Explained with ayahs 106–107
(تبدیلی یا تنسیخ۔ اللہ تعالیٰ مختار کل ہے
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں نسخ کے معنی بدل کے ہیں مجاہد فرماتے ہیں مٹانے کے معنی ہیں جو (کبھی) لکھنے میں باقی رہتا ہے اور حکم بدل جاتا ہے حضرت ابن مسعود کے شاگرد اور ابو العالیہ اور محمد بن کعب قرظی سے بھی اسی طرح مروی ہے ضحاک فرماتے ہیں بھلا دینے کے معنی ہیں عطا فرماتے ہیں چھوڑ دینے کے معنی ہیں سدی کہتے ہیں اٹھا لینے کے معنی ہیں جیسے آیت الشیخ والشیختہ اذا زنیا فارجمو ھما البتتہ یعنی زانی مرد و عورت کو سنگسار کردیا کرو اور جیسے آیت (لو کان لابن ادم و ادیان من ذھب لابتغی لھما ثالثا یعنی ابن آدم کو اگر دو جنگل سونے کے مل جائیں جب بھی وہ تیسرے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
سورة الْبَقَرَة 109
یہ ایک خاص شبہہ کا جواب ہے جو یہودی مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ اگر پچھلی کتابیں بھی خدا کی طرف سے آئی تھیں اور یہ قرآن بھی خدا کی طرف سے ہے، تو ان کے بعض احکام کی جگہ اس میں دوسرے احکام کیوں دیے گئے ہیں ؟ ایک ہی خدا کی مختلف وقتوں میں مختلف احکام کیسے ہو سکتے ہیں ؟ پھر تمہارا قرآن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہودی اور عیسائی اس تعلیم کے ایک حصّے کو بھول گئے جو انہیں دی گئی تھی۔ آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا کی دی ہوئی تعلیم اور وہ حافظوں سے محو ہوجائے ؟ یہ ساری باتیں وہ تحقیق کی خاطر نہیں، بلکہ اس لیے کرتے تھے کہ مسلمانوں کو قرآن کے مِن جانب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
خلاصہ تفسیر
(تبدیل قبلہ کا واقعہ جب ہوا تو یہود نے اس پر طعن کیا اور مشرکین بھی بعض احکام کی منسوخی پر زبان طعن دراز کرتے تھے حق تعالیٰ ان کے طعن اور اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ) ہم کسی آیت کا جو حکم موقوف کردیتے ہیں (گو آیت قرآن میں یا ذہنوں میں باقی رہے) یا اس آیت (ہی) کی (ذہنوں سے) فراموش کردیتے ہیں تو (یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں کیونکہ اس میں بھی مصلحت ہوتی ہے چنانچہ) ہم اس آیت سے بہتر یا اس آیت ہی کے مثل (بجائے اس کے دوسری چیز) لے آتے ہیں (اے معترض) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتے ہیں (پس ایسے قادر کو مصالح کی رعایت کیا مشکل ہے اور) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق…
Read the full tafseer →نسخ کا مفہوم : نسخ کے اصل معنی ہٹانے اور مٹانے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ”فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ“ (پس اللہ مٹا دیتا ہے اس چیز کو جو شیطان داخل کردیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیتوں کو محکم کرتا ہے) (الحج : 52)۔ یہاں یہ ایک قانون کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا قانون لانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ انساء کے معنی فراموش کردینے کے ہیں۔
یہود کی وسوسہ اندازی کی تردید : یہود مسلمانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتے تھے کہ جب قرآن حضرت موسیٰ ؑ کو خدا کا پیغمبر اور تورات کو خدا کی کتاب تسلیم کرتا ہے تو پھر تورات کے احکام کے ردوبدل کے کیا معنی ؟ کیا خدا اپنے ہی بنائے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
17۔ 1 نسخ کے لغوی معنی تو منسوخ کرنے کے ہیں، لیکن شرعی اصطلاح میں ایک حکم بدل کر دوسرا حکم نازل کرنے کے ہیں یہ نسخ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا جیسے آدم ؑ کے زمانے میں سگے بہن بھائی کا آپس میں نکاح جائز تھا بعد میں اسے حرام کردیا گیا وغیرہ، اسی طرح قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض احکام منسوخ فرمائے اور ان کی جگہ نیا حکم نازل فرمایا۔ یہودی تورات کو ناقابل نسخ قرار دیتے تھے اور قرآن پر بھی انہوں نے بعض احکام کے منسوخ ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی کہا کہ زمین اور آسمان کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جو مناسب سمجھے کرے، جس وقت جو حکم اس کی مصلحت و حکمت کے مطابق ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
