Al-Baqara 2:115

Al-Baqara · from ayah 115

2:115

وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۗ— فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۟وَلِلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ‌ ۚ فَاَيۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡهُ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Allah belongs the east and the west. So wherever you [might] turn, there is the Face of Allah. Indeed, Allah is all-Encompassing and Knowing.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 14 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:115

مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں جس طرف بھی تم رخ کرو گے، اسی طرف اللہ کا رخ ہے اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔ لہذا جس طرف بھی تم رخ کرو گے، وہیں اللہ کا رخ ہے۔ بیشک اللہ بہت وسعت والا، بڑا علم رکھنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے)، بیشک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے، تو تم جس طرف رخ کرو، سو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔ بیشک اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کے ہیں۔ تم جدھر بھی رخ کرو گے ادھر ہی اللہ کا رخ ہے۔ بلاشبہ اللہ بہت وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور مشرق ہو یا مغرب دونوں اللہ ہی کے ہیں تو جدھر بھی رخ کرو اسی طرح اللہ ہے، اللہ بڑی گنجائش رکھنے والا اور علم والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ (وحدہ لاشریک) ہی کے لئے ہے مشرق بھی، اور مغرب بھی، سو تم جدھر بھی رخ کرو گے وہاں اللہ کی ذات (اقدس و اعلیٰ) کو پاؤ گے، بیشک اللہ (پاک سبحانہ و تعالیٰ) بڑی وسعت والا، نہایت ہی علم والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ ہی کا ہے مشرق (بھی) اور مغرب (بھی) ۔ سو تم جدھر کو بھی منہ پھیرو۔ اللہ ہی کی ذات ہے۔ اللہ بڑا وسعت والا ہے۔ بڑا علم والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں یقیناً اللہ بہت وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مشرق و مغرب اللہ ہی کا ہے تو جس طرف تم منہ کرو اللہ وہاں موجود (وہیں اللہ کی ذات ہے) ہے۔ بیشک اللہ بخشنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

The East and the West, all belong to Allah: you will face Allah in whichsoever direction you turn your face: Allah is All-Embracing and All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Allah belongs the East and the West. So, whichever way you turn, there is the Face of Allah. Indeed, Allah is All-Embracing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

To Allah belongs the East and the West. So, whichever way you turn, there is the Face of Allah. Indeed, Allah is All-Embracing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to Allah belong the east and the west, so wherever you turn (yourselves or your faces) there is the Face of Allah (and He is High above, over His Throne). Surely, Allah is Sufficient (for His creatures' needs), Knowing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Allah belong the East and the West, and whithersoever ye turn, there is Allah's Countenance. Lo! Allah is All-Embracing, All-Knowing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Allah belongs the east and the west. So wherever you [might] turn, there is the Face of Allah. Indeed, Allah is all-Encompassing and Knowing.

— Saheeh International

The East and the West belong to God. Wherever you turn, you are always in the presence of God. God is Munificent and Omniscient.

— Muhammad Sarwar

And Allah's is the East and the West, therefore, whither you turn, thither is Allah's purpose; surely Allah is Ample-giving, Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

And unto Allah belongeth the east and the west; so withersoever you turn there is the countenance of Allah: verily Allah is pervading, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

To Allah belong the east and the West: Whithersoever ye turn, there is the presence of Allah. For Allah is all-Pervading, all-Knowing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:115

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

کعبہ صرف علامت وحدت و سمت ہے اللہ کا جمال و جلال غیر محدود ہے اس آیت میں نبی ﷺ اور آپ کے ان اصحاب کو تسلی دی جاری ہے جو مکہ سے نکالے گئے اور اپنی مسجد سے روکے گئے۔ حضور ﷺ مکہ شریف میں نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھتے تو کعبتہ اللہ بھی سامنے ہی ہوتا تھا جب مدینہ تشریف لائے تو سولہ سترہ ماہ تک تو ادھر ہی نماز پڑھتے رہے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے کعبتہ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا امام ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے اپنی کتاب ناسخ منسوخ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قرآن میں سب سے پہلا منسوخ حکم یہی قبلہ کا حکم ہے للہ المشرق والی آیت نازل ہوئی حضور ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 115–117

