Al-Baqara 2:104

Al-Baqara · from ayah 104

2:104

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ؕ— وَلِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَاسۡمَعُوۡا ‌ؕ وَلِلۡڪٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ

اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, say not [to Allah 's Messenger], "Ra'ina" but say, "Unthurna" and listen. And for the disbelievers is a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 13 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:104

اے لوگو جو ایمان لائے ہو: رَاعِناَ نہ کہا کرو، بلکہ اُنظرنَا کہو اور توجہ سے بات کو سنو، یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو)“راعنا”نہ کہا کرو، بلکہ“انظرنا”کہو یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ایمان والو ! (رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہوکر) راعنا نہ کہا کرو، اور انظرنا کہہ دیا کرو۔ اور سنا کرو۔ اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے) رَاعِنَا مت کہا کرو بلکہ (ادب سے) اُنْظُرْنَا (ہماری طرف نظرِ کرم فرمائیے) کہا کرو اور (ان کا ارشاد) بغور سنتے رہا کرو، اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم رَاعِنَا (ہماری رعایت کر) مت کہو اور اُنْظُرْنَا (ہماری طرف دیکھ) کہو اور سنو۔ اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! رَاعِنَا نہ کہا کرو بلکہ (اس کے بجائے) اُنْظُرْنَا کہہ لیا کرو۔ اور (بات کو پہلے ہی) توجہ سے سنا کرو۔ اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو تم ”رَاعِنَا“ نہ کہا کرو ”انْظُرْنَا“ کہا کرو اور توجہ سے سنا کرو۔ کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم (اپنے پیغمبر کو خطاب کرتے وقت) " راعنا " مت کہو بلکہ (اس کی بجائے) " انظرنا " کہا کرو، اور (یوں تم غور سے) سنا کرو، اور کافروں کیلئے ایک بڑا ہی دردناک (اور ہولناک) عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو ”راعنا“ مت کہا کرو۔ اور ”انظرنا“ کہا کرو اور سنتے رہا کرو۔ اور کافروں کے لئے عذاب دردناک ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے ایمان والو تم راعِنَا مت کہا کرو بلکہ اُنْظُرْنَا کہا کرو اور توجہّ سے بات کو سنو ! اور ان کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو !”رَاعِنَا“ نہ کہا کرو بلکہ ”اُنْظُرْنَا“ کہو اور توجہ سے بات کو سنو، یہ کافر تو درد ناک عذاب کے مستحق ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

O Believers, do not say. "Ra 'ina" but say, "Unzurna " and listen a to what is said; for the disbelievers deserve a painful punishment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, do not say Ra'ina, but say UnZurna, and listen, as there is a grievous punishment for the unbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, do not say Raina, but say UnZurna, and listen, as there is a grievous punishment for the unbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Say not (to the Messenger) Ra`ina but say Unzurna (make us understand) and hear. And for the disbelievers there is a painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe, say not (unto the Prophet): "Listen to us" but say "Look upon us," and be ye listeners. For disbelievers is a painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, say not [to Allah 's Messenger], "Ra'ina" but say, "Unthurna" and listen. And for the disbelievers is a painful punishment.

— Saheeh International

Believers, do not address the Prophet as ra'ina (whereby the Jews, in their own accent, meant: Would that you would never hear, but call him unzurna) (meaning: Please speak to us slowly so that we understand), and then listen. The unbelievers will face a painful torment.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! do not say Raina and say Unzurna and listen, and for the unbelievers there is a painful chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

O O Ye who believe! say not: Ra'ina, but say: Unzurna, and hearken; and unto the infidel shall be a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye of Faith! Say not (to the Messenger) words of ambiguous import, but words of respect; and hearken (to him): To those without Faith is a grievous punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:104

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 104–105

مسلمانو کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو ! اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنئے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت (من الذین ھادوا) یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لئے راعنا کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنئے اور ہماری طرف توجہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 104–105

