Al-Baqara 2:110

Al-Baqara · from ayah 110

2:110

وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ؕ— وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ  ‌ؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوۡهُ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ

اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And establish prayer and give zakah, and whatever good you put forward for yourselves - you will find it with Allah. Indeed, Allah of what you do, is Seeing.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 13 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:110

نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، سب کچھ اللہ کے پاس پالو گے، بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور (یاد رکھو کہ) جو بھلائی کا عمل بھی تم خود اپنے فائدے کے لیے آگے بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس پاؤ گے بیشک جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نماز قائم (کیا) کرو اور زکوٰۃ دیتے رہا کرو، اور تم اپنے لئے جو نیکی بھی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے حضور پا لو گے، جو کچھ تم کر رہے ہو یقینا اللہ اسے دیکھ رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور جو بھی نیکی تم اپنی جانوں کے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس پالو گے۔ بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے لیے جو بھی نیکی کے کام تم آگے بھیجو گے۔ انہیں اللہ کے ہاں پالو گے۔ اور جو کام تم کرتے ہو بلاشبہ اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے کرو گے اسے اللہ کے پاس پاؤ گے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور قائم رکھو تم لوگ نماز کو، اور ادا کرتے رہو زکوٰۃ، اور (یاد رکھو کہ) جو بھی کوئی بھلائی تم لوگ اپنے لئے آگے بھیجو گے، اسے اللہ (تعالیٰ) کے یہاں (موجود و محفوظ) پاؤ گے، بیشک اللہ (تعالیٰ) پوری طرح دیکھ رہا ہے ان سب کاموں کو، جو تم لوگ کر رہے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ اور جو کچھ بھلائی تم اپنے واسطے آگے بھیج دو گے اسے اللہ کے پاس پالوگے ۔ یقیناً تم جو کچھ کررہے اللہ اس کا خوب دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو بھلائی بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے یقیناً جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نماز قائم کرو اور زکٰوۃ دو ، تم اپنی عاقبت کے لئے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اللہ کی نظر میں ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(Rest assured that) Allah has full power over everything: establish the Salat and pay the Zakat. you will find with Allah whatever good you send forward for your future; Allah is watching everything you do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And be steadfast in Salah (prayer) , and give Zakah. Whatever good you send forth for yourselves, you will find it with Allah. Certainly, Allah is watchful of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani

And be steadfast in Salah (prayer) , and give Zakah. Whatever good you send forth for yourselves, you will find it with Allah. Certainly, Allah is watchful of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And perform the Salah and give the Zakah, and whatever of good you send forth for yourselves before you, you shall find it with Allah. Certainly, Allah is the Seer of what you do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Establish worship, and pay the poor-due; and whatever of good ye send before (you) for your souls, ye will find it with Allah. Lo! Allah is Seer of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And establish prayer and give zakah, and whatever good you put forward for yourselves - you will find it with Allah. Indeed, Allah of what you do, is Seeing.

— Saheeh International

Be steadfast in your prayer and pay the religious tax. You will receive a good reward from God for all your good works. God is Well-aware of what you do.

— Muhammad Sarwar

And keep up prayer and pay the poor-rate and whatever good you send before for yourselves, you shall find it with Allah; surely Allah sees what you do.

— Muhammad Habib Shakir

And establish prayer and give the poor-rate. and whatsoever of good ye send forth for your souls ye shall find with Allah; verily Allah is the Beholder of that which ye work.

— Abdul Majid Daryabadi

And be steadfast in prayer and regular in charity: And whatever good ye send forth for your souls before you, ye shall find it with Allah: for Allah sees Well all that ye do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:110

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 109–110

قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ابن عباس سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابو یاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری کہتے ہیں اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ بھی یہودی تھا اور اپنے شعروں میں حضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا گو ان کی کتاب میں حضور ﷺ کی تصدیق موجود تھی اور یہ بخوبی حضور ﷺ کی صفتیں جانتے تھے اور آپ کو اچھی طرح پہچانتے تھے پھر یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ قرآن ان کی کتاب کی تصدیق کر رہا ہے ایک امی اور ان پڑھ وہ کتاب پڑھتا ہے جو سراسر معجزہ ہے لیکن صرف حسد کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 109–110