سورة الْبَقَرَة 115 یعنی اللہ نہ شرقی ہے، نہ غربی۔ وہ تمام سمْتوں اور مقاموں کا مالک ہے، مگر خود کسی سمت یا کسی مقام میں مقید نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی عبادت کے لیے کسی سمْت یا کسی مقام کو مقرر کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ وہاں یا اس طرف رہتا ہے۔ اور نہ یہ کوئی جھگڑنے اور بحث کرنے کے قابل بات ہے کہ پہلے تم وہاں یا اس طرف عبادت کرتے تھے، اب تم نے اس جگہ یا سمْت کو کیوں بدل دیا۔ سورة الْبَقَرَة 116 یعنی اللہ تعالیٰ محدُود، تنگ دل، تنگ نظر اور تنگ دست نہیں ہے، جیسا کہ تم لوگوں نے اپنے اوپر قیاس کر کے اسے سمجھ رکھا ہے، بلکہ اس کی خدائی بھی وسیع ہے اور اس کا زاویہء نظر اور دائرہ فیض بھی وسیع اور وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تحویل قبلہ کی بحث دوسری آیت میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین مکہ نے اگرچہ آپ کو مکہ اور بیت اللہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا اور مدینہ پہنچ کر ابتدائی زمانہ میں سولہ سترہ مہینہ تک آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا لیکن اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں نہ آپ کے لئے غمگین ہونے کی کوئی وجہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کسی خاص سمت میں نہیں وہ ہر جگہ ہے اس کے لئے مشرق ومغرب یکساں ہیں کعبہ کو قبلہ نماز بنائیں یا بیت المقدس کو دونوں میں کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ امر الہی کی تعمیل ہی دونوں جگہ سبب فضیلت ہے، داد حق را قابلیت شرط نیست بلکہ شرط…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تفسیر آیت 115: وجہ نزاع کی طرف اشارہ : یہ اس وجہ نزاع و اختلاف کی طرف اشارہ ہے جو یہود و نصاریٰ کے درمیان معابد و مساجد کی توہین کا سبب ہوئی۔ یہود و نصاری دونوں کا قبلہ بیت المقدس تھا لیکن نصاریٰ نے خاص طور پر اس کی شمرقی سمت کو اپنے قبلہ کے لیے انتخاب کیا۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہوئی ہو کہ وہ حصہ جس میں حضرت مریم نے اعتکاف فرمایا تھا اسی سمت میں تھا۔ بیت المقدس کے اس عہد کے نقشہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وہ حصہ جو خواتین کی عبادت کے لیے مخصوص تھا، اسی جانب تھا اور قرآن سے بھی کچھ ایسا ہی اشارہ نکلتا ہے۔ سورة مریم میں فرمایا ہے ”وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 115–116

115۔ ہجرت کے بعد جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے تو مسلمانوں کو اس کا رنج تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جب بیت المقدس سے پھر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں، بعض کے نزدیک اس کے نزول کا سبب سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے کہ سواری کا منہ کدھر بھی ہو، نماز پڑھ سکتے ہو۔ کبھی چند اسباب جمع ہوجاتے ہیں اور ان سب کے حکم کے لئے ایک ہی آیت نازل ہوجاتی ہے۔ ایسی آیتوں کی شان نزول میں متعدد روایات مروی ہوتی ہیں، کسی روایت میں ایک سبب نزول کا بیان ہوتا ہے اور کسی میں دوسرے کا۔ یہ آیت بھی اسی قسم کی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 115–116

75: اوپر جن تین گروہوں کا ذکر ہوا ہے ان کے درمیان ایک اختلاف قبلے کا بھی تھا، اہل کتاب بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اور مشرکین بیت اللہ کو قبلہ سمجھتے تھے، مسلمان بھی اسی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور یہ بات یہودیوں کو ناگوار تھی، ایک مختصر عرصے کے لئے مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہودیوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ دیکھو ! مسلمان ہماری بات ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں، پھر دوبارہ بیت اللہ کو مستقل قبلہ بنادیا گیا، جس کی تفصیل انشاء اللہ اگلے پارہ کے شروع میں آنے والی ہے، یہ آیت بظاہر اس موقع پر نازل ہوئی ہے جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ رہے تھے، بتلانا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لیکن ان آیات میں سے دوسری یعنی وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُچونکہ تحویل قبلہ کے موقع پر نازل ہوئی اس لئے ہم نے پہلی آیت ومن اظلم کو بھی تحویل قبلہ پر محمول کیا ہے۔ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ” مشرق اور مگر ب سب اللہ کے ہیں ۔ جس طرف بھی تم رخ کروگے اسی طرح اللہ کا رخ ہے ۔ اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ “ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس پروپیگنڈے کے ردّمیں نازل ہوئی ہے جو وہ تحویل قبلہ کے خلاف کر رہے تھے کہ اگر قبلہ یہ ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ مسلمانوں نے جو نمازیں بیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یہ بھی یہود و نصاریٰ کا جھگڑا تھا کہ ہر کوئی اپنے قبلہ کو بہتر بتاتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ " اللہ مخصوص کسی طرف نہیں بلکہ تمام مکان اور جہت سے منزہ۔ البتہ اس کے حکم سے جس طرف منہ کرو گے وہ متوجہ ہے۔ تمہاری عبادت قبول کرے گا " بعض نے کہا سفر میں سواری پر نوافل پڑھنے کی بابت یہ آیت اتری۔ یا سفر میں قبلہ مشتبہ ہوگیا تھا جب اتری۔ 8 یعنی اس کی رحمت سب جگہ عام ہے ایک مکان کے ساتھ مخصوص نہیں اور بندوں کے مصالح اور ان کی نیتوں کو اور ان کے اعمال کو سب کو خوب جانتا ہے کہ بندوں کے حق میں کون سی شئ مفید ہے اور کون سی مضر، اسی کے موافق حکم دیتا ہے اور جو اس کی موافقت کریگا اس کو جزا اور مخالف کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 115 وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُق یعنی اگر ہم مغرب کی طرف رخ کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ مغرب میں ہے معاذ اللہ۔ اللہ تو جہت اور مقام سے ماورا ہے ‘ وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے۔ یہ تو یکسانیت پیدا کرنے کے لیے اور اجتماعی رنگ دینے کے لیے ایک چیز کو قبلہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ تو ایک علامت ہے۔ غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے : ؂ َ ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں ! قبلہ ہمارا مسجود تو نہیں ہے ! فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔ وہ بہت وسعت والا ہے ‘ وہ کسی بھی سمت میں محدود نہیں ہے ‘ اور ہر شے کا جاننے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