71: اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ محتلف زمانوں کے حالات کی مناسبت سے شریعت کے فروعی احکام میں تبدیلی فرماتے رہے ہیں، اگرچہ دین کے بنیادی عقائد مثلاً توحید رسالت آخرت وغیرہ ہر دور میں ایک رہے ہیں لیکن جو عملی احکام حضرت موسیٰ ؑ کو دئے گئے تھے، ان میں سے بعض حضرت عیسیٰ ؑ کے دور میں تبدیل کردئے گئے اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ان میں مزید تبدیلیاں واقع ہوئیں، اسی طرح جب آنحضرت ﷺ کو شروع میں نبوت عطا ہوئی تو آپ کی دعوت کو مختلف مراحل سے گزرنا تھا، مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل درپیش تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے احکام میں تدریج اختیار فرمائی، کسی وقت ایک حکم دیا گیا بعد میں اس کی جگہ دوسرا حکم آگیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو کافروں کے زمرے میں داخل فرماتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں طبقے نبی آخرالزمان کی رسالت کے منکر تھے ، لہٰذا اس پہلو سے وہ دونوں ایک حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں کے دل مسلمانوں کے حسد اور بغض سے بھرے ہوتے ہیں ، یہ دونوں نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی نصیب ہو ۔ وہ مسلمانوں کی جس چیز سے بہت جل بھن گئے ہیں وہ ان کا دین ہے ۔ ان کو یہ بات کھلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں چھوڑ کر اس بھلائی کے لئے مسلمانوں کو کیوں منتخب فرمایا۔ ان پر قرآن کی صورت میں وحی الٰہی کیوں نازل ہوئی ، انہیں اس انعام واکرام سے کیوں نوازا گیا ۔ اور کائنات کی عظیم ترین امانت ، یعنی…
Read the full tafseer →4 یہ بھی یہود کا طعن تھا کہ " تمہاری کتاب میں بعض آیات منسوخ ہوتی ہیں ' اگر یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہوتی تو جس عیب کی وجہ سے اب منسوخ ہوئی اس عیب کی خبر کیا خدا کو پہلے سے نہ تھی " اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیب نہ پہلی بات میں تھا نہ پچھلی میں لیکن حاکم مناسب وقت دیکھ کر جو چاہے حکم کرے اس وقت وہی مناسب تھا اور اب دوسرا حکم مناسب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیت 106 مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا
ایک تو ہے نسخ یعنی کسی آیت کو منسوخ کردینا اور ایک ہے حافظے سے ہی کسی شے کو محو کردینا۔
نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَا اَوْ مِثْلِہَا ط
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اسے ہر شے کا اختیار حاصل ہے۔
اس آیت کا اصل مفہوم اور پس منظر سمجھ لیجیے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ کا دین آدم علیہ السلام سے لے کر ایں دم تک ایک ہی ہے۔ نوح علیہ السلام کا دین ‘ موسیٰ علیہ السلام کا دین ‘ عیسیٰ علیہ السلام کا دین اورٌ محمد رسول اللہ ﷺ کا دین ایک ہی ہے ‘ جبکہ شریعتوں میں فرق رہا ہے۔ اس فرق کا اصل سبب یہ ہے کہ نوع انسانی مختلف اعتبارات سے ارتقاء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
125 یہود جن جن طریقوں سے لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ قرآن کو مشکوک قرار دیا جائے۔ وہ لوگوں سے کہتے کہ اگر قرآن بھی منزل من اللہ ہے اور تورات تو منزل من اللہ ہے ہی۔ پھر قرآن اور تورات کے احکام میں اختلاف کیوں ہے ؟ اس اعتراض کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ قرآن میں ایک حکم نازل ہوتا ہے پھر اس کی جگہ کوئی اور حکم آجاتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو یہ علم نہیں کہ میں پہلے کیا حکم دے چکا ہوں اور اب کیا دے رہا ہوں ؟ یہود کے ایسے ہی اعتراضات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے اور فرمایا کہ عیب نہ پہلے حکم میں تھا اور نہ دوسرے حکم میں ہے۔ حالات اور موقع…
Read the full tafseer →379 ۔ (لوگوں کے دماغ یا حافظہ سے) انساء ھا اے حذف ذکرھا عن القلوب (راغب) انساء ایۃ اے اذھابھا عن القلوب (بیضاوی) ایۃ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس کا اطلاق آیت مکتوبی پر بھی ہوتا ہے اور نشان، دلیل، معجزہ پر بھی، یہاں مراد اگر دلائل ومعجزات سے لی جائے جب تو آگے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک کے بجائے دوسرا نشان حقانیت قرآن کا وجود میں اب بھی آتا ہی رہتا ہے۔ اور زمانہ نزول قرآن میں تو خارق عادت نشانوں کی بھی کمی نہ تھی، البتہ اگر آیت مکتوبی ہی مراد لی جائے جب بھی دو شقیں ممکن ہیں۔ آیتیں یا قرآن مجید کی ہوں یا کتب سابق کی، اگر کتب سابق کی آیتیں مراد ہیں جیسا کہ ابو مسلم اصفہانی کا مذہب ہے جب بھی…
