کثرت سوال حجت بازی کے مترادف ہے !
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو روکتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے میرے نبی سے فضول سوال نہ کیا کو۔ یہ کثرت سوال کی عادت بہت بری ہے جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ) 5۔ المائدہ :101) ایمان والو ان چیزوں کا سوال نہ کیا کرو جو اگر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں برا لگے گا اور اگر تم قرآن کے نازل ہونے کے زمانہ میں ایسے سوالوں کا سلسلہ جاری رکھو گے تو یہ باتیں ظاہر کردی جائیں گی۔ کسی بات کے واقع ہونے سے پہلے اس کی نسبت سوال کرنے میں خوف یہ ہے کہ کہیں اس سوال کی وجہ سے وہ حرام نہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 110
یہودی موشگافیاں کر کر کے طرح طرح کے سوالات مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے تھے اور انہیں اکساتے تھے کہ اپنے نبی سے یہ پوچھو اور یہ پوچھو اور یہ پوچھو۔ اس پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ اس معاملے میں یہودیوں کی روش اختیار کرنے سے بچو۔ اسی چیز پر نبی ﷺ خود بھی مسلمانوں کو بار بار متنبہ فرمایا کرتے تھے کہ قیل و قال سے اور بال کی کھال نکالنے سے پچھلی اُمّتیں تباہ ہوچکی ہیں، تم اس سے پرہیز کرو۔ جن سوالات کو اللہ اور اس کے رسول نے نہیں چھیڑا، ان کی کھوج میں نہ لگو۔ بس جو حکم تمہیں دیا جاتا ہے اس کی پیروی کرو اور جن امور سے منع کیا جاتا ہے، ان سے رک جاؤ، دُور ازکار…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(بعض یہود نے حضور ﷺ کی خدمت میں عناداً عرض کیا کہ جس طرح موسیٰ ؑ پر ایک ہی دفعہ توراۃ نازل ہوئی اسی طرح آپ قرآن مجموعی طور پر لائیے اس پر ارشاد ہوتا ہے کہ) ہاں کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول (وقت) سے (بیجا بیجا) درخواستیں کرو جیسا کہ اس کے قبل (تمہارے بزرگوں کی طرف سے حضرت) موسیٰ ؑ سے بھی (ایسی ایسی) درخواستیں کی جا چکی ہیں (مثلا خدا تعالیٰ کو علانیہ دیکھنے کی درخواست کی تھی اور ایسی درخواستیں جن میں صرف رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرنا اور مصالح الہیہ میں مزاحمت کرنا ہی مقصود ہو اور ایمان لانے کا پھر بھی ارادہ نہ ہو نری کفر کی باتیں ہیں اور) جو شخص ایمان لانے کی بجائے کفر (کی باتیں)…
Read the full tafseer →لفظ ’ سوال ‘ کا مفہوم : لفظ سوال کے اندر کئی مفہوم ہیں۔ مثلاً مانگنا، درخواست کرنا، مطالبہ کرنا، پوچھنا، پرسش کرنا، سوال کرنا۔ سوال، بعض صورتوں میں اعتراض کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے، اس وجہ سے اس کے مفہوم میں اعتراض کرنا بھی داخل ہے۔ بعض حالات میں تحقیق کی نوعیت کا ہوتا ہے، اس صورت میں اس کا صلہ عن کے ساتھ آتا ہے۔ بعض حالات میں سوال استہزاء کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے، اس صورت میں اس کا صلہ ’ ب ‘ کے ساتھ آتا ہے مثلا سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِع (ایک مذاق اڑانے والے نے مذاق اڑایا، ہونے والے عذاب کا) (معارج :1)۔ قرآن مجید میں یہ لفظ مذکورہ تمام معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
18۔ 1 مسلمانوں (صحابہ ؓ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم یہودیوں کی طرح اپنے پیغمبر ﷺ سے ازراہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کیا کرو۔ اس میں اندیشہ کفر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
72: یہ خطاب یہودیوں کو بھی ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے بجائے طرح طرح کے مطالبے پیش کرتے تھے اور ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی یہ سبق دیا جارہا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کے باوجود یہودی ان سے نامعقول اور غیر ضروری سوالات اور مطالبے کرتے رہے، تم ایسا نہ کرنا۔
