Ayahs 11:1–21 ۔ قرآن حکیم کی سب ہی آیتیں محکم ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کی آیتوں کو محکم کیا گیا ہے نظم و ترکیب اور معانی و مضامین دونوں کے اعتبار سے۔ پس نہ اس کے ظاہر پر کسی اعتراض کی کوئی گنجائش ہے اور نہ اس کے باطن اور معانی کے لحاظ سے کسی شک و شبہ کے لیے کوئی مساغ و مجال اور نہ کسی اور کتاب سے اس کے منسوخ ہونے کا کوئی سوال و احتمال۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی جملہ آیتیں محکم ہیں۔ " احکام " کے معنی گھانٹھنے اور مضبوط کرنے کے ہیں۔ سو نظم قرآنی کے محکم اور مضبوط ہونے کے اس عام مفہوم کے علاوہ جو کہ ابھی اوپر بیان ہوا ایک اور مفہوم اس کا یہ بھی ہے کہ اس کی تعلیمات پہلے گٹھے ہوئے مختصر اور جامع جملوں کی شکل میں نازل ہوئیں۔ پھر ان کو بالتدریج واضح اور مفصل فرمایا گیا جیسا کہ مکی دور کی ابتداء میں نازل ہونے والی سورتیں اختصار، جامعیت اور اعجاز بیان کا ایک منفرد نمونہ اور دریا بکوزہ کی مثال ہیں، پھر رفتہ رفتہ ان کی تفصیل ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ مدنی دور میں وہی بنیادی باتیں ایک جامع اور ہمہ گیر زندگی کی شکل میں نمایاں ہوگئیں۔ اسی کا اشارہ " ثم " کے کلمہ تراخی سے ملتا ہے اور یہ اس کتاب حکیم کی ایک منفرد اور امتیازی شان ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال کسی بھی اور کتاب میں نہیں مل سکتی۔ والحمدللہ)
2 ۔ قرآن حکیم کی جملہ آیتوں کی تفصیل بھی اللہ کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا پھر اس کی آیتوں کی تفصیل بھی ایک نہایت ہی حکمت والی اور بڑی ہی باخبر ذات کی طرف سے کردی گئی جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں گزرا۔ اور اس طور پر کہ اس کے عقائد و احکام، مواعظ و امثال اور اخبار و عبر وغیرہ وغیرہ کی تفصیلات باہم ملتی جلتی ہیں۔ اور ان کو چھوٹی بڑی مختلف سورتوں اور آیتوں میں اس طرح مفصلا بیان کردیا گیا کہ گویا بیش بہا موتیوں کو ایک لڑی میں نہایت عمدگی اور خوبصورتی سے پرو دیا گیا اور اس جامعیت کے ساتھ کہ زندگی کے ہر گوشہ سے متعلق اس میں نہایت واضح اور مقدس تعلیمات موجود ہیں اور اس معجزانہ اسلوب و انداز میں کہ یہ کتاب حکیم قیامت تک آنے والے تمام انسانوں اور جملہ زمانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے کافی ہے، اور یہ ایسی اعجازی شان ہے جو اس کتاب حکیم کے سوا کسی بھی دوسری کتاب کو نہ آج تک کبھی نصیب ہوسکی ہے اور نہ قیامت تک کبھی اس کا کوئی امکان ہے۔ اور یہ اسی خدائے حکیم وخبیر کی شان ہوسکتی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 11:3–45 ۔ پیغمبر کی صفت و شان تبشیر : سو پیغمبر کی زبان سے اعلان کروایا گیا کہ میرا کام ہے خوش خبری سنانا۔ یعنی دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کی خوشخبری سنانا ان لوگوں کو جو عقیدہ توحید سے سرشار اور صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی سے مشرف ہوں کہ ان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی ہے کہ ایسوں کو دنیا میں حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " کی نعمت نصیب ہوگئی اور آخرت میں ان کو جنت کی سدا بہار نعمتوں اور وہاں کی نعیم مقیم سے نوازا جائے گا۔ سو اللہ پاک کے بھیجے ہوئے انبیاء و رسل ہمیشہ یہی پیغام لے کر آئے کہ عبادت و بندگی اور اس کی ہر قسم و شکل اللہ وحدہ لاشریک ہی کا حق ہے اور اسی کے لیے ان کو نذیر و بشیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یعنی ماننے والوں کو خوش خبری سنانا اور نہ ماننے والوں کو خبردار کرنا۔ کہ وہ اگر باز نہ آئے اور راہ حق و صواب کی طرف لوٹے تو ان کا انجام بڑا ہی برا ہوگا۔
6 ۔ رب سے گناہوں کی بخشش مانگنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ معافی مانگو اپنے رب سے کہ گناہ جتنے بھی بڑے اور جس قدر بھی زیادہ ہوں وہ ان کو معاف فرمانے والا ہے بشرطیکہ توبہ صحیح اور سچی ہو کہ اس کی بخشش و رحمت لامحدود ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور سچی توبہ پر وہ گناہوں کی ایسی بخشش فرماتا ہے کہ ان کا نام و نشان بھی مٹا دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ نے ارشاد فرمایا " التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ " یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں " اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے کہ وہ گناہوں کو اس طرح معاف فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے پیغمبر کی بشارت کے پہلو کو ذکر فرمایا گیا ہے کہ تم لوگ اپنے رب سے مغفرت و بخشش کی دعا مانگو اور اسی کی طرف توبہ اور رجوع کرو تو وہ تم لوگوں کو ان اور عنایات سے نوازے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
7 ۔ توبہ اور رجوع الی اللہ کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ توبہ اور رجوع کرو اس کی طرف۔ پس تم لوگ سچی اور صحیح توبہ کرو جس کے بنیادی طور پر تین رکن ہیں ایک اپنے کئے پر ندامت و شرمندگی، دوسرے برائی کو چھوڑ دینا اور تیسرے اس کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا پکا و پختہ عزم کرنا۔ اور چوتھا یہ بھی ہے کہ جس کسی کا حق مارا ہو وہ اس کو واپس کردیا جائے۔ سو ان ارکان کی رعایت و پابندی کے ساتھ جو توبہ کی جائے گی وہ صحیح توبہ ہوگی اور وہ ضرور قبول ہوگی۔ انشاء اللہ۔ سو اگر تم لوگوں نے اپنے گزشتہ کفر و شرک اور دوسرے معاصی وذنوب پر نادم اور شرمندہ ہو کر ان کو ترک کردیا اور اپنے کیے کرائے پر اس سے معافی مانگی پھر سچی توبہ اور رجوع الی اللہ کے ذریعے آئندہ کے لیے ہر قسم کی عبادت و بندگی کو اسی کے لیے خاص کیا تو وہ تم کو اس دنیا میں بھی " متاع حسن " اور عمدہ نعمتوں سے نوازے گا۔ تمہاری عمروں میں برکت ڈالے گا اور تمہیں وقت مقرر تک مہلت دے گا اور تمہیں ان مخاطر اور نقصانات سے محفوظ رکھے گا جو کفر و شرک اور معاصی وذنوب پر اصرار کرنے والوں کو پہنچتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
