نصاریٰ اور یہودی مکافات عمل کا شکار !
اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد نصاریٰ ہیں دوسرا یہ کہ اس سے مراد مشرکین ہیں نصرانی بھی بیت المقدس کی مسجد میں پلیدی ڈال دیتے تھے اور لوگوں کو اس میں نماز ادا کرنے سے روکتے تھے، بخت نصر نے جب بیت المقدس کی بربادی کے لئے چڑھائی کے تھی تو ان نصرانیوں نے اس کا ساتھ دیا تھا اور مدد کی تھی، بخت نصر بابل کا رہنے والا مجوسی تھا اور یہودیوں کی دشمنی پر نصرانیوں نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا اور اس لئے بھی کہ بنی اسرائیل نے حضرت یحییٰ بن زکریا ؑ کو قتل کر ڈالا تھا اور مشرکین نے بھی رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ والے سال کعبتہ اللہ سے روکا تھا یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 114
یعنی بجائے اس کے کہ عبادت گاہیں اس قسم کے ظالم لوگوں کے قبضہ و اقتدار میں ہوں اور یہ ان کے متولّی ہوں، ہونا یہ چاہیے کہ خدا پرست اور خدا ترس لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار ہو اور وہی عبادت گاہوں کے متولّی رہیں، تاکہ یہ شریر لوگ اگر وہاں جائیں بھی، تو انہیں خوف ہو کہ شرارت کریں گے تو سزا پائیں گے۔۔۔۔ یہاں ایک لطیف اشارہ کفار مکہ کے اس ظلم کی طرف بھی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے ان لوگوں کو جو اسلام لا چکے تھے، بیت اللہ میں عبادت کرنے سے روک دیا تھا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(یہود تو قبلہ کا حکم بدلنے کے وقت طرح طرح کے اعتراض کرکے کم سمجھ لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرتے تھے اگر وہ شبہات عام طور پر قلوب میں اثر کرتے تو ان کا لازمی نتیجہ انکار رسالت اور ترک نماز نکلتا اور ترک نماز سے مسجد کی ویرانی لازم ہے تو گویا یہ یہودی اس طور سے ترک نماز اور ویرانی مساجد خصوصاً مسجد نبوی میں بھی کوشاں تھے اور روم کے بعض سلاطین جو نصاریٰ ان کے افعال کا انکار بھی نہ کرتے تھے گو وہ نصرانی نہ ہوں کسی زمانے میں یہود وشام پر چڑھ آئے تھے قتل و قتال بھی ہوا اور اس وقت بعض جہلاء کے ہاتھ سے مسجد بیت المقدس کی بےحرمتی بھی ہوئی اور بدامنی کی وجہ سے اس میں نماز وغیرہ کا اہتمام…
Read the full tafseer →ایک دوسرے کے معابد کی تخریب : یہ اشارہ ہے ان مدعیان جنت کے ان کارناموں کی طرف جو انہوں نے باہمی عناد و عداوت کی بنا پر ایک دوسرے کے معابد کو تباہ و برباد کرنے کے سلسلہ میں انجام دیے۔ تاریخوں سے ثابت ہے کہ یہود و نصاری کے درمیان بیت المقدس میں بھی ایک دوسرے کو ذکر و عبادت سے روکنے کے لیے نہایت خونریز جنگیں ہوچکی ہیں اور باہر بھی جہاں جہاں اور جب جب ان میں سے کسی کو موقع ملا ہے اس نے مخالف فریق کے عبادت خانے برباد کرنے کی کوشش کی ہے۔ علاوہ ازیں تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ نصاریٰ نے لوگوں کو حج بیت اللہ سے روکنے کی سعی کی لیکن جب اس کوشش میں ان کو ناکامی ہوئی تو ابرہہ نے مکہ پر چڑھائی کردی اور خانہ…
Read the full tafseer →114۔ 1 جن لوگوں نے مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرنے سے روکا، یہ کون ہیں ؟ ان کے بارے میں مفسرین کی دو رائے ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ اس سے مراد عیسائی ہیں، جنہوں نے بادشاہ روم کے ساتھ ملکر بیت المقدس میں یہودیوں کو نماز پڑھنے سے روکا اور اس کی تخریب میں حصہ لیا، لیکن حافظ ابن کثیر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کا مصداق مشرکین مکہ کو قرار دیا، جنہوں نے ایک تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کردیا اور یوں خانہ کعبہ میں مسلمانوں کو عبادت سے روکا۔ پھر صلح حدیبیہ کے موقعے پر بھی یہی کردار دہرایا اور کہا کہ ہم اپنے آباو اجداد کے قاتلوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، حالانکہ خانہ کعبہ میں…
Read the full tafseer →74: اوپر یہود و نصاری اور مشرکین عرب تینوں گروہوں کا ذکر آیا ہے، یہ تینوں گروہ کسی نہ کسی زمانے میں اور کسی نہ کسی شکل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت گاہوں کی بےحرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں، مثلاً عیسائیوں نے شاہ طیطوس کے زمانے میں بیت المقدں پر حملہ کرکے اسے تاخت و تاراج کیا، ابرہہ نے جو عیسائی ہونے کا مدعی تھا بیت اللہ پر حملہ کرکے اسے ویران کرنے کی کوشش کی، مشرکن مکہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے روکتے رہے اور یہودیوں نے بیت اللہ کے تقدس سے انکار کرکے عملاً لوگوں کو اس کی طرف رخ کرنے سے روکا، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک طرف ان میں سے ہر ایک کا دعوی یہ ہے کہ تنہا وہی جنت کا حق دار ہے اور…
