Al-Baqara 2:107

Al-Baqara · from ayah 107

2:107

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ۟اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَمَا لَـکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ

تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you not know that to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and [that] you have not besides Allah any protector or any helper?

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 13 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:107

کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمیں اور آسمان کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تجھے علم نہیں کہ زمین و آسمان کا ملک اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ وہ ذات ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت تنہا اسی کی ہے، اور اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا رکھوالا ہے نہ مددگار ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے، اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ ہی مددگار،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں جانا کہ اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے ؟ نیز یہ کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی خبر گیری کرنے والا اور مددگار نہیں ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تمہیں نہیں معلوم کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم جانتے نہیں (اے مخاطب) کہ بیشک اللہ ہی کیلئے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی ؟ اور تمہارے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی ہے، نہ مددگار،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے سلطنت آسمانوں اور زمین کی ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا یار ومدد گار نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی ؟ اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی بھی حمایتی اور نہ کوئی مددگار

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی فرمانروائی اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you not know that Allah has full power over everything? Do you not know that the sovereignty of the heavens and the earth belongs to Allah alone and that you have neither any protector nor helper beside Him?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you not know that to Allah alone belongs the kingdom of the heavens and the earth? Other than Allah, you have neither a patron, nor a helper.

— Muhammad Taqi Usmani

Do you not know that to Allah alone belongs the kingdom of the heavens and the earth? Other than Allah, you have neither a patron, nor a helper.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Know you not that it is Allah to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth And besides Allah you have neither any Wali (protector or guardian) nor any helper.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Knowest thou not that it is Allah unto Whom belongeth the Sovereignty of the heavens and the earth; and ye have not, beside Allah, any guardian or helper?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you not know that to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and [that] you have not besides Allah any protector or any helper?

— Saheeh International

Do you not know that the kingdom of the heavens and the earth belongs to God and that no one is your guardian or helper besides Him?

— Muhammad Sarwar

Do you not know that Allah's is the kingdom of the heavens and the earth, and that besides Allah you have no guardian or helper?

— Muhammad Habib Shakir

Knowest thou not that verily Allah! His is the dominion of the heavens and the earth? and for you beside Allah is no protector or helper.

— Abdul Majid Daryabadi

Knowest thou not that to Allah belongeth the dominion of the heavens and the earth? And besides Him ye have neither patron nor helper.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:107

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 106–107

(تبدیلی یا تنسیخ۔ اللہ تعالیٰ مختار کل ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں نسخ کے معنی بدل کے ہیں مجاہد فرماتے ہیں مٹانے کے معنی ہیں جو (کبھی) لکھنے میں باقی رہتا ہے اور حکم بدل جاتا ہے حضرت ابن مسعود کے شاگرد اور ابو العالیہ اور محمد بن کعب قرظی سے بھی اسی طرح مروی ہے ضحاک فرماتے ہیں بھلا دینے کے معنی ہیں عطا فرماتے ہیں چھوڑ دینے کے معنی ہیں سدی کہتے ہیں اٹھا لینے کے معنی ہیں جیسے آیت الشیخ والشیختہ اذا زنیا فارجمو ھما البتتہ یعنی زانی مرد و عورت کو سنگسار کردیا کرو اور جیسے آیت (لو کان لابن ادم و ادیان من ذھب لابتغی لھما ثالثا یعنی ابن آدم کو اگر دو جنگل سونے کے مل جائیں جب بھی وہ تیسرے کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 106–107

سورة الْبَقَرَة 109 یہ ایک خاص شبہہ کا جواب ہے جو یہودی مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ اگر پچھلی کتابیں بھی خدا کی طرف سے آئی تھیں اور یہ قرآن بھی خدا کی طرف سے ہے، تو ان کے بعض احکام کی جگہ اس میں دوسرے احکام کیوں دیے گئے ہیں ؟ ایک ہی خدا کی مختلف وقتوں میں مختلف احکام کیسے ہو سکتے ہیں ؟ پھر تمہارا قرآن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہودی اور عیسائی اس تعلیم کے ایک حصّے کو بھول گئے جو انہیں دی گئی تھی۔ آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا کی دی ہوئی تعلیم اور وہ حافظوں سے محو ہوجائے ؟ یہ ساری باتیں وہ تحقیق کی خاطر نہیں، بلکہ اس لیے کرتے تھے کہ مسلمانوں کو قرآن کے مِن جانب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–107

