Al-Baqara 2:116

Al-Baqara · from ayah 116

2:116

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ— سُبْحٰنَهٗ ؕ— بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ۟وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ‌ سُبۡحٰنَهٗ ‌ؕ بَل لَّهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ كُلٌّ لَّهٗ قَانِتُوۡنَ

اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They say, "Allah has taken a son." Exalted is He! Rather, to Him belongs whatever is in the heavens and the earth. All are devoutly obedient to Him,

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 14 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:116

ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اللہ پاک ہے ان باتوں سے اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں، سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اوﻻد ہے، (نہیں بلکہ) وه پاک ہے زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کافرمانبردار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہوا ہے۔ (حالانکہ) اس کی ذات (اس قسم کی چیزوں سے) پاک ہے، بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ سب کے سب اس کے فرمانبردار ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہتے ہیں: اللہ نے اپنے لئے اولاد بنائی ہے، حالانکہ وہ (اس سے) پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کی (خَلق اور مِلک) ہے، (اور) سب کے سب اس کے فرماں بردار ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اہل کتاب) کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ ان سب کا مالک ہے اور یہ سب چیزیں اس کی مطیع فرمان ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہتے ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ اس کی شان ان باتوں سے ارفع ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ سب اسی کے تابع فرمان ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس سب کے باوجود یہ لوگ) کہتے ہیں کہ اللہ (تعالیٰ) نے اولاد ٹھہرائی ہے ، پاک ہے وہ (ایسی تمام شرکیات سے، اس کی کوئی اولاد نہیں) بلکہ اسی کا ہے وہ کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین (کی اس پوری کائنات) میں ہے، سب کے سب (طوعاً و کرھاً) اسی کے (مطیع و) فرمان بردار ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ایک بیٹا بنالیا ہے پاک ہے وہ !۔ اصل یہی ہے کہ اسی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سب اسی کے حکم بردار ہیں۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان (میں وہ بھی ہیں جن) کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ وہ تو ان باتوں سے پاک ہے۔ بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کی ملکیت ہے۔ سب کے سب اسی کے مطیع فرمان ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے، اللہ ان باتوں سے پاک ہے۔ اصل میں زمین و آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں اور سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

They say "Allah has adopted a son." Allah is above such things. As a matter of fact, whatever is in the heavens and on the earth belongs to Him and all are obedient to Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say: :Allah has got a son. Pure is He. Instead, to Him belongs all that there is in the heavens and the earth. All stand obedient to Him.

— Muhammad Taqi Usmani

They say: :Allah has got a son. Pure is He. Instead, to Him belongs all that there is in the heavens and the earth. All stand obedient to Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they (Jews, Christians and pagans) say: Allah has begotten a son (children or offspring). Glory is to Him (Exalted is He above all that they associate with Him). Nay, to Him belongs all that is in the heavens and on earth, and all are Qanitun to Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: Allah hath taken unto Himself a son. Be He glorified! Nay, but whatsoever is in the heavens and the earth is His. All are subservient unto Him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They say, "Allah has taken a son." Exalted is He! Rather, to Him belongs whatever is in the heavens and the earth. All are devoutly obedient to Him,

— Saheeh International

They, (the People of the Book), have said that God has taken for Himself a son. He is too glorious to have a son. To Him belongs all that is in the heavens and the earth. All pray in obedience to Him.

— Muhammad Sarwar

And they say: Allah has taken to himself a son. Glory be to Him; rather, whatever is in the heavens and the earth is His; all are obedient to Him.

— Muhammad Habib Shakir

And they Say: God hath betaken unto Him a son! Hallowed be He: Aye unto Him belongeth whatsoever is in the heavens and the earth: ', all are unto Him devout

— Abdul Majid Daryabadi

They say: "Allah hath begotten a son": Glory be to Him.-Nay, to Him belongs all that is in the heavens and on earth: everything renders worship to Him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:116

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–117

اللہ ہی مقتدر اعلیٰ ہے کے دلائل یہ اور اس کے ساتھ کی آیت نصرانیوں کے رد میں ہے اور اس طرح ان جیسے یہود و مشرکین کی تردید میں ہے جو اللہ کی اولاد بتاتے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین و آسمان وغیرہ تمام چیزوں کا تو اللہ مالک ہے ان کا پیدا کرنے والا انہیں روزیاں دینے والا ان کے اندازے مقرر کرنے والا انہیں قبضہ میں رکھنے والا ان میں ہر تغیر و تبدل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھلا اس مخلوق میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہوسکتا ہے ؟ نہ عزیز اور نہ ہی عیسیٰ اللہ کے بیٹے بن سکتے ہیں جیسے کہ یہود و نصاریٰ کا خیال تھا نہ فرشتے اس کی بیٹیاں بن سکتے ہیں جیسے کہ مشرکین عرب کا خیال تھا۔ اس لئے دو برابر کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 115–117