Read the full tafseer →اقرب الی الذہن یہ ہے کہ ان دوآیات کا تعلق مسئلہ تحویل قبلہ سے ہے ۔ کیونکہ اس مرحلے پر یہودی اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ مسلمانوں کو نئے قبلہ کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے سے باز رکھیں ، حالانکہ کعبہ وہ پہلا عبادت خانہ تھا جو عوام کے لئے بنایا گیا اور وہی اسبق قبلہ تھا۔ اگرچہ اس آیت کے اسباب ونزول کے سلسلے میں اس کے علاوہ بھی متعدد روایات ہیں۔
بہرحال آیت کی عمومیت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ یہ ایک عام حکم ہے اور اس میں ہر کسی کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مساجد میں اس کے ذکر دفکر اور عبادت سے روکیں۔ یا ان مساجد کی تخریب کے درپے ہوں ۔ یہاں ایسے لوگوں کا حکم اور وہ جزا…
Read the full tafseer →4 اس کے شان نزول نصاریٰ ہیں کہ انہوں نے یہود سے مقاتلہ کرکے تورات کو جلایا اور بیت المقدس کو خراب کیا یا مشرکین مکہ کہ انہوں نے مسلمانوں کو محض تعصّب وعناد سے حدیبیہ میں مسجد حرام (بیت اللہ) میں جانے سے روکا۔ باقی جو شخص کسی مسجد کو ویران یا خراب کرے وہ اسی حکم میں داخل ہے۔
5 یعنی ان کفار کو لائق یہی تھا کہ مساجد اللہ میں خوف و تواضع اور ادب و تعظیم کے ساتھ داخل ہوتے کفار نے جو وہاں کی بےحرمتی کی یہ صریح ظلم ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس ملک میں حکومت اور عزت کے ساتھ رہنے کے لائق نہیں۔ چناچہ یہی ہوا کہ ملک شام اور مکہّ اللہ نے مسلمانوں کو دلوا دیا۔
6 یعنی دنیا میں مغلوب ہوئے، قید میں پڑے مسلمانوں…
Read the full tafseer →آیت 114 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ
مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں حاضری سے محروم کردیا تھا اور ان کو وہاں جانے کی اجازت نہ تھی۔ 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رض کے ہمراہ عمرے کے ارادے سے مکہ کا سفر فرمایا ‘ لیکن مشرکین نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اس موقع پر صلح حدیبیہ ہوئی اور آپ ﷺ ‘ کو عمرہ کیے بغیرواپس آنا پڑا۔ پھر اگلے برس 7 ہجری میں آپ ﷺ نے صحابہ کرام رض کے ہمراہ عمرہ ادا کیا۔ تو یہ سات برسٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان پر بہت شاق گزرے ہیں۔ یہاں مشرکین مکہ کے اس ظلم کا ذکر ہو رہا…
Read the full tafseer →134 جب نصاریٰ یہود پر غالب ہوئے تو انہوں نے یہود کو بیت المقدس میں داخل ہونے اور عبادت کرنے سے روک دیا تھا اور دور نبوی ﷺ میں مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو کعبہ میں نماز ادا کرنے سے روکتے رہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر عمرہ سے روک دیا۔ اس طرح یہ لوگ اللہ کی مساجد کی رونق اور آبادی کے بجائے ان کی بربادی کے درپے ہوئے اور یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کو قطعاً گوارا نہیں۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد مشرکین مکہ کی یہ پابندی ختم ہوئی اور بیت المقدس کو عہد فاروقی ؓ میں مسلمانوں نے عیسائیوں سے آزاد کرا لیا۔ اللہ تعالیٰ کا اس حکم سے منشا یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے متولی خالصتاً اللہ تعالیٰ کی پرستش…