Read the full tafseer →مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا (الآیۃ) ما شرطیہ جازمہ ہے ” نسخ “ لغت میں زائل کرنے اور نقل کرنے کو کہتے ہیں، بولا جاتا ہے نَسَختِ الشمس الظلَّ سورج نے سایہ زائل کردیا، ونسختُ الکتابَ میں نے کتاب نقل کرلی، اور اصطلاح میں انتہاء حکم کو بیان کرنے کو کہتے ہیں، نسخ کی تین صورتیں ہیں : (1) تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں، مثلاً عَشَرَ رَضعات مَعْلَومَاتٍ یحرُمْنَ (2) تلاوت منسوخ، حکم باقی، مثلاً الشیخ والشیخۃُ اِذا زَنَیَا فارجموھما البتۃ (3) حکم منسوخ، تلاوت باقی، جیسا کہ کُتِبَ علیکم اِذَا حضَرَ اَحَدَکم الموتُ اِنْ تَرَکَ خیرَ الوَصیۃ لِلْوَ الِدَیْنِ یہ آیت، آیت مواریث (یوصیکم اللہ فی…
Read the full tafseer →مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ ( جو منسوخ کردیتے ہیں ہم کوئی آیت) مِن بیانیہ ہے اور نسخ کے دو معنی آتے ہیں ایک نقل اور کا پی ( نسخ الکتاب) بھی اسی سے ماخوذ ہے دوسرے معنی رفع اور ازالہ ( اٹھانا علیحدہ کرنا) ہیں چناچہ بولتے ہیں : نسخت الشمس الظل (علیحدہ کردیا دھوپ نے یا آفتاب نے سایہ کو) یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔ یہ کلام تو باعتبار نعت کے تھا۔ حقیقت الامر یہ ہے کہ کتاب اللہ میں نسخ چند وجوہ پر آیا ہے ایک تو کسی آیت کی تلاوت کا وقت انتہا بیان فرمانا اور حکم کا اپنے حال پر باقی رہنا جیسے آیت رجم کا حکم باقی ہے اور تلاوت منسوخ ہوگئی یا حکم کی انتہا بیان کرنا اور قرأت علی حالہا باقی رہنا جیسے اقارب کے…
Read the full tafseer →(106) اب اللہ تعالیٰ ان احکام کی حکمت بیان فرماتے ہیں جو قرآن کریم میں منسوخ کردیے گئے ہیں اور جو منسوخ نہیں کیے گئے۔
قریش کہتے تھے اے محمد ﷺ آپ کسی بات کے کرنے کا ہمیں حکم دیتے ہیں اور پھر خود ہی اس سے منع بھی کردیتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم بس ایسے حکم کو کہ جس پر عمل ہوچکا ہے اسے تبدیل کرتے ہیں کہ پھر اس پر عمل نہ کیا جائے یا اس آیت ہی کو مٹا دیتے ہیں مگر اس پر عمل منسوخ نہیں ہوتا تو پھر ہم منسوخ شدہ سے زیادہ فائدہ مند اور عمل میں زیادہ آسان یا ثواب نفع اور عمل میں اسی جیسی جبرئیل امین ؑ کے ذریعے سے دوسری آیت اتار دیتے ہیں، اے محمد ﷺ اللہ تعالیٰ ناسخ ومنسوخ میں سے ہر ایک چیز پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
نسخ کا معنی ہے بعد میں آنے والے حکم کے ساتھ پہلے کسی حکم کو ختم کردینا، جیسے پہلے بیت المقدس قبلہ مقرر ہوا، پھر بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا اور جیسے ہماری شریعت میں پہلی شریعتوں کے بہت سے احکام منسوخ کردیے گئے۔ یہودی نسخ کے منکر تھے، اسی لیے انھوں نے عیسیٰ ؑ کو جھٹلایا کہ انھوں نے تورات کے بعض احکام کیوں منسوخ کیے۔ قرآن پر بھی انھوں نے اعتراض کیا کہ جب پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا تھا اور درست تھا تو وہ منسوخ کیوں ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے کئی جواب دیے، پہلے جواب کی تفصیل یہ ہے کہ پہلا حکم درحقیقت ہوتا ہی اتنی مدت کے لیے ہے، نسخ اس مدت کے ختم ہونے کا اعلان ہے۔ اس وقت تک وہ پہلا حکم عین…
Read the full tafseer →آیت نمبر 106
اس میں پندرہ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما ننسخ من ایۃٍ او ننسھا، ننسھا کا عطف ننسخ پر ہے، جزم کی وجہ سے یا کو حذف کیا گیا ہے اور جنہوں نے ننسأھا پڑھا ہے انہوں نے جزم کی وجہ سے ہمزہ کو حذف کردیا ہے اس کا معنی آگے آئے گا نأت یہ جواب شرط ہے۔ یہ احکام میں ایک عظیم آیت ہے اس کا سبب یہ ہے کہ یہود نے جب مسلمانوں سے کعبہ کی طرف منہ کرنے میں حسد کیا اور اس کی وجہ سے اسلام پر طعن کیا اور کہا کہ محمد ﷺ پہلے اپنے اصحاب کو ایک چیز کا حکم دیتا ہے پھر اس سے منع کردیتا ہے۔ پس قرآن ان کی طرف سے ہے اسی وجہ سے قرآن کا بعض، بعض کے مخالف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(1) امام ابن ابی حاتم، حاکم (فی الکنی) ابن عدی اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان (آیات) میں سے جو نبی اکرم ﷺ پر رات کو نازل ہوئیں پھر دن کے وقت بھلا دی گئیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت نازل) فرمائی لفظ آیت ” ما ننسخ من ایۃ او ننسھا نأت بخیر منھا او مثلہا “۔
