Explained with ayahs 111–113
شیطان صفت مغرور یہودی
یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورة مائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں جس کے جواب میں قرآن نے کہا کہ پھر تم پر قیامت کے دن عذاب کیوں ہوگا ؟ اسی طرح کے مفہوم کا بیان پہلے بھی گزرا ہے کہ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہم چند دن جہنم میں رہیں گے جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا کہ یہ دعویٰ بھی محض بےدلیل ہے اسی طرح یہاں ان کے ایک دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ لاؤ دلیل پیش کرو، انہیں عاجز ثابت کر کے پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
سورة الْبَقَرَة 112
یعنی دراصل یہ ہیں تو محض ان کے دل کی خواہشیں اور آرزوئیں، مگر وہ انہیں بیان اس طرح کر رہے ہیں کہ گویا فی الواقع یہی کچھ ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
خلاصہ تفسیر
اور یہود نصاریٰ (یوں) کہتے ہیں کہ بہشت میں ہرگز کوئی نہ جانے پاوے گا بجز ان لوگوں کے جو یہودی ہوں (یہ تو یہود کا قول ہے) یا ان لوگوں کے جو نصرانی ہوں (یہ نصاریٰ کا قول ہے حق تعالیٰ ان کی تردید فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ) یہ (خالی) دل بہلانے کی باتیں ہیں (اور حقیقت کچھ بھی نہیں) آپ (ان سے یہ تو) کہیے کہ (اچھا) اپنی دلیل لاؤ اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو (سو وہ تو کیا دلیل لاویں گے کیونکہ کوئی دلیل ہے ہی نہیں اب ہم اس کے خلاف پہلے تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ) ضرور دوسرے لوگ (بھی جنت میں) جاویں گے (پھر اس پر دلیل لاتے ہیں کہ ہمارا قانون جو باتفاق سماوی ملتوں کے ماننے والوں کے پایہ…
Read the full tafseer →ھود، ھائد کی جمع ہے اس کی تحقیق آیت 62 میں گزر چکی ہے۔
مسلمانوں کو بہکانے کے لیے یہود و نصاری کا مشترکہ پروپیگنڈا : جس طرح نسخ کا اعتراض مسلمانوں کے دلوں میں شک اور تردد پیدا کرنے کے لیے اٹھایا گیا اسی طرح یہ پروپیگنڈا بھی یہود اور نصاریٰ دونوں کی طرف سے کیا گیا کہ نجات حاصل کرنے کا اگر کوئی راستہ ہے تو یہ ہے کہ آدمی یہودیت اختیار کرے یا نصرانیت، یہ دونوں خدائی دین ہیں، ان کے ہوتے ہوئے کسی نئے دین کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش۔ یہود اور نصاری یوں تو آپس میں ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، آئے دن ان کے اندر مذہبی اختلاف کی بنا پر خون خچر ہوتا رہتا تھا، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی مخالفت کے لیے دونوں…
Read the full tafseer →111۔ 1 یہاں اہل کتاب کے اس غرور اور فریب نفس کو پھر بیان کیا جا رہا ہے جس میں وہ مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جن کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
73: یعنی یہودی کہتے ہیں کہ صرف یہودی جنت میں جائیں گے اور عیسائی کہتے ہیں کہ صرف عیسائی۔
Read the full tafseer →مدینہ طیبہ میں جو لوگ مسلمانوں کے مقابلے میں اترے ہوئے تھے وہ یہودی تھے کیونکہ وہاں نصرانیوں کا کوئی ایسا منظم گروہ موجود نہ تھا جو یہودیوں کی طرح اسلام دشمنی میں مبتلا ہوتا لیکن آیت میں انداز بیان کو عام رکھا گیا ہے ۔ یہاں آیات الٰہی دونوں گروہوں کے اقوال کی تردید کرتی ہے ۔ اور ایک دوسرے کے بارے میں یہو و ونصاریٰ دونوں کے اقوال نقل کرکے آخرت میں ان دونوں کے بارے میں مشرکین عرب کے خیالات نقل کردیئے جاتے ہیں وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى” ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا عیسائی نہ ہو۔ “ یہاں ان دونوں فرقوں کے دعوؤں…
