نہ کرچکے ہوں۔ قدیم زمانے سے آج تک گمراہی کا ایک ہی مزاج ہے اور وہ بار بار ایک ہی قسم کے شہبات اور اعتراضات اور سوالات دہراتی رہتی ہے۔
سورة الْبَقَرَة 119
یہ بات کہ خدا خود آکر ہم سے بات کیوں نہیں کرتا، اس قدر مہمل تھی کہ اس کا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (بعضے) جاہل (یہود و نصاریٰ اور مشرکین رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں) یوں کہتے ہیں کہ (خود) اللہ تعالیٰ ہم سے کلام کیوں نہیں فرماتے (خواہ فرشتوں کے بغیر جیسے خود فرشتوں سے کلام فرماتے ہیں یا فرشتوں کے واسطے سے جیسے پیغمبروں سے بطور وحی بات کرتے ہیں اور اس کلام میں یا تو خود ہم کو احکام بتادیں کہ دوسرے رسول کی ہم کو ضرورت ہی نہ رہے یا کم از کم اتنا ہی کہہ دیں کہ محمد ﷺ ہمارے رسول ہیں تو ہم ان کی ہی رسالت کے قائل ہو کر ان کی اطاعت کرنے لگیں) یا کلام نہیں کرتے تو) ہمارے پاس کوئی اور ہی دلیل (ثبوت رسالت کی) آجائے (حق تعالیٰ اولا اس بات کا جاہلانہ رسم ہونا بتلاتے ہیں کہ) اس طرح وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
اسماعیل مراد ہیں۔ اوپر اہل کتاب کے اعتراضات اور ان کی وسوسہ اندازیوں کا ذکر فرمایا تھا۔ اب اسی متحدہ محاذ ’ مخالفت ‘ کے تیسرے رکن یعنی مشرکین کے بعض مطالبات کا ذکر کرکے ان کا جواب دیا ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ محمد ﷺ یہ دعوی کرتے ہیں کہ خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو خدا نے انہی کو ہمارے اندر سے ہم کلامی کے لیے کیوں منتخب کیا، آخر ہم جو قریش کے سردار اور لیڈر ہیں اور اثر و اقتدار میں محمد ﷺ سے کہیں اونچے ہیں، خدا ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا ؟ اس مطالبہ کا جواب قرآن نے بعض جگہ دیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا ہے کہ ”کسی انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے براہ راست کلام کرے، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118۔ 1 اس سے مراد مشرکین عرب ہیں جنہوں نے یہودیوں کی طرح مطالبہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست گفتگو کیوں نہیں کرتا، یا کوئی بڑی نشانی نہیں دکھا دیتا ؟ جسے دیکھ کر ہم مسلمان ہوجائیں جس طرح کہ (وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا 90 ۙ اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا 91 ۙ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا 92 ۙ اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
76: عیسائی تو حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے ہی ہیں، بعض یہودی حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے، اور مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، یہ آیت ان سب کی تردید کررہی ہے، مطلب یہ ہے کہ اولاد کی ضرورت اسے ہوسکتی ہے جو دوسروں کی مدد کا محتاج ہو، اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا مالک ہے اور اسے کسی کام میں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، پھر وہ اولاد کا محتاج کیوں ہو ؟ اسی دلیل کو اگر منطقی پیرائے میں بیان کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگی کہ اولاد اپنے باپ کا جزء ہوتی ہے اور ہر کل اپنے جزء کا محتاج ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ چونکہ ہر احتیاج سے پاک ہے اس لئے اس کی ذات بسیط ہے جسے کسی جزء کی حاجت نہیں،…
Read the full tafseer →یہاں آکر اہل کتاب کے قول ابنیت پر تبصرہ ہوجاتا ہے ۔ ان کے عقائد باطلہ کی تصحیح کے بعد ، اب مشرکین کے ان اقوال کو لیا جاتا ہے جو مقام الوہیت کے خلاف ہیں اور جو اہل کتاب کے عقائد واقوال سے ملتے جلتے ہیں ۔
وَقَالَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ لَوْلا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ
” نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پس کیوں نہیں آتی ؟ ایسی ہی باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے ۔ “
” جو لوگ نہیں جانتے “ ان سے مراد ان پڑھ لوگ ہیں جو کتاب کے علم سے بےبہرہ ہیں اور وہ بالعموم مشرک تھے ۔ ان کے…
