Explained with ayahs 104–105
مسلمانو کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو !
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنئے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت (من الذین ھادوا) یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لئے راعنا کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنئے اور ہماری طرف توجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
سورة الْبَقَرَة 107
اس رکُوع اور اس کے بعد والے رکوع میں نبی ﷺ کی پیروی اختیار کرنے والوں کو ان شرارتوں سے خبردار کیا گیا ہے جو اسلام اور اسلامی جماعت کے خلاف یہودیوں کی طرف سے کی جارہی تھیں، ان شبہات کے جوابات دیے گئے ہیں جو یہ لوگ مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اور ان خاص خاص نکات پر کلام کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی گفتگو میں زیر بحث آیا کرتے تھے۔ اس موقع پر یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جب نبی ﷺ مدینے پہنچے اور ان اطراف میں اسلام کی دعوت پھیلنی شروع ہوئی، تو یہودی جگہ جگہ مسلمانوں کو مذہبی بحثوں میں الجھانے کی کوشش کرتے تھے، اپنی موشگافیوں اور تشکیکات اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہود کا جو برتاؤ تھا وہ اوپر کی آیت میں بیان کیا گیا اب اس آیت میں یہود کا برتاؤ مسلمان کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے کہ (بعضے یہودی بعض مسلمانوں سے کہنے لگے کہ بخدا ہم دل سے تمہارے خیرخواہ ہیں، اور ہزار جان سے پسند کرتے ہیں کہ تم کو دینی احکام ہمارے دینی احکام سے بہتر عنایت ہوں تو ہم بھی ان کو قبول کریں مگر کیا کیا جائے کہ تمہارا دین ہمارے دین سے اچھا ثابت نہیں ہوا، حق تعالیٰ اس دعویٰ خیرخواہی کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) ذرا بھی پسند نہیں کرتے کافر لوگ (خواہ) ان اہل کتاب میں سے (ہوں) اور (خواہ) مشرکین میں سے اس امر کو کہ تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے کسی طرح کی…
Read the full tafseer →معاندین کے باطن پر روشنی : یہ آیت معاندین اسلام کے باطن پر عکس ڈال رہی ہے اور خطاب مسلمانوں سے ہے کہ مسئلہ صرف لفظ کے استعمال اور عدم استعمال کا نہیں ہے بلکہ یہ یہودی اور یہ مشرکین دونوں اس غصہ اور حسد میں جل رہے ہیں کہ تم خدا کی طرف سے اس خیر عظیم کے سزاوار کس طرح قرار پائے۔ ان کے نزدیک تو سارے خیر و شرف کے وارثو مورث یہ تھے نہ کہ تم قلاش اور بےسرو سامان۔ لیکن جب وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے علی الرغم تمہاری طرف سب سے بڑے خیر کی وراثت منتقل ہو رہی ہے اور تم اس کے حامل ہوا چاہتے ہو تو انہوں نے اس قسم کی چھچھوری حرکتیں شروع کردی ہیں کہ اگر ہوسکے تو اس طرح تمہاری نظروں میں اسلام اور پیغمبر آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
14۔ 1 رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض وعناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہوجاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ جیسے وہ السلام علیکم کی بجائے السام علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم ـ ' انْظُرْنَا ' کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو، ادب و احترام کے پیش نظر کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
