Ayah 11:13 یعنی یہ قرآن کریم وہ عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب ہے جس کی آیتیں لفظی و معنوی ہر حیثیت سے نہایت جچی تلی ہیں۔ نہ ان میں تناقض ہے نہ کوئی مضمون حکمت یا واقعہ کے خلاف ہے نہ باعتبار معجزانہ فصاحت و بلاغت کے ایک حرف پر نکتہ چینی ہوسکتی ہے جس مضمون کو جس عبارت میں ادا کیا ہے محال ہے کہ اس سے بہتر تعبیر ہو سکے۔ الفاظ کی قبا معانی کی قامت پر ذرا بھی نہ ڈھیلی ہے نہ تنگ۔ جن اصول و فروع، اخلاق و اعمال اور قیمتی پندو نصیحت پر یہ آیات مشتمل ہیں اور جو دلائل وبراہین اثبات دعاوی کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔ وہ سب علم و حکمت کے کانٹے میں تلی ہوئی ہیں۔ قرآنی حقائق و دلائل ایسے مضبوط و محکم ہیں کہ زمانہ کتنی ہی پلٹیاں کھائے ان کے بدلنے یا غلط ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ عالم کے مزاج کی پوری تشخیص کر کے اور قیامت تک پیش آنے والے تغیرات و حوادث کو من کل الوجوہ جانچ تول کر ایسی معتدل اور ابدی غذائے روح، مائدہ قرآنی کے ذریعے سے پیش کی گئی ہے جو تناول کرنے والوں کے لیے ہر وقت اور ہر حالت میں مناسب و ملائم ہو۔ ان تمام حکیمانہ خوبیوں کے باوجود یہ نہیں کہ اجمال و ابہام کی وجہ سے کتاب معمہ اور چیستان بن کر رہ جاتی بلکہ معاش و معاد کی تمام مہمات کو خوب کھول کر سمجھایا ہے اور موقع بہ موقع دلائل توحید، احکام، مواعظ، قصص، ہر چیز بڑی خوبصورتی اور قرینہ سے الگ الگ رکھی ہے۔ اور تمام ضروریات کا کافی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ نزولی حیثیت میں بھی یہ حکمت مرعی رہی ہے کہ پورا قرآن ایک دم نہیں اتارا بلکہ وقتاً فوقتاً موقع و مصلحت کے لحاظ سے علیحدہ علیحدہ آیات کا نزول ہوتا رہا۔ قرآن میں ان تمام باریکیوں کو مجتمع دیکھ کر آدمی حیران ہوجاتا ہے۔ مگر حیرت کی کوئی وجہ نہیں۔ اگر حکیم مطلق اور خبیر برحق کے کلام میں سب حکمتیں اور خوبیاں جمع نہ ہوں گی تو اور کس کلام میں توقع کی جاسکتی ہے۔
Ayah 11:24 یعنی اس محکم و مفصل کتاب کے نازل کرنے کا بڑا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو صرف خدائے واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے اور اس کے طریقے سکھائے جائیں۔ اسی عظیم و جلیل مقصد کے لیے پہلے انبیاء تشریف لائے تھے۔ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) 21 ۔ الانبیآء :25) (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) 16 ۔ النحل :36)
5 یعنی جو کتاب کو مانے اور شرک چھوڑ کر خدائے واحد کی عبادت کرے اسے فلاح دارین کی خوشخبری سناتے ہیں۔ جو نہ مانے اور کفر و شرک اختیار کرے اس کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں۔
Ayah 11:36 جو پچھلی تقصیرات معاف کرائے اور آئندہ کے لیے خدا کی طرف دل سے رجوع ہو، تو دنیا کی زندگی اچھی طرح گزرے کیونکہ مومن قانت خواہ کسی حال میں ہو مگر خدا کے فضل و کرم کی بڑی بڑی امیدیں رکھتا ہے وہ حق تعالیٰ کی رضا جوئی اور مستقبل کی عظیم الشان خوشحالی کے تصور میں اس قدر مگن رہتا ہے کہ یہاں کی بڑی بڑی سختیوں کو خاطر میں نہیں لاتا وہ جب خیال کرتا ہے کہ میں اپنی زندگی کے فرائض صحیح طور پر انجام دے رہا ہوں جس کا صلہ مجھ کو ضرور ایک دن عرش والی سرکار سے ملنے والا ہے تو اپنی کامیابی اور حق تعالیٰ کے وعدوں پر اعتماد کر کے اس کا دل جوش مسرت سے اچھلنے لگتا ہے۔ اسے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں وہ سکون قلبی اور راحت باطنی نصیب ہوتی ہے جو بادشاہوں کو بیشمار سامانوں اور اموال و خزائن سے حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ بعض اوقات یہاں کے چند روزہ تکلیفوں اور سختیوں میں وہ لذت پاتے ہیں جو اغنیاء و ملوک اپنے عیش و تنعم میں محسوس نہیں کرتے۔ ایک محب وطن سیاسی قیدی کو اگر فرض کیجئے یقین ہوجائے کہ میری اسیری سے ملک اجنبیوں کی غلامی سے آزاد ہوجائے گا اور مجھے قید سے نکلتے ہی ملک کی جمہوریہ کا صدر بنادیا جائے گا تو کیا اسے جیل خانہ کی بند کوٹھڑی میں سرور و اطمینان کی کیفیت اس بادشاہ سے زیادہ حاصل نہ ہوگی ؟ جس کے لیے ہر قسم کا سامان عیش و طرب فراہم ہیں مگر اندیشہ لگا ہوا ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر نہایت ذلت کے ساتھ تخت شاہی سے اتارا جانے والا ہے۔ اس پر دنیا کے جیل خانہ میں ایک مومن قانت کی زندگی کو قیاس کرلو۔
7 جو جس قدر زیادہ بڑھ کر عمل کرے گا اسی قدر خدا کے فضل سے زیادہ حصہ پائے گا۔ آخرت میں اجر وثواب اور دنیا میں مزید طمانیت حاصل ہوگی۔
8 یعنی میری بات نہ مانو گے تو عذاب قیامت یقینی ہے، باقی یہ فرمانا کہ " میں ڈرتا ہوں " اس سے مقصود حضور کی عام شفقت و ہمدردی، خلائق کا اظہار کرنا ہے۔