سورة الْبَقَرَة 115 یعنی اللہ نہ شرقی ہے، نہ غربی۔ وہ تمام سمْتوں اور مقاموں کا مالک ہے، مگر خود کسی سمت یا کسی مقام میں مقید نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی عبادت کے لیے کسی سمْت یا کسی مقام کو مقرر کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ وہاں یا اس طرف رہتا ہے۔ اور نہ یہ کوئی جھگڑنے اور بحث کرنے کے قابل بات ہے کہ پہلے تم وہاں یا اس طرف عبادت کرتے تھے، اب تم نے اس جگہ یا سمْت کو کیوں بدل دیا۔ سورة الْبَقَرَة 116 یعنی اللہ تعالیٰ محدُود، تنگ دل، تنگ نظر اور تنگ دست نہیں ہے، جیسا کہ تم لوگوں نے اپنے اوپر قیاس کر کے اسے سمجھ رکھا ہے، بلکہ اس کی خدائی بھی وسیع ہے اور اس کا زاویہء نظر اور دائرہ فیض بھی وسیع اور وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–117

خلاصہ تفسیر (بعض یہودی حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو اور مشرکین عرب ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں جیسا مختلف آیات میں ان اقوال کی خبر دی گئی ہے حق تعالیٰ اس قول کی قباحت اور بطلان کا بیان فرماتے ہیں، یعنی) اور یہ لوگ (مختلف عنوان سے) کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد رکھتا ہے سبحان اللہ (کیا مہمل بات ہے) بلکہ (ان کے تو اولاد ہونا عقلاً ممکن نہیں کیونکہ دو حال سے خالی نہیں یا تو اولاد غیر جنس ہوگی اور یا ہم جنس ہوگی اگر غیر جنس ہو تب تو ناجنس اولاد ہونا عیب ہے اور حق تعالیٰ عیب پاک ہیں عقلا بھی جیسا مسلم ہے اور نقلاً بھی جیسا سبحانہ مذکور کا بھی مدلول ہے اور اگر ہم جنس ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ ولد ‘ کا مفہوم : اوپر اسلام کے خلاف محاذ قائم کرنے والوں کے ان کارناموں کا حوالہ دیا تھا جو انہوں نے خدا کی مساجد کی تخریب کے سلسلہ میں انجام دیے ہیں، اب یہ ایک اشارہ ان کے مشرکانہ عقائد کی طرف بھی فرما دیا تاکہ ہدایت اور نجات کی اجارہ داری کے ان مدعیوں کا یہ پہلو بھی سامنے آجائے کہ عقیدہ کے اعتبار سے یہ کس سطح پر ہیں۔ اس سلسلہ میں فرمایا کہ یہ لوگ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ یہود عزیر کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، نصاری مسیح کو اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان سب کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ سبحانہ خدا اس طرح کی تمام نسبتوں سے پاک اور ارفع ہے۔ کوئی چیز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 115–116

115۔ ہجرت کے بعد جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے تو مسلمانوں کو اس کا رنج تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جب بیت المقدس سے پھر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں، بعض کے نزدیک اس کے نزول کا سبب سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے کہ سواری کا منہ کدھر بھی ہو، نماز پڑھ سکتے ہو۔ کبھی چند اسباب جمع ہوجاتے ہیں اور ان سب کے حکم کے لئے ایک ہی آیت نازل ہوجاتی ہے۔ ایسی آیتوں کی شان نزول میں متعدد روایات مروی ہوتی ہیں، کسی روایت میں ایک سبب نزول کا بیان ہوتا ہے اور کسی میں دوسرے کا۔ یہ آیت بھی اسی قسم کی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 115–116