70: مدینہ میں رہنے والے بعض یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ وہ جب حضور اکرم ﷺ سے ملتے تو آپ سے کہتے تھے“ راعنا ”عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری رعایت فرمائیے، اس لحاظ سے یہ لفظ ٹھیک تھا اور اس میں گستاخی کے کوئی معنی نہیں تھے لیکن عبرانی زبان میں جو یہودیوں کی مذہبی زبان تھی اس سے ملتا جلتا ایک لفظ بد دعا اور گالی کے طور پر استعمال ہوتا تھا نیز اگر اسی لفظ میں عین کو ذرا کھینچ کر بولا جائے تو وہ راعینا بن جاتا ہے، جس کے معنی ہیں“ ہمارے چرواہے ”غرض یہودیوں کی اصل نیت لفظ کو خراب معنی میں استعمال کرنے کی تھی ؛ لیکن چونکہ عربی میں بظاہر اس کا مطلب ٹھیک تھا اس لئے بعض مخلص مسلمانوں نے بھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو کافروں کے زمرے میں داخل فرماتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں طبقے نبی آخرالزمان کی رسالت کے منکر تھے ، لہٰذا اس پہلو سے وہ دونوں ایک حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں کے دل مسلمانوں کے حسد اور بغض سے بھرے ہوتے ہیں ، یہ دونوں نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی نصیب ہو ۔ وہ مسلمانوں کی جس چیز سے بہت جل بھن گئے ہیں وہ ان کا دین ہے ۔ ان کو یہ بات کھلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں چھوڑ کر اس بھلائی کے لئے مسلمانوں کو کیوں منتخب فرمایا۔ ان پر قرآن کی صورت میں وحی الٰہی کیوں نازل ہوئی ، انہیں اس انعام واکرام سے کیوں نوازا گیا ۔ اور کائنات کی عظیم ترین امانت ، یعنی…
Read the full tafseer →3 یعنی کفار یہود ہوں یا مشرکین مکہ قرآن کے نزول کو تم پر ہرگز پسند نہیں کرتے بلکہ یہود تمنا کرتے ہیں کہ نبی آخر الزمان بنی اسرائیل میں پیدا ہو اور مشرکین مکہ چاہتے ہیں کہ ہماری قوم میں سے ہو مگر یہ تو اللہ کے فضل کی بات ہے کہ امیّ لوگوں میں نبی آخرالزماں کو پیدا فرمایا۔
Read the full tafseer →آیت 105 مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَلاَ الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط۔
جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ‘ خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین مکہ میں سے ‘ وہ اس بات پر حسد کی آگ میں جل رہے ہیں کہ یہ کلام پاک آپ ﷺ پر کیوں نازل ہوگیا اور خاتم النبییّن کا یہ منصب آپ ﷺ ‘ کو کیوں مل گیا۔ وہ نہیں چاہتے کہ اللہ کی طرف سے کوئی بھی خیر آپ کو ملے۔
وَاللّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط۔
یہ تو اس کا اختیار اور اس کا فیصلہ ہے۔
وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔
Read the full tafseer →124 یہود اور مشرکوں کا مسلمانوں کے مقابلہ میں گٹھ جوڑ :۔ یہودیوں کو اصل تکلیف تو یہ تھی کہ نبی آخر الزمان ﷺ ان میں کیوں مبعوث نہیں ہوئے۔ آپ ﷺ اولاد اسماعیل سے اور ایسی قوم میں پیدا ہوئے جنہیں یہود اپنے سے بہت کمتر اور حقیر سمجھتے تھے اور مشرکوں کو یہ تکلیف تھی کہ آپ خالصتاً ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔ جس کی زد ان پر، ان کے معبودوں پر، ان کے آباؤ اجداد پر اور ان کی چودھراہٹ پر پڑتی تھی۔ لہذا یہود اور مشرکین دونوں ہی پیغمبر اسلام، اسلام اور مسلمانوں کے شدید دشمن تھے۔ وہ مسلمانوں کے لیے کوئی بھلائی کی بات کیسے گوارا کرسکتے تھے، اور یہاں بھلائی اور رحمت سے مراد بالخصوص وہ احکام الہٰی ہیں…
Read the full tafseer →375 ۔ (آیت) ” الذین کفروا “۔ کافروں یعنی طریق اسلام کے منکروں کی بڑی قسمیں دو ہیں۔ ایک مشرک جو سرے سے توحید، رسالت، ملائکہ وجنات ہی کے قائل نہیں۔ بلکہ ان کے بجائے عجب عجب تخیلات اور ادہام گڑھ رکھے ہیں۔ دوسرے اہل کتاب جو ان بنیادی حقائق پر لفظ ایمان رکھتے ہیں، لیکن عملا ومعنا ان میں سے ہر حقیقت کو مسخ کرچکے ہیں، یہاں جملہ میں آگے جو خبر نکلے گی، اس کا مبتدا بھی (آیت) ” الذین کفروا “ ہے۔ مزید صراحت کے لیے اس کی دونوں قسموں کو بھی کھول کر بیان کردیا جائے، (آیت) ” اھل الکتب “ یہ لفظ قرآن مجید میں پہلی بار آیا ہے۔ قرآنی اصطلاح میں یہ لفظ مومینن اور مشرکین کا درمیانی درجہ رکھتا ہے۔ اور اس کا اطلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
آیات نمبر 104 تا 108