سورة الْبَقَرَة 107 اس رکُوع اور اس کے بعد والے رکوع میں نبی ﷺ کی پیروی اختیار کرنے والوں کو ان شرارتوں سے خبردار کیا گیا ہے جو اسلام اور اسلامی جماعت کے خلاف یہودیوں کی طرف سے کی جارہی تھیں، ان شبہات کے جوابات دیے گئے ہیں جو یہ لوگ مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اور ان خاص خاص نکات پر کلام کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی گفتگو میں زیر بحث آیا کرتے تھے۔ اس موقع پر یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جب نبی ﷺ مدینے پہنچے اور ان اطراف میں اسلام کی دعوت پھیلنی شروع ہوئی، تو یہودی جگہ جگہ مسلمانوں کو مذہبی بحثوں میں الجھانے کی کوشش کرتے تھے، اپنی موشگافیوں اور تشکیکات اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے حضور میں آکر لفظ راعنا سے آپ کو خطاب کرتے جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں ایک بدعا کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے تھے مگر عربی زبان میں اسکے معنی ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے کے ہیں اس لئے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکتے تھے اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعضے مسلمان بھی حضور کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے اس سے ان شریروں کو گنجائش ملی آپس میں بیٹھ کر ہنستے تھے کہ اب تک تو ہم ان کو خفیہ ہی برا کہتے تھے اب علانیہ کہنے کی تدبیر ایسی ہاتھ آگئی کہ مسلمان بھی اس میں شریک ہوگئے حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کو مسلمانوں کو حکم دیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون : آیات 104 تا 121: آگے مسلمانوں کو یہود کی بعض ان شرارتوں سے آگاہ کیا گیا جو وہ اس غرض سے کر رہے تھے کہ بنی اسماعیل کو عموما اور مسلمانوں کو خصوصا قرا ان اور پیغمبر ﷺ پر ایمان لانے کی سعادت سے محروم کریں۔ اس ضمن میں یہود کے بعض ایسے اعترضات نقل کر کے ان کے جواب بھی دیے ہیں جو وہ مسلمانوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا کرنے کے لیے اٹھاتے تھے اور وہ ہدایات بھی دی ہیں جن پر عمل کر کے مسلمان ان فتنوں کے مقابل میں راہ حق پر استوار رہ سکتے تھے۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 104–105

14۔ 1 رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض وعناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہوجاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ جیسے وہ السلام علیکم کی بجائے السام علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم ـ ' انْظُرْنَا ' کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو، ادب و احترام کے پیش نظر کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 104–105

70: مدینہ میں رہنے والے بعض یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ وہ جب حضور اکرم ﷺ سے ملتے تو آپ سے کہتے تھے“ راعنا ”عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری رعایت فرمائیے، اس لحاظ سے یہ لفظ ٹھیک تھا اور اس میں گستاخی کے کوئی معنی نہیں تھے لیکن عبرانی زبان میں جو یہودیوں کی مذہبی زبان تھی اس سے ملتا جلتا ایک لفظ بد دعا اور گالی کے طور پر استعمال ہوتا تھا نیز اگر اسی لفظ میں عین کو ذرا کھینچ کر بولا جائے تو وہ راعینا بن جاتا ہے، جس کے معنی ہیں“ ہمارے چرواہے ”غرض یہودیوں کی اصل نیت لفظ کو خراب معنی میں استعمال کرنے کی تھی ؛ لیکن چونکہ عربی میں بظاہر اس کا مطلب ٹھیک تھا اس لئے بعض مخلص مسلمانوں نے بھی یہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس 6 تشریح آیات (104 تا 123) اس سبق کے شروع میں روئے سخن ” ان لوگوں کی طرف ہے جو ایمان لاچکے ہیں۔ “ مقصد یہ کہ دوسرے لوگوں سے ان مابہ الامتیاز کی صفت ایمان ہے ۔ یہی صفت ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو وہ اپنے نبی سے مربوط ہیں اور دوسری طرف اپنے پروردگار سے منسلک ہیں ۔ اور یہی صفت ہے کہ جس کے ساتھ اگر انہیں پکاراجائے تو اس کی وجہ سے ان کے دل متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ اور وہ ہر پکار پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس صفت سے انہیں پکار کر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ سے مخاطب ہوتے وقت ” راعنا “ کا لفظ استعمال نہ کریں۔ بلکہ ” انظرنا “ (ہماری طرف رعایت کیجئے) کے بھی وہی معنی ہیں ۔ صفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہودی آکر آپ کی مجلس میں بیٹھتے اور حضرت کی باتیں سنتے۔ بعض بات جو اچھی طرح نہ سنتے اس کو مکرر تحقیق کرنا چاہتے تو کہتے راعنا یعنی ہماری طرف متوجہ ہو اور ہماری رعایت کرو۔ یہ کلمہ ان سے سن کر کبھی مسلمان بھی کہہ دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ یہ لفظ نہ کہو اگر کہنا ہو تو انظرنا کہو اس کے معنی بھی یہی ہیں اور ابتدا ہی سے متوجہ ہو کر سنتے رہو تو مکرر (پوچھنا ہی نہ پڑے۔ یہود اس لفظ کو بدنیتی اور فریب سے کہتے تھے اس لفظ کو زبان دبا کر کہتے تو راعینا ہوجاتا (یعنی ہمارا چرواہا اور یہود کی زبان میں راعنا احمق کو بھی کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 104 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط قبل ازیں منافقین بنی اسرائیل کا ذکر ہوا تھا ‘ جن کا قول تھا : سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ اب یہاں ان منافقین کا طرز عمل بیان ہو رہا ہے جو مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے اور یہود کے زیر اثر تھے۔ یہودی اور ان کے زیر اثر منافقین جب رسول اللہ ﷺ کی محفل میں بیٹھتے تھے تو اگر آپ ﷺ ‘ کی کوئی بات انہیں سنائی نہ دیتی یا سمجھ میں نہ آتی تو وہ راعِنَا کہتے تھے ‘ جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضور ﷺ ! ذرا ہماری رعایت کیجیے ‘ بات کو دوبارہ دہرا دیجیے ‘ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اہل ایمان بھی یہ لفظ استعمال کرنے لگے تھے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