8 ۔ اللہ تعالیٰ کی نوازش کی خوش خبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو دنیا کے متاع حسن یعنی عمدہ سامان زندگی سے نوازے گا کہ اس کی تو شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ اور اس قدر کہ اسے کرم اور اس کی عطا کی کوئی حد و انتہا ہی نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو بندے کا کام ہے اس کی طرف رجوع کرنا اور ہمیشہ رجوع رہنا۔ اور اس کی شان ہے نوازنا اور کرم فرمانا ہے اور اس قدر کہ اس کے کرم اور اس کی شان ہے نوازنا اور لگاتار نوازنا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس کی عنایات اور نوازشات سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ایمان صادق اور عمل صالح ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) ۔ (النحل : 97) سو ایمان و یقین، عمل صالح اور توبہ و استغفار سعادت دارین سے سرفرازی اور عنایات خداوندی سے بہرہ مندی کے بنیادی اور اہم ذرائع و وسائل ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
9 ۔ اعمال صالحہ کا بدلہ آخرت سے پہلے دنیا میں بھی : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نیک اعمال کا کچھ بدلہ انسان کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد ربانی میں فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نیک اعمال کا بدلہ انسان کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتا ہے، اگرچہ ان کا اصل اور پورا بدلہ آخرت ہی میں ملے گا، لیکن ان کا کچھ نہ کچھ بدلہ مختلف نعمتوں کی شکل میں اس دنیا میں بھی ملتا ہے جس طرح کہ برے اعمال کی کچھ سزا دنیا میں بھی ملتی ہے۔ اور مختلف شکلوں میں ملتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اگرچہ ان کی اصل اور پوری سزا آخرت میں ہی ملے گی کہ " دار الجزاء " بہرحال وہی ہے اور دنیا " دار الجزاء " نہیں " دار العمل " اور " دار الامتحان " ہے اس لیے عقل و نقل سب کا تقاضا ہے کہ آخرت اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنے پیش نظر رکھا جائے۔
10 ۔ ہر فضل والے کو اس کے فضل سے نوازا جائے گا : کہ اس کے صحیح عقیدے اور نیک عمل کی بناء پر وہ اس کو دنیا میں پاکیزہ زندگی اور نیک اعمال کی توفیق مزید سے بھی نوازے گا اور آخرت میں اس کو اس کی نیکیوں کے مطابق جنت کے درجات عالیہ سے بھی سرفراز فرمائے گا۔ سو جتنا کوئی اپنے عقیدہ و ایمان، صدق و اخلاص اور عمل و کردار میں آگے بڑھا ہوگا اسی قدر اس کو وہاں پر درجات عالیہ اور مرتب رفیعہ سے نوازا اور سرفراز فرمایا جائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ) الآیۃ۔ (النحل : 97) سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے جو کہتے ہیں کہ جو کوئی آخرت بنائے گا اس کی دنیا گئی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بلکہ اگر امعان نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ طالب عقبیٰ ہی دنیا سے صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور وہی دنیا کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اور اس کو اپنے پیش نظر رکھ کر اس سے حقیقی فائدہ اٹھاتے اور اپنی آخرت بناتے ہیں۔ اور اس طرح وہ دنیا و آخرت دونوں کی حقیقی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند اور سرفراز ہوتے ہیں۔
11 ۔ حق سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ بہت برا۔ والعیاذ باللہ : سو پیغمبر نے ان لوگوں سے مزید فرمایا کہ اگر پھر بھی تم لوگ پھرے اور منہ موڑے ہی رہے تو مجھے تمہارے بارے میں سخت اندیشہ ہے ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا۔ یعنی قیامت کے دن کے عذاب کا (جامع البیان، المراغی، المحاسن وغیرہ) جس کی ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ اس میں بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے (يَوْمًا يَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبَا) سو اگر تم لوگوں نے اس راہ حق و ہدایت سے منہ موڑا تو تمہارا حشر بھی اس ہولناک دن میں ویسا ہی ہوگا جیسا کہ دوسری منکر اور باغی قوموں کا ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ سو قیامت کے اس ہولناک دن کا اندیشہ ہی انسان کو درست رکھ سکتا ہے۔ اس لیے اس کا اندیشہ و خیال ہمیشہ رکھنا چاہیے تاکہ اس کے لیے تیاری کی جاس کے کہ اس کے لیے تیاری اور عمل کا موقع دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود و مختصر ہی میں ہوسکتا ہے ورنہ پھر کوئی موقع نہیں ہوگا۔ پس اگر تم لوگوں نے دعوت حق کو قبول کرکے صحیح راہ کو اپنایا تو اس کا فائدہ تم ہی لوگوں کو پہنچے گا۔ اور اگر تم نے اس سے اعراض برتا اور منہ موڑا تو اس کا نقصان بھی خود تم ہی لوگوں کو ہوگا۔ پس تم اپنے نفع و نقصان کے بارے میں سوچ کر خود ہی فیصلہ کرو۔ سو نور حق و ہدایت سے بہرہ مند و سرفراز رکھے۔ آمین۔
Ayahs 11:5–613 ۔ منکرین کے اعراض و استکبار کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پھیرتے ہیں اپنے سینوں کو تاکہ یہ چھپ سکیں اس سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے۔ تاکہ اس طرح یہ بچ سکیں اس کی گرفت و پکڑ سے یا (مِنہ) کی اس ضمیر کا مرجع رسول ہیں۔ ﷺ یعنی تاکہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے چھپ سکیں۔ تاکہ اس طرح نہ یہ ان کی صورت کو دیکھ سکیں اور نہ ان کی آواز حق کو سن سکیں۔ سو (منہ) کی ضمیر کے مرجع میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں۔ (الجامع، المنار، المعارف وغیرہ) اور اس طرح یہ بدنصیب لوگ اپنی حرمان نصیبی کا سامان خود کر رہے ہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا۔ اور اس طرح یہ لوگ نور حق و ہدایت سے اور محروم ہوتے ہیں جو کہ سب سے بڑی محرومی ہے۔ لیکن ان کو اس کا احساس ہی نہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے خبث باطن اور سوء اختیار کا کہ اس سے انسان ادراک و احساس کے پاکیزہ مشاعر سے بھی محروم ہوجاتا ہے اور وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھنے سے بھی عاری ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے اس رویے کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے جو کفار و منکرین پیغمبر کے انذار کے بارے میں اپنائے ہوئے تھے کہ یہ لوگ کبر و غرور کی بناء پر اپنے سینے موڑ کر وہاں سے چل دیتے اور اپنے زعم میں سمجھتے کہ گویا انہوں نے اس طرح کرکے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کے انذار سے محفوظ کرلیا۔ اور اس طرح یہ اپنی حماقت پر حماقت کا ثبوت دیتے۔ اور اپنی محرومی کی چھاپ کو اور پکا اور گہرا کرتے مگر ان کو اس کا شعور و احساس نہ ہوتا۔