Read the full tafseer →7 یعنی یہودی تو کہتے ہیں کہ بجز ہمارے کوئی جنت میں نہ جائے گا اور نصاریٰ کہتے تھے کہ بجز ہمارے کوئی بہشت میں نہ جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 111 وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی ط
جب یہ نئی امت مسلمہ تشکیل پا رہی تھی تو یہودی اور نصرانی ‘ جو ایک دوسرے کے دشمن تھے ‘ مسلمانوں کے مقابلے میں جمع ہوگئے۔ انہوں نے مل کر یہ کہنا شروع کیا کہ جنت میں کوئی ہرگز نہیں داخل ہوگا سوائے اس کے جو یا تو یہودی ہو یا نصرانی ہو۔ اس طرح کی مذہبی جتھے بندیاں ہمارے ہاں بھی بن جاتی ہیں۔ مثلاً اہل حدیث کے مقابلے میں بریلوی اور دیوبندی جمع ہوجائیں گے ‘ اگرچہ ان کا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بیر اپنی جگہ ہے۔ جب ایک مشترکہ دشمن نظرآتا ہے تو پھر وہ لوگ جن کے اپنے اندر بڑے اختلافات ہوتے ہیں وہ بھی ایک متحدہّ محاذ بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
129 (فَاعْفُوْا) سے لے کر مسلسل مسلمانوں سے خطاب ہے۔ یعنی یہود کی شرارتوں کی طرف توجہ دینے کے بجائے اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو، ایسے تمام کاموں کا تمہیں یقینا آخرت میں بدلہ مل جائے گا۔
Read the full tafseer →396 ۔ یہ کہنے والے یہود ونصاری تھے۔ قرآن مجید نے انہیں کی ترجمانی کی ہے۔ یہود کا یہ عقیدہ شروع سے چلا آرہا ہے کہ نجات انہیں کی قوم اور وابستگان قوم کے ساتھ مخصوص ہے۔ چناچہ انجیل میں بھی ان کا یہ مقولہ نقل ہوا ہے کہ :۔ ” نجات یہود میں ہے “ (یوحنا۔ 4:22) یہود ونصاری دونوں کے ہاں کے مزید حوالوں کے لیے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ ظہور اسلام کے وقت یہود ونصاری کا کہنا یہ تھا کہ اس نئے دین کے قبول کرنے کی ضرورت کیا، نجات تو ہمارے دینوں کے ساتھ وابستہ ہے۔
397 ۔ (جو کچھ پوری ہونے والی نہیں اور جن کی تائید میں نہ کوئی دلیل معقول ہے اور نہ سند منقول) محض بزرگ زادگی اور نسلی ونسبی شرافت جب پیغمبروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
آیت نمبر 109 تا 112
ترجمہ : اور اہل کتاب میں سے اکثر یہ چاہتے ہیں لَو مصدر یہ ہے کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے کفر کی طرف پھیر دیں، اس حسد کی وجہ سے جو خود ان کی طرف سے ہے، حَسَدًا مفعول لہٗ ہے (یعنی بلاوجہ) حسد پر ان کو ان کے خبیث نفس نے آمادہ کیا ہے، اس کے باوجود کہ تورات میں نبی کی بابت ان پر حق ظاہر ہوچکا ہے (اس کے باوجود) تم فعو و درگزر سے کام لو، اور نظر اندوز کرو اور ان سے بدلہ نہ لو، تاآنکہ ان سے قتال کے بارے میں خود اللہ کا حکم آجائے، بلاشبہ وہ ہر شئی پر قادر ہے، نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے لئے جو بھلائی مثلاً نماز، صدقہ، تم آگے بھیجو گے تو تم اس کو یعنی اس کے اجر کو اللہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ( اور وہ کہتے ہیں ہرگز نہ جائیں گے جنت میں مگر جو یہودی یا عیسائی ہوں گے) قالوا کی ضمیر فاعل سے اہل کتاب مراد ہیں خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ ۔ اس مقام پر سامع کے فہم پر اعتماد کرکے یہود اور نصاریٰ دونوں گروہ کے قولوں میں صنعت لف کا استعمال کیا گیا۔ حاصل یہ ہے کہ یہود نے تو یہ کہا کہ جنت میں سوائے یہودیوں کے کوئی نہ جائے گا اور دین حق یہودیت ہی ہے اور نصارٰی نے یہ بکواس کی کہ نصرانیوں کے علاوہ کوئی بہشتی نہ ہوگا اور سچا دین نصرانیت ہی ہے اور یہ قصہ اس وقت ہوا تھا جب کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بخران کے نصارٰی یہود…