Ayahs 11:4–59 سزا دینے کے لیے ضروری ہے کہ مجرم حاضر ہو، حاکم سزا دینے کی پوری قدرت اور کامل اختیار رکھتا ہو۔ مجرمین کی کل کارروائیاں اس کے علم میں ہوں۔ " الی مرجعکم " میں بتلا دیا کہ مجرم وغیر مجرم سب کو خدا کے یہاں حاضر ہونا ہے۔ " وہو علٰی کل شیءٍ قدیر " میں قدرت واختیار کا عموم بیان فرمایا اور (اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ ) 11 ۔ ہود :5) سے " بِذَات الصُّدُوْرِ " تک اس کے علم محیط کی وسعت کو ظاہر کیا کہ خدا ہر کھلی چھپی چیز کو یکساں جانتا ہے حتیٰ کہ دلوں کی تہ میں جو خیالات، ارادے اور نیتیں پوشیدہ ہوتی ہیں ان پر بھی مطلع ہے۔ پھر کوئی مجرم اپنے جرم کو کس طرح اس سے مخفی رکھ کر نجات پاسکتا ہے۔ (تنبیہ) ان آیات کے شان نزول میں مفسرین کا اختلاف ہے صحیح ترین روایت ابن عباس کی بخاری میں ہے کہ بعض مسلمانوں پر حیاء کا اس قدر حد سے زیادہ غلبہ ہوا کہ استنجا یا جماع وغیرہ ضروریات بشری کے وقت کسی حصہ بدن کو برہنہ کرنے سے شرماتے تھے کہ آسمان والا ہم کو دیکھتا ہے۔ برہنہ ہونا پڑتا تو غلبہ حیاء سے جھکے جاتے اور شرم گاہ کو چھپانے کے لیے سینہ کو دوہرا کئے لیتے تھے۔ اس طرح کے آثار کبھی کبھی غایت تادب مع اللہ اور غلبہ حیاء سے ناشی ہوسکتے ہیں۔ اور ایسے لوگ " صوفیہ " کی اصطلاح میں " مغلوب الحال " کہلاتے ہیں چونکہ صحابہ ؓ کا کسی مسئلہ میں ایسا غلو اور تعمق آئندہ امت کو ضیق میں مبتلا کرسکتا تھا اس لیے قرآن نے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ) 11 ۔ ہود :5) سے ان کی اصلاح فرما دی یعنی اگر بوقت ضرورت بدن کو کھولنے میں خدا سے حیاء آتی ہے اس لیے جھکے جاتے ہو تو غور کرو کہ کپڑے پہننے کی حالت میں تمہارا ظاہر و باطن کیا خدا کے سامنے نہیں ہے ؟ جب انسان اس سے کسی وقت نہیں چھپ سکتا پھر ضروریات بشریہ کے متعلق اس قدر غلو سے کام لینا ٹھیک نہیں۔ واضح ہو کہ ربط آیات کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک آیت کا مضمون دوسری کے مضمون سے مناسبت رکھتا ہو، سبب نزول سے مناسبت رکھنا ضروری نہیں۔
Ayah 11:61 پہلے علم الٰہی کی وسعت بیان ہوئی تھی یہ اسی مضمون کا تکملہ ہے۔ یعنی زمین پر چلنے والا ہر جاندار جسے رزق کی احتیاج لاحق ہو، اس کو روزی پہنچانا خدا نے محض اپنے فضل سے اپنے ذمہ لازم کرلیا ہے۔ جس قدر روزی جس کے لیے مقدر ہے یقینا پہنچ کر رہے گی۔ جو وسائل و اسباب بندہ اختیار کرتا ہے، وہ روزی پہنچنے کے دروازے ہیں۔ اگر آدمی کی نظر اسباب و تدابیر اختیار کرتے وقت مسبب الاسباب پر ہو تو یہ توکل کے منافی نہیں البتہ خدا کی قدرت کو ان اسباب عادیہ میں محصور و مقید نہ سمجھا جائے۔ وہ گاہ بگاہ سلسلہ اسباب کو چھوڑ کر بھی روزی پہنچاتا یا اور کوئی کام کردیتا ہے بہرحال جب تمام جانداروں کی حسب استعداد غذاء اور معاش مہیا کرنا حق تعالیٰ کا کام ہے تو ضروری ہے کہ اس کا علم ان سب پر محیط ہو ورنہ ان کی روزی کی خبر گیری کیسے کرسکے گا۔
2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " مستقر " (جہاں ٹھہرتا ہے) بہشت و دوزخ اور مستودَع (جہاں سونپا جاتا ہے) اس کی قبر ہے۔ (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ ) 11 ۔ ہود :6) میں دنیاوی زندگی کا بیان تھا۔ یہاں برزخ اور آخرت کا بیان ہوا۔ مطلب یہ ہوا کہ خدا ابتداء سے انتہاء تک تمہاری ہستی کے تمام درجات کا علم رکھتا ہے۔ " مستقر " و " مستودع " کی تعیین میں مفسرین کے بہت اقوال ہیں پہلے سورة " انعام " میں بھی ہم کچھ لکھ چکے ہیں۔ ابن کثیر نے کہا کہ زمین میں جہاں تک چلے پھرے اس کی منتہائے سیر کو مستقر اور پھر پھرا کر جس ٹھکانے پر آئے اسے " مستودع " کہتے ہیں۔ ابن عباس کے نزدیک اس زندگی میں جہاں رہے وہ " مستقر " اور موت کے بعد جہاں دفن کیا جائے وہ " مستودع " ہے، مجاہد نے " مستقر " سے رحم مادر اور " مستودع " سے صلب پدر مراد لی ہے۔ عطاء نے اس کے عکس کا دعویٰ کیا بعض متفلسفین کا خیال ہے کہ زمین میں حیوانات کا جو مسکن بالفعل ہے اسے " مستقر " اور وجود فعلی سے پہلے جن مواد و مقار میں رہ کر آئے انھیں " مستودع " کہا گیا ہے یعنی حق تعالیٰ ان تمام مختلف مواد اور اطوار و ادوار کا عالم ہے جن میں سے کوئی حیوان گزر کر اپنی موجودہ ہیئت کذائی تک پہنچا ہے۔ وہ ہی اپنے علم محیط سے ہر مرتبہ وجود میں اس کی استعداد کے مناسب وجود و کمالات وجود فائض کرتا ہے۔
3 یعنی " لوح محفوظ " میں جو صحیفہ علم الٰہی ہے۔ پھر علم الٰہی میں ہر چیز کیسے موجود نہ ہوگی۔
Ayah 11:74 یہ علم کے بعد قدرت کا بیان ہے۔ اس کی تفسیر سورة " اعراف " کے ساتویں رکوع میں گزر چکی۔
5 یعنی آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے پانی مخلوق ہوا جو آئندہ اشیاء کا مادہ حیات بننے والا تھا۔ (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ) 21 ۔ الانبیآء :30) اس وقت عرش خداوندی اسی کے اوپر تھا جیسے اب سماوات کے اوپر ہے۔ گویا یہ ایک صورت تھی جو اس حقیقت کو ظاہر کر رہی تھی کہ کائنات کا مادہ اور ذریعہ حیات بالکلیہ رب العرش کے تسلط و تصرف اور قیومیت مطلقہ کے ماتحت ہے۔ واللہ اعلم۔