خلاصہ تفسیر (تبدیل قبلہ کا واقعہ جب ہوا تو یہود نے اس پر طعن کیا اور مشرکین بھی بعض احکام کی منسوخی پر زبان طعن دراز کرتے تھے حق تعالیٰ ان کے طعن اور اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ) ہم کسی آیت کا جو حکم موقوف کردیتے ہیں (گو آیت قرآن میں یا ذہنوں میں باقی رہے) یا اس آیت (ہی) کی (ذہنوں سے) فراموش کردیتے ہیں تو (یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں کیونکہ اس میں بھی مصلحت ہوتی ہے چنانچہ) ہم اس آیت سے بہتر یا اس آیت ہی کے مثل (بجائے اس کے دوسری چیز) لے آتے ہیں (اے معترض) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتے ہیں (پس ایسے قادر کو مصالح کی رعایت کیا مشکل ہے اور) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تردید کا ایک خاص پہلو : یہاں بھی مخاطب وہی ہیں جو اوپر والی آیت میں مخاطب ہیں۔ البتہ جواب میں اس ذہنیت کو ملحوط رکھ کر جو مذکورہ بالا سوال کے پس پردہ چھپی ہوئی تھی، تھوڑی سی تفصیل آگئی ہے۔ یہود نسخ کے سوال کو اٹھا کر سادہ لوح لوگوں کے اندر جو وسوسہ اندازی کر رہے تھے اس کی اصلی وجہ یہ تھی کہ وہ اس بات کو تاڑ گئے تھے کہ یہ تورات کے احکام کا منسوخ ہونا اور ان کی جگہ دوسرے احکام کا آنا محض تورات کے بعض احکام ہی کا منسوخ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کے اندر یہود کی منصب امامت سے معزولی اور ان کی جگہ ایک دوسری امت کے نصب و تقرر کا پیام بھی مضمر ہے۔ در اصل اس چیز کا غم و غصہ تھا جو انہیں کھائے جا رہا تھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 106–107

17۔ 1 نسخ کے لغوی معنی تو منسوخ کرنے کے ہیں، لیکن شرعی اصطلاح میں ایک حکم بدل کر دوسرا حکم نازل کرنے کے ہیں یہ نسخ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا جیسے آدم ؑ کے زمانے میں سگے بہن بھائی کا آپس میں نکاح جائز تھا بعد میں اسے حرام کردیا گیا وغیرہ، اسی طرح قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض احکام منسوخ فرمائے اور ان کی جگہ نیا حکم نازل فرمایا۔ یہودی تورات کو ناقابل نسخ قرار دیتے تھے اور قرآن پر بھی انہوں نے بعض احکام کے منسوخ ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی کہا کہ زمین اور آسمان کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جو مناسب سمجھے کرے، جس وقت جو حکم اس کی مصلحت و حکمت کے مطابق ہو،…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 106–107

71: اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ محتلف زمانوں کے حالات کی مناسبت سے شریعت کے فروعی احکام میں تبدیلی فرماتے رہے ہیں، اگرچہ دین کے بنیادی عقائد مثلاً توحید رسالت آخرت وغیرہ ہر دور میں ایک رہے ہیں لیکن جو عملی احکام حضرت موسیٰ ؑ کو دئے گئے تھے، ان میں سے بعض حضرت عیسیٰ ؑ کے دور میں تبدیل کردئے گئے اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ان میں مزید تبدیلیاں واقع ہوئیں، اسی طرح جب آنحضرت ﷺ کو شروع میں نبوت عطا ہوئی تو آپ کی دعوت کو مختلف مراحل سے گزرنا تھا، مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل درپیش تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے احکام میں تدریج اختیار فرمائی، کسی وقت ایک حکم دیا گیا بعد میں اس کی جگہ دوسرا حکم آگیا،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جن الفاظ میں مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ ” تمہاری خبر گیری کرنے والا اور تمہاری مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ “ ان سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان سے بیک وقت تنبیہ اور تذکیر مطلوب ہے۔ غائبانہ تنبیہ کا انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ بعض لوگ یہودیوں کے اس گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہوگئے تھے ۔ اور ان کی جانب سے پیدا کردہ شر انگیزی سے مرعوب ہوکر وہ نبی ﷺ سے ایسے سوالات کرنے لگے تھے ، جو مکمل اعتماد اور پختہ یقین سے میل نہ کھاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے ایسے سوالات کو ناپسند کیا اور واضح طور پر انہیں تنبیہ کی ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ادھر تو اللہ کی قدرت و ملکیت سب پر شامل ادھر اس کی اپنے بندوں پر اعلیٰ درجہ کی عنایت، تو اب مصالح اور منافع بندوں کی اطلاع اور ان پر قدرت کس کو ہوسکتی ہے۔ اور اس کے برابر بندوں کی خیر خواہی کون کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 106–107

