Ayahs 11:1–41:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الٓرکتب احکمت ایتہ “ فرمایا یہ سب آیات مکی ہیں اور محکم ہیں یعنی سورة ھود (آیت) ” ثم فصلت “ یعنی پھر محمد ﷺ کا ذکر کیا گیا اور اس میں فیصلہ فرمایا آپ ﷺ اور آپ کے مخالفین کے درمیان اور ساری آیات کو دو فریقوں کی مثل پڑھا پھر ذکر کیا گیا قوم نوح کا پھر قوم ھود کا یہ تفصیل ہے اس کی اور اس کا اصل محکم ہے زید بن اسلم نے کہا کہ حضرت ابی ؓ اسی طرح کہتے تھے۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” کتب احکمت ایتہ ثم فصلت “ کے بارے میں فرمایا کہ مستحکم کیا گیا ہے ساتھ امر ونہی کے اور تفصیل کی گئی وعدہ اور وعید کے ساتھ۔
3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم فصیلت “ یعنی تفسیر کی گئی۔
4:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” کتب احکمت ایتہ ثم فصلت “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس (کی آیات) کو محفوظ کردیا باطل سے (یعنی باطل کے مقابلے میں) پھر اس کی تفصیل بیان کی اپنے علم کے ساتھ اور اس کے حلال اور اس کے حرام کو اور اس کی اطاعت کو اور اس کی مصیت کو تفصیل بیان فرمایا اور فرمایا (آیت) ” من لدن حکیم خبیر “ یعنی اس ذات کی طرف سے جو بڑی حکمت والی ہے اور فرمایا (آیت) ” یمتعکم متاعا حسنا “ یعنی تم بھی ان راحتوں میں ہو لہذا تم اس سامان راحت کو اللہ کی اطاعت سے اور اس کے حق کی معرفت سے لے لو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جو منعم ہیں ( یعنی انعام کرنے والے) شکر کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اور شکر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید (انعامات) ملیں گے اور یہ اس کا فیصلہ جو اس نے فرمایا اور (آیت) ” الی اجل مسمی “ یعنی موت تک اور فرمایا (آیت) ” ویوت کل ذی فضل فضلہ “ یعنی آخرت میں (وہ زیادہ نیکی کرنے والے کو اس کی نیکی کا زیادہ ثواب عطا فرمائے گا ) ۔
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویوت کل ذی فضل فضلہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جتنا اس نے خرچ کیا اپنے مال میں سے یا اس نے اپنے ہاتھ یا پاوں یا کلام سے عمل کیا یا اس کے حکم سے جو اس نے اپنے مال کو سب احسان کیا (اللہ تعالیٰ اسے اس کا ثواب دے گا)
6:۔ ابو الشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویوت کل ذی فضل فضلہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اسلام میں زیادہ نیک عمل کرنے والے کو آخرت میں زیادہ درجے دے گا۔
7:۔ ابن جریر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویوت کل ذی فضل فضلہ “ کے بارے میں فرمایا جس نے کوئی برائی کی تو اس پر ایک برائی لکھ دی جائے گی اور جس نے ایک نیکی کی تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی اگر اس برائی کے بدلے میں اس کو سزا دے دی گئی (دنیا میں) جو اس نے دنیا میں کی تھی تو اس کے لئے دس نیکیاں باقی ہوں گی۔ اور اگر اس کی برائی میں سزا نہیں دی گئی تو اس کو دس نیکیوں میں ایک کو لیا جائے گا اور اس کے لئے نو نیکیاں باقی رہ جائیں گی۔ پھر وہ فرماتے تھے وہ شخص ہلاک ہوگیا کہ جس کی ایک برائی اس کی دس نیکیوں پر غالب آگئی۔
Ayah 11:5اللہ تعالیٰ دل میں چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے :
1:۔ البخاری وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے محمد بن عباد بن جعفر کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “ اور فرمایا لوگ اس بات سے حیا کرتے تھے کہ وہ خلوت اختیار کریں تو اس راز کو آسمان تک ظاہر کردیں۔ اور اپنی عورتوں سے جماع کرتے ہیں حیا محسوس کرتے تھے (اور اس رات کو آسمان تک پہنچا دیں تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
2:۔ بخاری وابن مردویہ رحمہما اللہ نے عمر و (رح) کے راستے سے عمر و بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے یوں پڑھا (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “ یعنی خبردار کہ وہ دوبدو کرتے ہیں اپنے سینوں کو۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے ابن ملیکہ کے راستہ سے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “ (خبردار کہ وہ دوہرا کرتے ہیں اپنے سینوں کو پھر فرمایا کہ وہ اپنی عورتوں کے پاس نہیں آتے تھے اور نہ پیشاب پاخانہ کو آتے تھے مگر اپنے آپ کو کپڑوں کے ساتھ چھپالیتے اس لئے کہ وہ نہ ناپسند کرتے تھے وہ اپنی شرم گاہوں کو کھلے آسمان میں کھول دیں۔
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عکرمہ (رح) کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ اور برے عمل میں شک کی بنا پر وہ اپنے سینوں کو دہرا کرتے تھے۔
5:۔ سعید بن منصور ابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے عبید اللہ بن شداد بن الھاد سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “ کے بارے میں فرمایا منافقین میں سے جب کوئی نبی ﷺ کے پاس سے گزرتا اپنے سینے کو دوہرا کرتا اور اپنے کپڑے کو ڈھانپ لیتا تاکہ آپ ﷺ اس کو دیکھ نہ لیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔
6:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “ کے بارے میں فرمایا ان کے سینے تنگ ہوجاتے ہیں حق کے بارے میں شک کرتے ہوئے (آیت) ” لیستخفوا منہ “ یعنی وہ اللہ سے چھپالیں گے اگر اس کی طاقت رکھیں۔
7: ابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا حین یستغشون “ یعنی جب کہ (اپنے کپڑے خود اوڑھ لیتے ہیں) رات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کے اندرونی حصے ہیں۔
8:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن رزین سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں ان میں سے کوئی ایک اپنی پیٹھ کو موڑتا تھا اور کپڑوں سے ڈھانپ لیتا تھا۔
9:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا وہ اپنے سینوں کو جھکا لیتے تھے تاکہ وہ اللہ کی کتاب کو نہ سنیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الا حین یستغشون ثیابہم یعلم ما یسرون “ جو کچھ ابن آدم چھپاتا ہے جب وہ اپنی پیٹھ کو بڑھا کرلے اور اپنا کپڑا خوب اوڑھ لے اور اپنے ارادے کو اپنے دل میں چھپالے اور اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے (وہ تو سینوں کے راز کو بھی جانتا ہے)
10:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ چھپاتے تھے جو ان کے دلوں میں ہوتا تھا۔ (پھر فرمایا) (آیت) ” الا حین یستغشون ثیابہم یعلم “ یعنی (اللہ تعالیٰ جانتے ہیں) جو وہ رات اور دن کو عمل کرتے ہیں۔
11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یستغشون ثیابہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے سروں کو جھکاتے ہیں اور اپنی پیٹھوں کو ٹیڑھا کرتے ہیں
12:۔ ابو الشیخ (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کہ (آیت) ” الا حین یستغشون ثیابہم “ (یعنی جب وہ یہ عمل کرے ہیں) رات کے اندھیرے میں اور رضائی میں چھپ کر۔
13:۔ ابو الشیخ (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا انہم یثنون صدورھم “ کے بارے میں فرمایا کہ ” یشون “ کا معنی ہے یعنی وہ اپنے سینوں کو کپڑا کرلیتے ہیں (آیت) ” الا حین یستغشون ثیابہم “ یعنی وہ اپنے سروں کو ڈھانک لیتے ہیں۔
Ayah 11:61:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو الخیر بصری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داود (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تو گمان کرتا ہے کہ بلاشبہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے۔ اور تو میرے بارے میں برے گمان رکھتا ہے۔ اور شام کو کیا تیرے لئے یہ عبرت نہیں کہ اگر تو ساتویں زمینیں پھاڑ ڈالے تو میں تجھے چیونٹی دکھاوں گا۔ کہ اس کے منہ میں گندم کا دانہ ہے۔ اور میں اس کو نہیں بھولا۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہر زمین پر چلنے والا (کوئی ایسا نہیں ہے جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو)
3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ یعنی جو آتا ہے ان کے پاس رزق میں سے وہ اللہ کی طرف سے اور کبھی اس کو رزق نہیں دیتے یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرجاتا ہے لیکن جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کے لئے رزق میں سے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔
منجانب اللہ کھانے کا انتظام :
4:۔ حکیم ترمذی (رح) نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ اشعرین یعنی ابو موسیٰ ، ابو مالک اور ابو عامر اپنے میں سے ایک جماعت نے ہجرت کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ان کا توشہ (یعنی کھانے پینے کا سامان) ختم ہوگیا انہوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کو رسول اللہ ﷺ کے پاس سوال کرنے کے لئے بھیجا جب یہ آدمی رسول اللہ ﷺ کے دروازہ پر پہنچا تو آپ کو یہ آیت (آیت ) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ ویعلم مستقرھا ومستودعھا، کل فی کتب مبین (6) “ پڑھتے ہوئے سنا اس آدمی نے کہا کہ ہم اشعر یون اللہ تعالیٰ کے نزدیک جانوروں سے زیادہ حقیر نہیں ہیں وہ آدمی لوٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا (واپس آکر اپنے ساتھیوں سے کہا) خوش ہوجاؤ تمہارے پاس اللہ کی مدد آرہی ہے۔ اس کے ساتھیوں نے یہ سمجھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تھا اور آپ نے (شاید) وعدہ فرما لیا تھا۔ اس درمیان کہ وہ اس حال میں تھے کہ اچانک ان کے پاس دو آدمی آئے جو ایک پیالہ روٹی اور گوشت سے بھرا ہوا اٹھائے ہوئے تھے انہوں نے اس میں سے جتنا چاہا کھایا پھر ان کے بعض نے بعض سے کہا کہ یہ (بچا ہوا) کھانا ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیج دیں تاکہ وہ بھی اس سے اپنی ضرورت کو پورا فرما لیں انہوں نے ان دونوں (پیالہ لانے والوں) سے کہا کہ یہ کھانا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤ کیونکہ ہم نے اپنی ضرورت پوری کرلی ہے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے اس کھانے سے بڑھ کر کسی کھانے کو اس سے زیادہ اور سے لذیذ نہیں دیکھا جو آپ نے بھیجا تھا آپ نے فرمایا میں نے تمہارے پاس کھانا نہیں بھیجا تھا انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے ساتھی کو آپ کے پاس بھیجا تھا رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو سارا واقعہ بتایا جو ہوا اور جو اس نے اپنے ساتھیوں سے (آکر) کہا تھا ( یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ وہ چیز ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے تم کو رزق عطا فرمایا۔
5:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویعلم مستقرھا “ کے بارے میں فرمایا ہے کہ پناہ لینے کی جگہ اور (آیت) ” ومستودعھا “ سے مراد ہے مرنے کی جگہ (کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ کو جانتے ہیں ) ۔
6:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو صالح سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے رات کے وقت ٹھہرنے کی جگہ اور جہاں وہ مرے گا اس جگہ کو بھی جانتا ہے۔
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویعلم مستقرھا “ سے مراد ہے کہ آتا ہے کہ اس کا رزق جہاں وہ ہوتا ہے۔
8:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والحاکم رحمہم اللہ نے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویعلم مستقرھا ومستودعھا “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ جانتے ہیں) ارحام اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو اور اس جگہ کو جہاں وہ مرے گا۔