Read the full tafseer →407 ۔ (جیسا کہ مشرکین مکہ نے عین حرم کعبہ میں ذکر و عبادت الہی سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ خصوصا واقعہ حدیبیہ میں) ھؤلاء المشرکون حین حالوا بین رسول اللہ ﷺ یوم الحدیبیۃ وبین ان یدخل مکۃ (ابن جریر عن ابن زید) بعض نے مراد بیت المقدس سے لی ہے کہ وہاں ٹائیٹس titus رومی کے عہد میں رومی مشرکین نے یہود اہل توحید کو ذکر الہی سے روک دیا تھا۔ بہرحال حکم عام ہے قریبی سبب نزول جو کچھ بھی رہا ہو۔ اور حکم کو کسی خاص مسجد یا خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں۔ انہ کل مسجد وھو الصحیح لان اللفظ عام اراد بصیغۃ الجمع فتخصیصہ ببعض المساجد اوفی بعض الازمنۃ محال (ابن عربی) مسجد کے لفظی معنی جائے سجدہ کے ہیں۔…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِنَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ (الآیۃ) جن لوگوں نے مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرنے سے روکا یہ کون ہیں ؟ ان کے بارے میں مفسرین کی رائے مختلف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ ان سے مراد عیسائی ہیں، جنہوں نے بادشاہ روم کے ساتھ مل کر بیت المقدس میں یہودیوں کو نماز پڑھنے سے روکا، اس کی تخریب میں حصہ لیا، ابن جریر نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے، لیکن حافظ بن کثیر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کا مصداق مشرکین مکہ کو قرار دیا ہے، جنہوں نے ایک تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا اس طرح مسلمانوں کو خانہ کعبہ میں عبادت کرنے سے روکا، پھر صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی یہی کردار ادا کیا،…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ ( اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو منع کرے خدا کی مسجدوں میں) وَ مَن اَظْلَمُ میں مَنْ استفہامیہ مبتدا ہے اور اَظْلَمُ اس کی خبر ہے کفار نے اگرچہ ایک ہی مسجد سے روکا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں بصیغہ جمع یعنی مساجد اس لیے ذکر فرمایا کہ حکم تو عام ہی ہے اگرچہ شان نزول خاص ہے۔
اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ ( کہ لیا جائے ان میں خدا کا نام) یہ مَنَعَ کا مفعول ثانی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : وَ مَا منَعَنَا اَنْ نُّرْسِلَ میں ان نرسل۔ مَنَعَنَا کا دوسرا مفعول ہے ان یذکر پر سے من جارہ محذوف ہے یا ان یذکر مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب…
Read the full tafseer →(114) نصاری کا بادشاہ ”تطوس بن اسیانوس“ رومی جس نے ’ بیت المقدس“ کو ویران کیا اب اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس شخص سے زیادہ کس کا کفر ہوگا جس نے ”بیت المقدس“ کو ویران کیا تاکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا نام توحید اور اذان کی وجہ سے بلند نہ ہوا اور ”بیت المقدس“ کی ویرانی کے لیے مرداروں کو اس میں ڈال کر اپنی پوری پوری کوشش اور سعی کی، یہ ویرانی حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ کے لیے مرداروں کو اس میں ڈال کر اپنی پوری پوری کوشش اور سعی کی۔ یہ ویرانی حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ تک باقی رہی اب ان رومیوں کو ”بیت المقدس“ میں داخلہ کے لیے امان حاصل نہیں۔ یہ مسلمانوں سے اپنے قتل ہونے کا خوف کرتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →اپنے گروہ کو حق پر اور اپنے سوا سب کو غلط قرار دینے والے یہ سب لوگ غور کریں کہ ظلم کے ناجائز ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے منع کرے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش کرے۔ یہ کام مشرکین مکہ نے کیا کہ مسلمانوں کو پہلے مکہ سے نکالا، پھر ان کا مکہ میں داخلہ حتیٰ کہ حج و عمرہ کے لیے آنا بند کردیا۔ ان سے پہلے نصاریٰ کا ٹائٹس کے زمانے میں بیت المقدس پر قبضہ ہوا تو انھوں نے یہودیوں کا داخلہ بیت المقدس میں بند کردیا، یہ کیسی حق پرستی ہے ؟
(اِلَّا خَاۗىِٕفِيْنَ) یعنی ایسے ظالم لوگوں کا اللہ کی مساجد کا متولی ہونا تو درکنار، ان کا تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 114
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ، من مبتدا کی حیثیت سے مرفوع ہے اور اظلم خبر ہے مطلب یہ ہے کہ لا احد اظلم، کوئی زیادہ ظالم نہیں ہے۔ اور ان محل نصب میں ہے۔ مسجد سے بدل کے اعتبار سے۔ اور یہ تقدیر بھی جائز ہے : کراھیۃ ان یذکر پھر حذف کیا گیا۔ اور یہ تقدیر بھی جائز ہے : من ان یذکر فیکھا۔ اور حرف جر کو طول کلام کی وجہ سے ان سے پہلے حذف کیا گیا اور یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس اور اس کی محرابیں ہیں۔ بعض نے فرمایا : کعبہ ہے اور جمع ذکر کیا گیا ہے کیونکہ کعبہ مساجد کا قبلہ ہے یا تعظیم کے لئے جمع ذکر کیا گیا۔ بعض…