(2) امام طبرانی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے ایک سورت پڑھی جس کو رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی تھی اور یہ دونوں حضرات اس (سورت) کو پڑھا کرتے تھے ایک رات یہ دونوں نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور اس سورت کو پڑھنا چاہا تو ایک حرف پڑھنے پر بھی قادر نہ ہوئے۔ صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ…
Read the full tafseer →[ مَا نَنْسَخْ : جو ہم زائل کرتے ہیں ] [ مِنْ اٰيَةٍ : کوئی بھی آیت ] [ اَوْ نُنْسِهَا : یا ہم بھلا دیتے ہیں اس کو ] [ نَاْتِ : تو ہم لاتے ہیں ] [ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ : اس سے زیادہ بہتر کو ] [ اَوْ مِثْلِهَا ۭ: یا اس کی مانند ] [ اَلَمْ تَعْلَمْ : کیا تو نے جانا نہیں ] [ اَنَّ اللّٰه : کہ اللہ َ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیر پر ] [ قَدِيْرٌ قدرت والا ہے ]
2: 64: 1 اللغۃ
لغوی اعتبار سے تو اس پورے قطعہ میں صرف ایک ہی لفظ ” نَنْسَخْ “ نیا ہے ‘ باقی تمام کلمات براہ راست یا بالواسطہ پہلے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا عبارت کو چھوٹے چھوٹے جملوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کلمہ کا ترجمہ مع گزشتہ حوالہ لکھ دینا کافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
نسخ آیات کی حکمت
قرآن مجید کے بعض احکام اللہ تعالیٰ منسوخ فرما دیتے تھے۔ کبھی ایک حکم دیا پھر اس سے منع فرما دیا اور اس کے خلاف حکم دے دیا کبھی ایک حکم کے بجائے دوسرا حکم نازل فرما دیا اس کو دیکھ کر مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ آج ایک بات کہتے ہیں اور کل کو اس سے رجوع کرلیتے ہیں، اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہوتا تو اس میں منسوخیت والی بات کیوں ہوتی معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ محمد ﷺ اپنے پاس سے کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان دشمنوں کی بات کو اس طرح بیان فرمایا :۔
(وَ اِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ وَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
شناعت بست وچہارم (24)
قال تعالیٰ ماننسخ من ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ من ولی ولا نصیر
شان نزول : یہود اور مشرکین بطور طعن یہ کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) اپنے اصحاب کو ایک بات کا حکم دیتے ہیں اور پھر اسی بات سے منع کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی طرف سے کہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ اس قسم کی باتوں کافروں کا مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ شک اور شبہ ڈالدیں کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ خدا کی طرف سے جو ہم پر نازل ہوا وہ سب خیر ہی خیر ہے تو اس کے منسوخ ہونے کے کیا معنی۔ اگر پہلا حکم خیر تھا تو دوسرا شر ہوگا اور اگر دوسرا ھکم خیر ہے تو پہلا حکم شر ہوگا اور وحی الٰہی اور حکم خداوندی…
Read the full tafseer →204 نسخ سے مراد یہ ہے کہ آیت کا حکم اٹھ جائے لیکن اس کی تلاوت باقی رہ جائے۔ اور انسائ سے مراد یہ ہے کہ حکم اور تلاوت دونوں اٹھ جائیں (بحر ص 343 ج 1) یہ راعنا کو منسوخ کر کے اس کی جگہ انظرنا کہنے کے حکم کی طرف اشارہ ہے، نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا۔ یعنی اگر ہم کسی حکم کو منسوخ کردیتے ہیں تو وہ بھی ہماری حکمت اور مصلحت کے عین مطابق ہوتا ہے اور ہم منسوخ شدہ حکم کی جگہ اس سے زیادہ مفید اور زیادہ آسان یا نفع اور سہولت میں اس کے برابر دوسرا حکم نازل کردیتے ہیں۔ ای بما ھو انفع لکم واسھل علیکم و اکثر لاجرکم او مثلھا فی المنفعۃ والثواب الخ (معالم ص 81 ج 1) ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی پستی اور انحطاط کا ذکر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پس پست ڈال دیا دین کی سربلندی کے کام کو ترک کردیا ، جہاد سے منہ موڑ گئے اور سحرجادو ٹونے ٹونکے جیسے سفلی اعمال کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا انہوں نے ان برائیوں خاص طور پر سحر کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کیا جو کہ ان کی ذلت کا انتہائی درجہ تھا ۔