آیت 106 مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا ایک تو ہے نسخ یعنی کسی آیت کو منسوخ کردینا اور ایک ہے حافظے سے ہی کسی شے کو محو کردینا۔ نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَا اَوْ مِثْلِہَا ط اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اسے ہر شے کا اختیار حاصل ہے۔ اس آیت کا اصل مفہوم اور پس منظر سمجھ لیجیے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ کا دین آدم علیہ السلام سے لے کر ایں دم تک ایک ہی ہے۔ نوح علیہ السلام کا دین ‘ موسیٰ علیہ السلام کا دین ‘ عیسیٰ علیہ السلام کا دین اورٌ محمد رسول اللہ ﷺ کا دین ایک ہی ہے ‘ جبکہ شریعتوں میں فرق رہا ہے۔ اس فرق کا اصل سبب یہ ہے کہ نوع انسانی مختلف اعتبارات سے ارتقاء کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 106–107

125 یہود جن جن طریقوں سے لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ قرآن کو مشکوک قرار دیا جائے۔ وہ لوگوں سے کہتے کہ اگر قرآن بھی منزل من اللہ ہے اور تورات تو منزل من اللہ ہے ہی۔ پھر قرآن اور تورات کے احکام میں اختلاف کیوں ہے ؟ اس اعتراض کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ قرآن میں ایک حکم نازل ہوتا ہے پھر اس کی جگہ کوئی اور حکم آجاتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو یہ علم نہیں کہ میں پہلے کیا حکم دے چکا ہوں اور اب کیا دے رہا ہوں ؟ یہود کے ایسے ہی اعتراضات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے اور فرمایا کہ عیب نہ پہلے حکم میں تھا اور نہ دوسرے حکم میں ہے۔ حالات اور موقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

382 (اور اسی کو ہر طرح کا اختیار کامل و تصرف مطلق حاصل ہے) خطاب یہاں عام ہے ہر سامع اور مخاطب کے لیے، اور ام کا مفہوم ایجابی ہے یعنی اے مخاطب تجھے خوب معلوم ہے معناہ الایجاب اے قد علمت ایھا المخاطب (بحر) یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور پھر آپ کے واسطہ سے امت سے ہے۔ الخطاب للنبی والمراد ھو وامتہ (بیضاوی) 383 ۔ (اے بنی آدم) آیت بجائے خود ایک درس توحید کامل کا ہے۔ ملک، ولایت، نصرت سب اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 107–108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا (الآیۃ) اس آیت میں مسلمانوں (صحابہ ؓ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم یہود کے مانند اپنے پیغمبر سے ازراہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کرو اس میں اندیشہ کفر ہے، صورت یہ تھی کہ یہودی موشگافیاں کر کرکے طرح طرح کے سوالات مسلمانوں کے سامنے پیش کیا کرتے تھے، اور انہیں اکسایا کرتے تھے کہ اپنے نبی سے یہ سوال کرو یہ پوچھو یہ معلوم کرو اس پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ اس معاملہ میں یہودیوں کی روش اختیار کرنے سے بچو۔ بعض مفسرین نے مذکورہ آیت کا مخاطب یہود کو قرار دیا ہے نَزَلَتْ فی الیھود۔ (معالم) اس آیت کے بارے میں تین قول نقل ہوئے ہیں : (1) مخاطب مسلمان ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( تم کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین کی سلطنت اسی اللہ کی ہے) مطلب یہ ہے کہ جب یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرے اور بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اسی کو ہے تو پھر اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور جس حکم کو چاہے منسوخ بھی کرسکتا ہے گویا کلام سابق کی یہ دلیل ہے۔ وَمَا لَكُمْ ( اور تمہارے لیے کوئی نہیں) یعنی اے کافرو تمہارے لیے عذاب کے وقت کوئی حامی و مددگار نہیں ہے۔ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ( اللہ کے مقابل کوئی حامی اور نہ کوئی مددگار) ولی قریب کو کہتے ہیں ولی اور نصیر میں یہ فرق ہے کہ ولی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(107) اے محمد ﷺ آسمانوں اور زمینوں کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اپنے بندوں کو جو چاہتا ہے اسی چیز کا حکم دیتا ہے کیوں کہ وہ ان کی حکمت ومصالح اور درستگی کو زیادہ جاننے والا ہے، اے یہودیو ! اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے تمہارے کوئی قریب نہیں جس سے انھیں فائدہ پہنچے اور نہ کوئی تمہاری حفاظت کرنے والا ہے، اور نہ کوئی ایسا روکنے والا موجود ہے جو تم سے عذاب الہی کو ہٹا دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 106–107