14 ۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس وقت بھی خوب جانتا ہے جبکہ یہ اپنے اوپر کپڑے لپیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ سو وہ ایک برابر جانتا ہے جس کو یہ لوگ چھپاتے ہیں اور جس کو یہ ظاہر کرتے ہیں۔ سو وہ ان کے اسرار اور اعلان کی دونوں حالتوں کو خوب جانتا ہے کہ عیاں و نہاں سب اس کے یہاں ایک برابر ہے۔ اور یہاں بھی (ما یسرون) اور (ما یعلنون) دونوں کو ایک ساتھ ذکر کرنے سے یہی مفہوم نکلتا ہے ورنہ محض (ما یعلنون) کو تو ہر کوئی جانتا ہے۔ سو اس عالم الغیب والشہادۃ کے یہاں یہ دونوں صورتیں ایک برابر ہیں۔ اور غیب و شہادہ یعنی ظاہر و پوشیدہ اور عیاں و نہاں کی یہ تقسیم بھی اس کے بندوں کے لحاظ سے اور ہما و شما کے اعتبار سے ہے جو غیب کو بھی ایسے ہی جانتا ہے جیسے شہود کو۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے۔ بھلا ایسی ذات اقدس و اعلیٰ سے کسی کا چھپنا یا اپنے کسی حال کو چھپانا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ پس جو اپنے کپڑے ڈال کر اور اپنی چادریں اپنے اوپر ڈال کر اس سے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بڑے ہی احمق اور مت کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔ جو اپنے اس اعراض وا ستکبار اور کبر و غرور سے خود اپنی ہی حرمان نصیبی کا سامان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
15 ۔ اللہ سے کسی چیز کو چھپانا ممکن نہیں : کہ اللہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ وہ پوری طرح جاننے والا ہے سینوں کے بھیدوں کو بھی۔ پس اس سے کوئی بھی چیز چھپ نہیں سکتی اور جب اللہ سے چھپنا ممکن ہی نہیں تو پھر ان کوڑھ مغزوں کی ان چالبازیوں کا فائدہ ہی کیا۔ سوائے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے۔ اور خود کو نور حق و ہدایت سے اور دور اور محروم کرنے کے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اہل بدعت جو اپنے مزعومہ وسیلہ کے اثبات کے لیے اس طرح کی قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں کہ صاحب جب تم دنیا کے کسی بادشاہ کے پاس براہ راست نہیں پہنچ سکتے، اپنی عرضی و درخواست خود پیش نہیں کرسکتے اور وہاں پر تمہاری شنوائی نہیں ہوسکتی جب تک کہ تم کوئی وسیلہ و واسطہ نہ پکڑو۔ تو پھر تم براہ راست اللہ تعالیٰ کے یہاں بلا کسی وسیلہ و واسطہ کے کیسے پہنچ سکتے ہو ؟ وغیرہ وغیرہ۔ تو ان لوگوں کی یہ منطق و قیاس آرائی ایسی نصوص کریمہ سے باطل اور مردود قرار پاتی ہے اور اس میں بنیادی غلطی جو کہ آگے کئی طرح کی خرابیوں اور غلطیوں کی اساس اور جڑ بنیاد ہے، یہ ہے کہ اس میں حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ کو مخلوق پر قیاس کیا گیا ہے۔ جبکہ وہ خالق ہے اور اس کی شان مخلوق سے کہیں اعلیٰ وبالا اور وراء الوراء ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بھلا جس ذات سے انسان کی کوئی حالت و کیفیت پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور جو دلوں کی باتوں اور سینوں کے بھیدوں تک کو پوری طرح جانتا ہے اس کو دنیا کے عاجز ناقص العلم اور بیخبر بادشاہوں پر قیاس کرنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟ تَعَالَی اللہُ عَمَّا یَقُولُونَ عُلّوًّا کَبِیرًا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے طور پر مثالیں بیان کرنے سے منع فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر منع فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( فَلاَ تَضرِبُوا لِلّٰہِ الاَمثَال) ۔ (النحل :74) یعنی تم لوگ اللہ کے لیے از خود مثالیں مت بیان کرو اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ انسان اپنے طور پر جو بھی کوئی مثال بیان کرے گا وہ مخلوق کے لائق اور مخلوق ہی کے دائرے میں ہوگی۔ کیونکہ اس کی کھوپڑی بہرحال مخلوق اور محدود ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ دائرہ مخلوق سے وراء الوراء اور اس سے کہیں اعلیٰ وبالا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسی لیے سورة نحل کی مذکورہ بالا آیت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ (وَاللہُ یَعلَمُ وَاَنتُم لاَتَعلَمُونَ ) ۔ یعنی " اللہ جانتا ہے اور تم لوگ نہیں جانتے " پس اللہ تعالیٰ کو ویسے ہی مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کا رسول بتائے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔ اللہم ربنا ہذہ نواصینا بین یدیک فخذنا بھا الی ما تحب وترضی بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، ولا تکلنا الی انفسنا طرفۃ عین، وکن لنا ولا تکن علینا، واھدنا واھدبنا، ویسر الھدی لنا، انت مولانا علیک توکلنا والیک انبنا والیک المصیر، ولا حول ولا قوۃ الا بک یا ذا الجلال والاکرام یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 11:718 ۔ تخلیق کائنات کے دنوں سے مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو چھ دنوں میں۔ یعنی اللہ۔ جل شانہ۔ کی شان کے دنوں کے اعتبار سے جو کہ دراصل کنایہ ہے چھ مختلف ادوار سے نہ کہ ہمارے ان دنوں کے اعتبار سے جن کو ہم دیکھتے اور جانتے ہیں۔ جو کہ اس زمین و آسمان میں اور سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے بنتے ہیں۔ اور جب آسمان و زمین کی اس کائنات کی تخلیق سے پہلے طلوع و غروب کا یہ نظام سرے سے تھا ہی نہیں تو ظاہر ہے کہ ایسے میں ان چھ دنوں سے مراد ہمارے یہاں کے یہ مشہور و معروف چھ دن نہیں ہوسکتے۔ سو ان چھ دنوں سے مراد خدائی چھ دن ہیں اور وہ مختلف ادوار واطوار ہیں جن میں اس کائنات کی انشاء وتکوین کا یہ حکمتوں بھرا نظام تکمیل پذیر ہوا اور اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے یہاں کا ایک دن تو ہمارے یہاں کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ( ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) (الحج :47) پس ان چھ دنوں کو اپنے دنیاوی دنوں کے اعتبار سے دیکھنا صحیح نہیں۔ (المراغی، المنار وغیرہ) سو اس سے یہ درس عظیم ملتا ہے کہ یہ کارخانہ قدرت کوئی بازیچہ اطفال نہیں جو یونہی بن گیا ہو اور یونہی ختم ہوجائے۔ بلکہ یہ نہایت ہی پر حکمت اور بامقصد تخلیق ہے جس کو نہایت ہی عظیم الشان مقاصد کے لیے خاص اہتمام کے ساتھ وجود میں لایا گیا ہے۔ اور انسان جو اس کائنات ہست و بود میں گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے اور جو کہ اس کی گوناگوں نعمتوں اور دوسری بےحد و حساب مخلوق سے طرح طرح سے مستفید و فیضاب ہو رہا ہے اور جو کہ ان سب کے مخدوم ومطاع کی حیثیت رکھتا ہے وہ کوئی شتر بےمہار نہیں کہ اس کائنات کی ان بےحد و حساب نعمتوں سے طرح طرح مستفید ہوتا رہے اور کھاتا پیتا اور عیش و عشرت کرتا رہے۔ اور پھر یوں ہی مر مٹ کر ختم ہوجائے، نہ اس سے ان نعمتوں کے بارے میں کوئی پوچھ ہو نہ کوئی حساب کتاب۔ نہ کسی کو اس کی اچھائی کا صلہ ملے اور نہ کسی کو اس کی برائی کی سزا۔ اگر ایسے ہو تو پھر اس ساری کائنات کی اور اس کے مخدوم ومطاع حضرت انسان کی تخلیق و پیدائش کا یہ سب سلسلہ عبث و بیکار قرار پاتا ہے جو کہ حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ کی رحمت بےنہایت اور حکمت بےغایت کے سراسر خلاف ہے۔ (فَتَعَالَی اللہُ عَمَّا یَقُولُونَ عُلُوًّا کَبِیرًا) ۔ سو حکمتوں اور نعمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق کا اصل اور سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ کائنات کی اس کھلی کتاب کو دیکھ کر انسان اپنے خالق ومالک کو پہچانے۔ اس کی معرفت کے شرف سے مشرف ہو اور صدق دل سے اس منعم حقیقی کے آگے جھک جائے تاکہ اس طرح وہ ابدی زندگی کی حقیقی سعادتوں اور کامرانیوں سے بہرہ ور و سرفراز ہوسکے۔ ورنہ اپنے کئے کی پاداش میں ابدی ہلاکت کے گڑھے میں گر کر اپنے اس انجام کو پہنچ کر رہے جس کا حقدار اس نے اپنے آپ کو خود بنا لیا ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اور تخلیق کائنات کے اصل مقاصد پورے ہو کر رہیں جیسا کہ یہاں پر بھی اس کی تصریح فرمائی جارہی ہے (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) ۔ یعنی تاکہ اس طرح وہ تمہاری آزمائش کرے اور دیکھے کہ تم میں سب سے اچھا عمل کس کا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
19 ۔ عرش الہی کے پانی پر ہونے کا مطلب ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کا عرش پانی پر تھا " یعنی اس کے اور پانی کے درمیان کسی اور چیز کا فاصلہ نہیں تھا۔ یہ نہیں کہ عرش پانی کے اوپر رکھا ہوا تھا۔ (المحاسن الکشاف وغیرہ) باقی عرش خداوندی عالم غیب کے ان حقائق میں سے ہے جن کی پوری حقیقت کا ادراک و احاطہ ہمارے بس سے باہر ہے ہم بس اس پر اسی طرح ایمان رکھتے ہیں جس طرح کہ نصوص قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ کما ھو طریق سلفنا الصالح۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔ سو اس کی یہ شکل بہرحال نہیں تھی کہ عرش الہی اسی طرح پانی پر قائم اور موجود تھا جس طرح کہ کشتی پانی کے اوپر ہوتی ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے عرش کے نیچے کچھ نہیں تھا سوائے پانی کے جو کہ ہر مخلوق کی اصل ہے۔ جس کو علمائے فلکیات۔ " سدیم " سے تعبیر کرتے ہیں اور جس کو قرآن کی زبان میں " دخان " کہا گیا ہے۔ سو اس کرہ ارضی کی خشکی کے نمودار ہونے سے پہلے یہ سارا کرہ مائی تھا۔ اور اسی پر اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد اور اس کی تکوین و تخلیق سے پانی کا یہی جوہر حیات کچھ آسمان کی شکل میں ظاہر ہوا اور کچھ زمین کی شکل میں۔ ورنہ اس سے پہلے یہ ایک ہی مادے کی شکل میں تھا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا (اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ ) ۔ (الانبیاء : 30) سو جو خداوند قدوس اس قدرت اور ایسی شان کا مالک ہے وہی معبود برحق ہے اور جب اس کی اس تکوین و تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور جو ایسی قدرت بےپایاں اور حکمت بےنہایت کا مالک ہے وہ اس کائنات کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے کہ دوبارہ پیدا کرنا تو نسبۃ آسان ہوتا ہے۔ (سبحانہ وتعالیٰ ۔ (المنار، المراغی اور تدبر وغیرہ) ۔ سو کائنات کہ یہ کھلی کتاب ایک عظیم الشان کتاب ہے، مگر غفلت کا کیا جائے ؟
20 ۔ تخلیق کائنات برائے ابتلاء و آزمائش : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین کی اس کائنات کو اس کے اندر جو کچھ ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اسی لیے پیدا فرمایا کہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ آسمان و زمین کی اس کائنات میں قدرت کی ودیعت فرمودہ طرح طرح کی اور بےحد و حساب نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر تم لوگ اپنی مرضی و ارادہ سے کونسا راستہ اختیار کرتے ہو۔ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی اور اس کی رضا و خوشنودی والا راستہ، جو کہ ذرعیہ ہے دائمی و ابدی سعادتوں کا یا اس کے برعکس اپنی اھواء و اغراض اور خواہشات نفس پیروی کا راستہ جو کہ باعث ہے دائمی شقاوت و بدبختی کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس حکمتوں اور نعمتوں بھری کائنات کو اس لیے پیدا فرمایا گیا کہ انسان اس کے اندر غور و فکر سے کام لے کر اپنے خالق ومالک کی معرفت سے سرشار ہو اور دل و جان سے اس کے آگے جھک جائے اور اس کی رضاء و خوشنودی کے لیے اچھے سے اچھا عمل کرے۔ اور اچھے کام یعنی " احسن عمل " کے لیے دو بنیادی باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ ایک اخلاص اور دوسری اتباع یعنی جو کام کرے وہ خالص اس کی رضا کے لیے کرے۔ اس میں دوسری کسی غرض کا کوئی شائبہ شامل نہ ہو اور کرے بھی دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق۔ سو ایسی صورت میں انسان کو تھوڑا عمل بھی کافی ہوجائے گا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا کہ تم اپنے دین کو خالص کرو۔ تمہیں تھوڑا عمل بھی کافی ہوجائے گا۔ " اخلص دینک یکفیک العمل القلیل " (الترغیب والترہیب جلد : 1 صفحہ 54) یعنی تم اپنے دین میں اخلاص پیدا کرو، پھر تم کو تھوڑا عمل بھی کافی ہوجائے گا۔ سو یہ مطلب ہے آسمانوں اور زمین کی اس کائنات کو ابتلاء آزمائش کے لیے پیدا کرنے کا (روح المعانی وغیرہ) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
