Ayah 11:88قَالَ یٰقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا ط وَمَآ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ اِلٰی مَآ اَنْھٰکُمْ عَنْہُ ط اِنْ اُرِیْدُ اِلاَّ الْاِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ ط وَمَا تَوْفِیْقِیْ ٓ اِلاَّ بِاللّٰہِ ط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ ۔ (سورۃ ہود : 88)
(حضرت شعیب نے کہا، اے میری قوم ! تمہارا کیا خیال ہے اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے عمدہ روزی بھی عطا کی ہے اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس امر میں تمہاری مخالفت کروں جس سے میں تمہیں روکتا ہوں۔ میں تو صرف تمہاری اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرا بس ہے۔ اور نہیں ہے میرا راہ پانا مگر اللہ تعالیٰ کی امداد سے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ )
بَیَّنَۃٍاور رزق حسن کا مفہوم
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے ان پر طنز کرتے ہوئے نماز کا طعنہ دیا تھا۔ ان کا گمان یہ تھا کہ نمازی لوگ سیدھے سادھے، صوفی صافی اور دنیا سے بیخبر ہوتے ہیں۔ انھیں یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا کہ دنیوی معاملات کیسے چلتے ہیں۔ البتہ نماز کی وجہ سے انھیں نیکی کا زعم ہوجاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو نیک سمجھتے ہوئے دوسروں پر جا و بےجا تنقید کرتے رہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں حضرت شعیب نے ان کے طنز اور ان کی بیخبر ی کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں جو میری نماز کھلتی ہے اور تم نے اس کو طنز کا ذریعہ بنا لیا ہے، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ نماز دراصل ضمیر کی زندگی اور نور فطرت کے روشن ہونے کی دلیل ہے، جس شخص کے دل میں روشنی ہے، جس کے اندر اجالا ہے، جس کا ضمیر اسے صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اللہ کی یاد سے غافل ہو۔ جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ نماز اللہ کے ذکر کے لیے پڑھی جاتی ہے اور اس کی یاد کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور وہ پھر بھی نماز نہ پڑھے یہ کیسے ممکن ہے۔ تمہیں میری نماز پر نہیں بلکہ اپنے نور فطرت کے بجھ جانے پر ملال ہونا چاہیے۔ اپنے ضمیر کی موت پر فکرمندی ہونی چاہیے۔ رہی یہ بات کہ میں تمہیں کاروبار میں امانت و دیانت کی ترغیب کیوں دیتا ہوں اور ناپ اور تول میں کمی بیشی سے کیوں روکتا ہوں اور مالی معاملات کو جائز طریقوں پر چلانے کی تاکید کیوں کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھے تمہاری خوشحالی سے حسد ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تم اپنے کاروبار میں ترقی کرو۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کوئی نادار اور قلاش آدمی نہیں ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے رزق حسن کی روزی دی ہے۔ مجھے خوشحالی سے نوازا ہے، مجھے ایسی دولت دی ہے جس میں حرام کا کوئی پیسہ نہیں اور جو میری آسودگی کا باعث ہے اور میرا کاروبار تمہارے ساتھ ساتھ چل رہا ہے لیکن میں کاروبار کی ترقی کے لیے تمہاری طرح غلط ذرائع اختیار نہیں کرتا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ میری ضرورتیں پوری فرما رہا ہے۔
مَآ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ کا محمل
جو آدمی ضمیر کی زندگی سے زندہ ہو، جس کے اندر فطرت کا نور روشن ہو، جو زندگی کے معاملات میں نہایت صاف ستھرا اور حدود میں محدود ررہنے والا ہو اس کے بارے میں یہ کیسے سوچا جاسکتا ہے کہ وہ جن غلط کاموں سے تمہیں روک رہا ہے خود ان کی مخالفت کرے گا۔ جب اس نے تمہارے اندر رہتے ہوئے بھی نبوت سے پہلے بھی کبھی غلط طریقہ اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی اور کبھی کسی غلط راستے پر چلتے ہوئے تم نے اسے نہیں دیکھا تو آج جبکہ وہ نبوت کے منصب پر فائز ہے تو وہ ان باتوں میں غلط راستہ کیسے اختیار کرسکتا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے احکام نازل ہوچکے ہوں اور جن کی وجہ سے وہ تمہیں غلط باتوں سے روکتا ہے۔
پیغمبر کی حیثیت
آپ نے قوم کے سامنے اپنی اصل حیثیت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تم مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔ میں تمہارا کسی معاملے میں حریف نہیں ہوں۔ میں تمہاری بہتری کا خواہاں تو ہوسکتا ہوں، حاسد نہیں ہوسکتا۔ میری صحیح پوزیشن یہ ہے کہ میں صرف تمہاری اصلاح چاہتا ہوں۔ یعنی تمہارے عقائد اور تمھاراے اعمال کو سنوارنا چاہتا ہوں۔ میں تمہارے تمام معاملات کی درستی چاہتا ہوں اور یہ چاہنا صرف خواہش تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے اللہ نے مجھے جتنی طاقت عطا فرمائی ہے اسے آخری حد تک نچوڑ دینا چاہتا ہوں۔ لیکن مجھے دنیوی رہنمائوں کی طرح اپنی ذات پر بھروسہ نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے۔ میں اپنے تمام کاموں اور تمام مقاصد میں اسی سے توفیق مانگتا ہوں۔ اسی کے ہاتھ میں ہر کام کی ابتدا اور انتہا ہے۔ تمام وسائل اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ جو چاہتا ہے، سو ہوتا ہے۔ اس لیے میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور اپنی ناکامیوں یا اپنی ناتوانیوں میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ وہی میری طاقت ہے اور وہی طاقت عطا کرنے والا ہے۔