9:۔ حکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ نے ولبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی موت جس زمین میں (آنے والی) ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس زمین کی طرف اس کی کوئی ضرورت پیدا فرما دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اس مخصوص جگہ کی انتہاتک پہنچتا ہے تو (اس کی روح) قبض کرلی جاتی ہے اور قیامت کے دن زمین کہے گی وہ آدمی ہے کہ جس کو آپ نے میرے پاس امانت رکھا تھا۔
Ayah 11:71:۔ احمد والبخاری والترمذی والنسائی وابوالشیخ نے العظمۃ میں ابن مردویہ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ یمن والوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم کو اس کام (یعنی کائنات) کی ابتداء کے بارے میں بتائیے کہ کس طرح سے ہوئی ؟ آپ نے فرمایا ہر چیز سے پہلے اللہ پاک تھے اور ان کا عرش پر تھا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو رکھ دیا گیا۔ (پھر) آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا (اچانک) ایک آواز دینے والے نے آواز دی اے ابن حصین تیری اونٹنی بھاگ گئی۔ میں (اس کے پیچھے) چلا جبکہ اس کے سامنے سراب یعنی صحرا کی زینت تھی جسے طے کررہی تھی خدا کی قسم ! میرے لئے پسندیدہ یہ تھا کہ میں اس کام کو چھوڑ دیتا۔
2:۔ الطیالسی واحمد والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا وابن ماجہ وابن جریر وابن منذر وابو الشیخ نے العظمۃ میں وابن مردویہ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو رزین ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہمارے رب کہاں تھے آپ نے فرمایا وہ عماء میں تھے (اور بعض نے کہا ہے کہ عماء سے مراد ہے جس کے ساتھ کوئی اور چیز نہ ہو (یعنی اللہ آبائی اکیلے تھے اور کوئی چیز نہ تھی) اس کے نیچے بھی ہوا تھی اور اوپر بھی ہوا تھی اور اپنے عرش کو پانی پر پیدا فرمایا۔
3:۔ مسلم الترمذی والبیہقی رحمہم اللہ نے عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے (ساری) مخلوق کی تقدیر کو مقدر فرمادیا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے اور اس وقت ان کا عرش پانی پر تھا۔
آسمانوں و زمین کی تخلیق کی ترتیب :
4:۔ ابن جریر وابن منذر وابن حبان وابو الشیخ نے العظمۃ میں والحاکم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے بریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک قوم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ ہم اس لئے آئے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام عرض کریں۔ اور ہم دین میں سمجھ حاصل کریں اور ہم آپ سے اس کائنات کی ابتداء کے بارے میں سوال کریں۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ موجود تھے اور ان کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور ان کا عرش پانی پر تھا اور اس نے ہر چیز الذکر (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ دی پھر سات آسمان پیدا کئے گئے۔ پھر ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کہا تیری اونٹنی بھاگ گئی میں باہر نکلا اور اس کے سامنے سراب ہو رہا تھا میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں اس کو چھوڑ دیتا۔
5:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وکان عرشہ علی المآء “ کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کس چیز پر تھا۔ آپ نے فرمایا ہوا کی سطح پر تھا۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکان عرشہ علی المآء “ سے مراد ہے کسی چیز کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کا عرش پانی پر تھا۔
7:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ربیعہ بن انس ؓ سے روایت کیا کہ اس کا عرش پانی تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تو پانی کو دو قسموں میں تقسیم فرما دیا اور اس کے ایک حصے کو عرش کے نیچے رکھ دیا پتھر کی صورت میں اور وہیں ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ ٹپکے گا یہاں تک کہ صور پھونک دیا جائے گا (یعنی قیامت قائم ہوجائے گی) تو اس سے شبنم کی طرح (باریک قطرے) نازل ہوں گے اس سے جسم اگیں گے۔ پھر دوسرا آدھا نچلی زمین کے نیچے رکھ دیا۔
8:۔ ابن البحر نے کتاب العقل میں وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم نے التاریخ میں وابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت (آیت ) ” لیبلوکم ایکم احسن عملا “ تلاوت فرمائی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا تاکہ وہ تم کو آزمائے کون تم میں سے اچھا ہے عقل کے لحاظ سے پھر فرمایا کون تم میں سے اچھا ہے عقل کے لحاظ سے پھر فرمایا کون تم میں سے اچھا ہے عقل کے لحاظ سے اور کون تم سے بچنے والا ہے۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں سے اور کون زیادہ تم میں سے جاننے والا ہے اللہ کی اطاعت کو۔
9:۔ ابن جریر (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) لیبلوکم “ تاکہ ثقلین یعنی جنات اور انسان کو آزمائے۔
10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لیبلوکم “ تاکہ تمہارا امتحان لیں (آیت) ایکم احسن عملا “ یعنی کون تم میں سے پورا ہے عقل کے لحاظ سے۔
11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لیبکوکم ایکم احسن عملا “ یعنی کون تم میں سے دور رہنے والا ہے دنیا سے۔
اماقولہ : (آیت ) ” ولین قلت انکم مبعوثون من بعد الموت لیقولن الذین کفروا :
12:۔ ابو الشیخ (رح) نے زائدہ (رح) سے روایت کیا کہ سلمان بن موسیٰ نے سورة ھود میں پڑھا سات آیات کے ختتام کے وقت (آیت) الا سحر مبین “