6 یعنی اس سارے نظام کی تخلیق و ترتیب سے مقصود تمہارا یہاں بسانا اور امتحان کرنا ہے کہ کہاں تک اس عجیب و غریب نظام اور سلسلہ مصنوعات میں غور کر کے خالق ومالک کی صحیح معرفت حاصل کرتے اور مخلوقات ارضی و سماوی سے منتفع ہو کر محسن شناسی اور سپاس گذاری کا فطری فرض بجا لاتے ہو۔ یہ مقام تمہاری سخت آزمائش کا ہے۔ مالک حقیقی دیکھتا ہے کہ تم میں سے کونسا غلام صدق و اخلاص اور سلیقہ مندی سے اچھا کام کرتا اور فرائض بندگی انجام دیتا ہے۔
7 جب یہ دنیا امتحان و آزمائش کی جگہ ہے تو ضرور ہے کہ اس کے بعد مجازات انعام و انتقام کا سلسلہ ہوتا شاکرین و کافرین کو اپنے اپنے کیے کا پھل ملے۔ اسی لیے یہاں بعث بعدالموت کا ذکر کیا گیا۔ یعنی کفار مکہ کو یقین نہیں آتا کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اور اپنے جرائم کی سزا بھگتیں گے۔ جب وہ قرآن میں یا حضور ﷺ کی زبان سے بعث بعد الموت کا نہایت موثر بیان سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کا یہ بیان کھلا ہوا جادو ہے جس نے بہت سے لوگوں کو مرعوب و مسحور کرلیا۔ مگر یاد رکھیے ہم پر یہ جادو چلنے والا نہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 11:88 یعنی جب ان کی شرارتوں پر عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا ہے، مگر خدا کی حکمت ایک مدت معین تک عذاب کو روکے رکھتی ہے تو تکذیب و استہزاء کے طور پر کہتے ہیں کہ وہ عذاب کہاں ہے ؟ آخر آتا کیوں نہیں ؟ کس چیز نے اسے پکڑ رکھا ہے ؟ فرماتے ہیں کیا مذاق کرتے ہو، وقت معین پر جب عذاب آئے گا کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور ہر طرف سے گھیر کر تباہ و برباد کر کے چھوڑے گا۔
Ayah 11:99 یعنی اب تو کہتے ہیں عذاب کہاں ہے، کیوں نہیں آتا، لیکن آدمی بودا اور تھڑدلا اتنا ہے کہ اگر خدا چند روز اپنی مہربانی سے عیش و آرام میں رکھنے کے بعد تکلیف میں مبتلا کر دے تو پچھلی مہربانیاں بھی بھلا دیتا ہے اور ناامید ہو کر آئندہ کے لیے آس توڑ بیٹھتا ہے۔ گذشتہ پر ناشکری اور آئندہ سے مایوسی، یہ ہی اس کی زندگی کا حاصل ہے۔
Ayah 11:101 یعنی مصیبت کے بعد اگر خدا آرام و آسائش نصیب کرے تو سمجھتا ہے کہ گویا اب ہمیشہ کے لیے مصائب و تکالیف کا خاتمہ ہوچکا پچھلی کیفیت کبھی لوٹ کر آنے والی نہیں۔ اس وقت غافل و مغرور ہو کر شیخیاں مارتا اور اتراتا پھرتا ہے حالانکہ چاہیے تھا کہ پچھلی حالت یاد کر کے خدا کا شکر ادا کرتا اور اس کے احسان کے سامنے جھک جاتا۔
Ayah 11:112 یعنی جو حال اوپر عام انسانوں کا بیان ہوا، اس سے اللہ کے وہ بندے مستثنیٰ ہیں جو تکلیف و مصیبت کا مقابلہ صبرو استقامت سے کرتے اور امن و راحت کے وقت شکر گزاری کے ساتھ عمل صالح میں مستعدی دکھاتے ہیں۔ ایسے اولوالعزم وفاداروں کی جماعت ہی عظیم الشان بخشش و انعام کی مستحق ہے۔
Ayah 11:123 مشرکین مکہ شرک و بت پرستی کی تردید سے بہت غیظ کھاتے تھے مشرکانہ خرافات پر جس قدر ان کی تحمیق و تجہیل کی جاتی اسی قدر ان کے غصہ کی آگ بھڑکتی تھی۔ کبھی کوشش کرتے تھے کہ آپ کو اس معاملہ میں ذرا ڈھیلا کردیں اور اس سب سے بڑے اور بنیادی مسئلہ کی تبلیغ میں نرمی اور تساہل برتنے پر آمادہ کریں جب ادھر سے مایوس ہوتے تو محض دق کرنے کو عجیب بیہودہ فرمائشیں کرنے لگتے مثلا یہ کہتے کہ آپ سچے ہیں اور منصب رسالت پر مامور ہو کر آئے ہیں تو آپ کے ساتھ خدا کے یہاں سے مال و دولت کا بڑا خزانہ آنا چاہیے تھا۔ یا آسمان سے ایک فرشتہ آتا جو آپ کے ہمراہ تصدیق کے لیے ہر طرف جایا کرتا۔ (لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَهٗ مَلَكٌ) 11 ۔ ہود :12) گویا جب آپ کے پاس اپنی بات منوانے کے لیے نہ مادی طاقت ساتھ ہے نہ روحانی، پھر ہم کس طرح تسلیم کرسکتے ہیں۔ آپ ان بیہودہ شبہات اور فرمائشوں سے سخت مغموم اور دلگیر ہوتے تھے۔ ممکن ہے کبھی ایسا خیال بھی دل میں گزرتا ہو کہ ان کے معبودوں کے معاملہ میں اگر خدا کی جانب سے اس قدر سختی اختیار کرنے کا حکم نہ رہے، تردید کی جائے مگر فی الحال قدرے نرمی اور رواداری کے ساتھ تو شاید زیادہ موثر اور مفید ہو، یا جو فرمائشیں یہ لوگ کرتے ہیں ان کی یہ ضد بھی کسی حدتک پوری کردی جائے تو کیا عجب ہے مسلمان ہوجائیں بہرحال وہ ایسا نازک اور پرخطر وقت تھا کہ تمام دنیا باطل پرستی کے شور سے گونج رہی تھی صرف ایک مقدس ہستی تھی جس کے حلقوم سے حق کی آواز نکل کر باطل کے قلعوں میں زلزلہ ڈالتی تھی۔ آپ چاروں طرف سے موذی دشمنوں کے نرغہ میں گھر رہے تھے۔ کوئی جھٹلاتا کوئی طعن کرتا کوئی مذاق اڑاتا تھا۔ اس ماحول کا تصور کرو اور اس مبلغ اعظم کی قوت قلب اور ہمت مردانہ کا اندازہ لگاؤ، جس کا تمام تر اعتماد و اتکال ظاہری اسباب سے ہٹ کر خداوند قدوس کے وعدوں پر تھا۔ آپ جب مخزون و دلگیر ہوتے تو صرف اپنے پروردگار کی آواز سے ہی تسلی پاتے اور دنیا کے مقابلہ میں تازہ دم ہو کر کھڑے ہوجاتے تھے اس سلسلہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی بیہودہ خرافات اور فرمائشوں کی وجہ سے اس قدر فکر مند اور غمگین نہ ہوں نہ اپنے دل میں ان لوگوں کی مراعات کا خیال لائیں کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ وحی الٰہی نے جو چیزیں آپ کو سکھلائی ہیں اور جس بےخوف و خطر تبلیغ کا حکم دیا ہے اس کے بعض حصہ کو ان لوگوں کی خرافات سے تنگ دل ہو کر چھوڑ بیٹھیں جب یہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ پیغمبرانہ عصمت اور اولوالعزمی مانع ہے تو تنگدل ہونے سے کیا فائدہ۔ آپ کا کام صرف بھلے برے سے آگاہ کردینا ہے ان کی ہدایت کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ خدا تعالیٰ جس کے سپرد ہر چیز ہے، ان کا معاملہ بھی اسی کے سپرد کیجئے اور صبرو استقامت کے ساتھ فرائض تبلیغ کی انجام دہی میں ثابت قدم رہیے۔
Ayahs 11:13–144 یعنی فرمائشی معجزے طلب کرتے ہیں، جن کا دیا جانا مصلحت نہیں۔ اور جو سب سے بڑا معجزہ (قرآن) ان کے سامنے ہے، اسے مانتے نہیں، کہتے ہیں یہ تو (معاذ اللہ) تمہاری بنائی ہوئی گھڑت ہے۔ اس کا جواب دیا کہ تم بھی آخر عرب ہو، فصاحت و بلاغت کا دعویٰ رکھتے ہو، سب مل کر ایسی ہی دس سورتیں گھڑ کر پیش کردو اور اس کام میں مدد دینے کے لیے تمام مخلوق کو بلکہ اپنے ان معبودوں کو بھی بلا لاؤ جنہیں خدائی کا شریک سمجھتے ہو اگر نہ کرسکو اور کبھی نہ کرسکو گے تو سمجھ لو کہ ایسا کلام خالق ہی کا ہوسکتا ہے جس کا مثل لانے سے تمام مخلوق عاجز رہ جائے۔ تو یقینا یہ وہ کلام ہے جو خدا نے اپنے علم کامل سے پیغمبر پر اتارا ہے۔ بیشک جس کے کلام کا مثل نہیں ہوسکتا اس کی ذات وصفات میں کون شریک ہوسکتا ہے۔ ایسا بےمثال کلام اسی بےمثال خدا کا ہے جس کا کوئی شریک نہیں کیا اسے واضح دلائل کے بعد بھی مسلمان ہونے اور خدا کا حکم بردار بننے میں کسی چیز کا انتظار ہے (تنبیہ) اعجاز قرآن کی کچھ تفصیل سورة " یونس " میں گزر چکی ہے۔ ابتداء میں پورے قرآن سے تحدی کی گئی تھی۔ پھر دس سورتوں سے ہوئی۔ پھر ایک سورت سے جیسا کہ " بقرہ " اور " یونس " میں گزرا۔ گویا ان کا عجز بتدریج نمایاں کیا گیا۔
Ayah 11:155 یعنی ایسے واضح ثبوت کے بعد جو شخص قرآن پر ایمان نہیں لاتا، یا اس کے بتلائے ہوئے راستہ پر نہیں چلتا بلکہ دنیا کی چند روزہ زندگی اور فانی ٹیپ ٹاپ ہی کو قبلہ مقصود ٹھہرا کر عملی جدوجہد کرتا ہے۔ اگر بظاہر کوئی نیک کام مثلا خیرات وغیرہ کرتا ہے تو اس سے بھی آخرت کی بہتری اور خدا کہ خوشنودی مقصود نہیں ہوتی محض دنیاوی فوائد کا حاصل کرلینا پیش نظر ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی بابت خواہ وہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین یا منافقین یا دنیا پرست ریا کار مسلمان بتلا دیا کہ دنیا ہی میں ان کا بھگتان کردیا جائے گا۔ جو اعمال اور کوششیں وہ حصول دنیا کے لیے کریں گے ان کے کم و کیف کو ملحوظ رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ اپنے علم و حکمت سے جس قدر مناسب جانے گا اور دینا چاہے گا یہیں عطا فرما دے گا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو خیرات وغیرہ کے کام کرے اس کی یہ فانی اور صوری حسنات جو روح ایمان سے یکسر خالی ہیں، دنیا میں رائگاں نہیں جاتیں ان کے بدلہ میں خدا تعالیٰ تندرستی، مال، اولاد، عزت و حکومت وغیرہ دے کر سب کھاتہ بےباق کردیتا ہے۔ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں کوئی چیز اس کے کام آنے والی نہیں جس کافر کے لیے جس درجہ کی سزا تجویز ہوچکی ہے وہ کبھی اس سے ٹلنے یا کم ہونے والی نہیں۔ (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :18) ریاء کار اور دنیا پرست عالم، متصدق اور مجاہد کے حق میں جو وعید آئی ہے، اس کا حاصل بھی یہ ہی ہے کہ ان سے محشر میں کہا جائے گا کہ جس غرض کے لیے تو نے علم سکھلایا، صدقہ و جہاد کیا وہ دنیا میں حاصل ہوچکی اب ہمارے پاس تیرے لیے کچھ نہیں۔ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اسے جہنم میں لے جاؤ (اعاذنا اللہ منہا)
Ayah 11:166 یعنی ان اعمال پر دوزخ کے سوا اور کسی چیز کے مستحق نہیں کفار ابدی طور پر ریاء کار مسلمان محدود مدت کے لیے۔ ہاں خدا تعالیٰ بعض مومنین کو محض اپنے فضل و کرم سے معاف فرما دے، وہ الگ بات ہے۔
7 یعنی دنیا میں جو کام دنیاوی اغراض کے لیے کیے تھے، آخرت میں پہنچ کر ظاہر ہوگا کہ وہ سب برباد ہوئے اور ریاء کاری یا دنیا پرستی کے سلسلہ میں بظاہر جو نیکیاں کمائی تھیں سب یونہی خراب گئیں یہاں کوئی کام نہ آئیں۔