75: اوپر جن تین گروہوں کا ذکر ہوا ہے ان کے درمیان ایک اختلاف قبلے کا بھی تھا، اہل کتاب بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اور مشرکین بیت اللہ کو قبلہ سمجھتے تھے، مسلمان بھی اسی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور یہ بات یہودیوں کو ناگوار تھی، ایک مختصر عرصے کے لئے مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہودیوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ دیکھو ! مسلمان ہماری بات ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں، پھر دوبارہ بیت اللہ کو مستقل قبلہ بنادیا گیا، جس کی تفصیل انشاء اللہ اگلے پارہ کے شروع میں آنے والی ہے، یہ آیت بظاہر اس موقع پر نازل ہوئی ہے جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ رہے تھے، بتلانا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ قول کہ ” اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے ۔ “ یہ صرف عیسائیوں کا ہی عقیدہ نہیں جو وہ حضرت مسیح کے بارے میں رکھتے تھے بلکہ خود یہودی بھی حضرت عزیر کی ابنیت کے قائل تھے ۔ اور یہی عقیدہ مشرکین مکہ اللہ کے فرشتوں کے بارے میں رکھتے تھے ۔ قرآن کریم نے یہاں ان فرقوں کے عقیدے کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ کیونکہ یہاں اجمالی بحث مطلوب تھی ۔ یہاں اجمالاً ان تین فرقوں کی طرف اشارہ مطلوب تھا جو اس وقت جزیرہ عرب میں تحریک اسلامی کا راستہ روکے کھڑے تھے ۔ تعجب ہے کہ آج بھی عالم اسلام میں اسلام کی راہ یہی تین فرقے روکے کھڑے ہیں ۔ یہودی بین الاقوامی صہیونیت کے روپ میں ، عیسائی بین الاقوامی صلیبیت کی شکل میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 116–117

9 یہود حضرت عزیر کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی ذات سب باتوں سے پاک ہے بلکہ سب کے سب اس کے مملوک اور مطیع اور مخلوق ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 116 وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًالا سُبْحٰنَہٗ ط ظاہر بات ہے یہاں پھر اہل مکہ ہی کی طرف اشارہ ہو رہا ہے جن کا یہ قول تھا کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد اختیار کی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ نصاریٰ کہتے تھے کہ مسیح علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں ‘ اور یہودیوں کا بھی ایک گروہ ایسا تھا جو حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتا تھا۔ بَلْ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط سب مخلوق اور مملوک ہیں ‘ خالق اور مالک صرف وہ ہے۔ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ ۔ بڑے سے بڑا رسول ہو یا بڑے سے بڑا ولی یا بڑے سے بڑا فرشتہ یا بڑے بڑے اجرام سماویہ ‘ سب اسی کے حکم کے پابند ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

137 یہود کہتے ہیں کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) اللہ کا بیٹا ہے۔ اور مشرکین کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسمانوں، اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملک اور وہ ان کا مالک ہے۔ لہذا تمام اشیاء مملوک ہوئیں اور بیٹا شریک ہوتا ہے مملوک نہیں ہوتا۔ لہذا اللہ کی اولاد ہونا ناممکن ٹھہرا، اور ایک حدیث صحیح قدسی میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بنو آدم نے مجھے جھٹلایا اور گالی دی۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہ کرسکوں گا اور اسکا گالی دینا یہ ہے جو اس نے میرے لیے بیوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