سورة الْبَقَرَة 111 یعنی ان کے عناد اور حسد کو دیکھ کر مشتعل نہ ہو، اپنا توازن نہ کھو بیٹھو، ان سے بحثیں اور مناظرے کرنے اور جھگڑنے میں اپنے قیمتی وقت اور اپنے وقار کو ضائع نہ کرو، صبر کے ساتھ دیکھتے رہو کہ اللہ کیا کرتا ہے۔ فضولیات میں اپنی قوتیں صرف کرنے کے بجائے خدا کے ذکر اور بھلائی کے کاموں میں انہیں صرف کرو کہ یہ خدا کے ہاں کام آنے والی چیز ہے نہ کہ وہ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–110

خلاصہ تفسیر (بعض یہود شب وروز مختلف تدبیروں سے دوستی اور خیر خواہی کے پیرایہ میں مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور باوجود ناکامی کے اپنی دھن سے باز نہ آتے تھے حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس پر متبنہ فرما دیا کہ) ان اہل کتاب (یعنی یہود) میں بہتیرے دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر کافر کر ڈالیں (اور یہ چاہنا کچھ خیر خواہی سے نہیں جیسا کہ وہ اظہار کرتے ہیں بلکہ) محض حسد کی وجہ سے جو کہ (تمہاری جانب سے کسی امر کے سبب پیدا نہیں ہوا بلکہ) خود ان کے دلوں ہی سے (جوش مارتا) ہے (اور یہ بھی نہیں کہ ان کو حق واضح نہ ہوا بلکہ) حق واضح ہوئے پیچھے (یہ حالت ہے اب اس پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مخالفین کی مخالفتوں کا علاج : یہ مسلمانوں کو معاندین اسلام کی مخالفتوں کا علاج بتایا گیا ہے کہ اگر تم ان فتنوں پر غالب آنا چاہتے ہو تو نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو اسی سے تمہاری وہ روحانی و اخلاقی تربیت ہوگی جو تمہیں ایک طرف تو مخالفین کی وسوسہ اندازیوں سے بالکل مامون کردے گی، دوسری طرف تم کو جماعتی حیثیت سے ایک ایسی بنیان مرصوص بنا دے گی کہ کوئی طاقت بھی تمہیں ہلا نہ سکے گی۔ قرآن مجید میں نماز اور زکوۃ کو تمام دین کی بنیاد، تمام تربیت و اصلاح کی اساس اور تمام قوت و طاقت کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری ساری چیزوں کو ان کے تابع قرار دیا گیا ہے۔ مکی سورتوں میں جہاں آنحضرت ﷺ کو دشمنوں کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

یہودیوں کو اسلام اور نبی ﷺ سے جو حسد اور عناد تھا اس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیرنے کی مذموم سعی کرتے رہتے تھے۔ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ تم صبر اور درگزر سے کام لیتے ہوئے ان احکام و فرائض اسلام کو بجا لاتے رہو۔ جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 108–110

72: یہ خطاب یہودیوں کو بھی ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے بجائے طرح طرح کے مطالبے پیش کرتے تھے اور ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی یہ سبق دیا جارہا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کے باوجود یہودی ان سے نامعقول اور غیر ضروری سوالات اور مطالبے کرتے رہے، تم ایسا نہ کرنا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

غرض اس پورے پیراگراف میں اسلامی جماعت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور مسلمانوں کی فکر کو اس پر مرکوز کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کے خطرے کی اصل جگہ کون سی ہے ۔ کہاں ان کے خلاف سازشیں تیارہوتی ہیں ۔ یوں اسلامی شعور کو یہودیوں کے برے ارادوں ، گھٹیا سازشوں اور مذموم حاسدانہ جذبات کے مقابلے میں تیار کیا جاتا ہے لیکن اس کی تیاری کے بعد اس اسلامی شعور کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کردیا جاتا ہے تاکہ مسلمان اس کے احکام کے منتظر ہوں اور اپنی ہر حرکت اور اپنے ہر فعل کو اللہ کے تصرف میں دے دیں ۔ یہاں تک کہ فیصلے کی گھڑی آجائے ۔ اس وقت مسلمانوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ عفو و درگذر سے کام لیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی ان کی ایذاء پر صبر کرو اور عبادات میں مشغول رہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے غافل ہرگز نہیں۔ تمہاری کوئی نیک بات ضائع نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 110 وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ط وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ط جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کر رہے ہو وہ اللہ کے بینک میں جمع deposit ہوجاتا ہے اور مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 110–111

