Al-Baqara 2:109

Al-Baqara · from ayah 109

2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا ۖۚ— حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۚ— فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟وَدَّ کَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ۖۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَـقُّ‌ ۚ فَاعۡفُوۡا وَاصۡفَحُوۡا حَتّٰى يَاۡتِىَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى کُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Many of the People of the Scripture wish they could turn you back to disbelief after you have believed, out of envy from themselves [even] after the truth has become clear to them. So pardon and overlook until Allah delivers His command. Indeed, Allah is over all things competent.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 13 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:109

اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے اس کے جواب میں تم عفو و در گزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰاپنا حکم ﻻئے۔ یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مسلمانو) بہت سے اہل کتاب اپنے دلوں کے حسد کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں پلٹا کر پھر کافر بنادیں، باوجودیکہ حق ان پر واضح ہوچکا ہے۔ چنانچہ تم معاف کرو اور درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود اپنا فیصلہ بھیج دے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بہت کتابیوں نے چاہا کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بہت سے اہلِ کتاب کی یہ خواہش ہے تمہارے ایمان لے آنے کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف لوٹا دیں، اس حسد کے باعث جو ان کے دلوں میں ہے اس کے باوجود کہ ان پر حق خوب ظاہر ہو چکا ہے، سو تم درگزر کرتے رہو اور نظرانداز کرتے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے، بیشک اللہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کاش ! وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کافر بنادیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لیے حق خوب واضح ہوچکا۔ سو تم معاف کرو اور در گزر کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر سے تمہیں کافر بنادیں۔ جس کی وجہ ان کا وہ حسد ہے جو ان کے سینوں میں ہے جبکہ اس سے قبل ان پر حق بات واضح ہوچکی ہے۔ (اے مسلمانو) ! انہیں معاف کرو اور ان سے درگزر کرو تاآنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی اپنا حکم بھیج دے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بہت سے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے ایمان کے بعد پھر تمہیں کفر کی حالت میں پلٹٓ دیں، محض اپنے حسد کی وجہ سے، حق کے اچھی طرح واضح ہوجانے کے باوجود تو درگزر کرو اور نظر انداز کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب کہ کسی طرح وہ تم کو بھی تمہارے ایمان سے پھیر کر کافر بنادیں، محض اپنے حسد (اور جلن) کی بناء پر، اس کے بعد کہ حق ان کیلئے پوری طرح واضح ہوگیا، سو (اس کے جواب میں) تم لوگ عفو درگزر سے ہی کام لیتے رہو، یہاں تک کہ اللہ نافذ فرما دے اپنا حکم، بیشک اللہ (تعالیٰ) ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

بہت سے اہل کتاب تو دل ہی سے چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان (لے آنے) کے بعد پھر سے کافر بنالیں۔ حسد کی راہ سے جو ان کے نفسوں میں ہے۔ (اور یہ بھی) بعد اس کے کہ ان پر حق واضح ہوچکا۔ سو معاف کرتے رہو۔ تاآنکہ اللہ اپنا حکم بھیج دے۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں پھیر کر تمہارے ایمان کے بعد تمہیں پھر کافر بنادیں بسبب ان کے دلی حسد کے اس کے بعد کہ ان پر حق بالکل واضح ہوچکا ہے۔ تو (اے مسلمانو !) تم معاف کرتے رہو اور صرف نظر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے یقیناً اللہ ہرچیز پر قادر ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں۔ کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر میں لوٹا دیں، اپنے دلی حسد کے سبب اس کے بعد کہ ان پر حق ظاہر ہوگیا تم درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ جب تک اللہ کا حکم آئے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Many of the people of the Book desire to turn you anyhow back to unbelief. They wish this out of the envy of their hearts though the Truth has become quite clear to them. Yet, you should show forbearance and forgiveness to them' till Allah Himself enforces His judgement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(O Muslims,) many among the people of the Book desire to turn you, after your accepting the faith, back into disbelievers — all out of envy on their part, even after the truth has become clear to them. So, forgive and overlook till Allah brings out His command. Certainly, Allah is powerful over everything.

— Muhammad Taqi Usmani

(O Muslims,) many among the people of the Book desire to turn you, after your accepting the faith, back into disbelievers — all out of envy on their part, even after the truth has become clear to them. So, forgive and overlook till Allah brings out His command. Certainly, Allah is powerful over everything.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Many of the People of the Scripture (Jews and Christians) wish that they could turn you away as disbelievers after you have believed, out of envy from their own selves, even after the truth (that Muhammad is Allah's Messenger) has become manifest unto them. But forgive and overlook, till Allah brings His command. Verily, Allah is able to do all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Many of the people of the Scripture long to make you disbelievers after your belief, through envy on their own account, after the truth hath become manifest unto them. Forgive and be indulgent (toward them) until Allah give command. Lo! Allah is Able to do all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Many of the People of the Scripture wish they could turn you back to disbelief after you have believed, out of envy from themselves [even] after the truth has become clear to them. So pardon and overlook until Allah delivers His command. Indeed, Allah is over all things competent.