21 ۔ بعث بعد الموت کی ضرورت : سو بعث بعد الموت ضروری ہے تاکہ اس عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور علیٰ وجہ التمام والکمال پورے ہوں۔ اور تاکہ اس طرح تم اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ پاسکو اور عدل و انصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوسکیں جس کے نتیجے میں نیک بخت اور سعادت مند لوگ جنت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوسکیں اور سرکش و نافرمان اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتیں اور دائمی عذاب میں مبتلا ہو کر رہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو بعث بعد الموت عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے لیکن ہٹ دھرم لوگ اس کو نہیں مانتے کیونکہ حیات بعد الموت کے بغیر اس دنیا جہاں کا وجود عبث اور باطل و بیکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے سورة آل عمران کی آیت نمبر 191 میں الوا الالباب کی صفت اور ان کی شان کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کائنات میں غور و فکر کے نتیجے میں پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ باطل اور بیکار نہیں پیدا فرمایا۔ تیری شان اس سے پاک ہے کہ تو ایسا بیکار کام کرے۔ پس تو اے ہمارے مالک دوزخ کی آگ سے بچا لے۔ (رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ ) ۔ (آل عمران : 191) یعنی اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ بیکار پیدا نہیں کیا تو پاک ہے پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
22 ۔ منکر انسان کی محرومی کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان لوگوں سے کہیں کہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا تو یہ کافر لوگ کہتے ہیں۔ کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلم کھلا۔ سو بعث بعد الموت کی اس اہم حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ لوگ اس کو جادو قرار دے رہے ہیں کہ حقیقت تو ان باتوں کی کچھ نہیں، مگر اس کلام کا زور ایسا ہے کہ یہ دل و دماغ پر جادو کا اثر کرتا ہے، سو یہ بدبخت اور محروم انسان کی بدبختی اور محرومی کا ایک کھلا مظہر ہے کہ قرآن حکیم کی بیان کردہ حقیقتوں کی صداقت اور اس کی قوت تاثیر کو یہ لوگ خود محسوس اور تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن آگے اس کو کلام حق تسلیم کرنے کی بجائے اس کو جادو کا اثر اور زور قرار دیتے ہیں۔ بھلا کبھی جادوگر بھی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ؟ سو یہ منکرین کی محرومی اور ہٹ دھرمی کا کھلا ثبوت ہے۔ حالانکہ بعث بعد الموت ایک ایسی اہم اور بنیادی حقیقت ہے جو عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے اور جس کا اعلان و اظہار یہ کائنات پوری اپنی زبان حال سے خود کر رہی ہے۔ اسی لیے اولوا الالباب اس میں غور و فکر کرنے کے بعد فورا اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اس کائنات کو عبث و بیکار پیدا نہیں کیا۔ جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں گزرا۔ مگر ان منکرین کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ ان کو جب اس حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلم کھلا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 11:823 ۔ منکرین کے مذاق و استہزاء کا جواب : سو منکرین کے عذاب کے بارے میں مذاق و استہزاء کے جواب میں ایک اصولی ہدایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ سو اگر ہم ان سے ان کے عذاب کو کچھ مدت کے لیے ٹال دیتے ہیں اپنی سنت و دستور کے مطابق کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا) (الطلاق : 3) اور ہر چیز اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوگی تو اس تاخیر و امہال سے ایسے تنگ ظرف اور مست ہوجاتے ہیں اور وہ بجائے اپنی روش کی اصلاح کے حق اور اہل حق کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ عذاب آتا کیوں نہیں۔ اس کو کس نے باندھ رکھا ہے وغیرہ وغیرہ سو یہ ان منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی ہے اور ان کی محرومی و بدبختی کا ایک ثبوت بھی کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی رحمت و عنایت سے ان کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ یہ توبہ استغفار اور رجوع الی اللہ کے ذریعے اپنی اصلاح کرلیں اور دائمی عذاب سے بچ جائیں۔ مگر یہ ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ سو یہی حال ہوتا ہے ان لوگوں کا جن کی شقاوت و بدبختی ان پر غالب آجاتی ہے۔ کہ ان کو حق اور صدق کی بات سمجھنے اور اپنانے کی توفیق ہی نصیب نہیں ہوتی اور ہلاکت و تباہی ہی کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
24 ۔ منکرین کے عناد و ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم ان لوگوں سے اس عذاب کو ٹال دیں ایک مدت تک تو یہ کہتے ہیں کہ کس نے روک رکھا ہے اس کو۔ سو اس طرح یہ منکر لوگ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے ایمان و یقین سے محرومی کا کہ انسان اصل مقصد سے منہ موڑ کر اس طرح کے لایعنی مطالبات کرنے اور حق کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے اس ہولناک انجام سے دوچار ہو کر رہتا ہے جس سے نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت اس کے لیے ممکن نہیں رہتی۔ اور یہی ہے سب سے بڑا خسارہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حالانکہ عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے آنے سے پہلے اس سے بچنے کی فکر کی جائے ورنہ عذاب کے آجانے پر نہ یہ اس کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے وہ مزعومہ اور من گھڑت شرکاء و شفعاء ہی کچھ کام آسکتے ہیں جن کا ان کو زعم اور گھمنڈ ہے۔ پس سلامتی اور نجات کی راہ یہی ہے کہ دین حق کی تعلیمات کو صدق دل سے اپنایا جائے۔
