11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsروح القرآن

Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ سے سنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ آپ اس کو جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم جانتی تھی۔ پس صبر کیجیے، انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کا حصہ ہے۔

تِلْکَ مِنْ اَنْبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہَآ اِلَیْکَ ج مَا کُنْتَ تَعْلَمُہَآ اَنْتَ وَلاَ قَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ہٰذَا ط فَاصْبِرْ ط اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 49) (یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ سے سنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ آپ اس کو جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم جانتی تھی۔ پس صبر کیجیے، انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کا حصہ ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کی طرف التفات اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کی طرف التفات ہے جس سے آپ پر خصوصی عنایات کا اظہار بھی ہے اور آپ ﷺ کی رسالت پر دلیل بھی۔ خصوصی عنایت کا اظہار اس طرح ہے کہ آپ ایک ایسے شہر سے اٹھے اور ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے ہیں جو علم سے دور کی بھی نسبت نہیں رکھتی۔ ان کی اپنی تاریخ سینہ بہ سینہ چلنے والے واقعات پر مشتمل ہے۔ جہاں تک دوسری قوموں کا تعلق ہے وہ ان کی تاریخ قدیم سے تو کیا واقف ہوں گے وہ ان کے ضروری کوائف سے بھی آگاہ نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) تاریخِ مذاہب کا ایک نمایاں ستون ہیں اور پھر یہ بات بھی کہ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں ان کی خدمات سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ (علیہ السلام) اس دنیا کے لیے آدم ثانی کہے جاتے ہیں۔ اللہ کے راستے میں آپ کی استقامت اور جانفشانی ایک ضرب المثل ہے، لیکن اہل مکہ ان کی تاریخ کے کسی ورق سے آگاہ نہیں۔ آپ پر کس قدر اللہ کی عنایت ہے کہ صدیوں پہلے کی تاریخ جس سے اہل تاریخ بھی بیخبر ہیں اور تورات میں اگر اسے بیان کیا بھی ہے تو ایسی پراگندہ اور مسخ شدہ شکل میں کہ جس سے کسی عبرت و نصیحت کے حصول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں آپ پر حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حوالے سے صحیح حالات کا نزول جہاں اللہ تعالیٰ کی آپ پر بےپایاں رحمت کا ثبوت ہے وہیں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ پر اترنے والی کتاب اللہ کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان واقعات کا آپ کی زبان پر جاری ہوجانا ایک ناممکن بات تھی۔ لیکن آپ نے جس طرح ایک ترتیب کے ساتھ ان واقعات کو بیان فرمایا اور تاریخ کے ان اوراق کو الٹا جن کا جاننے کا انسانوں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا اور عبرت و نصیحت کے ان عقدوں کی نقاب کشائی کی جو صرف اللہ تعالیٰ کے علم کا حصہ ہیں۔ ان میں سے ایک ایک بات جس طرح آپ کے لیے عزت و افتخار کا باعث ہے اسی طرح آپ کی نبوت اور رسالت کے برحق ہونے کی حجت بالغہ بھی ہے۔ رہی یہ بات کہ مشرکین مکہ آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور وہ قدم قدم پر آپ ﷺ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے اذیت رسانی نے نہایت ناگوار صورت پیدا کردی ہے، آپ ﷺ اس کی پرواہ نہ کریں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعات آپ کے سامنے ہیں۔ انھوں نے صدیوں تک ان مصیبتوں پر صبر کیا۔ آپ ﷺ بھی صبر کریں۔ نتیجہ وہی ہوگا جو آپ ﷺ نوح (علیہ السلام) کے واقعات میں دیکھ چکے ہیں، جس طرح ان کے صبر نے انھیں اللہ کی رحمت کا مستحق بنایا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد کردیئے گئے۔ اسی طرح آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی مزید عنایات ہوں گی۔ آپ ﷺ کے لیے کامیابی کے راستے کھول دیئے جائیں گے اور مخالفین کا وہی انجام ہوگا جو ہر پیغمبر کی مخالفت کرنے والوں کا ہوتا ہے۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو اس سے ڈر کر زندگی گزارتا ہے، اچھا انجام اسے نصیب ہوتا ہے اور جو اس سے سرکشی اختیار کرتا ہے وہ طوفانِ نوح جیسے کسی عذاب کا شکار ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل بےلاگ ہے۔ وہ جب عدل کرنے پر آتا ہے تو کوئی اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اس کا قانون ہے کہ اس کا انکار کرنے والے عذاب کا شکار ہوتے ہیں۔ چناچہ جب اس کا عذاب اترتا ہے تو پھر اس کی زد میں پیغمبر کا بیٹا بھی آجائے تو اس کا عدل صرف اس لیے اسے چھوڑ نہیں دیتا کہ وہ پیغمبر کا بیٹا ہے بلکہ اسے بھی وہی سزا ملتی ہے جو کافروں کو ملتی ہے اور سلامتی صرف اس کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ آپ (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم ! اس اللہ کی عبادت کرو، نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، نہیں ہو تم مگر افترا پرداز۔

وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا ط قَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّمُفْتَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 50) (اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ آپ (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم ! اس اللہ کی عبادت کرو، نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، نہیں ہو تم مگر افترا پرداز۔ ) حضرت ہود (علیہ السلام) قوم عاد کی طرف مبعوث ہوگئے۔ یہ قوم جزیرہ عرب میں جانی پہچانی تھی۔ یہ اپنے کسی جدِاعلیٰ عاد کی طرف منسوب تھی۔ ان کا وطن حضرموت اور یمن کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ سورة الاعراف میں ہم ان کی تاریخ کے ضروری عنوانات پر گفتگو کرچکے ہیں۔ یہاں ان کا تذکرہ صرف اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ مشرکینِ مکہ کو بتایا جائے کہ جس طرح تم ایک قوم ہو، تمہارے پاس ایک طاقت ہے، تمہاری ایک افرادی قوت ہے، تم ایک وسیع سرزمین پر آباد ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف تمہاری ہدایت کے لیے ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی طرح قوم عاد بھی ایک بڑی افرادی قوت کی مالک قوم تھی۔ وہ ملک کے اہم ترین حصے پر آباد تھی۔ وہ اپنی قوت، صنعت اور بعض فنی کمالات میں تم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے لیکن جب ان کا بگاڑ انتہاء کو پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو آنحضرت ﷺ تمہارے سامنے پیش کررہے ہیں اور انھوں نے وہی رویہ اختیار کیا اور اسی طرح مخالفتوں پر کمر باندھی جو رویہ تم اختیار کرچکے ہو۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کی طرح اپنی ہمت سے بڑھ کر ان کی اصلاح و ہدایت کے لیے کوششیں کیں لیکن جب قوم نے مکمل طور پر ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا تو بالآخر اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر ٹوٹا۔ تم بھی قوم عاد کے راستے پر بڑھتے جارہے ہو۔ اللہ کے آخری رسول ﷺ اپنی تمام تر مساعی تمہاری ہدایت کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں لیکن تم کسی طرح بھی راہ راست اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ قوم عاد کی تاریخ تمہارے لیے ایک آئینہ ہے جس میں تم اپنا انجام دیکھ سکتے ہو اور ساتھ ہی ساتھ نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی مخالفتوں سے دل چھوٹا نہ کریں۔ آپ ﷺ کا ہر قدم کامیابی و کامرانی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ان لوگوں نے اگر آپ ﷺ کی دعوت کو قبول نہ کیا تو ان کا انجام نہایت اندوہناک ہوگا۔ دعوت کی پہلی ضرورت اجنبیت کے احساس کا خاتمہ ہے گفتگو کے آغاز میں سب سے پہلے وہ بات فرمائی گئی ہے جو کسی قوم کی ہدایت اور تعلیم و تربیت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی رسول کو کسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا ہے تو اس کی سب سے پہلی ضرورت یہ رہی ہے کہ اس کے اور اس کی قوم کے درمیان اجنبیت کی کوئی ایسی دیوار حائل نہ رہے جس سے افہام و تفہیم اور ابلاغ و تبلیغ میں رکاوٹ پیدا ہو۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ آدمی اس شخص کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتا ہے اور اس سے اکتساب فیض کی کوشش کرتا ہے جس کی شخصیت سے وہ پوری طرح آگاہ ہو اور اس کی بات سمجھنے پر پوری طرح قادر ہو۔ کوئی معلم یا مربی اگر اجنبیت کے پردوں میں لپٹا ہوا ہو اس کی ذات، اس کا خاندان، اس کا ماحول اور اس کی شخصیت کے ضروری اوصاف پردہ اخفاء میں ہوں۔ اسی طرح اس کی زبان شاگرد اور مخاطب کی زبان سے اجنبی ہو۔ وہ جو کہے اسے شاگرد نہ سمجھے اور جو شاگرد پوچھے وہ استاد کے پلے نہ پڑے تو تعلم و تربیت کا کوئی مرحلہ بھی طے نہیں ہوسکتا۔ زبان کی یکسانی استاد اور شاگرد کے درمیان تعلیم و تربیت کا پہلا زینہ ہے اور استاد اور مربی کی شخصیت سے بہت حد تک آگاہی جو اس کی ذات پر اعتماد پیدا کرسکے دوسرا زینہ ہے اور ان دونوں زینوں کے مہیا ہوجانے کے بعد ہی کسب و اکتساب اور تعلیم و تعلم کے مراحل طے ہوسکتے ہیں۔ چناچہ خالق فطرت سے بڑھ کر ان حقائق کو جاننے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اس نے ہر رسول بھیجنے سے پہلے ان بنیادی ضرورتوں کا لحاظ فرمایا اور اجنبیت اور بیگانگی کو ممکن حد تک ختم کرنے کا انتظام فرمایا۔ چناچہ اس نے جب بھی کسی قوم میں رسول بھیجا ہے تو ایسی ذات عزیز کو بھیجا ہے جس کا اپنی قوم کے ساتھ اخوت کا رشتہ تھا۔ وہ اسی قوم کا ایک فرد تھا۔ انھیں کے اعلیٰ خاندان میں جنم لینے والا، انھیں کا بھائی بند، انھیں میں زندگی گزارنے والا، انھیں میں رہ کر کاروبار کرنے والا، انھیں میں سے کسی کا داماد اور انھیں میں سے کسی سے مختلف نسبتیں رکھنے والا۔ چناچہ ایسی محترم شخصیت جس نے بچپن سے لے کر ڈھلتی عمر تک تمام ادوار اپنی قوم میں گزارے ہوں اور وہ اپنی قوم کی بولی بولتا ہو۔ انھیں کی روایات کا پاسدار اور انھیں کی قومی خصوصیات کا حامل ہو۔ جب وہ اچانک ایک دن اٹھ کر یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں تاکہ تمہیں آنے والے خطرات سے آگاہ کروں اور تمہارا اللہ سے ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑ دوں تو وہ قوم اسے یہ نہیں کہہ سکتی کہ تم جس زبان میں بات کرتے ہو ہمیں تمہاری بات سمجھ میں نہیں آتی اور تم جن مکارم اخلاق کی طرف دعوت دیتے ہو اور جن انسانی قدروں کا احیاء چاہتے ہو وہ ہمیں تمہارے اندر تو دکھائی نہیں دیتیں۔ وہ زبان کی یکسانی کی وجہ سے اس کی بات کو پوری طرح سمجھتے ہیں اور اس کی زندگی سے پوری طرح آگاہ ہونے کے باعث اس پر بےسروپا الزامات کی دھول اڑانے سے عاجز رہتے ہیں اور اگر کوئی غیرذمہ دار شخص اس قسم کی بات کرتا بھی ہے تو خود انھیں میں سے کئی لوگ اسے جھٹلانے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی اپنی قوم کے لیے ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔ انھیں کی زبان بولتے تھے اور انھیں کے معروفات کے نمائندہ تھے اور ان سے اخوت کے رشتے میں منسلک تھے۔ زبان کی یکسانی چونکہ تبلیغ کی جان ہے اس لیے قرآن کریم نے ایک اور جگہ اسے کھول کر بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے : وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّابِلِسَاْنِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ (ہم نے کسی قوم کی طرف رسول نہیں بھیجا، مگر اس کی زبان میں تاکہ وہ انھیں سمجھا سکے اور بیان کرسکے۔ ) پیغمبر کی دعوت پیشِ نظر آیت کے دوسرے جملے میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے وہ دعوت پیش کی ہے جس کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا گیا تھا کہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ یہی وہ دعوت ہے جو ہر پیغمبر اپنی قوم کی طرف لے کر آیا۔ اسی سورت کے آغاز میں بھی نبی کریم ﷺ کی طرف سے انھیں الفاظ میں آپ کی دعوت پیش کی گئی ہے۔ قرآن کریم نے جتنے انبیاء کرام کا تذکرہ کیا ہے ان سب کی دعوت کا عنوان یہی جملہ رہا ہے اور اس جملے میں جو کچھ کہا گیا ہے تمام انبیاء کرام زندگی بھراسی کی تفصیلات بیان کرتے رہے ہیں کیونکہ انسان کا اصل مسئلہ یہ ہے اور اسی سے بیخبر ی یا انکار اس کی زندگی کے ہر طرح کے بگاڑ کا سبب ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کون سی ذات ہے جو میری بندگی کا استحقاق رکھتی ہے۔ مجھے اپنے دل کی آبادی کے لیے کس سے محبت کرنی چاہیے، کون ہے جو میرے دل کے بھیدوں سے واقف ہے اور میری تنہائیاں بھی میری جلوتوں کی طرح اس کے سامنے آشکارہ ہیں۔ وہ کون ہے جو خود ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے لیکن تمام دنیا کا حاجت روا ہے۔ وہ کون ہے جس کی قوتیں اور قدرتیں بےپناہ ہیں جس کا سہارا ہر سہارے سے بےنیاز کردیتا ہے۔ وہ کون ہے جس کا علم و دانش ہر طرح کی نارسائی سے پاک ہے۔ وہ کون ہے جو انسانی فطرت سے بتمام و کمال آگاہ ہے۔ اس لیے جب بھی وہ فیصلہ کرتا ہے تو انسانی فطرت کی ضرورتوں کے مطابق کرتا ہے۔ وہ کون ذات ہے جس نے جس طرح تمام مخلوقات کے رزق کی کفالت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اسی طرح اس نے انسانوں کی ہدایت بھی اپنے ذمہ لے رکھی ہے کیونکہ دنیا بھی اسی کی ہے اور آخرت بھی اسی کی ہے۔ وہ جس طرح دنیوی ضرورتوں کا کفیل ہے اسی طرح اخروی ضرورتوں کی رہنمائی اور خوشنودیٔ حق کے طریقوں کی ہدایت بھی اس نے اپنی ذمہ داری ٹھہرائی ہے۔ وہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ وہی رسول بھیجتا ہے اور وہی کتابیں نازل کرتا ہے اور وہ سب کچھ اس لیے کرتا ہے کہ وہ پوری کائنات کا اِلٰہ ہے۔ اِلٰہ جس طرح معبود، مسجود اور مطلوب ہوتا ہے اسی طرح وہ حاکم حقیقی بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ کائنات کا رب بھی ہوتا ہے۔ اس کی ربوبیت کا فیضان ہے کہ جس طرح ہماری غذائی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اسی طرح احساسات کی آسودگی، عقل و خرد کی بالیدگی اور دل کی سرمستگی اور وارفتگی کا سامان بھی اسی بارگاہ سے میسر آتا ہے۔ اس ذات کی بندگی اور غلامی کو چھوڑ کر کسی اور آستانے پر جھکنا اور کسی اور سے رہنمائی لینا، کسی اور کو غیرمشروط طور پر قانون سازی کا حق دینا اور مطاع مطلق ماننا انسان کو کسی طرح زیب نہیں دیتا۔ اللہ کے رسول انسانوں کی اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ ان کے اسی الجھی ہوئی گتھی کی عقدہ کشائی کرتے ہیں۔ وہ انسان کو اس کے حقیقی مقام و مرتبہ پر اس طرح فائز کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے آستانے کے سوا اسے ہر آستانے سے بےنیاز کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سہارے کے سوا ہر سہارا اس کے لیے بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ انسانوں نے اتنی واضح اور بدیہی حقیقت کو نظرانداز کرکے ہمیشہ اللہ کے شریک بنائے۔ اس کی صفات میں نہ جانے کس کس کو شریک کیا۔ جن قوتوں کو اللہ نے اس کی خدمت پر لگایا تھا اور جن کی حیثیت اس کے چاکروں کی تھی یہ انھیں کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ چناچہ ایسے بےبصیرت لوگوں کو خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ تم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر افترا پردازی کا جرم کیا ہے۔ تم نے صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر شرک کے جرم کا ہی ارتکاب نہیں کیا بلکہ تم نے اس جرم کی اللہ کی طرف نسبت کرکے ایک ایسا جھوٹ باندھا ہے جس کی نزاکتوں کا خیال کرکے انسان شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم کے لوگو ! میں اس پر تم سے کسی معاوضے کا طالب نہیں۔ میرا اجر تو بس اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے نہیں۔

یٰـقَوْمِ لَآاَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّعَلَی الَّذِیْ فَطَرَنِیْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 51) (اے میری قوم کے لوگو ! میں اس پر تم سے کسی معاوضے کا طالب نہیں۔ میرا اجر تو بس اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے نہیں۔ ) آیت کے دو مفہوم اس آیت کریمہ میں ایک ایسی بات فرمائی گئی ہے جس کو سمجھنے کے لیے عقل کا استعمال ضروری ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں عقل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ عام رواروی میں اس آیت کا مفہوم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ میں جو عظیم الشان کام سرانجام دے رہا ہوں اس کے لیے میں تم سے کسی اجر کا متمنی نہیں ہوں حالانکہ دنیا میں کوئی کام آدمی معاوضے کے بغیر نہیں کرتا۔ لیکن میں یہ کام چونکہ تمہاری چاہت سے نہیں کرتا بلکہ اللہ کے حکم سے کر رہا ہوں۔ اس لیے میرا اجر اس کے ذمہ ہے۔ اس مفہوم کی اپنی ایک معنویت ہے اور اپنا ایک اثر ہے لیکن اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ قوموں کی اصلاح کا کام دنیا میں سب سے کٹھن اور نازک کام ہے۔ اس کے لیے صرف محنت ہی درکار نہیں بلکہ خطرات سے کھیلنا اور گزرنا بھی پڑتا ہے۔ اپنے بیگانہ ہوجاتے ہیں، دوست دشمن بن جاتے ہیں۔ عزت ذلت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ زندگی مستقل خطرے کا شکار رہتی ہے۔ کوئی لمحہ آرام کا نصیب نہیں ہوتا۔ دن گالیاں سنتے اور طعنے برداشت کرتے گزر جاتا ہے اور راتیں اللہ کی بارگاہ کی نذر ہوجاتی ہیں۔ ایسا کٹھن اور جانگسل کام جس کی اور کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی بغیر کسی لالچ اور معاوضے کے ایک آدمی سرانجام دے رہا ہے۔ وہ ایک ایک دروازے پہ دستک دیتا ہے اور اسے نامناسب رویئے سے سابقہ پڑتا ہے۔ وہ ایک ایک شخص سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے تاکہ اسے جہنم سے بچا سکے لیکن وہ اسے منہ لگانے کو تیار نہیں۔ وہ اپنے بدترین دشمنوں کو دعائوں میں یاد رکھتا ہے۔ مخالفین اس کی جان لینے کے درپے ہوتے ہیں اور وہ ان کی عاقبت سنوارنے کے فکر میں رہتا ہے۔ یہ طرزعمل، یہ ہمدردی، یہ خیرخواہی، یہ جان پر کھیل کر دوسرے کی عاقبت بنانے کی فکر کیا تمہاری عقل کو اپیل نہیں کرتی کہ اگر اس شخص کی فکر میں کوئی کجی ہوتی یا اس کی نیت میں کوئی فتور ہوتا یا یہ کسی لالچ کا شکار ہوتا تو اس کا ضرور کہیں نہ کہیں اظہار ہوتا۔ اسے اس خدمت کے عوض مسلسل فاقوں اور دکھوں کے سوا اور کیا ملا ہے۔ اس کا یہ طرز عمل بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ یقینا اس کے پیچھے ایک سچائی ہے جو اسے مسلسل آمادہ ٔ کاوش رکھتی ہے۔ وہ جن خطرات سے انھیں آگاہ کرتا ہے ان کے واقع ہونے کا اسے پوری طرح یقین ہے۔ وہ آنے والے حالات کو معلوم ہوتا ہے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ جہنم اس کے سامنے دہک رہا ہے اور مخالفین اندھوں کی طرح اس کی طرف بھاگے چلے جارہے ہیں۔ وہ جان پر کھیل کر انھیں اس آگ سے بچانا چاہتا ہے۔ تعجب ہے کہ لوگ اس کے یقین، ایقان، فکرمندی، ہمدردی اور خیرخواہی سے اس کی دعوت کی حقانیت کو کیوں نہیں اخذ کرتے اور کیوں ایمان نہیں لاتے۔ آخر ان کی عقلوں کو کیا ہوگیا ہے۔ اگر یہ ذرا بھی عقل سے کام لیتے تو جس طرح چمکتے ہوئے سورج سے روشنی کا ادراک ایک بدیہی بات ہے اسی طرح پیغمبر کے اس رویئے سے اس کی دعوت کا یقین اس سے بڑھ کر بدیہی اور یقینی بات ہے۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اے میری قوم ! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، پھر اسی کی طرف لوٹو، وہ آسمان سے تم پر موسلادھار بارش اتارے گا اور تمہیں بڑھا دے گا قوت میں تمہاری پہلی قوت سے، اور اللہ تعالیٰ سے منہ نہ موڑو جرم کرتے ہوئے۔

وَیٰـقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 52) (اے میری قوم ! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، پھر اسی کی طرف لوٹو، وہ آسمان سے تم پر موسلادھار بارش اتارے گا اور تمہیں بڑھا دے گا قوت میں تمہاری پہلی قوت سے، اور اللہ تعالیٰ سے منہ نہ موڑو جرم کرتے ہوئے۔ ) استغفار و توبہ کی ترغیب حضرت ہود نے اللہ کی الوہیت کی دعوت دینے اور عقلی دلیل کے ذریعے سے ثابت کرنے کے بعد قوم کو استغفار کرنے اور پھر اسی کی طرف لوٹ جانے کی ترغیب دی۔ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی دعوت کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ وہ انسانی احساسات سے بالا ہوتی ہے۔ پیغمبر جب کسی بگڑی ہوئی قوم کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو ان کے بگاڑ کا تقاضا تو یہ ہوتا ہے کہ انھیں آتے ہی وارننگ دے دی کہ تم اپنی گمراہیوں میں جس حد تک پہنچ چکے ہو اب اس کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ تم فوراً اس سے تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئو۔ اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو پھر عذاب تمہارے سر پر تلا کھڑا ہے لیکن اللہ کے نبی ہمیشہ نہایت ہمدردی اور خیرخواہی کے ساتھ ترغیب کے انداز میں اپنی دعوت پیش کرتے ہیں۔ نہ انھیں اشتعال دلاتے ہیں، نہ انھیں مایوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی امید دلا کر آخری حد تک انھیں مائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے کی ترغیب دی اور اس کے بعد توبہ کا حکم دیا۔ استغفار اور توبہ ایک ہی سفر کے دو مقام ہیں۔ ایک منفی ہے، دوسرا مثبت ہے۔ استغفار سے مراد یہ ہے کہ آدمی نے جو غلط عقائد و اعمال اختیار کر رکھے ہیں ان سے دستبردار ہوجائے اور توبہ یہ ہے کہ ان کی جگہ صحیح عقائد و اعمال اختیار کرے۔ آدمی سب سے پہلے اپنی خطائوں اور غلط عقائد کا احساس پیدا کرے۔ جب تک کسی گمراہی اور خطا سے نفرت پیدا نہیں ہوتی اور دل میں یہ بات نہیں اتر جاتی کہ میں اب تک جو کچھ کرتا رہا ہوں وہ واقعی غلط اور قابل نفرت تھا اس وقت تک انسان ان برائیوں سے نجات حاصل نہیں کرسکتا۔ چناچہ جیسے جیسے بری باتوں کی نفرت بڑھتی جائے گی ویسے ویسے آدمی ان کے چھوڑنے پر قادر ہوتا جائے گا۔ لیکن برائیوں کا چھوڑ دینا اصلاح کے عمل کے لیے کافی نہیں۔ یہ اس کا پہلا مرحلہ ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان ان تمام منکرات اور برائیوں سے نکل کر اس صراط مستقیم پر چل پڑے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے نبی دعوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول منزل قرار پائے۔ چناچہ ہر وہ بات اور ہر وہ احساس جو اس منزل کی طرف لے جانے میں معاون ہو آدمی اس کی طرف لپکتا ہوا جائے اور اللہ تعالیٰ کے اس آستانے سے ایسا والہانہ تعلق پیدا ہوجائے کہ کسی طرح بھی اس کی رغبت دل میں مدھم نہ ہونے پائے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ( رح) نے ایک شخص کو دیکھا جسے مسجد حرام میں یہ آواز سنائی دے رہی تھی کہ تم یہاں سے نکل جاؤ، ہمیں تمہارا آنا منظور نہیں۔ حضرت شیخ ( رح) نے اس سے فرمایا کہ بھائی جب آپ کو یہ حکم دیا جارہا ہے تو آپ نکل کیوں نہیں جاتے۔ اس نے نہایت تعجب سے شیخ کی طرف دیکھا اور کہا کہ آپ ہی مجھے بتادیں کہ میں اس دروازے سے نکل کر کہاں جاؤں۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور دروازہ ہوتا تو میں ضرور چلا جاتا، لیکن جب دروازہ ہی ایک ہی تو پھر جو کچھ بھی ہو زندگی اسی آستانے پر گزرے گی۔ امید ہے ایک نہ ایک دن اللہ کی رحمت کا مستحق سمجھا جاؤں گا۔ قسم آستاں کی نہ اٹھیں گے ہرگز یہیں دن چڑھے گا یہیں رات ہوگی ایک غلط فہمی کا ازالہ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر رحم فرمایا۔ اسے نہ صرف معافی مل گئی بلکہ اسے کھوئے ہوئے مقامات پر بھی فائز کردیا گیا۔ یہ استغفار اور توبہ ہر نبی کی دعوت کا لازمی حصہ رہا ہے۔ چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی سب سے پہلے اسی کی طرف توجہ دلائی اور ساتھ ہی یہ بھی یقین دلایا کہ یہ مت سمجھو کہ تم اگر اللہ تعالیٰ کے راستے پر آجاؤ گے اور شیطان کا اتباع چھوڑ کر نیکی کی زندگی اختیار کرلو تو تمہاری دنیوی خوشحالی میں کوئی فرق آجائے گا، یہ سراسرغلط فہمی ہے جو ہمیشہ شیطان پیدا کرتا ہے اور اسی سے ڈرتے ہوئے لوگ اسلامی شریعت سے دور رہتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کی رسول کی اطاعت کرنے سے آخرت تو مل سکتی ہے لیکن دنیا میں آسائش کی زندگی نصیب نہیں ہوسکتی۔ اس غلط فہمی نے نہ جانے کتنے لوگوں کو اسلامی زندگی سے محروم کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ زندگی جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے وجود میں آتی اسے اختیار کرنے سے صرف آخرت ہی میں سرخروئی نہیں ہوگی بلکہ دنیا میں بھی ہر طرح کی عزت، وجاہت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں صاف صاف فرمایا گیا کہ اگر تم ایمان لے آئو اور اس طرح زندگی گزارو جس طرح اللہ تعالیٰ کا رسول تمہیں تعلیم دے رہا ہے تو اللہ تم پر آسمان سے موسلادھا بارش ناز ل فرمائے گا جس سے بنجر زمین سیراب ہو کر سونا اگلنے لگے گی۔ ہر طرف سرسبز کھیت لہلہانے لگیں گے۔ یہ بجائے خود معاشی خوشحالی کی طرف اشارہ ہے لیکن قرآن کریم کے یہ الفاظ ہر طرح کے رزق و فضل میں زیادتی کی تعبیر ہیں۔ اس سے مراد صرف زرعی خوشحالی نہیں بلکہ خوشحالی کے جتنے شعبے ہیں ان تمام میں اللہ کی طرف سے ایک بہتری اور افزدوگی پیدا ہونے لگتی ہے کیونکہ رزق و فضل میں برکت دو طرح سے ہوتی ہے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ وسائل کی فراہمی میں اضافہ فرما دے اور دوسرے انسانوں کی طرف سے کہ کام کرنے والے ہاتھ محنت کرنے لگیں اور سوچنے والے دماغ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے لگیں اور ہر جگہ ہر کام کرنے والا دیانت و امانت کا پیکر بن جائے تو آپ دیکھیں گے کہ ملوں اور کارخانوں کی پیداوار دنوں میں کہاں تک پہنچ جاتی ہے۔ جب قدم قدم پر بددیانت لوگ موجود ہوں اور مزدوری کرنے والا طبقہ مالک کے ساتھ ہمدردی سے محروم ہو اور ہر شخص کو صرف اپنا مفاد عزیز ہو تو چلتے ہوئے کام بھی رک جاتے ہیں اور ہر چیز میں بےبرکتی پیدا ہوجاتی ہے لیکن اسلامی زندگی آنے کے بعد دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور مزید یہ فرمایا کہ ہم تمہیں صرف معاشی خوشحالی عطانھیں کریں گے بلکہ تمہاری سیاسی قوت میں بھی اضافہ کردیں گے۔ اس کے جو جو اسباب بھی ضروری ہوتے ہیں سب بروئے کار آنا شروع ہوجائیں گے۔ ملک کی آبادی ذہنی یکسوئی میں مبتلا ہونے کے بعد اتفاق اور اتحاد کی دولت سے مالا مال ہوجائے گی۔ اس طرح سے قوم کو ایک ہمہ گیر ترقی و خوشحالی کا موقع ملے گا لیکن شرط یہ ہے کہ تم اللہ سے منہ موڑنے کی بجائے اس کے سامنے سر ڈال دو ۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے ہود تو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا اور نہ ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تجھ پر ہم ایمان لانے والے ہیں۔