Ayah 11:89وَیٰقَوْمِ لاَیَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِیْ ٓ اَنْ یُّصِیْبَکُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ ھُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ط وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْد۔ (سورۃ ہود : 89)
(اور اے میری قوم کہیں میری ضد تمہارے لیے اس امر کا باعث نہ بن جائے کہ تم پر بھی اس طرح کی آفت نازل ہو جس طرح کی آفت قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر نازل ہوئی اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور بھی نہیں۔ )
ہدایت کے ردوقبول میں افراد کی ذہنیت
ہدایت کے ردوقبول میں افراد اور اقوام کی ذہنیت ایک جیسی واقع ہوئی ہے۔ جب بھی ان کی ہدایت کے لیے اللہ کا کوئی رسول آیا ہے یا کوئی مصلح ان کی اصلاح کے لیے اٹھا ہے تو یہ شروع شروع میں اس سے بےاعتنائی اختیار کرتے ہیں، پھر رفتہ رفتہ مخالفت شروع ہوتی ہے اور اس میں شدت آتی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے جب داعی سے مخالفت دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ پھر اس کا ہدف داعی کی ذات ہی نہیں رہتی بلکہ دعوت کی ہر بات سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ فیصلہ کرلیا جاتا ہے کہ دعوت دینے والے کی ہر بات کو رد کیا جائے گا بلکہ حتی الامکان اس کا راستہ روکا جائے گا۔ اس کے لیے چاہے اپنا نقصان کیوں نہ کرنا پڑے۔ اسلامی تاریخ کا یہ واقعہ شاید اس کی دلیل بن سکے کہ جب مسیلمہ کذاب نے نجد کے علاقے میں نبوت کا کھڑاگ رچایا اور بنوتمیم کو اپنے گرد اکٹھا کرلیا جبکہ بنو تمیم کو قریش سے پرانی دشمنی تھی۔ چناچہ جب ایک گفتگو میں ایک مسلمان نے بنو تمیم کے ایک ذمہ دار آدمی سے یہ کہا کہ تم سمجھدار لوگ ہو، ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ تم نے نبی کریم ﷺ کے مقابلے میں مسیلمہ میں آخر ایسی کیا بات دیکھی کہ تم نے اس کو نبی مان لیا۔ تو اس نے جواب دیا کہ مسیلمہ جو کچھ ہے وہ ہم جانتے ہیں، لیکن بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک بنو تمیم کا جھوٹا نبی قریش کے سچے نبی سے بہتر ہے۔ جب ہدایت اور حق کے ردوقبول میں اس طرح کی دشمنیاں حائل ہوجائیں تو پھر حق و ناحق کا فرق اٹھ جاتا ہے اور قومیں تعصبات کا شکار ہو کر صرف اپنی عصبیتوں کی پیروی کرتی ہیں، حق کی پیروی نہیں کرتیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم بھی ایسے ہی امراض کا شکار تھی اور اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہوچکی تھی۔ انھیں اس سے غرض نہیں تھی کہ حضرت شعیب جس بات کی طرف بلا رہے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط۔ انھیں تو حضرت شعیب کی ہر بات سے ضد تھی۔ ان کے اس رویئے کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت شعیب حق نصیحت ادا کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ اے میری قوم ! میں تمہیں اپنی دشمنی سے نہیں روکتا لیکن خدا کے لیے میری دشمنی میں اپنی ناک تو نہ کٹوا لو۔ اپنے نفع و ضرر کے پیمانوں کو تو نہ توڑو۔ تم کھلے دل سے غور کرو کہ میں جو کچھ تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں، وہ صحیح ہے یا غلط۔ اگر وہ صحیح ہے تو پھر محض میری دشمنی میں اس کو رد کردینا اپنی قسمت پھوڑنا ہے۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تم سے پہلے جن قوموں پر عذاب آیا ہے ان کا رویہ بھی یہی تھا۔ اور بالآخر وہ تباہ ہوگئیں تو کیا تم بھی انھیں کا رویہ اختیار کرنے کے بعد اپنے آپ کو اسی تباہی کی طرف لے جارہے ہو۔ عقلمندی کی بات یہ ہے کہ جس بات سے کسی نے نقصان اٹھایا ہے اس نقصان دہ بات سے بچا جائے، چاہے وہ بات دشمن ہی کیوں نہ کہہ رہا ہو، پھر میں تو تمہارا دشمن نہیں ہوں۔ میں نے خون کے گھونٹ پی پی کر تمہاری اصلاح کی کوشش کی ہے، ہمیشہ تمہارے ساتھ خیرخواہی کا ثبوت دیا ہے۔ اب ایک ایسی واضح بات جسے قبول نہ کرکے قوموں کی قومیں تباہ ہوچکی ہیں تم بھی محض اس لیے اس کو قبول نہیں کررہے کیونکہ تمہارے دلوں میں میری دشمنی اتر گئی ہے۔ خدا کے لیے اس بات پر غور کرو، قوم لوط کا انجام تو بہت دور کی بات بھی نہیں۔ ان کا علاقہ کا بھی تم سے دور نہیں۔ دوسروں سے نہیں تو انھیں سے عبرت حاصل کرو۔
Ayah 11:90وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْ ٓا اِلَیْہِ ط اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ۔ (سورۃ ہود : 90)
(اور اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب بڑا مہربان اور بہت پیار کرنے والا ہے۔ )
استغفار و توبہ کی ترغیب