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم نبی کو راعنا نہ کہا کرو (رَاعِنَا) مَرَاعَاۃٌ سے امر کا صیغہ ہے (صحابہ ؓ آپ ﷺ سے یہ لفظ کہا کرتے تھے، اور یہ (لفظ) یہود کی زبان میں گالی ہے، رَعونَۃ سے مشتق ہے، یہود اس سے خوش ہوتے تھے، اور خود بھی اس کلمے سے (آپ ﷺ کو) خطاب کرتے تھے، مومنوں کو اس (کلمے کے کہنے) سے منع کردیا گیا، اور اس کے بجائے انظرنا کہا کرو، یعنی ہمارا خیال رکھئے، اور توجہ سے سنا کرو جس بات کا حکم دیا جائے عمل کی نیت سے اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے، تکلیف دہ اور وہ آگ ہے، یہ لوگ جنہوں نے حسد کی وجہ سے (دعوت حق قبول کرنے سے) انکار کردیا، اہل کتاب ہوں یا مشرکین عرب اس بات کو…
Read the full tafseer →مَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ ( وہ لوگ جو کافر ہیں کتاب والے ہوں یا مشرک خوش نہیں ہیں) وُدّ کے معنی ہیں کسی شے سے تمنا آمیز محبت کرنا اسی واسطے اس لفظ کا استعمال تمنا اور محبت دونوں میں الگ الگ بھی آیا ہے مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِمیں مِن بیانیہ ہے اور لا زائد ہے المشرکین کا اہل الکتاب پر عطف ہے۔
اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ( اس بات سے کہ اتاری جائے تم پر بھلائی خدا کی طرف سے) مِنْ خَیْرٍ ..... یَودّ کا مفعول ہے پہلا من استغراق کے واسطے زیادہ کیا گیا ہے اور دوسرا من ابتداء کے لیے ہے۔ خیر سے مراد وحی ہے مطلب یہ کہ اے مومنو…
Read the full tafseer →(105) کعب بن اشرف یہودی اور اس کے ساتھی اور مشرکین عرب میں سے ابوجہل اور اس کی جماعت ہرگز یہ برداشت نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ جبرئیل امین ؑ کے ذریعہ سے تمہارے نبی کریم ﷺ پر نبوت، اسلام اور کتاب اللہ کی بھلائیاں اتارے اور اللہ تعالیٰ اپنے دین نبوت، اسلام اور اپنی کتاب کے نازل کرنے کے لیے جو اس کا اصل ہوتا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا انتخاب فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر نبوت واسلام کی بدولت بہت ہی عظیم الشان فضل فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مشرکین عرب کے نزدیک رسول اللہ ﷺ ایک عام آدمی تھے اور وہ اپنے کسی عظیم سردار کے بجائے ایک عام آدمی پر وحی کا نزول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ دیکھیے الزخرف (31) اور اہل کتاب اللہ کی اس رحمت کو اپنی نسل سے باہر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے خاص کرے۔ یہاں رحمت سے مراد نبوت ہے، جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، وہ نہ کسی کی عظمت کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ نسل پر اور نہ کسی کے کسب، محنت اور چلہ کشی پر، جیسا کہ قادیانی دجال کا کہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 105
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما یود یعنی خواہش نہیں کرتے یہ پہلے گزر چکا ہے الذین کفروا من اھل الکتب ولا المشرکین، ولا المشرکین، اھل پر معطوف ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ولا المشرکین کا عطف الذین پر ہو۔ یہ نحاس کا قول ہے۔ ان ینزل علیکم من خیرٍ ، من زائدہ ہے خیر فعل مجہول کا اسم ہے ان محل نصب میں ہے، یعنی بان ینزل۔ واللہ یختص برحمتہ من یشأء حضرت علی ؓ نے فرمایا : یختص برحمتہ۔ یعنی بنبوتہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو نبوت کے ساتھ مختص فرمایا (1) ۔ ایک قوم نے کہا : الرحمۃ سے مراد قرآن ہے (2) ۔ بعض نے فرمایا : اس آیت میں رحمت عام ہے ان تمام انواع رحمت کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واللہ یختص برحمتہ من یشاء “ میں رحمت سے مراد قرآن اور سلام ہے۔
Read the full tafseer →[ مَا يَوَدُّ : نہیں چاہتے ] [ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا ] [ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ] [ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ : اور نہ ہی شرک کرنے والوں میں سے ] [ اَنْ يُّنَزَّلَ : کہ نازل کی جائے ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مِّنْ خَيْرٍ : کوئی بھلائی ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ : تمہارے رب کی طرف سے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ يَخْتَصُّ : مخصوص کرتا ہے ] [ بِرَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت سے ] [ مَنْ : ان کو جن کو ] [ يَّشَاۗءُ ۭ: وہ چاہتا ہے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : بڑے فضل والا ہے ]
