Ayahs 11:1–4الٓرٰ قف کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ ۔ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلاَّ اللّٰہَط اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ۔ وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗط وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ ۔ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْج وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
الٓرٰ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر ان کی وضاحت کی گئی خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے۔ کہ تم عبادت نہ کرو مگر اللہ کی۔ بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے ہوشیار کرنے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف پلٹ آؤ۔ وہ تم کو ایک مدت معین تک زندگی کی راحتوں سے لطف اندوز کرے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا۔ اور اگر تم روگرداں رہے تو میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی کی طرفت تمہیں لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (ھود : 1۔ 4)
” الٓرٰ “ حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی بحث ہم سورة البقرۃ کے آغاز میں کرچکے ہیں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ ’ کتاب ‘ خبر ہے اور اس کا مبتدا (ہذا) محذوف ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ کتاب ہے آگے جس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
اُحْکِمَتْ اور فُصِّلت کا مفہوم اور مراد
” اُحْکِمَتْ “ اِحکام سے ہے۔ اِحکام کا معنیٰ کسی چیز کو گانٹھنا، مضبوط کرنا اور اس طرح پختہ اور استوار کرنا ہے کہ اس میں کسی خلل اور نقص کا گمان تک نہ رہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جس کی ایک ایک آیت کی دو شانیں ہیں۔ ایک شان کا تعلق اس کے الفاظ سے ہے اور دوسری شان کا تعلق اس کے معنیٰ و مفہوم سے ہے۔ اسی لیے ابن کثیر نے لکھا ھِیَ مُحْکَمَۃٌ فِیْ لَفْظِہَا مُفَصَّلَۃٌ فِیْ مَعْنَاہَا فَہُوَکَامِلٌ صُوْرَۃً وَمَعْناً قرآن کریم کی کوئی آیت بھی آپ پڑھ کر دیکھ لیجئے اس میں الفاظ کا انتخاب، الفاظ کا باہمی ارتباط، الفاظ کا دروبست، الفاظ کی ترکیب، الفاظ کی معنویت، الفاظ کی چستی اور الفاظ اور معنیٰ میں ہم آہنگی میں کہیں بھی آپ کو تشنگی محسوس نہیں ہوگی۔ اس کا ٹھیک اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اسی بات کو کوئی عربی ادیب اپنے الفاظ میں ادا کرنے کی کوشش کرے پھر وہ خود محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قرآن کریم کی ایک ایک آیت اپنے اندر معجزانہ شان رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حیران کُن بات یہ ہے کہ الفاظ کا یہ حسن محض الفاظ کی مینا کاری نہیں، خطابت کی ساحری اور تخیل کی شاعری نہیں بلکہ الفاظ کا یہ معجزہ اپنے اندر معنویت کا بھی اعجاز رکھتا ہے جو بات کہی گئی ہے اس میں کہیں الجھاؤ اور پیچ نظر نہیں آتا۔ معنیٰ و مراد کے سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا اس لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اپنے الفاظ میں محکم اور اپنے معنیٰ و مراد میں نہایت مفصل وواضح ہیں۔ یہ جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے یہ اس صورت میں ہے کہ پیش نظر آیت کریمہ میں مذکور آیات کے لفظ سے مراد قرآن کریم کی تمام آیتیں ہوں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آیات کی جو شان یہاں بیان کی گئی ہے اس کا مصداق قرآن کریم کی ایک ایک آیت ہے۔ لیکن اگر اس سے یہ مراد لیا جائے کہ قرآن کریم کی تعلیمات دو طرح کی آیات میں بیان فرمائی گئی ہیں ان میں سے ایک تو آیات وہ ہیں جو مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں اور دوسری وہ ہیں جو اس کے بعد مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔ دونوں کو دیکھنے اور پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے ابتدائی چند سالوں میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں ان کے جملے نہایت مختصر لیکن ان کے معنی و مفہوم میں نہایت جامعیت پائی جاتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اعجازِ بیان کا ایک ایسا کامل نمونہ ہیں کہ چھوٹی سے چھوٹی آیت بھی دریا بہ کو زہ کی مثال معلوم ہوتی ہے۔ بعد میں آہستہ آہستہ ان پر تفصیل کا رنگ آیا حتیٰ کہ جب مدنی دور شروع ہوا تو وہی بنیادی باتیں جو مختصر جملوں میں کہی جاتی تھیں ایک جامع اور ہمہ گیر نظام کی شکل اختیار کر گئیں۔ آنحضرت ﷺ کو واسطہ ان عربوں سے پڑا تھا جو عربی زبان پر قدرت اور طلاقتِ لسانی میں بےمثال تھے۔ وہ بڑی سے بڑی بات کو گنے چنے الفاظ میں ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ان کا ہر لفظ چنیدہ اور ہر جملہ پھڑکتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ ضرب الامثال اور تلمیحات ان کی گفتگو کا حسن ہوتا تھا۔ فصاحت و بلاغت ان کے گھر کی لونڈی سمجھی جاتی تھی وہ اپنے اس کمال پر چونکہ انتہائی نازاں تھے اس لیے قرآن کریم ایک ایسی زبان میں نازل ہوا جس نے ان کے تمام دعوے خاک میں ملا دیئے ان کا بڑے سے بڑا شاعر اور ادیب قرآن کریم کے ایک ایک جملہ پر انگشت بدندان رہ گیا۔ انھیں زندگی کے گہرے حقائق ایسے مختصر الفاظ میں بتائے گئے کہ وہ ان کے روز مرہ بن گئے نہ انھیں یاد کرنے میں دشواری ہوئی اور نہ سمجھنے میں۔ چھوٹی چھوٹی آیتیں ان کے رگ وپے میں اترتی چلی گئیں لیکن جب بنیادی صداقتوں پر کیے جانے والے بعض اعتراضات کو دور کرنے کا وقت آیا، پندونصیحت میں طوالت کی ضرورت پڑی۔ ایمان لانے والوں کے لیے احکام کا نزول شروع ہوا تو اب کلام میں تفصیل آنا شروع ہوئی لیکن جس طرح اعجاز تک پہنچاہوا اختصار فہم مطالب میں رکاوٹ نہ تھا اسی طرح تفصیل و وضاحت کلام کے حسن کے لیے نقصان کا باعث نہ تھیں۔ اختصار میں اپنا حسن تھا اور تفصیل کی اپنی شان تھی جس طرح کلی کی نیم بازی میں اللہ نے حسن رکھا ہے اسی طرح کھلے ہوئے پھول میں بھی بلا کی رنگینی اور جاذبیت رکھی ہے۔ یہ مثالیں محض تفہیم کے لیے ہے ورنہ قرآن کریم کا حسن ان سے کہیں بالا ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہم تو محض اسے اندازِ بیان یا اسلوبِ کلام کا اعجاز سمجھتے ہیں لیکن اس کی ایک شان اور بھی ہے وہ یہ ہے کہ پروردگار نے جو اپنے کلام میں پہلے اختصار اور پھر تفصیل کا اہتمامِ خاص فرمایا ہے یہ دراصل لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہے جو ان کی تعلیم و تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں ملحوظ رکھی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تورات میں پروردگار نے ترتیب و تدریج اور احکام و تفصیل کا یہ اہتمام نہیں فرمایا بلکہ اس کا بیشتر حصہ ایک ہی دفعہ نازل ہوگیا لیکن قرآن کریم کا آہستہ آہستہ نازل ہونا اور ہر طرح کی ضرورت کے مطابق نازل ہونا پھر نہ صرف حالات کی ترتیب کو ملحوظ رکھنا بلکہ انسانی طبائع کا بھی لحاظ رکھنا اور تثبیتِ احکام کو بھی حکمت سے بروئے کار لانا اس کا اظہار صرف قرآن کریم میں ہوا ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ یہ قرآن کریم ایسی ذات عزیز نے نازل کیا ہے جو حکیم اور خبیر ہے۔ جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوا کہ وہ حکمت کے خزانوں کو مختصر لفظوں میں بند کر کے پیش کرے تو اس نے مختصر لفظوں میں پیش کیا اور جب اس کے علم وخبر نے محسوس کیا کہ اب انسانی ضرورت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان حقائق کو کھول کر بیان کرے تو اس نے ان کی تفصیل نازل کرنا شروع کردی اور کو زوں میں بند دریاؤں کے سوتے پھوٹ نکلے۔