ایک ایسی قوم جو اللہ کے رسول کی دعوت سے دشمنی کا رشتہ استوار کرچکی ہے۔ وہ رسول کی جان کے درپے ہے اور اس کی دعوت کی ہر بات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ایسی قوم کے بارے میں انتہائی غیرجانبدار شخص کو بھی اگر فیصلہ کرنے کے لیے بھی کہا جائے تو وہ بھی یقینا یہی کہے گا کہ ایسی قوم کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن اللہ کے رسولوں کی صداقت اور ان کے من جانب اللہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہی یہ ہے کہ وہ آخر حد تک کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس میں انسانی جذبات نظر آرہے ہوں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دیکھئے قوم دشمنی پر تلی کھڑی ہے لیکن حضرت شعیب اللہ کے حکم سے انھیں استغفار کی دعوت دے رہے ہیں اور نہایت پیار سے ترغیب دے رہے ہیں کہ نادانو ! اس سے مغفرت کی طلب کرو جو صرف تمہارا خالق ومالک ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی ہے۔ تمہارے ظاہری اور باطنی تربیت کے تمام امکانات اسی نے مہیا کیے ہیں۔ اس نے تمہاری زندگی کو کس قدر مطمئن اور آسودہ بنایا ہے اور تمہیں ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اور پھر وہ ایسا رب ہے کہ بڑے سے بڑے پاپی پر بھی اپنے کرم کے دروازے بند نہیں کرتا۔ اس کی رحمت ہمیشہ پکارتی رہتی ہے اور اس کا درِ مغفرت ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ تم تباہی کی طرف بڑھ رہے ہو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں، میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ اپنے رب سے مغفرت طلب کرو۔ یعنی آج تک تم نے جیسی کچھ اس کی نافرمانیاں کی ہیں اس کی معافی مانگو اور پھر اس کی طرف پلٹ جاؤ۔ یعنی آئندہ کے لیے عہد کرو کہ تم کوئی ایسا کام نہیں کرو گے جو اسے ناراض کرنے والا ہو۔ اور یہ مت خیال کرو کہ تمہاری گزشتہ سرکشی اور نافرمانی کے باعث وہ تم سے منہ پھیر لے گا یا تمہیں دھتکار دے گا، ایسا ہرگز نہیں، وہ تو رحیم بھی ہے اور ودود بھی ہے۔ بجائے غضب فرمانے کے وہ رحم فرماتا ہے اور بجائے ناراض ہونے کے وہ محبت کرتا ہے۔ جب کوئی روسیاہ شکستہ دل ہو اس کے حضور میں حاضر ہوتا ہے تو بجائے دھتکارنے کے نہایت خوشی کا اظہار فرماتا ہے۔ ایک حدیث شریف میں حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کچھ جنگی قیدی گرفتار ہو کر آئے۔ ان میں ایک عورت بھی تھی جس کا شیرخوار بچہ چھوٹ گیا تھا اور وہ مامتا کی ماری ایسی بےچین تھی کہ جس بچے کو پا لیتی اسے چھاتی سے چمٹا کر دودھ پلانے لگتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا حال دیکھ کر ہم سے پوچھا، کیا تم لوگ یہ توقع کرسکتے ہو کہ یہ ماں اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں آگ میں پھینک دے گی۔ ہم نے عرض کیا، ہرگز نہیں۔ خود پھینکنا تو درکنار وہ آپ گرتا ہو تو یہ اپنی حد تک اسے بچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔ فرمایا : اللہ کا رحم اپنے بندوں پر اس سے بہت زیادہ ہے جو یہ عورت اپنے بچے کے لیے رکھتی ہے۔
Ayah 11:91قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَہُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰکَ فِیْنَا ضَعِیْفًا ج وَلَوْلاَ رَھْطُکَ لَرَجَمْنٰکَ ز وَمَآ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٌ۔ (سورۃ ہود : 91)
(وہ بولے اے شعیب ! ہم نہیں سمجھتے بہت سی باتیں جو تو کہتا ہے، بلاشبہ ہم تجھے دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں بہت کمزور ہے۔ اگر تیرے خاندان کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم نے تمہیں سنگسار کردیا ہوتا۔ اور تم ہم پر کوئی بھاری نہیں۔ )
بات نہ سمجھنے کا مفہوم
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تمام تر خیرخواہی اور ہمدردی کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم کے رویئے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی بلکہ ان کی دشمنی میں اضافہ ہوتاچلا جاتا ہے۔ آپ جس قدر محبت اور پیار سے انھیں پکارتے ہیں وہ اسی قدر رعونت اور نفرت سے جواب دیتے ہیں۔ چناچہ اسی رعونت کے انداز میں انھوں نے کہا کہ شعیب اپنی دعوت اور اپنا وعظ بند کرو۔ تم جو کچھ کہتے ہو اس میں بیشتر باتیں ہمیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تم اتنی عالمانہ باتیں کرتے ہو جو ہم جیسے عامیوں کے لیے ناقابل فہم ہیں۔ حالانکہ حضرت شعیب انھیں میں سے ایک فرد تھے، انھیں کی زبان بولتے تھے اور انھیں کی عادات قبیحہ کی اصلاح فرمانا چاہتے تھے۔ انھیں کے برے افکار اور غلط عقائد پر تنقید کررہے تھے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ان کے فہم سے بالا تھی اور نہ ان کے لیے اجنبی تھی، لیکن ان کا یہ کہنا کہ ہم تمہاری بیشتر باتوں کو سمجھ نہیں رہے، اس کا مطلب اظہاررعونت کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ ہم تمہیں اس قابل نہیں سمجھتے کہ تمہاری باتوں پر غور کرسکیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ تم کسی اور بستی کا رخ کرو۔