Read the full tafseer →(1) ابن اسحاق اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے نبی اکرم ﷺ کو مسجد حرام میں کعبہ کے پاس نماز پڑھنے سے منع کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن اظلم ممن منع مسجد للہ “ (الآیہ)
(2) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ “ سے مراد نصاری ہیں۔
(3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) تعالیٰ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ “ سے مراد نصاری ہیں جو بیت المقدس میں تکلیف دینے والی چیزیں ڈال دیتے تھے اور لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔
(4) ابن جریر نے سدی (رح)…
Read the full tafseer →( وَمَنْ : اور کون) (اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے) (مِمَّنْ : ان سے جو ) (مَّنَعَ : روکیں) ( مَسٰجِدَ اللّٰہِ : اللہ کی مسجدوں کو) (اَنْ یُّذْکَرَ : کہ یاد کیا جائے) (فِیْھَا : ان میں) (اسْمُہٗ : اس کے نام کو) (وَسَعٰی : اور کوشش کریں) (فِیْ خَرَابِھَا : ان کی ویرانی میں) (اُولٰئِکَ : یہ لوگ ہیں) (مَا کَانَ لَھُمْ : نہیں تھا جن کے لئے) (اَنْ یَّدْخُلُوْھَا : کہ وہ داخل ہوں ان میں) (اِلاَّ خَائِفِیْنَ : مگر خوف کرنے والے ہوتے ہوئے) (لَھُمْ فِی الدُّنْیَا : ان کے لئے دنیا میں ہے) (خِزْیٌ : ایک رسوائی) (وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ : اور ان کے لئے آخرت میں ہے) (عَذَابٌ عَظِیْمٌ : ایک عظیم عذاب)
م ن…
Read the full tafseer →اللہ کی مسجدوں میں ذکر سے روکنا بہت بڑا ظلم ہے
اس آیت شریفہ میں ان لوگوں کو سب سے بڑا ظالم بتایا ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکیں، ان میں اللہ کا نام لینے اور اللہ کی عبادت کرنے سے منع کریں اور ان کی ویرانی کی کوشش کریں اس کام کے کرنیوالے کون ہیں۔ جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ؟ (معالم التنزیل ص 107 ج 1) میں حضرت عطا اور عبدالرحمن بن زید سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی، ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو مقام حدیبیہ میں روک دیا اور عمرہ کے لیے مسجد حرام تک نہ پہنچنے دیا، مساجد کی آبادی یہ ہے کہ ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
شناعت بست ونہم (29)
باشتراک نصاری ومشرکین
قال تعالیٰ ومن اظلم ممن منع مسجدا اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ واسع علیم۔
یہود اور نصاری اور مشرکین سب ہی اس امر کے مدعی ہیں کہ ہم حق پر ہیں لیکن اگر ذرا غور کریں تو معلوم ہوجائے کہ حق سے کس قدر دور ہیں۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ کی مسجدوں کو اس بات سے روکتا ہے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے خواہ دل سے اور خواہ زبان سے اور خواہ اعضاء اور جوارح سے اور فقط اس پر کفایت نہ کرے بلکہ ان کے ویران اور برباد کرنے کی کوشش کرے مساجد کی بیحرمتی کرنا اور ان کو منہدم کرنا یہ مساجد کی ظاہری تخریب ہے اور عبادت اور ذکر اللہ کی بندش کردینا…
Read the full tafseer →218 تیسرا شکوہ من یہاں استفہام انکاری کیلئے ہے۔ یعنی خدا کے گھروں سے روکنے والوں سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ ولا یراد بالاستفہام حقیقۃ وانما ھو بمعنی النفی فیول الی الخبر ای الا احد اظلم من ذلک (روح ص 263 ج 1) من منع اور مساجد اللہ میں مفسرین نے بعض روایات کی بنا پر تخصیص کی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد نصاریٰ ہیں جنہوں نے یہودیوں کو بیت المقدس سے نکالا اور بیت المقدس کو مسمار کیا اور بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو مقام حدیبیہ پر بیت اللہ سے روکا لیکن بہتر یہ ہے کہ آیت اپنے عموم پر رہے۔ اور اس سے مراد ہر وہ شخص ہو جو مسجدوں کو غیر آباد کرے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
(یہود ونصاری آمنے سامنے)