129 (فَاعْفُوْا) سے لے کر مسلسل مسلمانوں سے خطاب ہے۔ یعنی یہود کی شرارتوں کی طرف توجہ دینے کے بجائے اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو، ایسے تمام کاموں کا تمہیں یقینا آخرت میں بدلہ مل جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

393 ۔ (اس درمیان میں اے مسلمانو) مطلب یہ ہے کہ زمانہ جہاد کے احکام دوسرے ہیں جب تک وہ نافذ نہ ہوں ان کے انتظار میں عام احکام اسلامی کی پابندی میں غفلت وتساہل کو راہ نہ دو ۔ یہ مالی اور بدنی عبادتیں تو ہر حال و صورت میں واجب العمل ہیں۔ 394 ۔ نیکی کچھ جہاد و قتال ہی پر موقوف نہیں۔ اعمال صالحہ جو کچھ بھی میسر آجائیں سب یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔ برابر انہیں میں لگے رہو۔ (آیت) ” لانفسکم “ حذف مضاف ہے یعنی اپنے نفع اپنی نجات ومغفرت کے واسطے وھو علی حذف مضاف اے لنجاۃ انفسکم (بحر) (آیت) ” تجدوہ۔ اسے پالوگے، یعنی اس کے اجر وثواب کو پالوگے۔ یہ مراد نہیں کہ بعینہ وہ عمل موجود ملے گا۔ (آیت) ” تجدوہ “ اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 109–112

آیت نمبر 109 تا 112 ترجمہ : اور اہل کتاب میں سے اکثر یہ چاہتے ہیں لَو مصدر یہ ہے کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے کفر کی طرف پھیر دیں، اس حسد کی وجہ سے جو خود ان کی طرف سے ہے، حَسَدًا مفعول لہٗ ہے (یعنی بلاوجہ) حسد پر ان کو ان کے خبیث نفس نے آمادہ کیا ہے، اس کے باوجود کہ تورات میں نبی کی بابت ان پر حق ظاہر ہوچکا ہے (اس کے باوجود) تم فعو و درگزر سے کام لو، اور نظر اندوز کرو اور ان سے بدلہ نہ لو، تاآنکہ ان سے قتال کے بارے میں خود اللہ کا حکم آجائے، بلاشبہ وہ ہر شئی پر قادر ہے، نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے لئے جو بھلائی مثلاً نماز، صدقہ، تم آگے بھیجو گے تو تم اس کو یعنی اس کے اجر کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ : ( اور درست رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ) فاعفوا پر اس کا عطف ہے یہ معنی ہوں گے کہ ان کو چھوڑ دو اور جانے دو اور ان کی مخالفت اس طور پر کرو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاؤ۔ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ ( اور جو کچھ بھیج دو گے آگے اپنے لیے بھلائی) خیر سے مراد نیکی ہے جیسے نماز، روزہ، صدقہ وغیرہ۔ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ( وہ پاؤ گے اللہ کے پاس بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے) پاؤ گے اس کو یعنی اس کا ثواب تم کو ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(110) پانچ وقت کی نمازوں کو پورے طریقہ پر ادا کرو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو اور جو تم اپنے لیے نیک اعمال، زکوٰۃ اور صدقات ادا کرچکے ہو تو ان کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ہاں پاؤ گے اور جو احوال صدقات وزکوۃ کو خرچ کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 109–110

(كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰب) میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب شامل ہیں اور بعد میں آنے والے تمام زمانوں کے یہود و نصاریٰ بھی، جیسا کہ ہمارے دور میں ان کی طرف سے علم و تحقیق کے نام پر اسلام کے عقائد و احکام کے خلاف پروپیگنڈا ہو رہا ہے اور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ مسلمان اگر یہودی یا نصرانی نہ بنیں تو کم از کم اپنے دین سے ضرور بدگمان ہوجائیں۔ (حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ) حق کو پہچاننے کے باوجود ان کی یہ خواہش محض حسد کی وجہ سے ہے اور حسد بھی کسی دینی جذبے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے دلوں کے بغض و عناد کی وجہ سے ہے۔ اس سے حسد کی قباحت ظاہر ہوئی کہ خود بھی ایمان سے محروم رہے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 109–110