25 ۔ منکرین عذاب الہی کی زد میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو کہ جس دن وہ عذاب ان پر آپہنچے گا تو اس کو کسی طرح سے پھیرا نہیں جائے گا اور ان کو گھیر کر رہے گا وہ کچھ جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ سو وقت آنے پر اللہ کے عذاب سے بچنے کی کوئی صورت ایسوں کے لیے ممکن نہ رہے گی، اس طرح کہ نہ وہ عذاب ان سے ٹلے گا اور نہ اس سے نکل بھاگنے کی کوئی صورت ان کے لیے ممکن ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء و شر۔ سو کفر و انکار محرومیوں کی محرومی اور سب سے بڑا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری عنایت سے جو مہلت ان کو ملتی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر یہ اپنی روش کی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ وہ فرصت ان کے ہاتھ سے نکل جائے جو ایک محدود وقت کے لیے ان کو دی گئی ہے۔ اور وہ عذاب ان پر آدھمکے جس کے یہ مستحق ہیں اور جب وہ ان پر آجائے گا تو نہ اس کو یہ لوگ خود ٹال سکیں گے اور نہ ان کے وہ خود ساختہ اور من گھڑت شفعاء اور شرکاء اس موقع پر ان کے کچھ کام آسکیں گے جن پر ان کو بڑا ناز ہے اور جن کا یہ لوگ بڑا زعم اور گھمنڈ رکھتے ہیں۔ اور اس وقت ایسے بدبختوں کو ہمیشہ کے عذاب میں دھر لیا جائے گا۔ سو منکرین بہرحال عذاب الہی کی زد میں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس عقل و نقل کا تقاضا ہے کہ عذاب الہی سے بچنے کی فکر و کوشش کی جائے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayahs 11:9–1026 ۔ تنگ ظرف اور تھڑ دلے انسان کا حال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ایسے انسان کو ہم اپنی طرف سے کوئی زحمت چکھا دیں پھر ہم اس کو اس سے چھین لیں تو یہ بالکل مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ سو یہ اس تنگ ظرف اور تھڑ دلے انسان کا حال ہے کہ یہ صبر و شکر کی خصال عالیہ اور صفات حمیدہ سے عاری اور محروم ہوتا ہے کہ نعمت ملنے پر یہ اتراتا اور شیخی بگھارتا ہے۔ اور اس کے چھن جانے پر یہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے اور حضرت واہب مطلق۔ جل وعلا۔ کی دوسری ان تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے جن سے وہ اس سے پہلے مستفید و فیضیاب ہوتا رہتا ہے اور جن سے وہ اب بھی مستفید و فیضیاب ہورہا ہوتا ہے کہ اس کی نعمتیں تو بےحد و حساب ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ لیکن ایسا انسان اس کی ان تمام عنایات اور نوازشوں کو بھول کر شکایات کے گویا دفتر کھول دیتا ہے کہ مجھ سے یہ ہوگیا اور وہ ہوگیا۔ یوں ہوگیا اور ووں ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔ جو کہ اس کی تنگ ظرفی کی علامت اور اس کی محرومی کی نشانی ہوتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:1128 ۔ صبر کرنے والوں کی استثنائی شان : سو ارشاد فرمایا گیا بجز ان لوگوں کے جو صبر و برداشت سے کام لیتے ہیں اور وہ کام بھی نیک کرتے ہیں۔ یعنی جو راہ حق پر صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت ایک انقلاب آفرین دولت ہے کہ ایسے لوگ اپنے ایمان و عقیدہ اور تسلیم و رضا کی صفات حمیدہ کی بناء پر جب صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں تو اس سے ایک طرف تو ان سے اس مصیبت کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے جو ان کو پہنچی ہوتی ہے اور دوسری اس سے وہ اپنے اجر وثواب کے ذخیرے میں بھی اضافہ کرتے ہیں جس سے ان کو دوسرے فائدوں کے علاوہ ایک خاص قسم کا قلبی سکون و اطمینان بھی ملتا ہے۔ سو ان کا معاملہ تنگ ظرف انسان سے یکسر مختلف اور ہر اعتبار سے دگر گوں اور الگ ہوتا ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت مٹی کو سونے بنا دینے والی ایک عظیم الشان اور انقلاب آفرین دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرتی ہے۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ۔
29 ۔ صبر والوں کے لیے اجر کبیر کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کے لیے عظیم الشان بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی۔ سو اس سے یہ اہم حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان و یقین کی قوت اور اس کی برکت سے انسان کی طبعی اور جبلی کمزوریاں بھی دور ہوجاتی ہیں۔ سو اپنے آرام و راحت اور خوشحالی و فارغ البالی کے دور میں اکڑنے اور اترانے کی بجائے انہوں نے اپنے خالق ومالک کے حضور ہدیہ تشکر و امتنان پیش کرتے ہوئے اعمال صالحہ کی پونجی جمع کرنے کی کوشش کی۔ اور اس طرح ان کی وہ دنیاوی ترقی اور فارغ البالی بھی ان کے لیے خیر و برکت میں اضافے کا ذریعہ بن گئی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمان و عقیدہ کی برکت سے انسان کی فطری و جبلی کمزوریاں بھی کافور ہوجاتی ہیں۔ سبحان اللہ۔ کیسی انقلاب آفرین دولت و نعمت ہے یہ ایمان کی نعمت۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بہ۔ اللہم زدنا منہ وثبتنا علیہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے صابر و شاکر لوگوں کا معاملہ مستثنی اور دوسروں سے بالکل الگ ہوتا ہے کہ ایسوں کو جب ابتلاء و آزمائش کی صورت پیش آتی ہے تو یہ اللہ سے مایوس اور دل شکستہ ہونے کے بجائے اس کی رحمت و عنایت پر صابر و مطمئن رہتے ہیں۔ اور جب اس کی طرف سے ان کو کسی فضل و نعمت سے نوازا جاتا ہے تو یہ لوگ اکڑنے اور مغرور ہونے کی بجائے اس بات کو بجا لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں۔ سو مشکل و مصیبت ان کی صفت صبر کو مستحکم کرتی ہے اور نعمت سے سرفرازی ان کے لیے شکر اور اعمال صالحہ کی راہیں کھولتی ہے۔ یہی لوگ انسانیت کے گل سرسبد ہیں اور ان ہی کا وجود باعث خیر و برکت ہے۔ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ ایسے خوش نصیبوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں عظیم الشان مغفرت و بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلیٰ مایجب ویرید۔
Ayahs 11:12–1530 ۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام تبلیغ و انذار ہے اور بس۔ سو آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ اس وحی کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے جو آپ کی طرف کی جاتی ہے۔ اور آپ کا سینہ تنگ ہو رہا ہے ان لوگوں کی ایسی اور ایسی انہونی باتوں کی بناء پر۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا اور نہیں کرنے کا بلکہ آپ ان لوگوں کی باتوں کی پرواہ کئے بغیر اور ان کے ان الٹے سیدھے مطالبات پر کان دھرے بغیر اس وحی کو پورے کا پورا لوگوں تک پہنچا دیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا (بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ) سو آپ نے پیغام حق پورے کا پورا اور بغیر کسی کمی بیشی کے آگے پہنچا دیا اور اس میں کوئی کمی اور کوتاہی نہیں فرمائی۔ پس شیعہ اور اہل بدعت وغیرہ زائغین کا یہ کہنا اور ماننا کہ آنحضرت ﷺ نے علوم وحی میں سے کچھ کو چھپالیا تھا سراسر باطل اور مردود ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف پیغمبر کا اصل کام تبلیغ و انذار ہے اور بس۔ آگے منوا لینا نہ آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ آپ کے بس میں۔