135 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نفل ادا کر رہے تھے اور سواری کسی بھی سمت کو رخ کرلیتی تھی۔ آپ ﷺ اس وقت مکہ سے مدینہ آ رہے تھے۔ پھر حضرت عمر ؓ نے یہی آیت پڑھی اور فرمایا کہ یہ آیت اسی باب میں ہے (ترمذی ابو اب التفسیر زیر آیت بالا) ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک سفر میں صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے۔ رات اندھیری تھی ہر ایک کو قبلہ جدھر معلوم ہوا نماز ادا کرلی اور نشان کے طور پر پتھر رکھ لیے صبح کو معلوم ہوا وہ بعض لوگوں نے غلط سمت میں نماز ادا کی ہے۔ ان کو تردد ہوا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ آیت (۠فَوَلِّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

411 ۔ (بہ حیثیت مخلوق وبہ حیثیت مملوک بھی) یعنی انھما لہ ملکا وخلقا (ابن جریر) للہ من لام اختصاص کا ہے۔ نحو میں لام جارہ کی کئی قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک لام اختصاص بھی ہے۔ یعنی مشرق ومغرب سب اسی کے ہیں۔ اللام لام الاختصاص اے ھو خالقھما وما لکھما (کبیر) امت محمدی جواب ساری دنیا کے لیے امت عادلہ بنا کر بھیجی جارہی تھی، لازمی تھا کہ اس کی مزکریت ویکجہتی کے لیے ایک قبلہ بھی ہو۔ اور وہ قبلہ اب خانہ کعبہ مقرر ہورہا تھا، اہل کتاب نے اس پر اعتراضات شروع کیے۔ یہ نقل اعتراض و جواب اعتراض کی تمہید ہے۔ المشرق والمغرب۔ دونوں سمتیں اور انہیں دو پر کیا موقوف ہے ہر سمت اور ہر جہت اللہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