قرآن کریم کا پیغام
اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلاَّ اللّٰہَط یہ اس کتاب کا اساسی پیغام ہے اور یہی نبی کریم ﷺ کی دعوت کی اصل روح، دعوت کا عنوان اور دعوت کا نچوڑ ہے۔ دنیا میں جو پیغمبر بھی اصلاحِ خلق کے لیے آیا ہے اس نے اپنی دعوت کا آغاز انہی الفاظ سے کیا ہے اس کا معنیٰ یہ ہے کہ لوگو اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ عبادت کا معنیٰ یوں تو بندگی کیا جاتا ہے لیکن اس میں غیر مشروط اطاعت، غلامی اور پرستش بھی شامل ہے۔ یعنی ایک ایسی بندگی جس میں اللہ کے سوا کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ اور یہ اطاعت احکام تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری زندگی کی غلامی ہے جس میں آقائی کا منصب صرف اللہ کو حاصل ہے۔ بندہ جب اس کی بندگی کرتا ہے تو یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ میرا جسم، میرے جسم کے تمام اعضاء، میرے دماغ کی رعنائیاں، میری عقل وخرد کی بلند پروازیاں، میرا عہدہ ومنصب، میرا مال و دولت، میری اولاد اور میرے علاقات سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ یہ اس کے سوا نہ کسی اور کے سامنے جھک سکتے ہیں نہ کسی کی اطاعت کرسکتے ہیں۔ پرستش بھی اسی کی اور غلامی بھی اسی کی۔ اس سے وہ بندگی اور عبادت کا وسیع تر تصوروجود میں آتا ہے جو اس آیت کا اصل مطلوب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کا بندہ جس طرح مسجد میں اس کی نماز پڑھ کر بندگی بجا لاتا ہے اسی طرح اس کی زمین کے ایک ایک حصے پر زندگی کے تمام فرائض اسی کے احکام، اسی کے قوانین اور اسی کی رضاء کے مطابق انجام دے کر بندگی کا حق ادا کرتا ہے۔ اس بندگی میں نہ کوئی انسان اس کا ہمسر ہے کیونکہ عبد معبود کی برابری نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اور مخلوق ( زمین کی ہو یا آسمان کی) اس کی عبادت میں دخیل ہوسکتی ہے کیونکہ کوئی مخلوق خالق کے برابر نہیں ہوسکتی۔ مشرک قوموں نے جن کو بھی اللہ کا شریک بنایا ہے وہ اگر انسان ہیں تو وہ اللہ کے عبد ہیں اور اگر وہ ان کے علاوہ کوئی اور مخلوق ہیں چاہے وہ اپنی ذات میں کیسے ہی عظیم کیوں نہ ہوں وہ بہرحال مخلوق ہیں۔ معمولی عقل کا آدمی بھی اتنی بات سمجھتا ہے کہ عبد اور معبود اور مخلوق اور خالق میں برابری کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا۔ لیکن اس کے باوجود دنیا نے ہمیشہ اسی معاملہ میں ٹھوکر کھائی ہے۔ کہیں بت پرستی ہوئی ہے اور کہیں اوتار پرستی، کہیں دیوتا پوجے گئے ہیں اور کہیں تخت وتاج کے مالک انسان۔ کہیں طاقت کے سامنے انسان جھکا ہے اور کہیں دولت کے سامنے۔ اسلام نے اپنے زوردار دلائل سے جب شرک کے لیے جینا مشکل کردیا تو مشرک قوتوں نے اس کے مختلف لبادے اختیار کیے۔ کہیں اللہ کی شریعت کے مقابلے میں مختلف ازموں کی اطاعت کی گئی۔ مختلف رہنماؤں کے مجسمے ہیروز کے نام سے پوجے گئے۔ انسانوں کو فریب دے کر انھیں کو سرچشمہ اقتدار بنادیا گیا اور انہی میں سے چندلوگوں کو چن کر اللہ کے قوانین کے توڑ پر ان کے ہاتھوں قوانین وضع کرائے گئے۔ اور اس طرح سے اللہ کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کیا گیا اس کی تحلیل وتحریم کی اتھارٹی کو انسانوں کے سپرد کردیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے مسجد میں اللہ کے سامنے سر جھکایا اور مسجد سے باہرہر جگہ اور ہر ادارے میں اپنے جیسے انسانوں کی پوجا کی۔ انہی کے احکام کی اطاعت کی، انہی کے دیئے ہوئے تصورات کی غلامی کی۔ کل اگر ملوکیت کے نام سے انسان کی پوجا کی جاتی تھی تو آج من مرضی کی جمہوریت کے نام پر انسانوں کی بندگی کی جارہی ہے۔ یہ وہ ہمہ پہلو شرک ہے جس کی اصلاح کے لیے اللہ کے پیغمبر تشریف لاتے ہیں اور یہ کتاب بھی اور نبی کریم ﷺ بھی اسی مقصد کے لیے تشریف لائے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے اس کتاب کے بنیادی پیغام کو پیش کیا گیا ہے۔
آنحضرت ﷺ اسی پیغام کے لیے بشیر ونذیر بن کر آئے
اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی تشریف آوری کسی اور مقصد کے لیے نہیں بلکہ آپ اسی پیغام کے بشیرونذیر بن کر آئے ہیں۔ بشیر کا معنیٰ ہے بشارت دینے والا اور نذیر کا معنیٰ ہے ڈرانے والا اور خبردار کرنے والا۔ آپ ہر اس آدمی اور اس قوم کے لیے بشارت دینے کے لیے تشریف لائے ہیں جو اللہ کے رسول اور اس کتاب کے بنیادی پیغام کو تسلیم کر کے آپ پر ایمان لے آئے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ کی بندگی بجا لانے کا عہد کرے اور عملاً اس کا پیکر بن جائے۔ اس پر ایمان لانے والوں میں سے ہر شخص کا گھر ایک ایسا گھر ہو جس میں صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہو۔ ان کے بازار ایسے ہوں جن میں کاروبار اللہ کی شریعت کے مطابق کیا جاتاہو۔ ان کے عبادت خانے صرف اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص ہوں۔ ان کی عدالتوں سے اللہ کا قانون بولتا ہو، ان کے ایوان ہائے حکومت میں حکمران وہ ہوں جو اللہ کے بندے اور اس سے ڈرنے والے ہوں۔ اور ان کی پارلیمنٹ اللہ کے آئین اور قانون کی پاسدار ہو۔ ایسا ملک اور معاشرہ اسلامی ملک اور اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے رسول بشیر بن کر آئے ہیں وہ ان کو دنیا میں بھی حیات طیبہ کی بشارت دیتے ہیں اور تمام قوموں پر غلبہ کی امید دلاتے ہیں اور آخرت میں سرخروئی اور ہمیشہ کی کامیابی کی خوشخبری سناتے ہیں۔