اس کا ایک مفہوم اور بھی ممکن ہے جس میں رعونت بھی ہے اور علمی برتری کا پندار بھی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) جب انھیں کاروبار کے معاملے میں دیانت و امانت کے ملحوظ رکھنے، سچ بولنے اور اللہ کے احکام کی پابندی کرنے کا حکم دیتے تو وہ جواب میں یہ کہتے کہ تم نہ جانے کس زمانے کی باتیں کرتے ہو۔ آج اگر کوئی شخص کاروبار کو ترقی دینا چاہتا ہے تو وہ سچ بول کر اور دیانت و امانت کو ملحوظ رکھ کر کبھی نہیں دے سکتا۔ کاروبار میں قدم قدم پر جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ قدم قدم پر خیانت کرنا پڑتی ہے۔ رہے وہ احکام جو حلال و حرام پر مشتمل ہیں تو ان کی پابندی کرنا تو اور بھی مشکل ہے اور آپ کو انھیں باتوں پر اصرار ہے اور ساتھ ہی آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ آپ کے کاروبار میں ترقی بھی دے گا تو یہ باتیں ہماری سمجھ سے بالا ہیں۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ کاروبار بغیر جھوٹ بولے اور بغیر خیانت کیے اور بغیر دنیا کے ساتھ چلے ممکن نہیں۔ اور آپ اس کے بالکل برعکس ہمیں چلانا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ہم آپ کی باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں، لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ اپنی دعوت سے رکنے والے نہیں اور آپ کو اپنی باتوں پر اس حد تک یقین ہے کہ آپ کسی اور بات کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس لیے ہمارے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم سختی سے کام لیں اور آپ سے صاف صاف کہہ دیں کہ تم ہمارے لیے کمزور آدمی ہو۔ تم قوت سے اپنی بات کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ البتہ ایک تشویش ضرور پیدا کرسکتے ہو۔ اس کا علاج اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم تمہاری زبان بند کردیں۔ ابھی تک تمہارے کنبے کا لحاظ ہمیں روکے ہوئے ہے ورنہ تمہیں قتل کردینا ہمارے لیے کوئی گراں نہیں۔
قومِ شعیب نے آخر کار جو رویہ اختیار کیا یہ اس رویہ سے بالکل مختلف نہیں جو قریش آنحضرت ﷺ کے بارے میں اختیار کرچکے تھے۔ وہ آپ کی دعوت سے تنگ آکر آپ کے قتل کے منصوبے باندھنے لگے تھے۔ ان کے راستے میں بھی اگر کوئی رکاوٹ تھی تو وہ صرف آپ کا خاندان تھا۔ لیکن ابوطالب کی وفات کے بعد اب وہ اپنے منصوبوں پر عمل کرنے میں آسانی محسوس کرنے لگے تھے۔ اس لیے انھوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ لیکن اللہ نے آپ کو بخیریت تمام وہاں سے نکال لیا۔ ان آیات کے نزول سے مشرکینِ مکہ کو ان کے رویئے پر توجہ دلانا بھی مقصود ہے کہ تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو یہ کوئی نئی بات نہیں، اس سے پہلے بھی اللہ کے رسولوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ لیکن وہ لوگ کبھی اس میں کامیاب نہیں ہوئے اور تم بھی اس میں کامیاب نہ ہوسکوگے اور ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ یہ لوگ ہزار تدبیریں کریں اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی حفاظت فرمائے گا۔
Ayah 11:92قَالَ یٰـقَوْمِ اَرَھْطِیْ ٓ اَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ ط وَاتَّخَذْتُمُوْہُ وَرَآئَ کُمْ ظِھْرٍیًّا ط اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (سورۃ ہود : 92)
(حضرت شعیب نے فرمایا : اے میری قوم ! کیا میرا کنبہ زیادہ بھاری ہے تم پر اللہ تعالیٰ سے، اور اس کو تو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ میرا رب جو کچھ تم کررہے ہو سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ )
نبی کا سہارا خاندان نہیں، خدا ہے
سابقہ آیت کریمہ میں جو کچھ قوم نے حضرت شعیب سے کہا وہ انتہائی ناگوار اور ناقابل برداشت تھا۔ لیکن حضرت شعیب نے نہ جانے اسے کس طرح برداشت کیا اور نہایت ٹھنڈے انداز میں اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم تم یہ کہتے ہو کہ تم نے آج تک میرے کنبے کی وجہ سے مجھے زندہ رہنے دیا ہے لیکن مجھے اس بات پر حیرت ہے، میں اللہ کا رسول ہوں، میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، اس کی جانب سے کہہ رہا ہوں اور جو کچھ کر رہا ہوں، اس کے احکام کی تعمیل میں کررہا ہوں۔
میں ان کے مطلب کی کہہ رہا ہوں زبان میری ہے بات ان کی
میں ان کی محفل سجا رہا ہوں، چراغ میرا ہے رات ان کی
میرا آقا و مولا بھی وہی ہے اور میرا ملجا و ماویٰ بھی وہی۔ میری قوت بھی وہی ہے اور میری پناہ گاہ بھی وہی۔ اور تم بھی اس کی قوتوں سے بیخبر نہیں ہو۔ لیکن تمہیں اس کا خوف نہیں نہ اس کا لحاظ ہے۔ البتہ تمہیں میرے خاندان کا خوف یا لحاظ ہے۔ اور اللہ کی ذات کو تم نے ایسے پس پشت ڈال دیا ہے جیسے وہ تمہارے نزدیک ناقابل اعتناء ہے۔ کیا تم اس بات سے لاپرواہ ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو تمہارے اعمال کو جانتی ہے اور تم اپنے تئیں کچھ بھی سمجھو وہ تمہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اس کا حلم اور اس کی بےنیازی اگر تمہیں مہلت دے رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اس کی ذات کو ناقابل اعتناء سمجھنے لگو۔ تم جس انتہا تک پہنچ گئے ہو اس میں شاید نصیحت کا تو کوئی موقع باقی نہیں رہا۔ البتہ ایک بات کہی جاسکتی ہے جسے اگلی آیت کریمہ میں کہا جارہا ہے۔
