11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsانوار البیان

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں۔

(11:1) الر۔ حرف مقطعات۔ ملاحظہ ہو۔ کتب۔ ای ہو کتب۔ کتاب خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے۔ یہ وہ کتاب ہے۔ احکمت۔ ماضی مجہول ۔ واحد مؤنث غائب احکام سے۔ جس کے معنی مضبوط اور محکم کرنے کے ہیں۔ یوں پختہ اور استوار کرنا کہ اس میں کسی خلل اور نقص کا گمان تک نہ رہے۔ بمعنی مضبوط اور مستحکم بنادی گئی ہیں۔ فصلت۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ تفصیل (تفعیل) سے کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ لدن۔ ظرف مکان ہے۔ بمعنی طرف، پاس، عموماً اس سے پہلے من حرف جار آتا ہے جیسے قد بلغت من لدنی عذرا (18:76) تم کو میری طرف سے (اپنے ساتھ نہ رکھنے کا) عذر حاصل ہوگا۔ ربنا اتنا من لدنک رحمۃ (18:10) اے ہمارے رب ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ وعلمنہ من لدنا علما (18:65) ہم نے اسے اپنے پاس سے علم بخشا تھا۔ من لدن حکیم خبیر۔ بڑے دانا اور باخبر (خدا) کی طرف سے۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

(11:2) الا تعبدوا الا اللہ۔ یہ مفعول لہٗ ہے ہر دو فعل احمکت وفصلت کا۔ بمعنی اس کی آیات کو محکم اور مضبوط بنایا گیا ہے۔ اور ان کو مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یا یہ کلام ماقبل سے منقطع ہے اور یہاں سے الگ کلام ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے۔ تقدیر کلام یوں ہے قل لہم یا محمد الا تعدبوا الا اللہ۔
Ayahs 11:3–4

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم کو ایک وقت مقرر تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور صاحب بزرگی کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب سے ڈر ہے۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(11:3) توبوا الیہ۔ اس کی طرف لوٹو۔ ای ارجعوا الیہ بالطاعۃ والعبادۃ۔ اس کی اطاعت و عبادت کو حزر جان بنا کر اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ یمتعکم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ۔ وہ تم کو بہرہ اندوز کریگا۔ (باب تفعیل) متاعا حسنا اچھا مال و متاع۔ خوشگوار نعمتیں۔ ذی فضل زیادہ نیکی کرنے والا۔ من کان لہ فضل فی العمل۔ جو زیادہ عمل (نیک) کرے گا۔ فضلہ۔ عطاء ہ۔ جزاء ہ یعنی اسی قدر اس کی جزاء اور عطا میں اضافہ ہوگا۔ یوم کبیر۔ یوم القیامۃ۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سُن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے۔

(11:5) یثنون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ثنی یثنی (باب ضرب) ثنیی ۔۔ الشیٔ۔ موڑنا۔ لپٹنا۔ تہ کرنا۔ ثنی صدرہ۔ اس نے اپنے دل میں دشمنی چھپائے رکھی جب اس کا صلہ عن ہو تو بمعنی موڑنا۔ پھیرنا۔ روکنا ہوتا ہے۔ اور جب اس کا صلہ علی ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو کسی چیز پر لپیٹنا تاکہ وہ چھپ جائے۔ یثنون۔ وہ دوہرا کئے دیتے ہیں (اپنے کفر و عداوت کو چھپانے کے لئے) ۔ لیسخفوا۔ مضارع جمع مذکر غائب استخفاء (استفعال) سے ۔ کہ وہ آڑ کرلیں ۔ پردہ کرلیں۔ چھپالیں۔ اصل میں یستخفون تھا۔ لام تعلیل کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ منہ۔ کی ضمیر کا مرجع اللہ ہے۔ یستغشون ثیابھم۔ مضارع جمع مذکر غائب ثیابھم ، مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ۔ استغشاء مصدر (باب استفعال) وہ اوڑھتے ہیں۔ یتغطون بھا مبالغۃ فی الاستخفائ۔ کپڑوں کو خوب اوڑھ لیتے ہیں اپنے آپ کو مزید چھپانے کے لئے۔ الا حین یستغشون ثیابھم یعلم ما یسرون وما یعلنون۔ خبردار (یاد رکھو) جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی چلنے پھر نے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے۔ وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔

(11:6) دابۃ۔ الذب والذبیب (باب ضرب) کے معنی آہستہ چلنا اور رینگنا کے ہیں۔ یہ لفظ حشرات الارض کے متعلق زیادہ تر استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ عرف میں خاص کر گھوڑے پر بولا جاتا ہے مگر لغۃ میں ہر حیوان ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔ دابۃ۔ ہر چلنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ رینگنے والا جانور۔ اس کی جمع دوات اور مادہ دب ب ہے۔ دابۃ الارض۔ ایک غیر معروف قسم کا جانور جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ قیامت کے قریب خروج کرے گا اور نشان لگا کر ایمانداروں اور منکروں کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا۔ چناچہ قرآن حکیم میں ہے واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض تکلمہم (27:82) اور جب ان کے بارے میں وعدہ (عذاب کا) پورا ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا۔ علی اللہ۔ اللہ کے ذمہ ہے۔ مستقرھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ مستقر۔ ظرف مکان ۔ استقرار (باب استفعال) سے بمعنی قرار۔ مستقر بمعنی قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع دابۃ ہے۔ مستقر سے مراد بعض کے نزدیک رحم مادر ہے۔ صاحب روح المعانی نے صلب پدر مراد لیا ہے۔ مستودعھا۔ اسم ظرف مکان ہے۔ مضاف منصوب۔ ہا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ امانت رکھنے کی جگہ ۔ ابداع امانت رکھنا خواہ اپنے پاس یا دوسرے کے پاس استیداع (استفعال) بطور امانت کسی کے پاس کچھ رکھنا۔ تودیع (تفعیل) مسافر کو الوداع کہنا۔ یا چھوڑ دینا۔ جیسے قرآن میں ہے مادہ عک ربک (93:3) (اے محمد) تمہارے پروردگار نے نہ تم کو چھوڑا ہے۔ آیہ ہذا میں امانت رکھنے کی جگہ سے مراد پشت پدر۔ قبر لیا گیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے اس سے مراد موضعھا فی الارحام (رحم مادر) لیا ہے۔ کل۔ ای کل واحد من الدوات ورزقھا ومستقرھا ومستودعھا (ہر ذی حیات جانور۔ اس کا رزق۔ اس کی قرار گاہ اور اس کی بطور امانت رکھے جانے کی جگہ) ۔ کتب مبین۔ لوح محفوظ۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

(11:7) عرشہ۔ عرش۔ تخت شاہی۔ جیسے ورفع ابویہ علی العرش (12:100) اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔ یا ایکم یاتینی یعرشھا (37:38) کوئی تم میں ایسا ہے کہ ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے۔ العرش۔ اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے قرآن حکیم میں آیا ہے وہی خاویۃ علی عروشھا۔ (2:259) اور اس کے مکان اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے اسی سے انگور کی بیلوں کے لیے ٹیٹاں بنانا بھی عرش کہلاتا ہے اور ٹیٹوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں کو معرش کہتے ہیں ۔ ان معنوں میں قرآن میں ہے : وما کانوا یعرشون (7:137) جو وہ ٹیٹوں پر چڑھاتے تھے۔ عرش بمعنی عزت۔ غلبہ۔ سلطنت بھی مستعمل ہے چناچہ محاورہ ہے فلان قل عرشہ (فلاں کی عزت جاتی رہی) ۔ اور جہاں تک عرش الٰہی کا تعلق ہے ہم صرف نام کی حد تک واقف ہیں اور اس کی حقیقت انسان کے فہم سے بالاتر ہے وہ بادشاہ کے عرش کی طرح نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں عرش باری تعالیٰ کا حامل قرار ہائے گا نہ کہ محمول ۔ حالانکہ ذات باری تعالیٰ اس سے بالاتر ہے کہ کوئی چیز اسے اٹھائے۔ وکان عرشہ علی المائ۔ یہاں جملہ معترضہ ہے جو غالبا لوگوں کے اس سوال کا جواب میں ہے کہ اگر آسمان و زمین اگر پہلے نہ تھے اور بعد میں پیدا کئے گئے تو پہلے کیا تھا ؟ (تفہیم القرآن) لیبلوکم۔ ل تعلیل کے لئے ہے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یبلو مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ بلاء مصدر (باب نصر) بلیمادہ۔ تاکہ وہ آزمائش کرے یعنی اس نے آسمان و زمین اور ان کے مابین جملہ مخلوق، ان کا حیاتی انتظام و انصرام ۔ بودو باش ، خوراک و پوشاک وغیرہ۔ اس لئے کہ تم کو خلیفہ اللہ بنا کر تم کو اختیارات سونپ کر اور تم پر اخلاقی ذمہ داریاں ڈال کر آزمائش کرے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ (تفہیم القرآن۔ روح المعانی) فی ستۃ ایام۔ لفظی معنی ہیں چھ دنوں میں۔ چونکہ جس زمانہ کے متعلق اس کا استعمال ہوا ہے سورج کی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی۔ لہٰذا دونوں کا لفظ عام معنوں میں نہیں لیا جاسکتا۔ عربی زبان میں یہ مطلقاً وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے خواہ وہ زمانہ ایک دن کا ہو یا ایک سال کا۔ ایک صدی کا ہو یا ایک ہزار سال کا۔ خواہ کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو۔ آیۃ ہذا میں ستۃ ایام سے مراد چھ ادوار زمانہ ہیں ۔ ہر دور کی مقدار کتنی تھی۔ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ لئن۔ میں لام زائدہ ہے اور ان حرف شرط ہے ان شرطیہ پر آنے والا لام ہمیشہ زائدہ ہوتا ہے۔ مبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ قبروں سے اٹھائے جانے والے۔ دوبادہ زندہ کئے جانے والے۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب کو روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزأ کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔

(11:8) اخرنا۔ ہم روک لیں۔ ہم تاخیر کردیں ۔ ماضی جمع متکلم۔ تاخیر (تفعیل) سے۔ امۃ۔ مدت۔ جماعت۔ طریقہ۔ دین ۔ ہر وہ جماعت جس میں کسی قسم کا کوئی رابطہ اشتراک موجود ہو۔ اسے امت کہا جاتا ہے۔ خواہ یہ اتحاد مذہنی وحدت کی بناء پر ہو (جیسے امت محمدیہ) یا عصری وحدت کی وجہ سے ( جیسے پچھلی امتیں) امت باعتبار لفظ کے واحد ہے اور معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔ جہاں بھی امت کے معنی مدت کے ہوں گے وہاں اس کا مضاف محذوف ہوگا۔ اور مضاف الیہ قائم مقام مضاف کے سمجھا جائے گا۔ مثلاً آیۃ موجودہ میں اصل میں یوں تھا۔ ولئن اخرنا عنہم العذاب انی زمن امۃ معدودۃ۔ زمن کو حذف کرکے امۃ کو اس کا قائم مقام سمجھا گیا۔ امت کے مجازی معنی طریقہ اور دین کے بھی ہیں عربی میں ہے فلان لاامۃ لہ۔ فلاں کا کائی دین اور مذہب نہیں ہے۔ یحبسہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ حبس سے (باب ضرب) (کسی چیز نے) اس کو روک رکھا ہے۔ الا۔ حرف تنبیہ۔ خبردار ہوجاؤ۔ جان لو۔ دیکھو۔ سن رکھو۔ کان کھول کر سن لو۔ حرف بسیط ہے۔ مرکب نہیں ہے۔ حاق۔ الحیوق الحیقان (باب ضرب) کے معنی کسی چیز کو گھیرنے اور اس پر نازل ہونے کے ہیں۔ ب کے ساتھ آئے تو متعدی ہوتا ہے ۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزؤن۔ آیۃ ہذا و آیۃ (46:26) اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اسی نے ان کو گھیر لیا۔
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اسکو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا ہے )

(11:9) اذقنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ اذاقۃ سے ذوق مادہ۔ ہم چکھاتے ہیں۔ ہم نے چکھایا۔ ذوق یذوق (باب نصر) چکھنا۔ نزعنا منہ۔ ماضی جمع متکلم۔ نزع مصدر۔ ہم نے اس (رحمت کو) اس سے چھین لیا۔ نزع۔ چھیننا۔ نکال دینا۔ چھانٹ کر نکال دینا۔ یؤس۔ صیغہ صفت مشبہ۔ یاس سے۔ ناامید۔ کفور۔ ناشکرا۔ یؤس کفور۔ یائس کافر سے فعول کے وزن پر مبالغے کے صیغے ہیں۔
Ayahs 11:10–11

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بیشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنیوالا ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

(11:10) نعماء وہ انعام جس کا اثر پانے والے پر ظاہر ہو۔ مراد راحت و آسائش ۔ فرح۔ وہ لذت جو مطلوب کے حاصل ہونے پر دل میں پیدا ہوتی ہے۔ صفت مشبہ کا صیغہ خوش۔ اترانے والا۔ فرحت محسوس کرنے والا۔ فخور۔ مبالغہ کا صیغہ فخر مصدر۔ بہت زیادہ فخر کرنے والا۔ شیخی خور۔ یعنی وہ اترانے لگتا ہے کہ یہ مال و دولت کی فراوانی اور اقبال مندیاں اس کی ذاتی قابلیت کا نتیجہ ہیں۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو ۔ اس (خیال) سے تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا ؟ یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ (اے محمد) تم تو صرف نصیحت کرنیوالے ہو اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے۔