Read the full tafseer →(111) یہودی اور اسی طرح نصاری (عیسائی) اپنے خیال میں کہتے ہیں کہ جو یہودیت (یانصرانیت) پر مرے گا وہ ہی جنت میں داخل ہوگا یہ تو صرف ان کی خوابی تمنائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں انہوں نے قائم کر رکھی ہیں، جس کا ان کی کتابوں میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ اے محمد ﷺ آپ ان دونوں جماعتوں سے فرما دیجئے کہ اگر اپنی افسانہ پردازی میں سچے ہو تو اپنی کتابوں سے ثبوت لاؤ مگر حقیقت تمہاری باتوں کے مطابق نہیں۔
Read the full tafseer →آیت میں ایک لمبی بات مختصر کردی گئی ہے، یعنی یہودیوں نے کہا جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے اور نصاریٰ نے کہا کہ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو نصاریٰ ہوں گے، کیونکہ ان میں سے کوئی فریق بھی دوسرے کے جنت میں جانے کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا۔ فرمایا، یہ ان کی آرزوئیں ہی ہیں، حقیقت سے ان کا کچھ تعلق نہیں۔ اگر یہ سچے ہیں تو اپنی دلیل پیش کریں۔ رازی ؓ نے فرمایا، اس آیت سے ثابت ہوا کہ کوئی بھی دعویٰ کرنے والا، خواہ نفی کا دعویٰ کرے یا اثبات کا، اس پر دلیل اور برہان پیش کرنا لازم ہے اور یہ تقلیداً کہی ہوئی بات کے باطل ہونے کی سب سے سچی اور پکی دلیل ہے۔ (کیونکہ تقلید نام ہی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
آیت نمبر 111 تا 112
اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے : وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھوداً او نصریٰ مطلب یہ ہے کہ یہود نے کہا : جنت میں داخل نہ ہوگا مگر وہ جو یہودی ہوگا اور نصاریٰ نے کہا : جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو نصرانی ہوگا۔ فراء نے جائز قرار دیا کہ ھودًا بمعنی یھودیا اور یہ جمع ہے ھائدٌ کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ من کا معنی جمع ہے۔ تلک امانیھم اس پر کلام پہلے گزر چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ھاتوا برھانکم، ھاتوا اصل میں ھاتیوا تھا، ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کیا گیا پھر یا کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حذف کیا گیا واحد مذکر کے لئے کہا جاتا ہے : ھات جیسے رام اور مونث کے لئے ھاتی جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
(1) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا ونصری “ یعنی یہود نے کہا کہ یہود کے علاوہ ہرگز کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اور نصاری نے کہا کہ نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ” تلک امانیہم “ یعنی یہ ان کی جھوٹی امیدیں ہیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ناحق لگا رکھی ہیں۔ لفظ آیت ” قل ھاتوا برھانکم “ یعنی اپنی حجت کو (لے آؤ) ” ان کنتم صدقین “ اگر تم سچے ہو جیسا کہ تم کہتے ہو لفظ آیت ” بلی، من اسلم وجھہ للہ “ یعنی جس نے (اپنے اعمال کو) خالص اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے کرلیا۔
(2) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من…
Read the full tafseer →( وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا ( ( لَنْ یَّدْخُلَ : ہرگز داخل نہیں ہوگا) (الْجَنَّۃَ : جنت میں) (اِلاَّ مَنْ : سوائے اس کے جو)
(کَانَ ھُوْدًا : یہودی ہو) (اَوْ نَصٰرٰی : یا عیسائی ہو) ( تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْ : یہ ان کی آرزوئیں ہیں) ( قُلْ : (آپ ﷺ ) کہئے ! )
(ھَاتُوْا : تم لوگ دو ) (بُرْھَانَــکُمْ : اپنی روشن دلیل) (اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ : اگر تم لوگ سچے ہو)
ھـ ت و
ھَتْوًا (ن) : کسی چیز کو توڑ کر روندنا۔
ھِتَائً (مفاعلہ) : دوسرے کی بات کو روندنا ‘ اپنی رائے دینا۔
ھَاتِ (ج ھَاتُوْا) : فعل امر ۔ تُو دے ‘ تُو لا ( آیت زیر مطالعہ)
ب ر ھـ