123 یہود کی شرارتیں راعِیْنَا کہنا :۔ یہود جب کبھی آپ کی مجلس میں بیٹھتے اور آپ کے ارشادات سنتے اور کسی بات کو دوبارہ سننے یا سمجھنے کی ضرورت پیش آتی تو ازراہ عناد (رَاعِنَا) کہنے کی بجائے زبان کو مروڑ دے کر راعِِیْنَا کہا کرتے۔ (رَاعِنَا) کا مطلب ہے ہماری طرف توجہ کیجئے۔ یعنی بات ذرا دہرا دیجئے اور راعِیْنَا کا معنی ہے ہمارے چرواہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود کی شرارت پر مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ تم (رَاعِنَا) کہنا چھوڑ دو بلکہ اس کے بجائے اُنْظُرْنَا کہہ لیا کرو (اس کا معنی بھی وہی ہے جو راعنا کا ہے) اگر بات کو پہلے ہی توجہ سے سن لیا کرو کہ انظرنا بھی کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے تو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

372 ۔ (مجمع میں رسول اللہ کو مخاطب ومتوجہ کرتے وقت) رسول اللہ ﷺ جب مجمع میں قرآن مجید سناتے یاتبلیغ کرتے ہوتے اور لوگ کوئی بات سن نہ پاتے تو قدرۃ دوبارہ آپ کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتے۔ یہود نے ایسے موقع کے لیے ازراہ شرارت لفظ (آیت) ” راعنا “ استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اس کے اصل معنی تو صرف اس قدر ہیں کہ ” ہماری رعایت کیجئے “ لیکن (آیت) ” راعنا “ کے ” ع “ کو ذرا کھینچ کر پڑھنے سے اس کے معنی میں ایک گستاخانہ مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ مسلمان اس شرارت سے غافل، بیخبر ، خالی الذہن، خود بھی بعض اوقات یہ لفظ بولنے لگتے۔ یہاں انہیں کو یہ ممانعت ہورہی ہے۔ (آیت) ” انظرنا “ کے معنی ہیں ” ہمارے اوپر نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 104–105