(11:12) لعلک۔ لعل اور ک پر مشتمل ہے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر ہے اور لعل حرف مشابہ بفعل ہے۔ حرف عامل ہے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع۔ ان یا ان۔ کان لیت لکن لعل۔ ناصب اسم اندرافع درخبر ضدما ولا۔ امید و خوف پر دلالت کرنے کیلئے آتا ہے۔ (1) امید کا رجوع کبھی متکلم کی طرف ہوتا ہے ۔ جیسے لعلنا نتبع السحرۃ (26:40) فرعون کی قوم والوں نے کہا ” ہم کو امید ہے کہ (اگر وہ جیت گئے تو) ہم جادوگروں کی پیروی کریں گے “۔ یہاں امید کا رجوع خود یہ کلام کرنے والوں کی طرف تھا۔ (2) کبھی مخاطب کو امید دلانے اور امیدوار رکھنے کے لئے آتا ہے اس وقت امید کا رجوع مخاطب کی طرف آتا ہے کیونکہ امید و بیم کی کیفیت مخاطب کے دل سے متعلق ہے مثلاً لعلہ یتذکراویخشی (20:42) شاید وہ غور کرلے یا ڈرجائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ اس سے کہو کہ ہم اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ امید لے کر جاؤ کہ ” شاید و ہ غور کرے یا ڈر جائے “۔ یہاں امید دلانے کا تعلق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے ہے۔ (3) کبھی امدی کا تعلق نہ متکلم سے ہوتا ہے اور نہ مخاطب سے بلکہ کسی تیسرے شخص غائب سے ہوتا ہے۔ جیسے فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک (آیۃ ہذا 11:12) اگر تمہارے متعلق یہ گمان کرتے ہیں کہ مد شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو ۔ یہاں یہ امید کی کیفیت لوگوں کے دلوں میں ہے لعل حرف مشبہ بفعل ہے اور ہ۔ ک۔ نا۔ ہم اس کا اسم۔ لعل۔ کا حرف جب اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطعیت آجاتی ہے۔ اس بناء پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی لینا صحیح نہیں ہے۔ لعل طمع اور اشفاق (ڈرتے ہوئے چاہیے) امید اور خوف۔ بیم ورجاء کے معنی ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لعلہ۔ شاید وہ۔ لعلک۔ شاید تم۔ لعلنا شاید ہم وغیرہ۔ وضائق بہ۔ ضائق تنگ ہونے والا۔ ضیق سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ الضیق کے معنی تنگی کے ہیں۔ یہ سعۃ کی ضد ہے وضائق بہ صدرک اس خیال سے تمہارا دل تنگ ہو۔ اس کا عطف تارک پر ہے۔ وکیل۔ نگہبان۔ نگران۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن از خود بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ خدا کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا بھی لو

(11:13) ام۔ کیا۔ افترہ۔ اس نے اس کو خود گھڑ لیا ہے۔ ماضی واحد مذکر غائب افتراء (افتعال) سے۔ افتری یفتری۔ فری مادہ۔ من گھڑت بات بنانا۔ عجب بات۔ عظیم بات۔ لقد جئت شیئا فریا (19:37) تم ایک عجیب شے لائی ہو۔ افترہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما یوحی الیک کی طرف راجع ہے۔ (11:13) مفتریت۔ اسم مفعول جمع مؤنث۔ خود ساختہ۔ من گھرٹ۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئے۔

(11:14) فالم ای فان لم۔ لم یستجیبوا لکم۔ اور اگر وہ تمہاری دعوت (برائے معاونت) قبول نہ کریں۔ مضارع نفی جحد بلم۔ لکم میں ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مشرکین کی طرف راجع ہے جن کو یہ چیلنچ دیا جا رہا ہے اسی طرح سے فاعلموا میں بھی خطاب مشرکین سے ہے۔ فہل انتم مسلمون۔ پس کیا (اب ) تم اسلام لے آؤ گے۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طا لب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں انکی حق تلفی نہیں کی جاتی۔

(11:15) نوف۔ وفی یوفی توفیۃ (باب تفعیل) پورا پورا دینا۔ نوف اصل میں نوفی تھا جواب شرط ہونے کے سبب ی ساقط ہوگئی آیۃ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الدنیا ہے۔ لایبخسون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب بخس سے اور وہ دنیا میں گھاٹے میں نہیں رکھے جائیں گے۔ اگر ھا ضمیر کا مرجع اعمال کا بدلہ ہے۔ تو ترجمہ ہوگا ان کے اعمال کے عوض میں کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں (آتش جہنم) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا۔

(11:16) ھبط یحبط (سمع) اکارت گیا۔ ضائع ہوگیا۔ مٹ گیا۔ ماضٰ واحد مذکر غائب ۔ فیہا۔ ای فی الدنیا۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے ؟ ) یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لانے۔