نذیر کا معنی ہے خبردار کرنے والا اور ڈرانے والا۔ جو لوگ اللہ کے رسول پر ایمان نہیں لاتے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی کی دعوت کو ہر ممکن طریقے سے روک دیا جائے۔ قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والوں کی زندگی دشوار کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے نبی کریم ﷺ نذیر بن کر آئے وہ انھیں آگاہ کرتے ہیں کہ تم اپنا رویہ بدلو اور اللہ کے نبی کی دعوت کو قبول کر کے اللہ کی ناراضگی سے بچو۔ اور اگر تم نے اپنے رویے پر اصرار جاری رکھا تو پھر یاد رکھو دنیا میں بھی اللہ کا عذاب آسکتا ہے اور اگر اللہ کی مشیت کو ایسا منظور نہ ہوا تو آخرت میں تو تم کسی طرح اس کے عذاب سے بچ نہ سکو گے۔ ایمان لانے والوں کے لیے پیغمبر کی بشارتیں تقویت کا باعث بنتی ہیں۔ کٹھن سے کٹھن حالات میں بھی وہ ان بشارتوں پر ایمان کی وجہ سے استقامت اور ثابت قدمی دکھاتے ہیں اور پیغمبر کا انذار ایمان سے انکار کرنے والوں کو ہمیشہ خطرات سے آگاہ کرتا اور طوفان آنے سے پہلے اپنی حفاظت کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پیغمبر کی ذمہ داری کے یہ دو پہلو ہیں جس پر پیغمبر کی دعوت کا اور امت ِ دعوت کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اس لیے پیغمبر مشکل سے مشکل حالات میں بھی ان کی بجا آوری سے پہلو تہی نہیں کرتا۔
ایمان کے بعد اعمال کی اصلاح
وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ انسانی زندگی دو چیزوں سے عبارت ہے۔
1 احساسات و تصورات جنھیں ہم اعتقادات بھی کہتے ہیں۔
2 اعمال۔
اللہ کے نبی کی دعوت کا پہلا جزو یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے احساسات اور تصورات کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق سب سے پہلے اللہ کی عبادت کا حکم دے کر بنیادی تصورات کو درست فرمایا کیونکہ انسانوں میں خرابی کی بنیاد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر نہ جانے کس کس کو اپنا الٰہ مان لیتے ہیں۔ پھر نہ جانے کہاں کہاں سر جھکاتے ہیں فکر و خیال کی دریوزہ گری کرتے ہیں اور دنیا بھر کے وضعی قوانین کی اطاعت کرتے ہیں چناچہ آپ نے سب سے پہلے اسی تصور کو درست کیا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اس لیے اسی کی بندگی بجا لاؤ۔ اب اعمال کی درستگی کے لیے دو باتوں کا حکم دیا جارہا ہے ایک تو یہ کہ اب تک تم نے جیسی زندگی بھی گزاری ہے وہ یقینا اللہ کی بندگی کے بالکل برعکس تھی کیونکہ وہ بجائے اللہ کی عبادت کے غیر اللہ کی عبادت پر مشتمل تھی۔ پھر نہ جانے کس کس آستانے پر تم نے انسانیت کو رسوا کیا ہے۔ اس لیے پہلا کام یہ کرو کہ اپنے رب سے گزشتہ زندگی کی معافی مانگو۔ اپنی ایک ایک نافرمانی کا تصور کرو اور دوبارہ اس کے قریب نہ جانے کا عہد کرو اور دوسرا کام یہ کرو کہ ہر طرف سے کٹ کر اللہ کی طرف لوٹ جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے بعد اصلاح کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک اپنی گزشتہ زندگی پر ندامت اور استغفار اور دوسرا پوری طرح اپنے اللہ کی طرف لوٹ جانا۔ اس کے سواہر آستانے سے سر اٹھا لینا، ہر تعلق سے منہ موڑ لینا، ہر رسم بندگی سے مقاطعہ کردینا۔ زندگی کے تمام شعبوں کو اسی کی ہدایت اور اطاعت میں دے دینا، جو آدمی یا جو قوم اس طرح ایمان وعمل کو ہر آلودگی سے پاک کرلے اور اپنے احساسات، اپنے معاملات، اپنے معاہدات اور اپنے اخلاق کو اللہ کی شریعت کے مطابق ڈھال لے اس کے لیے اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو متاع حسن سے نوازے گا۔ متاعِ حسن سے مراد یہ ہے کہ وہ انھیں زندگی کی آسودگی عطا کرے گا۔ ان کے کاروبار میں برکت دے گا۔ ان کے کھیتوں میں وقت پر بارشیں برسیں گی اور فصلیں لہلہائیں گی۔ زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوجائے گا۔ زندگی کی ہر ضرورت فراوانی سے عطا ہوگی انھیں باقی قوموں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ دلوں میں یہ احساس بجھنے نہیں پائے گا کہ ہمارے کاروبار کی وسعت، ہمارے غلوں کی فراوانی اور ہماری زندگی کی آسودگی سراسر اللہ کی نعمت ہے اور یہ اس کی شریعت پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے اگر ہم اس کی نعمتوں پر بیش از بیش شکر بجا لائیں گے تو وہ اپنی نعمتوں میں اضافہ فرمائے گا۔ اس احساس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انھیں متاع غرور کے ابتلاء میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ متاع حسن سے نوازتا ہے۔ یہی وہ متاع حسن ہے جسے قرآن کریم نے ایمان اور تقوٰی سے مشروط کیا ہے۔ جب کسی قوم میں ایمان وتقوٰی کی بہار آتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
یہاں شاید اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا بھی مقصود ہے جو لوگوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص ایمان اور تقوٰی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور شریعت کی پابندی کرتا ہے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے آخرت کی نعمتیں عطا فرمائے لیکن دنیا کی نعمتیں تو صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو عموماً ایمان وتقوٰی کی زندگی سے بیزار ہیں۔ حالانکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا ملک جس میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی تھی اور جس میں صدیوں سے افلاس کا دوردورہ چلا آرہا تھا۔ وہاں جیسے ہی اسلامی انقلاب برپا ہوا وہاں صرف ایمان وعمل اور اخلاق ہی کی بہار نہیں آئی بلکہ رزق میں بھی فراوانی آگئی۔ لوگ زکوٰۃ دینے کے لیے مستحقین کو تلاش کرتے تھے اور زکوٰۃ لینے والے نہیں ملتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جو دوسری صدی کے آغاز کا زمانہ ہے اللہ کی طرف سے نزول برکت کا عالم یہ تھا کہ دو سالوں میں تمام ٹیکسز ختم کردیئے گئے۔ باغوں میں ایک انار کا رس گلاس بھر دینے کے لیے کافی تھا۔ کھجوروں کے باغوں کے باغ ایسی کھجوروں سے لدے ہوئے تھے کہ جن میں سے ایک ایک کھجور غیر معمولی لمبائی رکھتی تھی۔ لوگوں نے ان کی گٹھلیاں کئی صد یوں تک سنبھال کر رکھیں۔ صرف دو سالوں میں اللہ کی بندگی کی برکت سے ایسا انقلاب آیا کہ نہ کوئی بھوکا باقی رہا اور نہ قومی مسائل باقی رہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وصال ہوا تو جس طرح اہل کعبہ آپ کی موت پر دل گرفتہ تھے اسی طرح عیسائیوں کا حکمران بھی کئی دنوں تک سوگ کے لباس میں رہا اور وہ بار بار یہ کہتا تھا کہ آج دنیا کا نور بجھ گیا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ جب بھی کبھی کوئی معاشرہ مکمل طور پر اللہ کی شریعت کا اطاعت گزار ہوا ہے تو اللہ نے ہمیشہ ان پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائی ہے لیکن جب مسلمان کہلانے والا معاشرہ اپنے آپ کو اسلامی شریعت سے آزاد کرلیتا ہے تو اس کی زندگی کافر سے بھی بدتر ہوجاتی ہے کیونکہ کفر کے بھی کچھ فوائد ہیں جو دنیا میں بہرحال ظہور پذیر ہوتے ہیں لیکن نفاق کی قسمت میں اللہ نے مستقل رسوائی لکھی ہے اور اس سے بڑھ کر اور نفاق کیا ہوگا کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کی سنت ہے لیکن ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بیشتر ادارے شریعت کی پابندی سے آزاد ہیں اور قومی سطح پر اسلامی قانون کی سپرمیسی اور برتری کو صدیوں سے مسلمانوں نے ترک کردیا ہے اور آج مسلمان اسی کی سزا برداشت کر رہے ہیں۔ اور شایدیہی وہ بات ہے جس کا اس آیت کے آخر میں تذکرہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تم اللہ کی کتاب سے انکار کرو گے اور اللہ کے پیغمبر کی دعوت کو درخوراعتناء نہیں سمجھو گے تو پھر مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ یہاں اگرچہ مراد وہ عذاب ہے جو ہمیشہ اس قوم پر آتا ہے جو اللہ کے رسول پر ایمان لانے سے یکسر انکار کردیتی ہے لیکن وہ مسلمان قوم جو شریعت کے اقرار کے باوجود اس پر عمل کرنے سے انکار کردیتی ہے سورة بقرہ میں اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ایسی قوم کو اللہ دنیا میں رسوائی کا عذاب دیتا ہے۔