آیات نمبر 104 تا 108 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم نبی کو راعنا نہ کہا کرو (رَاعِنَا) مَرَاعَاۃٌ سے امر کا صیغہ ہے (صحابہ ؓ آپ ﷺ سے یہ لفظ کہا کرتے تھے، اور یہ (لفظ) یہود کی زبان میں گالی ہے، رَعونَۃ سے مشتق ہے، یہود اس سے خوش ہوتے تھے، اور خود بھی اس کلمے سے (آپ ﷺ کو) خطاب کرتے تھے، مومنوں کو اس (کلمے کے کہنے) سے منع کردیا گیا، اور اس کے بجائے انظرنا کہا کرو، یعنی ہمارا خیال رکھئے، اور توجہ سے سنا کرو جس بات کا حکم دیا جائے عمل کی نیت سے اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے، تکلیف دہ اور وہ آگ ہے، یہ لوگ جنہوں نے حسد کی وجہ سے (دعوت حق قبول کرنے سے) انکار کردیا، اہل کتاب ہوں یا مشرکین عرب اس بات کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا ( اے ایمان والو ! تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو۔ یعنی ہماری طرف نظر شفقت فرمائیے اور ہماری گذارش سماعت فرمائیے یا یہ معنی کہ ہمارا نتظار فرمائیے اور ذرا توقف فرمائیے تاکہ ہم آپ کا کلام سمجھ لیں۔ وَاسْمَعُوْا ( اور سنا کرو) یا تو یہ معنی کہ جو تم کو حکم کیا جاتا ہے اس کو سنو اور اطاعت کرو اور یا یہ مطلب کہ مجمع ہیں حضور ﷺ کا کلام اچھی طرح سن لیا کرو تاکہ دوسری مرتبہ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ وَلِلْكٰفِرِيْنَ ( اور کافروں کے لیے) کافرین سے مراد یہود ہیں جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو برے کلمہ سے یاد کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(104) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو ! رسول اللہ ﷺ سے (راعنا) یعنی اے اللہ تعالیٰ کے نبی اپنی گفتگو سنائیے، یہ نہ کہا کرو بلکہ یہ کہا کرو کہ ہماری جانب توجہ فرمائیے اور اے اللہ تعالیٰ کے نبی ہماری گفتگو سنیے اور لغت یہود میں اس کا یہ مطلب ہوتا تھا کہ اپنی بات پھر سنائیے تاکہ میں سنوں (اور یہودی بدنیتی سے ایسا کہتے تھے) اس وجہ سے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے روکا گیا اور فرمایا کہ جس چیز کا حکم دیا جارہا ہے اسے پہلے ہی غور سے سن لو اور اس کی اطاعت کرو اور ان یہودیوں کے لیے تو ایسا دردناک عذاب ہے کہ اس کی سختی ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔ شان نزول : (آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(رَاعِنَا) ”رَاعِ“ یہ باب مفاعلہ (مراعاۃ) سے فعل امر ہے، یعنی ہماری رعایت کیجیے۔ مسلمان رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے، یہودی بھی اس لفظ کے ساتھ آپ کو مخاطب کرتے، مگر زبان کو پیچ دے کر لفظ بدل دیتے، جیسا کہ سورة نساء (46) میں ہے، جس سے وہ لفظ گالی بن جاتا۔ مفسرین نے اس کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ ”رَاعِنَا“ کی بجائے ”رَاعِیْنَا“ کہتے، جس کا معنی ”ہمارا چرواہا“ ہے۔ دوسری یہ کہ وہ اسے رعونت سے اسم فاعل قرار دے کر ”رَاعِنًا“ کہتے جس کا معنی احمق ہے اور منادیٰ غیر معین کو خطاب کی وجہ سے منصوب ہے، پھر آپس میں جا کر خوش ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 104 اس میں پانچ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا یہود کی جہالتوں میں سے ایک اور چیز کو ذکر فرمایا۔ اور مقصور مسلمانوں کو اس کی مثل سے روکنا ہے۔ راعنا کی حقیقت لغت میں أرعنا ولنرعک۔ کیونکہ باب مفاعلہ دو آدمیوں سے ہوتا ہے۔ پس یہ رعاک اللہ سے مشتق ہوگا یعنی تو ہماری حفاظت کر اور ہم تمہاری حفاظت کریں گے وارقبنا و لنرقبک۔ آپ ہمارا خیال کریں ہم تمہارا خیال کریں گے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ارعنا سمعک سے مشتق ہو یعنی آپ ہماری کلام کے لئے اپنے سننے کو فارغ کریں۔ اس خطاب میں جفاء ہے۔ پس مومنین کو حکم دیا کہ الفاظ میں اچھے الفاظ استعمال کریں اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن المبارک نے الزہد میں اور ابو عبید نے فضائل میں، سعید بن منصور نے سنن میں، احمد نے الزہد میں، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے الحلیہ میں اور بیہقی نے الشعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور آپ نے اس کو فرمایا میرے ساتھ عہد کر فرمایا جب تو اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “ تو غور سے سن کیونکہ یا تو وہ خیر ہوگا جس کا حکم ہو رہا ہے یا وہ شر ہوگا جس سے روکا جا رہا ہے۔ (2) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے الحلیہ میں خیثمہ ؓ سے روایت کیا کہ جو قرآن میں تم لوگ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ] [ لَا تَقُوْلُوْا : تم لوگ مت کہو ] [ رَاعِنَا : راعنا ] [ وَقُوْلُوا : اور کہو ] [ انْظُرْنَا : آپ مہلت دیں ہم کو ] [ وَاسْمَعُوْا ۭ : اور تم لوگ سنو ] [ وَلِلْكٰفِرِيْنَ : اور انکار کرنے والوں کے لیے ] [ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رَاعِنَا کہنے کی ممانعت اور یہود کی شرارت یہودیوں کی بہت سی شرارتوں میں سے ایک یہ بات تھی کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو لفظ راعِنَا کہتے تھے۔ یہ عربی زبان کا لفظ بھی ہے اور عبرانی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری رعایت کیجیے۔ اور عبرانی زبان میں یہ لفظ بد دعا کے معنی میں ہے۔ یہ لوگ شرارت سے اور بد دعا دینے کی نیت سے اس لفظ کو استعمال کرتے تھے تاکہ حضور اقدس ﷺ اور دوسرے سننے والے یہ سمجھیں کہ یہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری رعایت فرمائیے اور ہماری طرف توجہ فرمائیے۔ اور اندر سے دل میں برے معنی کی نیت کرتے تھے۔ سورة نساء میں فرمایا (وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

شناعت بست ودوم (22) متضمن بتلقین احباب بآداب خطاب قال تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا۔۔۔ الی۔۔۔ وللکفرین عذاب الیم (ربط): گزشتہ آیات میں یہود کے اتباع سحر کا ذکر تھا آئندہ ارشاد فرماتے ہیں کہ سحر کا اتباع یہودیوں کی طبیعتوں میں اس درجہ راسخ اور پختہ ہوگیا ہے کہ ان کی گفتگو اور مخاطبت بھی سحر کے اثر سے خالی نہیں۔ جس طرح سحر ایک ملمع سازی اور حقیقت کی پردہ پوشی ہے اسی طرح ان کا کلام بھی سحر لسانی ہوتا ہے صورت اس کی تعظیم و تکریم ہے اور حقیقت اس کی اہانت اور تحقیر ہے حقارت پر عظمت کی ملمع کاری کر کے بات کرتے ہیں۔ چناچہ جب آنحضرت ﷺ سے ہم کلام ہوتے تو راعنا سے خطاب کرتے جس کے ظاہری معنی نہایت عمدہ ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