(بنی اسرائیل کی اخلاقی بستی)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اخلاقی پستی کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کو ذہنی تکلیف پہنچاتے تھے ، یہودیوں نے اپنی اس ذلیل حرکت کا ارتکاب نہ صرف…
Read the full tafseer →مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا 0 ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 106
نسخ
النَّسْخُ : إزالةُ شَيْءٍ بِشَيْءٍ يَتَعَقَّبُهُ ، كنَسْخِ الشَّمْسِ الظِّلَّ ، والظِّلِّ الشمسَ ، والشَّيْبِ الشَّبَابَ. فَتَارَةً يُفْهَمُ منه الإزالة، وتَارَةً يُفْهَمُ منه الإثباتُ ، وتَارَةً يُفْهَم منه الأَمْرَانِ. ونَسْخُ الکتاب : إزالة الحُكْمِ بحکم يَتَعَقَّبُهُ. قال تعالی: ما نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِها نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْها
[ البقرة/ 106] قيل : معناه ما نُزيل العملَ بها، أو نحْذِفها عن قلوب العباد، وقیل : معناه :
ما نُوجِده…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ترکیب : لو کلمہ شرط انہم ان اور جس میں کہ اس نے عمل کیا مصدر ہے موضع رفع میں بسبب فعلِ محذوف کے۔ کس لیے کہ لو کے بعد فعل ہوتا ہے تقدیرہ لو وقع۔ منھم انہم آمنوا سب جملہ شرط لمثوبۃ مبتداء موصوف من عند اللہ صفت خبر جملہ جوابِ لو راعنا امر ہے لیکن موضع نصب میں ہے کس لیے کہ یہ مفعول ہے لاتقولوا کا یود فعل الذین الخ ولا المشرکین موضع جر میں ہے کس لیے کہ معطوف ہے لفظ اہل پر ان ینزل جملہ مفعول یودمن خیر میں من زائدہ ہے من ربکم میں من ابتدائیہ ہے ماننسخ ماشرطیہ جازمہ مگر محلاً منصوب ہے۔ نات بخیر الخ جملہ جواب شرط ننسہا معطوف ہے نسخ پر لہ ملک السمٰوات مبتداء و خبر جملہ خبر ہے ان کی من ولی زائدہ ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْمِثْلِھَاط اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَمَالَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَانَصِیْرٍ ۔
(جو ہم منسوخ کرتے ہیں کوئی آیت یا کوئی آیت نظر انداز کردیتے ہیں تو لے آتے ہیں ہم اس سے بہتر یا اس کے مانند کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے نہ مدد گار) (البقرۃ : 106 تا 107)
یہود کی ایک شرارت کا ذکر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب اس قدر بےباک اور مسلمانوں کی دشمنی میں آگے جا چکے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں مداخلت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ اپنی کتاب میں ترمیم و اضافہ کرے۔ اس بہانے وہ کتاب اللہ پر اعتراض اور نبی اکرم ﷺ کی نبوت پر تنقید کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دلوں میں حسد ہے جس بنا پر ایسی باتیں کرتے ہیں۔
نسخ کا معنٰی ہے کسی بات کو مٹانا یا اس کا ازالہ کرنا ہے۔ اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں :
(1) ایک حکم خاص مدت کے لیے ہو، دوسری مدت کے لیے دوسرا حکم نازل ہوجائے۔
(2) تربیت اور خاص مصلحت کی خاطر پہلے حکم میں نرمی اور کچھ گنجائش رکھی گئی ہو بعد ازاں…
Read the full tafseer →106: مَانَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا : (جو کوئی آیت ہم منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں)
لغوی معنی :
لغت میں نسخ تبدیل کرنے کو کہتے ہیں۔
شرعی تعریف :
کسی ایسے مطلق شرعی حکم کی انتہاء کو متاخر بیان کرنا کہ جس کا ہمیشہ رہنا ہمارے دماغوں میں پختہ ہوچکا ہو۔ یہ ہمارے حق میں تو بظاہر تبدیلی ہے مگر صاحب شرع کے لیے یہ بیان محض ہے۔
ہم نے ان لوگوں کا جواب یہ کہہ کر۔ ” یہ صاحب شرع کے حق میں محض بیان ہے “ ” دے دیا جو نسخ کے منکرین ہیں “ اور نسخ کو بداء قرار دیتے ہیں۔ میری مراد اس سے یہود ہیں۔ (یا اس طرح کے دیگر گروہ بھی)
محل نسخ :
ایسا حکم جس میں وجود وعدم کا ذاتی طور پر احتمال ہو۔ اور اس حکم کے…