عذاب آخرت
اِلیَ اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ گزشتہ آیت میں مشرکین مکہ کو جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ وہ عذاب ہے جو دنیا میں رسول کا انکار اور تکذیب کرنے والوں پر آیا کرتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں عذاب آخرت کا ذکر ہے۔ کہنا یہ ہے کہ دنیا میں اتمام ِ حجت کے بعد اللہ کی طرف سے جو عذاب آتا ہے اس کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس وقت دنیا میں موجود ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے پہلے رسول کی زندگی میں مرجانے والے اللہ کے عذاب سے بچ گئے کیونکہ دنیا میں آنے والا عذاب اگرچہ اپنے ہولناکی اور ہلاکت میں بےمثال ہوتا ہے لیکن وہ اصل عذاب نہیں ہوتا بلکہ اصل عذاب اور وہ عذاب جسے عذاب اکبر کہا گیا ہے وہ تو آخرت کا عذاب ہے جو لوگ دنیا میں بچ گئے وہ بھی آخرت میں پکڑے جائیں گے اور جو دنیا میں عذاب کا شکار ہوئے وہ بھی عذاب آخرت میں مبتلا ہوں گے اس لیے اے مشرکین مکہ ! تم بیشک نبی کریم ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑاؤ اور آپ کے انذار سے تمسخر کرو لیکن یہ مت بھولو کہ تم میں سے ایک ایک شخص کو اپنے اپنے وقت پر موت کا شکار ہو کر اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ اس حاضری سے کسی کو استثناء نہیں وہاں چھوٹوں کو بھی جانا ہے اور بڑوں کو بھی۔ بادشاہ بھی بےبسی سے کھڑے ہوں گے اور رعایا بھی۔ تم ہر صداقت کا انکار کردو لیکن موت کا انکار نہیں کرسکتے بیشک قیامت کا بھی انکار کرو لیکن تمہارے انکار سے حقیقت نہیں ٹل سکتی۔ تم قیامت کے وقوع اور اعمال کی جزا وسزا پر کیسے ہی عقلی شبہات وارد کرو لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اللہ کی قدرت کاملہ کے لیے قیامت کا لانا اور اعمال کا حساب کرنا اور پھر اس پر جزا وسزا دینا کوئی مشکل نہیں۔ اس لیے تمہارے لیے عافیت اسی میں ہے کہ تم آج عقل کے ناخن لو اور اپنے آپ کو آنے والی رسوائی سے بچا لو۔
Ayah 11:5اَلآَ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُط اَلاَحِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَہُمْ لَا یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَج اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (سورۃ ہود : 5)
(سنو ! وہ اپنے سینے موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔ آگاہ رہو جس وقت وہ خوب اوڑھ لیتے ہیں اپنے کپڑے تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ تو سینوں کے بھیدوں سے اچھی طرح باخبر ہے۔ )
یثنون اور یستغشون کا مفہوم اور مراد
یَثْنُوْنَ ۔ ثَنْیٌسے ہے۔ ثَنْیٌکا معنی ہے پھیرنا، موڑنا، طے کرنا، دہرا کرنا اور لپیٹنا۔ جب کسی شخص کے تکبر اور انکار پر مبنی رویے کی منظر کشی کی جاتی ہے تو اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص فلاں بات کے حوالے سے اس قدر بےرخی، انکار اور تکبر پر تلا ہوا ہے کہ اس کا دماغ تو اس بات کو ماننے سے انکار کرتا ہی ہے اس کی جسمانی کیفیت بھی یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلو بدلتا ہے، سینہ موڑتا ہے اور بل کھاتا ہوا چل نکلتا ہے۔ قرآن کریم نے سورة حج آیت نمبر 9 میں اسی حالت کو ثانی عطفہ سے تعبیر فرمایا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے مخالفین مختلف طور اطوار کے حامل تھے ان کی مخالفت کے انداز بھی جدا جدا تھے۔ انہی میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ابھی تک خاندانی وضع داری اور معاشرتی آداب پر قائم تھے لیکن نبی کریم ﷺ کی دعوت کے انکار اور تکذیب میں کسی سے کم نہ تھے وہ بجائے رو در رو ناگوار کلمات کہنے کے آپ کے سامنے آنے سے احتیاط کرتے تھے جب کبھی کسی مجلس میں ان کی موجودگی میں آنحضرت ﷺ قرآن کریم پڑھ کر سناتے یا کوئی نصیحت فرماتے تو وہ سر جھکا کر اور سینہ سمیٹ کر اپنے آپ میں گم ہوجاتے۔ اور اگر کبھی آمنا سامنا ہوجاتا تو رخ پھیر کر اور منہ چھپا کر نکل جاتے۔ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْسے ان کی اسی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور کبھی ایسا ہو تاکہ آنحضرت ﷺ انھیں اپنی دعوت کا مخاطب بنانے کی کوشش کرتے تو وہ اپنی چادر کو جو عربوں کے لباس کا مستقل حصہ تھی پٹھانوں کی طرح اپنے سَر پر ڈال کر اپنے گرد لپیٹ لیتے اور وہاں سے چل دیتے۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے کہ ہم نے اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کی دعوت اور آپ کے انذار سے محفوظ کرلیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کی شکایت کرتے ہوئے ان کے اسی رویہ کا ذکر کیا ہے جس سے بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ سورة نوح آیت نمبر 7 میں ہے۔” وَاِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَلَہُمْ جَعَلُوْا اَصَابِعَہُمْ فِیْ اٰذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ وَ اَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوْا اِسْتِکْبَارًا “ (اور میں نے جب جب ان کو دعوت دی کہ تو ان کی مغفرت فرمائے انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنی چادریں لپیٹ لیں اور ضد کی اور نہایت گھمنڈ کیا) ۔ زیر بحث آیت کریمہ میں بھی اسی رویہ کو استغشاء ثیاب سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