نسخ کا معنی ہے بعد میں آنے والے حکم کے ساتھ پہلے کسی حکم کو ختم کردینا، جیسے پہلے بیت المقدس قبلہ مقرر ہوا، پھر بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا اور جیسے ہماری شریعت میں پہلی شریعتوں کے بہت سے احکام منسوخ کردیے گئے۔ یہودی نسخ کے منکر تھے، اسی لیے انھوں نے عیسیٰ ؑ کو جھٹلایا کہ انھوں نے تورات کے بعض احکام کیوں منسوخ کیے۔ قرآن پر بھی انھوں نے اعتراض کیا کہ جب پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا تھا اور درست تھا تو وہ منسوخ کیوں ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے کئی جواب دیے، پہلے جواب کی تفصیل یہ ہے کہ پہلا حکم درحقیقت ہوتا ہی اتنی مدت کے لیے ہے، نسخ اس مدت کے ختم ہونے کا اعلان ہے۔ اس وقت تک وہ پہلا حکم عین…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 107 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم تعلم، لم کی وجہ سے اسے جزم دی گئی ہے اور حروف استفہام عامل کے عمل میں تبدیلی نہیں کرتے۔ ان کو فتحہ دیا گیا ہے کہ یہ محل نصب میں ہے۔ لہ ملک السموت والارض یعنی ایجاد واختراع، ملک وسلطان، امرو ارادہ سب زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے۔ ملک پر رفع مبتدا کی حیثیت سے ہے اور لہ اس کی خبر ہے اور پورا جملہ ان کی خبر ہے۔ یہاں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے کیونکہ آگے ارشاد ہے ومالکم من دون اللہ الخ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے : اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دیجئے کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے لئے حکمرانی اور سلطانی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں تمہارے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 106–107

(1) امام ابن ابی حاتم، حاکم (فی الکنی) ابن عدی اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان (آیات) میں سے جو نبی اکرم ﷺ پر رات کو نازل ہوئیں پھر دن کے وقت بھلا دی گئیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت نازل) فرمائی لفظ آیت ” ما ننسخ من ایۃ او ننسھا نأت بخیر منھا او مثلہا “۔ (2) امام طبرانی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے ایک سورت پڑھی جس کو رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی تھی اور یہ دونوں حضرات اس (سورت) کو پڑھا کرتے تھے ایک رات یہ دونوں نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور اس سورت کو پڑھنا چاہا تو ایک حرف پڑھنے پر بھی قادر نہ ہوئے۔ صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَلَمْ تَعْلَمْ : کیا تو نے جانا ] [ اَنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ لَهٗ : کے لیے ہے ] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : زمین اور آسمانوں کا اقتدار ] [ وَمَا لَكُم : اور تمہارے لیے نہیں ہے ] [ ْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی بھی کارساز ] [ وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ ہی مددگار ] [ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ ] بعینہٖ یہی عبارت ابھی اوپر A اور B میں گزری ہے ‘ لفظی ترجمہ ہے ” کیا تُو نے جانا ہی نہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ “۔ با محاورہ اور سلیس تراجم اوپر دیکھیے۔ 2: 64: 1 (4) [ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ] (اس ہی کے لیے ہے بادشاہی : سلطنت آسمانوں کی اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–107

نسخ آیات کی حکمت قرآن مجید کے بعض احکام اللہ تعالیٰ منسوخ فرما دیتے تھے۔ کبھی ایک حکم دیا پھر اس سے منع فرما دیا اور اس کے خلاف حکم دے دیا کبھی ایک حکم کے بجائے دوسرا حکم نازل فرما دیا اس کو دیکھ کر مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ آج ایک بات کہتے ہیں اور کل کو اس سے رجوع کرلیتے ہیں، اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہوتا تو اس میں منسوخیت والی بات کیوں ہوتی معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ محمد ﷺ اپنے پاس سے کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان دشمنوں کی بات کو اس طرح بیان فرمایا :۔ (وَ اِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ وَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–107