Read the full tafseer →اللہ مؤمنین کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح کج بحثی میں نہ پڑیں اور اپنے پیغمبر سے خوامخواہ دلائل نہ پوچھیں اور نہ ہی خارق عادت باتوں کا مطالبہ کریں ۔ جس طرح بنی اسرائیل نے یہ حرکت اپنے نبی کو تنگ کرنے کے لئے کی تھی ۔ ان کی یہ عادت تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انہیں کوئی حکم دیتے یا ان تک اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغام پہنچاتے تو کج بحثیوں میں پڑجاتے جیسا کہ اس سے قبل اسی سورت میں کئی واقعات گذر چکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس روش کے قدرتی انجام سے ڈراتے ہیں ۔ کیونکہ اس روش کا قدرتی انجام گمراہی اور ایمان کے بعد کفر کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا ۔ اسی انجام تک اس…
Read the full tafseer →2 یعنی یہودیوں کی باتوں پر ہرگز اعتماد نہ کرنا جس کسی کو یہودیوں کے شبہ ڈالنے سے شبہ پڑگیا وہ کافر ہوا۔ اس کی احتیاط رکھو اور یہود کے کہنے سے تم اپنے نبی کے پاس شبہ نہ لاؤ جیسے وہ اپنے نبی کے پاس لاتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 108 اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْءَلُوْا رَسُوْلَکُمْ کَمَا سُءِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ط
مثلاً ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے جب تک کہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں۔ اسی طرح کے اور بہت سے مطالبے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیے جاتے تھے۔ یہاں مسلمانوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اس روش سے باز رہو ‘ ایسی بات تمہارے اندر پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بالْاِِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآء السَّبِیْلِ
ظاہر ہے کہ جو منافقین اہل ایمان کی صفوں میں شامل تھے وہی ایسی حرکتیں کر رہے ہوں گے۔ اس لیے فرمایا کہ جو کوئی ایمان کو ہاتھ سے دے کر کفر کو اختیار کرلے گا وہ تو راہ…
Read the full tafseer →126 اسلام سے متنفر کرنے کا دوسرا طریقہ جو یہود نے اختیار کیا وہ یہ تھا کہ موشگافیاں کر کے طرح طرح کے سوالات مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے اور انہیں کہتے کہ اپنے نبی سے یہ بات بھی پوچھ کر بتاؤ اور وہ بھی اور یہ بھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے متنبہ کیا کہ یہود کی تو عادت ہی یہ رہی ہے انہوں نے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو مسلسل سوالات اور مطالبے کر کر کے تنگ کردیا تھا۔ اس طرح کی موشگافیاں کافرانہ روش ہے اور یہ کام ایسے لوگ کرتے ہیں جو اطاعت و فرمانبرداری پر آمادہ نہیں ہوتے۔ لہذا تم ایسے لایعنی اور بےمقصد سوالات کرنے سے پرہیز کرو، اور سورة مائدہ میں فرمایا۔ مسلمانو ! اپنے رسول سے ایسے سوالات مت پوچھا کرو کہ…
Read the full tafseer →384 ۔ (از راہ عناد واعتراض) مخاطب یہاں غالب یہود ہیں۔ نزلت فی الیھود (معالم) اور قول بھی نقل ہوئے ہیں لیکن ترجیح اسی قول کو ہے۔ اختلفوا فی المخاطب بہ علی وجوہ احدھا انہم المسلمون والقول الثانی انہ خطاب لاھل مکۃ والقول الثالث المراد الیھود وھذا القول اصح (کبیر) ورجح انھم الیھود (بحر) (آیت) ” رسولکم “ سے مراد اس صورت میں رسول وقت سے ہوگی۔ تمہارے زمانہ کے رسول سے لیکن مسلمان ہی اگر مخاطب سمجھے جائیں تو یہ بھی تہدیدا جائز ہوگا۔ ام یہاں ہمزہ کا مرادف اور سوالیہ نہیں منقطعہ ہے۔ بل کا مرادف ام اے بل (جلالین) ام منقطعۃ التقدیر بل تریدون (مدارک) ام ھھنا منقطعۃ والتقدیر بل تریدون (عسکری) فیھا الاضراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا (الآیۃ) اس آیت میں مسلمانوں (صحابہ ؓ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم یہود کے مانند اپنے پیغمبر سے ازراہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کرو اس میں اندیشہ کفر ہے، صورت یہ تھی کہ یہودی موشگافیاں کر کرکے طرح طرح کے سوالات مسلمانوں کے سامنے پیش کیا کرتے تھے، اور انہیں اکسایا کرتے تھے کہ اپنے نبی سے یہ سوال کرو یہ پوچھو یہ معلوم کرو اس پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ اس معاملہ میں یہودیوں کی روش اختیار کرنے سے بچو۔
بعض مفسرین نے مذکورہ آیت کا مخاطب یہود کو قرار دیا ہے نَزَلَتْ فی الیھود۔ (معالم)
اس آیت کے بارے میں تین قول نقل ہوئے ہیں : (1) مخاطب مسلمان ہیں…