— Saheeh International

Once you have accepted the faith, many of the People of the Book would love, out of envy, to turn you back to disbelief, even after the Truth has become evident to them. Have forgiveness and bear with them until God issues His order. God has power over all things.

— Muhammad Sarwar

Many of the followers of the Book wish that they could turn you back into unbelievers after your faith, out of envy from themselves, (even) after the truth has become manifest to them; but pardon and forgive, so that Allah should bring about His command; surely Allah has power over all things.

— Muhammad Habib Shakir

Fain would Many of the People of the Book turn you back infidels after ye have believed, out of envy from their, after the truth hath become manifest unto them so Pardon them, and pass over, until Allah sendeth His command. Verily Allah is over everything Potent.

— Abdul Majid Daryabadi

Quite a number of the People of the Book wish they could Turn you (people) back to infidelity after ye have believed, from selfish envy, after the Truth hath become Manifest unto them: But forgive and overlook, Till Allah accomplish His purpose; for Allah Hath power over all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:109

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 109–110

قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ابن عباس سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابو یاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری کہتے ہیں اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ بھی یہودی تھا اور اپنے شعروں میں حضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا گو ان کی کتاب میں حضور ﷺ کی تصدیق موجود تھی اور یہ بخوبی حضور ﷺ کی صفتیں جانتے تھے اور آپ کو اچھی طرح پہچانتے تھے پھر یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ قرآن ان کی کتاب کی تصدیق کر رہا ہے ایک امی اور ان پڑھ وہ کتاب پڑھتا ہے جو سراسر معجزہ ہے لیکن صرف حسد کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 109–110

سورة الْبَقَرَة 111 یعنی ان کے عناد اور حسد کو دیکھ کر مشتعل نہ ہو، اپنا توازن نہ کھو بیٹھو، ان سے بحثیں اور مناظرے کرنے اور جھگڑنے میں اپنے قیمتی وقت اور اپنے وقار کو ضائع نہ کرو، صبر کے ساتھ دیکھتے رہو کہ اللہ کیا کرتا ہے۔ فضولیات میں اپنی قوتیں صرف کرنے کے بجائے خدا کے ذکر اور بھلائی کے کاموں میں انہیں صرف کرو کہ یہ خدا کے ہاں کام آنے والی چیز ہے نہ کہ وہ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–110

خلاصہ تفسیر (بعض یہود شب وروز مختلف تدبیروں سے دوستی اور خیر خواہی کے پیرایہ میں مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور باوجود ناکامی کے اپنی دھن سے باز نہ آتے تھے حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس پر متبنہ فرما دیا کہ) ان اہل کتاب (یعنی یہود) میں بہتیرے دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر کافر کر ڈالیں (اور یہ چاہنا کچھ خیر خواہی سے نہیں جیسا کہ وہ اظہار کرتے ہیں بلکہ) محض حسد کی وجہ سے جو کہ (تمہاری جانب سے کسی امر کے سبب پیدا نہیں ہوا بلکہ) خود ان کے دلوں ہی سے (جوش مارتا) ہے (اور یہ بھی نہیں کہ ان کو حق واضح نہ ہوا بلکہ) حق واضح ہوئے پیچھے (یہ حالت ہے اب اس پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مزید تنبیہ ہے کہ یہود کی یہ تمام سرگرمیاں صرف اس غرض سے ہیں کہ تمہیں ایمان سے ہٹا کر پھر کفر کی حالت میں پلٹا دیں۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کی یہ تمام بھاگ دور تمہاری خیر خواہی میں ہے یا یہ تمہاری سابق دین کو برحق سمجھتے ہیں اس کی حمایت ہے یا اسلام کے باب میں انہیں کوئی غلط فہمی ہے اس وجہ سے ہے بلکہ یہ محض حسد کا دورہ ہے جو ان کے نفس کے تحریک سے ان پر پڑا ہے باوجودیکہ اسلام کا حق ہونا ان پر اچھی طرح واضح ہوچکا ہے۔ یہ تنبیہ اس لیے ضروری تھی کہ بعض نیک دل یا سادہ لوح مسلمان اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتے تھے کہ یہ اہل کتاب محض ان کی خیر خواہی میں یا ایک دینی خدمت کے طور پر ان کے ایمان کے معاملہ میں اتنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 108–109

18۔ 1 مسلمانوں (صحابہ ؓ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم یہودیوں کی طرح اپنے پیغمبر ﷺ سے ازراہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کیا کرو۔ اس میں اندیشہ کفر ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 108–110