Ayahs 11:8–141:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا قیامت قریب آگئی تو وہ (بڑے کاموں سے) رک گئے وہ تھوڑا سا وقت رکے رہے پھر وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ (رحمۃ اللہ علیہالنحل) تو لوگوں نے کہا یہ گمراہ ہونے والے ہیں اللہ کا حکم تحقیق آچکا تو قوم رک گئی پھر اپنے تدبیروں کی طرف لوٹ آئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریر اور ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) امۃ معدودۃ “ سے مراد ہے ایک معین وقت تک۔
3:۔ ابن ابی حاتم و ابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لیقولن ما یحبسہ “ یعنی اس کو جھٹلاتے ہوئے کہیں گے کہ کس چیز نے عذاب کو روک دیا ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) وحاق بہم ما کانوا بہ یستھزء ون “ یعنی وہ عذاب واقع ہوا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
خوشحالی وتنگی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں :
5:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃ “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا اے آدم کے بیٹے اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملے خوشحالی سے امن سے اور عافیت سے پھر تو ناشکری کرنے لگتا ہے اس میں سے جو نعمت تجھ کو ملی اور جب تجھ سے وہ نعمتیں چھین لی جاتیں اور رب کریم اس سے فارغ کردے پھر تو مایوس ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔ اور بالکل ناامید ہوجاتا ہے اس کی رحمت سے اسی طرح معاملہ ہے منافق اور کافر کا اور اللہ تعالیٰ کا قول (آیت) ” ولئن اذقنہ نعمآء “ سے لے کر (آیت) ” ذھب السیات عنی “ تک اس سے مراد ہے کہ یہ اسے اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکہ دیتی ہے اور اسے اللہ کے خلاف قوت دلاتی ہے اس طرح کہ وہ خوش ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ خوش ہونے والے کو پسند نہیں فرماتے اور وہ تکبر کرتا ہے اور اتراتا ہے جب اس کو (اللہ کی طرف) سے کوئی نعمت دی جاتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا پھر (اس میں سے) استثنی کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” الا الذین صبروا “ یعنی وہ مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں (آیت) ” وعملوا الصلحت “ یعنی نعمت کے وقت نیک عمل کرتے ہیں (آیت) ” اولئک لہم مغفرۃ ‘ ان گناہوں کے لئے (مغفرت ہے) (آیت) ” اجرکبیر “ یعنی جنت بھی ہے (پھر فرمایا) (آیت) ” فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک “ اگر آپ اس میں سے وہ کریں گے جو تجھ کو حکم دیا گیا اور اس کی طرف بلائیں گے اس حکم کی طرف جس کے لئے آپ کو بھیجا گیا۔ (آیت) ” ان یقولوا لولاانزل علیہ کنز “ یعنی وہ کہیں گے خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا حالانکہ آپ اس کے ساتھ مال نہیں پائیں گے ، (آیت) ” اوجآء معہ ملک “ کہ ان کے ساتھ ہو کر ڈرائے (آیت) ” انما انت نذیر “ بس آپ پہچانئے جو آپ کو حکم کیا جاتا ہے کیونکہ آپ تو صرف رسول ہیں۔ (آیت) ” ام یقولون افترہ “ یہ بات انہوں نے کہی (کہ یہ خود سے بنالاتا ہے) فرمایا (آیت) ” فاتوا بعشر سورمثلہ “ قرآن کی طرح (دس سورتیں بناکر لے آؤ) (آیت) ” وادعوا شھداء کم “ کہ وہ گواہی دیں اس بات کی کہ یہ اس (قرآن) کی طرح ہے۔
6:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھل انتم مسلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ محمد ﷺ کے اصحاب کے لئے فرمایا۔
Ayahs 11:15–161:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا “ (یہ آیت) یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عبداللہ بن معبد ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہا ہم کو ان آیات (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “ سے لے کر (آیت) ” وبطل ماکانوا یعملون “ تک کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا تو ہلاک ہوجائے اس سے مراد وہ آدمی ہے جو دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ اور آخرت کا ارادہ نہیں کرتا۔
3:۔ نحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “ یعنی جو دنیوی زندگی کے ثواب کے طلبگار ہیں (آیت) ” وزینتھا “ اور اس کے مال کے (آیت) ” نوف الیہم “ یعنی ہم ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا ثواب دیں گے۔
راحت اور خوشی کے ساتھ اہل و عیال کے مال میں اور اولاد میں (آیت) ” وھم فیھا لا یبخسون “ یعنی وہ کمی نہیں کئے جائیں گے پھر اس کو منسوخ کردیا اس آیت نے یعنی (آیت) ” من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشآء “ (الآیہ)
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا جس نے کوئی نیک عمل کیا دنیا کی طلب میں روزہ رکھا یا نماز پڑھی یا رات کو تہجد پڑھی تو اس کا وہ عمل صرف دنیا کی طلب کے لئے ہی ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ عمل جس کا اس نے دنیا میں ثواب طلب کیا تو جو وہ عمل کررہا تھا اس کو اس نے خراب کردیا کہ وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
5:۔ ابن ابی شیبہ ہنا دو ابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “ سے مراد وہ آدمی ہے جو دنیا کے لئے عمل کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ نہیں کرتا۔
6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت شرک والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
7:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا اس سے ریاکاری کرنے والے مراد ہیں۔
ریاکاری کرنے والے کی سزاء :