Ayah 11:171 یعنی یہ شخص اور وہ ریاء کار دنیا پرست جن کا ذکر پہلے ہوا کیا برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ " بَیِّنَۃ " (صاف راستہ) سے مراد وہ راستہ ہے جس پر انسان اپنی اصلی اور صحیح فطرت کے موافق چلنا چاہتا ہے۔ بشرطیکہ گردوپیش کے حالات و خیالات سے متاثر نہ ہو، اور وہ توحید، اسلام اور قرآن کا راستہ ہے۔ (فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ) 30 ۔ الروم :30) وفی حدیث کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُّوْلَدُ عَلَی الْفَطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ اَوْیُمَجِّسَانِہٖ " الخ اور " شَاہِدٌ مِّنْہُ " (گواہ اللہ کی طرف سے) قرآن عظیم ہے جو گواہی دیتا ہے کہ " دین فطرت " (توحید و اسلام) پر چلنے والا بیشک ٹھیک راستہ پر چل رہا ہے اور وہ قرآن اپنی حقانیت کا بھی خود گواہ ہے آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ چونکہ قرآن کے لانے والے جبرائیل امین اور لینے والے محمد ﷺ ہیں۔ اس اعتبار سے ان کو بھی شاہد کہہ سکتے ہیں۔ بلکہ حضور ﷺ کی شان تو یہ ہے کہ آپ کے اخلاق و عادات، معجزات، زبان مبارک، چہرہ نورانی، ہر چیز سے شہادت ملتی ہے کہ جس دین کے آپ حامل ہیں وہ بالکل سچا دین ہے۔ آگے (وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ) 46 ۔ الاحقاف :12) کا مطلب یہ ہے کہ قرآن سے پہلے جو وحی کسی نبی پر نازل کی گئی وہ بھی " دین فطرت کی صداقت پر گواہ تھی۔ خصوصا موسیٰ (علیہ السلام) پر جو عظیم الشان کتاب (تورات) اتاری گئی قرآن سے پیشتر اسے ایک بڑا بھاری شاہد ان لوگوں کی حقانیت کا کہنا چاہیے جو دین فطرت کے صاف راستہ پر چلتے ہیں۔
2 یعنی یہود، نصاریٰ ، بت پرست، مجوس، عرب، عجم، یورپ ایشیاء کسی فرقہ جماعت اور ملک و ملت سے تعلق رکھتا ہو جب تک قرآن کو نہ مانے گا نجات نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی بعض احادیث میں آپ نے بہت تصریح و تعمیم کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
3 یہ خطاب ہر شخص کو ہے جو قرآن سنے یا حضور ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے کہ قرآن کی صداقت اور " من اللہ " ہونے میں قطعا شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ جو لوگ نہیں مانتے وہ احمق ہیں یا معاند۔
Ayah 11:184 یعنی قرآن جھوٹ اور افتراء نہیں۔ خدا کا سچا پیغام ہے جس کو قبول کرنا ضروری ہے خوب سمجھ لو کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کوئی نہیں ہوسکتا جو خدا پر جھوٹ باندھے۔ مثلا اس کا کلام نہ ہو اور کہہ دے کہ اس کا کلام ہے یا واقعی اس کا ہو اور خدا بار بار فرمائے کہ میرا کلام ہے مگر باوجود روشن دلائل کے جھٹلاتا رہے اور کہتا ہے کہ اس کا نہیں۔
5 یعنی محشر میں جب خدا کے سامنے علیٰ رؤس الاشہاد پیش ہوں گے اور ان کی شرارتوں کے دفتر کھولے جائیں گے اس وقت گواہی دینے والے (ملائکہ، انبیاء، صالحین بلکہ خود ان کے ہاتھ پاؤں) کہیں گے کہ یہ ہی وہ بدبخت ظالم ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی نسبت جھوٹ بکا تھا۔
Ayah 11:196 یہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے یعنی جو لوگ ظلم و ناانصافی سے خدا کے کلام کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر آخرت کے منکر ہیں دوسروں کو خدا کی راہ پر چلنے سے روکتے ہیں اور اس تلاش میں رہتے ہیں کہ سیدھے کو ٹیڑھا ثابت کریں۔ ایسے ظالموں پر خدا کی خصوصی لعنت ہے۔
Ayah 11:207 یعنی اتنی وسیع زمین میں نہ کہیں بھاگ کر خدا سے چھپ سکتے ہیں اور نہ کوئی مددگار اور حمایتی مل سکتا ہے جو خدا کے عذاب سے بچاوے۔
8 کیونکہ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ کیا۔
9 یعنی دنیا میں ایسے اندھے بہرے بنے کہ نہ حق بات سننے کی تاب تھی نہ خدا کے نشانوں کو دیکھتے تھے جنہیں دیکھ کر ممکن تھا راہ ہدایت پالیتے۔ حضرت شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ اللہ پر جھوٹ بولا ہے اصل اور غلط باتیں اس کی طرف منسوب کیں۔ کہاں سے لائے ؟ غیب سے سن نہ آتے تھے غیب کو دیکھتے نہ تھے پھر ان کا ماخذ کیا ہے۔
Ayah 11:211 جان کا کھو بیٹھنا، یہ ہی کہ ابدی عذاب میں گرفتار ہوئے اور سب جھوٹے دعوے وہاں پہنچ کر گم ہوگئے۔
Ayahs 11:22–232 منکرین کی بد انجامی کے بالمقابل مومنین کا انجام نیک بیان فرمایا۔ ان کی عاجزی خدا کو پسند آئی اس لیے اپنی دائمی خوشنودی کا مقام عطا فرمایا۔
Ayah 11:243 یعنی منکرین تو اندھے بہرے ہیں جیسا کہ دو تین آیت پہلے فرمایا تھا۔ ( مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ ) 11 ۔ ہود :20) پھر جسے نہ خود نظر آئے نہ دوسرے کی سن سکے، اس کا آغاز و انجام کیسے ان روشن ضمیر ایمانداروں کے برابر ہوسکتا ہے جو بصیرت کی آنکھوں سے حق و باطل اور بھلے برے میں تمیز کرتے اور اپنے ہادیوں کی باتیں بگوش ہوش سنتے ہیں۔ غور کرو کہ دونوں کا انجام یکساں کس طرح ہوسکتا ہے ؟ آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا قصہ اسی مضمون کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔
Ayah 11:254 یعنی نہایت وضاحت کے ساتھ وہ چیزیں بتلاتا ہوں جن کے ارتکاب پر مہلک عذاب نازل ہونے کا اندیشہ ہے۔ یا جو اس عذاب سے محفوظ رہنے کے ذرائع ہیں۔
Ayah 11:265 یعنی وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق، نسر کی جن کا ذکر سورة نوح میں آئے گا۔
6 یعنی غیر اللہ کی پرستش سے باز نہ آنے کی صورت میں سخت عذاب آنے کا ڈر ہے۔ " دردناک دن " سے وہ دن مراد ہے جس میں المناک اور درد انگیز حوادث کا وقوع ہو۔ مثلا قیامت کا دن یا وہ دن جس میں قوم نوح غرق کی گئی۔
Ayah 11:277 یعنی رسول کو تمام قوم کے مقابلہ میں کوئی نمایاں امتیاز ہونا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہماری طرح جنس بشر سے ہیں، آسمان کے فرشتے نہیں۔ جس کے سامنے خواہ مخواہ انسانوں کی گردنیں جھک جائیں پھر بشر بھی ایسے نہیں جسے کوئی خاص تفوق اور بڑائی ہم پر حاصل ہوتی مثلا بڑے دولت مند یا جاہ و حکمت کے مالک ہوتے، جو لوگ تمہارے پیرو ہوئے وہ بھی ماشاء اللہ سب کے سب مفلس، رذیل، پست اور ادنیٰ طبقہ کے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنا بھی ہم جیسے شریفوں کے لیے ننگ و عار کا موجب ہے تو کیا ساری خدائی میں سے تم ہی ملے تھے جنہیں خدا نے اپنے منصب کی سفارت پر مامور فرمایا۔ آخر ہم تم سے حسب نسب، مال و دولت، خَلق و خُلق کس بات سے کم تھے ؟ جو ہمارا انتخاب اس عہدہ کے لیے نہ ہوگیا۔ کم از کم آپ کا اتباع کرنے والے ہی کوئی معزز اور بڑے آدمی ہوتے۔ بھلا ان موچیوں اور حجاموں کا تابع ہوجانا آپ کے لیے کیا موجب فضل و شرف ہوسکتا ہے ؟ اور کس طرح صداقت کی دلیل بن سکتی ہے ؟ ایسے سطحی لوگوں کا جن کی پستی اور رذالت بالکل عیاں ہے بےسوچے سمجھے اور بدون غور و تامل کے ظاہری اور سرسری طور پر ایمان لے آنا آپ کا کونسا کمال ہے ؟ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ تم اور تمہارے ساتھی سب جھوٹے ہو۔ تم نے ایک بات بنائی اور چند بیوقوفوں نے ہاں میں ہاں ملا دی تاکہ اس طرح ایک نئی تحریک اٹھا کر کوئی امتیاز اور بزرگی حاصل کرلیں۔ یہ ان ملعونوں کی تقریر کا ماحصل تھا۔ نوح (علیہ السلام) نے جو جواب دیا آگے آتا ہے۔
Ayah 11:281 یعنی یہ صحیح ہے کہ پیغمبر کو عام انسانوں سے بالکل ممتاز ہونا چاہیے لیکن وہ امتیاز مال و دولت ملک و حکومت اور دنیا کی ٹیپ ٹاپ میں نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق، بہترین ملکات، تقویٰ ، خدا ترسی، حق پرستی، درمندی، خلائق اور ان صریح آیات و نشانات پیش کرنے سے ان کو امتیاز حاصل ہوتا ہے جو حق تعالیٰ بطور اتمام حجت و اکمال نعمت ان کے اندر قائم کرتا یا ان کے ذریعہ سے ظاہر فرماتا ہے۔ وہ وحی الٰہی اور ربانی دلائل و براہن کی روشنی میں صاف راستہ پر چلتے ہیں اور دن رات خدا کی خصوصی رحمتیں ان پر بارش کی طرح برستی ہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر یہ سب چیزیں مجھ میں کھلے طور پر موجود ہوں اور یقینا موجود ہیں۔ لیکن جس طرح اندھے کو سورج کی روشنی نظر نہیں آتی، تمہاری آنکھیں بھی اس نور الٰہی کے دیکھنے سے قاصر رہیں، تو کیا ہم زبردستی مجبور کر کے تم سے اس نور اور رحمت کا اقرار کرا سکتے ہیں جس سے تم اس قدر نفور و بیزار ہو کہ آنکھ کھول کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ میری بزرگی و برتری جو تم کو نظر نہیں آتی، یہ اس لیے ہے کہ تمہارے دل کی آنکھیں اندھی ہیں یا بند ہیں۔
Ayah 11:292 یعنی میں تبلیغ کے کام کی کوئی تنخواہ تم سے نہیں مانگتا، جو مالی خود غرضی کا شبہ ہو۔ میں اپنے پروردگار کا نوکر ہوں اسی کے یہاں سے مزدوری ملے گی بحمد اللہ نہ مجھے تمہارے مال کی طلب ہے نہ ضرورت، پھر غریبوں کو چھوڑ کر مالداروں کی طرف کیوں جھکوں۔ اگر تم میرے اتباع کو محض ان کی افلاس یا پیشہ کی وجہ سے حقیر و ذلیل سمجھتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ میں وہ نہیں جو دولت ایمان کے سرمایہ داروں کو ظاہری خستہ حالی کی بناء پر جانوروں کی طرح دھکے دے کر نکال دوں انھیں ایک روز اپنے پروردگار سے ملنا ہے۔ وہ میری شکایت اس کے دربار میں کریں گے کہ آپ کے پیغمبر نے متکبر دنیا داروں کی خاطر ہم غریب وفاداروں کو نکال دیا تھا۔ میں ظاہر حال کے خلاف یہ کیونکر سمجھ لوں کہ ان کا ایمان محض ظاہری اور سرسری ہے۔ دلوں کو چیر کر دیکھنا میرا کام نہیں۔ یہ پروردگار کے یہاں پتہ چلے گا کہ ان کے دلوں کی کیا حالت تھی۔
3 یعنی جہل و حماقت سے انجام پر نظر نہیں کرتے، صرف ان کی ظاہری شکستگی دیکھ کر حقیر سمجھتے ہو۔ اور ایسی مہمل درخواست کرتے ہو کہ ان کو ہٹا دیا جائے تو ہم تمہارے پاس آئیں۔ کیا غربت اور کسب حلال کوئی عیب ہے ؟ یہ ہی چیز تو ہے جو حق کے قبول کرنے میں مزاحم نہیں ہوتی۔ عموما دولت و جاہ کا نشہ انسان کو قبول حق سے محروم رکھتا ہے اسی لیے ہرقل کی حدیث میں آیا کہ انبیاء کے متبعین ضعفاء ہوتے ہیں بہرحال تم نہیں جانتے کہ سب کو خدا کے پاس جمع ہونا ہے، وہاں پہنچ کر ظاہر ہوگا کہ اپنے کو ان سے بہتر سمجھنا تمہارا جاہلانہ غرور تھا۔