Read the full tafseer →10 یعنی اہل کتاب اور بت پرستوں میں جو جاہل ہیں وہ سب کہتے ہیں کہ " اللہ ہم سے بلا واسطہ بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی کیوں نہیں بھیجتا کہ رسالت کی تصدیق کرلیں۔
1 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی جہالت کی بات کہی تھی یہ نئی بات نہیں اور جو یقین لانے والے ہیں ان کے لئے ہم نے نبی کے برحق ہونے کی نشانیاں بیان کردی ہیں۔ اور جو ضد اور عداوت پر اڑ رہے ہیں وہ انکار کریں تو یہ محض عناد ہے ان کا "۔
Read the full tafseer →آیت 118 وَقَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ
یہاں پر مشرکین مکہ کی طرف روئے سخن ہے۔
لَوْلاَ یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ اَوْ تَاْتِیْنَآ اٰیَۃٌ ط
مشرکین مکہ کا رسول اللہ ﷺ سے بڑی شدتّ کے ساتھ یہ مطالبہ تھا کہ آپ کوئی ایسے معجزات ہی دکھا دیں جیسے آپ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے دکھائے تھے یا موسیٰ علیہ السلام نے دکھائے تھے۔ اگر آپ ہمارے یہ مطالبے پورے کردیں تو ہم آپ کو اللہ کا رسول مان لیں گے۔ یہ مضمون تفصیل کے ساتھ سورة الانعام میں اور پھر سورة بنی اسرائیل میں آئے گا۔
کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّثْلَ قَوْلِہِمْ ط تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ ط قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ…
Read the full tafseer →139 یعنی اس قسم کے مطالبات جاہل لوگ کیا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہمارے پاس آ کر بتائے کہ یہ واقعی میرا رسول ہے یا کوئی ایسی واضح علامت یا معجزہ ہمیں دکھلائے جس سے ہمیں یقین آجائے۔ اسی صورت میں ہم ایمان لاسکتے ہیں۔ یہ سب جہالت کی باتیں ان میں سے اکثر ناممکن العمل ہیں۔ پہلے لوگ بھی ایسے مطالبے کرتے رہے اور آج بھی جاہل لوگ اسی طرح کے مطالبے کر رہے ہیں۔
140 یعنی مزاج کے لحاظ سے پہلے زمانہ کے گمراہوں اور ان گمراہوں میں کچھ فرق نہیں۔ ایسے جاہل لوگ ایک ہی قسم کے اعتراضات اور مطالبات پیش کرتے رہتے ہیں۔
141 اور جن لوگوں نے ایمان لانا ہو ان کے لیے تو ہماری نشانیوں کی کوئی کمی نہیں۔ ایک ایک آیت پر ان…
Read the full tafseer →424 ۔ یعنی علم حقیقی سے، علوم آسمانی سے۔ مراد مشرکین ہیں۔ وھم کفار العرب (ابن جریر عن قتادۃ والربیع) والمراد جھلۃ المشرکین وقدروی ذلک عن قتادہ والسدی والحسن جماعۃ وعلیہ اکثر المفسرین (روح)
425 ۔ (براہ راست اور بلاواسطہ انبیاء ورسل) کما یتکلم رسلہ وانبیاءہ (ابن جریر) (آیت) ” لولا “ یہاں ھلا کے معنی میں ہے اور ھلا کا اردو میں ترجمہ ” کیوں نہیں “ ہی ہوسکتا ہے اور محاروۂ قرآنی میں لولا عموما اسی معنی میں آتا ہے۔ یعنی ھلا یکلمنا اللہ (ابن جریر) وکل مافی القرآن لولا فھو بمعنی ھلا الا واحدا “ (معالم) اور سیوطی نے بھی اتقان (نوع 40) میں یہ قول خلیل نحوی اور مالک سے نقل کیے ہیں۔ مشرکین کا ایک اعتراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُکَلِّمُنَا اللہُ (الآیۃ) الذین لا یعلمون سے مراد مشرکین عرب ہیں جنہوں نے یہودیوں کی طرح مطالبہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست گفتگو کیوں نہیں کرتا ؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ خدایا تو خود ہمارے سامنے آخر کہے کہ یہ میری کتاب ہے تم لوگ اس کی پیروی کرو یا پھر ہمیں کوئی ایسی نشانی دکھائی جائے جس سے ہمیں یقین آجائے کہ محمد ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔
کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ یعنی آج کے گمراہوں نے کوئی اعتراض اور کوئی مطالبہ ایسا پیش نہیں کیا جو ان سے پہلے گمراہ پیش نہ کرچکے ہوں، قدیم زمانہ سے آج تک گمراہی کا ایک ہی…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ (اور کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں جانتے) ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اَلَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَسے مراد یہود ہیں اور اسی طرح ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رافع بن حریملہ یہودی نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر تم اللہ کی طرف سے سچے رسول ہو تو اللہ تعالیٰ سے کہو کہ ہم سے باتیں کرے اور ہم اس کی باتیں سنیں اور مجاہد نے فرمایا ہے کہ نصاریٰ مراد ہیں اور یہود اور نصاریٰ اگرچہ کتاب سماوی کے عالم تھے لیکن جب انہوں نے اپنے علم پر عمل نہ کیا تو گویا جاہل ہی ہیں اور قتادہ نے فرمایا ہے کہ مشرکین عرب کے ان پڑھ لوگ مراد ہیں۔