Read the full tafseer →اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْـــَٔـلُوْا رَسُوْلَكُمْ ( کیا تم یہ چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے علامہ بغوی نے اس آیت کا شان نزول اس طرح بیان کیا ہے کہ یہود نے کہا تھا کہ آپ آسمان سے حامی کتاب ایک دفعہ لے آئیے جیسے موسیٰ ( علیہ السلام) تورات لائے تھے اس کے جواب میں یہ آیت ارشاد ہوئی اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ مشرکین نے جو یہ کہا تھا : اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَاء وَ لَنْ نُوْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کتاباً نَقْرَؤہٗ ( یعنی ہم تو ہرگز آپ کا یقین نہ کریں گے یہاں تک کہ آپ چڑھ جائیں آسمان میں اور ہم ہرگز بھی چڑھنے کا یقین نہ کریں گے جب تک آپ ہم پر ایک کتاب اتار کر نہ لاویں…
Read the full tafseer →(108) رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے موسیٰ ؑ سے بنی اسرائیل نے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس سے کلام کرنے وغیرہ کے سوالات کے، تم بھی اسی قسم کا خیال رکھتے ہو جو شخص ایمان چھوڑ کر کفر اختیار کرتا ہے تو اس نے ہدایت کے راستہ کو ترک کردیا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ام تریدون (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید ؒ اور عکرمہ ؓ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رافع بن حرملہ نے اور وہب بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی کہ ہمارے پاس ایسی کتاب لائیے جو ہم پر آسمان سے نازل ہو جسے ہم خود پڑھتے ہیں، یا ہمارے لیے نہریں جاری کردیجئے تاکہ ہم آپ کی پیروی کریں اور آپ کی تصدیق کریں، اس پر…
Read the full tafseer →یہاں اگرچہ بیان نہیں ہوا کہ موسیٰ ؑ سے کیا سوال کیا گیا، مگر پیچھے گزر چکا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ [ البقرۃ : 55 ] اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے بھی ایسی ہی گستاخی کا رویہ اختیار کیا، چناچہ سورة نساء (153) میں ہے : ”اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی کتاب اتارے، سو وہ تو موسیٰ سے اس سے بڑی بات کا مطالبہ کرچکے ہیں، چناچہ انھوں نے کہا ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا۔“ اللہ تعالیٰ نے گستاخی پر مشتمل سوالات کے علاوہ وحی اترنے کے زمانہ میں ایسی چیزوں کے متعلق سوال سے بھی منع فرما دیا جو اگر ظاہر کردی جائیں تو ناگوارہوں۔ دیکھیے سورة مائدہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 108
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام تریدون میں ام منقطعہ ہے جو بمعنی بل ہوتا ہے یعنی بل تریدون۔ کلام کا معنی توبیخ ہے۔ ان تسئلوا، تریدون کی وجہ سے محل نصب میں ہے کما سئل کاف مصدر محذوف کی لغت کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ یعنی سوالاً کما۔
موسیٰ نائب فاعل کی حیثیت سے محل رفع میں ہے من قبل ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال یہ تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات عیاں دکھائیں اور اس امت کے لوگوں نے حضرت محمد ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو سامنے لے آئیں۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے سوال کیا کہ ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونا بنا دیں (2) ۔ حسن نے کما سیل پڑھا ہے، یہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رفع بن حریملہ اور دھب بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اے محمد 1 ہمارے لئے کتاب لے آئیے جو ہم پر آسمان سے نازل کریں اور ہم اس کو پڑھیں۔ یا ہمارے لئے نہریں جاری کردہ تو ہم آپ کی تابعداری کرلیں گے اور ہم آپ کی تصدیق بھی کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” ام تریدون ان تسئلوا رسولکم “ الی قولہ ” سواء السبیل “ اور حئی بن اخطب اور ابو یاسر بن أخطب یہود میں سے زیادہ سخت تھے جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو عرب میں سے بھیجا تو وہ عربوں سے انتہائی حسد کرتے تھے اور لوگوں کو اسلام سے مرتد کرنے کی پوری کوشش…
