Hud 11:96

Hud · from ayah 96

11:96

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۟ۙوَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍۙ

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did certainly send Moses with Our signs and a clear authority

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 9 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:96

اور موسیٰؑ کو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھلی کھلی سند ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یقیناً ہم نے ہی موسیٰ کو اپنی آیات اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ پیغمبر بنا کر۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں اور صریح غلبے کے ساتھ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے موسٰی ؑ کو (بھی) اپنی نشانیوں اور روشن برہان کے ساتھ بھیجا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر بھیجا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے موسیٰ کو اپنے معجزے اور صریح سند (نبوت) دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ور ہم نے موسیٰ کو فرعون اور اس کے اعیان کے پاس اپنی آیات اور ایک روشن نشانی کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ،

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیوں اور ایک روشن دلیل کے ساتھ بھیجا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح سند کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And indeed We sent Moses with Our signs and with a clear authority

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We sent Musa, with Our signs and with clear proof,

— Muhammad Taqi Usmani

And We sent Musa, with Our signs and with clear proof,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We sent Musa with Our Ayat and a manifest authority.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily We sent Moses with Our revelations and a clear warrant

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did certainly send Moses with Our signs and a clear authority

— Saheeh International

We sent Moses to the Pharaoh and his nobles with Our miracles and a clear authority.

— Muhammad Sarwar

And certainly We sent Musa with Our communications and a clear authority,

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We sent Musa with Our signs and a manifest warranty.

— Abdul Majid Daryabadi

And we sent Moses, with Our Clear (Signs) and an authority manifest,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:96

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 96–99

قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ ؑ فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی آیتوں اور ظاہر باہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے۔ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے۔ مسند میں ہے رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–97

سورة هُوْد 102 یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضر شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چاک تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 96–101

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو (بھی) اپنے معجزات اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو (نہ فرعون نے مانا اور نہ ان کے سرداروں نے مانا بلکہ فرعون بھی اپنے کفر پر رہا اور) وہ لوگ (بھی) فرعون (ہی) کی رائے پر چلتے رہے اور فرعون کی رائے کچھ صحیح نہ تھی وہ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا، اور وہ (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جاویں گے اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ان کے ساتھ رہے گی، چناچہ یہاں قہر سے غرق ہوئے اور وہاں دوزخ نصیب ہوگا) برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا، یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت : اب آگے کی چند آیات میں حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کی طرف اجمالاً اشارہ فرایا ہے۔ یاد ہوگا، سورة یونس میں حضرت موسیٰ علہ السلام کی سرگزشت تو تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے لیکن دوسرے انبیاء کا صرف اجمالی حوالہ ہے اس کے برعکس اس سورة میں حضرت موسیٰ کی سرگزشت کی طرف تو اجمالی اشارہ کردیا ہے البتہ دوسرے انبیاء کی سرگزشتیں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔ اس طرح یہ دونوں سورتیں مل کر ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور یہی حقیقت ہے سورتوں کے زوج زوج ہونے کی۔ مقدمۂ کتاب میں ہم اس مسئلہ پر گفتگو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

96۔ 1 آیات سے بعض کے نزدیک تورات اور سلطان مبین سے معجزات مراد ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ آیات سے، آیات تسعہ اور سلطان مبین (روشن دلیل) سے عصا مراد ہے۔ عصا، اگرچہ آیات تسعہ میں شامل ہے لیکن معجزہ چونکہ نہایت ہی عظیم الشان تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 104 ایک نظرر میں یہاں قصص کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس خاتمے میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے تاکہ یہاں قوم فرعون کی ہلاکت کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ قوم فرعون نے بھی اللہ کے پیغمبر کے مقابلے میں فروعون کی اطاعت کی تھی اس لیے ہلاک ہوئی۔ اس اشارہ میں قصہ فرعون کی ناگفتہ کڑیوں کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جبکہ قصے کی بعض اہم جھلکیاں بھی اس منظر میں موجود ہیں۔ ان تمام قصص میں یہی اہم اصول زیر بخث ہے کہ اسلام میں ہر فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور اگر کوئی رؤسا اور کبراء کی اطاعت کرتا ہے تو خدا اور رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 نشانیوں سے غالبا معجزات اور وہ نو آیتیں مراد ہیں جن کا ذکر (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ) 17 ۔ الاسراء :101) میں ہوا ہے۔ ان میں سے معجزہ عصا کو جو نہایت ظاہر و قاہر معجزہ تھا شاید " سُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ" (واضح سند) فرمایا " یاسُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ" سے وہ روشن دلائل مراد ہوں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے خدا تعالیٰ کے وجود و توحید وغیرہ کے متعلق پیش کیے جن کا ذکر دوسرے مقامات میں آئے گا۔ اور ممکن ہے سُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ سے اس کے لغوی معنی (یعنی کھلا ہوا غلبہ) مراد لیے گئے ہوں، کیونکہ فرعونیوں کے مقابلہ پر بار بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نمایاں غلبہ اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 95–97