آیت نمبر 109 تا 110 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ود کثیرٌ من اھل الکتب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفاراً حسداً من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: ود کا معنی تمنا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ کفاراً یہ یردونکم کا مفعول ثانی ہے من عند انفسھم بعض علماء نے فرمایا : یہ یود کے متعلق ہے۔ بعض نے فرمایا : حسدًا کے متعلق ہے اور کفاراً پر وقف ہے اور حسدًا، ود کا مفعول لہ ہے یا مصدر ہے اپنے ماقبل پر دلالت کرتا ہے اور من عند انفسھم کا معنی ہے اپنی طرف سے، نہ وہ یہ کتاب میں پاتے ہیں اور نہ انہیں اس کا حکم دیا گیا ہوتا ہے حسد کا لفظ یہ مفہوم دیتا ہے اور عند انفسھم بطور تاکید…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 108–110

(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رفع بن حریملہ اور دھب بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اے محمد 1 ہمارے لئے کتاب لے آئیے جو ہم پر آسمان سے نازل کریں اور ہم اس کو پڑھیں۔ یا ہمارے لئے نہریں جاری کردہ تو ہم آپ کی تابعداری کرلیں گے اور ہم آپ کی تصدیق بھی کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” ام تریدون ان تسئلوا رسولکم “ الی قولہ ” سواء السبیل “ اور حئی بن اخطب اور ابو یاسر بن أخطب یہود میں سے زیادہ سخت تھے جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو عرب میں سے بھیجا تو وہ عربوں سے انتہائی حسد کرتے تھے اور لوگوں کو اسلام سے مرتد کرنے کی پوری کوشش…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اور تم لوگ نماز کو قائم کرو ] [ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ : اور پہنچاؤ زکاۃ کو ] [ وَمَا تُقَدِّمُوْا : اور جو تم لوگ آگے بھیجو گے ] لِاَنْفُسِكُمْ : اپنے آپ کے لیے ] [ مِّنْ خَيْرٍ : کوئی بھی بھلائی ] [ تَجِدُوْهُ : تو تم لوگ پاؤ گے اس کو ] [ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے پاس ] [ اِنَّ اللّٰهَ : ب یقینا اللہ ] [ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس کی جو تم لوگ کرتے ہو ] [ بَصِيْرٌ : ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ… بعینہٖ یہی عبارت جو دو جملوں پر مشتمل ہے سب سے پہلے البقرہ : 43 میں گزری ہے۔ اس کی اعرابی بحث کے لیے دیکھیے [ 2: 29: 2] میں جملہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 109–110

کفار چاہتے ہیں کہ تمہیں کافر بنا لیں یہودیوں کو یہ تو خوب واضح طریقے پر معلوم ہوگیا تھا کہ نبی عربی محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے نبی ہیں لیکن ان کو حسد کھا گیا خود تو مسلمان ہوتے ہی نہ تھے (الا قلیلا منھم) اور طرح طرح کی کوششیں کرتے تھے کہ عرب بھی مسلمان نہ ہوں اور جو لوگ مسلمان ہوچکے ان کو واپس کرلیں، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے قلبی ارادوں سے مطلع فرمایا تاکہ ان سے بچتے رہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں اور ان کی جھوٹی ہمدردی کو کوئی حیثیت نہ دیں۔ چونکہ مسلمان اور یہودی ایک ہی شہر یعنی مدینہ منورہ میں رہتے تھے اور اس وقت تک ظاہری اسباب کے اعتبار سے مسلمانوں کے غلبہ کی صورت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–110

شناعت بست وششم (26) قال تعالی۔ ود کثیر من اھل الکتب۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ بما تعملون بصیر اے مسلمانو ! یہ یہود قرآن اور دین میں طرح طرح کے شبہ نکالتے ہیں کبھی نسخ احکام پر اعتراض کرتے ہیں اصل وجہ یہ ہے کہ اکثر اہل کتاب کی دلی خواہش اور تمنا یہ ہے کہ کسی طرح تم کو ایمان سے پھیر کر کافر بنا دیں کہ اہل کتاب کی طرح تم بھی جدید حکم کا انکار کردو اور اپنے نبی پر یہ اعتراض کرو کہ تم نے پہلے تو یہ حکم دیا تھا اور اب یہ دوسرا حکم اس کے خلاف کیسا ؟ اور اس غرض فاسد کا کوئی محرک اور باعث تمہاری جانب سے وقوع میں نہیں آیا بلا وجہ محض حسد کی بناء پر کہ جو خود ان کے ناپاک اور گندے نفسوں سے پیدا ہوا ہے اور پھر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