(11:17) بینۃ۔ کھلی دلیل۔ برہان قاطع۔ واضح دلالت کو بینۃ کہتے ہیں خواہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسہ۔ بینۃ سے یہاں کیا مراد ہے۔ مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ عقلی دلیل۔ قرآن مجید۔ حضور اکرم ﷺ ۔ دین حق۔ افمن کان علی بینۃ من ربہ۔ پچھلی دو آیات (15-16) میں ان لوگوں کا ذکر ہوا جن کی ساری تگ و دو ۔ دنیاوی زندگی اور اس کے لوازمات کے حصول کی خاطر تھی۔ اور اب آیہ ہذا میں وہ لوگ مذکور ہیں جو محض رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کے لئے کوشاں ہیں۔ اس سوالیہ جملہ کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا ولیس لہم فی الاخرۃ الا النار۔ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن اور واضح دین پر چل رہا ہے اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو محض دنیاوی زندگی اور اس کی زینت کا ہی خواہاں ہے اور جس کے لئے آخرت میں سائے جہنم کی آگ کے کچھ بھی نہیں۔ فمن کان علی بینۃ من ربہ سے مراد بعض نے حضور کریم ﷺ اور ان کے اصحاب مراد لئے ہیں اور جواب محذوف کمن ھو فی ضلالۃ وکفر لیا ہے۔ یتلوہ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اگر یہ تلاوۃ مصدر سے ہے تو معنی ہوگا وہ تلاوت کرتا ہے۔ وہ پڑھتا ہے اور اگر تلو مصدر سے ہے تو اس کا مطلب : وہ پیچھے چلتا ہے ۔ وہ ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ ہر دو مصدر سے یتلو (باب نصر) سے ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا تو من کان علی بینۃ من ربہ ہے یا صرف بینۃ ہے۔ شاھد۔ گواہ۔ حاضر ہونے والا۔ بتانے والا۔ شھادۃ اور شھود سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ شاھد سے کون مراد ہے :۔ (1) اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں ، ابن عباس، علقمہ، ابراہیم نخعی، مجاہد، عکرمہ، ضماک وغیرہم۔ (2) اس سے مراد حضرت رسول کریم ﷺ ہیں۔ (حسن بصری۔ قتادہ) (3) اس سے مراد قرآن مجید ہے (الحسین بن الفضل) منہ۔ میں ہ ضمیر کا مرجع یا تو اللہ ہے ۔ یا القرآن۔ اماما۔ پیشوا۔ مقتدائ۔ رہنما۔ بروزن فعال۔ اسم ہے بمعنی من یؤتم بہ ۔ یعنی جس کا قصد کیا جائے۔ چونکہ راہنما اور مقتداء کا قصد کیا جاتا ہے غرض جس کی پیروی کی جائے وہ امام ہے خواہ حق میں پیروی ہو یا ناحق میں۔ اور خواہ جس کی پیروی کی جائے وہ انسان ہو کہ اس کے قول و فعل کی اقتدا کریں۔ یا کتاب جس کے اوامرو نواہی پر عمل کیا جائے۔ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے نیز جمع کے موقع پر بلفظ واحد بھی مستعمل ہے۔ اولئک۔ ای من کان علی بینۃ من ربہ۔ اسم اشارہ جمع۔ مندرجہ بالا آیت کے الفاظ کے متعلق مختلف اقوال کی روشنی میں :۔ افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاھد منہ ومن قبلہ کتب موسیٰ اماما ورحمۃ اولئک یؤمنون بہ۔ کا ترجمہ متعدد صورتوں میں ہوسکتا ہے مثلاً :۔ (1) کیا وہ شخص (حضرت رسول کریم ﷺ ) جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل کی پیروی کر رہا ہو اور اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (تائید میں) آگیا ہو اور اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام) کی کتاب راہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود ہو۔ (وہ بھی دنیا ہر ستوں کی طرح انکار کرسکتا ہے) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے۔ (تفہیم القرآن۔ یہاں افمن کان علی بینۃ سے مراد رسول اکرم ﷺ ۔ یتلوہ بمصدر تلوہ ضمیر برائے بینۃ شاہد براو قرآن مجید۔ منہ کی ضمیر ہ برائے پروردگار متصور ہوئی ہے) ۔ (2) کیا وہ لوگ جو اپنے رب کی طرف سے ایک بین دلیل پر قائم ہوں ۔ اور جن کے پاس خدا کی طرف سے ایک گواہ یعنی (رسول کریم ﷺ ) اسے پڑھ کر سناتا ہو (مصدر تلاوۃ سے) اور اس سے قبل موسیٰ کی کتاب بطور راہنما و رحمت بھی موجود ہو۔ اہ ان کی مانند ہوسکتے ہیں جو اس کے منکر ہیں (اور دنیاوی لالچ میں گرفتار ہیں) ۔ افمن کان علی بینۃ من ربہ میں ہر مومن شامل ہے جیسا کہ اولئک یؤمنون بہ سے ظاہر ہے۔ اور بینۃ سے مراد قرآن حکیم ہے۔ شاہد سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں (مولانا محمد علی) (3) پھر دیکھو جو لوگ اپنے پروردگار کی جانب سے ایک روشن دلیل رکھتے ہوں (یعنی وجدان و عقل کا فیصلہ) اور اس کے ساتھ ہی ایک گواہ بھی اس کی طرف سے آگیا ہو (یعنی اللہ کی وحی) ۔۔ (ترجمان القرآن ) وغیرہم۔ یؤمنون بہ اور یکفرون بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القران المجید ہے۔ الاحزاب۔ گروہ۔ ٹولیاں۔ جماعتیں۔ حزب کی جمع ہے۔ موعدہ۔ اسم ظر مکان۔ وعد۔ مصدر۔ وعدہ کی جگہ۔ ٹھکانہ۔ لاتک۔ تک اصل میں تکون تھا۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ لاء نہی کے عمل سے واؤ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگیا۔ لاتکن رہ گیا۔ خلاف قیاس نون کو حرف علت کے مشابہ مان کر کثرت استعمال کے سبب تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا۔ لاتک رہ گیا۔ تو نہ ہو تو مت ہو۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ؟ ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