لَوْلَا يُكَلِّمُنَا…
Read the full tafseer →(118) جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے واقف نہیں یعنی یہودی وہ اس بات کے دعویدار ہیں کہ اللہ تعالیٰ علانیہ ہم سے گفتگو کیوں نہیں کرتا، یا رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے بارے میں کوئی دلیل واضح ہمارے پاس کیوں نہیں آئی، تاکہ ہم اس پر ایمان لے آئیں، اس سے پہلے ان کے باپ دادا بھی یہی کہتے چلے آئے ہیں ان سب کی باتیں ایک جیسی ہیں اور ان کے دل اپنے باپ دادا ہی کے طریقہ پر ہیں، ہم نے علامات اوامرو نواہی اور رسول اکرم ﷺ کی صفات کو توریت میں (ان سب چیزوں کو ایسی جماعت کے لیے جو کہ تصدیق کرے) بیان کردیا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”وقال اللذین لایعلمون (الخ)
ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے سعید اور عکرمہ ؒ کے حوالہ سے…
Read the full tafseer →اس سے مراد کفار عرب ہیں، جنھوں نے اپنے سے پہلے لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح یہ مطالبہ کیا۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) ، فرقان (21) اور سورة مدثر (52) (ۭ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُھُمْ) یعنی ان سب کی سوچ ایک جیسی ہے اور فرمایا کہ قرآن کریم سے رسول اللہ ﷺ کا صدق واضح ہے، اگر یہ لوگ اہل یقین ہوتے تو یہی دلائل کافی تھے۔ (المنار)
Read the full tafseer →آیت نمبر 118
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقال الذین لا یعلمون حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد یہود ہیں۔ مجاہد نے کہا : نصاریٰ ہیں۔ طبری نے اس کو راجح کہا ہے کیونکہ پہلی آیت میں ان کا ذکر ہے۔ ربیع، سدی اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد عرب کے مشرک ہیں ولو لا بمعنی ھلا ہے۔ یہ حرف تحطیض (2) (ابھارنا) ہے۔ جیسے اشہب بن رمیلہ نے کہا :
تعدون عقر النیب افضل مجدکم بنی ضوطری لو لا لکمی المقنعا (1)
اس شعر میں لو لا بمعنی ھلا ہے۔
یہ لولا نہیں ہے جو ایک چیز کے پائے جانے کی وجہ سے دوسری چیز کے نہ پائے جانے پر دلالت کرتا ہے (یعنی شرط کے پائے جانے کی وجہ سے جزا کے نہ پائے جانے پر دلالت کرتا ہے) ان دونوں کے…
Read the full tafseer →(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رافع بن حریملہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا محمد ! اگر تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے جیسا کہ تو کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے کہہ کہ وہ ہم سے کلام کرے یہاں تک کہ ہم اس کے کلام کو سنیں اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” وقال الذین لا یعلمون “ فرمایا وہ عرب کے کافر ہیں جنہوں نے کہا تھا ” لولا یکلمنا اللہ “ فرمایا ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا ” کذلک قال الذین من قبلہم “ یعنی یہود و نصاری اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کہا تھا لفظ آیت ” تشابھت قلوبھم “ یعنی یہود و نصاری اور عرب اور ان کے علاوہ (دوسرے…
Read the full tafseer →(وَقَالَ : اور کہا ) ( الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جو) (لَا یَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے) ( لَوْ لَا : کیوں نہیں) (یُکَلِّمُنَا : کلام کرتا ہم سے) ( اللّٰہُ : اللہ) ( اَوْ : یا (کیوں نہیں) تَاْتِیْنَا : آتی ہمارے پاس) ( اٰیَۃٌ : کوئی نشانی) (کَذٰلِکَ : اس کی طرح) ( قَالَ : کہا) (الَّذِیْنَ : انہوں نے جو ) ( مِنْ قَبْلِھِمْ : ان سے پہلے تھے ) ( مِّثْلَ قَوْلِھِمْ : ان کے قول کی مانند) (تَشَابَھَتْ : باہم ملتے جلتے ہوئے) (قُلُوْبُھُمْ : ان کے دل ) (قَدْ بَیَّنَّا : ہم واضح کرچکے ہیں ) (الْاٰیٰتِ : نشانیوں کو ) (لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ) (یُّوْقِنُوْنَ : یقین کرتے ہیں)