210 وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ جب تک جہاد کا حکم نہیں آتا اس وقت تک نماز، زکوۃ اور دوسرے اسلامی احکام کی پابندی کرتے رہو۔ نماز اور زکوۃ وغیرہ امور مصلحہ میں سے ہیں ان سے باطن کی اصلاح ہوتی ہے جس سے ایک طرف تو دشمنوں کی تکلیف واذیت پر صبر و سکون کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف ان سے عقیدہ توحید میں پختگی اور استواری پیدا ہوتی ہے جو مسلمان کو دشمنانِ توحید اور باغیانِ اسلام سے جہاد کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ 211 پہلے عفو و درگذر اور نماز وزکوۃ کا حکم دیا ہے یہاں انہیں احکام کی ترغیب فرمائی کہ اگر تم ان میں سے کوئی سا نیک کام کروگے تو وہ ضائع نہیں کیا جائیگا بلکہ اس کا ثواب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 108–110

ربط آیات : بنی اسرائیل کی خرابیوں کا ذکر چلا آرہا ہے ، گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ” راعنا “ کا لفظ استعمال کرنے سے منع فرمایا تھا ، اس کی بجائے (آیت) ” انظرنا “۔ استعمال کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہودی دیدہ دانستہ ” راعنا “۔ کا لفظ بولتے تھے جس سے معاذ اللہ پیغمبر (علیہ السلام) کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ، گذشتہ درس میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر کوئی بہتر چیز نازل فرمائے یہ لوگ نبی کے ساتھ حسد کرتے تھے ، پھر انہوں نے نسخ آیات کا مسئلہ بھی اٹھایا کہ اللہ تعالیٰ ایک حکم جاری کرنے کے بعد اسے منسوخ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ۝ 0 ۭ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللہِ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝ 110 اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : و اقیمو الخ جملہ انشائیہ معطوف ہے فاعفوا پر ماتقدموا میں ماشرطیہ من خیر بیان ہے ما کا یہ سب جملہ شرط تجدوہ الخ جواب شرط تفسیر : یہ کلام سابق کا تتمہ ہے یعنی تم کسی مشکک اور مغوی کے بہکانے میں نہ آئو ایمان پر ثابت قدم رہ کر عالم آخرت کے لیے کہ جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہے روح کو منور کرو۔ بدنی عبادتوں میں سب سے اعلیٰ نماز ہے اس کو یاد کرتے رہو اور مالی عبادت سے بھی غافل نہ رہو، زکوٰۃ دو اور علاوہ زکوٰۃ کے ہر قسم کی نیکی کرو خلق خدا سے بھلائی اور اپنے بیگانوں کے ساتھ نیک سلوک سے پیش آئو جو کچھ کرو گے وہ ضائع نہ جائے گا۔ انسان کے سب اعمال عالم مثال میں موجود رہتے ہیں۔ مرنے کے بعد سب کو وہاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَقِیْمُوْالصَّلٰوۃَ وَاٰتُوْاالزَّکٰوۃَ ط وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَ نْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍتَجِدُوْہُ عِنْدَاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْلَمُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے کروگے اسے اللہ کے پاس پائو گے جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے) (البقرۃ : 110) معرکہ سر پر ہے ‘ تیاری کرو مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ یہود کے تمام تر برے ارادوں کے باوجود تمہیں ابھی ان کو برداشت کرنا ہے۔ ان سے معرکہ جلد ہونے والا ہے۔ اسلیے ضروری ہے کہ تم اس کے لیے تیاری کرو۔ تیاری دو طرح کی ہوگی، ایک تیاری تو یہ ہے کہ تم اپنا تعلق اللہ سے مضبوط کرو۔ تمہارا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 110–111