قَالُوْا یٰـھُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَۃٍ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِکِیْ ٓ اٰلِھَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 53) (انھوں نے کہا اے ہود تو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا اور نہ ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تجھ پر ہم ایمان لانے والے ہیں۔ ) بَیِّنَۃٍکا مطالبہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے گزشتہ آیات میں اللہ کی الوہیت کو کو دلائل سے ثابت کیا اور پھر اپنے رویئے اور اخلاص کو بطور دلیل کے ان کے سامنے پیش کیا جس سے ایک طرف آپ کی دعوت کا اثبات ہوتا تھا اور دوسری طرف آپ کی رسالت کا یقین پیدا ہوتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے ترغیب دیتے ہوئے اپنی قوم سے کہا کہ تم اگرچہ بہت بگڑ چکے ہو اور تمہارے اندر بیشمار خرابیاں پید ہوچکی ہیں اس کے باوجود میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اللہ سے استغفار کرو اور ہر طرف سے کٹ کر اس کے احکام کی طرف پلٹ آئو تو تم دیکھو گے کہ کس طرح وہ تمہیں خوشحالیوں سے نوازتا اور کس طرح تمہاری سیاسی قوت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس قدر مثبت اور موثر تبلیغ و دعوت کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ یا تو اس دعوت کو قبول کرلیتے اور یا اس کے جواب میں اپنے مؤقف کے اثبات کے لیے مضبوط دلائل دیتے، لیکن وہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنی مسلسل گمراہیوں اور عیاشیوں کے باعث روحانی تقاضے تو ایک طرف رہے دل و دماغ کی شائستگی سے بھی محروم ہوچکے تھے۔ اس لیے بالکل جاہل لوگوں یا بچوں کی طرح ایک ایسی بات کہہ رہے تھے جس کی کسی بھی عقلمند اور شائستہ مزاج قوم سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ انھوں نے کہا کہ اے ہود ! تم ہم سے بہت سے تبدیلیوں کا مطالبہ کررہے ہو۔ تم چاہتے ہو ہم اپنے خدائوں کو چھوڑ دیں اور ایک خدا پر ایمان لے آئیں۔ اپنی زندگی کے طوراطوار کو یکسر تبدیل کرلیں۔ بنیادی نظریات سے لے کر آداب زندگی تک ہر چیز کا فیصلہ تمہاری رہنمائی میں کریں۔ اپنے تمام بڑوں کو رد کرکے تمہاری بڑائی کے سامنے جھک جائیں۔ اتنی بڑی تبدیلیوں کے لیے چند دلائل کافی نہیں، کوئی بہت بڑی شہادت ہونی چاہیے۔ ایک ایسی شہادت جو ہمیں تمہاری ہر بات ماننے پر مجبور کردے۔ دلیل کی کاٹ تو دلیل سے ممکن ہے اور یہ ایسی چیز نہیں جو اپنے مخاطب کو ماننے پر مجبور کردے۔ ہمیں تو کوئی ایسی نشانی دکھائیے، کوئی ایسی حیران کن غیرمعمولی چیز ہمارے سامنے لایئے جسے دیکھ کر مانے بغیر چارہ نہ ہو۔ یہ مسئلہ صرف قوم ہود کا نہیں، جب تک انسان فکری طور پر بالغ نہیں ہوجاتا اور اس کے مفادات کی زنجیریں ٹوٹ نہیں جاتیں، تعصبات سے نکلنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوجاتی اور اس کی نظر پیکر محسوس کے دائرے سے آزاد ہونے میں کامیاب نہیں ہوتی، اس وقت تک ہر داعی الی الحق سے ایسے ہی مطالبات کیے جائیں گے۔ چناچہ قوم ہود بھی اپنے تاریخ کی آواز تھی۔ اس نے اپنی سطح کے مطابق نہ صرف بینہ کا مطالبہ کیا بلکہ حضرت ہود کو ڈراتے اور دھمکاتے ہوئے یہ کہا :
Ayahs 11:54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مبتلا کردیا ہے تجھے ہمارے کسی اِلٰہ نے دماغی خلل میں۔ (یعنی تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے) حضرت ہود نے کہا میں گواہ بناتا ہوں اللہ تعالیٰ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان تمام قوتوں سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

اس کے سوا پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو، پھر مجھے مہلت نہ دو ۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلاَّ اعْتَرٰکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَا بِسُوْ ٓئٍ ط قَالَ اِنِّـٓیْ اُشْھِدُاللّٰہَ وَاشْھَدُ ٓوْا اَنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِہٖ فَکِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لاَ تُنْظِرُوْنِ ۔ (سورۃ ہود : 54، 55) (ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مبتلا کردیا ہے تجھے ہمارے کسی اِلٰہ نے دماغی خلل میں۔ (یعنی تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے) حضرت ہود نے کہا میں گواہ بناتا ہوں اللہ تعالیٰ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان تمام قوتوں سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کے سوا۔ پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو، پھر مجھے مہلت نہ دو ۔ ) قوم ہود کی ہر زہ سرائی اور اس کا جواب ہمارا خیال تو یہ ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو، یہ تمہاری دماغی خرابی کا نتیجہ ہے کیونکہ آج تک ہم نے ایسی کوئی بات تمہارے منہ سے نہیں سنی۔ تم نے زندگی کا ایک بڑا حصہ ہمارے درمیان گزارہ ہے، اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو تم اس سے پہلے بھی کبھی اظہار کرتے، ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ تم نے جو ہمارے معبودوں کے خلاف کہنا شروع کر رکھا ہے ان پر نہ صرف تنقید کرتے ہو بلکہ تنقیص بھی کرتے ہو۔ انھیں میں سے کسی کی تمہیں مار پڑی ہے۔ یہ بڑی کرنی والے لوگ ہیں۔ تم انھیں پتھروں کا مجسمہ سمجھتے ہو، لیکن ان کے اندر جو قوتیں ہیں تم ان سے ناواقف ہو۔ یہ کسی بڑی قوت کے اوتار ہیں۔ اسی طرح تم نے ہمارے دیوتائوں کے خلاف بھی مختلف باتیں کہی ہیں۔ تمہیں اپنے ایک خدا کے سوا کوئی اور برداشت ہی نہیں ہوتا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا چاہیے تھا کہ تم اپنی شامت اعمال میں پکڑے گئے ہو۔ دماغ کی خرابی کے باعث الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو جن کی وجہ سے تم نے اپنی عزت تو گنوائی ہے، اپنی قوم کو بھی انتشار میں مبتلا کردیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب قوم ہود نے اپنے معبودوں سے آپ کو ڈرایا اور ان کی مار پڑنے کی بات کی تو حضرت ہود (علیہ السلام) کا عقیدہ توحید غیرت توحید میں تبدیل ہو کر بھڑک اٹھا اور آپ نے ان کی بات کاٹ کر فرمایا کہ تم مجھے اپنے معبودوں سے ڈراتے ہو، میں اپنے اللہ کو گواہ کرکے کہتا ہوں اور تم بھی اس بات کے گواہ رہنا کہ تم جن قوتوں کو اللہ کا شریک بنا چکے ہو، میں ان سب سے بری اور بیزار ہوں۔ میں ان بتوں کو پتھروں کا ڈھیر سمجھتا ہوں اور ان مظاہرِ فطرت کو اللہ کی کائنات میں اللہ کا معمولی چاکر سمجھتا ہوں جو انسان کی خدمت پر لگا دیئے گئے ہیں۔ تم جن قوتوں سے خوفزدہ ہو میں انھیں اپنی طرح مخلوق سمجھتا ہوں۔ وہ بھی میری طرح اللہ کی قدرتوں کے سامنے بےبس اور اس کے سامنے جواب دہ ہیں اور اگر تمہیں اپنے معبودوں پر ایسا ہی یقین ہے کہ یہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو اپنے ان معبودوں کی مدد سے میرے خلاف جو تدبیر بھی کرسکتے ہو، جو منصوبہ بنا سکتے ہو، جو دائو گھات کرسکتے ہو سب کرکے دیکھ لو۔ میں تم سے کسی مہلت کا طلبگار نہیں ہوں، مجھے ایک لمحہ مہلت نہ دو ۔ تمہیں خود اندازہ ہوجائے گا کہ تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو۔ باوجود اس کے کہ میں ایک کمزور انسان ہوں، ایک کمزور قبیلے کا فرد ہوں، میرے پاس بظاہر کوئی طاقت نہیں، لیکن ذرا سوچو کہ میں تنہا ہو کر تم سب کو چیلنج کررہا ہوں۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

بیشک میں نے بھروسہ کیا ہے اس اللہ پر جو میرا بھی رب ہے اور تمہارے بھی رب ہے۔ کوئی جاندار بھی ایسا نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے پکڑا ہوا ہے اسے پیشانی کے بالوں سے۔ بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔

اِنِّیْ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیْ وَرَبِّکُمْ ط مَا مِنْ دَآبَّۃٍ اِلاَّ ھُوَ اٰخِذٌ م بِنَا صِیَتِھَا ط اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سورۃ ہود : 56) (بیشک میں نے بھروسہ کیا ہے اس اللہ پر جو میرا بھی رب ہے اور تمہارے بھی رب ہے۔ کوئی جاندار بھی ایسا نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے پکڑا ہوا ہے اسے پیشانی کے بالوں سے۔ بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔ ) مومن کا اصل سہارا میں جس طرح بےخوف ہو کر تمہارے سامنے اللہ کا دین پیش کررہا ہوں اور تمہاری دھمکیوں کے مقابلے میں استقامت کا ثبوت دے رہا ہوں اور نہ میں تمہاری طاقت کو خاطر میں لاتا ہوں اور نہ تمہارے معبودوں کو۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں اس اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ اس نے جب مجھے تمہاری اصلاح کے لیے بھیجا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مجھے بےسہارا چھوڑ دے۔ میں اپنی ذات میں کوئی قوت نہیں رکھتا، لیکن جس ذات کی مجھے پشت پناہی حاصل ہے اس کی قوتیں بےپناہ ہیں۔ کوئی جانور اور کوئی زندہ شخص دنیا میں ایسا نہیں جسے اللہ نے اس کی پیشانی کے بالوں سے نہ پکڑ رکھا ہو۔ یعنی وہ اس کے سامنے بالکل بےبس اور بےکس نہ ہو۔ دنیا کے تمام چھوٹے بڑے تمام غریب و امیر اور تمام حاکم و محکوم اس کے سامنے یکساں طور پر بےبس ہیں۔ تم اگر سارے مل کر بھی میرا کچھ بگاڑنا چاہو اور وہ نہ چاہے تو وہ تمہیں پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر سیدھا کرسکتا ہے۔ یعنی تمہاری تمام قوتوں کو بےاثر کرسکتا ہے اور تمہاری تمام تدبیروں کو ناکام کرسکتا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھو کہ میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔ اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس طرح تمہارے طاقتوروں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر کمزوروں کو جھکا رکھا ہے اور تمہارے تخت و تاج کے مالکوں نے آزاد انسانوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور طاقت اور دولت کے زور سے اللہ کی زمین پر ظلم کا کاروبار چل رہا ہے، یہ سب کچھ تمہارے بگاڑ کا نتیجہ ہے اور غلط نظریات کا شاخسانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں بےحد و بیشمار ہیں۔ اس کی گرفت بےامان ہے، لیکن اس کی طاقت اس کے عدل کی پاسدار ہے۔ اس کی گرفت صرف مجرمین کے لیے ہے۔ اس کا ہر فیصلہ صحیح نتائج کا آئینہ دار ہے جو اس کے حصار میں آجاتا ہے اور اس سے اپنا تعلق جوڑ لیتا ہے وہ ہر ظلم سے بچ جاتا ہے۔ عدل کا سایہ ہمیشہ اس کے سر پر جلوہ فگن رہتا ہے۔ اس کے فیصلوں کی جہت ایک ایسا صراط مستقیم ہے جس میں کوئی موڑ نہیں، کوئی الجھن نہیں۔ ہر عمل صحیح نتیجہ سے پیوست ہوتا ہے اور اس کے راستے پر چلنے والا جزاء و سزا کے صحیح ترتب سے سے نوازا جاتا ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک خواہش مضمر ہے کہ میں کسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکوں۔ میرے تمام اعمال اس کے یہاں قبولیت کا مقام پاسکیں۔ میری منزل اسی کا قرب و اتصال ہو۔ لیکن اس خواہش کے حصول کے لیے انسانوں نے ہمیشہ دھوکے کھائے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو بادشاہوں پر قیاس کیا ہے انھیں یہ بدگمانی ہوئی ہے کہ جس طرح بادشاہوں تک کسی شخص کی رسائی بغیر واسطوں کے ممکن نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب بھی براہ راست حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ بعض لوگوں نے تو یہاں تک سمجھا کہ وہ ذات اتنی عظیم اور اتنی بلند ہے کہ انسان کی رسائی وہاں تک ممکن ہی نہیں۔ اس لیے اس کے قرب اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لیے صرف یہی کافی ہے کہ درمیان کے واسطوں کو خوش رکھا جائے۔ انھیں کی خوشنودی کے لیے قربانیوں کا درجہ بہ درجہ سلسلہ وجود میں آیا۔ ان لوگوں کا گمان یہ ہے کہ ان درمیانی واسطوں کے خوش ہونے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں۔ مشرکینِ مکہ بھی یہی کہتے تھے کہ ہم اپنے بتوں یا دیوتائوں کی اس لیے پوجا کرتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : کہ مجھے اپنے رب تک رسائی اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ تم نے جس طرح ان واسطوں میں پڑ کر اپنی منزل کھوٹی کی ہے اور مختلف پگڈنڈیوں میں سرگرداں پھر رہے ہو، میں ! فضلہ تعالیٰ اس گمراہی اور سرگشتگی سے دور ہوں۔ میں صدق دل اور اخلاص سے اگر اس کی طرف متوجہ ہوجاؤں اور اپنی عقل اور اپنی فطرت کو اس کے راستے کا مسافر بنا لوں تو مجھے اپنے رب تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں کیونکہ وہ بالکل سیدھی راہ پر میرے سامنے ہے۔ وہ میری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ میں جب پکارتا ہوں تو وہ سنتا اور جواب دیتا ہے۔ جب کوئی مجھے سہارا دینے والا نہیں ہوتا تو وہی سہارا دیتا ہے۔ میں تمہیں اسی رب کائنات کی طرف دعوت دیتا ہوں، اسی کے راستے پر تمہیں چلانا چاہتا ہوں، اسی کی خوشنودی کو تمہارے لیے آسان کررہا ہوں اور تم نہ جانے کہاں سرگرداں پھر رہے ہو۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پس اگر تم روگردانی کرو تو میں نے تو پہنچا دیا ہے تمہیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور جانشین بنا دے گا میرا رب تمہاری جگہ کسی اور قوم کو اور تم اس کا کوئی نقصان نہ کرسکو گے۔ بیشک میرا رب ہر چیز کا نگہبان ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہِٓ اِلَیْکُمْ ط وَیَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ج وَلاَ تَضُرُّوْنَہٗ شَیْئًاء ط اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ حَفِیْظٌ۔ (سورۃ ہود : 57) (پس اگر تم روگردانی کرو تو میں نے تو پہنچا دیا ہے تمہیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور جانشین بنا دے گا میرا رب تمہاری جگہ کسی اور قوم کو اور تم اس کا کوئی نقصان نہ کرسکو گے۔ بیشک میرا رب ہر چیز کا نگہبان ہے۔ ) حضرت ہود (علیہ السلام) کی آخری تنبیہہ اس رکوع کی سابقہ آیات کو ایک ترتیب سے پڑھئے تو آپ خود محسوس کریں گے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنے اصولی مؤقف پر ہر طرح کے دلائل بھی دیئے اور ان کی غیرمعقول باتوں کا جواب بھی دیا۔ انھوں نے نفسیاتی حربے استعمال کرتے ہوئے آپ کو ہراساں کرنا چاہاتو آپ نے اپنے مضبوط عقیدے اور غیرت کے حوالے سے انھیں مبہوت کرکے رکھ دیا۔ اب کہنے اور دعوت دینے کی حد تک کوئی بات باقی نہیں رہی، لیکن ان کا رویہ دیکھتے ہوئے آپ نے انھیں آخری وارننگ دی کہ اگر تم لاجواب ہونے کے باوجود بھی اپنا رویہ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہو اور اپنے اعراض کی روش پر اڑے رہنے کا فیصلہ کرچکے ہو تو پھر میں تم سے صاف صاف کہتا ہوں کہ میں اپنا فرض ادا کرچکا ہوں، مجھے جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا میں نے اس کے ابلاغ کا حق ادا کردیا ہے، اب نتائج کی ذمہ داری سراسر تمہارے سر ہے۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ کے قانون کے مطابق تم پر عذاب آئے گا اور تمہاری جڑ کاٹ دی جائے گی۔ ہر دور کے برخودغلط لوگ اس طرح کی خوش فہمیوں میں ڈوبے رہتے ہیں کہ عذاب اور تباہی کی دھمکیاں محض بچگانہ باتیں ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک رہتی بستی قوم اجاڑ دی جائے اور ایک علاقہ بےآباد کردیا جائے۔ ایسا ہونے لگے تو اس زمین پر رہنے والا کوئی نہ ملے۔ قدرت کبھی بھی تباہی کے عمل کو بےہنگم نہیں چھوڑتی۔ یہ آباد اور سیراب خطہ ہمیشہ سرسبز و شاداب رہے گا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی آبادی تمہارے دم قدم سے نہیں۔ اس گلشن ہستی کی آبادی کے لیے قدرت تمہاری محتاج نہیں۔ جس طرح تمہیں آباد کیا گیا تھا اسی طرح تمہاری تباہی کے بعد ایک نئی قوم یہاں آباد کردی جائے گی، لیکن تمہارے جانشین تم جیسے نہیں ہوں گے۔ وہ یہاں حسن عمل کے پھول کھلائیں گے۔ اپنی محنت و کاوش سے علم و حکمت کے جشمے جاری کردیں گے۔ ان کا وجود اس دھرتی کے لیے مسعود ثابت ہوگا، لیکن تم اپنی تباہی پر اللہ تعالیٰ کا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے۔ آنے والی نسلیں تم سے عبرت حاصل کریں گی اور نئے آباد ہونے والے اپنی محنتوں کا پھل کھاٹیں گے۔ میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ تمہیں تمہاری بداعمالیوں کے سبب تباہ کیا جائے گا تو تمہارے جا نشینوں کو ان کے حسن عمل کی وجہ سے نوازا جائے گا۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے نجات دے دی ہود کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی رحمت کے سبب سے۔ اور ہم نے انھیں سخت عذاب سے نجات دے دی۔

وَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا ھُوْدًاوَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا ج وَنَجَّیْنٰھُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ ۔ (سورۃ ہود : 58) (اور جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے نجات دے دی ہود کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی رحمت کے سبب سے۔ اور ہم نے انھیں سخت عذاب سے نجات دے دی۔ ) اللہ تعالیٰ کا عذاب حضرت ہود (علیہ السلام) کی آخری تنبہہ بھی جب انھیں عقل کے ناخن لینے پر آمادہ نہ کرسکی تو آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق اپنے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا اور باقی پوری قوم کو تباہ کردیا گیا۔ یہ تو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح حضرت ہود اور آپ پر ایمان لانے والوں کو عذاب سے بچایا۔ لیکن اس آیت سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کی شدت اور اس کی وسعت کو دیکھتے ہوئے بچ جانے کا کوئی امکان نہ تھا، لیکن یہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی جس نے انھیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ آیت کے آخری جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب اپنی ہولناکیوں اور تباہیوں میں اپنی مثال آپ تھا کیونکہ جس عذاب کو خود پروردگار عذاب غلیظ قرار دے اس کی شدت کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور ایسے ہولناک عذاب سے جنھیں محفوظ رکھا گیا ہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے تعلق اور ان پر اس کی رحمت کا کیا تصور کیا جاسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں عذاب کی نوعیت کا ذکر نہیں کیا گیا اور اس کی کوئی تفصیل بھی بیان نہیں کی گئی۔ مولانا فراہی ( رح) نے سورة زاریات کی تفسیر میں اس عذاب کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے ہم اسے یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔ (قرآن مجید میں قوم عاد کی ہلاکت کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان پر جو شخص غور کرے گا اس سے یہ حقیقت مخفی نہیں رہ سکتی کہ وہ تند ہوا کے ذریعے سے ہلاک کیے گئے جس کے ساتھ سرما کے وہ بادل بھی تھے جو ہمیشہ رعدوبرق کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں۔ قرآن میں جہاں ان کی تباہی کا ذکر ہوا ہے ہوا کے ساتھ پانی سے خالی بادلوں اور صاعقہ کا بھی ذکر ہے۔ سورة احقاف میں ہے فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ط بَلْ ھُوَمَااسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ ط رِیْحٌ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ تُدَمِّرُکُلُّ شَیْ ئٍ بِاَمْرِرَبِّھَا (پس جب انھوں نے اس کو (عذاب کو) دیکھا ابر کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے، بولے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے تھے، بادتند جس کے اندر ایک دردناک عذاب ہے۔ یہ اکھاڑ پھینکے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے۔ ) ظاہر ہے یہ تمام خصوصیات موسم سرما کی بادتند کی ہیں۔ اس زمانے میں، عرب میں بادشمال صرصر کی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور قحط و خشکی کی ایک عام نحوست اور تباہی ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ سورة قمر میں اس چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِوٍّ ( اور ہم نے ان پر باد صرصر چلا دی قائم رہنے والی نحوست کے زمانے میں) اسی طرح حٰم ٓ السجدہ میں ہے فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ ٓ اَیَّامٍ نَحِسَاتْ (پس ہم نے ان پر باد صر صرچلادی نحوست کے زمانے میں) باد صر صر کے یہ طوفان، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، عرب میں جاڑوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور یہی زمانہ ان کے ہاں نحوست اور فاقہ کا سمجھا جاتا ہے۔ ) ہمارے قدیم مفسرین بھی بعض روایات کی مدد سے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ قوم عاد پر بادتند کی صورت میں عذاب آیا تھا اور اس کی تندی اور تیزی کا عالم یہ تھا کہ کوئی درخت اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، عمارتیں ڈھے گئیں، زندہ انسانوں اور حیوانوں کو ہوا اس طرح اچھالتی تھی کہ وہ فضائے آسمانی میں پہنچ کر چیختے ہوئے زمین پر گرتے تھے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے تھے۔ اس طرح سے ایک ایسی ہولناک تباہی مچی جس کو دیکھ کر بھی پتہ پانی ہوتا تھا۔
Ayahs 11:59–60

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ ہے قوم عادجنھوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر دشمن حق کے حکم کی پیروی کی۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور ان کے پیچھے لگا دی گئی اس دنیا میں لعنت، اور قیامت کے دن بھی۔ سنو ! عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ سنو ! ہلاکت و بربادی ہے عاد کے لیے جو ہود کی قوم تھی۔