416 ۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ مراد بہت سے اہل باطل لیے جاسکتے ہیں۔ لیکن خاص طور پر اشارہ اس گڑھے ہوئے مذہب تثلیت کی جانب ہے۔ جس کا نام ایک پیغمبر برحق کی جانب منسوب کرکے مسیحیت رکھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کے عقائد باطلہ سے (نعوذ باللہ) حضرت مسیح (علیہ السلام) کو کوئی نسبت نہیں۔ اتخذوا ولداکا صحیح ترجمہ ہے ” لے رکھا ہے ایک بیٹا “۔ ” بنا رکھا ہے ایک بیٹا “ یہاں مسیحیوں کا یہ قول نقل ہو رہا ہے کہ خدا کے ایک بیٹا ہے۔ بلکہ یہ کہ خدا نے ایک بیٹا بنا لیا ہے۔ اتخاذ ولد کا صاف مفہوم یہ ہے کہ خدا نے گویا کسی کو متبنی کرلیا ہے۔ “ قرآن مجید کی تلمیحات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے قرآن کے صدہا مقامات کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ، اِتَّخَذَ وَلَدًا کا ترجمہ ہے، لے رکھا ہے ایک بیٹا، بنا رکھا ہے ایک بیٹا، یہاں مسیحیوں کا یہ قول نہیں نقل کیا جا رہا ہے کہ خدا کے ایک بیٹا ہے بلکہ کہا جا رہا ہے خدا نے ایک بیٹا بنا لیا ہے، مطلب یہ کہ خدا نے کسی کو تنبیٰ بنا رکھا ہے۔ فرقہ اتخاذی : ایک فرقہ اتخاذیوں (AD۔ PTI۔ NISTS) کے نام سے گزرا ہے ان کے مرکزی عقیدہ کے لئے اصطلاحی لفظ تبنیت یا اتخاذیت (AD۔ PTI۔ NISM) ہے، اس عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) خلیفہ خدا نہیں، وہ خدا پیدا نہیں ہوئے، وہ شروع سے خود بخود بنے بنائے خدا نہیں ہیں ؛ بلکہ اصلاً وخلقہً وہ انسان ہی تھے، البتہ اقنوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ( اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے) مدینہ کے یہود کہا کرتے تھے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور بخران کے نصاریٰ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نسبت کہتے تھے کہ اللہ کے بیٹے ہیں اور مشرکین عرب بکتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ان سب کے رد میں حق تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ارشاد فرمائی۔ سُبْحٰنَهٗ ( سبحان اللہ) کیا مہمل بات ہے) یعنی میں اللہ تعالیٰ کی اس امر سے پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں کیونکہ ولادت اس امر کو مقتضی ہے کہ مولود اور والد میں مشابہت ہو اور ولد والد کا جزء ہو اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ اس سے پاک ہے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(116) اب یہود اور نصاری کا مقالہ بیان کررہے ہیں کہ یہود حضرت عزیر کو حق تعالیٰ کا بیٹا اور عیسائی حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اولاد اور شریک سے پاک ہے، جیسا تم کہتے ہو ایسا نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان میں جتنی بھی مخلوق ہے وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے، سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی توحید کے قائل ہیں، زمین و آسمان کے وجود اور اس کی مثال سے پہلے حق تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اللہ کی مسجدوں سے روکنے والوں کا یہ ایک اور ظلم بیان فرمایا کہ انھوں نے کہا، اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔ چناچہ یہود نے عزیر ؑ کو اور نصاریٰ نے مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قراردیا، اسی طرح مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اس کا رد فرمایا، پہلے ”سبحانہ“ کے ساتھ کہ اولاد تو محتاجی کی دلیل ہے اور اللہ اس سے پاک ہے۔ (دیکھیے سورة بنی اسرائیل : 111)۔ دوسرے یہ کہ اللہ آسمان و زمین کا مالک ہے، جس میں عزیر ؑ ، مسیح ؑ اور فرشتے سب شامل ہیں۔ مالک اور مملوک باپ بیٹا کیسے ہوسکتے ہیں ! بیٹا تو باپ کا مملوک بن بھی جائے تو خود بخود آزاد ہوجاتا ہے۔ تیسرا یہ کہ بیٹا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 116 اس میں پانچ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا اتخذ اللہ ولدًا یہ نصاریٰ کے متعلق خبر ہے۔ انہوں نے کہا تھا : المسیح ابن اللہ (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے) نعوذ باللہ من ذالک۔ بعض نے فرمایا : عرب کے کفار کے متعلق خبر ہے کہ انہوں نے کہا : الملائکۃ بنات اللہ (ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں) اسی طرح کی اخبار جاہل کفار کے متعلق ہیں کہ انہوں نے حضرت مریم اور انبیاء کرام کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھا۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سبحنہ بل لہ امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، فرمایا : اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھ کو ابن آدم نے جھٹلایا اور اس کو یہ لائق نہیں تھا اور ابن آدم نے مجھ کو گالی دی اور اس کو یہ لائق نہیں تھا اس کو جھٹلانا یہ ہے کہ وہ گمان ہوتا ہے تو میں اس کو دوبارہ لوٹانے پر قادر نہیں ہوں جیسے وہ تھا اور اس کا مجھ کو گالی دینا یہ ہے کہ اس کا یہ کہنا میرا بیٹا ہے اور میں بیوی اور بیٹے سے پاک ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے شریک قرار دینا بڑا گناہ ہے (2) امام بخاری، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

( وَقَالُوا : اور انہوں نے کہا ) (اتَّخَذَ : بنایا ) ( اللّٰہُ : اللہ نے ) (وَلَدًا : ایک بیٹا) (سُبْحَانَـــــہٗ : اس کی پاکیزگی ہے) (بَلْ لَّـــــہٗ : بلکہ اس کی ملکیت ہے) (مَا : جو کچھ) (فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں میں اور زمین میں ہے) (کُلٌّ لَّـــــہٗ : سب اس کی ) (قٰنِتُوْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ہیں) و ل د وَلَدَ (ض) لِدَۃً ۔ وِلادۃً ۔ وِلَادًا (ض) : بچہ جننا۔ { وَلَا یَلِدُوْا اِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا ۔ } (نوح) ” اور وہ لوگ نہیں جنیں گے مگر گنہگار ناشکرے کو “۔ وَالِدٌمؤنث وَالِدَۃٌ (اسم الفاعل): پیدائش کا باعث ہونے والا۔ والد ‘ باپ۔ { وَاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 116–117

اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی گمراہی اس آیت شریفہ میں مشرکین کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں پھر فوراً ہی سُبْحَانَہٗ فرما کر ان کی تردید کی اور خالق ومالک جل و علیٰ کی تنزیہہ بیان فرمائی، اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے کا شرکیہ عقیدہ یہود میں بھی رہا ہے کیونکہ وہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے تھے۔ اور نصرانیوں کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں۔ سورة توبہ میں ہے : (وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُنِ ابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–117