آیت 95 كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ اہل مدین بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار کا نشانہ بن کر اسی طرح ہلاک ہوگئے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی تھی۔ اب آخر پر بہت مختصر انداز میں حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

108 فرعون کو سیدنا موسیٰ کی دعوت :۔ سورة بقرہ اور پھر سورة اعراف میں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے بیان فرمائے۔ لیکن یہاں نہایت اختصار کے ساتھ ان کی دعوت اور اس کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اجمال ہو یا تفصیل کسی واقعہ سے اصل مقصود تو انسان کا اس واقعہ سے یا بدکرداروں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا ہے اور وہ ان تین آیات میں بھی ذکر کردیا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) خود بڑے مضبوط جسم کے، طاقتور، جرأت مند اور جلالی طبیعت کے مالک تھے اور انھیں جس جابر و قاہر بادشاہ کی طرف بھیجا گیا اس کی نخوت اور قہر مانی کا یہ عالم تھا کہ خود خدا بنا بیٹھا تھا اور اس کی رعایا اسے فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 96–97

140۔ یعنی حکومت فرعون کی پالیسی ہر قسم کی صلاح وخیر سے خالی تھی۔ ای لیس فیہ رشد ولا ھدی (ابن کثیر) موسیٰ ، فرعون، ملاء فرعون پر حاشیے بار بار گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 96–109

آیت نمبر 96 تا 109 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا سلطین مبین : اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور کھلا ہوا غلبہ عطا کر کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 96–97

(96۔ 97) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو نومعجزے اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا اور معجزات خود دلیل روشن ہیں، چناچہ فرعون کی قوم نے بھی حضرت موسیٰ ؑ کی بات کو چھوڑ کر فرعون ہی کی راہ اختیار کی اور فرعون کی رائے کچھ درست نہ تھی ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی جو آیات اور ”سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ“ (واضح دلیل) دے کر بھیجا تھا، ان سے کیا مراد ہے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے نو آیات بینات دی تھیں (دیکھیے بنی اسرائیل : 101) جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوئیں : 1 عصائے موسیٰ 2 ید بیضا 3 سنین (قحط سالیاں) 4 نقص من الثمرات 5 طوفان 6 جراد 7 قمل 8 ضفادع 9 دم انھی کو ”سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ“ کہا گیا ہے۔ واؤ ہمیشہ مغایرت کے لیے نہیں ہوتی، جیسا کہ سورة عصر میں فرمایا : (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 96–99

آیت نمبر 96 تا 99 قولہ تعالیٰ : ولقدارسلناموسٰی باٰیٰتنا اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ اس نے نبی کو حجت قائم کرنے اور ہر قسم کی علت کو ختم کرنے کے لیے بھیجا۔ بٰایٰتنا یعنی تورات کے ذریعے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد معجزات ہیں۔ وسلطٰنٍ مبین یعنی واضح حجت کے ساتھ اس سے مراد عصا ہے۔ سورة آل عمران میں سلطان کا معنی اور اس کا اشتقاق گزرچکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ الیٰ فرعون وملابہٖ فاتبعوٓاامرفرعون، امرفرعون سے مراد اس کی شان اور حالت ہے حتی کہ انہوں نے اسے معبود بنالیا، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ ومآامرفرعون برشیدٍیعنی مضبوط حکم نہیں تھا کہ جو صحیح اور حق کی طرف لے جاتا۔ اور ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 89–97