Read the full tafseer →یہودیوں اور مشرکوں کو یہ گوارا نہیں کہ مسلمانوں پر کوئی خیر نازل ہو
جب مسلمان یہودیوں سے کہتے تھے کہ تم اسلام قبول کرو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے تھے کہ تم جس دین کی طرف بلاتے ہو ہمارے دین سے بہتر نہیں ہے اور ہماری خواہش ہے کہ تمہارا دین بہتر ہوتا تو ہم اس کا اتباع کرلیتے ان کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ اے مسلمانو ! ان کو یہ پسند نہیں ہے کہ تم کو کسی طرح کی خیر نصیب ہو، یہودی تو اس حسد میں مرے جا رہے ہیں کہ نبی آخر الزماں ﷺ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے کیوں آیا اور حضرت اسحاق کی اولاد میں سے کیوں نہ ہوا اور مشرکین اس لیے ناراض ہیں کہ حضرت سرور عالم…
Read the full tafseer →شناعت بست و سوم (23)
قال تعالی۔ ما یود الذین کفروا۔۔ الی۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
شان نزول : مسلمانوں نے یہود سے کہا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ۔ یہودیوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہماری تو دلی خواہش تھی کہ اگر تمہارا دین ہمارے دین سے بہتر ہوتا تو ضرور اس کو قبول کرتے لیکن تمہارا دین ہمارے دین سے بہتر ثابت نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ سب غلط ہے اصل وجہ یہ ہے کہ یہ تم پر حسد کرتے ہیں اور کافر خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین مکہ ذرہ برابر دل سے یہ نہیں چاہتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر کوئی خیر نازل کی جائے لیکن ان کے حسد سے کچھ نہیں ہوسکتا اس لیے کہ اللہ…
Read the full tafseer →202 یَوَدُّ وَدٌّ سے ہے سے ہے جس کے معنی چاہنے اور پسند کرنے کے ہیں۔ اور مِنْ اَھْلِ الکْکِتٰب میں من بیانیہ ہے اور وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ کا عطف اَھْلِ الْکِتٰب پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافروں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل کتاب، دوسرے مشرکین اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تمام اہل کتاب کافر ہیں جب تک وہ آخری رسول اور آخری کتاب پر ایمان نہ لائیں اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ من الاولی للبیان لان الذین کفرو جنس تحتہ نوعان اھل الکتب والمشرکون (مدارک ص 53 ج 1، کبیر ص 657 ج 1) اور خَیْرٌ کو بعض مفسرین نے بعض معانی کے ساتھ مخصوص کیا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اسے عام رہنے دیا جائے تاکہ وہ تمام انواع خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی پستی اور انحطاط کا ذکر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پس پست ڈال دیا دین کی سربلندی کے کام کو ترک کردیا ، جہاد سے منہ موڑ گئے اور سحرجادو ٹونے ٹونکے جیسے سفلی اعمال کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا انہوں نے ان برائیوں خاص طور پر سحر کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کیا جو کہ ان کی ذلت کا انتہائی درجہ تھا ۔
(بنی اسرائیل کی اخلاقی بستی)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اخلاقی پستی کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کو ذہنی تکلیف پہنچاتے تھے ، یہودیوں نے اپنی اس ذلیل حرکت کا ارتکاب نہ صرف…
Read the full tafseer →مَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ 0 ۭ وَاللہُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 105
ودد
الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21]
( و د د ) الود ۔
کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ترکیب : لو کلمہ شرط انہم ان اور جس میں کہ اس نے عمل کیا مصدر ہے موضع رفع میں بسبب فعلِ محذوف کے۔ کس لیے کہ لو کے بعد فعل ہوتا ہے تقدیرہ لو وقع۔ منھم انہم آمنوا سب جملہ شرط لمثوبۃ مبتداء موصوف من عند اللہ صفت خبر جملہ جوابِ لو راعنا امر ہے لیکن موضع نصب میں ہے کس لیے کہ یہ مفعول ہے لاتقولوا کا یود فعل الذین الخ ولا المشرکین موضع جر میں ہے کس لیے کہ معطوف ہے لفظ اہل پر ان ینزل جملہ مفعول یودمن خیر میں من زائدہ ہے من ربکم میں من ابتدائیہ ہے ماننسخ ماشرطیہ جازمہ مگر محلاً منصوب ہے۔ نات بخیر الخ جملہ جواب شرط ننسہا معطوف ہے نسخ پر لہ ملک السمٰوات مبتداء و خبر جملہ خبر ہے ان کی من ولی زائدہ ہے اور…
Read the full tafseer →مَایََوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط وَاللّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوْ الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔
(نہیں چاہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور نہ مشرکین کہ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے کوئی رحمت نازل ہو اور اللہ خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے اللہ بڑے فضل والا ہے) (البقرۃ : 105)
معاندین کے باطن پر روشنی
اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ سوال صرف چند الفاظ کے استعمال کا نہیں جو یہود اپنے خبث باطن کے اظہار کے لیے کرتے ہیں بلکہ اصل مسئلہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کی ساری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی مسلمانوں کو ملنے والی بھلائی کو پسند نہیں کرتے اس کے لیے وہ ہر جرم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی شان میں گستاخیاں بھی کرتے رہتے ہیں۔
قرآن مجید مسلمانوں کو باربار باور کرواتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکوں کو اپنا خیر خواہ اور دوست نہ سمجھو کیونکہ ان کی سر توڑ کوشش اور دلی خواہش ہے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی حاصل نہ ہوسکے۔ اسی منفی سوچ کے پیش نظر وہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ جہاں تک ہوسکے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اہل کتاب مذہب کے دعوے دار ہونے کے پیش نظر مسلمانوں…
Read the full tafseer →105: مَایَوَدُّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ۔ (اہل کتاب میں سے کافر اور مشرک یہ نہیں چاہتے کہ اتاری جائے تم پر بھلائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے)
قراءت : یُنَزَّلَ کو ابو عمرو اور مکی نے یُنْزَلَ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
اقسام من :
مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ : (کوئی بھلائی تمہارے رب کی طرف سے)
نمبر 1: پہلا مِنْ بیانیہ ہے۔
نمبر 2: اور دوسرا زائدہ ہے جو خیر میں استغراق کا معنی پیدا کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ یعنی کسی قسم کی کوئی بھلائی۔
نمبر 3: تیسرا مِنْ ابتداء غایت کے لیے ہے۔ الخیر سے وحی اور اسی طرح رحمت…
Read the full tafseer →(تفسیر) 105۔: (آیت)” مایود الذین کفروا من اھل الکتاب “ اور یہ اس طرح کہ بیشک جب مسلمان اپنے حلیفون کو جو یہود تھے یہ کہتے کہ حضور ﷺ پر ایمان لاؤ تو جواب دیتے تم جس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہو وہ ہمارے دین سے بہتر نہیں اگر بہتر ہوتا تو ہم ضرور اسے پسند آتے ، ان کی تکذیب کیلئے حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہود قطعا اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر اے میرے نبی کے صحابیو کسی قسم کی خیر نازل ہو (آیت)” ولاالمشرکین “ اور نہ ہی مشرکین کو یہ پسند ہے، مشرکین کے لفظ کا مجرور ہونا من کے زیر ترتیب آجانے کی وجہ سے ہے ۔
(آیت)” ان ینزل علیکم من خیر من ربکم “ یعنی خیر اور نبوت اور (آیت)” من یشاء واللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