دوسری آیت وللہ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ (الآیۃ) میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو مکہ سے ہجرت کرنے اور بیت اللہ کو چھوڑنے پر مجبور کردیا لیکن اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں ہے نہ آپ کے غمگین ہونے کی کوئی وجہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی خاص سمت میں محدود نہیں وہ ہر جگہ ہے اس کے لئے مشرق و مغرب یکساں ہیں کعبۃ اللہ کو قبلہ یا بیت المقدس کو دونوں میں کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ امر الہیٰ کی تعمیل ہی دونوں جگہ سبب فضیلت ہے اسی لئے جب کعبۃ اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا اس میں فضیلت تھی اور جب سولہ سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوگیا تو اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ( اور اللہ ہی کا ہے پورب اور پچھم) یعنی ساری زمین مشرق اور مغرب اسی کی ملک اور مخلوق ہیں اور تمام مخلوقات اس کے وجود کے مظاہر اور اس کے نور کے جلوہ گاہ ہیں اور وہی آسمانوں اور زمین کا نور اور تمام چیزوں کا تھامنے والا ہے اس لیے وہ کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں اور قبلہ کا مسئلہ تعبدی ہے اور تکلیف بقدر وسعت ہوا کرتی ہے اس لیے اے مسلمانو ! اگر تم فرائض میں بسبب کسی دشمن یا قبلہ کے دریافت نہ ہونے کے قبلہ کی طرف منہ کرنے پر قادر نہ ہو یا قبلہ کے بارے میں تم نے تحری کی اور اس میں غلطی ہوئی یا نوافل میں سواری سے اترنے میں تم اپنا حرج سمجھو کیونکہ نوافل میں فرائض سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(115) اب اللہ تعالیٰ قبلہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب شخص کو قبلہ معلوم نہ ہو وہ سوچ وبچار کرکے جس جانب نماز میں اپنا چہرہ کرلے تو وہ نماز اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ہوجائے گی، اور اس آیت کی یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرق ومغرب والوں کے لیے قبلہ بیان کررہا ہے اور وہ حرم ہے، تو جس مقام پر بھی نماز کی حالت میں تم اپنے چہروں کو حرم کی طرف کرلو گے تو وہ ہی اللہ تعالیٰ کا قبلہ ہے اللہ تعالیٰ قبلہ کے تعلق سے ان کی نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ شان نزول : (آیت) وللہ المشرق والمغرب“ (الخ) مسلم، ترمذی ؒ ، نسائی ؒ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں، بلکہ مراد خاص صورتوں میں قبلہ کی پابندی ختم کرنا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ان ظالموں کا ذکر ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکتے ہیں، یعنی ان ظالموں کی اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش اللہ تعالیٰ کی عبادت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مشرق و مغرب کا مالک اللہ ہی ہے، سو انسان کو قبلہ کی طرف رخ کرنے میں اگر کوئی دشواری ہو، دشمن کا خوف ہو یا قبلہ معلوم نہ ہو سکے تو جس طرف منہ کرکے نماز پڑ لے درست ہے۔ سنن ابی داؤد ”کِتَابُ صَلٰوۃِ السَّفَرِ : 1249“ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن انیس ؓ کو بھیجا کہ وہ خالد بن سفیان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 115 اس میں پانچ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وللہ المشرق والمغرب، المشرق سے مراد طلوع کی جگہ اور المغرب سے مراد غروب ہونے کی جگہ ہے۔ یعنی مشرق ومغرب اور ان کے درمیان کی جہات اور مخلوق کی ایجادواختراع اللہ کے لئے ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ مشرق ومغرب کو خصوصی ذکر فرمایا ان کو شرف دینے کے لئے، جیسے بیت اللہ۔ ناقۃ اللہ۔ کیونکہ آیت کا سبب اس کا تقاضا کرتا ہے۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔ مسئلہ نمبر 2: فاینما تولوا یہ شرط ہے اسی وجہ سے نون حذف کیا گیا ہے۔ این عاملہ ہے اور ما زائدہ ہے۔ اور جواب فثم وجہ اللہ ہے۔ حسن نے تولوا تاء اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اصل میں تتولوا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابو عبید نے الناسخ والمنسوخ میں، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاتم (انہوں نے اسے صحیح بھی کہا ہے) اور بیہقی نے السنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے سب سے پہلے جو ہمارے لئے قرآن میں سے منسوخ کیا گیا وہ قبلہ کی سمت تھی ان حکموں میں جو ہمارے لئے ذکر کئے گئے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں قبلہ کے حال کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وللہ المشرق والمغرب فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف رخ فرمایا اور نماز پڑھی اور بیت عتیق (یعنی خانہ کعبہ) کو چھوڑ دیا پھر اللہ تعالیٰ نے (قبلہ کو) بیت عتیق کی طرف پھیر دیا اور پہلے حکم کو منسوخ فرما دیا اور فرمایا لفظ آیت ” ومن حیث خرجت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لئے ہی ہے ) ( الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ : مشرق اور مغرب) (فَاَیْنَمَا : پس جہاں کہیں بھی) (تُوَلُّوْا : تم لوگ پھیرو گے (اپنے چہروں کو) فَثَمَّ : تو وہیں) (وَجْہُ اللّٰہِ : اللہ کی توجہ ہے) ( اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ) (وَاسِعٌ عَلِیْمٌ: وسعت والا جاننے والا ہے) ش ر ق شَرْقًا (ن ۔ س) : روشنی کا پھوٹنا ‘ کسی چیز کا سرخ ہونا۔ مَشْرِقٌ (ج مَشَارِقُ ) : مَفْعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے ‘ یعنی روشن یا سرخ ہونے کی جگہ یا سمت۔ اصطلاحاً سورج نکلنے کی سمت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ { لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ } (البقرۃ :177) ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جدھر رخ کرو ادھر اللہ کا رخ ہے لباب النقول میں تین واقعات لکھے ہیں جن میں اس آیت کے سبب نزول کا ذکر ہے۔ تینوں واقعات میں یہ تذکرہ ہے کہ حضرات صحابہ سفر میں تھے اندھیری رات میں ( اور بعض روایات میں ہے کہ بادل کی وجہ سے) قبلہ کے بارے میں اشتباہ ہوگیا۔ ہر ایک نے اپنے غور و فکر کے مطابق جدھر قبلہ سمجھ میں آیا ادھر نماز پڑھی صبح ہوئی تو غلطی معلوم ہوئی آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے خاموشی اختیار فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی، (ان میں سے ایک واقعہ سنن ترمذی (ابواب التفسیر) میں بھی مذکور ہے۔ جہت قبلہ کا قانون : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرق کا بھی مالک ہے اور مغرب کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 114–115