بَرَھًا (س) : جسم کا صحت مند ہونا ‘ صحت مند جلد کی طرح…
Read the full tafseer →یہود و نصاریٰ کا قول کہ جنت میں ہم ہی جائیں گے اور اس کی تردید
اس آیت شریفہ میں یہود و نصاریٰ کا یہ دعویٰ ذکر فرمایا ہے کہ جنت میں یہود و نصاریٰ کے علاوہ ہرگز کوئی داخل نہ ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے بارے میں یہ کہا کہ صرف ہم جنتی ہیں اور نصاریٰ نے اپنے بارے میں یہی کہا دونوں فریق باوجودیکہ اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں تحریف کر بیٹھے اور اللہ کے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں شرک داخل کردیا۔ اس سب کے باوجود دونوں جماعتوں کو یہ غرور تھا اور اب بھی ہے کہ صرف ہم ہی جنتی ہیں۔ کفر اختیار کریں پھر بھی جنتی ہوں یہ ان کی سراپا جہالت حماقت اور سفاہت ہے۔ اور ان کا یہ دعویٰ بالکل بےبنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
شناعت بست وہفتم (27)
قال تعالیٰ ۔ وقالوا لن یدخل الجنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ولا ھم یحزنون۔
اے مسلمانو ! یہ اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ تم کو دھوکہ دینے کے لیے یہ کہتے ہیں کہ جنت میں سوائے یہود اور نصاری کے ہرگز کوئی داخل نہ ہوگا تم کو فریب دیکر اور بہشت کا شوق دلا کر اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں تم ہرگز ان کی طرف مائل نہ ہونا۔ اور نہ ان کی بات کی طرف التفات کرنا۔ یہ سب ان کی خالی آرزوئیں اور دل کے بہلانے کی باتیں ہیں جن پر نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی۔ آپ ان سے کہدیجئے کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی نہیں جائے گا تو اپنی کوئی دلیل پیش کرو بغیر دلیل کے کوئی دعوی مسموع نہیں۔…
Read the full tafseer →212 پانچ شکوے
۔ پہلا شکوہ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ آخرت میں نجات صرف یہودیوں کی ہوگی اور عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ ان کے بغیر جنت میں کوئی نہیں جائے گا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے گناہوں کا کفارہ اور نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ اور یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو۔ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ وہ پیر زادے اور پیغمبر زادے ہیں۔ اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ اس لیے جنت صرف انہی کے لیے ہے۔ درحقیقت یہود ونصاری اس دعویٰ سے اسلام پر ضرب لگانا چاہتے تھے اور لوگوں کے دلوں میں اسلام سے برگشتگی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ نجات تو صرف ان کے دین سے وابستہ ہے۔ لہذا ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ربط آیات :
اہل کتاب کی خرابیوں کا ذکر ہو رہا ہے ، وہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے فضول سوال کرتے تھے ، اور پھر ان سے اختلاف بھی کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو ان کی روش سے منع فرمایا کہ تم یہودیوں والے کام نہ کرنا ، اور ان کے بہکاوے میں آکر دین میں شک نہ کرنے لگنا ، وہ تو چاہتے ہیں کہ اہل ایمان پر کفر کے طرف پلٹ آئیں ، اہل کتاب حاسد ہیں اسی بناء پر وہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور قرآن پاک میں نقص نکالتے ہیں تاکہ مسلمان اپنے دین سے برگشتہ ہوجائیں ، الغرض ! بنی اسرائیل کی یہ خرابیاں (آیت) ” یبنی اسرآء یل اذکروا نعمتی التی “۔ سے لے کر اگلے رکوع میں حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى 0 ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ 0 ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 111