ترکیب : ” یُکَلِّمُ “…
Read the full tafseer →جاہلوں کی باتیں کہ اللہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ؟
حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ سامنے صریح دلائل اور معجزات کے ہوتے ہوئے اپنے نبیوں کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور اپنے پاس سے تجویز کر کے نبوت کی دلیلیں طلب کرتے تھے۔ انہیں میں سے ایک یہ مطالبہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خود بات کرے تو ہم مانیں، اور کہتے تھے کہ ہم جو معجزہ چاہتے ہیں وہ ہمارے سامنے آنا چاہیے۔ اس آیت میں بقول بعض مفسرین مشرکین عرب کا یہی سوال نقل
1 فی روح المعانی أی ارادشیئا بقرینۃ قولہ تعالیٰ انما امرہ اذا ارادشیئا وَجاء القضاء علی وجوہ ترجع کلھا الی اتمام الشیء قولا أوفعلا واطلاقہ علی الارادۃ…
Read the full tafseer →شناعت سی ویکم (31) ایضاً باشتراک نصاریٰ ومشرکین
قال تعالیٰ ۔ وقال الذین لا یعلمون۔۔۔ الی۔۔ لقوم یوقونون
گزشتہ آیات میں ان کی توحید کا حال بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں نبوت کے بارے میں ان کے شبہ کو بیان فرماتے ہیں اور یہ نادان یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بلا واسطہ کلام کیوں نہیں فرماتا کہ یہ خود بالشافہ ہم سے کہہ دے کہ یہ ہمارے نبی اور رسول ہیں تو ہم ان کی رسالت کے قائل ہوجائیں اور ان کی اطاعت کرنے لگیں یا اگر ہم سے کلام نہیں کرتے تو کم از کم من جانب اللہ ہمارے پاس کوئی ایسی نشانی آجائے کہ جسے دیکھ کر ہم کو بداہۃ ً آپ کی نبوت کا یقین آجائے حق تعالیٰ فرماتے ہیں یہ کوئی نیا جاہلانہ سوال…
Read the full tafseer →224 ۔ پانچواں شکوہ۔ چوتھا شکوہ توحید میں گڑ بڑ کرنے سے متعلق تھا۔ اور یہ رسالت پر جرح وقدح سے متعلق ہے۔ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ سے بعض نے مشرکین عرب مراد لیے ہیں اور بعض نے یہود ونصاریٰ لیکن بہتر یہ ہے کہ اس سے تینوں گروہ مراد ہوں کیونکہ بےجا اور معاندانہ سوال تینوں گروہوں سے ثابت ہیں۔ مشرکین نے مطالبہ کیا تھا۔ فَلْیَاتِنَا بِاٰ یَۃٍ کَمَا اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ (انبیا رکوع 1) اور یہود ونصاری کے متعلق ارشاد ہے۔ یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتَابِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتَاباً مِّنَ السَّمَا (نسا ع 22) باقی رہی یہ بات کہ مشرکین تو بےعلم ہوئے کیونکہ ان کے پاس اللہ کی کتاب نہیں تھی۔ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
(اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے)
اہل کتاب کے غلط عقائد کی بحث مسلسل چلی آرہی ہے ان آیات میں ان کی ایک اور بدعقیدگی کا بیان ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے (آیت) ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ اس غلط عقیدے میں یہ تینوں گروہ شامل ہیں یعنی یہود ، نصاری اور مشرکین ” قالوا “ کی ضمیر ان تینوں کی طرف لوٹتی ہے ، سورة توبہ میں موجود ہے کہ یہودیوں کے ایک فرقہ نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنایا ہے ، (آیت) ” وقالت الیھود عزیر ابن اللہ “۔ اگرچہ تمام یہود کا یہ عقیدہ نہیں ہے ، تاہم ایک گروہ ایسا ہے جو اہل کتاب میں شامل ہے مگر عقیدہ یہ رکھتا ہے اسی طرح نصاری کا عقیدہ تو واضح ہے…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا يُكَلِّمُنَا اللہُ اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰيَۃٌ 0 ۭ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّثْلَ قَوْلِہِمْ 0 ۭ تَشَابَہَتْ قُلُوْبُھُمْ 0 ۭ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 118
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