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔ 2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔ 3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور بیشک ہم بھیج چکے ہیں ] [ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [ بِاٰيٰتِنَا : اپنی نشانیوں کے ساتھ ] [ وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ : اور قطعی دلیل کے ساتھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 96–99

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ‘ فرعون اور آل فرعون کی بغاوت اور دنیا و آخرت میں آل فرعون پر لعنت ان آیات میں فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی بربادی کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیجا وہ ان لوگوں کے پاس معجزات اور روشن دلیل لے کر آئے ان کے یہ معجزات سورة اعراف کے رکوع (13‘ 14) میں مذکور ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث تو ہوئے تھے فرعون کی پوری ہی قوم کیلئے لیکن خاص طور سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ قوموں کے سردار ہی اصل ہوتے ہیں عامۃ الناس انہیں کے پیچھے چلتے ہیں۔ اگر یہ لوگ حق قبول کرلیتے ہیں تو عوام بھی حق کو مان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 96–99

قصہ موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا .... الیٰ .... بئس الرفد المرفود۔ (ربط) اب یہ ساتواں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے اور یہ قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ جس میں یہ بتلایا کہ خدا اور رسول کے مقابلہ میں سلطنت اور مال و دولت اور قوت و شوکت کچھ کام نہیں آئی۔ عزت، حق کی اتباع میں ہے اور تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دیکر بھیجا یعنی معجزات قاہرہ و باہرہ مثل معجزہ عصا۔ اور معجزہ یدبیضا دیکر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ پس باوجود ان معجزات قاہری اور براہین باہری اور دلائل ظاہرہ کے ان سرکشوں نے پیغمبر خدا ﷺ کا اتباع…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 96–97

82:۔ یہ ساتواں قصہ ہے اور تیسرے دعوے سے متعلق ہے۔ مسئلہ توحید پیش کرنے پر مشرکین و کفار کی طرف سے تکلیفیں آئیں گی انہیں صبر و استقلال سے برداشت کرنا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کی ایذائیں برداشت کیں۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اور فرعون کا واقعہ سورة اعراف رکوع 12 تا 20 میں تفصیل سے گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 96–101

ربط آیات گزشتہ دروس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو واقعات بیان فرمائے ہیں ، ان کے ذریعے مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے ان پاک نفوس نے یہ مسئلہ کس طرح لوگوں کے سامنے پیش کیا پھر جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں چند اقوام کا ذکر بطور تذکیر بایام اللہ کیا ہے۔ یعنی ان ایام کا تذکرہ جو مختلف اقوام پر سزا اور نکبت کے ساتھ پیش آئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہے ولقد ارسلنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۝ 96ۙ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . بایتنا ۔ وہی الایات السنع ( یہ نو نشانیاں تھیں) (1) العصا۔ (2) الید البیضأ ۔ (3) الطوفان۔ (4) الجراد ( مڈی) (5) القمل غلہ کو کھا جانے والا کیڑا چچڑی۔ (6) الضفادع ( مینڈک) ۔ (7) الدم ( خون) ۔ (8) النقص من الثمرات ( پھلوں میں کمی) ۔ (9) النقص من الانفس ( جانوروں کی تلفی) سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–109

1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 96–99

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰـتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاْ ئِہٖ فَاتَّبَعُوْ ٓا اَمْرَفِرْعَوْنَ ج وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْد۔ یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ ط وَبِئْسَ الْوِرْدُالْمَوْرُوْدُ ۔ وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہٖ لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط بِئْسَ الرِّفْدُالْمَرْفُوْدُ ۔ (سورۃ ہود : 96، 97، 98، 99) (ہم نے بھیجا موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنی آیات اور ایک روشن نشانی کے ساتھ رسول بنا کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو انھوں نے فرعون ہی کی بات مانی، حالانکہ فرعون کی بات راست نہ تھی۔ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 96–97