Read the full tafseer →106۔ (آیت)” ما ننسخ من ایۃ اوننسھا “ اور یہ اس طرح کہ مشرکین کہنے لگے کہ بیشک حضرت محمد ﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو ایک دن کسی چیز کا حکم دیتے ہیں پھر اسی سے ان کو روکتے ہیں اور اس کے برخلاف کرنے کا حکم دیتے ہیں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں اپنی طرف سے کہتے ہیں ۔ آج ایک بات کی اور کل اس سے رجوع کرلیا ، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی (آیت)” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ واللہ اعلم بما ینزل “ انہوں نے کہا آپ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف مفتری ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں (آیت)” ماننسخ من ایۃ اوننسھا “ تو اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نسخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(106 ۔ 107) ۔ یہود کا یہ اعتقاد تھا کہ تورات کے احکام قیامت تک کبھی منسوخ نہیں ہوں گے۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے انہوں نے انجیل کا کتاب الٰہی ہونا تسلیم نہیں کیا کیونکہ اس سے ان کو تورات کے بعض احکام کا منسوخ ہوجانا تسلیم کرنا پڑتا تھا اب جبکہ قرآن شریف کی بعض آیتیں بعض آیتوں سے منسوخ ہوئیں تو یہود لوگ مسلمانوں سے طرح طرح کی حجتیں اس بارے میں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کلام الٰہی کبھی منسوخ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے سوکرے۔ اپنے بندوں کے حالات کی مصلحت سے جو احکام اس کو مناسب معلوم ہوئے اس نے سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح سے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(نسخ) کے لغوی معنی نقل کرنا ہیں۔ نسخ کی شرعی حقیقت یہ ہے کہ مکلفین کو کسی ایک شرعی حکم سے کسی دوسرے شرعی حکم کی طرف منتقل کرنا یا اس شرعی حکم کو یکسر ساقط قرار دے دینا۔ یہودی نسخ کا انکار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ نسخ جائز نہیں، حالانکہ نسخ ان کے ہاں تو رات میں بھی موجود ہے، ان کا نسخ کو نہ ماننا کفر اور محض خواہش نفس کی پیروی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے نسخ میں پنہاں اپنی حکمت سے آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا : (آیت) مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا ” جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا اس کو بھلاتے ہیں “ یعنی اپنے بندوں سے فراموش کرا دیتے ہیں اور اس آیت کو ان کے دلوں سے زائل کردیتے ہیں (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ اور وجوہ نسخ کا بیان
ارشاد باری ہے : ماننسخ من ایۃ او ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا۔ (ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی) کچھ حضرات کا قول ہے کہ نسخ ازالہ کو کہتے ہیں اور کچھ دیگر حضرات نسخ کو ابدال (بدل دینے) کا نام دیتے ہیں۔ ارشاد باری ہے : فینسخ اللہ ما ینقی الشیطان (اللہ تعالیٰ اس چیز کو منسوخ کردیتا ہے جس کا شیطان القا کرتا ہے) یعنی اسے زائل اور باطل کر کے اس کی جگہ آیات محکمات نازل کردیتا ہے۔ ایک قول کے مطابق نسخ نقل کو کہتے ہیں اور سا کی بنیاد یہ قول باری ہے : انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون (تم جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
296 " نُنْسِہٰا " کا معنی و مطلب ؟ : بھلا دینے کا یہ معنیٰ اس وقت ہوگا جبکہ اس لفظ کو " نسیان " سے ماخوذ مانا جائے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لفظ " نسا " سے ماخوذ ہو جس کے معنیٰ موخر کرنے کے ہوتے ہیں۔ تو اس صورت میں اس کے معنیٰ ہوں گے کہ ہم اس کو موخر کردیتے ہیں۔ اب اس کے مطلب اور معنیٰ و مراد میں آگے کئی احتمال ہیں۔ نمبر ایک یہ کو لوح محفوظ سے اس کا نزول مؤخر کردیتے ہیں۔ نمبر دو یہ کہ تورات کے احکام میں سے جس کے نسخ کو موخر کر کے اسے قرآن حکیم میں مستقل طور پر محفوظ کردیتے ہیں۔ نمبر تین یہ کہ قرآن حکیم کے احکام میں سے جس حکم کو نسخ سے محفوظ رکھ کر اسے ہم باقی رکھ دیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیات کی تنسیخ