72: یہ خطاب یہودیوں کو بھی ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے بجائے طرح طرح کے مطالبے پیش کرتے تھے اور ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی یہ سبق دیا جارہا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کے باوجود یہودی ان سے نامعقول اور غیر ضروری سوالات اور مطالبے کرتے رہے، تم ایسا نہ کرنا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حسد ، جو ایک نہایت ہی بری خصلت اور اخلاقی بیماری ہے ۔ نفس انسانی کے اندر یہ خواہش پیدا کردیتی ہے کہ تمام دوسرے لوگ ہر قسم کی بھلائی سے محروم ہوجائیں اور راہ ہدایت نہ پائیں ۔ اس لئے نہیں کہ ایسے حاسد شرپسند لوگ حقیقت حال سے واقف نہیں ہوتے ۔ وہ حقیقت حال سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں مگر محض حسد کی بناپر یہ خواہش رکھتے ہیں ۔ حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ” اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا ہے مگر نفس کے حسد کی بناپر وہ ایسا کرتے ہیں ۔ “ یہود کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حسد کے سیاہ اور گھٹیا جذبات موجزن تھے وہ جذبات آج بھی جوں کے توں موجد ہیں ۔ اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی بہت سے یہودیوں کو آرزو ہے کہ اسی طرح تم کو اے مسلمانوں پھیر کر پھر کافر بنادیں حالانکہ ان کو واضح ہوچکا ہے کہ مسلمانوں کا دین، ان کی کتاب، ان کا نبی سب سچے ّ ہیں۔ 4 یعنی جب تک ہمارا حکم کوئی نہ آوے اس وقت تک یہود کی باتوں پر صبر کرو۔ سو آخر کو حکم آگیا کہ یہود کو مدینہ کے گرد سے نکال دو ۔ 5 یعنی اپنے ضعف سے تردد مت کرو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے تم کو عزیز اور یہود کو ذلیل کرے گا یا یہ کہ تاخیر عجز کی وجہ سے نہیں کی جاتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 109 وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا ج یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی بلیّ کی دم کٹ جائے تو وہ یہ چاہے گی کہ ساری بلیوں کی دمیں کٹ جائیں تاکہ وہ علیحدہ سے نمایاں نہ رہے۔ چناچہ اہل کتاب یہ چاہتے تھے کہ اہل ایمان کو بھی واپس کفر میں لے آیا جائے۔ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ ان کا یہ طرز عمل ان کے حسد کی وجہ سے ہے کہ یہ نعمت مسلمانوں کو کیوں دے دی گئی ؟ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ ج وہ حق کو جان چکے ہیں اور پہچان چکے ہیں ‘ کسی مغالطے یا غلط فہمی میں نہیں ہیں۔ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا یہ بہت اہم مقام ہے۔ مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

127 یہود کے حسد اور عناد کی وجہ تو اوپر مذکور ہوچکی۔ اس لیے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو مختلف طریقوں اور حیلوں بہانوں سے اسلام سے برگشتہ کر کے مسلمانوں کی قوت کو کمزور تر کردیں۔ لہذا اے مسلمانو ! تم ان کے اندرونی عناد اور بغض کی حقیقت کو خوب سمجھ لو اور ان کا ردعمل دیکھ کر مشتعل نہ ہوجاؤ، نہ ان سے بحث و مناظرہ میں الجھو اور نہ اپنا وقت ضائع کرو بلکہ انہیں درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دو ، اور صبر کے ساتھ دیکھتے رہو کہ اللہ ان کے حق میں کیا فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو پوری سزا دے کے رہے گا۔ کیونکہ وہ ہر بات اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 128 اللہ تعالیٰ کا حکم یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

387:۔ (اے ایمان والو) شان نزول کے ایک مخصوص واقعہ کی بنا پر عموما مفسرین نے یہاں اہل کتاب سے مراد یہود یا احبار یہود لی ہے۔ لیکن لفظ قرآنی عام ہے اور یہود ونصاری دونوں اس کے عموم میں یکساں داخل ہیں۔ مسیحیوں کی طرف سے جو کھلا ہوا زبردست اور منظم اور علماء یہود کی طرف سے نسبۃ ہلکا اور مخفی پروپیگنڈا عقائد اسلام کے خلاف سیاسی، معاشرتی، تاریخی، جغرافی تحریروں کے ذریعہ سے اسلامی آبادیوں کے درمیان جاری رہتا ہے، وہ سب اسی کے مظاہر ہیں۔ غایب ان ساری سرگرمیوں اور کوششوں کی یہی رہتی ہے کہ مسلمان اگر یہودیت ومسیحیت کو نہ بھی قبول کریں جب بھی کم از کم اپنے دین کی طرف سے تو ضرور بدگمان وبرگشتہ ہو کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 109–112