یہودیوں اور نصاری کی منجملہ خرابیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو باطل قرار دیتا ہے اور اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھتا ہے تیسرا گروہ مشرکین کا ہے جو یہود ونصاری دونوں کو باطل کہہ کر اپنے آپ کو صحیح العقیدہ سمجھتا ہے تو گویا یہود ونصاری ایک دوسرے کا ابطال کرتے ہیں ان آیات میں اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے (آیت) ” وقالت الیھود لیست النصری علی شیئ “۔ یہودی کہتے ہیں کہ نصرانی کسی چیز پر نہیں ہیں (آیت) ” وقالت النصری لیست الیھود علی شیئ “۔ اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی کسی چیز پر نہیں ہیں یعنی ان کا دین سچا نہیں ہے ، اس طرح جب یہ اکھٹے ہوتے ہیں تو آپس میں دست و…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِہَا 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ مَا كَانَ لَھُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَاۗىِٕفِيْنَ 0ۥۭ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 114
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
ترکیب : من استفہامیہ انکاریہ محل رفع میں ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور اظلم اس کی خبر ہے یعنی اس سے کوئی زیادہ ظالم نہیں ممن میں من نکرئہ موصوفہ یا بمعنی الذی ہے ان یذکر موضع نصب میں ہے اس لیے کہ یہ مساجد مفعول منع ہے بدل الاشتمال ہے تقدیرہ ذکر اسمہ فیھما خراب بمعنی تخریب اولئک مبتداء ماکان لھم الخ جملہ اس کی خبر الاخائفین حال ہے ضمیر یدخلوھا سے للہ خبر مقدم المشرق والمغرب مبتداء موخر جملہ مستانفہ فاینما کلمہ شرط تولوا مجزوم بشرط فثم وجہ اللہ جملہ خبریہ جواب شرط۔
تفسیر : عرب میں یہود و نصاریٰ پڑھے ہوئے اور باعلم خیال کئے جاتے تھے قریش مکہ اور دیگر بت پرست قومیں اسلام کے مقابلہ میں انہیں سے مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
ارشاد فرمایا :
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَاللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَفِیْھَااسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِھَا ط اُوْلٰئِکَ مَاکَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَائِفِیْنَ ۔ لَھُمْ فِیْ الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَھُمْ فِیْ الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ق فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔
(اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روک دے کہ ان میں اس کا نام لیاجائے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔ یہ لوگ اس لائق ہی نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں (بھی بڑی) رسوائی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نیا خطاب شروع ہوا ہے جس میں اہل کتاب کے ساتھ مشرکین مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔
یہود و نصاریٰ نے نا صرف ایک دوسرے کی آسمانی کتابوں کی نفی کی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی عظیم شخصیات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ عبادت گاہوں کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے مذہبی منافرت کے مورچے بنا لیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دوسرے کے معبد خانوں پر حملہ آور ہوئے اور طاقتوروں نے عبادت گاہوں کے تقدس و احترام کو پامال کیا۔ بسا اوقات ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی جیسا کہ بیت المقدس کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔ ایسا ہی کردار مشرکین مکہ کا تھا۔ بیت اللہ جس…
Read the full tafseer →114: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ : (اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو منع کرے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں سے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے) قراءت : من ابتداء کی وجہ سے موضع رفع میں ہے اور یہ استفہامیہ ہے۔ اظلم یہ اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کون بڑا ظالم ہے اس شخص سے۔
نحوی تراکیب :
نمبر 1: ان یذکر یہ مَنَعَ کا مفعول دوم ہے کیونکہ محاورہ ہے منعتہ کذا۔ اس کی مثال سورة اسراء کی آیت ومامنعنا ان نرسل بالاٰ یات میں منع کا مفعول اول ناؔ اور دوم ان نرسل بالاٰ یات ہے۔ اور اسی سورت کی آیت نمبر 94 وما منع الناس ان یؤمنوا۔ میں الناس اور ان یؤمنوا دو…
Read the full tafseer →(تفسیر) 114۔:
(آیت)” ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر “ یہ ؤیت ططوس بن اسبیبانوس رومی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس طرح کہ انہوں نے بنو اسرائیل سے لڑائی لڑی ، ان کے جوانوں کو قتل کیا ، بچوں کو قید کیا اور تورات کو جلا دیا اور بیت المقدس کو خراب کیا اور اس میں مردار پھینکے اور اس میں خنزیر ذبح کیے ، یہ بیت المقدس خراب رہا یہاں تک کہ مسلمانوں نے حضرت عمر ؓ کے زمانے میں اسے آباد کیا ، حضرت قتادہ ؓ اور علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ بیت المقدس کو خراب کرنے والا بخت نصر اور اس کے ساتھی تھے اور یہود سے لڑے اور بیت المقدس کو خراب کیا اور اس سلسلہ میں نصاری نے ططوس رومی اور اس…
Read the full tafseer →ہجرت کے بعد 6 ھ میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ذی قعدہ میں عمرہ کے قصہ سے مکہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ نے آپ کو مکہ کے اندر نہ جانے دیا بلکہ راستہ میں ایک مقام جس کا نام حدیبیہ ہے وہاں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی جماعت کو روک دیا جس کا قصہ سورت انا فتحنا میں آئے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ اسی قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور مسجد الحرام میں ذکر الٰہی سے حج والوں یا عمرہ والوں کو روکنا بھی مسجدوں کو اوجاڑنا ہے کیونکہ مسجدوں کی آبادی یہی ذکر الٰہی ہے سورة توبہ میں آئے گا۔ { اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ…
Read the full tafseer →آیت 114
یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جس نے اللہ کی مساجد میں لوگوں کو اللہ کا ذکر کرنے ‘ نماز پڑھنے اور نیکی اور اطاعت کے دیگرک اموں سے روکا۔ (آیت) َسَعٰى۔ یعنی جس نے پوری جدوجہد اور بھرپور کوشش کی (آیت) فِيْ خَرَابِهَا ۭ ” ان کے ویران کرنے میں “ اس سے مراد، حسی اور معنوی دونوں اعتبار سے ویران کرنا ہے۔ حسی ویرانی کا مطلب ہے منہدم کرنا، اجاڑنا اور ان میں گندگی وغیرہ پھینکنا۔ معنوی ویرانی کا مطلب ان مساجد میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنا ہے اور یہ عام ہے، اس زمرے میں وہ تمام لوگ آتے ہیں جو ان صفات سے متصف ہیں۔ اس میں اصحاب فیل بھی شامل ہیں، قریش بھی شامل ہیں، جب انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–114
قول باری ہے : ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین۔ (اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو نہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور اس کی ویرانی کے در پے ہو ؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔ )
معمر نے قتادہ سے روایت بیان کی ہے کہ یہ بخت نصر تھا جس نے بیت المقدس کو ویران کردیا تھا اور اس سلسلے میں نصرانیوں نے اس کی مدد کی تھی : قول باری : اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین میں مذکورہ لوگوں سے مراد نصاریٰ ہیں جو بیت المقدس میں چوری چھپے داخل ہوتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
314 یہود و نصاریٰ میں سے ہر ایک کا دوسرے کو بےدین کہنا : یعنی یہ دونوں ایک دوسرے کو بےبنیاد اور بےدین کہتے ہیں، حالانکہ دونوں آسمانی کتابوں کے حامل ہیں، جو کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، کیونکہ وہ دونوں ایک ہی مصدر فیض سے اتری تھیں، مگر ان کو چونکہ ان لوگوں نے اپنی اہواء و اَغراض کے مطابق بدل کر کچھ کا کچھ کردیا تھا، اس لئے اب واقعتًہ کتاب حق و ہدایت ان میں سے کسی کے پاس بھی نہیں رہی، جس سے اب یہ دونوں ہی گروہ جہالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اب حق و ہدایت کی روشنی قرآن حکیم کے سوا اور کہیں سے بھی نہیں مل سکتی، سو جو لوگ نور قرآن سے محروم ہیں وہ…
Read the full tafseer →مساجد کو ویران کرنے والے
تشریح : یہاں ان دو واقعات کا ذکر کیا جارہا ہے جو یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی مقدس کتابوں کو جلایا اور بیت المقدس کو خراب کیا۔ دوسرا واقعہ 6 ہجری کا ہے جب مشرکوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ میں جانے سے روکا، دونوں واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جب گروہ بندیاں بڑھ جائیں، لوگوں کے دل خوف اللہ سے خالی ہوجائیں۔ تعصب اور فرقہ بندی حد سے بڑھ جائے تو پھر سب سے بڑا کام یہی کیا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا جائے یا ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ لوگ عبادت گاہوں میں جاتے ہوئے ڈریں تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–121