شناعت بست وچہارم (24) قال تعالیٰ ماننسخ من ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ من ولی ولا نصیر شان نزول : یہود اور مشرکین بطور طعن یہ کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) اپنے اصحاب کو ایک بات کا حکم دیتے ہیں اور پھر اسی بات سے منع کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی طرف سے کہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ اس قسم کی باتوں کافروں کا مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ شک اور شبہ ڈالدیں کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ خدا کی طرف سے جو ہم پر نازل ہوا وہ سب خیر ہی خیر ہے تو اس کے منسوخ ہونے کے کیا معنی۔ اگر پہلا حکم خیر تھا تو دوسرا شر ہوگا اور اگر دوسرا ھکم خیر ہے تو پہلا حکم شر ہوگا اور وحی الٰہی اور حکم خداوندی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

205 یہاں بھی استفہام تقریر کے لیے ہے اور خطاب ہر سامع کو ہے۔ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ ملک السموت والارض مبتدا موخر اور لہ خبر مقدم ہے۔ اور اس کی تقدیم افادہ حصر کے لیے ہے یعنی زمین و آسمان کی سلطنت اور زمین و آسمان میں ہونے والے تمام امور کا اختیار صرف اللہ ہی کو حاصل ہے وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْر۔ یہ جملہ اَنَّ کی خبر پر معطوف ہے۔ پہلا مِنْ ابتدائیہ اور استغراق عموم نفی کے لیے ہے (روح ص 354 ج 1، ابو سعود ص 675 ج 1) ۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی بھی تمہارا حمایتی اور یارومددگار نہیں۔ نہ کوئی نوری نہ ناری نہ خاکی۔ یہ آیت اصل دعویٰ یعنی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 104–107

ربط آیات : گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی پستی اور انحطاط کا ذکر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پس پست ڈال دیا دین کی سربلندی کے کام کو ترک کردیا ، جہاد سے منہ موڑ گئے اور سحرجادو ٹونے ٹونکے جیسے سفلی اعمال کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا انہوں نے ان برائیوں خاص طور پر سحر کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کیا جو کہ ان کی ذلت کا انتہائی درجہ تھا ۔ (بنی اسرائیل کی اخلاقی بستی) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اخلاقی پستی کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کو ذہنی تکلیف پہنچاتے تھے ، یہودیوں نے اپنی اس ذلیل حرکت کا ارتکاب نہ صرف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۝ 107 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 103–107

ترکیب : لو کلمہ شرط انہم ان اور جس میں کہ اس نے عمل کیا مصدر ہے موضع رفع میں بسبب فعلِ محذوف کے۔ کس لیے کہ لو کے بعد فعل ہوتا ہے تقدیرہ لو وقع۔ منھم انہم آمنوا سب جملہ شرط لمثوبۃ مبتداء موصوف من عند اللہ صفت خبر جملہ جوابِ لو راعنا امر ہے لیکن موضع نصب میں ہے کس لیے کہ یہ مفعول ہے لاتقولوا کا یود فعل الذین الخ ولا المشرکین موضع جر میں ہے کس لیے کہ معطوف ہے لفظ اہل پر ان ینزل جملہ مفعول یودمن خیر میں من زائدہ ہے من ربکم میں من ابتدائیہ ہے ماننسخ ماشرطیہ جازمہ مگر محلاً منصوب ہے۔ نات بخیر الخ جملہ جواب شرط ننسہا معطوف ہے نسخ پر لہ ملک السمٰوات مبتداء و خبر جملہ خبر ہے ان کی من ولی زائدہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 106–107

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْمِثْلِھَاط اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَمَالَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَانَصِیْرٍ ۔ (جو ہم منسوخ کرتے ہیں کوئی آیت یا کوئی آیت نظر انداز کردیتے ہیں تو لے آتے ہیں ہم اس سے بہتر یا اس کے مانند کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے نہ مدد گار) (البقرۃ : 106 تا 107) یہود کی ایک شرارت کا ذکر اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 106–107