8:۔ ترمذی (رح) نے اور آپ نے اس کو حسن کہا وابن جریر وابن منذر و البیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلے قیامت کے دن اس آدمی کو بلایا جائے گا جس نے قرآن کو (اپنے سینے میں) جمع کیا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کیا میں نے تجھ کو اس کا علم نہیں دیا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا تھا ؟ وہ کہے گا ہاں میرے رب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے عمل کیا جو ہم نے تجھ کو سکھایا تھا وہ کہے گا اے میرے رب ! میں رات اور دن کو کھڑے ہو کر تلاوت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے۔ تو نے جھوٹ بولا فرشتے بھی کہیں گے۔ تو نے جھوٹ بولا بلکہ تو نے ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں بہت اچھا قاری ہے تو تحقیق کہا جاچکا چلے جاؤ آج کے دن ہمارے پاس تیرے لئے کوئی چیز (یعنی ثواب) نہیں ہے پھر مال والے کو بلایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے کیا میں نے تجھ پر انعام نہیں کیا تھا ؟ کیا میں نے تجھ کو مال کی فراوانی اور خوشحالی نہیں دی تھی ؟ وہ کہے گا اے میرے رب کیوں نہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے پھر تو نے کیا عمل کیا اس چیز میں جو ہم نے تجھ کو دی تھی وہ کہے گا۔ اے میرے رب ! میں صلہ رحمی کرتا تھا صدقہ کرتا تھا اور دوسرے (نیک) کام کرتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے تو نے جھوٹ بولا بلکہ تو نے ارادہ کیا تھا کہا جائے کہ فلاں بڑا سخی ہے پس یہ کہا جا چکا۔ چلے جاؤ آج کے دن ہمارے پاس تیرے لئے کوئی (ثواب) نہیں پھر مقتول کو بلایا جائے گا اس سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے کس لئے تو قتل کیا گیا وہ کہے گا اے میرے رب تیرے لئے اور تیرے راستے میں (قتل کیا گیا) اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے۔ تو نے جھوٹ بولا اور فرشتے بھی کہیں گے تو نے جھوٹ بولا بلکہ تو نے ارادہ کیا تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا بہادر ہے تحقیق کہا جاچکا چلے جاؤ آج کے دن تیرے لئے میرے پاس کوئی (ثواب) نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تینوں اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ برے ہیں ان کے ساتھ آگ بھڑکائی جائے گی۔ قیامت کے دن معاویہ ؓ نے اس کے ساتھ (آیت) ” وبطل ماکانوا یعملون “ تک آیت پڑھی۔
قیامت کے دن لوگوں کے تین گروہ :۔
9:۔ بیہقیرحمۃ اللہ علیہ نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو میری امت تین فرقوں میں ہوجائے گی۔ ایک فرقہ جو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اور ایک فرقہ جو ریا کاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا۔ اور ایک وہ فرقہ جو دنیا کے حاصل کرنے لئے اللہ کی عبادت کرتا تھا پس وہ گروہ جو دنیا کو پالنے کے لئے اللہ کی عبادت کرتا تھا اسے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میری عزت کی اور میرے جلال کی قسم تو نے میری عبادت کے بدلے کس چیز کا ارادہ کیا تھا وہ کہے گا دنیا کا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کوئی شک نہیں تجھ کو نہیں نفع دے گا جو تو نے جمع کیا۔ اور نہ اس کی طرف تو لوٹے گا اس کی آگ کی طرف لے جاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس گروہ سے فرمائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت ریاکاری کے طور پر کرتا تھا۔ میری جلال اور میری عزت کی قسم تو نے میری عبادت کے بدلہ میں کس چیز کا ارادہ کیا تھا۔ وہ کہے گا ریا اور دکھاوے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیری وہ عبادت جس کے ساتھ تو دکھاوا کرتا تھا اس سے کوئی چیز میری طرف اوپر نہیں چڑھی آج کے دن تجھے کچھ بھی نفع نہیں ہوگا۔ اس کو آگ کی طرف لے جاؤ۔ پھر اس گروہ سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جو خالص اللہ کے لئے عبادت کرتا تھا میر میری جلال اور میری عزت کی قسم تو نے میری عبادت کے بدلہ میں کس چیز کا ارادہ کیا تھا ؟ وہ کہے گا آپ کی عزت اور جلال کی قسم ! آپ مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں میں آپ کی رضا مندی اور آپ کے گھر کے لئے آپ کی عبادت کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے نے سچ کہا اس کو جنت کی طرف لے جاؤ۔
10:۔ بیہقی (رح) نے الشعب میں عدی بن حاتم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کے درمیان کچھ لوگوں کو جنت کی طرف لایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس سے قریب ہوں گے اور وہ اس کی خوشبو کو پانے لگیں اور اس کے محلات کی طرف دیکھیں گے اور ان چیزوں کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ان کے رہنے والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! اگر ہم کو آگ میں داخل کردیتے ہم کو ان چیزوں کے دیکھنے سے پہلے جو آپ نے ہم کو دکھائیں ثواب میں سے اور جو آپ نے تیار کر رکھی ہیں اس میں اپنے دوستوں کے لئے تو وہ ہمارے لئے زیادہ آسان تھا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے اس سے ارادہ ہی ایسا کیا ہے جب تم خلوت میں ہوتے تھے تو میری عظمت اور شرف میں میرا مقابلہ کرتے تھے اور جب تم لوگوں سے ملتے تھے تو ان سے ملتے تھے بہت حقیر اور پست ہوتے ہوئے اور میری جلالت اور شان کا اعتراف کرتے اور تم نے لوگوں کے لئے (مجھ کو) چھوڑ دیا۔ اور ان کو میری طرف نہ چھوڑا تھا آج کے دن تم کو درد ناک عذاب چکھاوں گا تم کو ثواب سے محروم کرتے ہوئے۔
11:۔ ابو الشیخ (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا، نوف الیہم اعمالہم فیھا وھم فیھا لایبخسون “ کے بارے میں فرمایا کہ انکو ان اعمال کا ثواب یعنی بدلہ دنیا ہی میں دیا جائے گا جو انہوں نے کئے اور یہ سورة روم کی اس آیت (آیت) ” وما اتیتم من ربالیربوا فی اموال الناس فلایربوا عند اللہ “ (روم آیت 39) (اور جو روپیہ تم دیتے ہو سود پر تاکہ وہ بڑھتا رہے لوگوں کے مالوں میں سے تو یہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا۔