(11:18) یعرضون علی۔ پیش کئے جائیں گے۔ مضارع مجہول صیغہ جمع مذکر غائب۔ عرض الشیٔ بفلان کسی چیز کو کسی کے پیش کرنا عرض الشیٔ علیہ کوئی چیز کسی کو دکھلانا یا پیش کرنا۔ قرآن مجید میں ہے ثم عرضہم علی الملئکۃ (2:31) پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ اور یوم یعرض الذین کفروا علی النار (46:20) اور جس روز کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے۔ الاشھاد۔ گواہی دینے والے۔ گواہ۔ شاہد کی جمع ہے۔ جیسے صاحب کی جمع اصحاب ہے یا شھید کی جمع ہے۔ جیسے شریف کی جمع اشراف ہے۔ یہاں اشھاد سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ یا اس سے مراد رسول اور پیغمبر اور انبیاء ہیں۔ یا اس سے مراد جملہ خلائق ہیں۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔

(11:19) یصدون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صد مصدر (باب نصر) روکتے ہیں۔ یبغونھا۔ بغی سے مضارع جمع مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ وہ اس کو چاہتے ہیں ۔ اس کا مرجع دین الٰہی ہے جس کو سبیل اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے مطلب ہوا کہ وہ دین الٰہی کو حق سے پھرا ہوا چاہتے ہیں۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ مؤمنوں کو ٹیڑھے راستے پر لے جانے کے خواہش مند ہیں ۔ عوجا۔ ٹیڑھا ۔ کج۔
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے۔

(11:20) معجزین۔ عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا۔ یا اس کا حاصل ہونا ایسے وقت میں جب کہ اس کا وقت نکل چکا ہو۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ کسی کام کے ل کرنے سے رہ جانے کے بولا جاتا ہے قرآن میں آیا ہے وما انتم بمعجزین فی الارض (42:31) اور تم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ یعنی جسے وہ چاہے وہ کرنے سے تم اسے قاصر نہیں کرسکتے۔ یضاعف۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ مضعفۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ بڑھا دیا جائے گا۔ دوگنا کردیا جائے گا۔
Ayah 11:21

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتارہا۔

خسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ فعل لازم۔ نقصان اٹھانا۔ گمراہ ہونا۔ ہلاک ہونا (باب سمع) خسروا انفسھم۔ انہوں نے خود نقصان اٹھایا۔ ضل عنہم۔ ان کو چھوڑ گئے۔ ان سے گم ہوگئے۔ (یعنی وہ جھوٹے بت جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔ اور جو اپنے معبودان باطل سے انہوں نے موہوم امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ سب کہیں بھی نظر نہ آئیں)
Ayah 11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سب زیادہ نقصان پانیوالے ہیں۔

(11:22) لاجرم۔ یقینا اور حقا کا ہم معنی ہے اور بعض کے نزدیک لا جرم کا معنی ہے لاضد ولا منع۔ کوئی روکاوٹ نہیں۔ کوئی ممانعت نہیں۔ کوئی روک نہیں سکتا۔ لاجرم ولا جرم۔ یعنی ضروری۔ یقینی۔ ناگزیر۔ سبھی قسم کے معنی دیتا ہے اور کہتے ہیں کہ لاجرم لافعلن۔ قسم خدا کی میں ایسا ضرور کروں گا۔ بعض کے نزدیک لا زائدہ ہے جرم فعل متعدی ہے اور کسب کے معنی میں ہے بعض نے فعل لازمی بنا کر وجب کے معنی میں لیا ہے بعض نے لاجرم کو مرکب بنایا ہے حقا کے معنی میں۔ الاخسرون۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ سب سے زیادہ نقصان پانے والے۔ گھاٹا پانے والے۔ خسارہ و خسران مصدر۔ اخسر کی جمع ہے۔
Ayahs 11:23–25

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی یہی صاحب جنت ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فرقوں (یعنی کافر ومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہر ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو انکی قوم کی طرف بھیجا تو (انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے (اور پیغام پہنچانے) آیا ہوں