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اس قدر بےباک اور مسلمانوں کی دشمنی میں آگے جا چکے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں مداخلت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ اپنی کتاب میں ترمیم و اضافہ کرے۔ اس بہانے وہ کتاب اللہ پر اعتراض اور نبی اکرم ﷺ کی نبوت پر تنقید کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دلوں میں حسد ہے جس بنا پر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ نسخ کا معنٰی ہے کسی بات کو مٹانا یا اس کا ازالہ کرنا ہے۔ اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں : (1) ایک حکم خاص مدت کے لیے ہو، دوسری مدت کے لیے دوسرا حکم نازل ہوجائے۔ (2) تربیت اور خاص مصلحت کی خاطر پہلے حکم میں نرمی اور کچھ گنجائش رکھی گئی ہو بعد ازاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت : 107: 107: اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : (کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین کی سلطنت اسی اللہ کی ہے۔ ) وہ تمہارے معاملات کا مالک اور مدبر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ناسخ منسوخ میں سے کس کے ساتھ تم سے عبادت کروانی ہے۔ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ : (اور تمہارے لیے اللہ کے مقابل کوئی مددگار دوست نہیں) ایسا جو تمہارے معاملے کا ذمہ دار ہو۔ وَّلَا نَصِیْرٍ : (اور نہ مددگار) اور نہ کوئی مددگار جو تمہیں عذاب سے بچائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 107۔: (آیت)” الم تعلم ان اللہ لہ ملک السموات والارض ومالکم “ اے گروہ کفار نزول عذاب کے وقت ” من دون اللہ “ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا ہے۔۔۔۔ ” من ولی “ کوئی قریبی دوست کو کہتے ہیں اور کہا گیا ہے ۔۔۔۔ وال “ اس کا معنی معاملات کا نگران و سرپرست ، ” ولا نصیر “ ایسا مددگار جو تمہیں عذاب سے محفوظ رکھے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 106–107

(106 ۔ 107) ۔ یہود کا یہ اعتقاد تھا کہ تورات کے احکام قیامت تک کبھی منسوخ نہیں ہوں گے۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے انہوں نے انجیل کا کتاب الٰہی ہونا تسلیم نہیں کیا کیونکہ اس سے ان کو تورات کے بعض احکام کا منسوخ ہوجانا تسلیم کرنا پڑتا تھا اب جبکہ قرآن شریف کی بعض آیتیں بعض آیتوں سے منسوخ ہوئیں تو یہود لوگ مسلمانوں سے طرح طرح کی حجتیں اس بارے میں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کلام الٰہی کبھی منسوخ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے سوکرے۔ اپنے بندوں کے حالات کی مصلحت سے جو احکام اس کو مناسب معلوم ہوئے اس نے سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح سے لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 106–107

(نسخ) کے لغوی معنی نقل کرنا ہیں۔ نسخ کی شرعی حقیقت یہ ہے کہ مکلفین کو کسی ایک شرعی حکم سے کسی دوسرے شرعی حکم کی طرف منتقل کرنا یا اس شرعی حکم کو یکسر ساقط قرار دے دینا۔ یہودی نسخ کا انکار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ نسخ جائز نہیں، حالانکہ نسخ ان کے ہاں تو رات میں بھی موجود ہے، ان کا نسخ کو نہ ماننا کفر اور محض خواہش نفس کی پیروی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے نسخ میں پنہاں اپنی حکمت سے آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا : (آیت) مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا ” جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا اس کو بھلاتے ہیں “ یعنی اپنے بندوں سے فراموش کرا دیتے ہیں اور اس آیت کو ان کے دلوں سے زائل کردیتے ہیں (آیت)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 107–109

قول باری ہے : فاغفوا واصفحوا حتی یاتی اللہ بامرہ (تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے) معمر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت قول باری : اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (مشرکین کو قتل کر ڈالو جہاں بھی انہیں پائو) کی بنا پر منسوخ ہوگئی ہے۔ ابو محمد جعفر بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، ان سے ابوالفضل جعفر بن محمد بن الیمان نے کہ ابو عبید کے سامنے یہ روایت پڑھی گئی اور میں اسے سن رہا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یہ روایت عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری : لست علیھم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 106–107

296 " نُنْسِہٰا " کا معنی و مطلب ؟ : بھلا دینے کا یہ معنیٰ اس وقت ہوگا جبکہ اس لفظ کو " نسیان " سے ماخوذ مانا جائے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لفظ " نسا " سے ماخوذ ہو جس کے معنیٰ موخر کرنے کے ہوتے ہیں۔ تو اس صورت میں اس کے معنیٰ ہوں گے کہ ہم اس کو موخر کردیتے ہیں۔ اب اس کے مطلب اور معنیٰ و مراد میں آگے کئی احتمال ہیں۔ نمبر ایک یہ کو لوح محفوظ سے اس کا نزول مؤخر کردیتے ہیں۔ نمبر دو یہ کہ تورات کے احکام میں سے جس کے نسخ کو موخر کر کے اسے قرآن حکیم میں مستقل طور پر محفوظ کردیتے ہیں۔ نمبر تین یہ کہ قرآن حکیم کے احکام میں سے جس حکم کو نسخ سے محفوظ رکھ کر اسے ہم باقی رکھ دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 106–107