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
ترکیب : وقالوا فعل با فاعل لن یدخل الجنۃ الخ جملہ مفعول فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ تامہ خبر یہ ہو کر معطوف ہوا ود پر۔ الا محل رفع میں ہے بسبب یدخل کے ھود جمع ہائد کی ہے جیسا کہ عائد کی عود بعض کہتے ہیں کہ اس جملہ کا مفرد نہیں وفیہ مافیہ، نصارٰی، جمع نصران کی ہے جیسا کہ سکارٰی سکران کی تلک مبتدا امانیہم خبر قل فعل انت ضمیر فاعل ھاتوا امر حاضر معروف معتل اللام تصریفہ ہاتا یہاتی مہاتاۃ مثل رایٰ یرامی مراماۃ وہاتو مثل رامو اور اصل اس کی ہاتیو تھی تعلیل ہوگئی۔ برھان مضاف کم مضاف الیہ مجموعہ مفعول ہوا ہاتواکا پھر یہ سب جملہ مقولہ ہوا قل کا من شرطیہ اسلم فعل ضمیر راجع من کی طرف وہ فاعل ذی…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّامَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰٰرٰی ط تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْط قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔
(اہلِ کتاب نے کہا ! ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا، مگر وہ شخص جو یہودی ہو یا عیسائی یہ ان کی آرزوئیں ہیں۔ فرمادیجئے ! (اے پیغمبر ! ) اپنی دلیل لائو اگر تم سچے ہو) (البقرۃ : 111)
راہِ نجات کیا ہے ؟
سابقہ آیات میں یہود و نصاریٰ کی شرارتوں سازشوں اور گستاخیوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا تاکہ وہ ان کی شرارتوں کے اثراتِ بد سے محفوظ رہ سکیں۔ پیش نظر آیات کریمہ میں مسلمانوں کو ان کی مزید ایک شرارت سے متنبہ کیا گیا ہے جس کا تعلق انسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے پیچھے پڑ کر وقت اور صلاحیتیں ضائع کرنے کی بجائے اپنے دین کی طرف توجہ دو اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑو اور زکوٰۃ ادا کر کے اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔
پچھلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں سے الجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت کا انتظار کرو۔ اللہ ہر بات اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لیکن یاد رکھنا اللہ کی مدد کی اولین شرائط میں سچے ایمان کے بعد نماز اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے قرب اور باہمی اتحاد کا ذریعہ ہے۔ زکوٰۃ ایک دوسرے سے تعاون اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا زینہ ہے۔ جن لوگوں میں یہ اوصاف ہوں گے وہ دنیا میں…
Read the full tafseer →ادعاء یہود و نصاریٰ :
111: وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّامَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : (وہ کہتے ہیں ہرگز نہ جائیں گے جنت میں مگر جو یہودی یا عیسائی ہو) قالوا کی ضمیر اہل کتاب یہود و نصاریٰ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یعنی یہود نے کہا جنت میں فقط یہودی جائیں گے۔ نصاریٰ نے کہا جنت صرف نصاریٰ کیلئے ہے ان دونوں قولوں میں صنعت لف کا لحاظ رکھا گیا۔ کہ ہر فریق دوسرے کی تضلیل کر رہا ہے۔ اور دوسرے کو یقینی طور پر گمراہ قرار دے رہا ہے۔ سورة البقرہ آیت نمبر 113۔ قَالَتِ الْیَھُوْدُ لَیْسَتِ النَّصَارٰی عَلٰی شَیْئٍ وَقَالَتِ النَّصَارٰی لَیْسَتِ الْیَھُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ ۔ ! میں یہ بات مذکور ہے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 111۔: (آیت)” وقالوا لن یدخل الجنۃ الامن کان ھودا “ اس سے مراد یہودی ہیں فراء کہتے ہیں کہ یہودی سے یاء زائدہ حذف کردی گئی اور یہودیت سے جو فعل بنتا تھا اس کی طرف لوٹا دیا گیا (یعنی ھود) اخفش (رح) کہتے ہیں ” ھود “ ھائد کی جمع ہے جس طرح عود عائد کی جمع ہے اور حول حائل کی جمع ہے (آیت)” اونصاری “ اور یہ اس لیے کہ یہود نے کہا کہ جنت میں سوائے یہود کے کوئی نہیں جائے گا اور دین یہودیت کے علاوہ کوئی اور دین نہیں ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ وفد نجران کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جو نصرانی تھے اور حضور ﷺ کی مجلس میں یہود کے ہمراہ جمع ہوگئے تو (یہود ونصاری) بعض نے بعض کو جھٹلانا شروع کردیا ۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
