11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsروح القرآن

Ayahs 11:71–73

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ان کی اہلیہ (سارہ) کھڑی تھیں، وہ ہنس پڑیں۔ پھر ہم نے سارہ کو خوشخبری دی، اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

سارہ نے کہا ہائے حیرانی، کیا میں بچہ جنوں گی، حالانکہ میں خود ایک بڑھیا ہوں اور یہ میرے شوہر بوڑھے ہیں۔ یقینا یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

فرشتے کہنے لگے کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے ابراہیم کے گھر والو ! بیشک وہ سزا وار حمد ہے اور بڑی شان والا ہے۔

وَامْرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَ لا وَمِنْ وَّرَآئِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ ۔ قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ئَ اَلِدُوَاَنَا عَجُوْزٌوَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا ط اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ۔ قَالُوْآ اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰـتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ط اِنَّہٗ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ۔ (سورۃ ہود : 71، 72، 73) (اور ان کی اہلیہ (سارہ) کھڑی تھیں، وہ ہنس پڑیں۔ پھر ہم نے سارہ کو خوشخبری دی، اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔ سارہ نے کہا ہائے حیرانی، کیا میں بچہ جنوں گی، حالانکہ میں خود ایک بڑھیا ہوں اور یہ میرے شوہر بوڑھے ہیں۔ یقینا یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ فرشتے کہنے لگے کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے ابراہیم کے گھر والو ! بیشک وہ سزا وار حمد ہے اور بڑی شان والا ہے۔ ) حضرت سارہ کی مسرت اور حیرت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب مہمانوں کے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانے کی وجہ سے پریشان ہوئے اور آپ کو یہ گمان ہوا کہ یہ میرے مہمان انسان نہیں فرشتے ہیں اور یہ یقینا کسی خاص مہم پر آئے ہیں اور اللہ نہ کرے کہیں ہم ہی اس کے نشانہ ہوں تو وہ یقینا اس پریشانی میں اپنے اہل خانہ میں بھی اٹھ کر گئے ہوں گے اور انھیں بھی اپنی پریشانی سے آگاہ کیا ہوگا۔ اہل خانہ میں حضرت سارہ کے سوا اور تو کوئی نہ تھا۔ چناچہ وہ بھی اس پریشانی میں اس خیمے یا کمرے کے دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئیں جہاں مہمانوں کو بٹھایا گیا تھا۔ چناچہ جیسے ہی مہمانوں نے یہ بتایا کہ ہم فرشتے ہیں لیکن ہم آپ کی طرف نہیں بھیجے گئے بلکہ ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا۔ یہ بات سن کر یقیناً انھیں بےحد خوشی ہوئی۔ اس پر بےساختہ ان کے چہرے پر ہنسی پھیل گئی۔ چناچہ ان کی خوشی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے پروردگار کی رحمت جوش میں آئی اور وہ براہ راست حضرت سارہ کی طرف متوجہ ہوئی اور متوجہ ہونے کا سبب یہ تھا کہ کئی سال پہلے اللہ نے حضرت ہاجرہ کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند عطا فرمایا تھا جنھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے جوار میں آباد کیا تھا اور وہاں وہ اپنی والدہ کی تربیت میں جوانی کی حدود سے گزر رہے تھے لیکن حضرت سارہ دعائوں اور آرزوئوں میں اولاد کی عمر گزار چکی تھیں۔ آج تک ان کی گود میں وہ پھول نہ کھلا تھا جس کی انھیں آرزو تھی اور اب وہ نوے سال کی ہورہی تھیں اور ان کے شوہرنامدار سو سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہوئی تاکہ ان کی گزشتہ کلفتوں کا ازالہ ہوسکے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسے عظیم فرزند کی بشارت دی اور اس خوشی کو مزید اس خوشخبری سے دوبالا کردیا گیا کہ حضرت اسحاق اللہ تعالیٰ کے فضل سے لمبی عمر پائیں گے اور انھیں حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسے فرزند سے نوازا جائے گا جن کے صلب سے بنی اسرائیل جیسی عظیم قوم اٹھائی جائے گی جو صدیوں تک ہدایت کی مشل کو فروزاں رکھے گی۔ خوشخبریوں کی اس آبشار نے حضرت سارہ کو نہال کردیا اور وہ بےخودی اور تعجب میں پکار اٹھیں، ہائے میری حیرانی کہ میں اس عمر میں بچہ جنوں گی کہ میں خود نوے سال کی بڑھیا ہوں اور میرے میاں سو سال کے بوڑھے ہیں۔ حضرت سارہ کے لہجے میں تعجب، مسرت، حیرانی اور خوشی کا ملا جلا اظہار تھا۔ اس پر ان کا یٰوَیْلَتٰٓیکہنا اپنے لغوی معنی میں نہیں بلکہ اس معنی میں ہے جس میں خواتین اسے استعمال کرتی ہیں۔ ہر پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے کہ ایک ہی لفظ مردوں کے استعمال میں اور معنی دیتا ہے اور عورتوں کے استعمال میں اور۔ یہی حال اس لفظ کا بھی ہے۔ وَیْلَتٰی اصل میں وَیْلَتِی تھا۔ تخفیف کے لیے ی کو الف سے بدل دیا۔ وَیْل کا لغوی معنی ہلاکت ہے۔ یہاں اس سے مراد اپنے لیے بددعا کرنا نہیں محض اظہار حیرت و تعجب مقصود ہے اور عورتیں عام طور پر اظہارتعجب کے لیے ایسے الفاظ ہی استعمال کرتی ہیں۔ (قرطبی) اظہارتعجب میں انکار مقصود نہیں ہوتا بلکہ ایک دبی دبی خوشی اپنی آرزوئوں کے برآنے میں جو موانع دیکھتی ہے ان کے ذکر سے اپنی خوشیوں کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ تعجب اس بات پر نہیں ہوتا کہ دینے والا کیسے دے گا بلکہ اس پر ہوتا ہے کہ دینے والا یقینا ہرحال میں دینے کی طاقت رکھتا ہے لیکن لینے والے کے ہاتھوں میں نہ سکت ہو نہ کشکول، تو اس کی اپنی بےبضاعتی تھوڑا سا متردد ضرور کردیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ شاید انسان کی فطرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ذکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی گئی تو انھوں نے بھی ایسے ہی تعجب کا اظہار کیا اور جب حضرت مریم کو بیٹے کی امانت سپرد کرنے کی بات ہوئی تو ان کی طرف سے بھی ایسے ہی تعجب کا اظہار ہوا، حالانکہ تمام مثالوں میں نہ انکار پایا جاتا ہے نہ استبعاد۔ یہی کیفیت یہاں بھی ہے۔ فرشتوں نے حضرت سارہ کی بات سن کر ان کی کیفیت کو ٹھیک ٹھیک سمجھا اور ٹھیک تعبیر اختیار کی۔ کہا کہ کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کا اظہار کرتی ہیں جبکہ آپ جانتی ہیں۔ اے اہل بیت نبی ! کہ خدا کے کسی کام اور اس کے کسی ارادے میں تعجب کی گنجائش نہیں ہوتی اور پھر آپ کی شان ہی الگ ہے۔ آپ پر تو اللہ کی خاص رحمتیں اور برکتیں ہیں۔ آپ کا گھرانہ تو ہمیشہ سے اس کی برکتوں کا مورد رہا ہے اور پھر اس میں علیکم میں جمع مذکر کی ضمیر لا کر یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے آپ کے بیت اور اہل بیت کو اپنی رحمتوں کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ آپ تو اس پر جس قدر اللہ کی تعریف کریں وہ اس کا سزاوار ہے۔ اہل بیت کون ہیں ؟ اس آیت میں غور فرمائیے یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو اہل بیت کہا گیا ہے اور دنیا بھر کے معاشرتی دستور میں اہل خانہ میں سب سے پہلے بیویاں داخل ہوتی ہیں لیکن اس پر کس طرح دکھ کا اظہار کیا جائے کہ ہمارے کچھ دوستوں نے آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کو اہل بیت سے خارج کردیا ہے حالانکہ عقل اور نقل اس بات پر شاہد ہے کہ سورة الاحزاب میں اہل بیت کو جو بشارت دی گئی ہے اس میں اولاً اور اصلاً آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات داخل ہیں اور ثانیاً دوسرے حضراتِ قدسی ؓ
Ayahs 11:74–75