آیات کی تنسیخ تشریح : یہ ایک خاص شبہہ کا جواب ہے جو یہودی مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر پچھلی کتابیں اور قرآن پاک ایک ہی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں تو پھر ان کے احکامات کیوں مختلف ہیں۔ یہ باتیں وہ تحقیق کی خاطر نہیں، بلکہ محض اس لئے کرتے تھے کہ مسلمان قرآن کو منجانب اللہ ماننے کے لئے شک و شبہہ میں پڑجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے تنسیخ آیات کا جو ذکر کیا ہے، تو تمام بڑے بڑے مفسرین نے اس کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔ ” درس قرآن “ کی تفسیر کے مطابق یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ” آیات کے منسوخ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے پہلے احکام اور قدیم کتب کی جگہ قرآن مجید کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 104–112

آیات 104- 112 اسرارو معارف فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 107–108

ف 1 یہود اعتراف کرتے اور بعض لوگ ازراہ عناد سوال کرتے ان آیات میں ایسے لوگوں کی مذمت فرمائی اور متنبہ کیا کہ پیش آمدہ مسائل کے علاوہ دور ازکار اور نے مسائل میں الجھنا جائز نہیں ہے صحیح بخاری میں ہے کہ سب سے بڑال مجرم مسلما نوں میں وہ ہے جس کے مسئلہ پوچھنے کی وجہ سے ایک حلال چیز مسلمانوں پر حرام کردی جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے کہ میں نے صحا بہ کرام سے بہتر کوئی قوم نہیں دیکھی انہوں نے آنحضرت سے از خود صرف بارہ سوال کیے جن کا قرآن میں یسئلو نک عن الشھر الحرام وغیرہ الفاظ سے ذکر ہوا ہے (ابن کثیری) متعدد احادیث میں قیل وقال کی مذمت آئی ہے۔ (ترجمان )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:107) مالکم میں ما نافیہ ہے۔ من دون اللہ۔ اللہ کے سوا۔ ولی۔ ولایۃ سے بروزن فعیل صیغہ صفت ہے۔ مددگار۔ نصیر۔ نصر سے بروزن فعیل صیغہ ہے۔ بچانے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 104–107

لغات القرآن : آیت نمبر 104 تا 107 لا تقولوا (تم نہ کہو) ۔ انظرنا (ہماری طرف دیکھیے) ۔ یختص (خاص کرتا ہے) ۔ ذو الفضل (فضل و کرم والا) ۔ ما ننسخ (ہم منسوخ نہیں کرتے) ۔ ننس (ہم بھلا دیتے ہیں) ۔ نات (ہم لے کر آتے ہیں) ۔ الم تعلم (کیا تو نہیں جانتا ) ۔ تشریح : آیت نمبر 104 تا 107 “ راعنا ” کے معنی ہیں۔ “ ہماری رعایت کیجئے ” یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو یا بات تو سمجھ میں آرہی ہو مگر سننے والا اس کی مزید وضاحت چاہتا ہو۔ لیکن اگر اسی لفظ کو ذرا زبان دبا کر “ راعینا ” کہا جائے تو پھر اس کے معنی ہوتے ہیں “ ہم میں سے بیوقوف ” “ ہمارا چرواہا ” وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 106–107

شان نزول : خدا تعالیٰ یہود کے شکوک کا جواب دیتا ہے کہ وہ اہل اسلام پر پیش کر کے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تم پر خدا کی طرف سے خبر یعنی وحی او شریعت نازل ہوئی ہے تو شریعت ہمیشہ یکساں رہتی ہے اس میں ایک شوشہ (معمولی بھی) نہٰں بدل سکتا ، پھر اگر یہ قرآن اور شریعت منجانب اللہ ہے تو احکام توریت کو کیوں منسوخ کیا اور پھر خود اس شریعت میں بعض احکام کو ایک وقت قائم رکھ کر منسوخ کردیا ، خدا کو اس سے پیشتر علم نہ تھا ۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ منسوخ بھی اللہ کی طرف سے ہے اور ناسخ بھی دونوں عین حکمت ہیں ۔ اور ناسخ کبھی منسوخ سے زیادہ سہل اور انفع ہوتا ہے ۔ اور اہل کتاب کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 106–107