شناعت سی ام ایضا باشتراک نصاریٰ ومشرکین قال تعالیٰ وقالو اتخذ اللہ ولدا سبحنہ۔۔۔ الی۔۔۔ کن فیکون۔ اللہ کی مسجدوں کو ویران کرنا بلاشبہ ظلم ہے مگر یہ ظالم اس سے بڑھ کر شرک کے ظلم عظیم میں مبتلا ہیں اور وہ ظلم عظیم یہ ہے کہ یہ ظالم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے لیے اولاد بنائی ہے۔ یہود کہتے ہیں کہ حضرت عزیر خدا کے بیٹے تھے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ حضرات عیسیٰ خدا کے بیٹے تھے اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتاتے ہیں۔ سبحان اللہ کیا احمقانہ اور گستاخانہ کلمہ ہے سب کو معلوم ہے کہ اللہ سبحانہ توالد اور تناسل سے پاک اور منزہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کا ہونا عقلاً ناممکن ہے اس لیے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

چوتھا شکوہ۔221 قالوا کا فاعل یہود، نصاری اور مشرکین عرب تینوں گروہ ہیں۔ کیونکہ تینوں کا ذکر پہلے گذر چکا ہے۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور مشرکین عرب کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا۔ سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے لیے حقیقی اولاد ثابت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہ حضرت اللہ تعالیٰ کو اس قدر پیارے ہیں کہ اس نے ان کو بیٹے بنا لیا ہے اور بیٹے سے ان کی مراد نائب ومختار تھی یعنی جس طرح بیٹا اپنے باپ کا نائب ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنے اختیارات میں سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 116–119

(اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے) اہل کتاب کے غلط عقائد کی بحث مسلسل چلی آرہی ہے ان آیات میں ان کی ایک اور بدعقیدگی کا بیان ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے (آیت) ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ اس غلط عقیدے میں یہ تینوں گروہ شامل ہیں یعنی یہود ، نصاری اور مشرکین ” قالوا “ کی ضمیر ان تینوں کی طرف لوٹتی ہے ، سورة توبہ میں موجود ہے کہ یہودیوں کے ایک فرقہ نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنایا ہے ، (آیت) ” وقالت الیھود عزیر ابن اللہ “۔ اگرچہ تمام یہود کا یہ عقیدہ نہیں ہے ، تاہم ایک گروہ ایسا ہے جو اہل کتاب میں شامل ہے مگر عقیدہ یہ رکھتا ہے اسی طرح نصاری کا عقیدہ تو واضح ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا۝ 0 ۙ سُبْحٰنَہٗ۝ 0 ۭ بَلْ لَّہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ كُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ۝ 116 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 116–117

ترکیب : وقالوا فعل ھم ضمیر فاعل اتخذ فعل اللہ فاعل ولدًا مفعول بہ جملہ مل کر مقولہ ہوا سبحانہ جملہ معترضہ بدیع بمعنی مبدع مضاف السموات والارض مضاف الیہ مجموعہ خبر مبتدا محذوف کی ای ہو واذا قضٰی الخ شرط فانما یقول الخ جواب شرط۔ تفسیر : یہاں سے عیسائیوں کے خیالات فاسدہ کا رد شروع ہوتا ہے۔ عیسائیوں کا اول عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے فرزند ہیں۔ یہ خیال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے روبرو حواریوں میں نہ تھا بلکہ بعد میں پیدا ہوا۔ قدیم عہدنامہ میں یہ لفظ محبت اور پیار کی راہ سے بعض اور بندوں پر بھی اطلاق ہوا ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے جو کبھی خدا تعالیٰ کو محبت میں باپ کہا ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 116–117

وَقَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًالا سُبْحٰنَہٗ ط بَلْ لَّہٗ مَافِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ ۔ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فِاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک بیٹا بنا لیا ہے۔ پاک ہے وہ بلکہ اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب اس کے فرماں بردار ہیں وہ موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اتنا ہی اس سے کہتا ہے کہ ہوجا بس وہ ہوجاتا ہے) (البقرۃ : 116 تا 117) ولد کی تحقیق ” ولد “ کا لفظ مذکر مؤنث اور واحد جمع سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 116–117