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کے پیچھے پڑ کر وقت اور صلاحیتیں ضائع کرنے کی بجائے اپنے دین کی طرف توجہ دو اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑو اور زکوٰۃ ادا کر کے اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ پچھلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں سے الجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت کا انتظار کرو۔ اللہ ہر بات اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لیکن یاد رکھنا اللہ کی مدد کی اولین شرائط میں سچے ایمان کے بعد نماز اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے قرب اور باہمی اتحاد کا ذریعہ ہے۔ زکوٰۃ ایک دوسرے سے تعاون اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا زینہ ہے۔ جن لوگوں میں یہ اوصاف ہوں گے وہ دنیا میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 110: وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَمَا تُقَدِّمُوْالِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ : (اور قائم کرو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور جو کچھ بھیج دو آگے اپنے لیے بھلائی) خیر سے مراد کوئی نیکی، نماز یا ان کے علاوہ دیگر عبادات۔ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ : (وہ پائو گے اللہ تعالیٰ کے پاس) اس کا ثواب اس کے ہاں پالو گے۔ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ : (بےشک اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے) اس کے ہاں کسی عامل کا کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

110۔ (آیت)” واقیموا الصلوۃ واتوا الزکاۃ وما تقدموا “ جو کچھ آگے بھیجو گے (آیت)” لانفسکم من خیر “ فرمانبرداری اور عمل صالح (آیت)” تجدوہ عند اللہ “ اور کہا گیا ہے کہ خیر سے مراد مال ہے جس طرح کے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ان ترک خیرا “ اور مراد زکوۃ و صدقہ ہے کہ اس کو تم اللہ تعالیٰ کے ہاں پاؤ گے حتی کہ لقمہ اور پھل کو جبل احد کے طرح پاؤ گے ۔ (آیت)” ان اللہ بما تعملون بصیر “ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 109–110

(109 ۔ 110) ۔ باوجود امی ہونے کے آنحضرت ﷺ یہود کو ایسی باتوں کی خبر دیتے ہیں جو ان کی وفات کے بالکل موافق ہوتی تھیں اور دنیا کے لالچ سے اگرچہ انہوں نے تورات کی ان آیتوں کو بدل ڈالا تھا جن میں نبی آخر الزمان کے اوصاف کا ذکر تھا لیکن اپنے دل میں میں وہ آنحضرت ﷺ کے نبی آخر الزمان ہونے قائل تھے۔ فقط اس حسد سے کہ نبی آخر الزمان ان کی قوم بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ جہاں تک ان کا بس چلتا تھا مسلمانوں کو ان کے دین سے بچنے میں کمی نہ کرتے تھے۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرما کر یہ فرمایا ہے کہ یہود کی ہر طرح کی عداوت کی باتوں پر اس وقت تک صبر اور درگذر کرو جب تک اللہ کا کوئی حکم اخیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 108–110

اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں (آیت) كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۭ ” جس طرح اس سے پہلے (حضرت) موسیٰ ( علیہ السلام) سے سوال کیا گیا۔ “ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کئے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) یسئلک اھل الکتاب۔۔ تا۔۔ جھرۃ (النساء 153) ” اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتارلا۔ یہ موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کرچکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) یا ایھا الذین آمنو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 110–114

قول باری ہے : ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین۔ (اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو نہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور اس کی ویرانی کے در پے ہو ؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔ ) معمر نے قتادہ سے روایت بیان کی ہے کہ یہ بخت نصر تھا جس نے بیت المقدس کو ویران کردیا تھا اور اس سلسلے میں نصرانیوں نے اس کی مدد کی تھی : قول باری : اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین میں مذکورہ لوگوں سے مراد نصاریٰ ہیں جو بیت المقدس میں چوری چھپے داخل ہوتے تھے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 108–111

300 لایعنی سوالات سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول سے ویسے ہی سوالات کرو جیسے سوالات حضرت موسیٰ کی قوم نے ان سے کیے تھے ؟۔ جیسے ذبح بقرہ کے قصے میں ان لوگوں نے طرح طرح کی حجت بازیاں کر کے خود اپنے ہی لئے مشکلات پیدا کی تھیں، نیز انہوں نے حضرت موسیٰ سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ " ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا دو " { اَرِنَا اللّٰہَ جَہْرَۃً } یعنی یہ تم جیسی وفا دار اور جاں نثار امت کے شایان شان نہیں کہ تم لوگ اپنے پیغمبر سے اس طرح کے غیر ضروری سوالات کرو۔ سو اس میں اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ارشادات پر صدق دل سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 109–110