تشریح : یہ ایک خاص شبہہ کا جواب ہے جو یہودی مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر پچھلی کتابیں اور قرآن پاک ایک ہی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں تو پھر ان کے احکامات کیوں مختلف ہیں۔ یہ باتیں وہ تحقیق کی خاطر نہیں، بلکہ محض اس لئے کرتے تھے کہ مسلمان قرآن کو منجانب اللہ ماننے کے لئے شک و شبہہ میں پڑجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے تنسیخ آیات کا جو ذکر کیا ہے، تو تمام بڑے بڑے مفسرین نے اس کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔ ” درس قرآن “ کی تفسیر کے مطابق یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ” آیات کے منسوخ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے پہلے احکام اور قدیم کتب کی جگہ قرآن مجید کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیات 104- 112
اسرارو معارف
فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
ف 2 نسخ کے معنی کسی چیز کو نقل کرنے کے ہیں اور اصطلاح علماء میں ایک حکم شرعی کو دوسرے شرعی سے موقوف کردینے کو نسخ کہا جاتا ہے قرآن میں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت تبدیل کردینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (دیکھئے النحل آیت 101) نسخ کی دو صورتیں ہیں صرف نسخ حکم یا مع تلاوت جمہور علماء نے یہاں نسخ کی یہی دو صورتیں بیان کی ہیں۔ اس آیت میں یہود کی تردید ہے جو تورات کو ناقابل نسخ مانتے تھے اس بنا پر انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی کہ وہ توریت کے بعض احکام کو منسوخ ہیں۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہوسکتا قرآن نے ان کے جواب میں فرمایا کسی کو موقوف قرار دے دینا کوئی عییب کی بات نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →(2:106) ما شرطیہ ہے اور جازم فعل ہے ۔ ما من ایۃ جو آیت بھی جس آیت کو بھی۔
ننسخ۔ مضارع جمع متکلم مجزوم بوجہ عمل ما شرطیہ نسخ (باب فتح) مصدر بمعنی زائل کرنا۔ بدل دینا۔ بیکار کردینا۔ ایک چیز کو دوسری جگہ قائم کرنا۔ صورت بدل دینا ۔ لکھنا۔ الا ستنساخ (باب اسفعال) کے معنی کسی چیز کے لکھنے کو طلب کرنے یا لکھنے کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن بمعنی نسخ (لکھنا) بھی قرآن مجید میں آیا ہے ۔ مثلاً انا کنا نستنسخ ماکنتم تعلمون (45:29) جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔ تنا سخ ایک کے بعد دوسری چیز کا اس کے قائم مقام ہونا۔ جیسا کہ اہل ہنود میں مسئلہ تنا سخ ہے کہ آتما بمعنی روح ہر موت پر دوسرا روپ دھار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
لغات القرآن : آیت نمبر 104 تا 107
لا تقولوا (تم نہ کہو) ۔ انظرنا (ہماری طرف دیکھیے) ۔ یختص (خاص کرتا ہے) ۔ ذو الفضل (فضل و کرم والا) ۔ ما ننسخ (ہم منسوخ نہیں کرتے) ۔ ننس (ہم بھلا دیتے ہیں) ۔ نات (ہم لے کر آتے ہیں) ۔ الم تعلم (کیا تو نہیں جانتا ) ۔
تشریح : آیت نمبر 104 تا 107
“ راعنا ” کے معنی ہیں۔ “ ہماری رعایت کیجئے ” یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو یا بات تو سمجھ میں آرہی ہو مگر سننے والا اس کی مزید وضاحت چاہتا ہو۔ لیکن اگر اسی لفظ کو ذرا زبان دبا کر “ راعینا ” کہا جائے تو پھر اس کے معنی ہوتے ہیں “ ہم میں سے بیوقوف ” “ ہمارا چرواہا ” وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
شان نزول : خدا تعالیٰ یہود کے شکوک کا جواب دیتا ہے کہ وہ اہل اسلام پر پیش کر کے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تم پر خدا کی طرف سے خبر یعنی وحی او شریعت نازل ہوئی ہے تو شریعت ہمیشہ یکساں رہتی ہے اس میں ایک شوشہ (معمولی بھی) نہٰں بدل سکتا ، پھر اگر یہ قرآن اور شریعت منجانب اللہ ہے تو احکام توریت کو کیوں منسوخ کیا اور پھر خود اس شریعت میں بعض احکام کو ایک وقت قائم رکھ کر منسوخ کردیا ، خدا کو اس سے پیشتر علم نہ تھا ۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ منسوخ بھی اللہ کی طرف سے ہے اور ناسخ بھی دونوں عین حکمت ہیں ۔ اور ناسخ کبھی منسوخ سے زیادہ سہل اور انفع ہوتا ہے ۔ اور اہل کتاب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