فہم القرآن ربط کلام : جب زمین و آسمان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ تو اسے اولاد کی کیا ضرورت وہ تو کن کہتا ہے اور ہر چیز اس کی مرضی کے مطابق معرض وجود میں آجاتی اور اس کی غلامی میں لگ جاتی ہے۔ اولاد کی حاجت انسان کو ہے اللہ تعالیٰ ان حاجات اور کمزوریوں سے پاک ہے۔ سلسلۂ کلام سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ انبیاء کے گستاخ، دین کے لیے ننگ و عار ‘ عبادت خانوں کی بےرونقی کا باعث اور اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے والے ہیں۔ جس کی بنا پر یہودیوں نے جناب عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا اور عیسائیوں نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے حضرت مریم کو خدا کی بیوی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا بیٹا ٹھہرایا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

116: وَقاَلُوا اتَّخَذَاللّٰہُ وَلَدًا : (وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا) ان کے قول سے مراد مسیح ابن اللہ اور عزیر ابن اللہ ہے۔ قراءت : شامی نے قالوا پڑھا ہے پس وائو کو ثابت ماننے کی صورت میں یہ واقعہ ماقبل پر معطوف ہوگا اور اگر وائو کا حذف مانیں تو یہ جملہ مستانفہ اور الگ واقعہ ہے۔ سُبْحٰنَہٗ : (وہ سبحان ہے) ۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور منزہ ہے۔ بَلْ لَّہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : (بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے) یعنی وہ اس کا خالق ومالک ہے۔ اور مسیح وعزیر اس کے مملوک و مخلوق ہیں۔ اور ولادت بذات خود مالکیت کے منافی ہے۔ کل کی نحوی تحقیق : کُلٌّ لَّہٗ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 116۔: (آیت)” وقالوا اتخذاللہ ولدا “ ابن عامر نے ” قالوا “ پڑھا بغیر واؤ کے اور باقیوں نے (آیت)” وقالوا اتخذاللہ ولدا “ یہ آیت یہود مدینہ کے بارے میں نازل ہوئی ، جب انہوں نے حضرت عزیز (علیہ السلام) کو خدا کو بیٹا کہا اور نصاری نجران کے بارے میں نازل ہوئی ، جب انہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے اور مشرکین عرب کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے کہا فرشتے خدا تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں (سبحانہ) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو عالی منزہ قرار دیا اور عظمت بیان کی ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے وہ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 116–117

(116 ۔ 117) ۔ یہود حضرت عزیر کو نصاری حضرت عیسیٰ کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جھٹلایا۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باپ اور اولاد میں کچھ مناسبت ضرور ہے۔ اللہ کی ذات پاک تو نرالی ہے۔ زمین آسمان عزیر۔ مسیح۔ ملائکہ سب کچھ اس کا پیدا کیا ہوا عالم ہے۔ خالق اور مخلوق میں کیا مناسب ہے جو مخلوقات میں سے کسی کو اس ذات پاک کی بی بی اور کسی کی اولاد قرار دیا جاوے اس طرح کی بات کا منہ سے نکالنا اس طرح کا ایک بہتان ہے جس سے آسمان پھٹ کر گرے تو گر سکتا ہے پہاڑ جگہ سے ہل جاویں تو ہل سکتے ہیں۔ صحیحین اور صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 116–117

(آیت) وقالوا۔ یعنی یہود و نصاریٰ ، مشرکین اور ان تمام لوگوں نے کہا جو کہتے ہیں : (آیت) اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ ” اللہ نے بیٹا بنا لیا۔ “ انہوں نے ایسی بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جو اس کی جلالت شان کے لائق نہ تھی۔ انہوں نے بہت برا کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس گستاخی پر صبر کرتا ہے، حلم سے کام لیتا ہے، انہیں معاف کر کے انہیں رزق عطا کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں نقص ثابت کرتے ہیں۔ (آیت) سبحٰنہ۔ یعنی وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جن سے یہ اہل شرک اور اہل ظلم اسے متصف کرتے ہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔۔۔ پس پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے : وقال اتخذ اللہ ولداً سبحانہ بل لہ ما فی السموت والارض (ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اللہ پاک ہے۔ ان باتوں سے، اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ انسان کی اپنے بیٹے پر ملکیت باقی نہیں رہتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول : بل لہ ما فی السموت والارض سے ملکیت کے اثبات کے ذریعے ولد کی نفی کردی، یعنی بیٹا اللہ کی ملکیت ہوتا ہے اللہ کا بیٹا نہیں ہوتا۔ یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے : وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولداً ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمٰن عبداً (رحمٰن کی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