اللہ کے نبیوں کا کام کس قدر کٹھن کام ہے کہ انھیں ایسے ایسے چرکے برداشت کرنے پڑتے ہیں جس سے بعض دفعہ احساسات بھی چٹخنے لگتے ہیں۔ یہی اذیت کیا کم ہے کہ لوگ قسم قسم کے اعتراضات کریں، مذاق اڑائیں، تمسخر کریں، زندگی دشوار کردیں، جسمانی اذیتوں تک نوبت پہنچے، بعض دفعہ بائیکاٹ تک کردیں لیکن ان سب سے بڑی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کے قابل ذکر لوگ بات سننے کے روادار نہ ہوں اور آپ کے انذار سے بچنے کے لیے کبھی پہلو بدل کر نکل جائیں اور کبھی اپنے آپ کو کپڑوں میں لپیٹ لیں اور یہ سمجھیں کہ ہم نے اپنے آپ کو ان کے انذار سے محفوظ کرلیا ہے۔ یہ رویہ ایک طرف پیغمبر کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے تو دوسری طرف نہایت احمقانہ بھی ہے کہ یہ عقل و دانش کے دعوے دار کیسی حماقتوں پر اتر آئے ہیں کہ ان کے سامنے زندگی کی صداقتیں ہیں جن کے ردّوقبول کا مسئلہ درپیش ہے اور یہ پہلو بدل کر سینہ موڑ کر اور کپڑوں میں لپٹ کر شترمرغ کی طرح یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے آپ کو طوفان سے محفوظ کرلیا ہے۔ جس طرح شترمرغ ریت میں سر چھپا کر طوفان سے محفوظ نہیں ہوجاتا اسی طرح یہ بھی اپنے آپ کو پیغمبر کے انذار اور اس کے نتیجے میں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتے۔ ان کی ایک ایک بات اللہ کے سامنے ہے یہ آنحضرت ﷺ سے تو چھپ سکتے ہیں اللہ سے نہیں چھپ سکتے اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ جب یہ لوگ اپنے کپڑوں میں لپٹ رہے ہوتے ہیں تو اللہ ان کی ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ چھپاتے ہیں اور جن کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ اللہ کی ذات تو سینوں کے بھیدوں سے واقف ہے اس سے کون چھپ سکتا ہے۔
Ayah 11:6وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَ مُسْتَوْدَعَہَاط کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ ہود : 6)
( اور زمین میں کوئی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہ جانتا ہے اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو اور اس کے امانت رکھے جانے کی جگہ کو، ہر چیز ایک واضح رجسٹر میں درج ہے۔ )
آیت کی تشریح سے پہلے بعض الفاظ کا مفہوم سمجھنا چاہیے۔ مستقراسم ظرف ہے اس کا معنی ہے قرار پکڑنے کی جگہ۔ مراد اس سے ہر مخلوق کی اس دنیا میں ٹھہرنے اور رہنے کی جگہ ہے۔ مستودع بھی اسم ظرف ہے۔ اس کا معنی ہے ودیعت کیے جانے اور سپرد کیے جانے کی جگہ۔ مراد اس سے قبر ہے یعنی ہر انسان کو مرنے کے بعد جس زمین کے سپرد کیا جاتا ہے وہ اس کا مستودع ہے۔ کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے۔
علم الٰہی کی وسعت
گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ بعض لوگ پہلو بدل کر یا اپنے کپڑوں میں لپٹ کر آنحضرت ﷺ سے روگردانی کرتے تھے اور اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کا نبی جو اللہ کی طرف سے ہمیں انذار کررہا ہے اور آنے والے دنوں میں ہمارے لیے جو اندیشے ہوسکتے ہیں ان کا اظہار کر رہا ہے۔ ان سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم ان سے روگردانی کا عمل جاری رکھیں اس طرح سے گویا ہم اندیشوں سے بچ جائیں گے۔ قرآن کریم نے اس پر گرفت کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ نادانوں اللہ کا رسول تو نہایت خیرخواہی سے تمہیں ہر خطرے سے بچانا چاہتا ہے وہ تمہاری دنیا بھی سنوارنا چاہتا ہے اور آخرت بھی اجالنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس سے روگردانی کرنا تو اپنی قسم پھوڑنے والی بات ہے اور پھر تم اتنا نہیں سوچتے کہ معاملہ تمہارا اللہ سے ہے۔ اللہ کا رسول تو ایک واسطہ خیر ہے تم اس واسطے کی اگر قدر نہ بھی کروتب بھی اللہ سے دور کیسے ہوسکتے ہو تم ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہو وہ تمہارے ایک ایک عمل کا نگران ہے اس کے دو فرشتے تمہارے دونوں کندھوں پر تمہارے اعمال کو منضبط کر رہے ہیں۔ تم ہزار کوشش کرو اللہ سے چھپ نہیں سکتے وہ نہ صرف تمہیں جانتا ہے بلکہ تمہارے سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تم بھی اور تمہاری طرح دوسری مخلوقات بھی زندگی کی بقا کے لیے خوردونوش کی محتاج ہیں۔ بچہ ماں کے پیٹ میں بھی غذا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور پیدا ہونے کے بعد تو یہ احتیاج اور بھی بڑھ جاتی ہے اور تم یہ جانتے ہو کہ رزق کے خزانے اللہ کے سواء کسی اور کے پاس نہیں ہیں۔ وہ اگر پانی کے سوتوں کو خشک کر دے تو تمہارے سمیت تمام مخلوقات پیاس سے مرجائیں اور اگر وہ زمین کی قوت روئیدگی کو معطل کر دے اور عناصرِ قدرت اور فطرت کو اپنے فرائض بجا لانے سے روک دے تو تمام مخلوقات بھوک سے مرجائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رزق کا سررشتہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی اسی کی قدرت میں ہے کہ مخلوقات کون کون سی اور کہاں کہاں ہیں ان کی غذا کی نوعیت کیا ہے انھیں یہ غذا کس طرح پہنچائی جائے۔ کائنات اتنی وسیع و عریض ہے کہ اللہ کے سواء اس کی وسعتوں کو کوئی نہیں جانتا اور اس کی وسعتوں میں کہاں کہاں اس کی مخلوقات پھیلی ہوئی ہیں اور وہ کیسی کیسی غذا کی محتاج ہیں اسے بھی اللہ کے سواء کوئی نہیں جانتا۔ اس کا علم اتنا کامل اور اتنا جامع ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں کون سی مخلوق کس کھائی میں، کس جزیرے میں، کس پودے کی اوٹ میں موجود ہے اللہ اسے جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اسے کس قسم کی غذا چاہیے اور وہ غذا اسے کیسے پہنچ سکتی ہے۔ آسمان کی وسعتوں میں ان گنت پھیلی ہوئی مخلوق سے بھی صرف وہی واقف ہے اور وہی ان کی تربیت کا سامان کر رہا ہے۔ زمین پر بسنے والے انسان ہی نہیں جنات بھی ہیں حیوانات بھی ہیں چرند اور پرند بھی ہیں، درندے بھی ہیں، کوڑے کرکٹ میں ملے ہوئے حقیر جانور بھی ہیں، زمین کی سلوٹوں میں چھپے ہوئے حشرات الارض کی کمی نہیں، پہاڑوں کی بلندیوں پر رہنے والی مخلوق کا بھی کوئی شمار نہیں لیکن قربان جایئے کہ اللہ کی وسعت علم سے کہ وہ جس طرح صحراؤں کی پہنائیوں سے آگاہ ہے اسی طرح غاروں کی تنہائیوں سے بھی واقف ہے۔ وہ ایک ایک درندے کے بھٹ کو جانتا ہے، چیونٹیوں کے بلوں کو بھی دیکھتا ہے، شیر کا کچھار بھی اس کی نگاہوں میں ہے، پرندوں کے آشیانوں میں پھڑپھڑاتے بچوں کی پھر پھراہٹ کو بھی سنتا ہے اپنے اس علم کامل کی وجہ سے وہ سب کو روزی پہنچا رہا ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ جس ذات کا علم اتنا وسیع ہے تم اس کی نگاہوں سے کیسے چھپ سکتے ہو۔ تم اپنی معیشت کی ضروریات کے سلسلے میں نجانے کہاں کہاں جاتے ہو، کہاں کہاں تمہارا ٹھکانا رہتا ہے اور پھر زمین کا ایک ایک آدمی کہاں کہاں اپنا قیام رکھتا ہے ان میں سے کوئی بات بھی اللہ کے علم سے مخفی نہیں ہے۔ اسی پر بس نہیں وہ تو یہ بھی جانتا ہے کہ مرنے کے بعد تمہیں کس کے سپرد کیا جائے گا، تمہاری قبر کہاں بنے گی، تمہیں زمین جگہ دے گی یا نہیں دے گی۔ ہوسکتا ہے تمہاری لاش سمندر کے سپرد کردی جائے، کسی درندے کا پیٹ تمہارا مدفن بن جائے اور اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ تمہاری ابھی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی تم نے زمین پر قدم بھی نہیں رکھا تھا تم نے کسی جگہ کو اپنا مستقر نہیں بنایا تھا اور کسی جگہ تمہاری لاش سپرد نہیں کی گئی تھی لیکن اللہ کے علم میں اس وقت بھی یہ ساری باتیں محفوظ تھیں اور اس نے ازل ہی میں اسے کتاب محفوظ اور کتاب مبین کی زینت بنادیا تھا جسے ہم خود قیامت میں پڑھیں گے اور ہمیں اپنی بےبصیرتی کا اندازہ ہوگا۔ آج تو اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ انسان کا گردوپیش اس کی ایک ایک ضرورت اس کے وجود اور اس کے حضور کی شہادت دے رہی ہے لیکن انسان کی جہالت کا کیا ٹھکانا ہے کہ وہ اپنے آپ میں چھپ کر یہ سمجھتا ہے کہ میں اللہ سے چھپ گیا ہوں۔