31 ۔ اختیار کلی کی شان اللہ تعالیٰ ہی کی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی ہے ہر چیز پر پورا پورا اختیار رکھنے والا۔ سو جب ہر چیز کا وکیل اور مختار اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے تو آپ ﷺ اپنا معاملہ اسی قادر مطلق کے حوالے کردیں۔ وہ ان سے خود نمٹ لے گا۔ اور اس کی ارسال فرمودہ وحی کی تبلیغ بلا کم وکاست کردیں اور بس کہ یہی آپ کا فرض منصبی ہے۔ سو اختیار کلی کی شان اللہ ہی کی شان ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ اور وہ جو بھی کرتا ہے اپنے علم کامل اور اپنی حکمت بالغہ کی بناء پر ہی کرتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس وہ ایسے منکروں سے ٹھیک ٹھاک نمٹ لے گا۔ انذار و تبلیغ حق کا فریضہ ادا کردینے کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم۔ اس کے بعد اگر یہ لوگ اپنے ایسے بےمقصد اور لاطائل مطالبات کو بہانہ بنا کر راہ حق و حقیقت سے گریز کرتے ہیں تو ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کردو۔ وہ ہر چیز کو دیکھتا اور پوری طرح جانتا ہے۔ تمہاری جانفشانیاں بھی اس کے سامنے ہیں اور ان کے شرارتیں اور شرانگیزیاں بھی۔ وہ ہر ایک کو اس کے کیے کرائے کے پورے صلے اور بدلے سے نوازے گا اور پورے حق و انصاف کے ساتھ معاملہ فرمائے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 11:1639 ۔ صرف دنیا چاہنے والوں کے لیے آخرت میں دوزخ کی آگ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت میں ان کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ کہ وہاں کے لئے کوئی عمل کرنا تو درکنار انہوں نے اس کے لیے نیت ہی نہیں کی تھی کہ ان کا اس پر ایمان ہی نہیں تھا اور مزید یہ کہ وہ اپنے کئے کا بدلہ اس دنیائے فانی ہی میں پاچکے ہیں۔ سو کس قدر خسارے کا سودا ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں کہ آخرت کی ان حقیقی اور ابدی نعمتوں کو بھول کر ایسی دنیا کے حطام زائل اور متاع فانی پر قانع ہوجاتے ہیں جو کہ سب سے بڑا نقصان اور خساروں کا خسارہ ہے۔ اور ایسا خسارہ کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ مومن صادق کو اس کے اعمال صالحہ کی کچھ برکات اگرچہ اس دنیاوی زندگی میں بھی نصیب ہوتی ہیں جن سے وہ طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتا لیکن اس کو اپنے کئے کرائے کا اصل اور پورا بدلہ آخرت کے اس ابدی جہاں ہی میں ملے گا جو کہ " دار الجزاء " ہے اور جس کی جزاء مومن کا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین ہے۔ اور اسی بناء پر وہ اپنی دنیاوی زندگی کی فرصت محدود کو آخرت کی کمائی کے لیے موقع اور اس کی فرصت سمجھتے ہیں اور اس کو اسی میں صرف کرتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
40 ۔ ایسے لوگوں کا کیا کرایا سب اکارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ برباد ہوگیا وہ سب کچھ جو ان لوگوں نے بنایا تھا اور نابود ہوگئے ان کے وہ سب کام جو ایسے لوگ کرتے رہے تھے۔ سو آخرت کے اس ابدی جہاں میں ان کو کچھ بھی کام نہیں آئے گا کہ دنیا میں انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس کی نہ بنیاد صحیح تھی اور نہ ان لوگوں کی نیت درست تھی، نہ ایمان نہ تقوی۔ بلکہ ان لوگوں کا اصل مقصد دنیا ہی دنیا تھی۔ اور ظاہری اعتبار سے جو نیک اعمال یہ لوگ کرتے بھی تھے وہ بھی دراصل دنیا ہی کے لیے کرتے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ اس شخص کو سخت ترین عذاب ہوگا جس کو لوگ بھلائی پر سمجھتے ہوں اور اس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ (جامع البیان) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہی مضمون سورة بنی اسرائیل (18 ۔ 20) میں ذرا وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے کہ طالبان دنیا کے لیے دنیا ہی دنیا ہے اور طالبان آخرت کے لیے دنیا کے علاوہ آخرت کی ابدی اور سدا بہار نعمتیں بھی۔ سو اصل دولت دین و ایمان ہی کی دولت ہے جو انسان کے لیے سعادت دارین کی کفیل وضامن ہے۔ اور اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اس لئے عقل و نقل سب کا تقاضا ہے کہ اسی کو اپنا اصل اور حقیقی مقصد اور نصب العین بنایا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 11:1741 ۔ نور فطرت کی دولت ایک عظیم الشان دولت : سو ارشاد فرمایا گیا بھلا وہ شخص جو قائم ہو ایک روشن دلیل پر اپنے رب کی طرف سے یعنی جو اپنے رب کی طرف سے ملنے والے نور فطرت پر قائم ہو۔ یعنی استعداد فطری کے اس نور پر جو کہ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے ہر انسان کے اندر ودیعت فرمایا۔ (المراغی، المدارک، المنار، ابن کثیر، جامع البیان اور معارف القرآن وغیرہ) سو نور فطرت ایک عظیم الشان دولت ہے جس سے حضرت واہب مطلق جل وعلا شانہ نے اپنی قدرت و عنایت سے ہر انسان کو نوازا ہے۔ اسی کی حفاظت پر آگے اس کو نور وحی سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے اور وہ نور علی نور کا مصداق بن جاتا ہے۔ اور جو کوئی نور وحی و ہدایت سے منہ موڑتا اور اعراض و روگردانی برتتا ہے اس کا وہ نور فطرت بھی بجھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ اندھا بہرا بن کر گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب کے رہ جاتا ہے۔ سو اس میں پیغمبر کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ منکر لوگ آپ کی بات نہیں مانتے تو یہ اس لیے نہیں کہ اس میں آپ کی دعوت و تبلیغ کا کوئی قصور ہے بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنا نور فطرت و بصیرت کھو بیٹھے ہیں جس کی بناء پر محرومی ان کا مقدر بن گئی ہے کہ یہ ہولناک خسارے میں مبتلاء ہوگئے ہیں کہ نور فطرت سے محرومی کے نتیجے میں ایسے لوگ اندھے اور اوندھے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