ترکیب : قال فعل الذین موصول لا یعلمون صلہ مجموعہ فاعل لولا کلمہ تخضیض یکلمنا اللہ جملہ معطوف علیہ او تاتینا آیہ معطوف مجموعہ مقولہ ہوا قال فعل الذین من قبلہم صلہ و موصول فاعل کذلک مفعول مقدم مثل مضاف قولہم مضاف الیہ مجموعہ بدل یا بیان ہے کذلک سے تشابہت فعل قلوبہم فاعل جملہ محل حال میں ہے بحذف قدر الذین سے بالحق جار مجرور موضع حال میں ہے تقدیرہ ارسلناک و معک الحق بشیرًا و نذیرًا دونوں حال ہیں کاف ارسلناک سے۔
تفسیر : عیسائیوں کا جاہلانہ اعتقاد بیان کرکے عرب کے جاہلوں کے اقوال نقل کرتا ہے جو ان کی تعلیم سے رسول کریم ﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں کیا کرتے تھے تاکہ معلوم ہو کہ پیر اور مرید دونوں…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ لَوْلَا یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ اَوْ تَاْتِیْنَآ اٰیَۃٌ ط کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّثْلَ قَوْلِھِمْط تَشَابَہَتْ قُلُوْبُھُمْط قَدْ بَیَّنَّاالْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُوْقِنُوْنَ ۔
(اور کہا ان لوگوں نے جو علم نہیں رکھتے کہ اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتایا ہمارے پاس کوئی عظیم نشانی کیوں نہیں آجاتی ؟ اسی طرح کہہ چکے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے۔ انھیں کا ساکہنا، ان کے قلوب متشابہ ہوگئے ہم نے اپنی نشانیاں تو کھول کر بیان کی ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں) (البقرۃ : 118)
مشرکین کے بعض مطالبات کا جواب
اس آیت کریمہ میں لَایَعْلَمُوْن سے مشرکین مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح لوگوں کا اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرانا غلط ہے۔ اسی طرح ان کا براہ راست اللہ تعالیٰ کو دیکھنے یا اس سے براہ راست بات کرنے کا مطالبہ بھی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زیارت دنیا کی آنکھوں سے کرنا نا ممکنات میں سے ہے۔
اہل کفر کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ جب بھی وہ انبیاء کے مقابلے میں لا جواب ہوئے تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جس خدا نے آپ کو نبی بنایا ہے وہ براہ راست ہمیں اپنے آپ پر ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا ؟ یا پھر ہمارے پاس ایسے دلائل و معجزات کیوں نہیں آتے ؟ جن کو دیکھتے ہی ہم آپ کی رسالت اور خدا کی خدائی پر ایمان لانے کے لیے مجبور ہوجائیں۔ یہاں…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 118:
وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ : (اور کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں جانتے) مشرکین میں سے یا اہل کتاب میں سے۔ ان سے علم کی نفی کی۔ کیونکہ انہوں نے اس پر عمل نہ کیا تو گویا ان کو علم ہی نہ تھا۔
لَوْلَا یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ : (کیوں نہیں باتیں کرتا ہم سے اللہ تعالیٰ ) وہ ہم سے ہم کلامی کیوں نہیں کرتا۔ جیسا کہ ملائکہ سے کرتا ہے اور موسیٰ ( علیہ السلام) سے ہمکلام ہوا یہ بات وہ تکبر و سرکشی کی بناء پر کہتے ہیں۔
اَوْتَاْتِیْنَآ اٰیَۃٌ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ : (یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے گذرے) شدید انکار کی وجہ سے۔…
Read the full tafseer →118۔ (آیت)” وقال الذین لا یعلمون “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد یہود ہیں ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” لایعلمون “ سے مراد عیسائی ہیں ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں ۔
لولا “ یہاں لولا بمعنی ھلا ہے اور ” ھلا “ کا استعمال کسی کام پر ابھارنے کے لیے ہوتا ہے ۔ ” یکلمنا اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے علانیہ کلام کیوں نہیں فرماتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور قرآن کریم میں جہاں بھی ” لولا “ آیا ہے وہ بمعنی ” ھلا “ ہے سوائے ایک مقام کے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد (آیت)” فلولا انہ کان من المسبحین “ یہاں ” لولا “ کا معنی ” فلولم یکن “ ہے جس کا معنی…