(11:23) اخبتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ جھکے۔ انہوں نے عاجزی کی۔ اضبات (افعال) سے جس کے معنی تواضع۔ اور خشوع و خضوع کے ہیں۔ الخبت اصل میں نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں۔ اخبت الرجل آدمی نے نشیبی اور نرم زمین کا قصد کیا یا وہاں اتر گیا۔ اس کے بعد لفظ الاخبات (افعال) نرمی اور تواضع کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وبشر المخبتین (22:34) اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ۔ آیہ ہذا میں واخبتوا الی ربھم اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس کا معنی خافوا ہے قتادہ ؓ نے رجوع کا معنی کیا ہے
Ayah 11:26

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔

(11:26) عذاب یوم الیم۔ یوم کی صفت الیم مجازاً کی گئی ہے کہ عذاب کا وقوع دن۔ (یعنی دن رات) میں ہی ہوتا ہے یعنی ایسا دن کہ جس میں دردناک عذاب ہی عذاب ہو یوم سے مراد یوم قیامت بھی ہوسکتا ہے اور یوم طوفان بھی۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں اور وہ بھی رائے ظاہرے سے (نہ غور وتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

(11:27) اراذلنا۔ ہم میں سے نیچ قوم ۔ ہمارے رذیل لوگ۔ ارذل کی جمع جو رذالۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ جمع الجمع ہے رذل کی جمع ارذل اور ارذل کی جمع اراذل ہے۔ بادی الرای۔ بادی النظر میں۔ ظاہراً ۔ سرسری نظر میں۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ؟ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔

(11:28) ارء یتم۔ اخبرونی۔ مجھے بتاؤ تو۔ بھلا یہ تو بتاؤ۔ فعمیت علیکم۔ پھر وہ پوشیدہ کردی گئی ہو تم پر (یعنی وہ تمہاری نظرون سے پوشیدہ ہو) ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ لعمیۃ (تفعل) سے ۔ جس کے معنی اندھا کردینے اور چھپا دینے کے ہیں۔ انلزمکموھا۔ الف استفہامیہ نلزم مضارع جمع متکلم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مفعول اول ۔ ھا مفعول دوئم۔ ضمیر کا مرجع الرحمۃ ہے۔ واؤ دو ضمیروں کے درمیان وصل کے لئے ہے۔ کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں۔ کیا ہم اس کو تمہارے گلے مڑھ دیں۔ (تھانوی) اسی طرح استینکموہ (15:22) وانتم لہا کارھون۔ حالانکہ تم اس سے کراہت کرتے ہو۔ جب کہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انکو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

(11:29) یقوم۔ اے میری قوم قوم اصل میں قومی تھا۔ علیہ۔ میں ۃ ضمیر واحد مذکر غائب۔ تبلیغ رسالت کے لئے ہے۔ یعنی اس تبلیغ پر میں تم سے کوئی اجز نہیں مانگ رہا۔ طارد۔ طرد سے اسم فاعل واحد مذکر حاضر۔ ہانکنے والا۔ تطرد (باب نصر) ہانکنا، کسی کو ذلیل و حقیر جان کر دور کردینا۔ ہٹا دینا وما انا بطارد الذین امنوا۔ یعنی میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اپنے پاس سے اس واسطے دھتکارنے سے رہا۔ جو تمہاری نظروں میں ذلیل ہیں لیکن وہ درحقیقت خداوند تعالیٰ کے حضور شرف باریابی پانے والے ہیں۔ ایسا ہی مطالبہ کفار نے رسول کریم ﷺ سے کیا تھا۔ کہ جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ (الایۃ 6:52) اور ان لوگوں کو نہ نکالئے جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں۔ خاص اسی کی رضا کا قصد کرتے ہیں۔ تجھلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جہالت کرتے ہو۔ تم نادانی کرتے ہو۔ الجھل جہالت۔ نادانی۔ جہالت تین قسم پر ہے۔ (1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا۔ اور یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ (2) کسی کام کو جس طرح سرانجام دینا چاہیے اس کے خلاف سرانجام دینا۔ قطع نظر اس کے کہ اس کے متعلق اعتقاد صحیح ہے یا غلط۔ جیسے قصداً نماز ترک کردینا۔ جاہل کا لفظ عموماً بطور مذمت بولا جاتا ہے مگر کبھی بغیر مذمت کے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ آیت یحسبھم الجاہل اغنیاء من التعفف (2:273) نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون۔ بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ تم ایسے لوگ ہو کہ جہالت کئے جا رہے ہو۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور برادران ملت اگر میں انکو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لئے) کون میری مدد کرسکتا ہے ؟ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

افلا تذکرون۔ مضارع منفی جمع مذکر ھاضر۔ الف استفہامیہ۔ تم کیوں غور نہیں کرتے۔ تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے۔ تذکر (تفعل) سے دھیان دینا۔ نصیحت پکڑنا۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دیگا جو انکے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں۔