مشرکین کے لیے تعریض
اس آیت میں مشرکین مکہ پر تعریض بھی ہے کہ تم جس پروردگار سے اپنے آپ کو چھپا رہے ہو اور اس کے رسول کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہو اور روز بروز تمہاری جسارتیں بڑھتی جا رہی ہیں باقی تمام حقائق سے قطع نظر بھی، کاش کبھی تم اس بات پر غور کرو کہ تم اپنی جس امارت پر فخر کرتے ہو اور جن نعمتوں پر اتراتے ہو اور جس عیش و عشرت نے تمہیں اندھا کر رکھا ہے۔ آخر یہ سب کچھ تمہیں کس نے دیا ہے یہ نعمتیں تمہیں کون عطا کرتا ہے اور پھر لذت کام ودہن سے تمہیں کس نے بہرہ ور کر رکھا ہے آدمی جس کا کھاتا ہے اسی کا گاتا ہے اور جس کے احسانات سے فیض یاب ہوتا ہے ہمیشہ اسی کے سامنے سر جھکاتا ہے لیکن تمہیں نہ اللہ کی رزق رسانی یاد آتی ہے نہ اس کے احسانات ربوبیت، کبھی تمہیں جھکنے پر محبور کرتے ہیں۔ تم اپنے اس رویہ پر اگر کبھی غور کرو تو تمہیں خود ہی اس پر شرم آنی چاہیے۔
Ayah 11:7وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ط وَلَئِنْ قُلْتَ اِنَّکُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ ہٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ ہود : 7)
(اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے چھ دنوں میں اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل میں کون اچھا ہے۔ اے پیغمبر ! اگر آپ کہتے ہیں کہ تم موت کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو یہ کافر کہتے ہیں یہ تو بس کھلا کھلا جادو ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ
اللہ کے علم کامل کو بیان کرنے کے بعد اس آیت کریمہ میں اس کی قدرت کاملہ کو بیان کیا جارہا ہے کہ جس طرح وہ کائنات کی ایک ایک بات سے باخبر ہے اسی طرح اس کائنات کی تخلیق بھی اسی کی قدرت کاملہ کا نتیجہ ہے۔ اس کی قدرت کاملہ کے لیے تو یہ بھی ممکن تھا کہ وہ تمام کائنات کو ایک ہی لمحے میں یا ایک ہی مرحلے میں پیدا فرما دیتا لیکن جس طرح اس کی صفات میں قدرت کاملہ ایک بہت اہم صفت ہے اسی طرح حکمت بھی اس کی اہم تر صفت ہے چناچہ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اسے ایک ہی لمحے میں یا ایک مرحلے میں پیدا نہ کیا جائے بلکہ مختلف مراحل میں اس کی تخلیق کو مکمل کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو کہ کائنات کا ظہور کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ اس کے خالق نے ارادہ، اسکیم، ترتیب اور حکمت کے ساتھ اس کو وجود بخشا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بےغایت وبے مقصد کارخانہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے جس کا ظہور میں آنا لازمی ہے۔
ایام سے کیا مراد ہے
اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اسے ستۃ ایام میں پیدا فرمایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ یوم کا لفظ عام طور پر طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب کی مدت کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے جبکہ نہ سورج تھا اور نہ اس کا طلوع و غروب نتیجتاً نہ دن تھا نہ رات۔ اس لیے یہاں یوم کو اس معنیٰ میں لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے اہل زبان کہتے ہیں کہ یوم کا لفظ مطلق وقت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ مطلق وقت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جس سے عام طور پر یہ مراد لیا گیا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق چھ ادوار میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔ ہر دور کی مقدار کتنی تھی اس کے متعلق ہم کچھ نہیں کہ سکتے کیونکہ اس کی وضاحت نہ قرآن کریم نے کی ہے اور نہ سنت نبوی میں اس کا ذکر ہے۔ اس قسم کی آیات درحقیقت آیات متشابہات میں سے ہیں جس کی مراد متعین کرنے کے درپے نہیں ہونا چاہیے اگر کوئی بات سیاق کلام یا فحوائے کلام سے خود بخود ابلتی ہے تو اسے لے لینے میں کوئی حرج نہیں بہتر یہی ہے کہ اس کی مراد اللہ کے حوالے کی جائے۔ ویسے بھی انسانی ہدایت کا کوئی معاملہ اس طرح کی باتوں پر اٹکا ہوا نہیں قرآن کریم کتاب ہدایت ہے وہ ہدایت کے ضمن میں ایسی کسی بات کا تذکرہ صرف اس لیے کرجاتا ہے تاکہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کی حکمت بالغہ پر یقین پیدا ہوا اور حقیقت نہ سمجھنے پر دل میں عجز کی کیفیت پیدا ہو جس سے بندگی کو جلا ملتی ہے اور اللہ کی کبریائی کا یقین بڑھ جاتا ہے۔
زمین و آسمان کی تخلیق کے ذکر کے بعد ممکن ہے یہ سوال پوچھا گیا ہو کہ جب کچھ بھی نہ تھا تو اللہ کا عرش کہاں تھا اس کا جواب دیا گیا کہ اس کا عرش پانی پر تھا لیکن یہ بات بجائے خود ہمارے ادراک سے باہر ہے کہ پانی سے کیا مراد ہے ؟ کیا اس سے یہی پانی مراد ہے یا یہ لفظ محض استعارے کے طور پر مادے کی اس مائع (Fluide) حالت کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو موجودہ صورت میں ڈھالے جانے سے پہلے تھی۔ رہا یہ ارشاد کہ خدا کا عرش پہلے پانی پر تھا تو اس کا مفہوم عام طور یہ سمجھا گیا ہے کہ اللہ کی سلطنت پانی پر تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس کرہ ارض کی خشکی نمودار ہونے سے پہلے پہلے یہ سارا کرہ مائعی تھا اور اللہ کی حکومت اس پر تھی پھر پانی سے خشکی نمودار ہوئی اور زندگی کی مختلف النوع انواع ظہور میں آئیں اور درجہ بدرجہ یہ پورا عالم ہستی آباد ہوا۔
کائنات کا مقصد تخلیق
لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلا تخلیق ارض وسما اور کائنات کے بیشمار کروں میں حیرت انگیز نظم و ترتیب اور ہر مخلوق کے پیچھے ایک محسوس کی جانے والی حکمت و دانش دیکھ کر دل میں یہ سوال پیدا ہونے لگتا ہے کہ قدرت نے یہ سارا انتظام وانصرام کس مقصد کے لیے کیا ہے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اس کائنات کا پیدا کرنا ہی اس کا مقصد ِ تخلیق ہو۔ اللہ کی ذات جو سرتاپا حکیم ہے اور جس کی پیدا کردہ کائنات میں قدم قدم پر حکمت کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ خیال کرنا بجائے خود حماقت ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق محض کھیل تماشے یا دفع الوقتی کے لیے کی ہے۔ اور اس کا کوئی مقصد نہیں۔ آدمی اپنے طور پر ہزار کوشش کرے مگر اس کے لیے ایک متعین جواب تک پہنچنا ممکن نہیں۔ اس لیے اللہ نے کرم فرمایا اور انسانوں پر اس کا بوجھ ڈالنے کی بجائے خود اس کا ایک متعین جواب عطا فرمایا جو اس وقت ہمارے سامنے ہے کہ اللہ نے یہ کائنات اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے حسن عمل کا پیکر کون ہے۔ اس جواب میں تھوڑی سی تفصیل مخفی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے اس کائنات کو اس لیے پیدا کیا تاکہ ہم انسان کو پیدا کریں کیونکہ انسان ہی اس کائنات کا گل سرسبد ہے۔ زمین کی ایک ایک چیز اسی کی منفعت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ عناصرِ قدرت کو اسی کی خدمت پر لگایا گیا ہے۔ اللہ کی نوری مخلوق ملائکہ کو اس کے ارادوں کی تعمیل کے لیے متعین کیا گیا ہے۔ وہ کبھی اس کی حفاظت پر لگے ہوئے ہیں کبھی اس کی ضروریات پوری کر رہے ہیں، کبھی اس کے اعمال کو منضبط کر رہے ہیں اور کبھی اس کی نیکی اور برائی کو اتمام تک پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ غرضیکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات کسی نہ کسی طرح اسی سے متعلق ہیں۔ اسے زندگی دے کر اور زندگی کی تمام سہولتیں دے کر اور تمام کائنات کو اس کی منفعت اور خدمت میں دے کر اسے ارادے کی آزادی بخشی گئی۔ عقل و شعور اور خیر وشر کا امتیاز دے کر اسے ایک ذمہ داری سونپی گئی کہ باقی ساری مخلوقات کو انسان کی قوت ِ تسخیر کو بروئے کار لانے اور ارادوں کی تکمیل کے لیے وقف کی گئی ہے اور جن چیزوں کا تعلق انسانی غذا سے ہے انھیں اس کی غذا بنادیا گیا ہے اور ہر مخلوق نے اپنے اس مخدوم کو پہچان کر اپنا آپ اس کے سپرد کردیا ہے لیکن خود اسے عقل و شعور، قوت ارادی اور خیر وشر کا امتیاز دے کر اسے امتحان میں ڈالا گیا کہ تم اپنے مخدوم، اپنے آقا اور اپنے مالک کو پہچانتے ہو یانھیں اور تم اپنی زندگی اس کی امانت سمجھ کر اس کی اطاعت میں اور اس کی رضا کے لیے گزارنے اور قربان کرنے کے لیے تیار ہو یا نہیں۔ اسی حوالے سے یہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کی اصل غرض وغایت انسان کو پیدا کرنا اور اس کا امتحان لینا ہے کہ اس کا جو فرض اور ڈیوٹی اللہ کی جانب سے عائد کی گئی ہے جس کو عمل سے تعبیر کیا گیا ہے اس نے اسے کہاں تک ادا کیا ہے اور اس کے فیصلے کے لیے وہ ایک دن اہل زمین کی صف لپیٹ دے گا اور پھر انھیں نئی زندگی دے کر ایک میدانِ حشر میں جمع کرے گا جہاں ان کے دنیاوی زندگی کے اعمال کی بازپرس ہوگی اور اگر انھیں اس امتحان میں کامیابی ہوئی تو انھیں جزا میں جنت کی نعمتیں ملیں گی اور اگر ناکامی ہوئی تو جن ہم کے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
وَلَئِنْ قُلْتَ اِنَّکُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ہماری گزشتہ معروضات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ کائنات کا مقصد تخلیق انسان کو پیدا کرنا اور اسے چند خصوصیات دے کر اس کا امتحان کرنا ہے کہ وہ اپنی اخلاقی ذمہ داری کو پورا کرتا ہے یا نہیں اور پھر اسی امتحان کے حوالے سے قیامت کے روز اس سے بازپرس ہوگی لیکن جب یہی بدیہی بات نبی کریم ﷺ مشرکین مکہ سے کہتے تھے کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے اور تم سے تمہارے مقصد حیات کے بارے میں بازپرس ہوگی کہ تم نے زندگی اس مقصد کے مطابق گزاری یا اس کے خلاف۔ تو مشرکین مکہ بجائے اس بات کو سمجھنے اور فکر کرنے کے الٹا نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑانے لگتے اور ان کے نہایت موثر اور دل نشین پیرایہء بیان کو جادو کہہ کر اس کی تاثیر کو ہوا میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے درحقیقت کائنات کو کسی کھلنڈرے کا کھیل سمجھ رکھا ہے اور اپنے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس کھلونے سے جی بہلانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور اس احمقانہ تصور میں اتنے مگن ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا دل نشین طرز بیان انھیں جادو محسوس ہوتا ہے اور یہ قیامت کے وقوع کا دعویٰ انھیں شعبدہ بازی اور سحر مبین لگتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں اور اپنی عوام کو بھی مسلسل دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں۔
Ayah 11:8وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓی اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗط اَلاَ یَوْمَ یَاْتِیْہِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْہُمْ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ ۔ (سورۃ ہود : 8)
(اگر ہم ان سے عذاب کو کچھ مدت کے لیے ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے۔ سنو ! جس دن وہ ان پر آدھمکے گا تو ان سے ٹالا نہ جاسکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ )
(امۃ معدودہ) کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے وہ اپنے ٹھیٹ لغوی معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ سورة یوسف میں بھی اسی معنیٰ میں یہ لفظ بولا گیا ہے۔ عام طور پر ” امت “ کا لفظ قوم یا گروہ کے معنیٰ میں بولا جاتا ہے لیکن یہاں اس کا معنی مدت ہے اور معدودہ کا معنی ہے کچھ اور گنی چنی، تو امت معدودہ کا معنی ہوگا ایک محدود گنی چنی مدت۔
گزشتہ آیت میں ہم نے مشرکین مکہ کا رویہ دیکھا کہ قرآن کریم نے مقصد زندگی کو اس طرح واضح کیا ہے کہ وہ بالکل بدیہی بات معلوم ہوتا ہے لیکن ان کی بلادت کا کیا کہنا کہ وہ اتنی بدیہی بات کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اب اس آیت کریمہ میں ان کے اسی غیرسنجیدہ رویے کا ذکر ایک اور مسلّم حقیقت کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے جس طرح قیامت کا آنا یقینی ہے اور اس میں جزا وسزا کا وقوع لازمی ہے اسی طرح قوموں کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب کسی قوم نے اتمام حجت کے بعد بھی اللہ کے رسول پر ایمان لانے سے انکار کیا بلکہ اس حد تک اس کے در پے آزار ہوئے کہ اسے ہجرت پر مجبور کردیا گیا تو اس کے بعد اللہ کا عذاب ضرور آیا۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے کھنڈرات ان کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ ہیں اور ان کی تاریخ سینہ بسینہ جزیرئہ عرب میں پھیلی ہوئی ہے یہ جانتے ہیں کہ وہ کس طرح اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ باایں ہمہ یہ اس حد تک انتہائی سنجیدہ معاملات میں بھی غیر سنجیدہ ثابت ہوئے ہیں کہ ہر بات کا مذاق اڑاتے ہیں جو قوم انگاروں پر لیٹ کر فقرہ بازی کرتی یا تمسخر اڑاتی ہے آپ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کرسکتے ہیں۔ عذاب ان کے سر پر تلا کھڑا ہے اور ان کی حرکتیں اس کو دعوت دینے کے لیے کافی ہیں اس کے باوجود یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے انھیں مہلت ِ عمل دے رکھی ہے کہ شاید یہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ بجائے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے وہ اس کے رسول کا مذاق اڑاتے ہیں کہ تم جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے وہ کہیں راستے میں لنگرانداز تو نہیں ہوگیا، کہیں اسے راستہ تو نہیں بھول گیا۔ پروردگار وارننگ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نادانو ! سنو ! تم اپنی قسمت کے دشمن ہوئے ہو تمہیں معلوم نہیں کہ جس دن وہ عذاب آگیا وہ تمہارے ٹالے سے ٹلے گا نہیں اور وہ تمہیں اس طرح اپنے گرداب میں لے لے گا کہ تم اس سے باہر نہیں نکل سکو گے۔