321 اہل باطل کا قول مردود کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد ٹھہرائی ہے : چناچہ یہود نے حضرت عزیر کو، نصاریٰ نے حضرت مسیح ابن مریم کو، اور مشرکین مکہ نے فرشتوں کو، خدا کی اولاد ٹھہرایا اور اپنے ہی طور پر یہ بھی قرار دے دیا کہ انہی حضرات کو خوش کرنے کی کوشش کرو، یہ اللہ کو خود راضی کر دینگے، اور ہمارا کام بنا دینگے۔ اس طرح شیطان مَرِید نے ان لوگوں کو اپنے خالق ومالک حقیقی کی عبادت و بندگی کے شرف سے محروم کر کے، اور ان کو سیدھی راہ سے ہٹا کر، طرح طرح کے اوہام و خرافات کے خود ساختہ جالوں میں بری طرح سے الجھا اور پھنسا دیا۔ اور افسوس کہ امم سابقہ کی یہی عمومی اور اجتماعی بیماری اس آخری امت، امت محمدیہ میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اللہ کی کوئی اولاد نہیں تشریح : یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ وضاحت فرماتے ہیں کہ یہ سب بہت بڑا شرک ہے، کیونکہ اللہ کی ذات واحد ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی، نہ بیوی وہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے وہ قادر مطلق ہے، وحدہ لاشریک ہے، صمد ہے یعنی نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس کو کسی کی مدد درکار ہے، وہ اکیلا ہے اور ہر رشتہ، ہر مدد سے بےنیاز ہے۔ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے، ہر چیز اللہ کی فرمانبردار ہے اور ہر وقت اس کی تعریف میں مصروف رہتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 113–121

آیات 113- 121 اسرارو معارف اب ان کا حال دیکھئے کہ یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کا مذہب کوئی بنیاد ہی نہیں رکھتا انجیل کے کتاب اللہ ہونے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا دیکھا دیکھی نصاریٰ نے دین موسوی اور تورات کا انکار کردیا اور لگے کہنے یہ بےبنیاد نظریات ہیں حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں اور آسمانی کتب بنیادی عقائد کی یکساں تبلیغ کرتی ہیں اور توحید و رسالت ، آخرت حشر ونشر کے حقائق ایک سے بیان کرتی اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں تو اس طرح ان دونوں گروہوں نے گویا خود اپنی کتاب کا بھی انکار کردیا۔ اور انہی کی طرح جہلاء اور مشرکین کو بھی کتب الٰہیہ کے انکار کا موقع مل گیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں یہو دونصاری اور مشرکین کی تردید ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت عزیر (علیہ السلام) اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھا تھا اور بتایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور اس کے فرنبردار بندے اللہ تعالیٰ اس قسم کی نسبت سے پاک اور منزہ ہے۔ (ابن کثیر) قنوت کے معنی کے لیے دیکھئے آیت 238 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:116) اتخذ۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے اختیار کیا۔ اس نے پسند کیا۔ ولدا۔ اسم جنس۔ کوئی بچہ۔ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اولاد۔ سبحنہ۔ سبحن پاک ہے۔ نصب ۔ نیز مفرد کی طرف اضافت اس کی لازم ہے ۔ خواہ مفرد اسم ظاہر ہو۔ جیسے سبحان اللہ۔ (اللہ پاک ہے) یا اسم ضمیر ہو جیسے سبحنہ وہ پاک ہے۔ سبحنک تو پاک ہے۔ سبحن مصدر ہے جس کے فعل کو کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ بل۔ حرف اضراب ہے یہ نہیں جو پہلے جملہ میں کہا گیا (کہ اس کی اولاد ہے) بلکہ سچ بات یہ ہے کہ اگلے جملہ میں بیان ہو رہی ہے۔ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے (نیز ملاحظہ ہو 2:135) قانتون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قانت واحد۔ اطاعت کرنے والے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 113–117

لغات القرآن : آیت نمبر 113 تا 117 قالت (کہا) ۔ علی شیء (کسی حقیقت پر، کسی بنیاد پر) ۔ یتلون (وہ پڑھتے ہیں) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ بینھم (ان کے درمیان) ۔ تختلفون (وہ اختلاف کرتے ہیں ) ۔ اظلم (زیادہ ظلم) ۔ منع (روک دیا) ۔ ان یذکر (یہ کہ یاد کیا جائے) ۔ سعی (و ہ کوشش کرتا ہے۔ اس نے کوشش کی) ۔ خراب (بربادی، خرابی) ۔ خائفین (ڈرنے والے) ۔ خذی (رسوائی) اینما (جس طرف) ۔ وجہ اللہ (اللہ کا چہرہ، یعنی اللہ کی ذات موجود ہے) ۔ ولد (بیٹا) ۔ سبحانہ (اس کی ذات پاک اور بےعیب ہے) ۔ قانتون (فرماں بردار، جھکنے والے) ۔ بدیع (پیدا کرنے والا) ۔ قضی (اس نے فیصلہ کرلیا) ۔ کن (ہوجا) ۔ یکون (وہ ہوجاتا ہے) ۔ تشریح :…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 116–117