Ayah 11:93وَیٰـقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ط سَوْفَ تَعْلَمُوْن لا مَنْ یَّاْتِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَمَن ھُوَ کَاذِبٌ ط وَارْتَقِبُوْ ٓٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ رَقِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 93)
(اور اے میری قوم تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ اور میں اپنی جگہ پر عمل کروں گا۔ تم عنقریب جان لو گے کس پر آتا ہے وہ عذاب، جو اسے رسواکردے گا اور کون جھوٹا ہے اور تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔ )
اظہاربراء ت
اب تم سے صرف یہی ایک آخری بات کہی جاسکتی ہے کہ تمہیں اگر میری کسی بات پر اعتماد نہیں بلکہ ہر بات کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتے ہو تو پھر تم سے اظہار براءت کرتے ہوئے یہ کہتا ہوں کہ میرے بس میں جو کچھ تھا اس کے کرنے میں، میں نے کوتاہی نہیں کی۔ تبلیغ و دعوت کے جس قدر تقاضے ہوسکتے ہیں، میں نے ایک ایک کے پورا کرنے میں اپنی جان کھپا دی، لیکن اب جبکہ تم نے میری نبوت سے انکار کا قطعی فیصلہ کرلیا ہے اور میری طرف سے اتمام حجت ہوچکا ہے تو اس کے بعد مجھ پر کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہتی۔ میں نے ہر نیک و بد تم پر واضح کردیا ہے، اب اگر تم اپنی ڈگر پر قائم رہنا چاہتے ہو تو شوق سے اپنے راستے پر چلتے رہو، جو تمہارے معمولات ہیں انھیں جاری رکھو اور میں اپنے معمولات کو جاری رکھوں گا۔ اِنِّیْ عَامِل کے بعد عَلٰی مَکَانَتِیْمحذوف ہے اور سابقہ جملہ اس پر قرینہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اگر اپنی سرکشی سے باز آنے والے نہیں تو میں بھی اپنی تبلیغ و دعوت کے فریضہ کی ادائیگی سے رکنے والا نہیں، لیکن یہ میں یہ واضح کرتا ہوں کہ اب میں معاملہ اللہ کے سپرد کرچکا ہوں۔ اب اس کے بعد صرف عذاب آئے گا اور کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ رہی یہ بات کہ وہ عذاب کب آتا ہے، میں کوئی عالم الغیب نہیں کہ تمہیں ٹھیک اس کا وقت بتاسکوں۔ البتہ یہ ضرور جانتا ہوں کہ تمہارے اندر وہ تمام علامات پیدا ہوچکی ہیں جس کے بعد عذاب آجایا کرتا ہے۔ اس لیے اب تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں کہ اللہ ہم دونوں میں کیا فیصلہ کرتا ہے کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ اپنا رسول بھیج کر جب کسی قوم پر اتمام حجت کردیتا ہے تو پھر اس قوم کا فیصلہ چکا دیتا ہے۔ اب تمہارا بھی فیصلہ چکانے کا وقت آگیا ہے۔ البتہ وہ فیصلہ کب آتا ہے اس کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔ لیکن دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ عنقریب تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے ایک عذاب آئے گا جو سچے اور جھوٹے میں فیصلہ کردے گا۔ جو اس عذاب کا نشانہ بنے گا وہ جھوٹا ہوگا۔ اور جو اس سے بچ جائے گا تو وہ سچا ہوگا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی حفاظت میں لے لیں گے۔ اب جبکہ کوئی دلیل اور کوئی حجت ہمارے درمیان فیصلہ کن نہیں رہی تو اس عذاب سے اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائیں گے، لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں ان لوگوں کو زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا جنھوں نے اپنے کفر پر اصرار جاری رکھا۔
Ayahs 11:94–95وَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ط اَلاَ بُعْدًالِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ۔ (سورۃ ہود : 94، 95)
(اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے بچا لیا شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے، آپ کے ساتھ، اپنی خاص رحمت سے۔ اور پکڑ لیا ظالموں کو خوفناک کڑک نے، تو انھوں نے صبح کی اپنے گھروں میں اس حال میں کہ وہ اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔ گویا وہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، خبردار دوری ہے مدین کے لیے جیسے دوری ہے ثمود کے لیے۔ )
قوم شعیب پر عذاب
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو جس عذاب کے انتظار کے لیے کہا تھا آخر وہ عذاب آگیا اور وہ اس طرح آیا کہ ایک کڑک اور دھماکے نے ان کے جگر پاش پاش کردیئے اور قرآن کریم کی دوسری تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر ان پر زلزلہ بھی آیا اور آسمان پر اس طرح گھٹا تل کے آئی جس سے ان پر پتھر برسائے گئے۔ وہ آواز ہی کے دھماکے سے اوندھے منہ اپنے گھروں میں گرگئے اور عذاب کی تکمیل کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان گھروں میں کبھی کوئی آباد نہیں رہا تھا اور یہ ایک ویرانہ تھا جس میں کبھی کوئی بسنے والا نہیں بسا تھا۔ پھر اس کے بعد دنیا والوں کو سنا کے فرمایا : کہ لوگو ! اچھی طرح سن لو، کہ مدین کے لیے دوری اور ہلاکت ہو جس طرح ثمود کے لیے ہو۔ یعنی یہ وہ قومیں ہیں جو ہمیشہ کے لیے اللہ کی رحمت سے دھتکار دی گئیں۔