Ayahs 11:9–10وَلَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنٰہَا مِنْہُج اِنَّہٗ لَیَئُوْسٌ کَفُوْرٌ۔ وَ لَئِنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَآئَ بَعْدَ ضَرَّآئَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْط اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ۔
(سورۃ ہود : 9، 10)
(اگر ہم انسان کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں اور پھر اس کو اس سے محروم کردیتے تو وہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے۔ اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی اس کو نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے میری مصیبتیں جاتی رہیں اور وہ اکڑنے والا اور شیخی بگھارنے والا بن جاتا ہے۔ )
آیات کی تشریح سے پہلے چند مشکل الفاظ کی وضاحت۔ یہاں ” رحمت “ سے مراد صحت، امن و عافیت، خوشحالی، فارغ البالی اور موافق حالات کے ہیں۔” یَئُوْس “ مبالغہ کا صیغہ ہے اس سے مراد ایسا شخص ہے جو حالات کا ایک جھٹکا برداشت نہ کرسکے حالات کی دگرگونی سے بالکل مایوس ہوجائے۔” کفور “ یہ بھی مبالغہ کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے بہت ناشکری کرنے والا۔ اسے ہزار نعمتوں سے نوازا جائے کبھی بھول کر شکر ادا نہ کرے اور معمولی تکلیف پر ناشکری پر اتر آئے۔” فَخُوْر “ مبالغے کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے بہت اترانے والا۔ حالات اچھے ہوں کاروبار چمک اٹھے، قسمت یاوری کرنے لگے تو اترانا شروع کر دے۔
انسان کا ذکر کرنے کا فائدہ
پہلی آیت کریمہ میں کسی خاص طبقے کا ذکر کرنے کے بجائے انسان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ روئے سخن اگرچہ انہی لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر سابقہ آیات میں کیا گیا ہے لیکن ان کا نام لیے بغیر انسان کے لفظ سے بات کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے اس قابل نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو۔ اس لیے بجائے انھیں خطاب کرنے کے انسان کا لفظ بول کر اجتماعی اسلوب میں بات فرمائی۔ اس سے اعراض کا مقصد بھی پورا ہوگیا اور جو بات کہنا تھی اس کا حق بھی ادا ہوگیا۔ امر واقعہ یہ ہے کسی ایک طبقے کی بات کو ایک کلیہ کی شکل میں کہنا ہمیشہ زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ یہاں بھی ہم اسی تاثیر کو دیکھ رہے ہیں۔ اور مزید یہ بات بھی کہ اس سے انسانی نفسیات کا ایسا حقیقت پسندانہ تجزیہ بھی سامنے آیا ہے جس سے انسان کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ مہذب اور شائستہ انسان خاص صفات کے حامل ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ جو انسانیت کے جامہ کو تار تار کردیتے ہیں اور ان کے اندر چھچھورا پن آجاتا ہے ان کے انداز بالکل مختلف ہوتے ہیں یہاں اسی انداز کی بعض جہتوں کا تذکرہ فرمایا جارہا ہے ان کا حال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انھیں اپنی طرف سے خوشحالی عطا فرماتا اور عہدہ ومنصب سے نوازتا ہے یا اثر ورسوخ میں اضافہ فرماتا ہے تو بجائے اس کے کہ اسے اللہ کی دین سمجھیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور انہی نعمتوں کو خدمت خلق کے لیے کام میں لائیں اور ان کے رویے کو دیکھ کر لوگ یہ سمجھیں کہ اللہ نے انھیں جیسے ہی نعمتوں سے گراں بار کیا ہے تو یہ پھل دار درخت کی طرح پہلے سے زیادہ متواضع ہوگئے ہیں اور ان کا سایہ پہلے سے بھی گھنا ہوگیا ہے لیکن ان میں ایسے کسی رویہ کی دور دور تک بھی نشان دہی نہیں ہوتی۔ اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ ان سے یہ نعمتیں چھین لیتا ہے ان کے حالات دگرگوں ہوجاتے ہیں تو اب بھی وہ صبر کرنے کی بجائے مایوس اور ناشکرے ہوجاتے ہیں۔ وہ بالکل اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ کل اگر ہمارے حالات اچھے تھے تو وہ اللہ کی عطا تھی اور ہماری محنتوں کا ثمر تھا اور آج اگر حالات بگڑ گئے ہیں تو یقینا اس میں ہماری کوتاہیوں کا دخل ہوگا۔ ہمیں اپنی کو تاہیاں دور کر کے ازسرنو جدوجہد کا آغاز کرنا چاہیے اور اللہ سے مدد مانگنی چاہیے کوئی بڑی بات نہیں کہ اگر پہلے حالات میں انقلاب آیا ہے تو اب انقلاب کیوں نہ آئے۔
دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اگر ہم ان مایوس اور ناشکرے لوگوں کو سزا دینے کی بجائے ان کو مزید آزمائش میں ڈالنے کے لیے ایک دفعہ پھر ان کے حالات کو بدل دیتے ہیں ان کی مصیبتیں ہٹا دی جاتی ہیں، کاروبار کے لیے بہتر حالات پیدا کردیئے جاتے ہیں تو محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ہمارے دن اس طرح پھرگئے ہیں کہ مصیبتوں کا کوئی اثر ہم پر نہیں رہا لیکن اب بھی وہ یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اگر سب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہوتا تو ہم کبھی اپنے حالات خراب نہ ہونے دیتے اور کبھی بھی اپنی خوشحالی کو بدحالی میں تبدیل نہ ہونے دیتے اس میں یقینا اس خالق کائنات کا ہاتھ ہے جو جب چاہتا ہے خوشیاں عطا فرماتا ہے اور جب چاہتا ہے غموں میں ڈبو دیتا ہے۔ لیکن اس کی یہ مشیت حکمت سے خالی نہیں ہوتی حالات کی ہر طرح کی تبدیلی کے پیچھے یقینا اس کی حکمت کارفرما ہوتی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ بےبصیرت اور چھچھورے لوگ جس طرح ناموافق حالات میں مایوس اور ناشکرے ہوگئے اسی طرح موافق حالات میں اترانے لگتے اور شیخیاں بگھارنے لگتے ہیں۔
اندازہ فرمائیے جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ خوشحالی اور فارغ البالی ملے اور عہدہ ومنصب نصیب ہو تو لوگوں کے لیے عذاب بن جائیں اور بنیادی انسانی خصائص سے بھی تہی دامن ہوجائیں اور اگر انھیں سخت حالات سے واسطہ پڑے تو انتہائی کمزور اور بودے ثابت ہوں تو ایسے لوگوں سے کسی بھی خیر کی امید کرنا مشکل ہے یہ اگر پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور انھیں اگر اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو تمسخر اڑاتے ہیں تو ان سے اس سے مختلف بات کی توقع کرنا ہی عبث ہے۔ اس لیے کہ پیغمبر کی دعوت کی قبولیت کے لیے چند بنیادی انسانی صفات کا ہونا ضروری ہے اور اللہ کے نبی کے انذار کے ادراک کے لیے بھی شرافتِ نفس کا وجود ضروری ہے لیکن جو لوگ انتہائی پست سطح تک اتر چکے ہوں ان کا رویہ اگر اپنے رویہ سے مختلف ہو تو یہ حیرانی کی بات ہے جس کی طرف یہاں اشارہ کیا جا رہا ہے۔