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم اور دوسری اقوام کا انجام بیان کرنے کے بعد حضرت موسیٰ کی قوم کا کردار اور انجام کا مختصر بیان۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی کئی اعتبار سے نبی اکرم ﷺ اور آپ کی قوم کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ جس کی ابتدا موقعہ کی مناسبت سے یوں فرمائی کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل اور کھلے معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے لیڈروں کی طرف بھیجا۔ کیونکہ فرعون کی قوم اس کے ہر کام کی پیروی کرتی تھی۔ جبکہ فرعون کا کوئی کام بھی اچھا نہ تھا ” الرشید “ کا معنیٰ ہے نیک یا اچھا کام۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دو عظیم معجزوں سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موسیٰ ( علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ : 96: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍِ مُّبِیْنٍ (تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات دے کر اور واضح دلائل کے ساتھ بھیجا) مراد سلطان مبین سے عصا ہے کیونکہ یہ تمام سے زیادہ واضح ترین نشانی تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–99

96۔ 99۔ اوپر کے قصوں کے بعد ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے کر فرعون بادشاہ مصر اور اس کے وزیروں اور سرداروں کے پاس بھیجا بعضے مفسروں نے آیات سے مراد توریت اور سلطان مبین سے مراد معجزے لئے ہیں مگر یہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت نازل ہوئی ہے اس لئے بعض مفسروں نے دونوں کے معنے معجزے کے جو بیان کئے ہیں وہ قول صحیح ہے بہرحال کوئی بھی ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا فرعون کے ساتھ فرعون ہی کے دین و آئین پر قائم رہے اللہ پاک نے فرمایا فرعون کا طریقہ کوئی نیک انجام نہ تھا بالکل گمراہی کا طریقہ تھا اس لئے جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” اور اہم نے بھیجا موسیٰ کو “ یعنی موسیٰ بن عمران کو (آیت) ” اپنی نشانیوں کے ساتھ “۔ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں، مثلاً عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا۔ (آیت) ” اور دلیل واضح ( کے ساتھ ) “ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

192 ۔ بعثت موسوی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و تشریف آوری آیات خداوندی اور سلطان مبین کے ساتھ ہوئی تھی اور آنجناب کو دیئے جانے والے اس سلطان مبین یعنی واضح دلیل اور کھلی سند سے مراد ہے تورات اور دوسرے کھلے معجزات کے ساتھ کہ ان میں آپ کی صداقت و حقانیت کے لئے سلطان مبین یعنی واضح دلیل اور کھلی سند موجود تھی (محاسن التاویل وغیرہ) کہ یہی خصوصی عنایات خداوندی تھیں جن سے حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے آنجناب کو نوازا گیا تھا اور جن سے آپ کے دعوائے نبوت و رسالت کی حقانیت و صداقت ثابت اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 96–99

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام فرعون کی نافرمانی اور برا انجام تشریح : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے یہ بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے بھیجے گئے تھے یہاں ان کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے۔ کہ ان آیات سے پہلے کئی ایسی نافرمان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ لوگ ان کے برے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر اور انجام، مذکورہ آیات میں بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح برے لیڈر کی پیروی دنیا میں ہلاکت کا باعث بنی اسی طرح آخرت میں بھی سوائے جہنم کے اور کچھ نہ ملے گا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 96–109

آیات 96 تا 109 اسرار و معارف جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 96–97

ف 10 ۔ کھلے معجزے سے مراد عصا اور نشانیوں سے مراد وہ دوسری نونشانیاں ہیں جو سورة اسراء (آیت 101) اور سورة نحل (آیت 12) میں مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:96) بایتنا۔ وہی الایات السنع (یہ نو نشانیاں تھیں) (1) العصا۔ (2) الید البیضأ۔ (3) الطوفان۔ (4) الجراد (مڈی) (5) القمل غلہ کو کھا جانے والا کیڑا چچڑی۔ (6) الضفادع (مینڈک) ۔ (7) الدم (خون) ۔ (8) النقص من الثمرات (پھلوں میں کمی) ۔ (9) النقص من الانفس (جانوروں کی تلفی) سلطن مبین۔ برھان مبین۔ برہان قاطع ۔ حجۃ باہرہ۔ صریح دلیل۔ کھلی سند (یعنی معجزہ) مادہ سلط (ثلاثی مجرد) یا سلطن (رباعی مجرد) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قرآن مجید میں ہر ایک جگہ سلطن سے حجت مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 96–101

