11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsروح القرآن

Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر (وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں) جو صبر کرنے والے اور نیکوکار ہیں انہی کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ۔ (سورۃ ہود : 11) (مگر (وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں) جو صبر کرنے والے اور نیکوکار ہیں انہی کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ ) سابقہ دو آیتوں میں ہم نے ان کم ظرف لوگوں کا تذکرہ پڑھا ہے جو بنیادی انسانی صفات سے عاری ہونے کی وجہ سے انسانی وقار سے بھی تہی دامن ہوگئے ہیں ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو مایوس اور ناشکرے ہوجاتے ہیں کسی مصیبت کو برداشت کرنا اور ہمت سے اس کا سامنا کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے اور اگر انھیں نعمتوں سے نواز دیا جاتا ہے تو وہ دوسرے انسانوں کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں۔ شیخیاں بگھارتے ہیں اور اتراتے پھرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان سے مختلف بھی کچھ لوگ ہیں جو انسانیت کے لیے باعث فخر ہیں یہ وہ لوگ ہیں جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے اور کسی آزمائش میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ سے مایوس اور دل شکستہ ہونے کی بجائے اس کی رحمت کی امید پر صابر و مطمئن رہتے ہیں وہ مشکل سے مشکل حالات میں ذہنی توازن کو بگڑنے نہیں دیتے۔ وقت کی ہر گردش ان کے مزاج کے لیے ایک نیا پیغام لے کے آتی ہے ہر آنے والی مصیبت ان کی صبر کی صفت کو مستحکم کرتی ہے ان کی شخصیت میں استقامت و استقلال کی کیفیت جنم لینے لگتی ہے وہ جانتے ہیں حالات سے گھبرا کر آدمی حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے بلکہ اس کی گرفت میں آجاتے ہیں لیکن جب ناگفتہ بہ حالات میں بھی آدمی اللہ پر بھروسہ اور توکل شکست نہیں ہونے دیتا۔ اور اس کی تگ ودو میں کوئی اضمحلال پیدا نہیں ہوتا اور اگر اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل و رحمت سے نوازتا ہے تو اکڑنے اور مغرور ہونے کی بجائے اس کا شکرگزار ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ شکر گزار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اعمال اس سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جس سے صفت شکر کا اظہار ہوتا ہے۔ جن سے اگر ایک طرف اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ بندہ اللہ کی نعمتوں کو اللہ کی دین اور اس کی امانت سمجھتا ہے تو دوسری طرف وہ غریبوں کی خدمت، رفاہ عامہ کے کام اور اعلائے کلمۃ الحق کی جدوجہد میں اپنا بھرپور فرض سرانجام دیتا ہے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی طرح اللہ سے دعا مانگتا ہے کہ یا اللہ تو نے جو میرے والد گرامی اور مجھ پر احسانات کیے ہیں مجھے توفیق دے کہ میں ان کے شکر کے لیے ایسے اعمال کروں جس سے تو راضی ہو۔ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرح خلافت جیسی نعمت بھی ملے تو اسے اللہ کی طرف سے ایک ذمہ داری سمجھ کر اس طرح ادا کرے کہ دن کا چین رخصت ہوجائے اور راتوں کی نیندیں اچاٹ ہوجائیں۔ رات دن ایک ہی بات کی لگن ہو کہ میرے ملک میں کوئی غریب غریب نہ رہے کوئی جانور بھی بھوکانہ رہے اور میرے گھر میں اس وقت تک خوشحالی نہ آئے جب تک ہر مسلمان گھر خوشحالی سے مالا مال نہ ہوجائے اور جب لوگ میٹھی نیند سوئیں تو وہ اس طرح راتوں کو اٹھ کر روئے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ ایسا لگتا ہے کہ جہنم کی آگ صرف حسن بصری ( رح) اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ( رح) کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اس آیت میں فرمایا گیا کہ ان کے لیے ہی اللہ کے ہاں مغفرت اور اجر عظیم ہے کیونکہ یہی انسانیت کے گل سرسبد ہیں جن پر ہمیشہ انسانیت فخر کرتی رہے گی۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید آپ چھوڑ دینے والے ہیں اس چیز کا کچھ حصہ جو آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ اور تنگ ہو رہا ہے اس سے آپ کا سینہ اس اندیشہ سے کہ وہ کہیں گے کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان ہے۔

فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ م بَعْضَ مَا یُوْحٰیٓ اِلَیْکَ وَضَائِقٌ م بِہٖ صَدْرُکَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ کَنْزٌ اَوْ جَآئَ مَعَہٗ مَلَکٌطاِنَّمَآ اَنْتَ نَذِیْرٌط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ۔ (سورۃ ہود : 12) (شاید آپ چھوڑ دینے والے ہیں اس چیز کا کچھ حصہ جو آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ اور تنگ ہو رہا ہے اس سے آپ کا سینہ اس اندیشہ سے کہ وہ کہیں گے کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ ) اس آیت کریمہ پر سرسری نگاہ ڈالنے سے جو مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں کی مخالفت سے تنگ آ کر ایسا لگتا ہے کہ جس وحی کے پہنچانے کی ذمہ داری آپ پر عائد کی گئی ہے اس میں سے شاید وہ حصہ جسے مخالفین برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اس کے ابلاغ اور تبلیغ سے رک جانے والے ہیں اور ان کے تحقیرآمیز رویے کی وجہ سے آپ نفسیاتی طور پر اتنے متاثر ہو رہے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ کا سینہ تنگ ہوتا اور بھنجتا جا رہا ہے اور آپ پورے انشراحِ قلب سے شاید بات کہنے کی ہمت نہیں پا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مفہوم کو قبول کرنا وہ بھی اللہ کے آخری رسول سے متعلق ایمان سے کوسوں دور ہے۔ اللہ کا رسول انسان ہونے کے ناطے یقینا حالات سے متاثر ہوتا ہے لیکن قدرت جس طرح اس کی تربیت کرتی ہے اور روح القدس جس طرح اس کی تائید کرتے ہیں اور اللہ سے براہ راست تعلق جس طرح اس کو توانائی بخشتا ہے اور اللہ کی قدرت جس طرح اس کی حفاظت کرتی ہے اسے دیکھ کر یہ وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ کبھی حالات سے اس طرح متأثر ہوسکتا ہے۔ ایک مومن بھی اظہار حق میں بےباک ہوتا ہے پیغمبر تو اس راستے کی ایک ایسی روشن مثال ہے جسے دیکھ کر امتیں حوصلہ پاتی ہیں اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے ابتدائی جملوں کا مفہوم وہ نہیں جو سرسری طور پر سمجھا جاتا ہے۔ چند تمہیدی باتیں اس آیت کو سمجھنے کے لیے تمہیدی طور چند باتوں کو سمجھنا ضروری ہے ان کا ادراک کیے بغیر آیت کا مفہوم متعین کرنا ممکن نہیں۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے اپنے مخصوص اسالیب ہیں انھیں میں سے ایک اسلوب یہ ہے کہ قرآن کریم بعض دفعہ اپنے مخاطب سے جو بات کہتا ہے وہ درحقیقت مخاطب سے متعلق نہیں ہوتی بلکہ ان سے متعلق ہوتی ہے جن کی طرف روئے سخن ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں بظاہر تو آنحضرت ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ وحی الہی کے کچھ حصے کے ابلاغ کو آپ شاید چھوڑ دینا چاہتے ہیں کیونکہ حالات اس کا تحمل نہیں کرسکتے اور آپ کا سینہ ان کی بعض تمسخر انگیز اور تحقیر پر مبنی باتوں سے اس قدر تنگ پڑگیا ہے کہ آپ کے لیے ان کے سامنے کلمہء حق کہنا مشکل ہو رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ بات مشرکین مکہ سے کہی جارہی ہے وہ لوگ اپنے کرتوتوں سے چونکہ اپنے آپ کو غضب الٰہی کا مستحق بنا چکے ہیں اس لیے وہ اس قابل نہیں رہے کہ اللہ انھیں خطاب سے عزت بخشے۔ اس لیے جو بات انھیں سنانی ہے وہ بھی ان سے رخ پھیر کر آنحضرت ﷺ سے کہی جارہی ہے لیکن وہ سخن شناس ہونے کے باعث سمجھ سکتے ہیں کہ بات کس سے کہی جارہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ” لعل “ اچھی یا بری امید کے اظہار کے لیے آتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ امید کا تعلق لعل کے اسم کے ساتھ ہی ہو۔ اس آیت میں بھی امید کا دائرہ اسم سے زیادہ وسیع معلوم ہوتا ہے کہنا شاید یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو عرب کی سرزمین پر مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ ایک ایسے شہر کے باسی ہیں جو قریش کا صدر مقام ہے اور یہ قبیلہ اپنے مذہبی اقتدار، اپنی دولت و تجارت اور اپنے سیاسی دبدبے کی وجہ سے سارے عرب پر چھایا ہوا ہے۔ ان کی تائید اور مخالفت دونوں پورے عرب پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت اور دعوت کی مخالفت قریش نے جس قوت کے ساتھ کی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مکہ ہی نہیں بلکہ اس کا گردوپیش بھی دور دور تک آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں اندھا ہو رہا ہے۔ قریش کے لیے پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنا اس لیے مشکل ہو رہا ہے کہ وہ اس میں اپنی مرکزیت اور قیادت کی موت دیکھ رہے تھے۔ وہ جس طرح کی زندگی گزارنے کے عادی ہوچکے تھے اس کو یکسر ترک کردینا ان کے لیے ممکن نہ تھا اور اللہ کا نبی انھیں بار بار اس بات کی وارننگ دے رہا تھا کہ اگر تم نے اپنے رویے میں کوئی صالح تبدیلی پیدا نہ کی تو اللہ کا عذاب تمہارے سر پر تلا کھڑا ہے وہ ان کے اعتقادات، ان کے طور اطوار اور ان کے تہذیب و تمدن میں سے ایک ایک بات پر تنقید کر کے یہ بتارہا تھا کہ تمہاری بنیادیں بیٹھ چکی ہیں، تمہارا تمدن بری طرح سڑ چکا ہے اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو اس مذہب حق اور اس نظام صالح کو قبول کرو جسے میں خدا کی طرف سے لے کے آیا ہوں یہ تنقید جیسے جیسے بڑھتی جارہی تھی اور دعوت میں تیزی آتی جارہی تھی ویسے ویسے قریش کے اعراض میں شدت اور مخالفت میں جارحیت پیدا ہوتی جار ہی تھی اور وہ فیصلہ کر رہے تھے کہ اس دعوت کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا جائے چناچہ ان حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مشرکین مکہ اپنی مخالفت کو دیکھتے ہوئے اور ہر دوسرا شخص حالات کے تیوروں کو دیکھ یہ اندازہ کر رہا تھا کہ اب اللہ کے نبی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دعوت الی اللہ کی ان باتوں کو سرِ عام کہہ سکے جنھیں سننا قریش کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے چناچہ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ بعض تفسیری روایات میں کہا گیا ہے کہ بعض کفار نے آپ سے کہا کہ یہ قرآن جو آپ ہمیں پڑھ کر سناتے ہیں اس میں تو ہمارے خداؤں کو بہت برا بھلا کہا گیا ہے اس لیے ہم اس قرآن کو ماننا تو دور کی بات ہے سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ہاں اگر آپ ایسا قرآن لے آئیں جس میں ہمارے خداؤں (بتوں) سے تعرض نہ کیا گیا ہو تو ہم آپ پر ایمان لاسکتے ہیں۔ اس مطالبے کے بعد ان کو یہ امید ہونے لگی کہ شاید نبی کریم ﷺ وحی الٰہی کی بعض باتوں کو کہنے میں تأمل کریں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جس رکنے کی بات کی گئی ہے اس کا ارادہ نبی کریم ﷺ نے نہیں فرمایا تھا البتہ مخالفین اپنی مخالفت کی شدت کو دیکھ کر اس بات کی امید کر رہے تھے اسی طرح حالات کے تیوروں کو پہچاننے والے محسوس کر رہے تھے کہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی دعوت میں تبدیلی پیدا کریں۔ جہاں تک دل کے تنگ اور طبیعت کے بھجنے کا تعلق ہے اس کا منشاء بھی آنحضرت ﷺ کا قلب مبارک نہیں بلکہ مخالفین کی ہر زہ سرائی تھی وہ جس طرح آپ کی غربت اور فقر کا مذاق اڑاتے تھے اور آپ پر ایمان لانے والوں کی توہین کرتے تھے اور بار باریہ بات کہتے کہ کسی معمولی حاکم کا نمائندہ بھی ایسا بےسروسامان نہیں ہوتا جیسے تم ہو۔ تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تم احکم الحاکمین کے رسول ہو اس نے تمہیں انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور حال یہ ہے کہ تم نان شبینہ تک کے محتاج ہو۔ تمہاری حفاظت کے لیے تو فرشتے تمہارے ساتھ رہنے چاہیں کہ جو کوئی تمہاری شان میں گستاخی کرے تو وہ اسے اسی وقت سزا دیں اور لوگوں کو بتائیں کہ یہ شخص اللہ کا رسول ہے اگر تم نے ایمان لانے میں تأمل کیا تو تم پر اللہ کا غضب ٹوٹ سکتا ہے۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ فرشتہ ہونا تو دور کی بات ہے کوئی معمولی محافظ بھی تمہارے ساتھ نہیں۔ لوگ تمہارے راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں، سر مبارک پر راکھ پھینکتے ہیں بڑھ بڑھ کے گستاخیاں کی جاتی ہیں لیکن کوئی روکنے کے لیے آسمان سے نہیں اترتا تو کیا رسول ایسے ہوتے ہیں یہ باتیں کہنے والے اور سننے والے یہ سمجھتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی طبیعت پر نجانے ان باتوں سے کتنے زخم لگتے ہوں گے۔ آپ نجانے کس طرح ان چرکوں کو برداشت کرتے ہوں گے اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ آپ جس جرأت وجسارت کے ساتھ اپنی دعوت پیش کرتے تھے اس میں کمی آجائے گی اللہ نے اپنے رسول کو تسلی دیتے ہوئے اور بالواسطہ کفار کو تنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ کو اللہ نے نذیر بنا کے بھیجا ہے۔ دنیا میں اس سے پہلے بھی اللہ کی طرف سے نذیر آتے رہے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ اہل دنیا نے کبھی ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا انھوں نے خون جگر پی پی کر نہ صرف لوگوں کو سمجھایا بلکہ آنے والے خطرات سے انھیں آگاہ کیا انھیں اللہ کی ناراضگی سے ڈرایا ان کے بوسیدہ تمدن کی ناکامیوں سے انھیں خبردار کیا انھیں ان کے انجام کا آئینہ دکھاتے ہوئے ہوشیار کیا کہ اگر تم نے اپنا نظام نہ بدلا اور بنیادی اعتقادات تبدیل نہ کیے تو خود تمہارے اپنے اختلافات تمہارے لیے تباہی کا باعث ہوسکتے ہیں لیکن ان کی امتوں نے بجائے ان کی قدر کرنے اور ان پر ایمان لانے کے انھیں قتل تک کرنے سے گریز نہیں کیا لیکن انھوں نے کبھی بھی اللہ کی دعوت اور وحی الٰہی کے پیغام میں کمی بیشی کرنے کا تصور بھی نہ کیا۔ آپ اگر مخالفت کا شکار ہو رہے ہیں تو یہ اس راستے کی سنت ہے اور یہ اس دنیا کی ریت ہے ٹھیک کہا کسی نے ؎ زمانہ یوں ہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے اور جہاں تک تعلق ہے مخالفین کے اندازوں اور گمانوں کا کہ شاید اللہ کا نبی ﷺ ان کی مخالفتوں سے تنگ آ کر اور ان کے تمسخر سے زچ ہو کر اپنی بات کہنے میں تأمل کرے انھیں شاید اندازہ نہیں کہ اہل دنیا عیش و عشرت میں پل کر فوجوں کے جھرمٹ میں رہ کر اور تخت پر متمکن ہو کر اس قدر جرأت اور بےخوفی سے بات نہیں کرتے جس طرح اللہ کا نبی کرتا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کے لہجے میں مسکینی اور عاجزی نہیں ہوتی وہ اللہ کی طرف بلاتا ہے تو اس کے لیے التماس نہیں کرتا بلکہ وہ بےنوا ہو کر بھی بادشاہوں کی سطوتوں کو اچھالتا ہے۔ وہ بادشاہوں کے دربار میں بھی بظاہر بےسروسامان اور قوت و حشمت سے تہی دامن ہوتا ہے لیکن اس کے لہجے میں وہ اعتماد اور تمکنت ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کا فرستادہ ہے وہ بظاہر تنہا ہوتا ہے لیکن اللہ کے حصار میں ہوتا ہے۔ وہ بظاہر بےسہارا ہوتا ہے لیکن عناصرِ قدرت اس کے ہم رکاب ہوتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) انتہائی بےسروسامان ہو کر بھی فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے اور فرعون ان سے مرعوب ہو ہوجاتا تھا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) درویشی اور مسکینی کی ایک نادر مثال تھے لیکن آپ نے حکمرانوں کے گریبانوں کو کھینچا بڑے سے بڑے حکمران کی برائیوں پر سرِ دربار نکیر فرمائی۔ اسی راستے میں اپنا سر کٹوایا لیکن آپ کے لہجے میں کبھی کمزوری نہ آئی۔ نبی کریم ﷺ چونکہ خاتم النبیین ہیں آپ کی بےخوفی اور جلالت شان کا تو پورا مکہ معترف تھا۔ اشرارِ قریش صحن حرم میں منڈلی جمائے بیٹھے ہوتے آپ ان کے سامنے نماز ادا فرماتے اور بارہا ان کے سامنے قرآن مجید پڑھتے اور انھیں نصیحت فرماتے۔ اور اگر کبھی کسی سرکش نے آپ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو اللہ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ ابو جہل نے ایک دن قسم کھالی کہ اب اگر محمد ﷺ نے میرے سامنے اگر اللہ کو سجدہ کیا تو میں اس کا سر کچل ڈالوں گا۔ دوسرے ہی روز آپ اپنے معمول کے مطابق آئے اور آپ نے اس کے سامنے نماز پڑھی ابو جہل یہ دیکھ کر بھڑک اٹھا چناچہ جیسے ہی آپ سجدے میں گئے اس نے آگے بڑھ کر آپ پر حملہ کردیا لیکن جیسے ہی آپ کے قریب پہنچا فوراً ہاتھ مارتا اور چیختا ہوا پیچھے ہٹا لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے اس نے کہا میں جیسے ہی محمد ﷺ کے پاس پہنچا تو میں نے آگ کے شعلے اور پَر اور برچھے دیکھے جو میری طرف بڑھ رہے تھے پھر ایک اونٹ کو میں نے دیکھا جو منہ کھولے مجھے نگلنے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ شخص مجھ پر حملہ کرتا تو فرشتے اس کے پرزے اڑا دیتے۔ پیغمبر کا طنطنہ اور لہجے کی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی وہ مخالفتوں کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ نے اسے نذیر کے منصب پر فائز کیا ہے۔ نذیر کا کام ہے انذار کرنا، ڈرانا، ہوشیار کرنا، وارننگ دینا۔ یہ کام ظاہر ہے کہ مخالفین کے سامنے خوف زدہ لہجے میں نہیں کیے جاسکتے۔ اس امت کے اولیاء، صلحاء اور مصلحین پر آنحضرت ﷺ کا فیضان ہے کہ ان کا لہجہ کبھی سراسیمہ نہیں ہوتا۔ جہانگیر کے دربار میں بھی ان کی گردن نہیں جھکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں ملت کے سرمائے کی حفاظت کے لیے اٹھاتا ہے۔ اقبال نے مجدد صاحب کے بارے میں اظہار عقیدت کرتے ہوئے ٹھیک کہا ؎ وہ ہند میں سرمایہء ملت کا نگہباں اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے جس کے نَفَسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار جن علماء کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ حق کی حفاظت کی بجائے باطل کے ساتھ سازگاری رکھتے ہیں اور ہر کرسی نشین کے سامنے ان کا سر جھکنے لگتا اور لہجے میں لکنت آجاتی ہے اور اس کا علم و دانش باطل کی ترجمانی کرنا زیادہ پسند کرتا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس صاحب علم کا تعلق علماء حق سے نہیں بلکہ اکبر کے نو رتنوں سے ہے۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ ” اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے “ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ نے دعوت الی اللہ کے کام میں جو جانفشانیاں دکھائی ہیں وہ بھی اللہ کی نگاہ میں ہیں اور جو کچھ مخالفین نے کیا ہے اور کر رہے ہیں اللہ اس سے بھی واقف ہے۔ آپ نے اپنی ہمت سے بڑھ کر اس مقصد کے لیے جان کھپائی ہے اس لیے آپ اللہ کے یہاں سرخرو ہیں۔ رہی یہ بات کہ لوگ ایمان لانے میں کیوں پس وپیش کر رہے ہیں تو آپ کو اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے لوگوں کو ایمان دینا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ کی مخالفت روزبروز زور پکڑتی جارہی ہے بلکہ اب تو یہ مخالفت جارحیت کی شکل اختیار کر رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں نے حق کے مقابلے میں اپنے سینے بند کرلیے ہیں۔ اور دعوت ایک بندگلی میں پہنچ گئی ہے۔ پروردگار فرماتا ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں آپ کو ان سے اثر قبول نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ سب کا کارساز ہے وہ آپ کے لیے راستے کھولے گا اور آپ کی حفاظت فرمائے گا۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ کہہ دیجیے کہ تم لے آؤ اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں اور بلا لوجن کو تم بلا سکتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ ط قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 13) (کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ کہہ دیجیے کہ تم لے آؤ اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں اور بلا لوجن کو تم بلا سکتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔ ) مخالفین قرآن کو متبادل کلام پیش کرنے کا چیلنج ” ام “ حرف استفہام ہے۔ یہ جس طرح کسی بات کو پوچھنے کے لیے آتا ہے اسی طرح اظہارِ تعجب کے لیے بھی آتا ہے یہاں اسی مقصد کے لیے آیا ہے۔ پروردگار تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو نبی کریم ﷺ نے خود لکھ لیا ہے (گھڑلیا ہے) کوئی اجنبی شخص یہ بات کہتا تو چنداں تعجب نہ ہوتا کوئی ایسا شخص یہ الزام لگاتا جو عربی زبان سے واقف نہ ہوتا تب بھی تعجب کی بات نہ ہوتی کیونکہ اجنبی آدمی آنحضرت ﷺ سے بےگانہ ہونے کی وجہ سے آپ کے حالات سے ناواقفیت کی بنا پر جو بھی کہتا اسے سنا جاسکتا تھا اسی طرح عربی سے نابلد آدمی قرآن کریم کو سننے کے بعد اپنی جہالت کے باعث اگر اس طرح کی بات کرتا تو کسی حد تک حق بجانب تھا لیکن مکہ کے رہنے والے عربی کے ادا شناس اور آنحضرت ﷺ کی سیرت و کردار سے واقف آپ کے حالات سے آشناجب یہ بات کہتے ہیں تو صرف تعجب ہی نہیں ہوتا بلکہ کہنے والوں کی بدنیتی کا بھی احساس ہوتا ہے۔ مکہ میں رہنے والے بھی بالعموم ایک دوسرے سے واقف تھے اور نبی کریم ﷺ تو اس لحاظ سے بھی جانے پہچانے تھے کہ آپ عبدالمطلب کے پوتے تھے جو قبیلہ قریش کے سردار رہ چکے تھے پھر آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ چنددنوں کے بیرونی سفر کے سوا ان کے سامنے گزرا تھا۔ آپ کا بچپن، آپ کا لڑکپن، آپ کی جوانی اور آپ کی ڈھلتی ہوئی عمر سے سب اہل مکہ پوری طرح آشنا تھے۔ اور ساتھ ہی اس بات کے گواہ تھے کہ آپ کا بچپن دوسرے بچوں سے زیادہ پیارا آپ کا لڑکپن دوسرے لڑکوں سے زیادہ دل آویز اور آپ کی جوانی سب جوانوں سے زیادہ پاکیزہ اور آپ کی ڈھلتی ہوئی عمر دانش اور تجربے کی کسوٹی تھی۔ لیکن ان تمام ادوار میں کوئی دور بھی ایسا نہیں جسے آپ نے مکہ سے باہر گزارا ہو، آپ کی معاشرت مکہ کی معاشرت تھی، آپ کی زبان اہل مکہ کی زبان تھی، آپ کا علم اہل مکہ کی طرح سینہ بسینہ پھیلنے والی معلومات تک محدود تھا آپ اگرچہ سیرت و کردار میں ان سے بالکل مختلف اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک تھے لیکن جہاں تک علم و آگہی اور زبان دانی کا تعلق ہے آپ ان سے بالکل مختلف نہیں تھے لیکن پھر یہ کیا ہوا کہ چالیس سال پورے ہوتے ہی غار حرا کی تنہائی میں آپ پر اللہ کا پیغام اترا اور پھر دھیرے دھیرے نازل ہوتا چلا گیا اس کی ایک ایک سورت آپ نے لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنانا شروع کی۔ جیسے جیسے قرآن اترتا گیا ویسے ویسے لوگوں کی حیرت بڑھتی گئی کہ اس کی زبان ان کی بولی جانے والی زبان سے بدرجہافائق اس فصاحت و بلاغت ان کے بلغا اور فصحاء کو دنگ کردینے والے اس کا ایک ایک جملہ دل میں ترازو ہوجانے والا، اس میں پیش کی جانے والی تعلیم انسانیت کا اعلیٰ ترین سرمایہ، اس کی دل آویزی اور چاشنی دلوں کو موہ لینے والی جبکہ ان کا ایک ایک فرد جانتا ہے کہ جس پیغمبر کی زبان سے یہ کتاب پڑھ کے سنائی جا رہی ہے اس کی زبان سے چالیس سال کی عمر تک اس طرح کا کبھی ایک جملہ تک نہ سنا گیا، اس میں بیان کی جانے والی علمی باتوں کی کبھی اس پیغمبر کو ہوا تک نہ لگی تھی۔ اس میں جن تاریخی واقعات پر تبصرے کیے گئے ہیں ان کو عرب بھر میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان سب باتوں کے باوجود ان لوگوں نے یہ کیسے کہہ دیا کہ اس قرآن کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ اس لیے میں نے عرض کیا کہ ان کی اس بات سے جس طرح تعجب ہوتا ہے اسی طرح ان کی بدنیتی کا بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ کتاب اللہ کی جانب سے اتری ہے اس کے باوجود اس کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہیں۔ مزید فرمایا کہ چلیے اگر تمہیں اپنی بات پر اصرار ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوئی تو پھر اے پیغمبر ان سے کہے کہ اگر یہ کتاب واقعی میں نے لکھی ہے اور تمہیں اس پر یقین ہے تو تم بھی تو میری طرح عرب ہو تمہارے اندر بڑے بڑے شعراء موجود ہیں، خطباء کی کوئی کمی نہیں، زبان کے تیور شناس ایک سے ایک بڑھ کر موجود ہیں۔ ان سب کو ایک جگہ بٹھاؤ اور انھیں پابند کرو کہ وہ اس کتاب جیسی ہی دس سورتیں گھڑ کرلے آئیں جس طرح تم کہتے ہو کہ محمد نے یہ قرآن گھڑ لیا ہے۔ پھر انہی میں ایک کمیٹی بنادو جو قرآن کریم اور تمہاری گھڑی ہوئی سورتوں میں تقابل کر کے دیکھے۔ قرآن کریم نے یہ چیلنج پہلے بھی مختلف جگہ دیا۔ پہلے انھیں قرآن جیسی ایک کتاب لکھ کر لانے کو کہا گیا پھر انھیں قرآن جیسی دس سورتیں بنانے کا چیلنج دیا گیا پھر آخر میں قرآن جیسی ایک آیت لانے کو کہا گیا لیکن ہر چیلنج کے جواب میں عرب سورماؤں کی طرف سے مکمل خاموشی رہی جبکہ انھوں نے اسلامی دعوت کو روکنے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے۔ مکہ معظمہ میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کی زندگی اجیرن بنادی گئی نہ انھیں قرابت کا لحاظ رہا نہ ہم قوم ہونے کا۔ ہمسائیگی کے رشتے بھی توڑ دیئے گئے کوئی قابل ذکر تعلق بھی انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ روا نہ رکھا حتی کہ ان کا معاشرتی بائیکاٹ کر کے تین سال تک انھیں پتے کھانے اور چمڑے چبانے پر مجبور کردیا گیا جب مسلمان اپنی جان بچا کر مدینہ منورہ آنے میں کامیاب ہوگئے تو انھوں نے اسی دین کو ناکام کرنے کے لیے پے در پے مدینہ پر حملے کیے۔ تقریبا نواسی لڑائیوں میں مسلمانوں کو ہر طرح کی ہزیمت پہنچانے کی کوشش کی۔ اسلام کے خلاف ان کے عزائم کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ خود انھوں نے اس کی مخالفت میں ہر طرح کا دکھ برداشت کیا کتنے لوگ ان کے مارے گئے، کتنے بیٹے ذبح ہوئے، کتنا مال برباد ہوا حتی کہ فتح مکہ کے بعد اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے۔ جن لوگوں نے مخالفت میں اس قدر جان ماری ہو ان سے اگر ممکن ہوتا تو وہ اس چیلنج کا جواب دینے سے کیوں گریز کرتے کیونکہ یہ ان کے لیے سب سے آسان کام تھا وہ عربی زبان کے پوری طرح شن اور تھے، اس کی نوک پلک سے آگاہ تھے اس کے تیور شناس تھے ان میں سے ایک سے ایک بڑا زبان کا ماہر موجود تھا لیکن وہ خوب جانتے تھے کہ پھبتیاں کسنا، الزامات لگانا اور تمسخر اڑانا آسان ہے۔ لیکن قرآن کریم کا جواب لکھنا ناممکن ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اس چیلنج میں ایک اور بات بھی شامل تھی کہ تم نے آج تک جن جن قوتوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے جن میں تمہارے بت بھی ہیں اور جنات بھی۔ فرشتے بھی ہیں اور مختلف دیوتا بھی۔ تمہارا دعوی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ تمہاری مدد کو آتے ہیں تو انھیں آج خصوصیت سے اپنی مدد کے لیے بلاؤ اور ان سے کہو یہ ہمارے اور تمہارے لیے انتہائی نازک موقع ہے اگر ہم اس میں ناکام ہوتے ہیں تو جس طرح ہمارا قومی تفاخر اور ہمارے دین کی صداقت تباہ ہوجاتی ہے اسی طرح تمہاری خدائیاں بھی باقی نہیں رہتیں۔ اگر ہمارے لیے نہیں تو اپنی خدائیاں باقی رکھنے کے لیے ہماری مدد کرو۔ آخر میں فرمایا کہ اگر تم اپنے ان دعوؤں میں سچے ہو کہ یہ قرآن کریم اللہ کی کتاب نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی تصنیف ہے اور اللہ وحدہ لا شریک نہیں بلکہ اس کی خدائی میں اور بھی شریک ہیں جو ہمیشہ ہماری مدد کرتے ہیں تو پھر تمہارے لیے یہ نادر موقع ہے کہ قرآن کریم کے اس چیلنج کو قبول کرو اور اس طرح سے اپنی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کردو۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پس اگر وہ تمہاری بات کو قبول نہ کریں تو پھر خوب جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں ہے تو کیا تم اسلام لاتے ہو۔

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوْآ اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰہِ وَ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَج فَہَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 14) (پس اگر وہ تمہاری بات کو قبول نہ کریں تو پھر خوب جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں ہے تو کیا تم اسلام لاتے ہو۔ ) مخالفینِ قرآن پر اتمامِ حجت اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ مضمون ہی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے لیکن اس میں خطاب مسلمانوں سے نہیں مشرکین سے ہے۔ مشرکین سے براہ راست خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر یہ تمہارے شفعاء وشرکاء ایسے نازک موقع پر بھی تمہاری مدد کے لیے نہیں اٹھتے جبکہ اب تمہارا ایک ہی سہارا ہے کہ جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے وہ تمہاری مدد کے لیے آئیں اور قرآن کریم کے چیلنج کو موثر جواب کے ساتھ ناکام کردیں لیکن اگر ادھر سے خاموشی رہتی ہے اور تمہاری درخواست کا کوئی جواب نہیں آتا تو پھر اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ تمہیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اسے کسی انسان نے نہیں لکھا بلکہ یہ اللہ کے علم کا فیضان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکاجواب لانا کسی مخلوق کے بس کی بات نہیں کیونکہ مخلوق دوسری مخلوق کے علم کا مقابلہ تو کرسکتی ہے لیکن خالق کے علم کا مقابلہ سراسرجسارت اور حماقت کے سوا کچھ نہیں اور دوسری اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اگر تمہارے عقیدے کے مطابق تمہارے شفعاء اور شرکاء کی کوئی حقیقت ہوتی تو آج وہ اس نازک وقت میں تمہارے پشت پناہ ہوتے۔ تمہاری ہر طرح کی مدد کے لیے کھڑے ہوتے وہ کبھی بھی تم پر ناکامی کا داغ نہ لگنے دیتے۔ لیکن ان کی طرف سے جواب نہ ملنا ایک ہی معنیٰ رکھتا ہے کہ ان کا کوئی وجود نہیں یہ سراسر تمہارا وہم ہے تم نے بلاوجہ اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں جبکہ کائنات میں وہ اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لا شریک ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ تمہارے دونوں دعوؤں کی ناکامی کے بعدعقل اور دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ تم قرآن کریم کی صداقت پر ایمان لے آؤ۔ اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کر لواس لیے پوچھا گیا ہے کیا تم اب بھی اسلام قبول کرتے ہو کہ نہیں۔ اس میں تشویق و ترغیب کا پہلو بھی ہے اور زجروملامت کا بھی۔ تمہاری طبیعتوں میں اگر ذرا بھی سلامتی ہے تو آگے بڑھ کر اسلام کی رسی کو پکڑ لو اور اگر تمہیں اب بھی انکار ہے تو پھر سوچ لو کہ غلط بات پر قائم رہنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayahs 11:15–16

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا کرایا سب ضائع ہوجائے گا اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔

مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیْہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِیْہَا وَہُمْ فِیْہَا لاَ یُبْخَسُوْنَ ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلاَّ النَّارُزصلے وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 15، 16) (جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا کرایا سب ضائع ہوجائے گا اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ ) قرآن کریم کی معجزبیانی اور آنحضرت ﷺ کی دلوں میں اتر جانے والی دعوت و نصیحت کے باوجود جب آدمی مشرکین مکہ کی کفر پر استقامت اپنی جہالت پر ہٹ دھرمی آپ کی انتہائی مؤثردعوت کے مقابلے میں ہر زہ سرائی اور طغیانِ جاہلیت کو دیکھتا ہے تو حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ یا اللہ یہ ماجرا کیا ہے۔ پتھر پر بھی پانی کی بوند بوند بھی گرتی رہے تو سوراخ بن جاتا ہے۔ قرآن کریم کی وضاحت کے مطابق بعض پتھر تو اللہ کے خوف سے لڑھک جاتے اور پھٹ جاتے ہیں تو کیا انسانوں کے دلوں کی سنگینی پتھروں سے بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی دلوں اور دماغوں میں قبولیت کا مادہ رکھا ہے اور وہ کبھی نہ کبھی اثر ضرور قبول کرتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی حیرت کا جواب دیا گیا ہے اور اسی عقدہ کی مشکل کشائی کی گئی ہے۔ دنیا سے متعلق اسلامی تصور انسان کا تعلق دو دنیاؤں سے ہے ایک یہ دنیا جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں اور ایک وہ دنیا جو برزخی زندگی گزارنے کے بعد اس دنیا کی تباہی اور پھر بحالی کے بعد وجود میں آئے گی یہ دونوں دنیا ایک ہی خالق کی تخلیق ہیں اور دونوں سے انسان کا واسطہ اختیاری نہیں لازمی ہے اور اگر دونوں کے صحیح تصورات کو قبول کرلیا جائے تو ایک دنیا دوسری دنیا کا پیش خیمہ بن جاتی ہے لیکن اگر اس پہلی دنیا کو اس کی قباحتوں سمیت قبول کرلیا جائے تو پھر اس دنیا میں رہتے ہوئے اور اس دنیا کو قبول کرلینے کے بعد دوسری دنیا کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا دونوں کے درمیان ایسا بعد پیدا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں رہنے والا دوسری دنیا کا تصور کرتے ہوئے بھی گرانی محسوس کرتا ہے۔ مزید برآں یہ بات بھی ہے کہ دونوں کے تصورات کے نتائج بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہی نہیں برعکس بھی ہیں۔ اقبال ( رح) نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ؎ من کی دنیا مَن کی دنیا سوزو مستی جذب و شوق تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودا مکر و فن من کی دنیا ہاتھ آتی ہے تو پھرجاتی نہیں تَن کی دنیا چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن جو شخص حیات دنیا کو اپنی منزل بنا لیتا ہے اور حیات آخرت کو محض خواب و خیال یا ایک فرسودہ کہانی سمجھتا ہے اس کے تصورات میں رفتہ رفتہ ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں ایک وقت آتا ہے کہ نہ صرف اخروی زندگی دم توڑ جاتی ہے بلکہ انسانیت بھی اپنی قدروقیمت کھو دیتی ہے اسے وہ چیزیں اپیل کرتی ہیں اور وہ تصورات اسے قابل قبول معلوم ہوتے ہیں جس سے اس کی حیوانیت کو غذا ملتی ہے۔ وہ ایک حیوان کی طرح ہر وقت اپنے معدے کے طواف میں لگا رہتا ہے۔ کھانا پینا اس کی زندگی بن جاتا ہے بہتر سے بہتر غذا، بہتر سے بہتر مشروبات، بہتر سے بہتر لباس، بہتر سے بہتر سواری اور بہتر سے بہتر منصب اور بہتر سے بہتر رہائش علی ہذا القیاس دنیا کی تمام ضرورتیں، سہولتیں، آسائشیں حتی کہ تعیشات اس کی زندگی بن جاتے ہیں۔ اسے موت کبھی یاد نہیں آتی موت کے بعد کیا ہوگا یہ بات کبھی اس کی سوچ کا حصہ نہیں بنتی جو لوگ مرنے کے بعد کی باتیں کرتے ہیں وہ انھیں دقیانوسی خیال کرتا ہے۔ اس کے لیے انسانی رشتے بھی ایک بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مروت وخیر خواہی، ہمدردی اور اعانت یہ اس کے نزدیک فرسودہ باتیں معلوم ہوتی ہیں اس کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی حقیقت عملیت پسندی ہے۔ عقل انسان کی حقیقی رہنما ہے خواہشات عقل کو راستہ دکھاتی ہیں اخلاقیات پرانے وقتوں کی باتیں ہیں اب انسان انسان کے اتنا قریب آگیا ہے کہ درمیان میں رشتوں کو اور اخلاقی بندھنوں کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ آج کا کام لوگوں کی مشکلات شمار کرنا نھیں کیونکہ اس سے خواہ مخواہ صحت پر اثر پڑتا ہے۔ آج کا کام دولت شمار کرنا ہے یہ وہ تن کی دنیا ہے جس میں سودوسودا اور مکروفن کی مکمل اجازت ہے۔ مشرکین مکہ حیات دنیا کے باسی تھے یہی ان کا ہدف اور یہی ان کی منزل تھی اسی کی کامرانیاں ان کی کامرانیاں تھیں اسی کے دکھ ان کے دکھ تھے۔ وہ اس دنیا کی ایک ایک خصوصیت کو اپنا چکے تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ انھیں دین و ایمان کی باتیں موت اور اس کے بعد کی زندگی کے تصورات پھر زندگی بھر کے اعمال کی جوابدہی اور اس پر جزا وسزا کا ترتب ایسی باتیں تھیں جو نہ ان کے دماغ میں اترتی تھیں نہ حلق سے نیچے جاتی تھیں۔ جس طرح مردار خور جانور کو مردار سے نفرت نہیں سکھائی جاسکتی، درندے کو درندگی کی برائی نہیں سمجھائی جاسکتی، اسی طرح دنیا کو منزل بنا لینے والے کو دنیا کی بےثباتی، ناپائیداری سے آگاہ کرنا آسان نہیں جو شخص دنیا میں سب کچھ حاصل کرلینا اپنا فرض سمجھتا ہے اور اس راستے میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری سمجھتا ہے چاہے وہ رکاوٹیں انسانیت کا سرمایہ کیوں نہ ہوں، غریب کی زندگی بھر کی کمائی کیوں نہ ہوں، قوم کی عزت وافتخار اور غیرت وحمیت کا اثاثہ کیوں نہ ہو ایسے شخص کا راستہ بدلنا اور اسے اخلاقی اطوار کا پابند بنانا ناممکن بات ہے۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ جب بھی کبھی دنیا کی پرستار غالب قوتوں نے مظلوم ومقہور انسانی بستیوں پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اگر وہ قوتیں علم وفن سے ناآشنا ہیں تو انھوں نے انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنانے سے دریغ نہیں کیا اور اگر وہ قوتیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی قوت سے مالا مال ہیں تو انھوں نے لمحوں میں انسانی بستیاں تاراج کی ہیں، چشمِ زدن میں ہزاروں انسان پھونک ڈالے ہیں۔ انسانی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے ملک اجاڑ دیئے ہیں نہ ان کی جارحیت کے سامنے وہ ملیں اور کارخانے ٹھہر سکے ہیں جہاں سے انسانوں کو وسائل رزق میسر آتے تھے اور نہ کشت دہقاں کا وجود باقی رہا ہے۔ مشرکین اپنے حالات کے مطابق اسی دنیا کی کشتی پر سوار تھے ان کے نزدیک آخرت ایک بہلاؤے کی بات تھی۔ عذاب و عقاب کی باتیں ان کے لیے مذاق کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں یہ سمجھنا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں گے اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب مان کر اپنی زندگیوں میں تبدیلی پیدا کریں گے خود فریبی کے سوا کچھ نہیں چناچہ جو سعید روحیں تھیں جنھیں دنیا کی محبت نے بالکل اندھا نہیں کیا تھا وہ رفتہ رفتہ ایمان لے آئیں لیکن جو قبولیت حق کے جذبے سے بالکل محروم ہوچکے تھے وہ رفتہ رفتہ یا تحلیل ہوگئے یا اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ ایک وضاحت قرآن ِ کریم حیات دنیا کے ایسے ہی پرستاروں کا نقشہ کھینچ کر بتاتا ہے کہ یہ لوگ دین کے کام کے تو کبھی نہیں بنتے البتہ ان میں بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جو دنیا میں ڈوب کر بھی بعض رفاہی کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگوں کے کام بھی آتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں ہم ان کی محنتوں کا پورا صلہ انھیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں۔ انھوں نے جن مقاصد کی خاطر کچھ بھلے کام کیے ہوتے ہیں ہم ان مقاصد کو پورا کردیتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے کاموں کی شہرت ہو ہمیں نیکی سے یاد کیا جائے مرنے کے بعد بھی ہمارا نام زندہ رہے ہماری اولادیں ہم پر فخر کرتی رہیں ہم ان کے ان تمام مقاصد کو پورا کردیتے ہیں ان کا نام تاریخ کا حصہ بنادیا جاتا ہے لیکن انھوں نے چونکہ یہ کام اللہ کی رضا کے لیے نہیں کیے اور ان کے کسی کام میں آخرت کا کوئی تصور نہیں رہا بلکہ ہر خواہش اور مقصد کے پیچھے دنیا ہی رہی تو ہم بھی ان کی ہر خواہش دنیا ہی میں پوری کردیتے ہیں اور آخرت میں انھیں مکمل طور سے محروم کردیا جاتا ہے۔ آخرت میں انھیں کسی عمل کا صلہ نہیں ملے گا انھیں نے دنیا میں جو کچھ کیا چونکہ دنیا کے لیے کیا اس لیے دنیا ہی میں اس کا تذکرہ رہ گیا اور آخرت میں ان کا ہر کام ملیا میٹ کردیا گیا ان کی نیت چونکہ ہمیشہ باطل رہی اور کبھی بھی انھوں نے حق کا راستہ نہ دیکھا اس لیے جو کچھ وہ کرتے رہے وہ باطل ہو کر رہ گیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ سنا ہے کہ ابو جدعان نے بہت سے بھلائی کے کام کیے تھے تو کیا اللہ اس کی مغفرت نہیں فرمائے گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ اس لیے کہ اس نے زندگی بھر کبھی نہیں کہا تھا کہ (یا اللہ تو مجھے بخش دے) یعنی اس کا ہر کام دنیا کے لیے تھا اور اللہ کی حاکمیت اور اس کی اصل حیثیت کو اس نے کبھی تسلیم نہیں کیا تھا ورنہ وہ کبھی نہ کبھی اسے ضرور پکارتا۔ ایسی صورتحال میں اگر اس کی مغفرت ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے کارناموں کا اسے وہ صلہ دیا جا رہا ہے جس کا اس نے کبھی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ (معارف القرآن کے محترم مصنف کے خیال میں یہ زیادہ راجح اور واضح بات ہے کہ یہ آیت آیت ان لوگوں سے متعلق ہے جو اپنے اعمال صالحہ کو صرف دنیا کے فوائد دولت، عزّت، صحت وغیرہ کی نیت سے کرتے ہیں خواہ ایسا کرنے والے کافر ہوں جو آخرت کے قائل ہی نہیں، یا مسلمان ہوں جو زبان سے آخرت کے قائل ہیں مگر عمل میں ان کی فکر نہیں رکھتے، بلکہ ساری فکر دنیا ہی کے فوائد سے وابستہ رکھتے ہیں، حضراتِ مفسرین میں سے مجاہد، میمون بن مہران، معاویہ ( رض) نے اسی کو اختیار فرمایا ہے ، رسولِ کریم ﷺ کی مشہور حدیث اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیِّاتِسے بھی اسی معنیٰ کی تائید ہوتی ہے کہ جو شخص اپنے عمل میں جس چیز کی نیت کرتا ہے، اس کو وہی ملتی ہے، جو دنیا کی نیت کرتا ہے اس کو دنیا ملتی ہے، جو آخرت کی نیت کرتا ہے آخرت ملتی ہے، جو دونوں کی نیت کرتا ہے اس کو دونوں ملتی ہیں، تمام اعمال کا مدار نیت پر ہونا ایک ایسا اصول ہے جو ہر ملّت و مذہب میں تسلیم کیا گیا ہے، ( قرطبی) اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز ان لوگوں کو لایا جائے گا جو دنیا میں عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں ان کی عزّت ہو، ان سے کہا جائے گا کہ تم نے نماز پڑھی، صدقہ خیرات کیا، جہاد کیا، قرآن کی تلاوت کی مگر یہ سب اس نیت سے کیا کہ تم نمازی اور سخی اور غازی اور قاری کہلاؤ تو جو تم چاہتے تھے وہ تمہیں مل گیا، دنیا میں تمہیں یہ خطابات مل چکے اب یہاں تمہارے ان اعمال کا کوئی بدلہ نہیں اور سب سے پہلے جن ہم میں ان لوگوں کو ڈالا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرۃ ( رض) یہ حدیث نقل کرکے رو پڑے اور فرمایا کہ قرآن کریم کی آیت مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُہَا سے اس حدیث کی تصدیق ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں بروایت انس ( رض) منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتے، مومن جو نیک کام کرتا ہے اس کو دنیا میں بھی کچھ بدلہ ملتا ہے اور آخرت میں ثواب ملتا ہے، اور کافر (چونکہ آخرت کی فکر ہی نہیں رکھتا اس لیے اس کا حساب دنیا ہی میں بھگتا دیا جاتا ہے، اس کے نیک اعمال کے بدلہ میں دنیا کی دولت، عزّت، صحت، راحت اس کو دیدی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا جس کا معاوضہ وہاں پائے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ مومن اگرچہ دنیا کی فلاح کا بھی خواہش مند ہوتا ہے مگر آخرت کا ارادہ غالب رہتا ہے اس لیے اس کو دنیا میں بقدر ضرورت ہی ملتا ہے اور بڑا معاوضہ آخرت میں پاتا ہے۔ حضرت فاروقِ اعظم ( رض) ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے مکان پر حاضر ہوئے تو سارے گھر میں چند گنی چنی چیزوں کے سوا کچھ نہ دیکھا تو آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت کو بھی دنیا کی وسعت عطا فرماویں، کیونکہ ہم فارس وروم کو دیکھتے ہیں وہ دنیا میں بڑی وسعت اور فراخی میں ہیں حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے، آنحضرت ﷺ تکیہ سے کمر لگائے ہوئے تھے، حضرت عمر ( رض) کے یہ الفاظ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا، اے عمر ! تم اب تک اسی خیال میں پڑے ہو، یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیوں کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیا گیا ہے، (مظہری) جامع ترمذی اور مسند احمد میں بروایتِ انس ( رض) منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی نیت اپنے اعمال میں طلب آخرت کی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کے دل کو غنی کردیتا ہے اور اس کی ضروریات کو پورا فرما دیتے ہیں اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے، اور جس شخص کی نیت طلب دنیا کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ محتاجی اس کے سامنے کردیتے ہیں کہ اس کی حاجت کبھی پوری ہی نہیں ہوتی کیونکہ ہوس دنیا اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ ایک حاجت پوری ہونے سے پہلے دوسری حاجت سامنے آجاتی ہے اور بیشمار فکریں اس کو لگ جاتی ہیں اور ملتا صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، آیتِ مذکورہ میں جو یہ ارشاد ہوا ہے کہ دنیا کا ارادہ کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دنیا ہی میں پورا دیدیا جاتا ہے، اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ باوجوددنیا کا ارادہ کرنے اور کوشش کرنے کے دنیا میں بھی ان کا مطلب پورا نہیں ہوتا اور بعض دفعہ کچھ بھی نہیں ملتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیت میں اس جگہ اجمال ہے اس کی پوری تفصیل سورة اِسراء کی اس آیت میں ہے، جس میں فرمایا، مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا نَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ، یعنی جو شخص دنیا ہی کا ارادہ کرتا رہتا ہے ہم اس کو دنیا ہی میں نقد دے دیتے ہیں، مگر یہ دنیا دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہے، اوّل یہ کہ جس قدر دینا چاہیں اتنا ہی دیتے ہیں ان کی مانگ اور طلب کے برابر دینا ضروری نہیں، دوسرے یہ کہ صرف اسی شخص کو دیتے ہیں جس کو دینا بتقاضائے حکمت مناسب سمجھتے ہیں ہر ایک کو دینا ضروری نہیں)
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک بینہ پر ہے پھر اس کے بعد اس کی طرف سے ایک گواہ بھی آجاتا ہے اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود ہے اور ( وہ جو نور بصیرت سے محروم ہیں دونوں یکساں ہوجائیں گے ؟ ) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان لائیں گے اور جو اس کا انکار کریں گے جماعتوں میں سے ان کا موعود ٹھکانہ بس دوزخ ہے۔ پس اے مخاطب ! تم اس کے باب میں کسی شک میں نہ پڑو۔ یہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں مانتے۔

اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ وَیَتْلُوْہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰیٓ اِمَامًا وَّرَحْمَۃًط اُولٰٓئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖط وَمَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗج فَلاَ تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُق اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 17) (کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک بینہ پر ہے پھر اس کے بعد اس کی طرف سے ایک گواہ بھی آجاتا ہے اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود ہے اور ( وہ جو نور بصیرت سے محروم ہیں دونوں یکساں ہوجائیں گے ؟ ) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان لائیں گے اور جو اس کا انکار کریں گے جماعتوں میں سے ان کا موعود ٹھکانہ بس دوزخ ہے۔ پس اے مخاطب ! تم اس کے باب میں کسی شک میں نہ پڑو۔ یہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں مانتے۔ ) تنبیہہ سے مراد بات گزشتہ آیت کریمہ میں قرآن کریم نے ایک نہایت حکیمانہ بات سے پردہ اٹھایا تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی کے دوسرے پہلو کو بیان فرما کر اس حکمت کو مکمل فرمایا گیا ہے۔ گزشتہ آیت کریمہ میں ہمیں یہ زریں ہدایت عطا فرمائی ہے کہ اللہ کی کتاب سے تعلق اور اس سے استفادہ اور اللہ کے قرب کی خواہش ایسی پاکیزہ خواہشیں ہیں جو ہر دل میں پیدا نہیں ہوسکتیں۔ انسان کے دل و دماغ کو اللہ نے نہایت صالح، نہایت دوررس اور نہایت پاکیزہ بنایا ہے۔ اگر ان کی پاکیزگی کی حفاظت کی جائے تو یہ اس آنکھ کی طرح جو ہر طرح کے غبار اور ہر طرح کی آلودگی سے محفوظ ہو نہایت آسانی سے راہ ثواب کو پہچانتے اور اپنے اندر اس کی تڑپ محسوس کرتے ہیں لیکن اگر دل میں حب دنیا کا زہر اتر جائے اور عقل اسی کی تعمیل میں رات دن تانا بننے لگے اور اس کی صلاحیتیں دنیا طلبی اور اس کے لیے نئے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہمہ تن مصروف رہیں تو ایسے دل و دماغ میں اللہ کا تصور تو بہت دور کی بات ہے کسی خیر کے بیج کا جم جانا بھی بہت مشکل بات ہے۔ ہر صالح تعلق قربانی مانگتا ہے اور دنیا کی محبت دوسروں سے سب کچھ چھین لینے اور ہوس میں اندھا ہوجانے کا نام ہے۔ چناچہ جو لوگ دنیا کے اسیریا دنیا کے بندے بن کر رہ جاتے ان کے نہاں خانہء دماغ اور دل کی گہرائیوں میں کبھی خدا کے قرب کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔ قرآن کریم جیسی کتاب بھی جس کے اعجاز کا جواب کسی کے پاس نہیں وہ بھی ان پتھر دلوں کے سامنے بےبس ہوجاتی ہے چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ دنیا کی آلودگی اور دنیا کے ناپاک مشاغل اور دنیا کا لہو ولعب انسان کو بالکل دوسرے راستے کا مسافر بنا دیتا ہے اور اس راستے پر قرآن کریم کا گزر بھی ممکن نہیں لیکن جو آدمی اللہ کے دین سے تعلق جوڑنا چاہتا ہے اس کے لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ وہ اپنے دل کی دنیا کو ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک کرے۔ قدرت نے جس طرح عقل کو ایک خاص حد تک رسا بنایا ہے اسی طرح اس کے دل میں بھی ایک نور نصیرت رکھا ہے جو خواہشات کے غلبے سے بجھتا اور روحانیت اور نیکی کے رشتہ سے جلا پاتا ہے۔ تمام معتقدات کے مبادی اس کی روشنی میں پہچانے جاتے ہیں اور دل کے لیے ان کا قبول کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر دل کے اس نور پر گرد جم جاتی ہے یا فطرت کا یہ نور بجھنے لگتا ہے تو پھر انسان کے لیے حق و باطل میں تمیز کرنا مشکل ہوجاتا ہے ہر انسان کو بارہا تجربہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر صحیح بات اور ہر کلمہ حق کو اپنی میراث سمجھتے ہیں اور وہ اس کی طرف اس طرح لپکتے ہوئے بڑھتے ہیں جیسے یہ ان کی گم گشتہ متاع ہے جس طرح آئینہ کے سامنے ہر وجود کا عکس آئے بغیر نہیں رہتا اور ہر روشنی اس کے سامنے آتے ہی دوچند ہوجاتی ہے اسی طرح ایک روشن ضمیر شخص جب بھی کسی بھلائی کی بات کو سنتا ہے تو وہ یوں محسوس کرتا ہے جس کو غالب نے اپنے خوبصورت انداز میں اس طرح تعبیر کیا ہے ؎ دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ضمیر کی یہ روشنی اور فطرت کا یہ نور جس طرح بہت بڑی دولت ہے اسی طرح بڑی متاع بھی ہے۔ اگر اس کی پوری طرح نگہداشت نہ کی جائے تو معمولی غفلت بھی اس کی آب وتاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور جب اس کی آب مرجاتی ہے تو پھر جس طرح کلمہ خیر کی طرف رغبت جاتی رہتی ہے اسی طرح حق و باطل کے امتیاز کا شعور بھی کمزور پڑجاتا ہے۔ اس لیے اقبال مرحوم بڑی تاکید سے اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : دل کا نور کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں ایک نفسیاتی حقیقت یہ ایک ایسی نفسیاتی حقیقت ہے جس کا ادراک صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جن کے اندر کا یہ چراغ کسی نہ کسی حد تک روشن ہو۔ ہر صحیح بات کو ردوقبول کا موقع پیش آتا ہے تو اس میں فیصلہ کن حیثیت اسی فطری داعیہ کی ہوتی ہے۔ مکہ کے ماحول میں اس نور فطرت کا باقی رہنا اگرچہ آسان نہ تھا تاہم کچھ نہ کچھ خوش نصیب لوگ ایسے ضرور تھے جن کی روشنی کم یا زیادہ ابھی تک قائم تھی چناچہ جن لوگوں کو ہم السابقون الاولون کہتے ہیں یہ ایسے ہی خوش نصیب لوگ تھے جن کا ضمیر زندہ اور فطرت کا نور روشن تھا اس لیے جیسے ہی ان کے سامنے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا سوال آیا تو انھوں نے فوراً اسے قبول کیا پھر اس کے بعد وہ لوگ تھے جن کے ضمیر پر بہت حد تک دنیا کی آلودگی کے اثرات تھے لیکن رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ کی دعوت اور آپ کی موثر شخصیت نے جب ان پردوں کو ہٹا دیا تو وہ لوگ فوراً ایمان کے لیے آگے بڑھے۔ اس آیت میں مزید فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے نور بصیرت نے اس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا مکہ کی پر ہجوم مخالفت میں ان کا اس فیصلہ پر قائم رہنا آسان نہ تھا لیکن اللہ نے ان کو اس بات سے تقویت عطا فرمائی کہ ان کی تائید کے لیی ایک گواہ مہیا کردیا جس نے بروقت ان کی تائید ونصرت کا حق ادا کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ تم جس صداقت کو قبول کرنے کے لیے آگے بڑھے ہو میں اس صداقت کا سب سے بڑا گواہ ہوں۔ تمہارے دل نے زمین و آسمان کی پیدائش اور پھر پوری کائنات کا حیرت انگیزنظم و ترتیب اور اس کے عظیم کرُّوں کا اپنے مدار میں سمٹ کر رہنا اور کبھی ان کی گردش میں فرق نہ آنا اور زمین کی گردش کانہ کبھی نا ہموار ہونا اور نہ اس میں ایک لمحے کی تاخیر وتقدیم ہونا اور اس کے تکوینی نظام میں کبھی کسی معمولی خرابی کا درنہ آنا۔ زمین کا قوت روئیدگی سے بھرپور ہونا اور ایک حیرت انگیز نظام کے تحت اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا اور عناصرِ قدرت کا اس کا ہم رکاب ہونا ان میں سے ایک ایک بات حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی خبر دے رہی ہے کہ اس کائنات کا کوئی نہ کوئی خالق ہے اس کی تخلیق بےمقصد نہیں اس نے یہ کارخانہ محض کھیل کود کے لیے نہیں پیدا کیا۔ انسان کی خلافت ارضی محض ایک اعزاز نہیں ایک ذمہ داری ہے۔ انسان کو عقل و شعور اور قوت امتیاز دے کر اس ذمہ داری کے منصب پر فائز کرنا بےسبب نہیں۔ ان میں سے ہر بات کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو زندگی گزارنے کا اللہ کی طرف سے ایک طریقہ عطا فرمایا جائے اسے ایک آئین و قانون دیا جائے اسے آداب زندگی سکھائے جائیں اور انکار کرنے والوں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کے لیے حدود وتعزیرات کا ایک قانون نافذ کیا جائے یہ وہ باتیں ہیں جن کی طرف ضمیرخود بخود رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر اس کی تائید کسی بات سے نہ ہوتی تو آہستہ آہستہ یہ نور مایوسیوں میں ڈوب جاتا چناچہ اللہ کی طرف سے ایک گواہ آیا وہ گواہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی، قرآن کریم، جبرائیل امین اور وحی الٰہی کے مجموعے کا نام بھی ہے اور ان میں سے ہر ایک کا نام بھی۔ کیونکہ ان سب کا کام انسان کے سامنے وہ گواہی پیش کرنا ہے جو اس کے قلب وضمیر کے لیے رہنمائی کا فریضہ ادا کرے۔ چناچہ جبریل امین وحی الٰہی کی صورت میں قرآن کریم لے کر آئے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کی گمراہیوں کا مکمل علاج اور تاریکیوں میں روشنی کا سامان ہے اور نبی کریم ﷺ نے اپنی شبانہ روز محنت سے قرآن کریم کی ایک ایک بات کو اللہ کے بندوں تک پہنچایا اس کے حقائق واضح کیے، دلائل سے ان کو ثابت کیا اور پھر جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے بعد ایک قطعہ زمین مہیا فرمایا آپ نے اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور ایک بہت بڑے علاقے پر اللہ کے قانون کو نافذ کردیا۔ ہر دور میں حق پر گواہی اسی آیت میں مزید فرمایا گیا کہ جس طرح اس دور کے لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ نے قرآن اور صاحب قرآن کو گواہ بنا کے بھیجا ہے اسی طرح کئی صدیاں پیش تر اس وقت بھی مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ نے اسی طرح ایک گواہ بھیجا تھا جسے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہ اس دور کی دنیا کے لیے امام اور رحمت بن کے آئی تھی۔ امام ہدایت اور ہادی کا ہم معنیٰ ہے۔ یعنی جس طرح تورات اہل کتاب کے لیے رہنما بن کے آئی اسی طرح مسلمانوں کے لیے قرآن کریم بھی امام اور رحمت بن کے آیا۔ اللہ کی رحمت نے ہر دور کے انسانوں پر یہ کرم فرمایا کہ انھیں عقل و شعور اور قوت امتیازدے کر اس کے سپرد نہیں چھوڑ دیا بلکہ ہر دور میں اس کے کتابیں اور پیغمبر بھی آئے اور انھوں نے گواہی کا فرض ادا کیا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس دور کے انسانوں کے لیے اللہ نے جس طرح قرآن اور صاحب قرآن کو گواہ بنایا ہے اسی طرح ان کے سامنے پہلے سے ایک گواہی تورات اور موسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے جس طرح افراد افراد پر گواہ ہوتے ہیں اسی طرح تاریخ میں قومیں قوموں پر گواہی دیتی ہیں اور یہ گواہی ایسی ہے جس کا انکار اہل علم و دانش کے لیے ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ کیونکہ افراد تو اپنی گواہی میں ممکن ہے کہ کوئی سمجھوتہ کرلیں لیکن قومیں کبھی بھی اس طرح کی کسی کمزوری کا ارتکاب نہیں کرسکتیں اور نہ ان کے لیے ان کا امکان ہوتا ہے۔ اس لیے قوموں کی گواہی سب سے اہمیت کی حامل چیز سمجھی جاتی ہے چناچہ اس گواہی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اندازہ کرو کہ کچھ لوگ تو وہ ہیں کہ جن کانورِ فطرت زندہ ہے، ضمیر کی آواز مردہ نہیں ہوئی۔ قرآن کریم کی گواہی نے انھیں مزید قوت عطا فرمائی ہے اور اہل کتاب کی گواہی بھی ان کی پشت پر ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کا نور فطرت بجھ چکا ہے اس لیے وہ کسی روحانی اور آسمانی گواہی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ دیانت کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ایمان صرف ان کا مقدر ہوگا جن کا ضمیر زندہ ہے اور جن کا نور فطرت سلامت ہے اس لیے اس آیت میں ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنے انکار پر قائم رہے اور جنھوں نے کسی بات سے فائدہ نہیں اٹھایا چاہے وہ چند افراد ہوں چاہے دنیا کی بڑی بڑی قومیں۔ اہل دنیا کو کان کھول کر سن لینا چاہیے کہ آگ ان کا ٹھکانہ ہے۔ اور اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیئے یہ وہ حق ہے جو اللہ کی جانب سے آچکا ہے اگر دنیا کی اکثریت بھی اس حق کو قبول کرنے سے انکار کرے تو ان کے افراد کی تعداد نہیں دیکھی جائے گی کہ اتنی بڑی تعداد کو کیسے جہنم میں جھونک دیا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ انھوں نے کائنات کی سب سے بڑی حقیقت یعنی اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور اس عزیزذات کی عزت کو چیلنج کیا ہے جس نے سب کو عزتیں عطا فرمائی ہیں اور اس کی قدرت کا مذاق اڑایا ہے جس کے لشکروں کی تعداد کو کوئی نہیں جانتا اور جس کی کوئی معمولی مخلوق اگر اس کے حکم سے سزا دینے پر آجائے تو کبھی سونامی کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور کبھی پاکستان میں زلزلے کی۔