Ayahs 11:96–99وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰـتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاْ ئِہٖ فَاتَّبَعُوْ ٓا اَمْرَفِرْعَوْنَ ج وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْد۔ یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ ط وَبِئْسَ الْوِرْدُالْمَوْرُوْدُ ۔ وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہٖ لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط بِئْسَ الرِّفْدُالْمَرْفُوْدُ ۔ (سورۃ ہود : 96، 97، 98، 99)
(ہم نے بھیجا موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنی آیات اور ایک روشن نشانی کے ساتھ رسول بنا کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو انھوں نے فرعون ہی کی بات مانی، حالانکہ فرعون کی بات راست نہ تھی۔ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور ان کو دوزخ میں لے جا اتارے گا اور کیا ہی برا گھاٹ ہوگا جہاں انھیں اتارا جائے گا۔ اور ان کے پیچھے لگا دی گئی اس دنیا میں لعنت۔ اور قیامت کے دن بھی۔ کیا ہی برا عطیہ ہے جو انھیں دیا گیا ہے۔
تمہید
متعدد انبیاء اکرام کے حالات بیان کرنے کے بعد اب نہایت اختصار سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت بیان فرمائی جارہی ہے۔ یاد ہوگا کہ سورة یونس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت تفصیل سے بیان کی گئی تھی اور باقی انبیاء اکرام کی اختصار سے۔ اب اس سورت میں اس کے بالکل برعکس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کی طرف صرف اشارات کیے گئے ہیں اور باقی چند انبیاء کرام کی سرگزشتیں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔ مقصد اس کے بیان کا وہی ہے جو دیگر انبیاء کرام کی سرگزشتوں کا مقصد ہے۔ مشرکینِ مکہ کو تنبیہہ کرنا ہے کہ تم نے اگر اپنا رویہ نہ بدلا اور تم اسی ڈگر پر چلتے رہے جس طرح پہلی معذب قومیں چلتی رہی ہیں تو پھر ان کی سرگزشتوں کے آئینہ میں تمہیں اپنا انجام دیکھ لینا چاہیے اور نبی کریم ﷺ کو یہ تسلی ہے کہ آپ مخالفین کی دشمنی سے پریشان نہ ہوں ہر پیغمبر کے ساتھ اس کی قوم نے ہمیشہ یہی سلوک کیا ہے لیکن آخرکار غلبہ ہمیشہ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو ملتارہا ہے۔ مشرکینِ مکہ بہت جلد تاریخ کی اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور آپ پر بھی انشاء اللہ بہت جلد فتح و نصرت کی سحر طلوع ہوگی۔
حضرت موسیٰ و فرعون کی سرگزشت اور سلطان مبین کا مفہوم
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کا آغاز کرتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور سلطان مبین کے ساتھ فرعون اور اعیانِ فرعون کی ہدایت کے لیے بھیجا تھا۔ اس میں آیات سے مراد وہ نو نشانیاں ہیں جس کا ذکر سورة الاسراء میں آئے گا اور سلطان مبین سے مراد معلوم ہوتا ہے، عصائے موسیٰ ہے۔ یہ وہ عظیم معجزہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر نبوت عطا فرماتے ہوئے عطا فرمایا۔ جیسے ہی آپ کوہ طور پر پہنچے اور آپ کو بتایا گیا کہ آپ طور کی پاکیزہ وادی میں پہنچ گئے ہیں۔ سب سے پہلے جوتا اتارنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر آپ کو نبوت سے نوازا گیا اور دین کی چند بنیادی حقیقتوں سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے بعد اچانک پوچھا کہ موسیٰ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ عرض کیا : میری لاٹھی ہے، جس سے میں تھکاوٹ کے وقت ٹیک لگا لیتا ہوں اور بکریاں چراتے ہوئے اس کے ذریعے بکریوں کے چرنے کے لیے درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں اور بھی اس سے کئی کام لیتا ہوں۔ ارشاد فرمایا : اسے زمین پر پھینک دو ۔ پھینکنے کی دیر تھی کہ وہ ایک اژدھا بن گیا اور دوڑنے لگا، کیونکہ اگر ایسا اژدھا بنتا جو بےحس و حرکت پڑا رہتا تو یہ سمجھا جاتا کہ شاید نظر کا فریب ہے لیکن اسے دوڑتا ہوا دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ڈر گئے۔ ان کے لیے رات کی تاریکی اور پہاڑوں کے سناٹے ایک عجیب تجربہ تھا کہ وہ غیب سے آوازیں سن رہے تھے۔ ایک درخت سے روشنی پھوٹ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ جل رہا ہے لیکن جلنے کے باوجود اس کی سرسبزی میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی۔ اس کی سرسبز شاخیں اور اس کے سبز پتے ویسے ہی آگ میں لہرا رہے تھے۔ ایک عجیب، حیران اور سراسیمہ کردینے والا منظر تھا۔ اس میں اچانک دیکھا کہ اپنے ہاتھ کی لاٹھی اتنا بڑا سانپ بن گئی ہے۔ آپ ڈر کے بھاگے، آواز آئی کہ موسیٰ پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔ تم اسے پکڑ لو، ہمیں اس کو پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ چناچہ آپ نے آگے بڑھ کر اسے ہاتھ لگایا تو وہ پہلی جیسے لاٹھی بن گئی۔ اس معجزے کو سلطان مبین شاید اس لیے کہا گیا ہے کہ آپ جب ہدایت کی دعوت لے کر فرعون کے دربار میں پہنچے تو اس نے نہایت تند و تلخ باتیں کیں۔ لیکن جب آپ نے اسے بتایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے پوچھا تمہارے پاس اس کی کیا نشانی ہے تو آپ نے سندماموریت کے اظہار کے طور اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدھا بن کر دربار میں لہرانے لگا تو پورے دربار پر ایک خوف طاری ہوگیا اور وہ فرعون جو بڑھ بڑھ کر باتیں بنا رہا تھا اور اس کا انگ انگ اظہارتمکنت میں پھڑک رہا تھا، سہم گیا۔ لوگوں نے اسے تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں یہ سراسر جادوگری ہے، شعبدہ بازی ہے۔ ہم بھی اپنے جادو گروں کو اکٹھا کرتے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں یہ فن نہایت ترقی یافتہ ہے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ اس پر غالب آجائیں گے، لیکن جب جادوگروں کے ساتھ ایک کھلے مقابلے میں ہزاروں آدمیوں کی نگاہوں کے سامنے اس عصا نے سانپ بن کر جادوگروں کا تمام طلسم توڑ ڈالا اور جادوگر سجدے میں گرگئے تو اب فرعون اور آل فرعون کے لیے اور کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ کسی طرح اس موقع کو ٹال دیں، لیکن وہ دل ہی دل میں اس حد تک مرعوب ہوچکے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سامنا کرنا ان کے لیے آسان نہ رہا۔ اس وجہ سے قرآن کریم نے اسے سلطان مبین یعنی کھلے کھلے غلبے یا حجت غالبہ کے نام سے یاد فرمایا ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ اعیانِ سلطنت اور قوم فرعون کے دوسرے سربرآوردہ لوگ جو قوم کو لیڈ کرتے تھے باوجود اس کے کہ وہ اس حقیقت کو پاچکے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں اللہ کے پیغمبر ہیں، لیکن اربابِ اقتدار کے لیے اقتدار سے الگ ہونا اور ایک فقیر بےنوا کی اقتداء کرنا ناممکن سی بات تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انھیں پیغمبر تسلیم کرلیا گیا تو پھر ہر معاملے میں فرمانبرداری ان کی کرنا پڑے گی اور وہ پر تعیش زندگی جس کے وہ عادی تھے اور وہ حاکمانہ وجاہت جو ان کی پہچان تھی اس سے یکسر دستکش ہوناپڑے گا۔ اس لیے انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کی بجائے فرعون اور فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ وہ جانتے تھے کہ نہ فرعون راستی پر ہے اور اس کے احکام راستی پر ہیں۔ وہ انسان ہو کر انسانوں سے پوجا کرواتا ہے، محتاج ہو کر اپنے آپ کو رب کہتا ہے۔ اپنے اعیانِ سلطنت اور اپنی قوم کے سوا اس نے سب کو غلام بنا رکھا ہے۔
تیسری آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جس طرح دنیا میں قوم فرعون نے اس کی پیروی کی اور اس کے پیچھے پیچھے چلتے رہے بالآخر اس کے نتیجے میں وہ بھی بحرقلزم میں غرق ہوا اور اس کی قوم کے تمام بڑے بڑے لوگ بھی۔ قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ ان سے یہی معاملہ کرے گا کہ جب انھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو فرعون اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور وہ اس طرح چل رہا ہوگا جیسے کسی صحرا میں قافلہ بھٹک جائے اور پانی کا ذخیرہ ان کے پاس ختم ہوجائے تو وہ پانی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ اس کے بغیر زندگی نہیں بچے گی تو ان کا جو اصل پانی کا کھوج لگانے والا ہوتا ہے وہ سب سے آگے آگے چلتا ہے۔ یہاں بھی فرعون ان کے آگے آگے چلے گا اور انھیں جہنم کی آگ پر لا اتارے گا کیونکہ وہاں جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کس قدر برا ہے وہ گھاٹ جس پر انھیں اتارا گیا۔
قرآن کریم کی دوسری تصریحات سے اس منظرنامے پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خیر و شر کے حوالے سے قوموں کے لیڈر وہاں بھی اپنے پیروکاروں کے آگے چلیں گے، لیکن وہ منظر دیکھنے کے قابل ہوگا۔ اگر آگے چلنے والا شر اور گمراہی کا امام ہوگا اور لوگ دیکھیں گے کہ اسی شخص کی غلط قیادت کی وجہ سے ہم اس انجام کو پہنچے ہیں۔ اگر یہ شخص گمراہی میں ہماری قیادت نہ کرتا تو ہم آج یہ دن نہ دیکھتے۔ چناچہ وہ شخص آگے آگے ان کی قیادت کرتا ہوا جہنم کی طرف بڑھتا جائے گا اور پیچھے چلنے والے مسلسل گالیوں، بددعائوں اور لعنتوں سے اسے نواز رہے ہوں گے۔ دنیا ہوتی تو یہ کبھی اس کے سامنے زبان نہ کھولتے لیکن آج یہ وہاں ہیں جہاں کوئی کسی کی زبان نہیں پکڑ سکتا۔
لیکن اگر قیادت کرنے والا نیکی کا امام ہوگا اور وہ انھیں جنت کی طرف لے جارہا ہوگا تو پیچھے چلنے والے مسلسل اس پر تحسین و تبریک کے پھول برسائیں گے اور اس کی ترقی و درجات کے لیے دعائیں مانگیں گے اور ساتھ ہی اس کا شکریہ بھی ادا کریں گے کہ اگر آپ نے اس نیک راستے کی طرف ہماری رہنمائی نہ کی ہوتی تو آج یہ عزت و کرامت ہمیں نصیب نہ ہوتی۔
ورد کا معنی
ورد کا معنی کسی گھاٹ پر پانی پینے پلانے کے لیے اترنے کے بھی ہیں اور گھاٹ کے بھی۔ کیونکہ یہ مصدر اور ظرف دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ورد اسم ہے اور اس کا مصدر ورود ہے۔ ورد اس پانی کو کہتے ہیں جس کا قصد کیا گیا ہو۔ مآل سب کا ایک ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو جس پانی پر اتارا یا جس گھاٹ پر اتارا اس سے بدتر گھاٹ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
اور چوتھی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ فرعون اور قوم فرعون ایسے بدنصیب ہیں کہ دنیا میں بھی ہمیشہ ان پر لعنت کی گئی۔ ان کے مرنے کے بعد جس نے بھی انھیں یاد کیا، لعنت سے یاد کیا اور قیامت میں بھی ان پر لعنت کی پھٹکار ہوگی۔ اربابِ حکومت چونکہ انعامات اور عطیات سے ہمیشہ واسطہ رکھتے ہیں۔ دیتے بھی ہیں اور لیتے بھی ہیں۔ اس لیے فرمایا گیا کہ کیسا برا ہے وہ انعام یا وہ عطیہ جو انھیں دیا گیا۔ دنیا میں بحرقلزم میں غرق کردیا گیا اور آخرت میں جہنم ان کا مقدر ٹھہرا۔