(111 ۔ 112) ۔ باوجود طرح طرح کی نافرمانیوں میں گرفتار ہونے کے اہل کتاب کا یہ دعویٰ تھا کہ اپنے آپ کو جنتی اور سب کو دوزخی کہتے تھے۔ اور یہی دعویٰ نصرانیوں کا اپنی قوم کے حق میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے غلط دعوے کو بےسند قرار دے کر فرمایا کہ جنت میں جانے اور حشر کے دغدغہ سے بےخوف رہنے کے قابل وہی شخص ہے جس کا عمل حکم الٰہی کے موافق اور خالص لوجہ اللہ ہوگا جس کے عمل میں یہ دو شرطیں نہیں وہ جنت میں کیا جاسکتا ہے۔ جنت خدا کی ہے کسی کی میراث نہیں کہ بغیر مرضی خدا کے زبر دستی جنت میں گھس جاوے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
آیت 111-112
یعنی یہودیوں نے کہا کہ یہودیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا اور عیسائیوں نے کہا کہ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے جو عیسائی ہوں گے۔ پس انہوں نے حکم لگا دیا کہ صرف وہی اکیلے جنت کے مستحق ہوں گے۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جو دلیل وبرہان کے بغیر قابل قبول نہیں۔ پس اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو دلیل مہیا کرو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی قسم کا دعویٰ کرتا ہے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوے کی صحت پر دلیل مہیا کرے وگرنہ اس کا دعویٰ اگر اس کی طرف پلٹا دیا جائے اور کوئی دعویٰ کرنے والا اس کے برعکس بغیر دلیل کے دعویٰ کر دے، تو وہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ان دونوں دعوؤں کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–114
قول باری ہے : ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین۔ (اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو نہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور اس کی ویرانی کے در پے ہو ؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔ )
معمر نے قتادہ سے روایت بیان کی ہے کہ یہ بخت نصر تھا جس نے بیت المقدس کو ویران کردیا تھا اور اس سلسلے میں نصرانیوں نے اس کی مدد کی تھی : قول باری : اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین میں مذکورہ لوگوں سے مراد نصاریٰ ہیں جو بیت المقدس میں چوری چھپے داخل ہوتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
300 لایعنی سوالات سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول سے ویسے ہی سوالات کرو جیسے سوالات حضرت موسیٰ کی قوم نے ان سے کیے تھے ؟۔ جیسے ذبح بقرہ کے قصے میں ان لوگوں نے طرح طرح کی حجت بازیاں کر کے خود اپنے ہی لئے مشکلات پیدا کی تھیں، نیز انہوں نے حضرت موسیٰ سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ " ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا دو " { اَرِنَا اللّٰہَ جَہْرَۃً } یعنی یہ تم جیسی وفا دار اور جاں نثار امت کے شایان شان نہیں کہ تم لوگ اپنے پیغمبر سے اس طرح کے غیر ضروری سوالات کرو۔ سو اس میں اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ارشادات پر صدق دل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
جنت کا مستحق کون ؟