(104 ۔ 105):۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان لوگوں کو راعنا کے لفظ کے کہنے سے منع کیا کیونکہ ظاہری معنی تو اس لفظ کے یہ ہیں کہ اے نبی اللہ کے ہماری طرف بھی متوجہ ہو جس وقت صحابہ آنحضرت ﷺ سے دوبارہ کوئی بات پوچھنی چاہتے تھے۔ اس وقت آپ کی توجہ اپنی طرف مصروف کرنے کے لیے یہ لفظ کہا کرتے تھے لیکن یہود نے اس لفظ کو جب مسلمانوں سے سنا تو خود بھی آنحضرت ﷺ سے بات چیت کرتے وقت اس لفظ کو کہنا شروع کردیا مگر یہ لوگ زبان کے دانتوں میں دبا کر عداوت کے سبب سے اس طرح اس لفظ کو بولتے تھے جس کے معنی نبی کی شان کے مخالف تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آئندہ اس لفظ کے بولنے سے روک دیا اور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
مسلمان جب دینی امور سیکھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہوتے تو عرض کرتے (آیت) راعنا۔ یعنی ہمارے حال کی رعایت کیجئے۔ ان کے نزدیک اس لفظ کا صحیح معنی مقصود تھا۔ مگر یہودی اس سے فاسد معنی مراد لیتے تھے، لہٰذا وہ مسلمانوں کے اس لفظ کے استعمال کو غنیمت جانتے ہوئے فاسد معنی کے ارادے سے اس لفظ سے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اس لفظ کے ذریعے سے نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرنے سے روک دیا۔ تاکہ (گستاخی کا) یہ دروازہ بند ہوجائے۔
اس آیت کریمہ میں کسی جائز کام سے روکنے کی دلیل ہے جبکہ یہ جائز کام کسی حرام کام کے لئے وسیلہ ہو، نیز اس میں ادب کا اور ایسے الفاظ کے استعمال کا بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ اور وجوہ نسخ کا بیان
ارشاد باری ہے : ماننسخ من ایۃ او ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا۔ (ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی) کچھ حضرات کا قول ہے کہ نسخ ازالہ کو کہتے ہیں اور کچھ دیگر حضرات نسخ کو ابدال (بدل دینے) کا نام دیتے ہیں۔ ارشاد باری ہے : فینسخ اللہ ما ینقی الشیطان (اللہ تعالیٰ اس چیز کو منسوخ کردیتا ہے جس کا شیطان القا کرتا ہے) یعنی اسے زائل اور باطل کر کے اس کی جگہ آیات محکمات نازل کردیتا ہے۔ ایک قول کے مطابق نسخ نقل کو کہتے ہیں اور سا کی بنیاد یہ قول باری ہے : انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون (تم جو…
Read the full tafseer →293 کفار و مشرکین کی دشمنی اہل ایمان سے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم : سو کفار و مشرکین اپنی عداوت و دشمنی کی وجہ سے اہل ایمان کیلیے کسی بھی خیر کے روادار نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ " خَیْر " نکرہ ہے جو کہ عموم کے معنیٰ دیتا ہے۔ پھر اس پر بھی تنوین ہے جو کہ تقلیل کا فائدہ دیتی ہے۔ پھر اس پر بھی " مِن " جارہ داخل ہے جو کہ استغراق کے معنی میں استعمال فرمایا گیا ہے۔ سو ان سب باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے ہم نے اس کا ترجمہ " کوئی بھی بھلائی " سے کیا ہے ۔ والحمد للہ ۔ تو جب اہل کتاب کے کافر اور دوسرے کھلے کفار و مشرکین، تم پر اے مسلمانو ! کسی معمولی قسم کی خیر اور بھلائی کے نزول و حصول کے بھی روادار…
Read the full tafseer →کفار کا تعصب
تشریح : اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ کافر یعنی اللہ اور رسول کو نہ ماننے والے اور مشرکین یعنی خدائے واحد کے سوا کسی دوسرے کی پرستش کرنے والے اور نہ ہی اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی کیونکہ ان کو تو ریت و انجیل آسمانی کتابیں دی گئیں ( اور بھی ہیں مگر یہ زیادہ مشہور اہل کتاب ہیں۔ ) یہ تینوں طبقہ کے لوگ مسلمانوں سے حد درجہ حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں چھوڑ کر مسلمانوں پر نعمتیں اور برکتیں کیوں نازل کرتے ہیں تو رب العزت فرماتا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل کے لئے چن لیتا ہے جیسا کہ پہلے تفصیل سے بیان ہوچکا ہے کہ پچھلی قوموں نے کیا کچھ خرابیاں کیں کہ جس وجہ سے نبوت ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیات 104- 112
اسرارو معارف
فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