Read the full tafseer →[ اَمْ تُرِيْدُوْنَ : یا تم لوگ چاہتے ہو ] [ اَنْ تَسْـــَٔـلُوْا : کہ تم لوگ پوچھو ] [ رَسُوْلَكُمْ : اپنے رسول سے ] [ كَمَا : اس کی مانند ] [ سُىِٕلَ : پوچھا گیا ] [ مُوْسٰى: موسیٰ سے ] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ ۭ وَمَنْ يَّتَـبَدَّلِ : اور جو بدلہ میں لیتا ہے ] [ الْكُفْرَ : کفر کو ] [ بِالْاِيْمَانِ : ایمان کے عوض ] [ فَقَدْ ضَلَّ : تو وہ بھٹک گیا ہے ] [ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ : راہ کے وسط سے ]
1 اللغۃ
اس آیت میں بھی بالکل نیا اور بلحاظ مادہ پہلی دفعہ آنے والا لفظ تو صرف ” السبیل “ ہے۔ باقی تمام کلمات براہ راست (اپنی اسی موجودہ شکل میں) یا بالواسطہ (یعنی) اصل مادہ کے لحاظ سے) پہلے گزر…
Read the full tafseer →بےجا سوالات کی ممانعت
معالم التنزیل میں اس آیت شریفہ کے دو شان نزول لکھے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ یہودیوں نے یوں کہا کہ اے محمد ﷺ تم آسمان سے اسی طرح پوری کتاب بیک وقت لا کر پیش کرو، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لائے تھے اور دوسرا یہ کہ مشرکین مکہ نے کہا کہ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے یہاں تک کہ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے نہ لے آؤ، ممکن ہے دونوں باتوں کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہو اللہ جل شانہٗ نے تنبیہ فرمائی کہ ایسے سوالات نہ کرو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے سوالات کئے گئے بنی اسرائیل نے ان سے کہا (اَرِنَا اللّٰہَ جَھْرَۃً ) کہ ہمیں اللہ پاک کو آمنے سامنے دکھا دو ، دلائل واضحہ…
Read the full tafseer →شناعت بست وپنجم (25)
قال تعالیٰ ۔ ام تریدون ان تسئلو رسولکم۔۔۔ الی۔۔۔ سواء السبیل
اے مسلمانو ! کیا تم بھی یہی چاہتے ہو کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) سے سوالات کیے گئے اسی طرح تم اپنے رسول سے سوالات کرو۔ بنی اسرائیل کی طرح احکام خداوندی میں قیل وقال کرو اور حجتیں نکالو ! جیسے بقرہ کے قصہ میں گزرا۔ مثلاً یہ سوال کرو کہ پہلا ہی حکم برقرار رکھا جائے یا ہم اس حکم سے خوش نہیں، اور جو شخص بجائے ایمان کے کفر کو اختیار کرے وہ سیدھے راستہ سے بہک گیا۔ منزل مقصود کو کیسے پہنچ سکے گا مطلب یہ ہے کہ احکام خداوندی میں حجتیں نکالنا اور اللہ کے نبی سے الجھنا اور لا یعنی سوالات کرنا یا اللہ کے کسی حکم کو غیر…
Read the full tafseer →206 یہاں ام منقطعہ بمعنی بل ہے اور مفید اضراب ہے۔ یعنی ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف انتقال کے لیے (بحر ص 346 ج 1) اور تریدون سے خطاب بتفصیل بالامنافقین یہود کو ہے۔ یعنی تم نے اس بات میں غور نہ کیا کہ اللہ کے سوا کوئی یارومددگار اور حافظ وناصر نہیں اور تم نے راعنا کے ذریعے مسلمانوں میں شرک پھیلانے کی کوشش ترک نہ کی بلکہ شرک کی بنیادیں رکھنے کے لیے الٹے سیدھے مطالبات پیش کردئیے۔ تمہارے یہ مطالبات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے گئے تھے۔207 کفر کو ایمان سے تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو ترجیح دے اور بجائے ایمان کے کفر کو اختیار کرے۔ ای یختارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
ربط آیات :
بنی اسرائیل کی خرابیوں کا ذکر چلا آرہا ہے ، گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ” راعنا “ کا لفظ استعمال کرنے سے منع فرمایا تھا ، اس کی بجائے (آیت) ” انظرنا “۔ استعمال کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہودی دیدہ دانستہ ” راعنا “۔ کا لفظ بولتے تھے جس سے معاذ اللہ پیغمبر (علیہ السلام) کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ، گذشتہ درس میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر کوئی بہتر چیز نازل فرمائے یہ لوگ نبی کے ساتھ حسد کرتے تھے ، پھر انہوں نے نسخ آیات کا مسئلہ بھی اٹھایا کہ اللہ تعالیٰ ایک حکم جاری کرنے کے بعد اسے منسوخ…
Read the full tafseer →اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْـــَٔـلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَـمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَـبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ 108
أمّ
الأُمُّ بإزاء الأب، وهي الوالدة القریبة التي ولدته، والبعیدة التي ولدت من ولدته .