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا اور انھیں بشارت مل گئی تو وہ ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے بردبار، دردمند اور ہرحال میں ہماری طرف رجوع کرنے والے تھے۔

فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ اِبْرٰھِیْمَ الرَّوْعُ وَجَآئَ تْہُ الْبُشْرٰی یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْط۔ اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 74، 75) (پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا اور انھیں بشارت مل گئی تو وہ ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ بیشک ابراہیم بڑے بردبار، دردمند اور ہرحال میں ہماری طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اللہ سے جدال کا مفہوم گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے آنے والے معزز مہمانوں کی اجنبیت کے باعث پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور جب تک مہمانوں نے حقیقتِ حال واضح نہیں کی، آپ اور آپ کے اہل خانہ برابر اس پریشانی میں گھلتے رہے۔ حقیقتِ حال کی وضاحت کے ساتھ ہی مہمانوں نے آپ کو بیٹے اور پوتے کا مژدہ سنا کر خورسند کردیا۔ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی پریشانی سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور اس قابل ہوئے کہ فرشتے جس اصل مقصد کے لیے قوم لوط کی طرف جارہے تھے اس پر توجہ دے سکیں۔ چناچہ جیسے ہی آپ کو معلوم ہوا کہ یہ مہمان دراصل فرشتے ہیں جو قوم لوط پر عذاب لے کر جارہے ہیں تو آپ چونکہ طبعی طور پر نہایت حلیم اور بردبار تھے جو کسی دشمن سے بھی انتقام لینا پسند نہیں کرتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ نہایت دردمند دل رکھتے تھے کیونکہاَوَّاہٌ آہ سے مبالغہ ہے جس کا لغوی معنی ہے کثرت سے آہ آہ کرنے والا۔ یہ وصف اسی میں ہوسکتا ہے جسے اللہ نے دل دردمند عطا کیا ہو۔ آپ اپنی طبیعت کی بردباری اور دل کی دردمندی کے باعث اس بات کو برداشت نہ کرسکے کہ قوم لوط پر اللہ کا عذاب نازل ہو۔ ایک ایسی قوم جس میں بچے بھی ہیں اور بوڑھے بھی۔ عورتیں بھی ہیں اور مرد بھی۔ وہ اپنے کفر اور نافرمانی کے باعث ہلاک کردیئے جائیں۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے گداز دل رکھنے والے کے لیے ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ آپ کو ایک جھٹکا سا لگا۔ دنیا آپ کی نگاہوں میں اندھیر ہوگئی۔ آپ سوچنے لگے کہ قوم عاد کو اللہ کے غضب سے کس طرح بچایا جاسکتا ہے۔ آپ کی فطرت میں چونکہ اللہ نے انابت کا ملکہ رکھا تھا اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو انیب قرار دیا ہے کہ آپ کثرت سے اللہ کی طرف لوٹنے والے تھے۔ ہر بات میں اور ہر تکلیف کے وقت آپ کا رجوع اللہ کی ذات کی طرف ہوتا تھا۔ چناچہ آپ اس مشکل وقت میں بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بار بار اللہ کی رحمت کو پکارا، اور بار بار التجا کی کہ یا اللہ، یہ لوگ برے سہی، ان میں کچھ اچھے لوگ بھی تو ہوں گے، ان کی برکت سے انھیں معاف فرما دے۔ انھیں مزید مہلت عطا فرما اور یہ بات اس اصرار اور تکرار کے ساتھ کہی کہ اسے قرآن کریم نے جدال اور جھگڑے سے تعبیر کیا، حالانکہ اللہ سے جھگڑنے کی جرأت کون کرسکتا ہے اور پھر اللہ کا خلیل جو اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے والا اور جان دینے والا ہے اس سے اس کی امید کیسے ہوسکتی ہے۔ درحقیقت یہ ایک مقام ہے جو بعض دفعہ اہل محبت کے یہاں کسی کو نصیب ہوجاتا ہے۔ جیسے ماں باپ بچے کی ضد کو برداشت کرتے ہیں اور محبوب اپنے عاشق ناشاد کو بعض دفعہ اصرار کی اجازت دے دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم کو بھی ایسا ہی مقام حاصل تھا ورنہ وہ اللہ کے مقام کی عظمت سے سب سے زیادہ آگاہ تھے۔ قرآن کریم نے جدال کا لفظ بول کر آپ کی آہ وزاری اور اصرار اور تکرار کی ایک تصویر کھینچ دی ہے جس کے اندر ایک جہانِ معنی مضمر ہے۔ البتہ تورات نے اسے الفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کہاں تک محفوظ ہے، لیکن اس سے یہ بات ضرور ثابت ہوجاتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہر طرح سے قوم لوط کو بچانے کی کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ اپنی رحیمی اور کریمی کے باوجود حضرت ابراہیم کی درخواست کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ تورات میں منقول ہے : پر ابراہام خداوند کے حضور کھڑا ہی رہا۔ تب ابراہام نے نزدیک جا کر کہا کیا تو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کرے گا ؟ شاید اس شہر میں پچاس راست باز ہوں۔ کیا تو اسے ہلاک کرے گا اور ان پچاس راست بازوں کی خاطر جو اس میں ہوں اس مقام کو نہ چھوڑے گا ؟ ایسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہوجائیں۔ یہ تجھ سے بعید ہے۔ کیا تمام دنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کرے گا اور خداوند نے فرمایا کہ اگر مجھے سدوم میں شہر کے اندر پچاس راست باز ملیں تو میں ان کی خاطر اس مقام کو چھوڑ دوں گا۔ تب ابراہام نے جواب دیا، کہا کہ دیکھئے ! میں نے خداوند سے بات کرنے کی جرأت کی اگرچہ میں راکھ اور خاک ہوں۔ شاید پچاس راست بازوں میں پانچ کم ہوں۔ کیا ان پانچ کی کمی کے سبب سے تو تمام شہر کو نیست کر دے گا ؟ اس نے کہا اگر مجھے وہاں پینتالیس ملیں تو میں اسے نیست نہیں کروں گا، پھر اس نے کہا کہ شاید وہاں چالیس ملیں۔ تب اس نے کہا کہ میں ان چالیس کی خاطر بھی یہ نہیں کروں گا، پھر اس نے کہا کہ خداوند ناراض نہ ہو تو میں کچھ اور عرض کروں۔ شاید وہاں تیس ملیں۔ اس نے کہا اگر مجھے وہاں تیس بھی ملیں تو بھی میں ایسا نہیں کروں گا، پھر اس نے کہا دیکھئے ! میں نے خداوند سے بات کرنے کی جرأت کی۔ شایدوہاں بیس ملیں۔ اس نے کہا میں بیس کی خاطر بھی اسے نیست نہیں کروں گا۔ تب اس نے کہا، خداوند ناراض نہ ہو تو میں ایک بار اور کچھ عرض کروں، شاید وہاں دس ملیں۔ اس نے کہا میں دس کی خاطر بھی اسے نیست نہیں کروں گا۔ (پیدائش باب 18: 23۔ 32)
Ayahs 11:76–77

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اس بات کو رہنے دیجیے، اب تمہارے رب کا حکم آچکا اور ان پر ایک ایسا عذاب آکر رہے گا جو ٹالے نہ ٹالا جاسکے۔

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

جب آئے ہمارے بھیجے ہوئے لوط ( علیہ السلام) کے پاس، وہ ان کے آنے سے غمگین ہوئے اور ان کی وجہ سے ان کا دل تنگ پڑا اور کہنے لگے کہ یہ تو بہت ہی کٹھن دن ہے۔

یٰٓاِبْرٰھِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ج اِنَّہٗ قَدْجَآئَ اَمْرُ رَبِّکَ ج وَاِنَّھُمْ اٰتِیْھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ ۔ (سورۃ ہود : 76) (اے ابراہیم ! اس بات کو رہنے دیجیے، اب تمہارے رب کا حکم آچکا اور ان پر ایک ایسا عذاب آکر رہے گا جو ٹالے نہ ٹالا جاسکے۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سفارش سے روک دیا گیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام تر الحاح وزاری اور اصرار کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : کہ اے ابراہیم اب اس اصرار کو چھوڑو۔ تمہاری دردمندی اور اللہ کی طرف انابت اپنی جگہ لیکن قوم لوط نے جس طرح اللہ کی نافرمانی کی اور اللہ کے نبی کی تکذیب کی اور ایک ایک اخلاقی قدر کو پامال کیا، اپنی ان بداعمالیوں اور اللہ کے رسول کی جانب سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد اب یہ لوگ کسی رحم کے مستحق نہیں رہے۔ اللہ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ ہوچکا اور یہ عذاب وہ نہیں جو چونکانے اور ہدایت کی طرف راغب کرنے کے لیے آیا کرتا ہے بلکہ یہ عذاب وہ ہے جو کسی قوم کی جڑ کاٹنے کے لیے آتا ہے اور پھر یہ عذاب کبھی ٹالے سے بھی ٹلتا نہیں۔ قوم لوط اب اسی عذاب کی مستحق ہوچکی ہے۔ مشرکینِ مکہ کے لیے لمحہ فکریہ غور فرمایئے ! یہ آیات مکہ معظمہ میں نازل ہورہی ہیں اور مشرکین مکہ کو پڑھ کر سنائی جارہی ہیں۔ مقصود اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکینِ مکہ کی تمام تر گمراہیوں کی بنیاد یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سمجھتے تھے، ملت ابراہیم کا اپنے تئیں وارث گردانتے تھے اور اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ اولاً تو ہم پر گرفت نہیں ہوگی اور اگر ہوئی بھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسا اللہ کا خلیل ہماری شفاعت کے لیے کافی ہے، وہ ہمیں اللہ کے غضب سے بچا لے گا۔ شفاعت کے اس غلط تصور نے ان کی دینی زندگی کو تلپٹ کرکے رکھ دیا تھا۔ ان آیات میں انھیں بتایا جارہا ہے کہ اگر کفر میں کسی کی شفاعت کام آتی تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا کبھی نہ ڈوبتا اور اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کسی کافر قوم کو بچا سکتے تو قوم لوط کبھی عذاب کا شکار نہ ہوتی کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو بچانے کے لیے اپنی بندگی کا سارا سرمایہ جھونک دیا۔ تو اے مشرکینِ مکہ تمہیں غور کرنا چاہیے کہ تم کس مصنوعی سہارے پر اپنی عاقبت تباہ کررہے ہو۔ اللہ کے نبیوں کا مقام و مرتبہ برحق، وہ اللہ کے یہاں بہت اعزازات اور امتیازات سے نوازے جائیں گے لیکن وہ کبھی کسی کافر کی سفارش نہیں کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کافر کے بارے میں سفارش اللہ کے یہاں قبول نہیں ہوتی۔ وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِـْیٓ ئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 77) (جب آئے ہمارے بھیجے ہوئے لوط ( علیہ السلام) کے پاس، وہ ان کے آنے سے غمگین ہوئے اور ان کی وجہ سے ان کا دل تنگ پڑا اور کہنے لگے کہ یہ تو بہت ہی کٹھن دن ہے۔ ) سِـْیٓ ئَ بِھِمْکا معنی کیا گیا ہے سَائَ مَجِیْئُھُمْ لُوْطاً ان کے آنے نے لوط کو پریشان اور غمگین کردیا۔ ضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًاامام بیضاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ الفاظ دل کی پریشانی اور انقباض کے بیان کے لیے بطور کنایہ اس وقت انسان کہتا ہے جب وہ کسی تکلیف کو دور کرنے سے بالکل عاجز ہوجائے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے اٹھ کر وہ تین فرشتے جو انسانی بھیس میں تھے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوم لوط کی آزمائش کے لیے نہایت حسین و جمیل شکلوں میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے جیسے انھیں دیکھاتو وہ انتہائی تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ وہ اپنی قوم کے بےحیائی پر مبنی رویئے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ انھیں خوب معلوم تھا کہ ان میں ہم جنس پرستی کی برائی وباء کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ چونکہ اس میں پوری قوم ملوث ہے اس لیے کسی کو کسی سے بھی جھجک باقی نہیں رہی۔ وہ بالکل حیوانوں کی طرح اس برائی کا کھلم کھلا ارتکاب کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو خوب معلوم تھا کہ جیسے ہی میری قوم کے لوگوں نے ان خوبصورت نوجوانوں کو دیکھا تو وہ اپنے اوپر ضبط نہیں کرپائیں گے۔ وہ یقینا اپنے برے ارادے کی بجاآوری کے لیے میرے گھر پر حملہ کردیں گے۔ چناچہ یہ سوچ کر ان کا دل غم سے بھر گیا اور نہایت پریشانی میں ان کی زبان سے نکلا کہ آج کا دن تو بڑا کٹھن دن ہے کہ ایک طرف میرے مہمان ہیں جن کی عزت کی حفاظت میری ذمہ داری ہے اور دوسری طرف میری قوم ہے جو شرم و حیاء کا لبادہ اتار چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں، میں کیا کروں۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ ان کے اندیشوں کی عملی تعبیر سامنے آگئی۔
Ayahs 11:78–80

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے لوگ جھپٹے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور یہ پہلے سے ہی بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ ( حضرت) لوط نے کہا : اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں، وہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ پس اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے معاملہ میں رسواء نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی سمجھ دار آدمی نہیں۔

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تم خوب جانتے ہو، ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں اور تم خوب جانتے ہو جو کچھ ہم چاہتے ہیں۔

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

حضرت لوط نے کہا، کاش میرے پاس تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی طاقتور سہارے کی پناہ لے سکتا۔