لغات القرآن آیت نمبر 96 تا 101 سلطن مبین (کھلی ہوئی دلیل، روشن دلیل) ملاء (سردار) امر فرعون (فرعون کی بات) یقدم (وہ آگے ہوگا) اورد (وہ پہنچائے گا، لاکھڑا کرے گا) الورد (پہنچنے کی جگہ، گھاٹ) المورود (پہنچائے گئے) انباء (خبریں) الرقد (انعام) المرفود (انعام جو دیا گیا) حصید (کٹ جانے اور مٹ جانے والی ) القریٰ (بستیاں) ما اعنت (کام نہ آئی، فائدہ نہ دیا) یدعون (وہ پکارتے ہیں) غیر تثبیب (سوائے تباہی و بربادی کے) تشریح :- آیت نمبر 96 تا 101 قرآن کریم گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات کو نہایت مختصر انداز سے پیش کر کے عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو کھول کر رکھ دیتا ہے۔ سورئہ ھود میں سات انبیاء کرام کے واقعات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–99

رسول اللہ ﷺ کے فائدے کے لئے پچھلے واقعات کا ذکر اوپر کے قصوں کے بعد ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے فرعون بادشاہ مصر اور اس کے وزیروں اور سرداروں کے پاس بھیجا۔ کوئی بھی ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا، فرعون ہی کے دین پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فرعون کا طریقہ کوئی نیک انجام نہ تھا، بالکل گمراہی کا طریقہ تھا اس لئے جس طرح وہ لوگ دنیا میں فرعون کے تابعدار رہے اسی طرح قیامت کے دن بھی یہ لوگ فرعون کے پیرور رہیں گے۔ اور فرعون کے پیچھے پیچھے دوزخ میں چلے جائیں گے یہ لوگ جس گھاٹ پر جائیں گے وہ بہت ہی برا گھاٹ ہوگا۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 89–99

[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 93–96

(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دھمکی کو صبر و عزیمت کے ساتھ سنا اور کہا ، تمہیں میرے عزیزوں کا تو خیال ہے ، مگر اللہ کا خیال نہیں ، جس کی جانب سے میں مبعوث ہو کر آیا ہوں ، تم اس کی آواز پر کان نہیں دھرتے تمہیں اس بات کی فکر نہیں کہ وہ تمہیں کیا کہے گا تم جو چاہو ، کرتے رہو میں ہرگز تمہارے طرز عمل سے خائف نہیں ، تم عنقریب جان لوگے ، کہ جھوٹا کون ہے ، اور سچا کون ، کس پر اللہ کی رحمتیں ہیں اور کون ذلیل اور کون عذاب کا مستحق ہے ۔ چنانچہ اللہ کا عذاب آیا اور انکار کرنے والے صفحہ ہستی سے ہٹ گئے ، اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

96 اور بلاشبہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنے معجزات اور واضح دلیل اور کھلی سند دے کر

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 96–98

ف 4۔ سلطان مبین سے مراد یا تو عصا اور یدبیضاء ہے جو منجملہ آیات تسعہ کے جو پارہ نہم کے ربع پر مذکور ہیں اعظم ہیں اور یا موسیٰ کی تقریر بلیغ ہے جو فرعون کے سامنے دوبارہ توحید کے انہوں نے فرمائی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر اتاری گئی نشانیوں کا مختصر بیان ۔ 122 موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب سے چند واسطوں سے حضرت یعقوب ابن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کا نام عمران اور والدہ ماجدہ کا نام یوکابد لکھا ہے۔ ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بھائی ہیں۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے نبی و رسول تھے۔ گزشتہ نافرمان قوموں کے عبرت آمواز حالات سنانے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے ذکر سے اس بات کا اختتام ہو رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی نشانیوں کا جو ذکر اس جگہ کیا گیا ہے اس سے مراد تورات کی آیات نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–97

102. When Shu'ayb's people stated that they did not understand much of what Shu'ayb said, they did not say so because Shu'ayb (peace be on him) spoke in some foreign language, or because he talked in an ambiguous or complicated manner. On the contrary, Shu'ayb's teaching was quite clear and simple and was conveyed to his people in a language they fully understood - their own. The difficulty in understanding Shu'ayb's teaching arose from the fact that his people had become simply too perverse to grasp it. It is always the case that when some people become fully seized by their prejudice, are…

Read the full tafseer →