کفار کا حسد تشریح : مذکورہ آیات میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ خبردار کر رہے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنی بدعملیوں کی وجہ سے کفر کی راہ اختیار کرچکے ہیں۔ وہ اپنی پوری کوشش صرف کر رہے ہیں کہ تم مسلمان اپنے دین سے بد دل ہوجاؤ اور ان کی طرح غلط راہ پر چلنا شروع کر دو ۔ حالانکہ وہ حق و باطل کا فرق جانتے ہیں مگر مارے حسد کے وہ تمہیں بد راہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تم غصہ نہ کھاؤ درگزر کرو اور ان سے نمٹنے کے لئے اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ فی الحال تم اپنی طاقت کو مجتمع رکھو، نیکی اور بھلائی کی طرف توجہ دو اور ان دو بنیادی اصولوں پر جم جاؤ، اول نماز قائم رکھو دوسرے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 104–112

آیات 104- 112 اسرارو معارف فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 110–111

ف 3 یہود ہر آن اس کوشش میں رہتے کہ مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کردیا جائے کبھی کہتے کہ جنت صرف یہودیوں کے لیے ہے اور نصاری صرف اپنے آپ کو جنت کا حقدار ظاہر کرتے قرآن نے بتایا کہ یہ جھوٹے دغا باز ہیں اور ان کی یہ جھوٹی اور بےبنیاد قسم کی آرزوئیں ہیں جن کے صحیح ہونے کی سندان کے پاس نہیں ہے۔ فتح القدیر) نیز دیکھے (آیت :80) آجکل مسلمان بھی محض آوزؤں میں مبتلا ہیں اولیاء اللہ اور بندگوں کے نام کا ختم پڑھنے یا ان کے مقبروں پر پھول چڑھادینے کو نجات کے لے کافی سمجھتے ہیں حدیث میں العاجزمن اتبع جفسہ وتمنی علی اللہ لا مانی (رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:110) واقیموا الصلوۃ واتو الزکوۃ۔ جملہ انشائیہ ہے اور معطوف ہے جس کا عطف فاعفوا پر ہے۔ وما تقدموا لانفسکم من خیر۔ واؤ عاطفہ، ما شرطیہ۔ من خیر بیان ہے ما کا۔ لانفسکم۔ متعلق فعل تقدموا ہے۔ اور جو بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیج رکھو گے۔ یہ جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ تجدوہ عند اللہ۔ جواب شرط ہے۔ تدموا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تقدیم (تفعیل) مصدر سے۔ تم آگے بھیجوگے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 108–112

لغات القرآن : آیت نمبر 108 تا 112 ام (کیا) ۔ تریدون (تم چاہتے ہو) ۔ ان تسئلوا (یہ کہ تم سوال کرو) ۔ سئل (پوچھا گیا) ۔ تبدل (تبدیل کرے) ۔ ضل (بھٹک گیا) ۔ سواء السبیل (سیدھا راستہ) ۔ ود (پسند ہے) یردونکم (وہ تمہیں پلٹا دیں گے) ۔ حسد (جلن، بغض) ۔ تبین (واضح ہوگیا، کھل گیا) ۔ اعفوا (معاف کرو) ۔ اصفحوا (درگذر کرو، خیال بھی نہ کرو) ۔ حتی یاتی (جب تک نہ آئے) ۔ بامرہ (اپنا حکم، اس کا فیصلہ) ۔ تقدموا (تم آگے بھیجو گے ) ۔ تجدوہ (تم اس کو پالوگے) ۔ ھاتوا (لے آؤ) برھان (دلیل ) اسلم (جس نے جھکا دیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 108 تا 112 کسی بات کو معلوم کرنے اور سمجھنے کے لئے معقول اور نیک نیتی سے سوال کرنا قطعاً…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 109–110

شان نزول : باوجود امی ہونے کے آنحضرت ﷺ یہود کو ایسی باتوں کی خبر دیتے تھے جو ان کی توریت کے بلکل موافق تھیں ، اور دنیا کے لالچ سے اگرچہ انہوں نے توریت کی ان آیتوں کو بدل ڈالا جس میں نبی آخر الزماں کے اوصاف کا ذکر تھا لیکن اپنے دل میں وہ آنحضرت ﷺ کے نبی آخر الزماں ہونے کے قائل تھے ۔ فقط اس حسد سے کہ نبی آخر الزماں ﷺ ان کی قوم بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے ۔ جہاں تک ان کا بس چلتا تھا مسلمانوں کو ان کے دین سے (گمراہ کرتے) تھے ۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہود کی ہر طرح کی عداوت کی باتوں پر اس وقت تک صبر اور درگزر کرو جب تک اللہ کا کوئی حکم نازل ہو ، اور ہر حال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 110–112