201 اللہ نے مسلمانوں کو راعنا کے لفظ سے منع فرمادیا کیونکہ یہ لفظ موہم شرک تھا اور اس کے تحت یہودیوں کی ناپاک نیتیں تھیں اور اس کی جگہ انظرنا کا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا۔ وَاسْمَعُوْا۔ میرے امرونہی کو غور سے سنو اور اس پر عمل کرو۔ ای ما امرتکم بہ ونھیتکم عنہ بجد (روح ص 349 ھ 1) اس سے ایسے الفاظ کہنے اور ایسی رسموں کی بنا رکھنے ممانعت ثابت ہوئی جو مبدا شرک ہوں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو قُلْ لَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ ۔ الایۃ کا علان کرنیکا حکم دیا تاکہ نصاری کی طرح مسلمان حضور ﷺ کو عالم الغیب اور مالک ومختار نہ سمجھنے لگیں۔ اسی طرح حضرت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 104–107

ربط آیات : گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی پستی اور انحطاط کا ذکر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پس پست ڈال دیا دین کی سربلندی کے کام کو ترک کردیا ، جہاد سے منہ موڑ گئے اور سحرجادو ٹونے ٹونکے جیسے سفلی اعمال کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا انہوں نے ان برائیوں خاص طور پر سحر کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کیا جو کہ ان کی ذلت کا انتہائی درجہ تھا ۔ (بنی اسرائیل کی اخلاقی بستی) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اخلاقی پستی کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کو ذہنی تکلیف پہنچاتے تھے ، یہودیوں نے اپنی اس ذلیل حرکت کا ارتکاب نہ صرف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 13 يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا۝ 0 ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ۝ 104 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 103–107

ترکیب : لو کلمہ شرط انہم ان اور جس میں کہ اس نے عمل کیا مصدر ہے موضع رفع میں بسبب فعلِ محذوف کے۔ کس لیے کہ لو کے بعد فعل ہوتا ہے تقدیرہ لو وقع۔ منھم انہم آمنوا سب جملہ شرط لمثوبۃ مبتداء موصوف من عند اللہ صفت خبر جملہ جوابِ لو راعنا امر ہے لیکن موضع نصب میں ہے کس لیے کہ یہ مفعول ہے لاتقولوا کا یود فعل الذین الخ ولا المشرکین موضع جر میں ہے کس لیے کہ معطوف ہے لفظ اہل پر ان ینزل جملہ مفعول یودمن خیر میں من زائدہ ہے من ربکم میں من ابتدائیہ ہے ماننسخ ماشرطیہ جازمہ مگر محلاً منصوب ہے۔ نات بخیر الخ جملہ جواب شرط ننسہا معطوف ہے نسخ پر لہ ملک السمٰوات مبتداء و خبر جملہ خبر ہے ان کی من ولی زائدہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْارَاعِنَا وَقُوْلُوْا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْاط وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (البقرۃ : 104) (اے وہ لوگو ! جو ایمان رکھتے ہو، تم ” رَاعِنَا “ نہ کہو ” اُنْظُرْنَا “ کہا کرو اور غور سے سنا کرو اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے) یہود کے خبث باطن کا اظہار یہود کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ رویہ زیر بحث ہے۔ اس سلسلے میں ان کا طرز عمل، ان کی دلچسپیاں، ان کی ترجیحات، ان کے تعصبات، حامل دعوت امت ہونے کے باوجود ان کی اللہ اور اس کے دین کے مقابلے میں جرأت و جسارت اور پھر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف ان کی شوخیاں اور سازشیں ایک ایک چیز کو مختلف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : یہودی جبریل امین، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور پہلے انبیاء کے بدترین گستاخ تھے اور ہیں اسی عادت خبیثہ کی وجہ سے نبی آخر الزماں ﷺ کی گستاخیاں کیا کرتے ہیں جس کی سزا جہنم قرار دی گئی ہے۔ ہر زبان میں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو دوسری زبان سے ملتے جلتے اور ہم آواز ہوتے ہیں۔ عربی کے جو الفاظ عبرانی زبان سے مشابہت اور مماثلت رکھتے ہیں ان میں ایک لفظ ” راعنا “ ہے۔ جس کو ذرا کھینچ کر ادا کیا جائے تو اس کے معانی بنتے ہیں احمق ‘ اجڈ اور چرواہا۔ مسلمانوں کی عزت، اسلام کی عظمت و رفعت اور نبی محترم ﷺ کے احترام و اکرام میں روز افزوں اضافہ دیکھ کر یہودی اپنے دلوں میں کڑھتے اور جلتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