شناعت بست ونہم (29) باشتراک نصاری ومشرکین قال تعالیٰ ومن اظلم ممن منع مسجدا اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ واسع علیم۔ یہود اور نصاری اور مشرکین سب ہی اس امر کے مدعی ہیں کہ ہم حق پر ہیں لیکن اگر ذرا غور کریں تو معلوم ہوجائے کہ حق سے کس قدر دور ہیں۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ کی مسجدوں کو اس بات سے روکتا ہے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے خواہ دل سے اور خواہ زبان سے اور خواہ اعضاء اور جوارح سے اور فقط اس پر کفایت نہ کرے بلکہ ان کے ویران اور برباد کرنے کی کوشش کرے مساجد کی بیحرمتی کرنا اور ان کو منہدم کرنا یہ مساجد کی ظاہری تخریب ہے اور عبادت اور ذکر اللہ کی بندش کردینا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 220 اس آیت میں خطاب مسلمانوں کو ہے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ہے کہ اگر کفار ومشرکین تمہیں مسجدوں سے روکیں تو تم فکر مت کرو۔ مشرق ومغرب اور باقی تمام اطراف اللہ ہی کی ہیں۔ تم جہاں کہیں بھی ہوا کرو وہیں سے قبلہ رخ ہو کر میری عبادت کرلیا کرو اور نماز پڑھ لیا کرو۔ کیونکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ تم جہاں بھی اسے پکاروگے وہ تمہاری پکار سن گا۔ ای ففی ای امکان فعلتم التولیۃ سطر القبلۃ (روح ص 365 ج 1، مدارک ص 55 ج 1) اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ کی حکومت اور رحمت بہت وسیع ہے اور وہ بندوں کے مصالح سے بخوبی واقف ہے اسی لیے اس نے عبادت کے معاملہ میں کسی جگہ کی تخصیص نہیں فرمائی کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 113–115

(یہود ونصاری آمنے سامنے) یہودیوں اور نصاری کی منجملہ خرابیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو باطل قرار دیتا ہے اور اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھتا ہے تیسرا گروہ مشرکین کا ہے جو یہود ونصاری دونوں کو باطل کہہ کر اپنے آپ کو صحیح العقیدہ سمجھتا ہے تو گویا یہود ونصاری ایک دوسرے کا ابطال کرتے ہیں ان آیات میں اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے (آیت) ” وقالت الیھود لیست النصری علی شیئ “۔ یہودی کہتے ہیں کہ نصرانی کسی چیز پر نہیں ہیں (آیت) ” وقالت النصری لیست الیھود علی شیئ “۔ اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی کسی چیز پر نہیں ہیں یعنی ان کا دین سچا نہیں ہے ، اس طرح جب یہ اکھٹے ہوتے ہیں تو آپس میں دست و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِلہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ۝ 0 ۤ فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۝ 115 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 114–115

ترکیب : من استفہامیہ انکاریہ محل رفع میں ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور اظلم اس کی خبر ہے یعنی اس سے کوئی زیادہ ظالم نہیں ممن میں من نکرئہ موصوفہ یا بمعنی الذی ہے ان یذکر موضع نصب میں ہے اس لیے کہ یہ مساجد مفعول منع ہے بدل الاشتمال ہے تقدیرہ ذکر اسمہ فیھما خراب بمعنی تخریب اولئک مبتداء ماکان لھم الخ جملہ اس کی خبر الاخائفین حال ہے ضمیر یدخلوھا سے للہ خبر مقدم المشرق والمغرب مبتداء موخر جملہ مستانفہ فاینما کلمہ شرط تولوا مجزوم بشرط فثم وجہ اللہ جملہ خبریہ جواب شرط۔ تفسیر : عرب میں یہود و نصاریٰ پڑھے ہوئے اور باعلم خیال کئے جاتے تھے قریش مکہ اور دیگر بت پرست قومیں اسلام کے مقابلہ میں انہیں سے مدد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 114–115

ارشاد فرمایا : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَاللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَفِیْھَااسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِھَا ط اُوْلٰئِکَ مَاکَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَائِفِیْنَ ۔ لَھُمْ فِیْ الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَھُمْ فِیْ الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ق فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روک دے کہ ان میں اس کا نام لیاجائے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔ یہ لوگ اس لائق ہی نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں (بھی بڑی) رسوائی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں مساجد کے احترام و اکرام اور ان کا مقصد بیان فرمایا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہونا چاہیے۔ یہاں اس بات کی وضاحت فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ صرف مسجدوں تک محدود نہیں بلکہ پوری زمین مشرق سے لے کر مغرب تک اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ اس کی توجہ زمین کے چپیّ چپیّ اور ذرّے ذرّے پر ہے۔ اسلام حقیقت پسندی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیم یہ ہے کہ شعائر کا احترام اور خیال رکھنے کے باوجود آدمی کی نظر ہمیشہ حقائق اور اصلیت پر رہنی چاہیے۔ کیونکہ قومیں جب ظاہر پرستی میں مبتلا ہوجائیں تو ان میں حقیقی روح اور جذبہ ختم ہوجایا کرتا ہے۔ یہی صورت حال عیسائیوں اور یہودیوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