Ayah 11:304 یعنی میں تمہارے کبر و غرور اور جہالت سے متأثر ہو کر اپنا نقصان کیسے کروں، اگر تمہاری رعایت سے میں نے خدا کے مخلص بندوں کو دھکے دے دیئے تو اس کی سزا اور گرفت سے مجھ کو کون بچا سکے گا۔
Ayah 11:315 کفار نے نوح (علیہ السلام) کو کہا تھا کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو، جتھے اور دولت کے اعتبار سے بھی کچھ امتیاز نہیں رکھتے، اس کا جواب نہایت متانت و انصاف کے ساتھ دیتے ہیں کہ بیشک جیسا امتیاز تم دیکھنا چاہتے ہو اس کا ہم دعویٰ نہیں رکھتے، بلاشبہ میں ایک بشر ہوں، فرشتہ نہیں۔ نہ خدا نے اپنے سارے خزانے میرے تصرف و اختیار میں دے دیے ہیں، نہ تمام غیب کی باتوں پر مطلع کیا گیا ہوں، لیکن ان تمام باتوں کے اعتراف کے ساتھ تمہاری طرح یہ کبھی نہ کہوں گا کہ جو لوگ تمہاری نگاہ میں معیوب و حقیر ہیں (یعنی میں اور میرے رفقاء) ان کو خدا ہرگز کوئی خیر (بھلائی) نہیں دے سکتا۔ مثلا ان میں سے کسی کو نبوت و حکمت عطا فرما دے اور باقیوں کو ایمان و عرفان کی دولت سے بہرہ ور کرے۔ خوب سمجھ لو حق تعالیٰ ان کے دلوں کی استعدادات و کیفیات کو پوری طرح جانتا ہے ہر ایک کی استعداد کے مناسب فیض پہنچاتا اور باطنی احوال و کیفیات کے موافق برتاؤ کرتا ہے اس نے جو خاص مہربانی مجھ پر یا میرے ساتھیوں پر کی ہے، وہ تمہاری آنکھ سے پوشیدہ ہے۔ اگر میں یہ کہنے لگوں کہ جو تمہیں بظاہر شکستہ حال اور حقیر دکھائی دیتے ہیں، خدا تعالیٰ نے بھی جو بواطن کا جاننے والا ہے انھیں کوئی عزت و شرف نہیں بخشا تو نہایت بےاصولی اور ناانصافی کی بات ہوگی۔ (تنبیہ) اس آیت کے ابتدائی تین جملے سورة " انعام " میں گزر چکے۔ وہاں کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔
Ayah 11:326 حضرت نوح قبل از طوفان ساڑھے نو سو برس ان میں رہے۔ شب و روز سرا وعلانیۃ انھیں نصیحت کرتے، ہر شبہ کا جواب دیتے، تبلیغ و تفہیم اور بحث و مناظرہ کا سلسلہ جاری رہتا۔ اسی جھگڑے میں صدیاں گزر گئیں۔ کفار نے ان کی حقانی بحثوں اور شب و روز کی روک ٹوک سے عاجز ہو کر کہا کہ اب یہ سلسلہ بند کیجئے۔ بس اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کی دھمکیاں دیتے رہے ہو وہ فورا لے آؤ تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ختم ہو۔
Ayah 11:337 یعنی یہ چیز میرے قبضہ میں نہیں۔ خدا جس وقت اپنی حکمت کے موافق چاہے گا عذاب نازل کر دے گا۔ ہمارا فرض صرف آگاہ کردینا تھا۔ باقی عذاب تو ایسی ہولناک اور عظیم الشان چیز ہے، جس کا لے آنا اور دفع کردینا دونوں پہلو قوائے بشریہ کے دائرہ سے خارج ہیں۔ جب مشیت الٰہی ہوگی تو کہیں بھاگ کر پناہ نہ لے سکو گے۔ ایسا کون ہے جو خدا کو (معاذاللہ) تھکا کر عاجز کرسکے۔
Ayah 11:341 یعنی کفر پر اس قدر اصرار و ضد اور انتہائی شوخ چشمی سے نزول عذاب کی استدعاء پتہ دیتی ہے کہ خدا کا ارادہ یہ ہی ہے کہ تم کو گمراہی میں پڑا رہنے دے اور آخرکار ہلاک کر دے۔ پس اگر تمہاری بد کرداری کے سبب سے خدا نے یہ ہی چاہا تو میں کتنا ہی نصیحت و خیر خواہی کر کے تم کو نفع پہنچانا چاہوں، کچھ نافع اور موثر نہ ہوگا۔ تمہارا رب وہ ہی ہے جس کے ملک و تصرف میں ہر چیز ہے جیسا جس کے ساتھ معاملہ کرے، کوئی روک نہیں سکتا۔ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہ ہی سب کے اعمال کی جزاء و سزا دینے والا ہے (ربط) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یہاں تک جتنے سوالات و اعتراضات اس قوم کے تھے، وہ ہی تھے حضرت کی قوم کے۔ گویا یہ سب جواب ان کو ملے۔ ایک ان کا نیا دعویٰ تھا، اسے آگے قصہ کے درمیان میں بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 11:352 یہ گفتگو کفار مکہ کی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھی کہ قرآن آپ خود بنا لائے ہیں۔ خدا کا کلام نہیں ہے۔ حضرت نوح کتاب نہ لائے تھے جو ان کی قوم یہ بات کہتی۔ (کذا فی الموضح) لیکن بعض مفسرین نے اس آیت کو بھی نوح کے قصہ کا جزو بتلایا ہے۔ یعنی ان کی قوم نے کہا کہ جن باتوں کو نوح خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ خود ان کی گھڑنت ہیں۔ بعض نے کہا کہ گفتگو تو اہل مکہ کی حضور ﷺ سے ہے مگر اس کا تعلق خاص نوح کے قصہ سے تھا گویا وہ کہتے تھے کہ یہ داستان آپ نے جھوٹ بنا لی ہے۔ واقعہ میں ان قصوں کی کوئی اصل نہیں۔
3 قرآن کو " مفتریٰ " کہنے کا تحقیقی جواب اسی سورت میں ایک رکوع پہلے گزر چکا۔ یہاں آخری بات فرمائی یعنی قرآن کا کلام الٰہی ہونا نہایت واضح و محکم دلائل سے بار بار ثابت کیا جا چکا ہے ایسی روشن چیز کی تکذیب کر کے جو گناہ تم سمیٹ رہے ہو اس کا وبال تم پر ہی پڑے گا۔ اس کی فکر کرو اس کا میں ذمہ دار نہیں۔ ہاں بفرض محال اگر میں نے افتراء کیا ہو تو اس کا گناہ مجھ پر پڑ سکتا ہے۔ سو بحمد اللہ ایسا ہو انہیں۔