آیت نمبر 109 تا 112 ترجمہ : اور اہل کتاب میں سے اکثر یہ چاہتے ہیں لَو مصدر یہ ہے کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے کفر کی طرف پھیر دیں، اس حسد کی وجہ سے جو خود ان کی طرف سے ہے، حَسَدًا مفعول لہٗ ہے (یعنی بلاوجہ) حسد پر ان کو ان کے خبیث نفس نے آمادہ کیا ہے، اس کے باوجود کہ تورات میں نبی کی بابت ان پر حق ظاہر ہوچکا ہے (اس کے باوجود) تم فعو و درگزر سے کام لو، اور نظر اندوز کرو اور ان سے بدلہ نہ لو، تاآنکہ ان سے قتال کے بارے میں خود اللہ کا حکم آجائے، بلاشبہ وہ ہر شئی پر قادر ہے، نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے لئے جو بھلائی مثلاً نماز، صدقہ، تم آگے بھیجو گے تو تم اس کو یعنی اس کے اجر کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ ( چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب) ابن ابی حاتم نے اس کا شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ حیی اور ابو یاسر اخطب یہودی کے بیٹے عرب سے اس وجہ سے بہت حسد کرتے تھے کہ ان میں پیغمبر ﷺ کیوں ہوئے اور رات دن لوگوں کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے ان کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ ( کہ تم کو پھیر کر بناویں) کم سے مؤمنین مراد ہیں اور لو مصدریہ ہے معنی میں انْ شرطیہ کا قائم مقام ہے لفظی عمل میں ان جیسا نہیں ہے۔ اس کے موافق لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ ترکیب میں وَدَّ کا مفعول ہوگا اور یا لَوْ بمعنی لَیْتَ ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(109) کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی اور فخاص بن عاز داء اور اس کی جماعت، اے عمار اور حذیفہ اور اے معاذ بن جبل حسد وبغض میں یہ تمنا و خواہش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد کافر ہو کر (عیاذ باللہ) پھر ان کے دین پر لوٹ جاؤ، اس کے باوجود کہ ان کی کتابوں میں یہ بات آچکی تھی ہے کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کا دین اور آپ ﷺ کے اوصاف وصفتیں یہ سب درست ہیں، لہذا ان باتوں کو چھوڑو اور ان سے احتراز کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ”بنی قریظہ“ اور ”بنی نضیر“ پر قتل و غارت گری، قید اور جلاوطنی کا اپنا عذاب نہ نازل فرما دے اور اللہ تعالیٰ قتل وجلاوطنی کا اپنا عذاب نہ نازل فرما دے اور اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 109–110

(كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰب) میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب شامل ہیں اور بعد میں آنے والے تمام زمانوں کے یہود و نصاریٰ بھی، جیسا کہ ہمارے دور میں ان کی طرف سے علم و تحقیق کے نام پر اسلام کے عقائد و احکام کے خلاف پروپیگنڈا ہو رہا ہے اور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ مسلمان اگر یہودی یا نصرانی نہ بنیں تو کم از کم اپنے دین سے ضرور بدگمان ہوجائیں۔ (حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ) حق کو پہچاننے کے باوجود ان کی یہ خواہش محض حسد کی وجہ سے ہے اور حسد بھی کسی دینی جذبے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے دلوں کے بغض و عناد کی وجہ سے ہے۔ اس سے حسد کی قباحت ظاہر ہوئی کہ خود بھی ایمان سے محروم رہے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 109–110

آیت نمبر 109 تا 110 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ود کثیرٌ من اھل الکتب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفاراً حسداً من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: ود کا معنی تمنا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ کفاراً یہ یردونکم کا مفعول ثانی ہے من عند انفسھم بعض علماء نے فرمایا : یہ یود کے متعلق ہے۔ بعض نے فرمایا : حسدًا کے متعلق ہے اور کفاراً پر وقف ہے اور حسدًا، ود کا مفعول لہ ہے یا مصدر ہے اپنے ماقبل پر دلالت کرتا ہے اور من عند انفسھم کا معنی ہے اپنی طرف سے، نہ وہ یہ کتاب میں پاتے ہیں اور نہ انہیں اس کا حکم دیا گیا ہوتا ہے حسد کا لفظ یہ مفہوم دیتا ہے اور عند انفسھم بطور تاکید…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 108–110

(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رفع بن حریملہ اور دھب بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اے محمد 1 ہمارے لئے کتاب لے آئیے جو ہم پر آسمان سے نازل کریں اور ہم اس کو پڑھیں۔ یا ہمارے لئے نہریں جاری کردہ تو ہم آپ کی تابعداری کرلیں گے اور ہم آپ کی تصدیق بھی کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” ام تریدون ان تسئلوا رسولکم “ الی قولہ ” سواء السبیل “ اور حئی بن اخطب اور ابو یاسر بن أخطب یہود میں سے زیادہ سخت تھے جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو عرب میں سے بھیجا تو وہ عربوں سے انتہائی حسد کرتے تھے اور لوگوں کو اسلام سے مرتد کرنے کی پوری کوشش…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَدَّ : چاہا ] [ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب کی اکثریت ] [ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ : کاش وہ لوگ پھیر دیں تم لوگوں کو ] [ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ : تمہارے ایمان کے بعد ] [ كُفَّارًا : کفر کرنے والی حالت ] [ ښ حَسَدًا : حسد کرتے ہوئے ] [ مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ : اپنے جی ہی جی میں ] [ مِّنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد بھی کہ جو ] [ تَبَيَّنَ : واضح ہوا ] [ لَهُمُ : ان کے لیے ] [ الْحَقُّ ۚ: حق ] [ فَاعْفُوْا : پس تم لوگ معاف کرو ] [ وَاصْفَحُوْا : اور نظر انداز کرو ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ يَاْتِيَ : یہاں تک کہ لاءے ] [ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ: اللہ اپنا فیصلہ ] [ اِنَّ اللّٰهَ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 109–110