وَجَآئَ ہٗ قَوْمُہٗ یُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ ط وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ ط قَالَ یٰـقَوْمِ ھٰٓؤْ لَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُلَکُمْ فَاتَّـقُوا اللّٰہَ وَلاَ تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ ط اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰـتِکَ مِنْ حَقٍّ ج وَاِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْاٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ۔ (سورۃ ہود : 78، 79، 80) (اور اس کی قوم کے لوگ جھپٹے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور یہ پہلے سے ہی بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ (حضرت) لوط (رح) نے کہا : اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں، وہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ پس اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے معاملہ میں رسواء نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی سمجھ دار آدمی نہیں۔ وہ کہنے لگے تم خوب جانتے ہو، ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں اور تم خوب جانتے ہو جو کچھ ہم چاہتے ہیں۔ حضرت لوط نے کہا، کاش میرے پاس تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی طاقتور سہارے کی پناہ لے سکتا۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی پیشکش کا مفہوم حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو جب معلوم ہوا کہ حضرت لوط کے گھر خوبصورت مہمان آئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی اطلاع حضرت لوط کی بیوی نے لوگوں کو دی تھی تو وہ دوڑتے اور جھپٹتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پہنچے اور آتے ہی مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کردو۔ حضرت لوط چونکہ ان کے اعمال بد اور عادات شنیعہ سے واقف تھے اور انھیں خوب معلوم تھا کہ وہ خوبصورت لڑکوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں تو آپ نہایت پریشان ہوگئے، تاہم آپ نے انھیں یقینا سمجھایا، مہمانوں کے اکرام کی نصیحت کی، ان کے برے ارادوں پر انھیں ملامت بھی کی لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگ برائی کرنے میں بےحیا ہی واقعہ نہیں ہوئے تھے بلکہ انتہائی دلیر اور جری بھی تھے۔ زبردستی اس برائی کے لیے کسی کو پکڑ لینا ان کے نزدیک کوئی بری بات نہ تھی۔ جب حضرت لوط نے محسوس کیا کہ میں نے مہمانوں کو اندر بٹھا رکھا ہے اور یہ لوگ زبردستی اندر جانا چاہتے ہیں اور میں دیر تک ان کا راستہ نہیں روک سکتا تو آپ نے انتہائی پریشان ہو کر ان سے کہا کہ تم اپنی جنسی آسودگی کے لیے یہ حرکت کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ بجائے خلاف فطرت حرکت کرنے کے تم عورتوں کی طرف رجوع کرو۔ قوم کی ساری بیٹیاں میری بیٹیاں ہیں کیونکہ پیغمبر اپنی امت کے لیے باپ کی حیثیت رکھتا ہے تو میں باپ کے طور پر تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جو بچیاں تمہارے نکاح میں ہیں یعنی تم نے ان کو نکاح کی زنجیر تو پہنا رکھی ہے لیکن تم ان سے ازدواجی تعلق قائم کرنے سے گریزاں ہو اور اس کے لیے تم نے وہ راستہ اختیار کر رکھا ہے جو نہ صرف غیرشریفانہ بلکہ خلاف فطرت بھی ہے تو تم اپنی بیویوں سے خواہش نفس پوری کرو۔ یہی تمہارے لیے احسن طریقہ ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب مراد لیا ہے کہ یہاں بَنَاتِیْسے حضرت لوط کی اپنی حقیقی بیٹیاں مراد ہیں۔ آپ کی پیشکش کا مطلب یہ تھا کہ جن رئیسوں نے میری بیٹیوں کے رشتے طلب کیے تھے اور میں نے ان کے فسق و فجور کو دیکھ کر رشتے دینے سے انکار کردیا تھا، میں اب انھیں اپنی بیٹیوں کے رشتے دینے کے لیے تیار ہوں۔ وہ براہ کرم اس غول شیطانی کو میرے دروازے سے دور کریں، لیکن تورات کا کہنا یہ ہے کہ حضرت لوط کی تمام بیٹیاں شادی شدہ تھیں۔ اس لحاظ سے اس دوسری تعبیر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ بعض اہل علم نے اس جملے کی ایک اور توجہیہ کی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ فرمانا کہ یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں درحقیقت یہ کوئی پیشکش نہیں تھی بلکہ یہ اپنی قوم کے ضمیر کو جگانے اور جھنجوڑنے کی آخری کوشش تھی کہ شاید وہ لوگ اس طرح سوچنے پر آمادہ ہوجائیں اور ان کے دل میں یہ خیال آجائے کہ مہمان کی عزت اگر کوئی معمولی بات ہوتی تو یہ اللہ کا بندہ اس عزت بچانے کے لیے اپنی سب سے قیمتی متاع کو یوں پیش کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم میں ضمیر نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی۔ انھوں نے صاف کہا کہ اے لوط تم جانتے ہو ہمارا عورتوں کی طرف کوئی رجحان نہیں، ہماری دلچسپیاں لڑکوں سے ہیں۔ اس لیے بات کو بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں تم اسے خوب جانتے ہو۔ حضرت لوط نے جب یہ دیکھا کہ نہ ان پر نصیحت اثر کررہی ہے اور نہ منت سماجت۔ یہ بظاہر انسان ہیں لیکن حقیقت میں یہ برائیوں کی پوٹ ہیں۔ تب ان کی زبان سے نہایت حسرت آمیز لہجے میں یہ جملہ نکلا : کہ کاش میرے پاس کوئی طاقت ہوتی تو میں طاقت کے ذریعے تمہیں روک دیتا۔ یا مجھے کوئی مضبوط پناہ مل جاتی تو میں اس کے ذریعے سے تمہارا مقابلہ کرسکتا۔ اب تو میں یکہ اور تنہا ایک فرد ہوں جس میں تمہارے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں۔ جاہلیتِ جدیدہ قوم لوط کی راہ پر ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ قرآن کریم نے مختلف جگہوں میں قوم لوط کی خلاف فطرت برائی جسے لواطت کہتے ہیں کا جس نفرت سے ذکر کیا ہے اور عقیدہ کی خرابی کے ساتھ ساتھ اس برائی نے جس طرح ان کے کردار کو تباہ کیا اور پھر یہی دونوں چیزیں ان پر ہولناک عذاب کا باعث بنیں۔ آخر آج ان چیزوں کے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن کریم جو قیامت تک ہدایت کا ذریعہ بن کے آیا ہے اس میں اس برائی کو عبرت انگیز انداز میں بیان کرنا تاکہ آئندہ قومیں بھی اس سے فائدہ اٹھائیں، آخر اس کا سبب کیا ہے جبکہ اس میں مبتلا قومیں تباہ ہوگئیں اور یہ داستان قصہ پارینہ بن گئیں، اب ان کو دوہرانے سے کیا فائدہ، لیکن کاش ایسا ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ُ اس وقت انسان کی خواہشات نے جن برائیوں کو جنم دیا تھا، وہ برائیاں تو بڑی وسیع سطح پر موجود تھیں اور وہ قومیں بری طرح ان کی گرفت میں تھیں، لیکن انھوں نے ان برائیوں کے جواز میں کوئی فلسفہ ایجاد نہیں کیا تھا۔ ان میں مختلف وقتوں میں ایسی آوازیں ضرور اٹھتی رہتی تھیں جس نے ان برائیوں کا برائی ہونے کا تصور ختم نہیں ہونے دیا تھا، لیکن آج امریکہ اور مغرب نے دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ اس خلاف فطرت اور قابل نفرت برائی کے جواز میں نہ صرف فلسفہ ایجاد کیا ہے بلکہ مسلسل پر اپیگنڈے اور ذرائع ابلاغ سے کام لے کر ذہنوں کو اس کے لیے ہموار بھی کیا ہے۔ ان کے پارلیمانی ادارے جن میں ان کی پوری کریم موجود ہوتی ہے وہ خود اس پر اپیگنڈے سے اس حد تک متاثر ہیں کہ ان میں سے بعض ملکوں نے اس برائی کے حق میں قانون سازی بھی کی ہے اور وہاں کھلے عام ایسے کلب موجود ہیں جن میں اس برائی کے ارتکاب کے تمام امکانات مہیا ہیں۔ لائبریریاں جو کسی قوم کی ذہنی ارتقا کی علامت ہوتی ہیں اور جن میں قوم کا اجتماعی کردار جھلکتا ہے ان میں ایسے مستقل شعبے کھول دیئے گئے ہیں جن پر جلی حروف میں لکھا ہے (گے سٹائل آف لائف) اور اس شعبے میں تمام وہ کتابیں آپ کو ملیں گی جو اس برائی کے حق میں لکھی گئی ہیں۔ غضب خدا کا یہ ہے کہ اس برائی کو فطرتِ انسانی کا استحقاق قرار دیا گیا ہے اور ” ہیومن ارج “ کے نام سے عدالتوں کو اس کا ہمنوا بنایا جارہا ہے اور اگر کوئی ادارہ ایسی برائی میں مبتلا شخص کی حوصلہشکنی کرتا ہے تو وہاں کے ذرائع ابلاغ اس کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ اللہ سے بڑھ کر مستقبل کو جاننے والا اور کون ہے۔ اس لیے اس کتاب میں قوم لوط اور اس کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ جاہلیتِ جدیدہ کے معمار اور ان کے پیرو کار اس کے آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ سکیں۔
Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا، اے لوط ! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، یہ ہرگز آپ تک پہنچ نہیں سکتے۔ پس آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جایئے اور تم میں سے کوئی مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جایئے۔ اس پر بھی وہی آفت آنی ہے جو ان پر مقدر ہوچکی ہے۔ ان پر عذاب آنے کا مقررہ وقت صبح کا وقت ہے۔ کیا صبح قریب نہیں ؟