115: وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ : (مشرق ومغرب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے) یعنی مشرق ومغرب کے سارے ملک اس کے ہیں۔ اور وہی ان کا مالک ہے اور متولی ہے۔ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا : ( جدھر تم اپنا منہ کرلو گے) یہ شرط ہے تو لوایہ جزاء فعل اس کی وجہ سے مجزوم ہے یعنی جس جگہ میں ہو تم چہروں کا رخ قبلہ کی طرف پھیرو۔ اس مطلب کی دلیل سورة بقرہ کی آیت نمبر 144۔ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ ۔ کہ تم اے پیغمبر پھیرو اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف اور جس جگہ بھی تم ہو) تم (مسلمانو) پھیرو اپنے چہروں کو اسی کی طرف۔ فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ : (پس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

115۔ (آیت)” ولللہ المشرق “ حضرت عطاء (رح) اور حضرت عبدالرحمن بن زید (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی اور مساجد سے مراد حرام ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حج (عمرہ) سے اور نماز پڑھنے سے حدیبیہ والے سال روکا تھا اور جب انہوں نے حضور ﷺ کو اس سے روکا کہ حضور ﷺ اس کو ذکر اللہ سے آباد کریں ، پس تحقیق ایسا کرکے انہوں نے مسجد حرام کو خراب کرنے کی کوشش کی ، یہی لوگ ہیں ان کے لیے قطعا مناسب نہیں کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہوں مگر یہ کہ خوفزدہ ہو کر اس سے مراد اہل مکہ گویا اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ میں آپ پر مکہ مکرمہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

ہجرت کے بعد جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی جاتی تھی آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو مکہ کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھنے کا کسی قدر رنج رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مسلمانوں کی تسلی کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ اللہ کے حکم سے جدھر نماز پڑھی جاوے ثواب میں سب برابر ہے۔ بیت المقدس ہوا تو کیا مکہ ہوا تو کیا۔ کعبہ کو قبلہ ٹھہرانے کا وقت جو علمی الٰہی میں مقرر تھا۔ جب وہ آگیا تو کعبہ کو قبلہ ٹھہرانے کا حکم جو نازل ہوا۔ وہ آگے آئے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے یوں بھی روایت ہے کہ جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آیا۔ اور ادھر منہ کر کے آنحضرت ﷺ نے نماز پڑہنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۤ” اللہ ہی کے لئے ہے مشرق اور مغرب “ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرق و مغرب کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ روشنی کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی آیات عظیمہ کا محل و مقام ہیں اور جب وہ مشارق و مغارب کا مالک ہے، تو تمام جہات اسی کی ملکیت ہیں۔ (آیت) فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا۔ پس ان جہات میں سے جس کسی جہت کی طرف بھی تم اپنا منہ پھیر لو گے، بشرطیکہ تمہارا اس کی طرف منہ پھیرنا اللہ کے حکم سے ہو یا تو وہ تمہیں حکم دے کہ خانہ کعبہ کی طرف تم منہ پھیر لو، جب کہ پہلے تم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کے پابند تھے یا سفر میں تمہیں سواری کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے : وللہ المشرق والمغرب فایتماتو لوا فثم وجہ اللہ (مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رخ کرو گے اسی طرف اللہ کا رخ ہے) ابو اشعث السمان نے عاصم بن عبید اللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت بیان کی ہے کہ ہم ایک تاریک رات میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے، ہمیں پتہ نہیں چلا کہ قبلہ کس طرف ہے۔ چناچہ ہر شخص نے اپنے اپنے رخ پر نماز ادا کی ۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے حضور ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : فاینما تولوا فثم وجہ اللہ۔ ایوب بن عتبہ نے قیس بن طلق سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت بیان کی ہے کہ کچھ لوگ سفر پر نکلے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