کفار چاہتے ہیں کہ تمہیں کافر بنا لیں یہودیوں کو یہ تو خوب واضح طریقے پر معلوم ہوگیا تھا کہ نبی عربی محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے نبی ہیں لیکن ان کو حسد کھا گیا خود تو مسلمان ہوتے ہی نہ تھے (الا قلیلا منھم) اور طرح طرح کی کوششیں کرتے تھے کہ عرب بھی مسلمان نہ ہوں اور جو لوگ مسلمان ہوچکے ان کو واپس کرلیں، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے قلبی ارادوں سے مطلع فرمایا تاکہ ان سے بچتے رہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں اور ان کی جھوٹی ہمدردی کو کوئی حیثیت نہ دیں۔ چونکہ مسلمان اور یہودی ایک ہی شہر یعنی مدینہ منورہ میں رہتے تھے اور اس وقت تک ظاہری اسباب کے اعتبار سے مسلمانوں کے غلبہ کی صورت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–110

شناعت بست وششم (26) قال تعالی۔ ود کثیر من اھل الکتب۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ بما تعملون بصیر اے مسلمانو ! یہ یہود قرآن اور دین میں طرح طرح کے شبہ نکالتے ہیں کبھی نسخ احکام پر اعتراض کرتے ہیں اصل وجہ یہ ہے کہ اکثر اہل کتاب کی دلی خواہش اور تمنا یہ ہے کہ کسی طرح تم کو ایمان سے پھیر کر کافر بنا دیں کہ اہل کتاب کی طرح تم بھی جدید حکم کا انکار کردو اور اپنے نبی پر یہ اعتراض کرو کہ تم نے پہلے تو یہ حکم دیا تھا اور اب یہ دوسرا حکم اس کے خلاف کیسا ؟ اور اس غرض فاسد کا کوئی محرک اور باعث تمہاری جانب سے وقوع میں نہیں آیا بلا وجہ محض حسد کی بناء پر کہ جو خود ان کے ناپاک اور گندے نفسوں سے پیدا ہوا ہے اور پھر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

208 اہل کتاب سے بعض مفسرین نے علمائ یہود مراد لیے ہیں لیکن یہ کوئی علمائ یہود ہی سے مخصوص نہیں۔ عیسائی پادریوں کی بھی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے اور آج پادری لوگ جس سرگرمی سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کوشش مصروف ہیں وہ اس بات کا بین ثبوت ہے۔ آیت میں لَوْ مصدریہ ہے اور کفاراً یریدون کا مفعول ثانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ یہ اہل کتاب تمہیں اسلام سے پھیر کر دوبارہ کافر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کبھی تو موہم شرک الفاظ تمہاری زبانوں سے کہلواتے ہیں اور کبھی پیغمبر خدا ﷺ سے دوسری مشرکانہ رسوم جاری کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔209 حَسَداً ۔ وَدَّکا مفعول لہ ہے یعنی وہ مسلمانوں کا ارتداد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 108–110

ربط آیات : بنی اسرائیل کی خرابیوں کا ذکر چلا آرہا ہے ، گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ” راعنا “ کا لفظ استعمال کرنے سے منع فرمایا تھا ، اس کی بجائے (آیت) ” انظرنا “۔ استعمال کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہودی دیدہ دانستہ ” راعنا “۔ کا لفظ بولتے تھے جس سے معاذ اللہ پیغمبر (علیہ السلام) کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ، گذشتہ درس میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر کوئی بہتر چیز نازل فرمائے یہ لوگ نبی کے ساتھ حسد کرتے تھے ، پھر انہوں نے نسخ آیات کا مسئلہ بھی اٹھایا کہ اللہ تعالیٰ ایک حکم جاری کرنے کے بعد اسے منسوخ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا۝ 0 ۚۖ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ۝ 0 ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ 109 ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 108–109

ترکیب : ام اس جگہ منقطع ہے والتقدیر بل اترید ون ان تسالو اکما میں کاف موضع نصب میں ہے مصدر محذوف کی صفت ہے ای سوالا کما اور ما مصدریہ ہے سواء السبیل بمعنی وسط السبیل ظرف ہے ضل کا وَدَّ فعل کثیر من اھل الکتاب فاعل لو مصدریہ یردونکم جملہ بتاویل مصدر مفعول کفارًا حال ہے کم سے جو یردونکم میں ہے اور ممکن ہے کہ مفعول ثانی ہو کس لیے کہ یرد بمعنی یصیر ہے حسدًا مفعول لہ ہے فاعل ود سے یا یردونکم سے من عندانفسہم کائن کے متعلق ہو کر صفت ہوا حسداً کی۔ تفسیر : یہودی اہل اسلام کو طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا کیا کرتے تھے تاکہ یہ لوگ دین سے برگشتہ ہوجائیں اور باوجودیکہ ان کو آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 108–109