شان نزول : یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جھٹلایا ۔ صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نے مجھ کو جھٹلایا او مجھ کو گالیاں دیں ۔ جھٹلایا تو یوں کہ میں اپنے کلام میں اس کو ایک دفعہ مار کر پھر جلانے کی خبر دیتا ہوں اور وہ اس بات کو جھٹلاتا ہے ۔ او گالیاں یہ دیں کہ وہ مجھ کو صاحب اولاد قرار دیتا ہے ۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا برد بار ہے لوگ اس کے بیٹا بیٹی ٹھہرا تے ہیں مگر وہ ان کو رزق اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 113–118

[77] یہودیوں نے تورات پڑھ کر سمجھ لیا کہ جب نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا تو بیشک وہ کافر ہوگئے۔ اور نصاریٰ نے انجیل میں صاف دیکھ لیا کہ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کر کے کافر ہوگئے۔ [78] یعنی مشرکین عرب کہنے لگے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی حق پر نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 115–116

خدا کا کوئی ولد نہیں : (ف 2) اسلام سے پہلے مشرک فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ، حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کے اکلوتے اور پہلوٹھے بیٹے ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے سبحانہ یعنی اللہ جل جلالہ اس قسم کے مشرکانہ اوصاف سے پاک ہیں : دلیل یہ ہے کہ ساری کائنات اس کے قبضہ قدرت میں ہے ، ہر چیز اس کی تسبیح وقنوت میں مصروف ہے ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک سب اس کی حمد وثنا کر رہے ہیں ، کیا تمہیں آسمانوں اور زمینوں میں کوئی اور قوت کار فرما نظر آتی ہے ؟ فرشتے بھی اس کے محکوم ہیں ، حضرت عزیز (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بھی اس نے پیدا کیا ہے اور دوسری مخلوق کو بھی ، کیا ایک قانون بھی قدرت کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 116–117

ف 3 اور لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے میں اسکی جملہ عیوب سے پاکی بیان کرتا ہوں اس کو صاحب اولاد کہنا کس قدر لغو اور مہمل بات ہے بلکہ جو مخلوق بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسکی مملوک ہے اور مملوک ہونے کے ساتھ سب اسکے محکوم اور مطیع و منقاد ہیں کہ اس کا ہر حکم ان پر جاری اور نافذ ہوکر رہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا موجد ہے اور اسکی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ بس اس کو کہہ دیتا ہے ہوجا ! سو وہ ہوجاتا ہے۔ یہود حضرت عزیر کو اور نصاریٰ حضرت مسیح کو ابن اللہ کہا کرتے تھے اور کبھی اپنے آپکو بھی خدا کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے۔ نحن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 115–116

ف 6۔ یہود نے حکم تبدیل قبلہ پر اعتراض کیا تھا اس کا جواب حق تالی یہ دیتے ہیں کہ اللہ کی مملوک ہیں سب جہتیں جب وہ مالک ہیں تو جس جہت کو چاہیں قبلہ مقرر کردیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی اولاد بنانے والوں کا اصل موقف کیا ہے ؟ 217: کوئی قوم جب کوئی نظریہ قائم کر کے اپنے عقائد میں داخل کرلیتی ہے وہ اس کو چھوڑنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتی۔ اس نظریہ کی غلطی ثابت کرو تو وہ غلط ثابت کرنے والوں کو ہزار بار غلط کہیں گے۔ مرنے مارنے پر تل جائیں گے لیکن اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔ دیکھو یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہا تو عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تسلیم کرلیا۔ ان کی دیکھا دیکھی مشرکین مکہ نے ملائکہ کو اللہ کی لڑکیاں قرار دے دیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ان تمام تعلقات اور قیود سے پاک ہے اور زمین و آسمان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 116–117

As the Holy Qur'an reports in some other verses, some of the Jews called the Prophet Uzayr (علیہ السلام) (Ezra) the son of God, as did the Christians in the case of Sayyidna ` Isa (Jesus علیہ السلام)~ and most of them still do, while the mushrikin مشرکین of Makkah considered the angels to be the daughters of God. These two verses show the absurdity of such assertions. For, even on rational grounds, it is totally impossible that God should have offspring. Were it at all possible, the situation would necessarily involve either of the two alternative characteristics -- the offspring would belong…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 115–117

115. God is neither eastern nor western. East and west, north and south, and indeed all places and directions are His, though He is not confined to any particular place or direction. Hence, if any place or direction is fixed for worship this does not mean that God dwells there. Likewise, changes in the direction of Prayer is not a proper subject for controversy and dispute. 116. That is, God is neither limited, mean, narrow-minded, nor poor in resources. All such notions about God, which arise from considering Him as essentially similar to human beings, are erroneous. God's realm is boundless…

Read the full tafseer →