قَالُوْا یٰلُوْطْ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلاَ یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلاَّ امْرَاَتَکَ ط اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ ط اِنَّ مَوْعِدَ ھُمُ الصُّبْحُ ط اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ ۔ (سورۃ ہود : 81) (فرشتوں نے کہا، اے لوط ! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، یہ ہرگز آپ تک پہنچ نہیں سکتے۔ پس آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جایئے اور تم میں سے کوئی مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جایئے۔ اس پر بھی وہی آفت آنی ہے جو ان پر مقدر ہوچکی ہے۔ ان پر عذاب آنے کا مقررہ وقت صبح کا وقت ہے۔ کیا صبح قریب نہیں ؟ ) فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی اب تک تو یہ فرشتے جو نوجوان لڑکوں کے روپ میں تھے خاموشی سے حضرت لوط اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش دیکھتے رہے لیکن جب حضرت لوط بےبسی تک جا پہنچے تو تب انھوں نے کہا کہ حضرت آپ پریشان نہ ہوں، ہم لڑکے نہیں ہیں، ہم فرشتے ہیں اور ہمیں آپ کی قوم پر عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس وقت موجود تھے۔ انھوں نے اپنا ہاتھ بلند کیا، جتنے لوگ اس وقت موجود تھے، وہ سب اندھے ہوگئے اور چیختے ہوئے باہر کو دوڑے کہ لوگو ! اپنی جانیں بچائو، یہ لوط کے مہمان بہت بڑے جادوگر ہیں۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے مزید عرض کیا کہ آپ ان بدمعاشوں کی پرواہ نہ کریں، یہ آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ البتہ آپ یہ کیجیے کہ اپنے اہل خانہ کو ساتھ لے کر راتوں رات اس بستی سے نکل جائیے اور احتیاط یہ کیجیے کہ آپ میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ اس میں حکمت کیا تھی، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور مزید یہ کہ آپ اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہ جایئے، وہ آپ کی بیوی ضرور ہے لیکن ایمان سے محروم ہے۔ نجات ہمیشہ ایمان والوں کا مقدر رہی ہے۔ اب جس عذاب کا شکار آپ کی قوم ہونے والی ہے اسی عذاب کا شکار آپ کی بیوی بھی ہوگی۔ یہاں یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ایک کافر خاتون اللہ کے نبی کے نکاح میں کیسے رہی۔ یاد رہے کہ پہلی شریعتوں میں مسلم اور کافر کا نکاح جائز تھا۔ مذہب کی بنیاد پر مکمل تفریق اس آخری مذہب نے کی ہے کیونکہ اس مذہب نے ہر تفریق اور تقسیم سے انکار کرکے صرف ایک ہی تقسیم قبول کی ہے، وہ ہے مسلم اور کافر۔ باقی سب انتسابات ختم ہوگئے۔ صرف یہی ایک نسبت قیامت تک باقی رہے گی اور اسی کے مطابق قیامت میں فیصلہ ہوگا۔ مزید کہا کہ اس قوم کو عذاب کے لیے اب انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جیسے ہی آپ رات کے آخری حصے میں طلوع سحر کے وقت خطرے کی حد سے نکل جائیں گے تو صبح ہوتے ہی اللہ کا عذاب ان پر آدھمکے گا اور آپ جانتے ہیں کہ صبح اب دور نہیں۔ اس لحاظ سے اب ان کا انجام بھی دور نہیں۔
Ayahs 11:82–83

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پس جب آپہنچا ہمارا عذاب تو ہم نے اس کی بلندی کو اس کی پستی کردیا اور اس پر سنگ گِل کی بارش کی، تہ بہ تہ

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے رب کے پاس سے نشان لگے ہوئے تھے اور لوط کی بستی ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ )

فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ 5 لا مَّنْضُوْدٍ ۔ مُّسْوَّمَۃً عِنْدَرَبِّکَ ط وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعْیِدٍ ۔ (سورۃ ہود : 82، 83) (پس جب آپہنچا ہمارا عذاب تو ہم نے اس کی بلندی کو اس کی پستی کردیا اور اس پر سنگ گِل کی بارش کی، تہ بہ تہ جن پر تمہارے رب کے پاس سے نشان لگے ہوئے تھے اور لوط کی بستی ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ ) قوم لوط پر عذاب صبح ہوتے ہی قوم لوط پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا۔ اس عذاب کی صورت کیا تھی ؟ حقیقت تو اللہ جانتا ہے، لیکن آیت کے الفاظ یہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ان کی زمین کو شق کیا گیا جس سے پستیاں بلندیوں میں اور بلندیاں پستیوں میں تبدیل ہوگئیں۔ ممکن ہے شدید زلزلہ آیا ہو اور ممکن ہے آتش فشاں پہاڑ پھٹے ہوں۔ اس کے ساتھ ہی تیز آندھی اٹھی جو اس قدر شدید ہوگئی کہ اس نے ان بستیوں پر پتھروں کی بارش کی۔ عمارتیں پہلے ہی تباہ ہوچکی تھیں، پتھروں کی بارش نے ان کا حلیہ تک بگاڑ دیا۔ بعض اہل علم کے نزدیک سجیل کی بارش سے مراد وہ مٹی کے ڈھیلے ہیں جسے آگ نے پتھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ ان کے نزدیک سجیل سنگ گِل کا معرب ہے اور یہ پتھروں کی بارش اس تسلسل سے ہوئی کہ اس کے تہ بہ تہ ڈھیر لگ گئے۔ مَنْضُوْدٍ سے مراد یا تو یہی پتھروں کے ڈھیر ہیں اور یا اس بارش کا پے در پے اور لگاتار ہونا ہے۔ مُّسْوَّمَۃً کا لفظ یہ بتاتا ہے کہ ان پر ایسی مہریں لگی ہوئی تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ اللہ کی جانب سے کسی الٰہی ٹکسال میں ڈھل کے نکلے ہیں۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ہر پتھر پر ہر اس کافر اور فاسق کا نام کندہ تھا جس پر اس پتھر کو گرنا تھا۔ قوم لوط کی بستیاں اس طرح تباہ کی گئیں کہ وہاں خاک سیاہ کے سوا کچھ نہ بچا۔ یہ بستیاں اس جگہ آباد تھیں جہاں آج کل بحر مردار یا بحر لوط ہے۔ کہتے ہیں اب بھی بحر لوط سے دھویں کے بادل اٹھتے رہتے ہیں اور کثرت سے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ آخر میں مشرکینِ مکہ کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تم نے جس قوم لوط کی ہولناک داستان سنی ہے، اس قوم کے نشانات تم سے دور نہیں۔ تم اپنے تجارتی اسفار میں وہاں سے گزرتے ہو۔ تم بڑی آسانی سے اس تباہ شدہ قوم کے آثار دیکھ سکتے ہو اور اس کے گردوپیش میں بسنے والی قوموں سے معلوم کرسکتے ہو کہ یہاں واقعی قوم لوط آباد تھی۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ آپ نے کہا : اے برادرانِ قوم عبادت کرو اس اللہ کی جس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں اور کمی نہ کیا کرو، ناپ اور تول میں۔ میں تمہیں خوشحال دیکھتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں، تم پر ایسے دن کے عذاب سے جو ہر چیز کو گھیر لینے والا ہے۔

وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط وَلاَ تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ اِنِّیْ ٓ اَرٰکُم بِخَیْرٍوَّاِنِّیْ ٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ ۔ (سورۃ ہود : 84) (اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ آپ نے کہا : اے برادرانِ قوم عبادت کرو اس اللہ کی جس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں اور کمی نہ کیا کرو، ناپ اور تول میں۔ میں تمہیں خوشحال دیکھتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں، تم پر ایسے دن کے عذاب سے جو ہر چیز کو گھیر لینے والا ہے۔ ) اہل مدین کا محل وقوع اور ان کی حقیقت مشرکینِ مکہ کو اللہ کے نبی کی دعوت سے انکار کے نتیجے میں ان کا انجام یاد دلانے کے لیے مختلف امتوں کی سرگزشتیں سنائی جارہی ہیں۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم صالح اور قوم لوط کے حالات گزر چکے۔ اب اسی سلسلے کی ایک کڑی اہل مدین یعنی قوم شعیب کی سرگزشت بھی ہے جو اب بیان کی جارہی ہے۔ اس کا اساسی موضوع بھی وہی ہے جو متذکرہ بالا سرگزشتوں کا ہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت بھی وہی ہے جو متذکرہ بالا امتوں کی طرف آنے والے رسولوں کی تھی۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ یہ شہر بحر احمر کے اس مقام پر آباد تھا جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں۔ یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایسے علاقے میں آباد تھے جو تجارتی قافلوں کی گزرگاہ ہونے کے باعث ایک بڑی تجارتی منڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اہل مدین درحقیقت مدیان کی اولاد ہیں۔ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ یہ دنیوی حیثیت سے کیسے ہی سربرآوردہ رہے ہوں لیکن ان کو اللہ نے نبوت عطاء نہیں کی۔ ان کے بھائیوں میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عظیم رسول ہونے کے باعث شہرت کے آسمان پر درخشندہ ہیں۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے حقیقی وارث تو مسلمان ہیں لیکن نسلی طور پر بنی اسرائیل ان کے نام لیوا ہیں۔ ان کی اولاد میں سے اٹھنے والی یہ امت صدیوں تک دنیا کی امامت کے منصب پر فائز رہی ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ملت ابراہیم کے رسول تھے اور اللہ کے گھر کے متولی اور آپ کی اولاد اس تولیت میں آپ کی وارث رہی، پھر آپ کی ہی اولاد میں نبی آخرالزماں ﷺ تشریف لائے اور آپ کی عظمت کہیں پہنچ گئی۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت سارہ ( رض) کے فرزند ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ہاجرہ ( رض) کے۔ اور مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی قطوراء کے بطن سے ہیں۔ مدین کے علاقے میں ان کی اولاد پھیلی، ممکن ہے اس میں کچھ حلیف قبائل بھی شامل ہوں جنھوں نے اپنے آپ کو مدیان کی اولاد میں ضم کردیا ہو کیونکہ عرب میں یہ طریقہ موجود رہا ہے کہ جب بعض قبائل کا کسی بڑے بڑے قبیلے یا کسی بڑے آدمی کی اولاد سے حلیفانہ تعلق قائم ہوجاتا تھا تو وہ آہستہ آہستہ اپنے آپ کو اسی میں ضم کردیتا تھا۔ اگر یہ بات واقعی صحیح ہے کہ اہل مدین مدیان کی اولاد ہیں تو پھر یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ وہ کافر نہیں بگڑے ہوئے مسلمان تھے کیونکہ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹا ہونے کی وجہ سے یقینا مسلمان ہوں گے اور ان کی اولاد بھی مسلمان رہی ہوگی۔ آہستہ آہستہ ان میں خرابیاں پیدا ہوئیں جس نے ان کے عقیدے پر بھی اثر کیا اور ان کے کاروباری معاملات پر بھی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کی بنیاد اسی اساسی حقیقت کو بنایا ہے جو تمام انبیاء کرام کی دعوت کی بنیاد رہی ہے اور یہ وہی حقیقت ہے جسے ہم توحید کے نام سے جانتے ہیں۔ جب بھی انسانوں میں عقیدے کی خرابیاں شروع ہوئی ہیں تو اس کا آغاز ہمیشہ عقیدہ توحید میں بگاڑ سے ہوا ہے۔ چناچہ ہر پیغمبر نے اپنی امت کو سب سے پہلے یہ بات کہی کہ لوگو ! اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم نے الوہیت میں نہ جانے کس کس کو شریک کر رکھا ہے۔ اس طرح سے تم نے شرک کے اتنے دروازے کھول دیئے ہیں کہ جنھیں بند کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کی ذات کو ماننے کے باوجود تمہاری عملی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ تم اسے ایک ایسی ذات سمجھتے ہو جو کائنات کو پیدا کرنے کے بعد کہیں چھپ کے بیٹھ گیا ہے اور اس نے اپنے تمام اختیارات کہیں دیوتائوں کو، کہیں اوتاروں کو، کہیں مظاہرِ قدرت کو، کہیں فرشتوں اور جنات کو اور کہیں انسانوں ہی میں سے مختلف انسانی شخصیات کو جن سے تمہاری عقیدت کا رشتہ قائم ہوگیا ہے کے سپرد کردیئے ہیں۔ جب تک تم ان تمام آستانوں سے سر اٹھا کر صرف ایک اللہ کے آستانہ پر نہیں جھکائو گے اور اپنے دلوں کی دنیا کو ان تمام مصنوعی خدائوں سے پاک کرکے صرف ایک اللہ سے آباد نہیں کرو گے اس وقت تک تمہارے کردار کی تعمیر ناممکن ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دوسری بات اپنی امت سے یہ فرمائی کہ تم ناپ تول میں کمی مت کرو۔ تمہیں یقینا یہ سہولت حاصل ہے کہ تم تجارتی شاہراہوں کے سنگم پر آباد ہو۔ تمہارا علاقہ ایک بڑی تجارتی مارکیٹ بن گیا ہے۔ اس میں تمہارے لیے جائز کمائی کے بہت امکانات موجود ہیں۔ اس کے باوجود تم نے ناپ تول میں کمی کے لیے ایسے ایسے ذرائع ایجاد کیے ہیں کہ لوگوں کی ذہانت و فطانت تمہاری دھوکہ دہی کی وارداتوں کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ آخر تم ایسا کیوں کرتے ہو۔ تمہیں اللہ تعالیٰ نے خوشحالی اور رفاہیت عطا کی ہے۔ زندگی کی تمام آسانی تمہیں میسر ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ تم اس خوشحالی پر اللہ کا شکر بجا لائو اور تم اپنی زندگی کے معمولات کو ان طریقوں کے مطابق ڈھالو جو اللہ کی شریعت کے مطابق ہوں، لیکن تم نے اس کے برعکس لوگوں کو لوٹنا اور ان کو نقصان پہنچانا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ کی ناشکری کے نتیجے میں ہمیشہ ایسا عذاب آیا کرتا ہے۔ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو مجھے اندیشہ ہے کہ ایسا ہی کوئی عذاب تم پر نہ بھیج دیا جائے۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم پورا کیا کرو ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ، اور نہ گھٹا کردیا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ پھر و زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے۔