ولهذا قيل لحوّاء : هي أمنا، وإن کان بيننا وبینها وسائط . ويقال لکل ما کان أصلا لوجود شيء أو تربیته أو إصلاحه أو مبدئه أمّ ، قال الخلیل : كلّ شيء ضمّ إليه سائر ما يليه يسمّى أمّا قال تعالی: وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتابِ [ الزخرف/ 4] أي : اللوح المحفوظ وذلک لکون العلوم کلها منسوبة إليه ومتولّدة منه . وقیل لمكة أم القری، وذلک لما روي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
ترکیب : ام اس جگہ منقطع ہے والتقدیر بل اترید ون ان تسالو اکما میں کاف موضع نصب میں ہے مصدر محذوف کی صفت ہے ای سوالا کما اور ما مصدریہ ہے سواء السبیل بمعنی وسط السبیل ظرف ہے ضل کا وَدَّ فعل کثیر من اھل الکتاب فاعل لو مصدریہ یردونکم جملہ بتاویل مصدر مفعول کفارًا حال ہے کم سے جو یردونکم میں ہے اور ممکن ہے کہ مفعول ثانی ہو کس لیے کہ یرد بمعنی یصیر ہے حسدًا مفعول لہ ہے فاعل ود سے یا یردونکم سے من عندانفسہم کائن کے متعلق ہو کر صفت ہوا حسداً کی۔
تفسیر : یہودی اہل اسلام کو طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا کیا کرتے تھے تاکہ یہ لوگ دین سے برگشتہ ہوجائیں اور باوجودیکہ ان کو آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْارَسُوْلَکُمْ کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُط وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلَ ۔ وَدَّکَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًاج حَسَدًامِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّج فَاعْفُوْاوَاصْفَحُوْاحَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
(البقرۃ : 108 تا 109)
(کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اس طرح کے سوال کرو جس طرح کے سوال اس سے پہلے موسیٰ سے کیے گئے اور جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل دیں گے وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ایک طرح نبی ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر اعتراض یہودیوں کے لیے معمول کی بات ہے کیونکہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب پر اس سے زیادہ نامناسب اعتراضات و سوالات کیے تھے۔
حصول علم اور طلب ہدایت کے لیے سوال کرنا ‘ ناصرف جائز ہے بلکہ شریعت نے اس کی ترغیب دیتے ہوئے فرض قرار دیا ہے۔ البتہ خواہ مخواہ اور حیلہ سازی کے لیے سوال کرنا ناجائز قرار دیا ہے۔ یہودیوں کی یہ عادت تھی کہ وہ تعمیل حکم سے بچنے کے لیے مختلف بہانے تراشا کرتے تھے۔ ان کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ پے در پے بےمقصد سوال پر سوال کیے جاتے تھے تاکہ کسی طرح اس مسئلے سے ان کی…
Read the full tafseer →آیت 108… بیجا سوالات کی ممانعت :
اَمْ تُرِیْدُوْنَ : (کیا تم یہ چاہتے ہو کہ) یہ اَمْ منقطعہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ اَتُریدون کیا تم ارادہ رکھتے ہو ؟
اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَکُمْ کَمَاسُپلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ : (سوال کر وجس طرح سوال کئے گئے موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے قبل) روایت میں آیا ہے کہ قریش نے کہا۔ اے محمد ﷺ صفاپہاڑ کو ہمارے لیے سونا بنا دے۔ اور مکہ کی زمین سے پہاڑ ہٹا کر اس کو کھلا میدان کر دے۔ پس اس آیت میں ان کو نشانیاں مانگنے کی ممانعت کردی گئی۔ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم نے ان سے کہا۔
اجْعَلْ لَّنَا اِلٰھًا۔ سورة الاعراف آیت نمبر 138
وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ…
Read the full tafseer →108۔ (آیت)” ام تریدون ان تسالوا رسولکم “ یہ آیت یہود کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے کہا اے محمد ﷺ ہمارے پاس آسمان سے کوئی کتاب ۔