تشریح : یہودی اور عیسائی یہ تمنا لئے ہوئے ہیں کہ ہم تو اللہ کے مقبول ہیں۔ اس لئے ہمارے سوا کوئی دوسری قوم یا شخص جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔ جنت کے حق دار تو صرف ہم لوگ ہی ہیں ان کو اتنی بھی عقل نہیں کہ محض کسی مذہب سے تعلق رکھنے سے جنت نہیں مل جاتی، بلکہ مذہب کے قواعد پر عمل کرنے اور اللہ پر صحیح ایمان لانے اور نیک راہیں اختیار کرنے سے ہی جنت میں داخلہ ملے گا اور یہی بات سچ اور اٹل ہے اگر یہودی یا عیسائی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو کسی دلیل سے اس کو ثابت کردکھائیں۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ گروہ بندیوں اور بدمستیوں کی وجہ سے تمام گزشتہ مذاہب نے اپنا وقار خاک میں ملا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیات 104- 112
اسرارو معارف
فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ف 3 یہود ہر آن اس کوشش میں رہتے کہ مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کردیا جائے کبھی کہتے کہ جنت صرف یہودیوں کے لیے ہے اور نصاری صرف اپنے آپ کو جنت کا حقدار ظاہر کرتے قرآن نے بتایا کہ یہ جھوٹے دغا باز ہیں اور ان کی یہ جھوٹی اور بےبنیاد قسم کی آرزوئیں ہیں جن کے صحیح ہونے کی سندان کے پاس نہیں ہے۔ فتح القدیر) نیز دیکھے (آیت :80) آجکل مسلمان بھی محض آوزؤں میں مبتلا ہیں اولیاء اللہ اور بندگوں کے نام کا ختم پڑھنے یا ان کے مقبروں پر پھول چڑھادینے کو نجات کے لے کافی سمجھتے ہیں حدیث میں العاجزمن اتبع جفسہ وتمنی علی اللہ لا مانی (رازی )
Read the full tafseer →(2:111) لن یدخل الجنۃ۔ لن یدخل۔ مضارع معروف نفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع منصوب بوجہ عمل لن ہے۔ الجنۃ۔ مفعول ہے فعل لن یدخل کا۔
امانیہم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی (جھوٹی) تمنائیں ۔ امنیۃ کی جمع۔
ھاتوا۔ اسم فعل ۔ یعنی اسم بمعنی فعل امر جمع مذکر حاضر ہے۔ لاؤ۔
یہ اصل میں ایتاء (افعال) سے فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتوا تھا۔ ہمزہ کو ھاء سے بدل کر ھاتوا کرلیا۔ مھاتاۃ۔ کوئی چیز کسی کو دینا۔ ا ت ی اور ھ ت ی حرف مادہ ہیں ہر دو صورت میں فعل امر کی گردان یوں آئے گی۔ ھات ماتیا ھانوا ۔۔ الخ۔
برھانکم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہاری دلیل۔ برھان واحد براھین جمع ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–112
لغات القرآن : آیت نمبر 108 تا 112
ام (کیا) ۔ تریدون (تم چاہتے ہو) ۔ ان تسئلوا (یہ کہ تم سوال کرو) ۔ سئل (پوچھا گیا) ۔ تبدل (تبدیل کرے) ۔ ضل (بھٹک گیا) ۔ سواء السبیل (سیدھا راستہ) ۔ ود (پسند ہے) یردونکم (وہ تمہیں پلٹا دیں گے) ۔ حسد (جلن، بغض) ۔ تبین (واضح ہوگیا، کھل گیا) ۔ اعفوا (معاف کرو) ۔ اصفحوا (درگذر کرو، خیال بھی نہ کرو) ۔ حتی یاتی (جب تک نہ آئے) ۔ بامرہ (اپنا حکم، اس کا فیصلہ) ۔ تقدموا (تم آگے بھیجو گے ) ۔ تجدوہ (تم اس کو پالوگے) ۔ ھاتوا (لے آؤ) برھان (دلیل ) اسلم (جس نے جھکا دیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 108 تا 112
کسی بات کو معلوم کرنے اور سمجھنے کے لئے معقول اور نیک نیتی سے سوال کرنا قطعاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
شان نزول : باوجود طرح طرح کی نافرمانیوں میں گرفتار ہونے کے اہل کتاب کا یہ دعوٰی تھا کہ ” یہود اپنے آپ کو جنتی اور باقی سب کو دوزخی کہتے تھے “۔ اور یہی دعویٰ نصرانیوں کا اپنی قوم کے حق میں تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے غلط دعوے کو بےسند قرار دے کر فرمایا کہ جنت میں رہنے کے ک قابل وہی شخص ہے جس کا عمل حکم الہی کے موافق ہو ۔ جنت خدا کی ہے کس کی میراث نہیں کہ بغیر مرضی خدا کے زبردستی جنت میں گھس جاوے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