Read the full tafseer →قتاوہ کے قول کے موافق یہ آیت مشرکین مکہ کی شان میں ہے اور آیت { وَقَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَائَ نَا لَوْ لاَ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَۃِاَوْ نَرٰی رَبَّنَا } (25۔ 21) سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے کیوون کہ اس مکی سورت سورة فرقان کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ کو حشر کا اقرار امید نہیں ہے یہ کہتے ہیں کہ اے محمد تمہاری نبوت کی تصدیق کوئی فرشتہ یا خود خدا ہمارے پاس آ کر کیوں نہ کہہ دیتے۔ اس صورت میں ان سے اگلوں سے مراد اہل کتاب ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ مشرکین عرب اور اہل کتاب ان سب کا بہکانے والال ابلیس علیہ اللعنہ ہے جو ایک سی باتیں ان کے دلوں میں ڈالتا ہے اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
یعنی اہل کتاب وغیرہ میں سے جہلاء نے کہا : ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کلام کیوں نہیں کرتا جس طرح وہ اپنے رسولوں سے کلام کرتا ہے۔ (آیت) اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰيَةٌ ۭ” یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی “ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو وہ اپنی فاسد عقلوں اور باطل آراء کے ذریعے سے طلب کرتے تھے۔ ان فاسد آراء کے بل بوتے پر انہوں نے خالق کے مقابلے میں جسارت کی اور اس کے رسولوں کے سامنے تکبر سے کام لیا۔ جیسے انہوں نے کہا : (آیت) لن نومن لک حتی نر اللہ جھرۃ (البقرہ 55) ” ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو ان ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ “ (آیت) یسئلک اھل الکتاب۔۔ تا۔۔ من ذالک۔ (النساء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–124
قو ل باری ہے : واذا ابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن (یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب پر پورا اتر گیا) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک میں آزمایا حسن بصری کے قول کے مطابق یہ آزمائش حضرت اسماعیلی (علیہ السلام) کی قربانی اور کواکب کے ذریعے کی گئی (کواکب کے ذریعے آزمائش کا ذکر قرآن میں موجود ہے) طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طہارت کے حکم کے ذریعے آزمایا۔ اس سلسلے میں سر کے ساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
326 علم حق کے نور سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ : اور اس طرح ایسے لوگ حق اور حقیقت کے ادراک سے بیخبر ہوتے ہیں کہ اس طرح کے احمقانہ اور گستاخانہ سوالات کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے، جو علم کے نور سے محروم ہوتے ہیں۔ ورنہ جو لوگ حق اور حقیقت کا علم رکھتے ہیں ان کی شان ہی الگ ہوتی ہے۔ وہ ایسے سوالات کبھی نہیں کرتے۔ سو علم اصل میں وہی ہے جو انسان کو حق اور حقیقت سے آگاہ و روشناس کرے ورنہ انسان جاہل ہی ہے خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ اٹھائے ہوئے ہو، بلکہ وہ جہل بسیط سے بڑھ کر جہل مرکب کا شکار ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس حق اور حقیقت کا علم ہی وہ اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
واضح دلائل اور نبی ﷺ کی ذمہ داریاں
تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ اللہ خود ہمارے سامنے آکر ہم سے بات کیوں نہیں کرتا اور ہمیں کوئی نشانی کیوں نہیں دکھاتا کہ ہم آپ ﷺ کو آخری نبی مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ اس سے پہلے یعنی یہود و نصاریٰ نے بھی ایسی ہی باتیں کیں تھیں۔ بدنیت اور خراب لوگ ہر زمانے اور ہر قوم کے ایک ہی جیسی باتیں کرتے ہیں۔ بےکار حجت بازی کرتے ہیں اور ان کے دل عقلیں پاک بازی اور حق شناسی سے بالکل خالی ہیں۔ یہ آپ سے معجزہ کی فرمائشیں کرتے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ کی شخصیت بذات خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے آپ ﷺ کی امانت، دیانت، پاکبازی اور امی (ان پڑھ) ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–121