[76] یعنی اس کے اجر وثواب کو پالو گے۔ یہ مراد نہیں کہ بعینہ وہ عمل موجود ملے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

عفوعمیم کی تعلیم : (ف 2) حسد وجمود بدترین لعنتیں ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے ، ھی الحالقۃ لا اقول حالقۃ ولکن حالقۃ الدین یعنی حسد وبغض دین ودیانت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دینے والی چیز ہے ، ایک حدیث میں فرمایا ہے ، یہ واء الامم ہے یعنی تمام قوموں کی مشترکہ بیماری جس سے قومیں ہلاکت کے قریب پہنچ جاتی ہیں ، ضرور تھا کہ اس کی روک تھام کے لئے کوئی عملی قدم اٹھایا جائے اور بالخصوص جب کہ اس سے پہلی آیتوں میں یہودیوں کے راہ راست سے بھٹک جانے کا ذکر ہے اور اس کا سبب بتایا ہے کہ حسد وبغض کی انتہا ۔ ان آیات میں تین چیزوں کی ہدایت کی گئی ہے ، نماز ، زکوۃ اور تقدیم خیر کی ، نماز سے روح کی جلا ہوتی ہے ، قلب سے دوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 109–110

ف 1 اہل کتاب میں سے اکثر لوگ محض اپنے ذاتی اور طبعی بغض و حسد کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں اور دل آرزو رکھتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر مرتد بنادیں اور کافر کردیں۔ حالانکہ ان پر دین حق واضح ہوچکا ہے۔ دین حق واضح ہوجانے کے بعد پھر اس قسم کی مذموم خواہش رکھتے ہیں۔ اے مسلمانو ! اگر تم کو ان پر غصہ آئے تو اس وقت تک تم ان سے کوئی مواخذہ نہ کرو اور درگزر کرتے رہو جب تک اللہ تعالیٰ نے اپنا کوئی اور حکم تم کو نہ بھیجے یقین جانو کو اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوۃ ادا کرتے رہو اور تم جو اعمال خیر بھی اپنے بھلے کو آگے بھیجتے رہو گے ان سب اعمال کو یعنی ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 110–111

ف 2۔ اس وقت حالت موجود کا یہ مقتضی تھا پھر حق تعالیٰ نے اس وعدہ کو پورا فرمادیا اور آیات جہاد نازل فرمادیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ارکانِ اسلام کے اندر ہی غلبہ اسلام ہے ارکان کو سمجھ کر ادا کرنے کی عادت بنالو : 207: نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا اور صالح اعمال بجا لانا ہی ایسے اعمال ہیں جن کا نتیجہ غلبہ اسلام ہے پس اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر نماز و زکوٰۃ کی مشق کرو اور یقین جانو کہ یہ محنت کبھی ضائع جانے والی نہیں بشرطیکہ تم نماز قائم کرو ، ٹکریں نہ مارو ، تم زکوٰۃ ادا کرو ، تاوان نہ سمجھو۔ نیک اعمال کرو اس لئے نہیں کہ تم سے نیکی کی گئی ہے بلکہ اس لئے کہ تمہارے اندر صرف نیکی ہی نیکی ہے ، اور تمہارے اندر کی برائی اپنی جگہ خالی کرگئی ہے جس میں تم نے نیکی بھر لی ہے اور برائی کو باہر پھینک دیا ہے اور اب برائی کے لئے تمہارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–110

Some of the Jews, pretending to be the well-wishers of the Muslims, were always inventing new stratagems to make them turn away from Islam, and, in spite of repeated failure in this effort, did not refrain from it. The verse warns the Muslims against their intentions, which are motivated, not by sincerity and friendship, but by envy --which in its turn arises not from anything the Muslims do, but spontaneously from within themselves even after they have come to understand clearly what the truth is. The verse also asks the Muslims not to give way to their justifiable anger at such misconduct,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–110

111. This means that one should neither allow oneself to get angry at their spite and hostility, nor waste one's valuable time by engaging in useless debates and acrimonious polemics. It is better to wait patiently and observe how God deals with them. Instead of wasting energy in frivolous pursuits such as those menti~ above one should spend it in the remembrance of God and in acts of goodness, for it is these rather than barren controversies that will benefit man in the Life to Come.

Read the full tafseer →