(11:31) تزدری۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ ازدراء (افتعال) سے زری مادہ (باب افتعال میں ت کود سے بدلا گیا ہے) تمہاری آنکھیں دیکھتی ہیں۔ (جنہیں تمہاری نظریں) حقیر اور بےوقعت دیکھتی ہیں۔ یہ اصل میں تزدریہم اعینکم تھا۔ (یعنی مفعول محذوف ہے) بمعنی تم انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو۔ زری علی۔ کسی پر عیب لگانا۔ لن یؤتیہم اللہ خیرا۔ کہ اللہ ان کو بھلائی نہیں دیگا۔ اجر نہیں دے گا۔ انی اذا لمن الظالمین۔ ای ان قلت شیئا من ذلک انی اذا لمن الظالمین (اگر میں کوئی ایسی بات کہوں تو میں ظالموں میں سے ہوجاؤں گا)
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر نازل کرو۔

(11:32) جادلتنا (باب مفاعلہ) تو نے ہم سے جھگڑا کیا۔ جدل مادہ۔ تعدنا۔ تو ہمیں ڈراتا ہے۔ تو ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر جمع متکلم وعدہ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے (تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) لیکن یہاں پہلے معنی مراد ہیں۔
Ayah 11:33

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کو تو خدا ہی چاہے گا تو نازل کریگا۔ اور تم (اس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔

(11:33) معجزین ملاحظہ ہو (11:20) عاجز کردینے والے۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور خدا یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیر خواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے۔ اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(11:34) یغویکم۔ مضارع منصوب۔ واحد مذکر غائب۔ اغواء (افعال) مصدر ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو کج راہ چھوڑ دے۔ وہ تمہیں گمراہ رکھے۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ و کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں برئی الذمہ ہوں۔

(11:35) افترہ۔ اس نے اس کو گھڑ لیا۔ اس نے اس کا افتراء کیا۔ افتری صیغہ ماضی واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب فعل کے فاعل جمہور کے نزدیک حضرت نوح ہیں۔ لیکن مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ بصورت اول ہ ضمیر سے مراد وہ کلام ہے جو حضرت نوح پر بذریعہ وحی نازل ہوا۔ اور دوسری صورت میں اس سے مراد قرآن حکیم ہے۔ جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا۔ اجرامی۔ میرے جرم کا وبال۔ ای وبال اجرامی۔ وانا بریٔ مما تجرمون۔ جو جرم تم کر رہے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جو کام یہ کر رہے ہیں انکی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔

(11:36) لا تبتئس۔ تو غم نہ کھا۔ تو غمگین نہ ہو۔ ابتئاس (افتعال) غمگین اور رنجیدہ ہونا فعل نہی واحد مذکر حاضر۔
Ayahs 11:37–38

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے۔

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو (نوح نے) کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب انکی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے ' وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

(11:37) باعیننا۔ ہماری نظروں کے سامنے۔ ہماری حفاظت اور نگرانی میں۔ ووحینا اور ہماری ہدایات کے مطابق۔ ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے درخواست نہ کریں۔
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

(11:39) من یاتیہ۔ ای اینا من یاتیہ نحن اوانتم۔ یعنی عنقریب ہی تم کو معلوم ہوجائیگا کہ عذاب کس پر آتا ہے ہم پر یا تم پر۔ یخزیہ۔ جو اس کو رسوا کر دے گا (جس پر نازل ہوگا) (یہ عذاب دینا ہے) عذاب مقیم۔ ایسا عذاب جو ہمیشہ رہے گا۔ (اور یہ عذاب آخرت ہے) مقیم اقامۃ سے اسم فاعل۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح (کو) حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجا ئیگا) اسکو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اسکو کشتی میں سوار کرلو اور انکے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔

(11:40) فار۔ ماضی واحدمذکر غائب باب نصر۔ فور فئور اور فوران مصادر اس نے جوش مارا۔ وہ ابل پڑا۔ زوجین اثنین۔ دو زوج۔ یعنی ایک نر اور ایک مادہ۔ زوج جوڑے کے ہر فرد کو کہتے ہیں۔ عورت کو بھی زوج کہا جاتا ہے اور مرد کو بھی۔ اس لئے جب زوجین (تثنیہ) ہوگا تو اس سے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ ہوں گے۔ اہلک۔ تیرے گھر والے۔ تیرے گھر کے لوگ۔ اہل مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔ جب فعل استعمال ہو تو بمعنی اس نے ہلاک کیا۔ اس نے غارت کیا۔ کے ہوں گے۔ ومن امن کا عطف اہلک پر ہے اور وہ بھی جو ایمان لائے ہوئے ہیں۔ الا حرف استثناء ہے۔ من سبق علیہ القول منی۔ مستثنیٰ ۔ ماسوائے ان کے جن پر پہلے ہی حکم (ان کے غارت ہونے کا) جاری ہوچکا ہے۔