ف 2 نسخ کے معنی کسی چیز کو نقل کرنے کے ہیں اور اصطلاح علماء میں ایک حکم شرعی کو دوسرے شرعی سے موقوف کردینے کو نسخ کہا جاتا ہے قرآن میں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت تبدیل کردینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (دیکھئے النحل آیت 101) نسخ کی دو صورتیں ہیں صرف نسخ حکم یا مع تلاوت جمہور علماء نے یہاں نسخ کی یہی دو صورتیں بیان کی ہیں۔ اس آیت میں یہود کی تردید ہے جو تورات کو ناقابل نسخ مانتے تھے اس بنا پر انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی کہ وہ توریت کے بعض احکام کو منسوخ ہیں۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہوسکتا قرآن نے ان کے جواب میں فرمایا کسی کو موقوف قرار دے دینا کوئی عییب کی بات نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →(2:105) ما یود۔ ما نافیہ ہے۔ یود۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مودۃ مصدر باب سمع۔ نہیں پسند کرتے۔ نہیں چاہتے ہیں۔
من بیانیہ ہے۔ اور ولا المشرکین میں واؤ عاطفہ اور لا زائدہ ہے ان ینزل میں ان مصدر ہے۔ ینزل۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ تنزیل (تفعیل) مصدر سے بمعنی نازل کیا جانا۔ ان ینزل علیکم من خیر من ربکم یہ جملہ مفعول ہے یود کا۔ ترجمہ یہ ہوگا۔ وہ لوگ جو کافر ہیں کتاب والے ہوں یا مشرک تمہارے رب کی طرف سے تم پر کسی بھلائی کے نازل کئے جانے پر خوش نہیں ہیں۔
واللہ میں واؤ حالیہ ہے۔
یختص۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ اختصاص (افتعال) مصدر سے۔ وہ خاص کرتا ہے۔ وہ مخصوص کرتا ہے۔ ترجمہ : حالانکہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
لغات القرآن : آیت نمبر 104 تا 107
لا تقولوا (تم نہ کہو) ۔ انظرنا (ہماری طرف دیکھیے) ۔ یختص (خاص کرتا ہے) ۔ ذو الفضل (فضل و کرم والا) ۔ ما ننسخ (ہم منسوخ نہیں کرتے) ۔ ننس (ہم بھلا دیتے ہیں) ۔ نات (ہم لے کر آتے ہیں) ۔ الم تعلم (کیا تو نہیں جانتا ) ۔
تشریح : آیت نمبر 104 تا 107
“ راعنا ” کے معنی ہیں۔ “ ہماری رعایت کیجئے ” یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو یا بات تو سمجھ میں آرہی ہو مگر سننے والا اس کی مزید وضاحت چاہتا ہو۔ لیکن اگر اسی لفظ کو ذرا زبان دبا کر “ راعینا ” کہا جائے تو پھر اس کے معنی ہوتے ہیں “ ہم میں سے بیوقوف ” “ ہمارا چرواہا ” وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
شان نزول : یہود جب مجلس مقدس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ میں حاضر ہوتے تو شرارت سے آپ سے راعنا کہتے تھے ۔ جس طرح ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں :” ذرا ادھر متوجہ ہوئیے یا ادھر خیال فرمائیے “ اس کلمہ میں اپنے نزدیک وہ یہ مراد رکھتے تھے کہ ہم آنحضرت ﷺ کو (معاذاللہ) احمق اور گستاخ کہ آتے ہیں ۔ حضرت سعد بن معاذؓ یہود کی اصلاح سے واقف تھے ۔ ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا ” اے دشمنان خدا ! تم پر اللہ کی لعنت اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا تو اس کی گردن مار دوں گا “۔ آپ رنجیدہ ہو کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں راعنا کہنے کی ممانعت فرمائی گئی اور اس معنی کا دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
[72] یہودی از راہ شرارت رسول اللہ ﷺ کے حضور میں آ کر '' راعنا '' سے آپ کو مخاطب کرتے جس کے معنی عبرانی زبان میں برے کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے اور عربی میں اس کے معنی ہیں کہ ہماری رعایت کیجئے۔ مسلمان اس شرارت سے بیخبر خود بھی یہ لفظ بولنے لگتے۔ اس لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرو اور اس کے بجائے '' انظرنا '' کہا کرو جس کے معنی ہیں ہماری طرف توجہ فرمایئے۔