ایک ہی دفعہ لے آئیے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات کو لائے تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” ام تریدون “ یعنی کیا تم ارادہ رکھے ہو ۔ ام میں میم صلہ ہے اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” ام تریدون “ کا معنی ” بل تریدون “ ہے یعنی ام بمعنی بل ہے یہ کہ تم اپنے رسول حضرت محمد ﷺ سے اس طرح سوال کرو، (آیت)” کما سئل موسیٰ من قبل “ ان سے ان کی قوم نے سوال کیا ” ارنا اللہ جھرۃ “ اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کہا ہم تمہاری بات کی تصدیق نہیں…
Read the full tafseer →یہود کے بہکانے سے بعض مسلمان آنحضرت ﷺ سے غیر ضروری باتیں پوچھتے تھے اور قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں جو کوئی پوچھتا تھا اس کا جواب قرآن شریف کی کسی آیت کے ذریعہ سے ضرور نازل ہوتا تھا اور غیر ضروری سوال کی صورت میں کوئی سخت حکم اگر ایسانازل ہوجاتا جس کی تعمیل میں کوئی دشوار پیش آتی یا کوئی حلال چیز مسلمانوں پر حرام ہوجاتی تو بڑی خرابی کی بات تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کثرت سے سوال سے روکا اور فرمایا کہ کیا تمہارا ارادہ یہ ہے کہ تم بھی بنی اسرائیل کی طرح اللہ کے رسول ﷺ سے ہر گھڑی غیر ضروری باتیں پوچھتے کی عادت ڈال لو۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کی ہر گھڑی کی پوچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں (آیت) كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۭ ” جس طرح اس سے پہلے (حضرت) موسیٰ ( علیہ السلام) سے سوال کیا گیا۔ “ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کئے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) یسئلک اھل الکتاب۔۔ تا۔۔ جھرۃ (النساء 153) ” اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتارلا۔ یہ موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کرچکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) یا ایھا الذین آمنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
قول باری ہے : فاغفوا واصفحوا حتی یاتی اللہ بامرہ (تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے) معمر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت قول باری : اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (مشرکین کو قتل کر ڈالو جہاں بھی انہیں پائو) کی بنا پر منسوخ ہوگئی ہے۔ ابو محمد جعفر بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، ان سے ابوالفضل جعفر بن محمد بن الیمان نے کہ ابو عبید کے سامنے یہ روایت پڑھی گئی اور میں اسے سن رہا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یہ روایت عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری : لست علیھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
300 لایعنی سوالات سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول سے ویسے ہی سوالات کرو جیسے سوالات حضرت موسیٰ کی قوم نے ان سے کیے تھے ؟۔ جیسے ذبح بقرہ کے قصے میں ان لوگوں نے طرح طرح کی حجت بازیاں کر کے خود اپنے ہی لئے مشکلات پیدا کی تھیں، نیز انہوں نے حضرت موسیٰ سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ " ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا دو " { اَرِنَا اللّٰہَ جَہْرَۃً } یعنی یہ تم جیسی وفا دار اور جاں نثار امت کے شایان شان نہیں کہ تم لوگ اپنے پیغمبر سے اس طرح کے غیر ضروری سوالات کرو۔ سو اس میں اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ارشادات پر صدق دل سے…
Read the full tafseer →نبی ﷺ سے سوالات کی زیادتی