وَیٰـقَوْمِ اَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ ولاَ تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 85) (اور اے میری قوم پورا کیا کرو ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ، اور نہ گھٹا کردیا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ پھر و زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے۔ ) سابقہ آیت کا مضمون ایک دوسرے پہلو سے وہ بات جو پہلی آیت میں کہی گئی ہے اسے دوسرے پہلو سے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ پہلے صرف ناپ تول میں کمی سے روکا گیا، اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ زندگی کی اصل ضرورت قسط کا قائم کرنا ہے۔ اس کی ضرورت صرف ناپ تول میں نہیں، زندگی کے ہر شعبے میں ہے۔ جہاں کہیں قسط کو نقصان پہنچتا ہے وہاں اعتدال رخصت ہوجاتا ہے جبکہ یہی وہ حقیقتِ قائمہ ہے جس پر زندگی کی عمارت استوار ہے۔ آپ جسم کی ضرورتوں کو دیکھ لیجئے، اس کے تناسب کو دیکھ لیجئے، اس کے حسن جمال کو دیکھ لیجئے، اس کی صحت پر غور کرکے دیکھ لیجئے، اس کی احساسات کی دنیا کو دیکھ لیجئے، اس کے انفعالات کا جائزہ لیجئے، اس کی دماغی رعنائیوں اور عملی قوتوں کو دیکھئے، ان تمام میں وہ حقیقت جو انھیں قابل عمل رکھتی ہے اور کارآمد بناتی ہے وہ صرف حقیقتِ اعتدال ہے۔ اسی کو عدل اور قسط کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ترازو کے دونوں پلڑوں کا برابر ہونا یہی عدل بھی ہے اور قسط بھی۔ لوگوں کے ساتھ معاملات میں جہاں بھی کمی بیشی ہوتی ہے چاہے وہ لین دین میں ہو، میل جول میں ہو، تعلقات اور قرابت داری میں ہو، زندگی کے کسی بھی معاملے میں ہو، وہیں اعتدال رخصت ہوجاتا ہے اور وہیں سے فساد کو راستہ ملتا ہے۔ زندگی میں ہمیں جہاں جہاں بھی ناہمواریاں نظر آتی ہیں چاہے وہ انفرادی زندگی میں ہوں یا اجتماعی زندگی میں، اس کا دائرہ معاشرتی ہو یا معاشی، اس کا رشتہ حکومت سے وابستہ ہو یا عدالت سے وہ اسی حقیقت کے گم ہوجانے کے سبب سے ہیں۔ ہر جگہ جو حقیقت، استحکام اور نمو پر دلالت کرتی ہے اور جو فساد اور خرابی سے بچاتی ہے وہ ان تعلقات کی یکسانی اور اس کے پلڑوں کا برابر ہونا ہے۔ انسانی تعلقات میں حاکم اور محکوم، آمر اور مامور کا رشتہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ دفاتر سے لے کر کارخانوں اور ملوں تک اسی رشتے کی صحت پر تمام امور کی استواری کا دارومدار ہے اور جہاں اس چیز کا فقدان ہوتا ہے اس سے فساد جنم لیتا ہے۔ مالک جب اپنے مزدوروں کو صحیح حقوق نہیں دیتا تو ان کے اندر ایک اشتعال اور ایک نفرت پیدا ہوتی ہے اور مزدور اور محکوم جب اپنے مالک سے ہمدردی اور خیرخواہی کا رشتہ توڑ دیتے ہیں تو مالک کے دل میں ان کی طرف سے ایک بغض پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح تجارتی تعلقات میں بھی ایک شخص بیچتا ہے اور دوسرا خریدتا ہے، دونوں کے درمیان اگر عدل کا رشتہ قائم ہے تو کاروبار میں ترقی ہوگی اور اگر یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو پھر نہ صرف کاروبار تباہ ہوتا ہے بلکہ کاروبار کرنے والے بھی تباہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جن ملکوں میں بھی معاشی انقلاب کے نام سے حالات تلپٹ ہوئے ہیں ان کے اگر آپ اسباب تلاش کریں گے تو ان ہی بنیادی تعلقات کی ناہمواری اور عدل و قسط کی پامالی کو بنیادی سبب کے طور پر محسوس کریں گے۔ سمجھا تو یہ جاتا ہے کہ ہمیشہ مالک اپنے مزدوروں پر ظلم کرتا ہے، لیکن جب کہیں مزدور انقلاب کے لیے تحریکیں چلتی ہیں اور معاملہ خانہ جنگی تک پہنچ جاتا ہے تو مزدوروں کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ سب سے پہلے اپنے مالکوں کو ذبح کرتے ہیں اور اگر انھیں ملوں اور کارخانوں پر انتظامیہ کی حیثیت دے کر بٹھا دیا جائے تو یہ سابقہ مالکوں سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے اقبال نے کہا تھا : زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا طریقِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی آیت کے آخر میں خطاب انھیں لوگوں سے ہیں جو تجارتی معاملات کو اپنی خیانتوں کے باعث غیرمتوازن اور ناہموار کرنے کے ذمہ دار تھے۔ ان سے فرمایا جارہا ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ان خیانتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہو اور اس طرح سے اپنی امارت اور رفاہیت میں اضافہ کرسکتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم فساد کا دروازہ کھول رہے ہو۔ جن لوگوں کے ساتھ تم زیادتی کررہے ہو وہ شاید زیادہ دیر تک برداشت نہ کرسکیں۔ ایک وقت آئے گا ان کی غربت ان کے اندر اشتعال پیدا کرے گی اور اس اشتعال کا رخ تمہاری جانب ہوگا کیونکہ وہ بجاطور پر یہ سمجھیں گے کہ تم ان کی محرومیوں کا باعث ہو۔ جہاں کہیں بھی غریبوں میں انقلاب اٹھا ہے اس کا نتیجہ اس سے مختلف کبھی بھی نہیں رہا کہ وہ امراء جو ان کا خون چوستے تھے، غریب پھر ان کا لہو پیتے ہیں۔ کسی نے ٹھیک کہا : غریبوں میں جو انقلاب آرہا ہے امیروں کا یوم حساب آرہا ہے اس لیے اگر دوسروں کی پرواہ نہیں، اپنے انجام کی تو فکر کرو۔ اپنے طرز عمل کو درست کرو تاکہ فساد کا دروازہ کھلنے نہ پائے اور اس کی یہی ایک صورت ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے اللہ کے دین کو اختیار کرلو۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کا بخشا ہوا منافع تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم صاحب ایمان ہو اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔

بَقِیَّتُ اللّٰہِ خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 5 ج وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ ۔ (سورۃ ہود : 86) (اللہ کا بخشا ہوا منافع تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم صاحب ایمان ہو اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔ ) گزشتہ مضمون کی تکمیل یہ گزشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل ہے اور اس میں انسان کی نفسیاتی کمزوریوں میں سے ایک بہت بڑی کمزوری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ چاہے اس کے پاس قارون کا خزانہ کیوں نہ ہو، وہ کبھی اسے اپنے لیے کافی نہیں سمجھتا۔ جب اپنے پاس کچھ نہیں ہوتا تو وہ یہ خواہش کرتا ہے کہ کاش مجھے اتنا مل جائے کہ میری ضرورتوں کے لیے کفایت کرے لیکن جب بقدر کفایت مل جاتا ہے تو پھر قدم آگے بڑھنے لگتا ہے جو کہیں رکنے کا نام نہیں لیتا۔ کفایت کے بعد تکلف آتا ہے، پھر تعیش آتا ہے اور پھر آدمی ان حدود سے گزر جاتا ہے جو انسانیت سے عبارت ہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں پہلے قدم کو روکا گیا ہے کہ تم اگر ایک آسودہ زندگی گزارنا چاہتے ہو تو اس کے لیے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ تمہیں عطا کیا ہے اور جو کچھ تم نے اپنے کاروبار میں لگا رکھا ہے اس میں جائز منافع پر اکتفا کرو کیونکہ جائز سے ناجائز کی طرف قدم بڑھانا یہی خرابی کا پہلا زینہ ہے۔ جب تم نے اس زینے پر قدم رکھ دیا پھر تم چڑھتے چلے جاؤ گے۔ کاروبار اللہ کی نعمت ہے۔ تاجر معاشرے کا ایک کارآمد فرد ہوتا ہے، لیکن وہ اس وقت تک معاشرے کے کام آتا ہے جب وہ تجارت کو لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ جائز منافع پر اکتفا کرتا ہے اور دوسروں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیتا ہے۔ اس بنیادی حقیقت سے صرف نظر کرنا اپنے ایمان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو دولت کی حرص اور ہوس سے اپنے آپ کو بچائو اور ہمیشہ ذہن میں یہ بات واضح رکھو کہ مال و دولت اللہ کی امانت بھی ہے اور ابتلاء بھی۔ انسان کو اس کے ذریعے آزمایا جاتا ہے۔ تمہیں مومن ہونے کی وجہ سے اپنا ایمان عزیز ہونا چاہیے۔ دولت کی ہوس اگر اس پر غالب آگئی تو ایمان تو کیا بچے گا دیانت و امانت بھی باقی نہیں رہیں گی۔ کردار کی عظمت گہنا کر رہ جائے گی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے میں نے تمہارے سامنے کھول کر بیان کردیا ہے۔ تم اگر اس سے ابا کرتے ہو تو میں تمہارا معاملہ خدا کے سپرد کرتا ہوں کیونکہ مجھے تم پر نگران نہیں بنایا گیا۔ میرا کام ابلاغ ہے، منوانا نہیں۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے یا ہم اپنے مالوں میں تصرف نہ کریں جیسے ہم چاہیں۔ بیشک تم ہی ایک دانا اور راست رو رہ گئے ہو۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ تَاْمُرُکَ اَنْ نَّتْرُکَ مَایَعْبُدُ اٰبَآؤْنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْ ٓ اَمْوَالِنَا مَانَشٰٓؤُا ط اِنَّکَ لاََ نْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ ۔ (سورۃ ہود : 87) (انھوں نے کہا اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے یا ہم اپنے مالوں میں تصرف نہ کریں جیسے ہم چاہیں۔ بیشک تم ہی ایک دانا اور راست رو رہ گئے ہو۔ ) حضرت شعیب کی دعوت کا جواب قوم کی طرف سے طنزیہ انداز میں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کے آغاز میں دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ کے سوا کسی اور کو اِلٰہ نہ مانو، اس کے سوا کوئی اور بندگی کے لائق نہیں۔ سروری اسی کو زیب دیتی ہے۔ اس لیے اس کے سوا کوئی غیرمشروط اطاعت کا مستحق نہیں۔ اس کی بےپناہ قدرتیں ہر ایک کے سہارے کے لیے کافی ہیں۔ اس لیے اس کے سوا کوئی اور سہارا نہیں اور دوسری بات آپ نے یہ فرمائی کہ تم اپنے معاملات میں خیانت کرنا چھوڑ دو ۔ ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو، لوگوں کی چیزیں انھیں گھٹا کے مت دو ، یعنی تم اپنے معاملات میں اللہ کے احکام کی اطاعت کرو اور اپنے خواہشات کے مطابق ان میں ہیرا پھیری مت کرو۔ چناچہ انھیں دونوں باتوں کے حوالے سے قوم نے آپ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو تجھے بہت دانا اور بینا آدمی سمجھتے تھے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تیری نمازوں نے تیری عقل برباد کردی۔ نماز ایک نیکی کی علامت ہے، اللہ ہی کی بندگی کا اظہار ہے اور اسی کے ہو رہنے کی ایک تربیت ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ تمہیں یہ بات سمجھائے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی مت کرو اور ان تمام معبودوں کو چھوڑ دو جن کی پوجا ہمارے آبائواجداد کرتے رہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہمارے آبائواجداد بیوقوف اور گمراہ تھے تو کیا تمہاری عقل و دانش نے تمہیں یہی سمجھایا ہے کہ تم اپنے آبائواجداد کو گمراہ ثابت کرو۔ ہم اپنے آبائواجداد کی عزت میں اگر کوئی اضافہ نہیں کرسکے تو کیا ان کی ذلت کا باعث بنیں، یہ ہم سے نہیں ہوسکتا۔ اور دوسری یہ بات کہ تمہارے امانت و دیانت کے اس وعظ کے نتیجے میں کیا ہم اپنے مالی معاملات میں اپنی آزاد روی سے دستبردار ہوجائیں، اپنے مال کے ہم خود مالک ہیں، اس میں تصرف بھی اپنی مرضی سے کریں گے۔ تمہاری بات کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں شاید اپنے مال پر حق ملکیت حاصل نہیں اور اس لیے ہمیں تصرف کا کوئی حق نہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں آج کے سرمایہ دارانہ نظام کی طرح قابل قبول نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنے لوگوں میں اس بات کا حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مال و دولت میں جس طرح چاہیں تصرف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، ان کی اس آزادی پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ اس لیے ہمیں ایسی نصیحت مت کریں جس سے ہماری عملی آزادی متاثر ہوتی ہو۔ ہم اپنے کاروبار میں اضافے کے لیے جس چیز کو مناسب سمجھیں گے وہ کریں گے۔ اور جس طرح کے طریقے اختیار کرنے سے ہمیں زیادہ نفع مل سکتا ہو، ہم وہی طریقے اختیار کریں گے۔ ہم بھی مومن ہیں، لیکن ایمان کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کاروباری معاملات میں مذہب کو داخل کردیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کو صرف پوجا پاٹ تک محدود رکھنا اور زندگی کے تمام معاملات کو یکسر اس سے لاتعلق قرار دے دینا جسے آج سیکولرازم کہا جاتا ہے۔ یہ آج کی اختراع نہیں، یہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کی سوچ ہے۔ وہ اللہ کو مانتے تھے، اپنے طریقے کے مطابق اس کی عبادت بھی کرتے تھے لیکن گھر کی چاردیواری سے باہر یا عبادت گاہ سے باہر وہ مذہب کو دخل دینے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ آیت کے آخری حصے میں حضرت شعیب پر طنز کیا گیا ہے کہ تم جس مستحکم لہجے میں ہمارے طوراطوار پر تنقید کرتے ہو اور ہمارے معمولات کو غلط قرار دیتے ہو اس کا مطلب تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہی ایک دانش مند ہو جسے عقل کی بات سوجھتی ہے اور تم ہی رشد و ہدایت کے مالک ہو۔ رہی یہ بات کہ قوم شعیب نے بطور خاص نماز کا حوالہ دے کر تنقید کیوں کی ؟ تفہیم القرآن کا نوٹ اس حوالے سے قابل توجہ ہے : یہ دراصل ایک طعن آمیز فقرہ ہے جس کی روح آج بھی آپ ہر اس سوسائٹی میں موجود پائیں گے جو خوف خدا سے غافل اور فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی ہے چونکہ نماز دینداری کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ نمایاں مظہر ہے اور دینداری کو فاسق و فاجر لوگ ایک خطرناک بلکہ سب سے زیادہ خطرناک مرض سمجھتے ہیں، اس لیے نماز ایسے لوگوں کی سوسائٹی میں عبادت کے بجائے علامتِ مرض شمار ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اپنے درمیان نماز پڑھتے دیکھ کر انھیں فوراً یہ احساس ہوجاتا ہے کہ اس شخص پر ” مرضِ دینداری “ کا حملہ ہوگیا ہے، پھر یہ لوگ دینداری کی اس خاصیت کو بھی جانتے ہیں کہ یہ چیز جس شخص کے اندر پیدا ہوجاتی ہے وہ صرف اپنے حسن عمل پر قانع نہیں رہتا بلکہ دوسروں کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بےدینی و بداخلاقی پر تنقید کیے بغیر اس سے رہا نہیں جاتا۔ اس لیے نماز پر ان کا اضطراب صرف اسی حیثیت سے نہیں ہوتا کہ ان کے ایک بھائی پر دینداری کا دورہ پڑگیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی انھیں یہ کھٹکا بھی لگ جاتا ہے کہ اب عنقریب اخلاق و دیانت کا وعظ شروع ہونے والا ہے اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں کیڑے نکالنے کا ایک لامتناہی سلسلہ چھڑا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی سوسائٹی میں نماز سب سے بڑھ کر طعن وتشنیع کا ہدف بنتی ہے اور اگر کہیں نمازی آدمی ٹھیک ٹھیک انہی اندیشوں کے مطابق جو اس کی نماز سے پہلے ہی پیدا ہوچکے تھے برائیوں پر تنقید اور بھلائیوں کی تلقین بھی شروع کردے تب تو نماز اس طرح کو سی جاتی ہے کہ گویا یہ ساری بلا اسی کی لائی ہوئی ہے۔