104 : یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا : (اے ایمان والو ! تم راعنا نہ کہو بلکہ انظر نا کہو) جب مسلمانوں کو آپ کوئی بات فرماتے تو مسلمان کہتے راعنا یا رسول اللہ۔ یعنی ہمارا خیال وانتظار فرمائیں۔ یہاں تک کہ ہم اس کو سمجھ کر یاد کرلیں۔ راعنا کی وجہ ممانعت : اور ادھر یہود کے ہاں عبرانی یا سریانی زبان میں، راعینا “” کا کلمہ تھا جس سے وہ ایک دوسرے کو گالم گلوچ کرتے تھے۔ جب انہوں نے مسلمانوں سے راعنا کا لفظ سنا تو انہوں نے فرصت کو غنیمت جانا اور رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے یہی کلمہ کہنا شروع کردیا۔ اور مراد اس سے وہ اپنا گالی والا کلمہ لینے لگے۔ پس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

104۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا “ یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان بھی راعنا یا رسول اللہ کہتے تھے اور یہ ” راعنا مراعاۃ “ سے مشتق مراد لیتے تھے جس کے معنی تھے کہ اپنی سمع کو ہم سب کے لیے فارغ کیجئے کہا جاتا ہے ” ارعی اللہ الشئی وارعاہ “ یعنی اس کی طرف کان لگایا (توجہ کی) اور غور سے سنا اور یہ لفظ یعنی ” راعنا “ لغت یہود میں بری گالی تھی ، کہا گیا ہے ان کے نزدیک اس کا معنی سن خدا کرے نہ سنوایا جائے اور کہا گیا ہے کہ یہ لفظ ” راعنا رعونۃ “ سے تھا جب کسی انسان کو بےوقوفی کی طرف منسوب کرنا مقصود ہوتا تو راعنا کہتے بمعنی اے احمق ! جب مسلمانوں کو یہود نے راعنا کہتے سنا تو آپس میں کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 104–105

(104 ۔ 105):۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان لوگوں کو راعنا کے لفظ کے کہنے سے منع کیا کیونکہ ظاہری معنی تو اس لفظ کے یہ ہیں کہ اے نبی اللہ کے ہماری طرف بھی متوجہ ہو جس وقت صحابہ آنحضرت ﷺ سے دوبارہ کوئی بات پوچھنی چاہتے تھے۔ اس وقت آپ کی توجہ اپنی طرف مصروف کرنے کے لیے یہ لفظ کہا کرتے تھے لیکن یہود نے اس لفظ کو جب مسلمانوں سے سنا تو خود بھی آنحضرت ﷺ سے بات چیت کرتے وقت اس لفظ کو کہنا شروع کردیا مگر یہ لوگ زبان کے دانتوں میں دبا کر عداوت کے سبب سے اس طرح اس لفظ کو بولتے تھے جس کے معنی نبی کی شان کے مخالف تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آئندہ اس لفظ کے بولنے سے روک دیا اور فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 104–105

مسلمان جب دینی امور سیکھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہوتے تو عرض کرتے (آیت) راعنا۔ یعنی ہمارے حال کی رعایت کیجئے۔ ان کے نزدیک اس لفظ کا صحیح معنی مقصود تھا۔ مگر یہودی اس سے فاسد معنی مراد لیتے تھے، لہٰذا وہ مسلمانوں کے اس لفظ کے استعمال کو غنیمت جانتے ہوئے فاسد معنی کے ارادے سے اس لفظ سے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اس لفظ کے ذریعے سے نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرنے سے روک دیا۔ تاکہ (گستاخی کا) یہ دروازہ بند ہوجائے۔ اس آیت کریمہ میں کسی جائز کام سے روکنے کی دلیل ہے جبکہ یہ جائز کام کسی حرام کام کے لئے وسیلہ ہو، نیز اس میں ادب کا اور ایسے الفاظ کے استعمال کا بیان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے : یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا (اے ایمان لانے والو، راعنا نہ کہا کرو) قطرب نے کہا ہے کہ آیت میں مذکورہ کلمہ اہل حجاز کا کلمہ ہے جسے وہ تمسخر کے طور پر کہتے تھے۔ ایک قول کے مطابق یہود یہ کلمہ کہتے تھے جس طرح ایک اور مقام پر قول باری ہے : ویقولون سمعنا وعصینا و اسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین (اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لئے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سمعنا وعصینا اور اسمع غیر مسمع اور راعنا) یہود یہ الفاظ آپس میں گٹھ جوڑ کر کے تمسخر کے طور پر کہتے۔ “(درج بالا الفاظ کا مفہوم سمجھنے کے لئے یہ نوٹ ملاحظہ کیجیے۔ مترجم) جب انہیں یعنی یہود کو خدا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 103–104