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیات میں کفار واہل کتاب کی ذہنیت بتائی ہے کہ وہ کسی طرح بھی مسلمانوں کو اچھی حالت میں نہیں دیکھ سکتے ، کفر و ایمان کی یہ آویزش آج بھی موجود ہے ، مسلمان کی ہر بات کفر کے سینہ تنگ میں کھٹکتی ہے ، غیر مسلم ہرگز برداشت نہیں کرسکتے کہ مسلمانوں پر رحمت باری کا نزول ہو اور برکات الہیہ کا مہبط بن جائیں لیکن خدا صاحب فضل عنایات ہے ، اس کی مہربانیاں احاطہ شمار سے باہر ہیں ۔ وہ جسے چاہے جب چاہے نواز دے ۔
پچھلی کتابوں کا نعم البدل :
جیسے عالم انسانیت میں ترقی ہوتی گئی ، صحائف آسمانی بدلتے رہے بلکہ یوں کہئے کہ کتب الہیہ نے آہستہ آہستہ کائنات انسانی میں رفعت وتقدم پیدا کیا اور ہر صحیفہ آسمانی میں…
Read the full tafseer →ف 1 کافروں کو یہ بات ذرا بھی نہیں بھائی خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکوں میں سے ہوں اور وہ بالکل اس امر کو پسند نہیں کرتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی بھالئیا ور بہتری تم پر نازل کی جائے حالانکہ یہ چیز ان کی خواہش پر موقوف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عنایت سے جس کو چاہتا ہے مختص کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا صاحب اور مالک ہے۔ (تیسیر)
یعنی اہل کتاب کو اصالتاً اور مشرکوں کو تبعاً یہ امر ناگوار ہے کہ تم کو نبوت یا وحی یا اور کسی قسم کی نصرت و فتح وغیرہ حاصل ہو۔ یہود کو تو اہل کتاب ہونے کی وجہ سے حسد اور جلن تھی اور چونکہ مشرک صاحب کتاب نہیں تھے لیکن ان کو بھی…
Read the full tafseer →ف 4۔ بعض یہود بعض مسلمانوں سے کہنے لگے کہ بخدا ہم دل سے تمہارے خیرخواہ ہیں مگر تمہارا دین ہمارے دین سے اچھاثابت نہیں ہوا حق تعالیٰ اس دعوے خیرخواہی کی تکذیب اس آیت میں فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اسلام دشمنی میں یہود و نصاریٰ اور مشرک سب ہم خیال ہیں :
200: یہود و نصاریٰ اور مشرکین کبھی اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنے مکالمہ و مخاطبت کے لئے چن لے اور اس طرح وہ ترقی کے اعلیٰ مراتب پر پہنچ جائیں بلکہ ان کی انتہائی خواہش یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو مسلمان کہلانے والوں کو دنیوی ترقی سے روک دیں۔ انہیں سراٹھانے کا موقع ہی نہ ملے اور دائمی طور پر یہ لوگ ہمارے غلام رہیں۔ حالانکہ شریعت کے نازل کرنے میں کبھی اس امر کا خیلا نہیں کیا جاتا کہ ایک قوم جو حد درجہ کی نالائق ہو اور کتاب الٰہی سے دوری اختیار کرچکی ہو فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی ہو۔ اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کو…
Read the full tafseer →The previous verse told us how the Jews behaved towards the Holy Prophet ﷺ ; the present verse speaks of their behaviour towards Muslims in general. Some of the Jews used to assure the Muslims of their sincerity towards them, and to pretend that they would very much have liked the Muslims to. have received from Allah religious doctrines and commandments superior to what they themselves had received, so that they too could accept them, but unfortunately Islam did not seem to be a better religion. The Holy Qur'an refutes their claim to be the well-wishers of the Muslims, and declares that the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
107. This and the following verses inform the followers of the Prophet (peace be on him) of the machinations of the Jews against Islam and the Muslims, and dispel any doubts and misgivings they tried to create in their minds. Special attention is paid to the points raised during controversial discussions between Muslims and Jews. It is useful to note here that when the Prophet (peace be on him) arrived in Madina and the message of Islam began to spread the Jews tried to engage Muslims in controversial religious discussions. They raised all kinds of involved and suspicion-provoking problems so…
Read the full tafseer →