[76] یعنی اس کے اجر وثواب کو پالو گے۔ یہ مراد نہیں کہ بعینہ وہ عمل موجود ملے گا۔
Read the full tafseer →مذہب دلائل پر مبنی ہے :
(ف 3) اہل دین کی یہ خطرناک غلطی ہے کہ وہ ظاہری رسوم کو اصل دین سمجھ لیتے ہیں کہ اور اس کی روح سے ناواقف ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان میں اختلا واقع ہوتا ہے ۔ ورنہ روح وروائح کے لحاظ سے تمام آسمانی ادیان ایک ہیں اور اسلام ان سب ادیان کی آخری اور مکمل صورت ہے یہودی نے اسی بنا پر عیسائیت کا انکار کای اور عیسائی نے یہودیت کا ، اور پھر غرور مذہبی کی بھی حد ہوگئی کہ دونوں نے اپنے فرقوں کو نجات کا واحد اجارہ دار سمجھ لیا ، قرآن حکیم کہتا ہے ، تم اپنے تعصب کو عقل وبرہان کی روشنی میں دیکھو ، کیا اس کی کچھ بھی قیمت رہ جاتی ہے ، اگر خدا ایک ہے ، آدم (علیہ السلام) سے لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ف 2 اور یہ یہود و نصاریٰ یوں کہتے ہیں کہ جنت میں ہرگز کوئی شخص سوائے ان لوگوں کے جو یہود ہوئے یا سوائے ان لوگوں کے جو نصاریٰ ہوئے داخل نہ ہو سکے گا یہ ان کی باتیں ہی باتیں ہیں جو دلیل سے خالی ہیں آپ ان سے فرمائیے اگر تم لوگ اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اس دعویٰ پر دلیل پیش کرو واقعہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ ضرور جنت میں جائینگے کیونکہ آئین اور قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دے اور وہ خلوص کے ساتھ نیک روش کا پابند ہے تو ایسے لوگوں کا اجر وثواب ان کے مالک کے پاس موجود و محفوظ ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غمگین ہونگے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ یہودی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ف 2۔ اس وقت حالت موجود کا یہ مقتضی تھا پھر حق تعالیٰ نے اس وعدہ کو پورا فرمادیا اور آیات جہاد نازل فرمادیں۔
Read the full tafseer →کیا جنت حاصل کرنے کے لئے کسی گروہ کا قلادہ پہننا ضروری ہے ؟
208: جنت کا تصور چونکہ ہر مذہبی تحریک کی جان رہا ہے اور اب بھی ہے۔ جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا اسی وقت اس کو جنت سے روشناس کرا دیا گیا۔ پھر انسان کا رخ جس طرف بھی پھرا ، اس کا یہ تصور بھی ماند نہیں پڑا۔ یہود و نصاریٰ دونوں نے دین کی اصل حقیقت کو فراموش کر کے مذہب کے نام پر ایک قومیت بنا لی تھی اور پھر ان میں سے ہر ایک اپنی ہی قوم کے جنتی اور مقبول ہونے اور اپنی سوا تمام اقوام عالم کے دوزحی اور گمراہ ہونے کا معتقد تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قوموں کی جہالت و گمراہی کے متعلق فرمایا کہ یہ دونوں قومیں جنت میں جانے کے اصل سبب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
The Jews and the Christians were hostile not only to the Muslims, but also to each other. They had forgotten the essence of religion --that is, adherence to the true and authentic doctrines, and performance of good deeds as laid down by the Shari'ah -- and had identified it with a mere affiliation to a racial or social community. Each of the two groups claimed that it had the exclusive right to go to the Paradise, without having any argument to substantiate the claim. The Jews read the Torah, while the Christians read the Evangel, and they could have easily seen that the two Books confirm…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
112. That is, all this is merely wishful thinking, even though they express thoughts as if they were really going to happen.
Read the full tafseer →