آیات 113- 121
اسرارو معارف
اب ان کا حال دیکھئے کہ یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کا مذہب کوئی بنیاد ہی نہیں رکھتا انجیل کے کتاب اللہ ہونے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا دیکھا دیکھی نصاریٰ نے دین موسوی اور تورات کا انکار کردیا اور لگے کہنے یہ بےبنیاد نظریات ہیں حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں اور آسمانی کتب بنیادی عقائد کی یکساں تبلیغ کرتی ہیں اور توحید و رسالت ، آخرت حشر ونشر کے حقائق ایک سے بیان کرتی اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں تو اس طرح ان دونوں گروہوں نے گویا خود اپنی کتاب کا بھی انکار کردیا۔ اور انہی کی طرح جہلاء اور مشرکین کو بھی کتب الٰہیہ کے انکار کا موقع مل گیا…
Read the full tafseer →ف 2 ابن جریر لکھتے ہیں کہ اس سے بخت نصر اور عیسائی جنہوں نے بیت المقدس کی تخریب کی اور یہود کو اس سے روک دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی روایت ہے کہ عیسائیوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے محض عداوت کی بنا پر یہود کو بیت المقدس میں عبادت گزازنے سے روک دیا تھا۔ (قرطبی) مگر بخت نصر کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے 233 سال قبل کا ہے پھر دو اور ان کے مدد گا عیسائی کیسے مرادہو سکتے ہیں۔ (المنار۔ الجصاص) لہذا اس سے مراد یا تو وہ عیسائی ہوسکتے ہیں جنہوں نے نطوس یا یتطوس رومانی کے ساتھ مل کر بنی اسرائیل سے جنگ کی اور بیت المقدس کو ویران کیا اور یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
(2:114) من استفہامیہ ہے۔ کون ہے ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کوئی نہیں ہے۔
اظلم۔ افعل تفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ ظالم۔
ممن۔ مرکب ہے من حرف جار اور من موصولہ سے۔ اس شخص سے جو۔
منع۔ فعل یا فاعل۔
مسجد اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول منع کا۔
ان یذکر فیہا اسمہ۔ کرلیا جائے ان میں خدا کا نام۔
یہ منع کا مفعول ثانی ہے۔ صاحب تفسیر مظہری نے اس کی مثال وما منعنا ان نرسل (17:59) دی ہے جس میں ان نرسل دوسرا مفعول ہے منع کا۔
وسعی فی خرابھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مسجد کے لئے ہے۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے خرابی معنوی بھی ہوسکتی ہے جس کسی کو مسجد میں اللہ کے ذکر سے منع کیا جائے یا حسی جب اس کوفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–117
لغات القرآن : آیت نمبر 113 تا 117
قالت (کہا) ۔ علی شیء (کسی حقیقت پر، کسی بنیاد پر) ۔ یتلون (وہ پڑھتے ہیں) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ بینھم (ان کے درمیان) ۔ تختلفون (وہ اختلاف کرتے ہیں ) ۔ اظلم (زیادہ ظلم) ۔ منع (روک دیا) ۔ ان یذکر (یہ کہ یاد کیا جائے) ۔ سعی (و ہ کوشش کرتا ہے۔ اس نے کوشش کی) ۔ خراب (بربادی، خرابی) ۔ خائفین (ڈرنے والے) ۔ خذی (رسوائی) اینما (جس طرف) ۔ وجہ اللہ (اللہ کا چہرہ، یعنی اللہ کی ذات موجود ہے) ۔ ولد (بیٹا) ۔ سبحانہ (اس کی ذات پاک اور بےعیب ہے) ۔ قانتون (فرماں بردار، جھکنے والے) ۔ بدیع (پیدا کرنے والا) ۔ قضی (اس نے فیصلہ کرلیا) ۔ کن (ہوجا) ۔ یکون (وہ ہوجاتا ہے) ۔
تشریح :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
ہجرت کے بعد 6 ھ میں آنحضرت ﷺ نے ایک جماعت کے ساتھ ذیقعدہ میں عمرہ کے قصد سے مکہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ نے آپ کو مکہ کے اندر نہ جانے دیا بلکہ راستہ میں ایک مقام جس کا نام حدیبیہ ہے وہاں روک دیا ۔ جس کا قصہ سورة انا فتحنا میں آوے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عنہماکا قول ہے کہ اسی قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسجد الحرام میں ذکر الہی سے حج والوں یا عمرہ والوں کو روکنا بھی مسجدوں کو اجاڑنا ہے ۔ کیونکہ مسجدوں کی آبادی بھی ذکر الہی سے ہے ۔ جو مسجدوں میں نماز پڑھنے اور ذکر الہی سے روکتے ہٰں وہ گویا مسجدوں کے اجاڑنے کے درپنے ہیں ۔ مشرکین مکہ سے رسول کریم ﷺ اور ان کے ساتھ والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–118