289 علم بلا عمل نہ ہونے کے برابر۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حسرت و افسوس کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کاش کہ یہ لوگ جان لیتے "۔ یعنی یہ بات جان لیتے کہ کامیابی اور نجات کا مدارو انحصار صرف ایمان وتقوی پر ہے، جس کے حاصل کرنے کا موقع و مقام یہی دنیاوی زندگی ہے تو یہ لوگ ایسا نہ کرتے۔ پس اس فرصت محدود و مختصر کے ختم ہونے سے پہلے یہ لوگ آخرت کے لیے کوشش اور کمائی کرلیتے۔ سو اگر ان لوگوں کو یہ حقیقت معلوم ہوجاتی تو یہ ایسے لایعنی کاموں میں نہ لگتے اور متاع وقت کو ان میں ضائع کرنے کی بجائے اپنی توجہ ایمان وتقویٰ کی تحصیل پر مرکوز رکھتے، مگر حق اور حقیقت کے علم سے محروم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

الفاظ کا غلط استعمال تشریح : اس رکوع اور اس کے بعد والے رکوع میں مومنین کو یہودیوں کی ان شرارتوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ جو وہ اسلام کے خلاف اکثر و بیشتر کرتے رہتے تھے، کیونکہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ پہنچے تو یہودی اپنے مفسدانہ کام میں تیزی سے مصروف ہوگئے کبھی تو وہ نو مسلموں کو مذہبی بحثوں میں الجھانے کی کوشش کرتے اور کبھی نبی کریم ﷺ کی مجلس میں آکر مکارانہ باتیں کرتے۔ اسی مقصد کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی شرارتوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ ان سے ہوشیار رہو اور ان کی مکاری میں مت آؤ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ ﷺ کی مجلس میں ” رَاعِنَا “ کہنے سے منع فرمایا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 104–112

آیات 104- 112 اسرارو معارف فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 103–104

ف 1 حضرت ابن عباس ؓ فراماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بعض یہود بھی شامل ہوجاتے مسلمان کوئی بات سمجھنا چاہتا تو راعنا کہتا یعنی ہماری رعایت کریں اور ہماری طرف متوجہ ہوں یہود نے اپنے لہجہ میں اس کلمہ کو بطور شتم استعمال کرنا شروع کردیا اور اسے زبان سے دبابر راعنا کے معنی احمق بھی آتے ہیں۔ اس اشتباہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس مشتبہ کلمہ کے استعمال سے منع فر دیا اور اس کی بجائے انظرنا کی تعلیم دی (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:104) راعنا۔ رع ی۔ مادہ سے مشتق ہے مراعاۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے مراعاۃ بمعنی حفاظت کرنا۔ کسی کی طرف کان لگانا۔ مثلاً راعیتہ سمعی۔ میں نے اس کی طرف کان لگایا۔ یا کسی کی بات کی طرف دھیان دیا۔ مثلاً ھو لا یراعی الی قول احد وہ کسی کی بات پر دھیان نہیں دیتا۔ راعنا۔ ہماری طرف کان لگا۔ ہماری طرف متوجہ ہو۔ الرعی۔ اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں۔ خواہ غذا کے ذریعہ سے ہو جو اس کی زندگی کی محافظ ہے یا اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعے سے ہو۔ مثلاً ارعیتہ میں نے اس کے سامنے چارہ ڈالا۔ اور رعیتہ میں نے اس کی نگرانی کی۔ اسی سے رعی چارہ یا گھاس کو کہتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 104–107

لغات القرآن : آیت نمبر 104 تا 107 لا تقولوا (تم نہ کہو) ۔ انظرنا (ہماری طرف دیکھیے) ۔ یختص (خاص کرتا ہے) ۔ ذو الفضل (فضل و کرم والا) ۔ ما ننسخ (ہم منسوخ نہیں کرتے) ۔ ننس (ہم بھلا دیتے ہیں) ۔ نات (ہم لے کر آتے ہیں) ۔ الم تعلم (کیا تو نہیں جانتا ) ۔ تشریح : آیت نمبر 104 تا 107 “ راعنا ” کے معنی ہیں۔ “ ہماری رعایت کیجئے ” یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو یا بات تو سمجھ میں آرہی ہو مگر سننے والا اس کی مزید وضاحت چاہتا ہو۔ لیکن اگر اسی لفظ کو ذرا زبان دبا کر “ راعینا ” کہا جائے تو پھر اس کے معنی ہوتے ہیں “ ہم میں سے بیوقوف ” “ ہمارا چرواہا ” وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–105

شان نزول : یہود جب مجلس مقدس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ میں حاضر ہوتے تو شرارت سے آپ سے راعنا کہتے تھے ۔ جس طرح ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں :” ذرا ادھر متوجہ ہوئیے یا ادھر خیال فرمائیے “ اس کلمہ میں اپنے نزدیک وہ یہ مراد رکھتے تھے کہ ہم آنحضرت ﷺ کو (معاذاللہ) احمق اور گستاخ کہ آتے ہیں ۔ حضرت سعد بن معاذؓ یہود کی اصلاح سے واقف تھے ۔ ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا ” اے دشمنان خدا ! تم پر اللہ کی لعنت اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا تو اس کی گردن مار دوں گا “۔ آپ رنجیدہ ہو کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں راعنا کہنے کی ممانعت فرمائی گئی اور اس معنی کا دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 104–105