42 ۔ شاہد رب سے مقصود و مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس کے بعد اس کے رب کی طرف سے ایک شاہد بھی آگیا ہو۔ یعنی قرآن حکیم جو کہ فطرت کے اس نور کی تکمیل و تائید کرتا ہے اور باکمل وجوہ کرتا ہے اور اس طرح انسان نور علی نور کے شرف سے مشرف ہوجاتا ہے اور راہ حق و صداقت پر گامزن ہوجاتا ہے ورنہ اس کا نور فطرت بھی بجھ جاتا ہے اور وہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کا اپنے بندوں پر یہ کرم بالائے کرم ہے کہ اول تو اس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے نور فطرت و ہدایت کو ان کی طبیعت اور جبلت میں ودیعت فرما دیا اور پھر اس پر مزید کرم یہ فرمایا کہ ان کو نور ہدایت سے نوازنے کے لیے اپنی طرف سے وحی کا سلسلہ قائم فرمایا جس کا سب سے آخری اور کامل مظہر قرآن حکیم ہے جس کے لانے والے جبریل امین اور اس کے حامل و امین امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں سو جو لوگ صدق دل سے اس پر ایمان لائیں گے وہ سعادت دارین سے سرفراز ہوں گے۔ اور جو اس سے منہ موڑیں گے وہ دارین کے خسارے میں مبتلا ہوں گے۔ کہ ان کے اعراض و استکبار اور کبر و غرور کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے، جس نے اپنے وقت پر بہرحال اور آپ سے آپ ظاہر ہو کر رہنا ہے۔
43 ۔ کیا مومن اور کافر باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟: اور ظاہر ہے کہ نہیں اور یقینا اور ہرگز نہیں کہ مومن میں نور فطرت کی فطری روشنی اور نور وحی کی کسبی اور اختیاری روشنی دونوں یکجا ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس دوسرا شخص یعنی کافر اور منکر ان دونوں روشنیوں سے محروم و بےبہرہ ہے اور وہ طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے وہ اپنے انجام سے غافل، شرف انسانیت سے بیخبر ، لذت ایمان و یقین سے محروم، دائمی ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے کی طرف بڑھا چلا جارہا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو پھر یہ دونوں قسم کے لوگ باہم برابر کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ ان میں سے ایک تو روشنی پر روشنی سے سرفراز ہے جبکہ دوسرا تمام روشنیوں سے محروم اور بےبہرہ ہے۔ سو اس قرآن پر بھی وہی لوگ ایمان لائیں گے جو نور فطرت سے بہرہ ور ہیں اور وہ اس امر سے واقف و آگاہ ہیں کہ اس سے پہلے اسی طرح کی کتاب ہدایت اور نور بن کر موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی اتر چکی ہے۔ سو ایسے لوگ نور و ہدایت قرآنی سے طبعی طور پر مانوس ہیں اور قرآن کی آواز ان لوگوں کو اپنی فطرت کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ سو نور فطرت اور نور وحی دونوں کی یکجائی سے انسان نور علی نور کا مصداق بن جاتا ہے۔
44 ۔ منکروں کا ٹھکانا دوزخ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو اس کا انکار کرے گا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے کہ تکذیب حق کا انجام یہی ہوتا ہے۔ پس قرآن کریم کے منکر صرف اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں کہ حق و ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر وہ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں زندگی گزارتے ہیں اور پھر اس کے نتیجے میں وہ اخروی زندگی میں دوزخ کی ہولناک آگ میں جلیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور جب ایسے لوگوں کا خاتمہ بھی کفر پر ہوا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو ان کو وہاں سے پھر کبھی نکلنا بھی نصیب نہیں ہوگا بلکہ ان کو ہمیشہ کے لیے وہیں رہنا ہوگا کہ نور ایمان سے سرفرازی اور آخرت کے لیے کمائی کا موقع یہی دنیاوی زندگی اور اس کی فرصت محدود تھی جو کہ اس وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی۔ اور دوبارہ اس کے حصول کا کوئی موقع اور امکان نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔
45 ۔ قرآن حکیم کی قطعی حقانیت کا ذکر وبیان : پس تم اس کے بارے میں کسی بھی طرح کے کسی شک میں نہیں پڑنا کہ یہ قرآن قطعی طور پر حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ اور اس کی شان ربوبیت کا تقاضا یہی تھا اور یہی ہے کہ وہ اس قرآن کو نازل فرمائے کہ صحیح اور کامل تربیت اس کے بغیر ممکن نہیں۔ سو اس کتاب حکیم پر ایمان انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اور اس کی محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہاں پر قرآن پاک کی حقانیت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے۔ پس جو لوگ اس سے اعراض اور روگردانی برتتے ہیں وہ حق اور ہدایت کے نور سے قطعی طور پر محروم ہیں۔ خواہ وہ مادی ترقی میں کتنے ہی آگے کیوں نہ نکل جائیں اور اپنے بارے میں وہ کیا کچھ ظن و گمان بھی کیوں نہ رکھتے ہوں اور وہ دنیاوی ترقی اور مادی وسائل کے اعتبار سے کتنے ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوں کہ وہ حق اور ہدایت کی روشنی سے بہرحال محروم اور اندھیروں میں مبتلا اور اندھے اور اوندھے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
46 ۔ اکثریت بےایمانوں کی۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اکثر لوگ مانتے نہیں۔ یعنی نہ وہ ایمان رکھتے ہیں اور نہ ایمان لانا چاہتے ہیں۔ یا اپنے قصور فہم اور کوتاہ نظری کے باعث یا ضد اور ہٹ دھرمی اور خواہش پرستی کی بناء پر۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کی اکثریت بالعموم بےایمانوں ہی کی ہوتی ہے۔ کل بھی یہ تھا اور آج بھی یہی ہے۔ پس عوام کالانعام کی اکثریت کا کسی طرف ہوجانا اس بات کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتا جس طرح کہ دور حاضر کے اہل بدعت کا کہنا ہے اور جس طرح کہ مغربی جمہوریت کے علمبرداروں نے قرار دے رکھا ہے کہ عوام کی اکثریت جدھر ووٹ دے گی وہی صحیح ہے۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر۔ بلکہ حق وہی ہے جس کا حق ہونا اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات سے ثابت ہوجائے، خواہ دنیا ساری ہی اس کے خلاف کیوں نہ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور باطل وہ ہے جس کا باطل ہونا اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات سے ثابت ہوجائے، خواہ دنیا ساری ہی اس کے ساتھ کیوں نہ ہو۔ نیز یہاں پر فعل ارادہ فعل کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے یعنی اکثر لوگ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں۔ اور جب ایمان کا ارادہ ہی نہیں تو پھر ایسے لوگ نور ایمان و یقین سے کس طرح سرفراز ہوسکتے ہیں ؟ کہ نور ایمان و یقین اور دولت حق و ہدایت سے بہرہ مندی و سرفرازی کے لیے اولین شرط اور بنیادی تقاضا طلب صادق ہی ہے۔ سو جو لوگ نہ ایمان رکھتے ہیں اور نہ رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