[77] یہودیوں نے تورات پڑھ کر سمجھ لیا کہ جب نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا تو بیشک وہ کافر ہوگئے۔ اور نصاریٰ نے انجیل میں صاف دیکھ لیا کہ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کر کے کافر ہوگئے۔
[78] یعنی مشرکین عرب کہنے لگے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی حق پر نہیں۔
Read the full tafseer →اسلامی مساجد انسانی اتحاد کا مرکز ہیں :
(ف 1) مختلف معاہدنے ہمیشہ انسانی جماعتوں کو مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کردیا ہے ، زہرہ کے پجاری مشتری کے ماننے والوں کو اپنے مندروں میں نہیں گھسنے دیتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے نام لیوا عیسائیوں کو نازک سمجھتے ہیں اور اپنے کلیساؤں میں انہیں وہ محل ہونے کی اجازت نہیں دیتے ، غرضیکہ معاہدجن کی غرض انسانیت کا تزکیہ وتطہیر ہوسکتی ہے بجائے خود محاذ جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں ، ہر عبادت گاہ اپنے پس پشت ایک جماعت رکھتی ہے جو اس کے نام پر نسل انسانی میں تفریق پیدا کرے ، پھر معزز اور غیر معزز کا سوال بھی ہزاروں سال سے قائم ہے ہر مندر میں ‘ ہر معبد میں ‘ ہر…
Read the full tafseer →ف 1 اور اس شخص سے بڑھ کر کون گناہ گار ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مساجد میں اس کا نام لینے اور اسکی عبادت کرنے سے روکے اور لوگوں کو منع کرے اور مساجد کی تخریب کرنے کے درپے ہو اور ان کی ویرانی کیلئے کوشش اور سعی کرتا پھرے ان لوگوں کو یہ لائق نہ تھا کہ وہ مساجد میں بغیر کسی خوف اور ڈر کے داخل ہوتے یعنی جب کبھی مسجد میں آتے تو ڈرتے ہوئے آتے اس قسم کے ظالم لوگوں کے لئے دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔ (تیسیر)
مساجد کو ذکر الٰہی سے روکنے اور ان کے ویران کرنے کی کوشش کرنیکا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام لانے سے بازرکھا جائے اور لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا…
Read the full tafseer →ف 5۔ مساجد میں مکہ کی مسجد مدینہ کی مسجد، بیت المقدس کی مسجد اور سب مسجدیں آگئیں۔
Read the full tafseer →دین اسلام میں صرف ایک ہی مرکز کا ہونا ضروری ہے :
214: جس طرح دنیا میں ہر قوم کی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ایک مرکز ہو اسی طرح اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کے لئے ایک مرکز ضروری قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ تمام افراد ملت اس کے ساتھ وابستہ ہوں ہر شخص کو اس کے ساتھ پیوستگی اور مواصلت ہو۔ یہ ایک ایسا قاعدہ کلیہ ہے کہ زمین و آسمان کی ہرچیز اس کے ماتحت کام کر رہی ہے۔ ہزاروں لاکھوں نجوم و کو اکب ، ستارے اور سیارے ہیں مگر سب کا تعلق سورج کے ساتھ ہے ایک درخت کی صدہا ٹہنیاں اور شاخیں ہیں مگر سب کا رزق جڑ سے آتا ہے ۔ ہر دریا اور نہر کے لئے کوئی نہ کوئی چشمہ و مرکز ہے اسی قاعدے کے مطابق ضرورری تھا…
Read the full tafseer →Injunctions and related considerations
Verse 114 lays down, or helps us to infer, some very important injunctions:
All the mosques in the world are equally worthy of respect. Just as it is a great sin to desecrate in any way the Baytul-Maqdis, or the mosque attached to the Ka'bah (Al-Masjid al- Haram) or the mosque of the Holy Prophet ﷺ ، the same prohibition holds good with regard to all other mosques. These three mosques, no doubt, enjoy a superior position, and special respect is to be paid to them. The reward for offering prayers once in Al-Masjid al-Haram is equal to that of praying a…
Read the full tafseer →114. Places of worship should properly remain in the custody of devout and God-fearing people, so that even if bad people did go there they would be deterred from committing misdeeds through fear of punishment. This is a subtle reference to the wrong perpetrated by the unbelievers of Makka, who had barred their own compatriots - the Muslims - from worshipping in the House of God.
Read the full tafseer →