آیات 113- 121
اسرارو معارف
اب ان کا حال دیکھئے کہ یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کا مذہب کوئی بنیاد ہی نہیں رکھتا انجیل کے کتاب اللہ ہونے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا دیکھا دیکھی نصاریٰ نے دین موسوی اور تورات کا انکار کردیا اور لگے کہنے یہ بےبنیاد نظریات ہیں حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں اور آسمانی کتب بنیادی عقائد کی یکساں تبلیغ کرتی ہیں اور توحید و رسالت ، آخرت حشر ونشر کے حقائق ایک سے بیان کرتی اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں تو اس طرح ان دونوں گروہوں نے گویا خود اپنی کتاب کا بھی انکار کردیا۔ اور انہی کی طرح جہلاء اور مشرکین کو بھی کتب الٰہیہ کے انکار کا موقع مل گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
ف 6 ان فرق ثلاثہ عقیدہ توحید پر قدح کے بعد ان نبوت پر ان کا اعتراض نقل فرمایا ہے کے بےعلم لوگ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ توحید و نبوت کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں تشا بھت قلو بھم۔ یعنی ان سب کی ذہن نتیں ایک جیسی ہیں اور فرمایا کہ قرآن کریم سے آنحضرت ﷺ کی صداقت رواضح ہے اگر یہ لوگ اہل یقین میں سے ہوتے تو یہی کافی تھے (المنار )
Read the full tafseer →(2:118) لولا۔ لو حرف شرط۔ اور لا نافیہ مرکب ہے۔ کیوں نہیں۔ کیوں نہ۔
یہ حروف التخصیص (کسی کو کسی کام کرنے پر ابھارنا۔ یا آمادہ کرنا) العرض (نرمی سے کسی کام کی طلب کرنا) میں سے ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 6:43، یا لغات القرآن جلد پنجم۔
دیگر حروف التخصیص والعرض یہ ہیں۔ الا ۔ ہلا۔ لوما۔
یکلمنا۔ یکلم مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ کلام کرتا ہے تکلیم (تفعیل) مصدر۔ فا ضمیر مفعول جمع متکلم وہ کیوں ہم سے کلام نہیں کرتا۔
تاتینا۔ مضارع واحد مؤنث غائب فا ضمیر جمع متکلم ایتان مصدر (باب ضرب) وہ ہمارے پاس آئے۔ وہ ہمارے پاس آتی ہے۔ او تاتینا ایۃ ای ولولا تاتینا ایۃ۔ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی۔
تشابھت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121
لو لا یکلمنا (ہم سے بات کیوں نہیں کرتا) ۔ تشابھت (ایک جیسے ہیں، ملتے جلتے ہیں ) ۔ قد بینا (یقیناً ہم نے بیان کیا، واضح کردیا) ۔ ارسلنک (ہم نے آپ کو بھیجا) ۔ لا تسئل (تو نہیں پوچھا جائے گا) ۔ اصحب الجحیم (دوزک والے) ۔ لن ترضی (وہ ہرگز خوشی نہ ہوں گے) ۔ حتی تتبع (جب تک تو پیروی نہ کرے) ۔ ملت (دین، طریقہ، مذہب) ھدی اللہ (اللہ کی ہدایت، اللہ کی رہنمائی) ۔ اتبعت (تو نے پیروی کی) ۔ اھواء (ھوا) خواہشات ، تمنائیں) ۔ ولی (حمایتی) نصیر (مددگار) ۔ حق تلاوتہ (اس کی تلاوت کا حق اداکرکے) ۔
تشریح : آیت نمبر 118 تا 121
جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات نازل ہوتیں یا کوئی معجزہ…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ جن کو حشر کا اقرار اور امید نہیں ہے یہ کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ تمہاری نبوت کی تصدیق کوئی فرشتہ یا خود خدا ہمارے پاس آکر کیوں نہیں کرتا۔ مشرکین عرب اور اہل کتاب ان سب کو بہکانے والا ابلیس ہے ، اس لئے یہ سب ایک سی باتیں کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں نشانیاں تو کافی بیان کردی ہیں ۔ مثلاً قرآن کے کتاب الہی ہونے کی یہ نشانی ان سب کے لئے کیا کم ہے کہ جس اللہ کے رسول پر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے ، اس کے رسول برحق ہونے میں کوئی صاحب عقل شک وشبہ نہیں کرسکتا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–118
[77] یہودیوں نے تورات پڑھ کر سمجھ لیا کہ جب نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا تو بیشک وہ کافر ہوگئے۔ اور نصاریٰ نے انجیل میں صاف دیکھ لیا کہ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کر کے کافر ہوگئے۔
[78] یعنی مشرکین عرب کہنے لگے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی حق پر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