[73] یہودیوں کا اعتراض یہ تھا کہ اگر پچھلی کتابیں بھی اللہ نے نازل فرمائیں اور قرآن بھی اسی کا نازل کردہ ہے تو ان کتابوں کے بعض احکام کی جگہ قرآن میں دوسرے احکام کیوں دیئے گئے ہیں ؟ یہاں اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 106–108

(ف 1) ابو مسلم کا خیال ہے کہ اس آیت کے مخاطب نئے نئے مسلمان ہیں ، وہ کہتے تھے ، ہمیں بھی عجم کی طرف بت پرستی کی اجازت دی جائے ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں ۔ ان میں کا ایک معزز عبداللہ بن امیہ مخرومی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس وقت تک ہم ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ آپ ﷺ مکہ میں چشمے نہ بہا دیں ، یا آپ ﷺ کے لئے باغات کی سرسبزی وشادابی ہو ‘ یا آپ ﷺ کا قصر ومحل سونے کا ہو ‘ اور یا پھر آپ آسمان پر چڑھ کر قرآن حکیم نہ اتار لائیں ، سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں ، اس لئے کہ اس کے آگے پیچھے انہیں کا ذکر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 106–107

ف 2 اور اگر ہم کسی آیت کے حکم کو موقوف کردیتے ہیں یا اس آیت کو یاد رکھنے والوں کے حافظ سے بھلا دیتے ہیں تو اس کی بجائے اس سے بہتر اور نافع آیت لے آتے ہیں یا اسی کی مثل دوسری آیت لے آتے ہیں کیا اے اعتراض کرنیوالے تو اتنی بات کو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی پر قادر ہے اور کیا اے معترض تو یہ نہیں جانتا کہ آسمان اور زمین کی سلطنت خاص اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی یار و مددگار نہیں۔ (تیسیر) نسخ کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے ذریعہ ہٹانا اور زائل کرنا اور اس کے پیچھے دوسری چیزی کو ثابت کرنا جیسے دھوپ کا سایہ کو نسخ کرنا اور سایہ کا دھوپ کو منسوخ کرنا یا بڑھاپے کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 106–108

ف 5۔ یہود نے قبلہ کا حکم بدل جانے پر جس کا ذکر عنقریب آنا ہے طعن کیا تھا اور مشرکین بھی بعض حکموں کے منسوخ ہوجانے پر زبان درازی کرتے تھے حق تعالیٰ اس طعن اور اعتراض کا جواب اس آیت میں دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبوت عطائی یا وہبی چیز تھی کسبی نہیں کیا تم کو اتنی واضح بات بھی معلوم نہیں ؟ 202: یہود کو اس بات قلق تھا کہ نبوت بنی اسماعیل کو کیوں مل گئی ؟ اور بنی اسرائیل کو کیوں نہ ملی ؟ بتایا جا رہا ہے کہ نبوت نہ تو کسبی چیز تھی اور نہ ہی خاندانی کہ جب ایک خاندان میں نبوت آئی تو دوسرے خاندان میں نہیں آسکتی تھی کیوں ؟ کیا یہ کسی کی وراثت ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیز ہے اور جس کو وہ اپنے قانون کے مطابق چاہتا تھا عطا کردیا کرتا تھا۔ جب اس نے چاہا نبوت کا پروگرام شروع کردیا اور جب اس نے چاہا ، نبوت جیسی رحمت کو بند کردیا اور اعلان کردیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم المرسلین ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–107

At first, Muslims used to pray with their faces turned towards the Baytul-Maqdis بیت المقدس at Jerusalem; later on, Allah commanded them to turn towards the Ka'bah کعبہ . Similarly, certain other injunctions were abrogated altogether, or replaced by others. This provided the Jews and some of the associators too with an occasion to taunt the Muslims, and to say that such changes were made by the Holy Prophet ﷺ himself and not by Allah. Their purpose was to sow the seed of doubt in the mind of the Muslims with regard to the Holy Qur'an being a book revealed by Allah. They used to argue that if…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–107

109. This is in response to a doubt which the Jews tried to implant in the minds of the Muslims. If both the earlier Scriptures and the Qur'an were revelations from God, why was it - they asked - that the injunctions found in the earlier Scriptures had been replaced by new ones in the Qur'an? How could the same God issue divergent injunctions? Furthermore, they expressed their amazement at the Qur'anic indictment of the Jews and Christians for having allowed part of the revelation to be forgotten and lost, pointing out that it was impossible that Divine revelation should be erased from human…

Read the full tafseer →