تشریح : یہودی مسلمانوں کو بھٹکانے کے لئے ان کے دلوں میں الٹے سیدھے خیالات بھرتے رہتے، تاکہ مسلمان نبی کریم ﷺ سے ہر وقت الٹے سیدھے سوالات کرتے رہیں اور اصل مقصد سے بھٹک جائیں اور اپنے مذہب سے بدگمان ہوجائیں۔ بعض مسلمان ان کی چال کے شکار ہوگئے اور بیخبر ی میں آنحضرت ﷺ سے الٹے سیدھے سوالات کرنے لگے تو ان کو اس حرکت سے منع کرنے کے لئے اللہ کا فرمان نازل ہوا اور اس حقیقت کو عیاں کیا گیا کہ جس طرح یہودیوں نے حضرت موسیٰ کے ہر فرمان پر اعتراضات کئے جیسا کہ گائے کے ذبحہ کرنے کا واقعہ گزر چکا ہے۔ سورة البقرہ کی آیات 67 تا 71 میں گائے کا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیات 104- 112
اسرارو معارف
فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
ف 1 یہود اعتراف کرتے اور بعض لوگ ازراہ عناد سوال کرتے ان آیات میں ایسے لوگوں کی مذمت فرمائی اور متنبہ کیا کہ پیش آمدہ مسائل کے علاوہ دور ازکار اور نے مسائل میں الجھنا جائز نہیں ہے صحیح بخاری میں ہے کہ سب سے بڑال مجرم مسلما نوں میں وہ ہے جس کے مسئلہ پوچھنے کی وجہ سے ایک حلال چیز مسلمانوں پر حرام کردی جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے کہ میں نے صحا بہ کرام سے بہتر کوئی قوم نہیں دیکھی انہوں نے آنحضرت سے از خود صرف بارہ سوال کیے جن کا قرآن میں یسئلو نک عن الشھر الحرام وغیرہ الفاظ سے ذکر ہوا ہے (ابن کثیری) متعدد احادیث میں قیل وقال کی مذمت آئی ہے۔ (ترجمان )
Read the full tafseer →(2:108) ام۔ یا ۔ کیا۔ خواہ۔ حرف عطف ہے استفہام کے معنی دیتا ہے کبھی بمعنی بل (حرف اضراب بلکہ) اور کبھی بمعنی ہمزہ استفہامیہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اور کبھی زائدہ ہوتا ہے۔ مثلاً افلا تبصسرون۔ ام انا خیر (43:51-52) عبارت کی تقدیر یوں ہے افلا تبصرون انا خیر (کیا تم نہیں دیکھتے میں بہتر ہوں ۔۔ )
تریدون۔ مضارع جمع مذکر حاضر ارادۃ مصدر (باب افعال) کیا تم چاہتے ہو، کیا تم ارادہ کرتے ہو۔
ان مصدریہ ہے۔
کما۔ کاف حرف تشبیہ ہے۔ ما موصولہ (بعد کو آنے والا جملہ اس کا صلہ) جیسا کہ۔
من یتبدل الکفر۔ مضارع مجزوم بوجہ شرط وصل کی وجہ سے مجزوم کو مکسور کردیا گیا۔ واحد مذکر غائب کا صیغہ تبدل (تفعل) مصدر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–112
لغات القرآن : آیت نمبر 108 تا 112
ام (کیا) ۔ تریدون (تم چاہتے ہو) ۔ ان تسئلوا (یہ کہ تم سوال کرو) ۔ سئل (پوچھا گیا) ۔ تبدل (تبدیل کرے) ۔ ضل (بھٹک گیا) ۔ سواء السبیل (سیدھا راستہ) ۔ ود (پسند ہے) یردونکم (وہ تمہیں پلٹا دیں گے) ۔ حسد (جلن، بغض) ۔ تبین (واضح ہوگیا، کھل گیا) ۔ اعفوا (معاف کرو) ۔ اصفحوا (درگذر کرو، خیال بھی نہ کرو) ۔ حتی یاتی (جب تک نہ آئے) ۔ بامرہ (اپنا حکم، اس کا فیصلہ) ۔ تقدموا (تم آگے بھیجو گے ) ۔ تجدوہ (تم اس کو پالوگے) ۔ ھاتوا (لے آؤ) برھان (دلیل ) اسلم (جس نے جھکا دیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 108 تا 112
کسی بات کو معلوم کرنے اور سمجھنے کے لئے معقول اور نیک نیتی سے سوال کرنا قطعاً…
Read the full tafseer →شان نزول : یہود کے بہکانے سے بعضے مسلمان آنحضرت ﷺ سے غیر ضروری باتیں پوچھتے تھے ، اس پر آیت نازل ہوئی ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے لوگ کثرت سوال سے طرح طرح کی ہلاکت میں پڑگئے ۔
Read the full tafseer →[74] یہودی موسیٰ (علیہ السلام) سے گستاخانہ اور بےہودہ سوالات کیا کرتے تھے۔ اس طرح کے سوالات وہ مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے اور انہیں رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے پر اکساتے۔ یہاں مسلمانوں کو یہودیوں کی روش اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(ف 1) ابو مسلم کا خیال ہے کہ اس آیت کے مخاطب نئے نئے مسلمان ہیں ، وہ کہتے تھے ، ہمیں بھی عجم کی طرف بت پرستی کی اجازت دی جائے ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں ۔ ان میں کا ایک معزز عبداللہ بن امیہ مخرومی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس وقت تک ہم ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ آپ ﷺ مکہ میں چشمے نہ بہا دیں ، یا آپ ﷺ کے لئے باغات کی سرسبزی وشادابی ہو ‘ یا آپ ﷺ کا قصر ومحل سونے کا ہو ‘ اور یا پھر آپ آسمان پر چڑھ کر قرآن حکیم نہ اتار لائیں ، سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں ، اس لئے کہ اس کے آگے پیچھے انہیں کا ذکر…