Ayah 11:364 جب قوم کی ایذائیں حد سے گزر گئیں، تو نوح (علیہ السلام) نے سینکڑوں برس ظالموں کی زہرہ گداز جفائیں جھیلنے کے بعد خدا کے آگے شکوہ کیا (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) کہ میں مغلوب و ضعیف ہوں۔ آپ ان سے بدلہ لیجئے۔ ارشاد ہوا کہ جن گنے چنے افراد کی قسمت میں ایمان لانا تھا، لا چکے۔ آئندہ ان میں کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ لہذا اب آپ ان کی عداوت تکذیب اور ایذاء رسانی سے زیادہ غمگین نہ رہیں۔ عنقریب خدا کی شمشیر انتقام بےنیام ہونے والی ہے جو سب شرارتوں اور شریروں کا خاتمہ کر ڈالے گی۔
Ayah 11:375 حق تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ ایک کشتی ہمارے روبرو (یعنی ہماری حفاظت و نگرانی میں) ہمارے حکم اور تعلیم والہام کے موافق تیار کرو۔ کیونکہ عنقریب پانی کا سخت خوفناک طوفان آنے والا ہے۔ جس میں یہ سب ظالمین و مکذبین یقینا غرق کیے جائیں گے۔ ان کے حق میں اب یہ فیصلہ نافذ ہو کر رہے گا۔ آپ کسی ظالم کی سفارش وغیرہ کے لیے ہم سے کوئی بات نہ کریں۔ آنے والا عذاب بالکل اٹل ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب قوم لوط کے حق میں جھگڑنا شروع کیا تھا ان کو بھی اسی طرح کا ارشاد ہوا تھا۔ (يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ۚ وَاِنَّهُمْ اٰتِيْهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُوْدٍ ) 11 ۔ ہود :76)
Ayah 11:386 کہتے ہیں کشتی سالہا سال میں تیار کی۔ کشی کیا تھی بڑا جہاز تھا، جس میں الگ الگ درجے تھے مفسرین نے اس کی تفاصیل میں بہت سی مبالغہ آمیز اور عجیب و غریب روایات بیان کی ہیں جن میں اکثر اسرائیلیات ہیں۔
7 کہ دیکھو ! پیغمبر سے بڑھئی بن گئے۔ کبھی ایک عجیب سی چیز دیکھ کر نوح (علیہ السلام) سے پوچھتے کہ یہ کیا بناتے ہو ؟ آپ فرما دیتے کہ ایک گھر بناتا ہوں جو پانی پر چلے گا اور ڈوبنے سے بچائے گا۔ وہ سن کر ہنسی اڑاتے کہ خشک زمین پر ڈوبنے کا بچاؤ کر رہے ہیں۔
8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " وہ ہنستے تھے کہ خشک زمین پر غرق کا بچاؤ کرتا ہے۔ یہ ہنستے تھے اس پر کہ موت سر پر کھڑی ہے اور یہ ہنستے ہیں۔ " اسی تفسیر کے موافق مترجم محقق نے (فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ ) 11 ۔ ہود :38) کا ترجمہ بصیغہ حال کیا ہے۔ ابن کثیر وغیرہ " نَسْخَرُمِنْکُمالخُ " میں استقبال کے معنی مراد لیتے ہیں۔ یعنی آج تم ہمیں احمق بناتے اور ہنستے ہو۔ لیکن وہ زمانہ قریب ہے کہ اس کے جواب میں تمہاری حماقت و سفاہت پر ہم کو ہنسنے کا موقع ملے گا، جب تم اپنے جرائم کی پاداش میں سزایاب ہوگئے۔
Ayah 11:399 یعنی اب زیادہ تاخیر نہیں۔ جلد آشکارا ہوجائے گا کہ دنیا کا رسوا کن اور آخرت کا دائمی عذاب کس پر نازل ہوتا ہے ؟
Ayah 11:4010 یعنی نوح (علیہ السلام) کشتی تیار کرتے رہے یہاں تک کہ وعدہ کے موافق خدا کا حکم پہنچ گیا۔ " بادلوں " کو کہ برس پڑیں اور زمین کو کہ ابل پڑے، اور فرشتوں کو کہ تعذیب وغیرہ کے متعلق اپنے فرائض منصبی سرانجام کریں۔ آخر اوپر سے بارش آئی اور نیچے زمین کی سطح سے چشموں کی طرح جوش مار کر پانی ابلنے لگا۔ حتٰی کہ روٹی پکانے کے تنوروں میں بھی جہاں آگ بھری ہوتی ہے، پانی ابل پڑا۔ (تنبیہ) " تنور " کے معنی میں اختلاف ہے بعض مطلق روٹی پکنے کا تنور مراد لیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ ایک تنور حضرت حواء سے منتقل ہوتے ہوتے حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تھا، وہ ان کے گھر میں طوفان کا نشان ٹھہرایا گیا تھا کہ جب اس سے پانی ابلے کشتی میں سوار ہوجاؤ۔ بعض کے نزدیک تنور کوئی خاص چشمہ " کوفہ " یا " جزیرہ " میں تھا۔ بعض نے دعویٰ کیا ہے کہ " تنور " صبح کے اجالے اور روشنی کو کہا ہے۔ یعنی صبح کی روشنی خوب چمکنے لگے۔ ابو حیان کہتے ہیں کہ " فارالتنور " ممکن ہے " ظہور عذاب " اور " شدت ہول " سے کنایہ ہو جیسے " حمی الوطیس " شدت حرب سے کنایہ ہے۔ ابن عباس ؓ ، سے منقول ہے کہ " تنور " کے معنی وجہ ارض (سطح زمین) کے ہیں۔ ہم نے اوپر جو تفسیر کی مقدم اسی معنی کو رکھا ہے، اشارہ بعض دوسرے معانی کی طرف بھی کردیا۔ حافظ ابن کثیر یہ ہی تفسیر لکھنے کے بعد فرماتے ہیں۔ وَہٰذَا قَوْلُ جَمْہُوْرِ السَّلَفِ وَعُلَمَاءِ الْخَلَفِ ۔ واللہ اعلم۔
11 یعنی جانوروں کی ضرورت ہے اور نسل باقی رہنی مقدر ہے ان میں سے ایک ایک جوڑا (نر اور مادہ دونوں) لے کر کشتی پر سوار کرلو۔
12 یعنی مقدر ہوچکا ہے کہ وہ ظالموں کے زمرہ میں داخل ہونے کی وجہ سے غرق کئے جائیں گے ( وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ ) 11 ۔ ہود :37) اس سے مراد ہے نوح کا بیٹا " یام " جس کا لقب کنعان تھا اور کنعان کی والدہ " واعلہ " گھر والوں میں سے یہ دونوں علٰیحد رہے اور غرق ہوئے۔
1 یعنی اسی مرد یا کم و بیش۔