وَتِلْکَ عَادٌ قف لا جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَعَصَوْا رُسُلَہٗ وَاتَّبَعُوْ ٓا اَمْرَکُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط اَلَآ اِنَّ عَادًا کَفَرُوا رَبَّھُمْ ط اَلاَ بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ ھُوْدٍ ۔ (سورۃ ہود : 59۔ 60) (اور یہ ہے قوم عادجنھوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر دشمن حق کے حکم کی پیروی کی۔ اور ان کے پیچھے لگا دی گئی اس دنیا میں لعنت، اور قیامت کے دن بھی۔ سنو ! عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ سنو ! ہلاکت و بربادی ہے عاد کے لیے جو ہود کی قوم تھی۔ ) قومِ عاد کے بڑے بڑے جرائم قومِ عاد کے انجامِ بد کا ذکر فرمانے کے بعد مشرکینِ مکہ کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ قوم عاد جو تمہاری ہی طرح ایک مضبوط قوم تھی ان کا یہ حسرت ناک انجام اس لیے ہوا کہ ان کی داغدار زندگی میں چند جرائم ان کی زندگی کا عنوان بن کر رہ گئے تھے۔ ان میں پہلا جرم یہ تھا کہ انھوں نے ہر معاملے میں اپنے رب کی آیات یعنی اس کے احکام کا انکار کیا۔ ” جحد “ اس بات کے انکار کو کہتے ہیں جس کا دل میں اقرار موجود ہو۔ دل مانتا ہو کہ پیغمبر جس بات کی دعوت دے رہا ہے وہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، لیکن اپنے مفادات، غلط ترجیحات، اندھے تعصبات اور نفسانی خواہشات کے ساتھ وابستگی اور وفاداری اللہ کے دین کے راستے میں حائل ہوجائے۔ قوم ہود کا یہی حال تھا۔ وہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کی تاثیر کے قائل تھے۔ ان کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ان کی بےعیب زندگی دلوں میں اتر جانے والی تھی۔ ان تمام باتوں کے باوجود وہ کسی طور بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہ تھے۔ زندگی کی ناکامیوں کو انھوں نے قبول کیا لیکن حق سے عناد کی وجہ سے وہ کامرانیوں کا راستہ اختیار نہ کرسکے۔ جب کسی قوم میں عیش پرستی اور حب دنیا جڑ پکڑ لیتی ہے تو پھر اس کے دل و دماغ میں فاصلے حائل ہوجاتے ہیں۔ ان کے قلبی اعتقادات کچھ اور ہوتے ہیں اور دماغی فیصلے کسی اور سمت میں جاتے ہیں۔ عیش پرستی کے باعث ان میں جہد و عمل کی خواہش کمزور پڑجاتی ہے۔ وہ زندگی کے حقائق سے گریز کرتے ہیں اور خوابوں کے سہارے زندگی گزارتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ دھرتی کا بوجھ ہوتے ہیں۔ ان کا دوسرا جرم یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ قرآن کریم میں کہیں کوئی ایسا اشارہ نہیں ملتا جس سے یہ معلوم ہو کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کے ساتھ کوئی اور پیغمبر بھی مبعوث ہوئے تھے۔ اس کے باوجود رسل جو رسول کی جمع ہے کا استعمال معلوم ہوتا ہے ایک خاص حقیقت کی طرف اشارے کے لیے ہوا ہے۔ وہ یہ کہ رسول تو قوم عاد کی طرف ایک ہی آیا تھا لیکن رسل کا لفظ لا کر یہ بتلانا مقصود ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ان کے بنیادی اعتقادات یکساں ہیں۔ ان کی ہدایت ایک ہی سرچشمہ ہدایت سے پھوٹی ہے۔ وہ ایک ہی ذات کے نمائندہ ہو کر آتے۔ اس لیے کسی ایک رسول کا انکار درحقیقت تمام رسولوں کا انکار ہے۔ قوم عاد نے ایک رسول کا انکار ہی نہیں بلکہ تمام رسولوں کا انکار کیا کیونکہ حضرت ہود (علیہ السلام) تمام رسولوں کے نمائندہ تھے اور ان کی صفات کی ایک جامع شخصیت تھے۔ انھوں نے اس طرح دلسوزی اور جانسپاری سے اپنی قوم تک اللہ کا پیغام پہنچایا کہ اگر ایک سے زیادہ رسول بھی ہوتے تو شاید اس سے زیادہ جانفشانی کا عمل وجود میں نہ آتا لیکن قوم نے ہر قدم پر ان کی نافرمانی کی۔ ان کے پاکیزہ اطوار کو جھٹلایا، ان کی سچائیوں کا مذاق اڑایا اور اللہ کی وہ تمام آیات جو آپ کے عمل میں آکر دلیل وبرہان کی شکل اختیار کرگئی تھیں، ان کی پیروی کرنے سے انکار کردیا۔ ان دو جرائم میں معلوم ہوتا ہے کہ پوری قوم شریک تھی۔ ان کا عام آدمی بھی اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان تھا اور اس کے خواص بھی اپنے علم و دانش کے باوجود اللہ کی آیات اور اس کے احکام کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے دل جس بات کو قبول کرتے تھے ان کی زبانیں ان کے خلاف زہر اگلتی تھیں اور ان کے دماغ ان کے خلاف منصوبہ بندی کرتے تھے۔ اس طرح سے وہ ایک طاغوت کی شکل اختیار کرچکے تھے، لیکن جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے ان کی اصل کمزوری اور گمراہی جس نے ان کے کردار کی خصوصیات کو بالکل تباہ کرکے رکھ دیا تھا وہ یہ تھی کہ وہ نہ تو کسی حق کی پیروی کرنے کے لیے تیار تھے نہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان کے لیے اپیل رکھتی تھیں، نہ اللہ کے رسول کی شخصیت ان کے لیے کسی کشش کا باعث تھی۔ وہ اگر اتباع کرتے تھے تو صرف اس شخص یا اس طبقے کی جسے جبار اور عنید کہا گیا ہے۔ یعنی ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے، جس کے پاس قوت ہے جو طاقت کے زور سے اپنی بات منوا سکتا ہے، جو لوگوں کے ضمیر خرید سکتا ہے، عہدہ و منصب کی چابیاں جس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ وہ جبار ہے جس کی اطاعت اور اتباع کرنے کے لیے وہ ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ ایسا جبار ناممکن ہے کہ کسی حق کا اتباع کرے۔ اس لیے اس کی صفت کے طور پر عنید کا لفظ لایا گیا ہے کہ جو شخص صرف اپنی ذات کی پوجا کرواتا ہے اور اپنے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کو قانون کا درجہ دیتا ہے اس سے بڑھ کر دشمن حق اور کون ہوسکتا ہے۔ چناچہ قوم عاد کا وہ طبقہ جسے عوام کہا جاتا ہے اور وہ طبقہ جو ذاتی مفادات اور خواہشات کے حصول کے لیے ارباب اقتدار کا طواف کرتا ہے، وہ ایسے ہی جابر اور دشمن حق کی پیروی کرتا ہے تاکہ اس کے مفادات محفوظ رہیں اور اس کے جبر اور ظلم کے سائے میں ان کی اپنی دنیا آباد رہے۔ وہ ہر جائز و ناجائز کے حصول کے لیے اسی قوت کے مرکز کو استعمال کرتے ہیں۔ قوم عاد کے یہی وہ جرائم تھے جنھوں نے انھیں ہر طرح کی خوبی سے تہی دامن کردیا تھا۔ اللہ کا دین ان کے لیے ایک اجنبی چیز تھی کیونکہ ان کی زندگی کے طور اطوار اس سے بالکل میل نہیں کھاتے تھے۔ اللہ کو اپنی زمین پر چونکہ ایسے لوگ گوارہ نہیں، اس لیے جب بھی کوئی قوم اس سطح تر پہنچتی ہے تو اسے فنا کردیا جاتا ہے اور ان کی تباہی کی داستان اس طرح عبرت انگیز بنادی جاتی ہے کہ لعنت ان کے دائیں بائیں چلتی ہے اور قیامت کے دن تولعنت کا مرکز جہنم ان کی جگہ ہوگا۔ آخر میں فرمایا کہ اے مشرکینِ مکہ اور اے دنیا کے لوگو ! کان کھول کے سن لو کہ جس قوم عاد کا انجام تم نے سنا اور جن کے کھنڈرات تمہیں ہمیشہ دعوت نظارہ دیتے ہیں انھوں نے بھی تمہاری طرح اپنے رب کا کفر کیا تھا اور اللہ ان سے اس حد تک ناراض ہے کہ ان کے بارے میں صاف فرمادیا گیا کہ دور ہو قوم عاد، اللہ کی رحمت سے، اور بربادی ہو ان کے لیے جو ہود کی قوم تھی۔ تو اگر کسی میں گوش حق نیوش ہے اور دیدہ عبرت نگاہ ہے تو اس قوم کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے۔