319 مشرق و مغرب سب اللہ ہی کیلئے ہے : کہ سب کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی وہی۔ اور سب پر حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے، اور اس کی رحمت و عنایت بھی ہر جگہ موجود ہے، اور اس کا علم بھی سب کو محیط، اور ہر زمان و مکان پر حاوی اور عام ہے۔ اور اس نے اپنے کرم بےپایاں سے تمام روئے زمین کو تمہارے لئے مسجد اور عبادت کی جگہ بنادیا ہے، اور اس کی مٹی کو تمہارے لئے " طہور " اور پاکی کا ذریعہ۔ پس اگر کہیں ظالم تمہیں اللہ کی مسجد سے روک دیں، یا مسجدوں کو منہدم کردیں، جیسا کہ ظالموں نے کیا ہے، اور کر رہے ہیں، تو تمہارے لئے اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی کے شرف سے محرومی پھر بھی نہیں، کیونکہ اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اللہ ہر طرف جلوہ گر ہے تشریح : اس آیت میں واضح کردیا گیا ہے کہ ہر طرف اللہ تعالیٰ موجود ہے۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین و کفار نے سمتیں مقرر کر رکھی تھیں کہ صرف اس طرف ہی اللہ موجود ہے، اس ایک خاص طرف وہ منہ کرکے اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت یا پوجا کرتے تھے۔ اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ یہ خاص سمت والا عقیدہ یا جھگڑا بالکل بےکار ہے، کیونکہ اللہ تو ہر جگہ موجود ہے وہ صرف مشرق یا مغرب میں ہی مقید نہیں، بلکہ ہر جگہ اور ہر سمت اسی کی ہے۔ جدھر جاؤ، جدھر منہ کرو اللہ موجود ہے۔ بیت الحرام یا بیت المقدس کا تعین تو خاص مقاصد کے لئے کیا گیا ہے جو آئندہ بیان کیا جائے گا۔ (ان شاء اللہ) فی الحال یہ سمجھانا مقصود…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 113–121

آیات 113- 121 اسرارو معارف اب ان کا حال دیکھئے کہ یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کا مذہب کوئی بنیاد ہی نہیں رکھتا انجیل کے کتاب اللہ ہونے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا دیکھا دیکھی نصاریٰ نے دین موسوی اور تورات کا انکار کردیا اور لگے کہنے یہ بےبنیاد نظریات ہیں حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں اور آسمانی کتب بنیادی عقائد کی یکساں تبلیغ کرتی ہیں اور توحید و رسالت ، آخرت حشر ونشر کے حقائق ایک سے بیان کرتی اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں تو اس طرح ان دونوں گروہوں نے گویا خود اپنی کتاب کا بھی انکار کردیا۔ اور انہی کی طرح جہلاء اور مشرکین کو بھی کتب الٰہیہ کے انکار کا موقع مل گیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 بعض نے لکھا ہے تحویل قبلہ پر یہود نے اعتراض کیا تو ان کے جواب میں یہ آتی نازل ہوئی اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت سفر اور خوف کی حالت میں نماز کے متعلق ہے جس طرف موقع ملے اداہو سکتی ہے۔ ایک واقعہ ہے کہ صحابہ کرام نے سفر میں رات کے وقت غیر قبلہ کی طرف نماز ادا کی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ تمہاری نماز ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 114–115

(2:114) من استفہامیہ ہے۔ کون ہے ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کوئی نہیں ہے۔ اظلم۔ افعل تفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ ظالم۔ ممن۔ مرکب ہے من حرف جار اور من موصولہ سے۔ اس شخص سے جو۔ منع۔ فعل یا فاعل۔ مسجد اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول منع کا۔ ان یذکر فیہا اسمہ۔ کرلیا جائے ان میں خدا کا نام۔ یہ منع کا مفعول ثانی ہے۔ صاحب تفسیر مظہری نے اس کی مثال وما منعنا ان نرسل (17:59) دی ہے جس میں ان نرسل دوسرا مفعول ہے منع کا۔ وسعی فی خرابھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مسجد کے لئے ہے۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے خرابی معنوی بھی ہوسکتی ہے جس کسی کو مسجد میں اللہ کے ذکر سے منع کیا جائے یا حسی جب اس کوفی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 113–117

لغات القرآن : آیت نمبر 113 تا 117 قالت (کہا) ۔ علی شیء (کسی حقیقت پر، کسی بنیاد پر) ۔ یتلون (وہ پڑھتے ہیں) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ بینھم (ان کے درمیان) ۔ تختلفون (وہ اختلاف کرتے ہیں ) ۔ اظلم (زیادہ ظلم) ۔ منع (روک دیا) ۔ ان یذکر (یہ کہ یاد کیا جائے) ۔ سعی (و ہ کوشش کرتا ہے۔ اس نے کوشش کی) ۔ خراب (بربادی، خرابی) ۔ خائفین (ڈرنے والے) ۔ خذی (رسوائی) اینما (جس طرف) ۔ وجہ اللہ (اللہ کا چہرہ، یعنی اللہ کی ذات موجود ہے) ۔ ولد (بیٹا) ۔ سبحانہ (اس کی ذات پاک اور بےعیب ہے) ۔ قانتون (فرماں بردار، جھکنے والے) ۔ بدیع (پیدا کرنے والا) ۔ قضی (اس نے فیصلہ کرلیا) ۔ کن (ہوجا) ۔ یکون (وہ ہوجاتا ہے) ۔ تشریح :…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 114–115