Read the full tafseer →ف 3 کیا مسلمانو ! تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ایسے غیر ضروری اور بےموقع سوالات کرو جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰ سے سوالات کئے جا چکے ہیں اور جو شخص ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرے تو یقین جانو وہ شخص سیدھی اور صحیح راہ سے بھٹک گیا اور دور جا پڑا۔ (تیسیر)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہودی بہت بےہدہ اور بےجا سوال کیا کرتے تھے مسلمانوں کو اس غلط روی سے باز رہنے کی ہدایت اس آیت میں فرمائی ہے اور ہدایت کا ایک بہترین پیرا یہ اختیار کیا ہے ایمان کے بدلے کفر کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ہو کر کفر کی باتیں کرے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی یہود کے بہانے سے تم اپنے نبی کے پاس شہ بےنہ لائو جیسے وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
ف 5۔ یہود نے قبلہ کا حکم بدل جانے پر جس کا ذکر عنقریب آنا ہے طعن کیا تھا اور مشرکین بھی بعض حکموں کے منسوخ ہوجانے پر زبان درازی کرتے تھے حق تعالیٰ اس طعن اور اعتراض کا جواب اس آیت میں دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہود کی اس شرارت کا بیان کہ وہ مسلمانوں کو بےجا سوالات پر اکساتے تھے :
203: اس آیت میں یہود کی اس شرا رت کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ سے بےجا سوالات پر برا نگیختہ کرتے تھے اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں خلجان پیدا کرتے رہتے تھے۔ جس طرح مسلمانوں نے یہودیوں سے قبلے پر اعتراض سنے تو ان کے دلوں میں بھی خلجان پیدا ہوا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق کچھ سوالات کئے۔ انہیں جواب دیا گیا کہ جب تم نے شارع (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول تسلیم کرلیا اب اس کے احکام واوامر میں شبہ کی گنجائش کیسے رہ گئی ؟ جو شبہات تمہارے دل میں پیدا ہوگئے ہیں یا پیدا کئے گئے ہیں ان کی اصل غرض تو یہ…
Read the full tafseer →Hostility to the Holy Prophet ﷺ had become so habitual to the Jews that they were always making insolent demands. Once they asked him to bring before them whole of the Qur'an all at once just as the Torah had been revealed.
In reprimanding them for making such improper demands on the prophets of their time, the verse reminds them how their forefathers too had done the same - for example, they had asked Sayyidna Musa (Moses علیہ السلام) to help them to see Allah openly with their physical eyes. In such cases, the intention of the Jews had never been to seek guidance or to satisfy their doubts…
Read the full tafseer →110. The Jews, who were addicted to hair-splitting arguments, instigated the Muslims to ask the Prophet a great many questions. God, therefore, cautioned the Muslims against following the example of the Jews in this matter, and admonished them against unnecessary inquisitiveness. The Prophet himself often warned the Muslims that excessive inquisitiveness (which was devoid of religious earnestness and the sincere desire to do God's will) had been the ruin of earlier religious communities. (Muslim, 'Faddil', 130; Bukhari, '1'tisim', 2 - Ed.) He stressed that people need not delve too deeply…
Read the full tafseer →