12:۔ ابو الشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا ‘ الآیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ آدمی جس کا ارادہ فکرطلب ہو اور حاجت صرف دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دنیا میں عطا فرما دیتے ہیں پھر اسے آخرت میں اس طرح پہنچائے گا کہ اس میں اس کے لئے کوئی نیکی نہ ہوگئی۔ اور مومن کو اس کی نیکیوں کی جزاء دنیا میں دی جاتی ہے۔ اور آخرت میں اس پر ثواب دیا جائے گا (اور فرمایا) (آیت) ” وھم فیھا لا یبخسون “ یعنی آخرت میں ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
13:۔ ابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں فرمایا وہ آدمی جو دنیا کے لئے عمل کرتا ہے اور پورا پورا بدلہ دے دیں گے جو اس نے عمل کیا اسی کو فرمایا ” نوف الیہم اعمالہم فیھا وھم فیھا لایبخسون “ یعنی کمی نہیں کی جائے گی اور اس کا (پورا پورا) اجر ان کو دیا جائے گا جو انہوں نے عمل کئے۔
14:۔ ابوالشیخ (رح) نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص ارادہ رکھتا ہو کہ وہ یہ جان لے کہ اس کی کہاں قدرومنزلت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل کو دیکھے کیونکہ جیسا وہ عمل کررہا ہے اس عمل کے مطابق اس کا مقام ہوگا اور مومن اور کافر نے جو بھی نیک عمل کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ عطا فرمائے گا اور مومن کو دنیا اور آخرت میں بدلہ دیں گے جو چاہیں گے اور کافر کو دنیا میں بدلہ دیں گے۔ پھر یہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا ‘ تلاوت فرمائی۔
15:۔ ابو الشیخ (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” نوف الیہم اعمالہم “ یعنی ہم ان کے نیک اعمال کا (ہم پورا پورا بدلہ دیں گے)
16:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے فرمایا کہ (آیت) نوف الیہم اعمالہم “ یعنی ہم کو دنیا میں ان کے لئے اچھائی جلدی لائیں گے جو ان کے لئے دنیا میں ہوگی اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے ان اچھائیوں کے سبب جو ان کو عطا نہیں کی گئیں اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا کیونکہ انہوں نے صرف دنیا کے لئے عمل کیا تھا۔
17:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” نوف الیہم اعمالہم فیھا “ کے بارے میں فرمایا کہ جلدی کی جائے گی اس شخص کے لئے کہ جس سے (اس کا عمل) قبول نہیں کیا جائے گا۔
18:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحبط ما صنعوا فیھا “ یعنی برباد ہوا جو انہوں نے کوئی نیک کام کیا (آیت) ” وبطل “ اور باطل ہوگیا آخرت میں ان کے لئے اس میں کوئی بدلہ نہ ہوگا۔
19:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحبط “ یعنی برباد ہوگیا (مٹ گیا) ۔
20:۔ ابو عبید وابن منذر رحمہما اللہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو (آیت) ” وبطل ما کانوا یعملون (21) پڑھا “
Ayah 11:171:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ و ابونعیم نے المعرفۃ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ قریش میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں مگر یہ کہ نازل کیا گیا ہے اس کے بارے میں قرآن مجید (یعنی چند آیات) ایک آدمی نے ان سے کہا آپ کے بارے میں کیا نازل ہوا انہوں نے فرمایا کیا تو نے سورة ھود کو نہیں پڑھا۔ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاھد منہ “ یعنی اللہ کے رسول اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہیں اور میں بھی ان کی طرف سے گواہی دینے والا ہوں۔
2:۔ ابن مردویہ وابن عساکر رحمہما اللہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل ہیں اور میں بھی اس میں سے گواہی دینے والا ہوں۔
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ایک اور سند سے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ ہوں اور ویتلوہ شاھد منہ “ سے مراد حضرت علی ؓ ہیں۔
4:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ سے مراد محمد ﷺ ہیں۔
5:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ سے مراد محمد ﷺ ہیں۔
6:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے الاوسط میں ابوالشیخ نے محمد بن علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” ویتلوہ شاہد منہ “ کے بارے میں گمان کرتے ہیں کہ آپ ہی پیچھے آنے والے سچے گواہ ہیں۔ انہوں نے فرمایا میں (اس بات کو) پسند کرتا ہوں کہ میں ہی وہ ہوں لیکن وہ محمد ﷺ کی زبان مبارک ہے۔
7:۔ ابو الشیخ (رح) نے محمد بن علی بن الحنیفہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ سے مراد ہیں محمد ﷺ اور ” ویتلوہ شاھد منہ “ سے مراد آپ ﷺ کی زبان مبارک ہے۔
8:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن ابی نجیح کے راستہ سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ سے محمد ﷺ مراد ہیں ” ویتلوہ شاھد منہ “ کے بارے میں حسن ؓ فرمایا کرتے تھے اس سے مراد ہے زبان اور عکرمہ ؓ نے ابن ؓ سے روایت کیا کہ اس سے جبرئیل مراد ہیں۔ اور سعید بن جبیر ؓ نے بھی فرمایا کہ اس سے مراد جبرئیل ہیں۔
9:۔ ابوالشیخ (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویتلوہ شاھد منہ “ سے مراد ہے زبان اور کہا گیا کہ وہ شاہد جبرئیل ہیں۔
10:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے چند طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ “ سے محمد ﷺ مراد ہیں اور ” ویتلوہ شاہد منہ “ سے جبرئیل مراد ہیں کیونکہ وہ گواہی دینے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس چیز کی جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب میں سے جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی (آیت) ” ومن قبلہ کتب موسیٰ “ یعنی اس سے پہلے انہوں نے تورات کی تلاوت کی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر جیسے کہ قرآن کی تلاوت کی گئی محمد ﷺ کی زبان پر۔
11:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ سے محمد ﷺ مراد ہیں (اور) ” ویتلوہ شاھد منہ “ اور یہ پیچھے آنے والے شاھد سے وہ فرشتہ مراد ہے جو آپ کی حفاظت کرتا ہے۔
12:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویتلوہ شاھد منہ “ سے محمد ﷺ مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہ ہیں۔
13:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ سے (ہر) مرمن مراد ہے جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل ہے۔
14:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن قبلہ کتب موسیٰ “ یعنی اس سے پہلے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کتاب لکھتے۔
15:۔ عبدالرزاق وابو الشٰخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یکفر بہ من الاحزاب “ سے سارے کفار کے گروہ مراد ہیں جو سب کے سب کفر پر تھے۔
16:۔ ابوالشٰیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یکفر بہ من الاحزاب “ یعنی یہود و نصاری میں سے جو کوئی اس کے ساتھ کفر کرے۔
یہود و نصاری پر بھی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا فرض ہے :
17:۔ سعید بن منصور وابن منذر والطبرانی وابن مردویہ نے سعید بن جبیر کے راستے سے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے کسی نے یا کسی یہودی نے یا کسی نصرانی نے میرے بارے میں سنا اور مجھ پر ایمان نہ لایا تو آگ میں داخل ہوگا سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مگر وہی اللہ کی کتاب میں ہے۔ میں نے اس (آیت) ” ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ “ کو پایا۔
18:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا سعید بن جبیر ؓ کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے کوئی ایسا نہیں ہے اور نہ کوئی یہودی یا نصرانی کہ جس نے میرے بارے میں سنا اور وہ ایمان نہ لایا تو آگ میں داخل ہوگا سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا کہ میں نے کہنا شروع کیا اللہ کی کتاب میں اس کی تصدیق کہاں ہے۔ اور میں نے بہت تھوڑی حدیثیں سنی ہیں نبی کریم ﷺ سے مگر یہ کہ میں نے اس کی تصدیق کو پالیا قرآن میں یہاں تک کہ میں اس (آیت) ” ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ “ میں پایا اور فرمایا الاحزاب سے ساری ملتیں مراد ہیں۔
19:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو جو بھی حدیث کسی موضوع پر پہنچی آپ کی ذات کی طرف سے مگر یہ کہ میں نے اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں پائی۔
20:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اس امت میں سے کسی نے میرے بارے میں سنا یا کسی یہودی یا کسی نصرانی نے اور وہ اس حال میں مرگیا کہ وہ اس کے ساتھ ایمان نہ لا۔ جس کے ساتھ میں بھیجا گیا۔ تو وہ یقینی طور پر دوزخ والوں میں سے ہے۔
Ayah 11:181:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن جریح ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “ سے مراد ہے کافر اور منافق (آیت) ” اولئک یعرضون علی ربہم “ یعنی ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا (آیت) ” ویقول الاشھاد “ یعنی وہ (فرشتے) جو ان پر ان کے اعمال محفوظ کرتے تھے دنیا میں (آیت) ” ھولاء الذین کذبوا علی ربہم “ یعنی (جن فرشتوں نے) ان کے اعمال محفوظ کئے وہ ان پر قیامت کے دن گواہی دیں گے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الاشھاد “ سے مراد ہیں فرشتے۔
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الاشھاد “ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم پر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
مومن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوگی :
4:۔ ابن مبارک وابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کریں گے یہاں تک کہ اس پر اپنی رحمت کا پردہ ڈال دے گا اور وہ اسے لوگوں سے چھپالے گا اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کیا تو اسی طرح گناہ کو پہچانتا ہے کیا تو اسی طرح گناہ پہچانتا ہے ؟ وہ کہے گا اے میرے رب میں پہچانتا ہوں یہاں تک کہ جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرے گا اور وہ اپنے دل میں خیال کرے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپایا تھا اور میں آج تیری مغفرت کرتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو نیکیوں کی کتاب (یعنی اعمال نامہ) عطا فرمائے گا۔ لیکن کفار اور منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا (آیت) ” ویقول الاشھاد ھولاء الذین کذبوا علی ربہم الا لعنۃ اللہ علی الظلمین “۔
5:۔ طبرانی وابو الشیخ (رح) نے ایک اور طریق سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن (بندے) کو لائیں گے اور اسے قریب کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو پردے میں کردیں گے ساری مخلوق سے (چھپائے ہوئے) پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے۔ تو اس کو پڑھ لے پس اسے ایک ایک گناہ پہچان کرائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تو اسے جانتا ہے کیا تو پہچانتا ہے ؟ وہ کہے گا ہاں پھر بندہ دائیں اور بائیں دیکھے گا تو رب تعالیٰ اس سے فرمائیں گے اے میرے بندے تجھ پر کوئی الزام نہیں تو میرے پردے میں چھپا ہوا ہے ساری مخلوق سے اور آج کے دن میرے اور تیرے درمیان کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو تیرے گناہوں کو جانتا ہو۔ چلا جا میں نے ایک ہی حرف کے ساتھ تیرے سارے گناہوں کو بخش دیا جو تو میرے پاس لے کر آیا تو وہ کہے گا اے میرے رب ایک حرف کیا ہے فرمایا کہ تو میرے علاوہ کسی سے در گزر کی امید نہ رکھتا تھا پس میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں تیرے گناہوں کی لیکن کافر تو اس کے گناہوں کو تمام گواہوں کے سامنے پڑھا جائے گا اور کہا جائے (آیت) ” ویقول الاشھاد ھولآء الذین کذبوا علی ربھم الا لعنۃ اللہ علی الظلمین “۔
6:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم اس بات کو بیان کرتے تھے کہ اس دن کسی کی بھی رسوائی نہ ہوگی اس کی رسوائی کو مخلوق میں سے ہر ایک پر مخفی رکھی جائے گی۔
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوبکر محمد ؓ عنہبن عمر وبن حزم ؓ سے روایت کیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی کتاب سے (یعنی خط ہے) عمر و بن حزم کے نام جب ان کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظلم کو ناپسند کرتا ہے اور اس سے منع فرمایا ہے اور فرمایا (آیت) ’ ’ الالعنۃ اللہ علی الظلمین “
8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے میمون بن مھران (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نماز پڑھتا ہے اور اپنی قرات میں اپنے اوپر لعنت کرتا ہے اور وہ کہتا ہے (آیت) ’ ’ الالعنۃ اللہ علی الظلمین “ حالانکہ وہ خود ظالم ہے۔
Ayah 11:191:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الذین یصدون عن سبیل اللہ “ سے محمد ﷺ کی ذات مراد ہے کہ جس سے قریش کے لوگوں کو روکتے تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ویبغونھا عوجا “ یعنی (قریش) مکہ میں اس لام کے علاوہ کسی اور دین کی امید رکھتے تھے۔
Ayah 11:201:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے خبر دی کہ وہ حائل ہے شرک والوں اور ان کی اطاعت کے درمیان دنیا میں اور آخرت میں۔ دنیا میں (اس طرح پر) کہ اس نے کہا کہ ہم وہ لوگ اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں کہ کوئی آواز سن سکتے ہیں اور نہ ہی اس حق کے نور کو دیکھ سکتے ہیں اور آخرت میں تو اس نے فرمایا کہ وہ خشوع اور عاجزی کی طاقت نہیں رکھیں گے۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ماکانوا یستطیعون السمع وما کانوا یبصرون “ یعنی وہ اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ وہ خیر کی بات کو سنیں اور اس سے نفع حاصل کریں اور نہ وہ یہ طاقت رکھتے ہیں کہ کوئی عمل خیر دیکھیں اور اس کو اپنا لیں (یعنی اس پر عمل کریں )
Ayahs 11:21–221:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک الذین خسروا انفسہم “ سے مراد ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دھوکہ دیا اپنے آپ کو۔
Ayah 11:23ایمان اور اعمال صالحہ کی پابندی کرنے والے جنتی ہیں :
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخبتوا “ یعنی انہوں نے خوف کھایا۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الاخبات “ کا معنی ہے انابت یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتا ہے۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” الاخبات “ سے خشوع اور تواضع مراد ہے۔
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخبتوا الی ربہم “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف مطمئن ہوگئے۔
Ayah 11:241:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مثل الفریقین کالاعمی والاصم “ سے کافر مراد ہے (آیت) ” والبصیر والسمیع “ سے مومن مراد ہے۔
Ayahs 11:25–35حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔
3:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انلزمکموھا “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم اگر اللہ کے نبی طاقت رکھتے ہوں تو اس (کلمہ) کو اپنی قوم پر جبرا مسلط کردیتے۔ لیکن آپ کو اس کی طاقت نہ تھی اور اس کے مالک تھے۔
4:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” انلزمکموھا وانتم لھا کرھون “
5:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابی بن کعب سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) انلزمکموھا من شطر قلوبنا “
6:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ان اجری “ یعنی میری جزاء نہیں ہے۔
7:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) وما انا بطارد الذین امنوا “ کے بارے میں فرمایا ان لوگوں نے ان سے کہا اے نوح اگر تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ ہم تیری تابعداری کریں تو ان (غریب لوگوں) کو ہٹا دو ۔ ورنہ ہم ہرگز راضی نہیں ہوں گے کہ ہم اور وہ حکم میں برابر ہوں اور اللہ کا قول (آیت ) ” انہم ملقوا ربہم “ یعنی ان سے ان کے اعمال کے باے میں پوچھا جائے گا۔ (آیت) ” ولا اقول لکم عندی خزآئن اللہ “ کہ جن کو کوئی چیز ختم نہیں کرسکتی کہ میں تم کو اس کے لئے دعوت دیتا ہوں تاکہ تم میری تابعداری کرو اور میں تم کو اس پر ملکیت عطا کردوں گا۔ (آیت) ” ولا اعلم الغیب “ میں نہیں کہتا کہ تم میری تابعداری کرو اس بنا پر کہ میں غیب کا علم جانتا ہوں (آیت) ولا اقول انی ملک “ اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں جو آسمان سے رسالت کے ساتھ نازل ہوا (اور فرمایا) ” انما انا بشرمثلکم “ میں تو صرف تمہارے جیسا انسان ہوں۔
8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا اقول للذین تزدری اعینکم “ اور نہ میں ان لوگوں کو کہوں گا جن کو تم حقیر جانتے ہو۔
9:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لن یوتیہم اللہ خیرا “ یعنی خیر سے مراد ہے ایمان (یعنی اللہ ان کو ہرگز ایمان عطا نہیں کرے گا) ۔
10:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا ینوح قد جدلتنا “ یعنی اے نوح تو نے ہم کو پچھاڑ نے کی کوشش کی۔
11:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاتنا بما تعدنا “ یعنی عذاب کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ وہ باطل ہے۔
12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فعلی اجرامی “ یعنی میرے عمل کا وبال مجھ پر ہے (آیت) ” وانا بریء مما تجرمون “ یعنی میں ان اعمال سے بری ہوں جو تم عمل کرتے ہو۔