(ف 1) ان آیات میں بتلایا گیا ہے کہ قریش مکہ کو معجزہ طلبی اور کرشمہ پسندی کا ایک مرض تھا ، یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح وہ یہ کہتے کہ خدا ہم سے براہ راست کیوں گفتگو نہیں کرتا اور وہ کیوں ہمیں نشان نہیں دکھلاتا ، فرمایا : (آیت) ” تشابھت قلوبھم “۔ یعنی ان نسب کی ذہنیت ایک ہی ہے ، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن کی ایک ایک آیت معجزہ ہے ، رسول ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ وثانیہ اپنے اندر ایک جہان عقل وبصیرت رکھتا ہے ، بات یہ ہے کہ یقین ایمان کا ” ذوق “ ان میں نہیں رہا ۔
Read the full tafseer →ف 4 اور جو لوگ علم سے بےبہرہ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بلا واسطہ کیوں کلام نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی دلیل اور نشانی کیوں نہیں آجاتی جس پر اس پیغمبر کی نبوت ثابت ہوجائے جس طرح کی یہ باتیں کہہ رہے ہیں اسی طرح کی باتیں اور مطالبے وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہوئے ہیں ان پہلے اور پچھلے جاہلوں کے قلوب آپس میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ یقین جانو ! کہ ہم نے تو بہت سے دلائل رسالت محمدیہ ﷺ کے ان لوگوں کیلئے واضح طور پر بیان کردئیے ہیں جو اطمینان و یقین حاصل کرنے کے طلب گار ہیں۔ (تیسیر)
علم سے بےبہرہ ہیں یعنی جاہل جیسے کفار عرب یا جاہل اہل کتاب وہ اہل کتاب کے عالم ہو بےعمل ہیں اور…
Read the full tafseer →ف 2۔ یہود و نصاری کو باجود اہل کتاب واہل علم ہونے کے جاہل اس لیے کہہ دیا گیا کہ یہ بات جاہلوں کی سی کہی تھی کہ باوجود دلائل قویہ کثیرہ قائم ہوچکنے کے ابھی تک حجود کیے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →علم نہ رکھنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟
221: اس سے مراد مشرکین مکہ ہی ہو سکتے ہیں اور یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ نے محمد ﷺ سے جو بات کی ہے اور اس کو نبی بنایا ہے کیا وہ ہم سے بات نہیں کرسکتا ؟ حالانکہ ان کے انکار کا اصلی باعث یہ نہیں ہے کہ اللہ نے ان سے بات کیوں نہیں کی بلکہ جو کچھ ان کے اندر ہے اس کو چھپا کر یہ ایسا سوال کر رہے ہیں ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب کسی آبادی میں کوئی داعی حق کھڑا ہوتا تھا تو وہاں کے سردار محسوس کرتے تھے کہ اگر دعوت حق کامیاب ہوگئی تو ان کے ظالمانہ اختیارات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس لئے انہیں ایک طرح کی ذاتی دشمنی اور کد ہو جائی تھی وہ طرح طرح کی مکاریاں کرتے تھے…
Read the full tafseer →The Jews, the Christians and the mushrikin used to deny the prophethood of Sayyidna Muhammad ﷺ and some of them did so out of sheer malevolence. In order to feel triumphant in this obstinacy, they would make absurd and impossible demands, two of which have been mentioned here. To begin with, they insisted that Allah Himself should speak to them, either directly as He speaks to the angels, or through the angels as He speaks to the prophets, and that He should Himself proclaim his injunctions to them so as to make the intervention of a new prophet unnecessary, or should at least announce that…
Read the full tafseer →117. What they meant was that God should either appear before them Himself, tell them plainly that the Qur'an was a revelation from Him, and proclaim His injunctions, or cause them to see some extraordinary sign that would convince them that whatever Muhammad (peace be on him) told them was from Him.
118. The fact is that the misguided people of the time of the revelation of the Qur'an did not raise any objection or make any demands essentially different from those of the misguided people of the past. From the remote past till today, error and misguidedness seem to have the same character, so…
Read the full tafseer →