[73] یہودیوں کا اعتراض یہ تھا کہ اگر پچھلی کتابیں بھی اللہ نے نازل فرمائیں اور قرآن بھی اسی کا نازل کردہ ہے تو ان کتابوں کے بعض احکام کی جگہ قرآن میں دوسرے احکام کیوں دیئے گئے ہیں ؟ یہاں اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(ف 1) ابو مسلم کا خیال ہے کہ اس آیت کے مخاطب نئے نئے مسلمان ہیں ، وہ کہتے تھے ، ہمیں بھی عجم کی طرف بت پرستی کی اجازت دی جائے ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں ۔ ان میں کا ایک معزز عبداللہ بن امیہ مخرومی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس وقت تک ہم ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ آپ ﷺ مکہ میں چشمے نہ بہا دیں ، یا آپ ﷺ کے لئے باغات کی سرسبزی وشادابی ہو ‘ یا آپ ﷺ کا قصر ومحل سونے کا ہو ‘ اور یا پھر آپ آسمان پر چڑھ کر قرآن حکیم نہ اتار لائیں ، سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں ، اس لئے کہ اس کے آگے پیچھے انہیں کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
ف 2 اور اگر ہم کسی آیت کے حکم کو موقوف کردیتے ہیں یا اس آیت کو یاد رکھنے والوں کے حافظ سے بھلا دیتے ہیں تو اس کی بجائے اس سے بہتر اور نافع آیت لے آتے ہیں یا اسی کی مثل دوسری آیت لے آتے ہیں کیا اے اعتراض کرنیوالے تو اتنی بات کو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی پر قادر ہے اور کیا اے معترض تو یہ نہیں جانتا کہ آسمان اور زمین کی سلطنت خاص اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی یار و مددگار نہیں۔ (تیسیر)
نسخ کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے ذریعہ ہٹانا اور زائل کرنا اور اس کے پیچھے دوسری چیزی کو ثابت کرنا جیسے دھوپ کا سایہ کو نسخ کرنا اور سایہ کا دھوپ کو منسوخ کرنا یا بڑھاپے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
ف 5۔ یہود نے قبلہ کا حکم بدل جانے پر جس کا ذکر عنقریب آنا ہے طعن کیا تھا اور مشرکین بھی بعض حکموں کے منسوخ ہوجانے پر زبان درازی کرتے تھے حق تعالیٰ اس طعن اور اعتراض کا جواب اس آیت میں دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →ناسخ و منسوخ کیا ہے ؟ کیا قرآن کریم کی آیات منسوخ ہیں ؟
201: ” ہم احکام میں سے جو بدل دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس کی جگہ اس سے بہتر یا اس جیسا حکم نازل کردیتے ہیں۔ “ اس آیت کو ناسخ و منسوخ کے مسئلہ میں بنیاد قرار دیا گیا ہے اور پھر قرآن کریم ہی کی آیات کو ناسخ اور منسوخ بتایا گیا اور اس بحث کو اتنا طول دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی سات سو آیات کریمات کو منسوخ قرار دیا گیا ہے۔ پھر اپنے اپنے مذاق کے مطابق کسی نے اس کی تعداد کو کم کرنا شروع کردیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ پانچ سو آیات منسوخ ہیں اور کسی نے یہ نتیجہ نکالا کہ صرف پانچ آیات منسوخ ہیں۔
سب سے پہلے غور طلب امر سیاق وسباق آیت ہے یہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
At first, Muslims used to pray with their faces turned towards the Baytul-Maqdis بیت المقدس at Jerusalem; later on, Allah commanded them to turn towards the Ka'bah کعبہ . Similarly, certain other injunctions were abrogated altogether, or replaced by others. This provided the Jews and some of the associators too with an occasion to taunt the Muslims, and to say that such changes were made by the Holy Prophet ﷺ himself and not by Allah. Their purpose was to sow the seed of doubt in the mind of the Muslims with regard to the Holy Qur'an being a book revealed by Allah. They used to argue that if…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
109. This is in response to a doubt which the Jews tried to implant in the minds of the Muslims. If both the earlier Scriptures and the Qur'an were revelations from God, why was it - they asked - that the injunctions found in the earlier Scriptures had been replaced by new ones in the Qur'an? How could the same God issue divergent injunctions? Furthermore, they expressed their amazement at the Qur'anic indictment of the Jews and Christians for having allowed part of the revelation to be forgotten and lost, pointing out that it was impossible that Divine revelation should be erased from human…
Read the full tafseer →