ہجرت کے بعد 6 ھ میں آنحضرت ﷺ نے ایک جماعت کے ساتھ ذیقعدہ میں عمرہ کے قصد سے مکہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ نے آپ کو مکہ کے اندر نہ جانے دیا بلکہ راستہ میں ایک مقام جس کا نام حدیبیہ ہے وہاں روک دیا ۔ جس کا قصہ سورة انا فتحنا میں آوے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عنہماکا قول ہے کہ اسی قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسجد الحرام میں ذکر الہی سے حج والوں یا عمرہ والوں کو روکنا بھی مسجدوں کو اجاڑنا ہے ۔ کیونکہ مسجدوں کی آبادی بھی ذکر الہی سے ہے ۔ جو مسجدوں میں نماز پڑھنے اور ذکر الہی سے روکتے ہٰں وہ گویا مسجدوں کے اجاڑنے کے درپنے ہیں ۔ مشرکین مکہ سے رسول کریم ﷺ اور ان کے ساتھ والوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 113–118

[77] یہودیوں نے تورات پڑھ کر سمجھ لیا کہ جب نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا تو بیشک وہ کافر ہوگئے۔ اور نصاریٰ نے انجیل میں صاف دیکھ لیا کہ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کر کے کافر ہوگئے۔ [78] یعنی مشرکین عرب کہنے لگے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی حق پر نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 115–116

خدا کا کوئی ولد نہیں : (ف 2) اسلام سے پہلے مشرک فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ، حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کے اکلوتے اور پہلوٹھے بیٹے ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے سبحانہ یعنی اللہ جل جلالہ اس قسم کے مشرکانہ اوصاف سے پاک ہیں : دلیل یہ ہے کہ ساری کائنات اس کے قبضہ قدرت میں ہے ، ہر چیز اس کی تسبیح وقنوت میں مصروف ہے ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک سب اس کی حمد وثنا کر رہے ہیں ، کیا تمہیں آسمانوں اور زمینوں میں کوئی اور قوت کار فرما نظر آتی ہے ؟ فرشتے بھی اس کے محکوم ہیں ، حضرت عزیز (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بھی اس نے پیدا کیا ہے اور دوسری مخلوق کو بھی ، کیا ایک قانون بھی قدرت کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور مشرق و مغرب دونوں اللہ ہی کی مملوک ہیں لہذا تم جہاں سے بھی اس کی جانب اپنا رخ کرو گے اور اسکی جانب متوجہ ہو گے ادھر ہی اللہ تعالیٰ کا رخ اور اسکی ذات اور اسکی توجہ موجود ہوگی۔ یقین جانو ! اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت اور فراخ حوصلہ اور کمال علم کا مالک ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ مشرکین عرب جو مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں اور مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے نہیں دیتے اور مسلمانوں کو اس سے رنج ہوتا ہے اور وہ مکانوں یا جنگلوں میں جاکر نماز ادا کرتے ہیں تو ان کو اس آیت میں تسلی دی ہے کہ یہ گھبرانے کی باتں نہیں اللہ تعالیٰ تو مشرق و مغرب یعنی تمام روئے زمین کا مالک ہے وہ کسی خاص…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 115–116

ف 6۔ یہود نے حکم تبدیل قبلہ پر اعتراض کیا تھا اس کا جواب حق تالی یہ دیتے ہیں کہ اللہ کی مملوک ہیں سب جہتیں جب وہ مالک ہیں تو جس جہت کو چاہیں قبلہ مقرر کردیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سمت کا مقرر کرنا انتظامی امور سے متعلق ہے اللہ ہر سمت سے پاک ہے : 216: ایک مذہبی جماعت ہونے کے باوجود بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی رحمت کو بیت المقدس ہی میں محدود کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف اسی طرف رخ کرنے سے انوار و تجلیات الٰہیہ کا نزول ہو سکتا ہے حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے بلکہ اس کے لئے تو مشرق و مغرب سب برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ جس جگہ کچھ لوگ جمع ہو کر اس کے ذکر میں مصروف ہوں گے اس کی رحمت فوراً ان کی طرف متوجہ ہوگی کیونکہ اللہ کی رحمت کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا اور وہی جانتا ہے کہ اس کا صحیح محل نزول کونسا ہے۔ اس آیت میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In order to understand these two verses, one should keep in mind three different incidents connected with the three groups hostile to Islam, all of which were, in one way or another, guilty of preventing people from worshipping Allah in mosques and of laying them waste. (1) When Allah changed the Qiblah قبلہ that is to say, commanded the Muslims to turn towards the Ka'bah کعبہ in their Salah, and not towards the Baytul-Maqdis بیت المقدس --, the Jews raised all kinds of objections to it, and tried to produce in the minds of the Muslims doubts and misgiving which, had they taken root, would…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 115–117

115. God is neither eastern nor western. East and west, north and south, and indeed all places and directions are His, though He is not confined to any particular place or direction. Hence, if any place or direction is fixed for worship this does not mean that God dwells there. Likewise, changes in the direction of Prayer is not a proper subject for controversy and dispute. 116. That is, God is neither limited, mean, narrow-minded, nor poor in resources. All such notions about God, which arise from considering Him as essentially similar to human beings, are erroneous. God's realm is boundless…

Read the full tafseer →