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْارَسُوْلَکُمْ کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُط وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلَ ۔ وَدَّکَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًاج حَسَدًامِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّج فَاعْفُوْاوَاصْفَحُوْاحَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (البقرۃ : 108 تا 109) (کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اس طرح کے سوال کرو جس طرح کے سوال اس سے پہلے موسیٰ سے کیے گئے اور جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل دیں گے وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : تمام اعتراضات کے پیچھے یہود و نصاریٰ کا ایک ہی مقصد ہے کہ تم سچے دین سے مرتد ہوجاؤ اور اس کے پیچھے دنیاوی مفادات کے ساتھ ان کا حسد بھی کار فرما ہے ان سے درگزر کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھو۔ رسول کریم ﷺ کی رسالت سے یہود و نصاریٰ کے انکار کا بنیادی سبب یہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے نبوت ہماری وراثت ہے کیونکہ نبوت کا سلسلہ صدیوں سے ہماری نسل میں چلا آ رہا ہے اب ہماری وراثت بنی اسماعیل کو کیوں منتقل کردی گئی ہے ؟ اس صورت میں چاہیے تو یہ تھا کہ اہل مکہ یہود و نصاریٰ کے حسد و بغض کا ادراک کرتے ہوئے سرور دو عالم ﷺ کے ہم رکاب اور ہم زبان ہوجاتے لیکن وہ شرک و کفر کے مرض میں مبتلا ہو کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 109: وَدَّکَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ : (اہل کتاب میں سے بہت سے چاہتے ہیں کہ تم کو پھیر دیں) یہ کہ وہ تم کو لوٹا دیں۔ مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا : (ایمان کے بعد کفر کی حالت میں) یہ کُمْ ضمیر سے حال ہے مطلب یہ ہوا۔ یعنی تم کو تمہارے دین سے کفر کی حالت کی طرف لوٹا دیں۔ شان نزول : یہ آیت اس وقت اتری جب یہود نے واقعہ احد کے بعد کہا۔ کیا تم نے غور نہیں کیا۔ کہ جو تکلیف تمہیں پہنچی۔ اگر تم حق پر ہوتے تو تمہیں شکست نہ ہوتی۔ تم ہمارے دین میں واپس لوٹ آئو۔ وہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ حَسَدًا : (حسد کی وجہ سے) یہ مفعول لہ ہے یعنی حسد کی وجہ سے۔ حسد دوسرے کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 109۔: (آیت)” ودکثیر من اھل الکتاب “ یہ آیت یہود کے کچھ لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ، انہوں نے حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ کو اور عمار بن یاسر ؓ کو واقعہ کو واقعہ احد کے بعد کہا اگر تم حق پر ہوتے تو تم شکست نہ کھاتے ۔ لہذا تم دونوں ہمارے دین کی طرف آجاؤ ہم تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ، اس پر حضرت عمار ؓ نے ان کو فرمایا تمہارے دین میں عہد توڑنا کیسا ہے ؟ انہوں نے کہا بہت سخت ہے تو حضرت عمار ؓ نے فرمایا میں نے تو عہد کر رکھا ہے کہ محمد ﷺ کے ساتھ جب تک زندہ رہوں گا کفر نہ کروں گا پس یہود نے کہا بہرحال یہ تو صابی ہوگیا ، (اپنے دین سے پھرنے والے کو اس وقت صابی کہا جاتا تھا) اور حضرت حذیفہ ؓ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 109–110

(109 ۔ 110) ۔ باوجود امی ہونے کے آنحضرت ﷺ یہود کو ایسی باتوں کی خبر دیتے ہیں جو ان کی وفات کے بالکل موافق ہوتی تھیں اور دنیا کے لالچ سے اگرچہ انہوں نے تورات کی ان آیتوں کو بدل ڈالا تھا جن میں نبی آخر الزمان کے اوصاف کا ذکر تھا لیکن اپنے دل میں میں وہ آنحضرت ﷺ کے نبی آخر الزمان ہونے قائل تھے۔ فقط اس حسد سے کہ نبی آخر الزمان ان کی قوم بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ جہاں تک ان کا بس چلتا تھا مسلمانوں کو ان کے دین سے بچنے میں کمی نہ کرتے تھے۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرما کر یہ فرمایا ہے کہ یہود کی ہر طرح کی عداوت کی باتوں پر اس وقت تک صبر اور درگذر کرو جب تک اللہ کا کوئی حکم اخیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 108–110

اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں (آیت) كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۭ ” جس طرح اس سے پہلے (حضرت) موسیٰ ( علیہ السلام) سے سوال کیا گیا۔ “ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کئے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) یسئلک اھل الکتاب۔۔ تا۔۔ جھرۃ (النساء 153) ” اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتارلا۔ یہ موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کرچکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) یا ایھا الذین آمنو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 107–109