[72] یہودی از راہ شرارت رسول اللہ ﷺ کے حضور میں آ کر '' راعنا '' سے آپ کو مخاطب کرتے جس کے معنی عبرانی زبان میں برے کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے اور عربی میں اس کے معنی ہیں کہ ہماری رعایت کیجئے۔ مسلمان اس شرارت سے بیخبر خود بھی یہ لفظ بولنے لگتے۔ اس لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرو اور اس کے بجائے '' انظرنا '' کہا کرو جس کے معنی ہیں ہماری طرف توجہ فرمایئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 103–104

حرمت رسول : (ف 1) مسلمانوں کے نزدیک حب رسول ﷺ وہ گرانمایہ متاع ہے جس سے وہ کسی حالت میں بھی دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ والہانہ شیفتگی اصل ایمان ہے ، صحابہ کرام ؓ اجمعین جب دربار رسالت میں ہوتے اور مختلف مسائل کے سلسلہ میں حضور ﷺ کی توجہ عالی کو اپنی طرف مبذول کرانا ہوتا تو کہتے (آیت) ” راعنا “۔ کہ حضور ﷺ ہمارا بھی خیال رہے لیکن بدباطن اور بدعقیدہ یہودی مسلمانوں کی اس عقیدت کو برداشت نہ کرسکے ، انہوں نے از راہ تمسخر وتحقیر راعنا ، کہنا شروع کردیا ، جس کے معنی ان کے ہاں کم عقل کے ہوتے ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، تم اس موقع پر (آیت) ” انظرنا “ کہا کرو ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ِف 3 اے ایمان لانے والو ! تم پیغمبر کو مخاطب کرتے وقت رعناً نہ کہا کرو بلکہ اگر نبی کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہو تو انظرنا کہا کرو اور یہ بات سن لو اور یاد رکھو اور ان کافروں کے لئے جو نبی کی شان میں گستاخی اور بےادبی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بڑا الم انگیز عذاب ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یہود پیغمبر ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے اور حضرت کلام فرماتے ۔ بعض بات جو نہ سنی ہونی چاہئے کہ پھر تحقیق کریں تو کہتے راعناً یعنی ہماری طرف بھی متوجہ ہو ان سے مسلمان بھی سیکھ کر کسی وقت یہ لفظ کہتے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ یہ لفظ نہ کہو اگر کہنا ہو تو انظرنا کہو اس کے بھی معنی یہی ہیں اور آگے سے سنتے رہو کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ جب آتے تو راعنا سے آپ کو خطاب کرتے جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں برے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے اور عربی میں اس کے معنی بہت اچھے کے ہیں کہ ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے اس لیے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکے اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعض مسلمانوں نے بھی حضور ﷺ کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے اس سے ان شریروں کو اور گنجائش ملی حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کی مسلمانوں کو یہ حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مشتبہ الفاظ کے استعمال کی ممانعت : 199: جس وقت رسول اللہ ﷺ وعظ و تذکیر میں مصروف ہوتے اور مسلمانوں کو آپ کی کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو فطرت انسانی کے مطابق وہ عرض کرتے کہ اس بات کی ذرا مزید وضاحت فرما دیجئے اور ایسے مواقع پر راعنا کا لفظ استعمال کرتے۔ یہ مراعات سے ہے یعنی ہماری رعایت کیجئے۔ اور اس بات کو دوبارہ فرما دیجئے۔ مگر یہودیوں کے نزدیک یہ لفظ سبّ و شتم کے موقع پر بولا جاتا تھا اور اس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ : اسمع لا سمعت ، سن ! اللہ تجھے سننے کا موقع ہی نہ دے۔ بعض کے نزدیک ان کے خیال میں یہ لفظ رعونۃ سے مشتق ہے جس کے معنی احمق اور بیوقوف کے ہیں۔ جن مجالس میں یہود بھی ہوتے وہ اس لفظ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Among other perversities, some of the Jews invented a new mischief. When they presented themselves before the Holy Prophet ﷺ they would address him with the word Ra` ina رَ‌اعِنَا ، which, in Arabic, means "be mindful of us", but is, in Hebrew, a curse. The latter is what they intended, but the Arabs, not knowing Hebrew, could not see the point, and some Muslims too, with the Arabic sense of the word in mind, began to address the Holy Prophet ﷺ in the same manner to the great glee of the Jews who had thus found a way of insulting him openly, and had even tricked the Muslims into joining them.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 104–105

107. This and the following verses inform the followers of the Prophet (peace be on him) of the machinations of the Jews against Islam and the Muslims, and dispel any doubts and misgivings they tried to create in their minds. Special attention is paid to the points raised during controversial discussions between Muslims and Jews. It is useful to note here that when the Prophet (peace be on him) arrived in Madina and the message of Islam began to spread the Jews tried to engage Muslims in controversial religious discussions. They raised all kinds of involved and suspicion-provoking problems so…

Read the full tafseer →