قول باری ہے : فاغفوا واصفحوا حتی یاتی اللہ بامرہ (تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے) معمر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت قول باری : اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (مشرکین کو قتل کر ڈالو جہاں بھی انہیں پائو) کی بنا پر منسوخ ہوگئی ہے۔ ابو محمد جعفر بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، ان سے ابوالفضل جعفر بن محمد بن الیمان نے کہ ابو عبید کے سامنے یہ روایت پڑھی گئی اور میں اسے سن رہا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یہ روایت عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری : لست علیھم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 108–111

300 لایعنی سوالات سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول سے ویسے ہی سوالات کرو جیسے سوالات حضرت موسیٰ کی قوم نے ان سے کیے تھے ؟۔ جیسے ذبح بقرہ کے قصے میں ان لوگوں نے طرح طرح کی حجت بازیاں کر کے خود اپنے ہی لئے مشکلات پیدا کی تھیں، نیز انہوں نے حضرت موسیٰ سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ " ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا دو " { اَرِنَا اللّٰہَ جَہْرَۃً } یعنی یہ تم جیسی وفا دار اور جاں نثار امت کے شایان شان نہیں کہ تم لوگ اپنے پیغمبر سے اس طرح کے غیر ضروری سوالات کرو۔ سو اس میں اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ارشادات پر صدق دل سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 109–110

کفار کا حسد تشریح : مذکورہ آیات میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ خبردار کر رہے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنی بدعملیوں کی وجہ سے کفر کی راہ اختیار کرچکے ہیں۔ وہ اپنی پوری کوشش صرف کر رہے ہیں کہ تم مسلمان اپنے دین سے بد دل ہوجاؤ اور ان کی طرح غلط راہ پر چلنا شروع کر دو ۔ حالانکہ وہ حق و باطل کا فرق جانتے ہیں مگر مارے حسد کے وہ تمہیں بد راہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تم غصہ نہ کھاؤ درگزر کرو اور ان سے نمٹنے کے لئے اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ فی الحال تم اپنی طاقت کو مجتمع رکھو، نیکی اور بھلائی کی طرف توجہ دو اور ان دو بنیادی اصولوں پر جم جاؤ، اول نماز قائم رکھو دوسرے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 104–112

آیات 104- 112 اسرارو معارف فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 مروی ہے کہ جنگ احد میں مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو یہود اسلام کے خلاف نفرت پھیلانی شروع کردی اور بعض صحابہ کو یہو دیت کی دعوت دی اس پر یہ آتیں نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو صبر کی تلقین کی گئی کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے مقابلہ کے لیے دوسرا حکم نہ آجائے اس وقت تک عفو و درگزر سے کام لو اور ان کے اچھے حملوں اور حسد وبغض کی وجہ سے بےقابو نہ ہوں چناچہ یہ حکم بعد میں اجازت قتال کی صورت میں آگیا۔ (ابن کثیر) اس دور میں بھی علماء یہود و نصاری علم و تحقیق کے نام سے کتاب وسنت پر حملے کررہے ہیں اور مسلمانوں کو ان کے عقائد اور طریق سلف سے بر گشتہ کرکے بد عت و ضلالت کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:109) ود۔ ماضی ۔ واحد مذکر غائب ۔ ود۔ مودۃ مصدر (باب سمع) اس نے دل سے چاہا۔ دل سے خواہش کی۔ لو۔ یہاں بطور حرف تمنی استعمال ہوا ہے۔ کاش۔ یریدونکم۔ یریدون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ رد مصدر (باب نصر) کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ۔ کہ تم کو لوٹا دیویں۔ مرتد بنادیں۔ کفارا۔ مفعول ثانی ہے (کم مفعول اول) فعل یریدون کا۔ حسدا۔ بوجہ حسد۔ مفعول لہ۔ من عند انفسھم۔ انفسھم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ عند کا جو مضاف ہے۔ یہ مضاف اور مضاف الیہ مل کر مجرور اپنے جار من کا۔ جار مجرور مل کر صفت حصدا کی ۔ یعنی بوجہ حسد کے جو ان کے دلوں میں ہے۔ من بعد ما تبین لہم الحق۔ بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکا ان پر حق۔ یعنی یہ سب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 108–112

لغات القرآن : آیت نمبر 108 تا 112 ام (کیا) ۔ تریدون (تم چاہتے ہو) ۔ ان تسئلوا (یہ کہ تم سوال کرو) ۔ سئل (پوچھا گیا) ۔ تبدل (تبدیل کرے) ۔ ضل (بھٹک گیا) ۔ سواء السبیل (سیدھا راستہ) ۔ ود (پسند ہے) یردونکم (وہ تمہیں پلٹا دیں گے) ۔ حسد (جلن، بغض) ۔ تبین (واضح ہوگیا، کھل گیا) ۔ اعفوا (معاف کرو) ۔ اصفحوا (درگذر کرو، خیال بھی نہ کرو) ۔ حتی یاتی (جب تک نہ آئے) ۔ بامرہ (اپنا حکم، اس کا فیصلہ) ۔ تقدموا (تم آگے بھیجو گے ) ۔ تجدوہ (تم اس کو پالوگے) ۔ ھاتوا (لے آؤ) برھان (دلیل ) اسلم (جس نے جھکا دیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 108 تا 112 کسی بات کو معلوم کرنے اور سمجھنے کے لئے معقول اور نیک نیتی سے سوال کرنا قطعاً…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 109–110

شان نزول : باوجود امی ہونے کے آنحضرت ﷺ یہود کو ایسی باتوں کی خبر دیتے تھے جو ان کی توریت کے بلکل موافق تھیں ، اور دنیا کے لالچ سے اگرچہ انہوں نے توریت کی ان آیتوں کو بدل ڈالا جس میں نبی آخر الزماں کے اوصاف کا ذکر تھا لیکن اپنے دل میں وہ آنحضرت ﷺ کے نبی آخر الزماں ہونے کے قائل تھے ۔ فقط اس حسد سے کہ نبی آخر الزماں ﷺ ان کی قوم بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے ۔ جہاں تک ان کا بس چلتا تھا مسلمانوں کو ان کے دین سے (گمراہ کرتے) تھے ۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہود کی ہر طرح کی عداوت کی باتوں پر اس وقت تک صبر اور درگزر کرو جب تک اللہ کا کوئی حکم نازل ہو ، اور ہر حال میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) مخاض بن عاذ وراء اور زید بن قیس یہودی نے جب دیکھا کہ غزوہ احد میں عارضی شکست ہوگئی ہے تو انہوں نے حضرت حذیفہ ؓ اور حضرت عمار ؓ سے کہا ، آؤ پھر سے یہودی ہوجاؤ ، کیوں ہزیمت اٹھاتے ہو مسلمان رہ کر حضرت عمار ؓ نے فرمایا ، تمہارے مذہب میں نقض عہد کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟ انہوں نے کہا ۔ بہت بری نظر سے ، فرمایا تو سن رکھو ، میں نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جیتے جی محمد ﷺ سے بیزار نہیں ہونے کا ، حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا ، میں تو بہرحال اللہ سے خوش ہوں ، اس کے دین سے خوش ہوں ‘ اس کی کتاب سے خوش ہوں ، اس کے بنائے ہوئے قبلہ سے خوش ہوں اور مسلمانوں کی ہمہ گیر اخوت پر خوش ہوں ، یہ سن کر وہ مایوس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 109–110

ف 1 اہل کتاب میں سے اکثر لوگ محض اپنے ذاتی اور طبعی بغض و حسد کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں اور دل آرزو رکھتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر مرتد بنادیں اور کافر کردیں۔ حالانکہ ان پر دین حق واضح ہوچکا ہے۔ دین حق واضح ہوجانے کے بعد پھر اس قسم کی مذموم خواہش رکھتے ہیں۔ اے مسلمانو ! اگر تم کو ان پر غصہ آئے تو اس وقت تک تم ان سے کوئی مواخذہ نہ کرو اور درگزر کرتے رہو جب تک اللہ تعالیٰ نے اپنا کوئی اور حکم تم کو نہ بھیجے یقین جانو کو اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوۃ ادا کرتے رہو اور تم جو اعمال خیر بھی اپنے بھلے کو آگے بھیجتے رہو گے ان سب اعمال کو یعنی ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اشارتا بتادیا کہ ان کی شرارتوں کا علاج قانون انتظام امن عام یعنی قتال وجزیہ سے ہم جلدی جاری کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس چھیڑ چھاڑ سے یہود کی اصل غرض کیا ہے ؟ 205: مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور تعلقات قائم رکھنے کی غرض وغایت ان کی یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے مسلمانوں کو دین حق سے منحرف کردیں ان کو بغض و عداوت مسلمانوں سے کیوں ہے ؟ صرف اور صرف اس لئے کہ بنی اسماعیل پر وحی کیوں نازل ہوئی۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اب زمانہ کی ضروریات اس بات کی مقتضی ہیں کہ قرآن کریم کا نزول ہو ۔ کیونکہ تورات و زبور اور انجیل میں سے کسی ایک کو بھی انہوں نے اس کی اصل حالت پر نہیں رہنے دیا ۔ اس لئے اب ان میں سے کوئی کتاب بھی انسانوں کیلئے مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔ جب ایک علامہ آدمی قانون کا اتباع چھوڑ دیتا ہے اور اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–110

Some of the Jews, pretending to be the well-wishers of the Muslims, were always inventing new stratagems to make them turn away from Islam, and, in spite of repeated failure in this effort, did not refrain from it. The verse warns the Muslims against their intentions, which are motivated, not by sincerity and friendship, but by envy --which in its turn arises not from anything the Muslims do, but spontaneously from within themselves even after they have come to understand clearly what the truth is. The verse also asks the Muslims not to give way to their justifiable anger at such misconduct,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–110

111. This means that one should neither allow oneself to get angry at their spite and hostility, nor waste one's valuable time by engaging in useless debates and acrimonious polemics. It is better to wait patiently and observe how God deals with them. Instead of wasting energy in frivolous pursuits such as those menti~ above one should spend it in the remembrance of God and in acts of goodness, for it is these rather than barren controversies that will benefit man in the Life to Come.

Read the full tafseer →