Ayah 11:100ذٰلِکَ مِنْ اَ منْبَآئِ الْقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیْکَ مِنْھَآ قَـآئِمٌ وَّحَصِیْدٌ۔ (سورۃ ہود : 100)
(یہ ان بستیوں کی کچھ سرگزشتیں ہیں جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قائم ہیں اور کچھ کی فصل کٹ گئی۔ )
گزشتہ سرگزشتوں کی طرف اشارہ
یہاں سے وہ آیات شروع ہورہی ہیں جو خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ گزشتہ آیات میں جتنے انبیاء اکرام کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں پیش نظر آیات میں ان پر تبصرہ ہے جس میں ان حقائق کو نمایاں کرنا ہے جو ان سرگزشتوں کے بیان کرنے کا مقصد ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ جن بستیوں کے حالات ہم آپ سے بیان کررہے ہیں آپ غور کیجیے ان میں سے کچھ تو ابھی تک کھڑی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جن کے نشانات تک مٹ گئے ہیں۔ مثلاً فرعون اور قوم فرعون پر اللہ کا عذاب آیا تو فرعون اور اس کے اعیانِ قوم کو تباہ کردیا گیا، لیکن مصر کی ریاست اور اس کے شہر باقی رہے۔ مکین ختم ہوگئے، مکان کھڑے رہے۔ قوم لوط اپنے مکانوں سمیت تباہ کردی گئی۔ قوم ثمود اور قوم مدین کے بعض کھنڈرات ابھی تک باقی ہیں۔ ان کے بعض زمینی آثار بھی موجود ہیں اور ان کے وہ مکانات بھی جو انھوں نے پہاڑ کھود کے بنائے تھے۔ اور یہ تمام کھنڈرات اپنے مکینوں کی داستانِ عبرت سنانے کے لیے باقی ہیں۔ قریش کو یہ بتانا مقصود ہے کہ تم اسی روش پر چل رہے ہو جس کے نتیجے میں محولہ بالا قومیں تباہ ہوئیں۔ اگر تم نے اس سے توبہ نہ کی اور اپنا رویہ نہ بدلا تو پھر یاد رکھو تمہیں بھی اپنا نام ان دونوں قسم کی قوموں میں سے کسی ایک کے ساتھ لکھوانا پڑے گا۔ یعنی تمہیں مٹا دیا جائے گا اور تمہارے مکان باقی رہیں گے اور یا تمہیں مکانوں سمیت تباہ و برباد کردیا جائے گا۔
Ayah 11:101وَمَا ظَلَمْنٰـہُمْ وَلٰـکِنْ ظَلَمُوْ ٓا اَنْفُسَھُمْ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْہُمْ اٰلِھَتُھُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ لَّمَّا جَآئَ اَمْرُ رَبِّکَ ط وَمَا زَادُوْھُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ ۔
(سورۃ ہود : 101)
(اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنی جانوں پر زیادتی کی تو ان کے وہ دیوتا جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے جب تیرے رب کا عذاب آیا تو ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔ ان کے دیوتائوں نے ان کی بربادی کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا)
اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا
قوموں کی ہلاکت اور بربادی کے واقعات پڑھ کر یا سن کر آدمی سوچنے لگتا ہے کہ قوموں کو تباہ کردینا بہت بڑا ظلم ہے۔ پروردگار یہ کیسے پسند فرماتا ہے کہ اس کی زمین پر لاشوں کے ڈھیر لگے ہوں۔ اس کی ذات تو نہایت رحیم و کریم ہے۔ وہ خود فرماتا ہے کہ میری نگاہ میں ظلم نہایت ناپسندیدہ ہے۔ میں نے کسی پر کبھی ظلم نہیں کیا۔ تم جن بستیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ اپنے مکینوں سمیت تباہ ہوگئیں وہ اللہ کے ظلم کی وجہ سے نہیں بلکہ لوگوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا۔ اس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا۔ اللہ نے اپنے رسول بھیج کر ان پر یہ بات واضح کردی کہ تمہارے سامنے دو راستے ہیں، ایک عافیت اور کامیابی و کامرانی کا راستہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ تم اپنے خالق ومالک کی مرضی کے مطابق اس کی خوشنودی کے حصول کے لیے زندگی گزارو۔ اسی کو اپنا اِلٰہ سمجھو، اسی کے سامنے سر جھکائو، اسی کی غیر مشروط اطاعت کرو۔ اس کے نتیجے میں تمہیں دنیوی کامیابیاں بھی نصیب ہوں گی اور اخروی کامرانیاں بھی۔ اور دوسرا راستہ ہے ہلاکت و تباہی کا۔ اگر تم اللہ کی فرمانبرداری کی بجائے شیطان یا اپنے نفس کی پیروی کرو، اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی بجائے طاغوت پر ایمان لائو، اسی کے سامنے سر جھکانے اور اسی کو معبود سمجھنے کی بجائے اوروں کو اس کا شریک بنائو اور خواہش نفس کے نتیجے میں بداخلاقیوں کو اپنا شعار بنا لو، تو یہ وہ راستہ ہے جو بالآخر ہلاکت اور تباہی پر منتج ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح رحیم و کریم ہے اور اس کی رحمت تمام مخلوقات کو زندگی بخشتی ہے اور زندگی کی بقا کا سامان کرتی ہے اور اس کی ربوبیت تمام مخلوقات کی تربیت کے اسباب فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح وہ عادل بھی ہے۔ وہ جب دیکھتا ہے کہ میری مکلف مخلوق جن میں جن و انس شامل ہیں وہ میری نعمتوں سے تو شادکام ہوتے ہیں، میرے احسانات سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور میری رحمتوں کے مزے لوٹتے ہیں، لیکن میری حاکمیت، میری الوہیت، میری وحدانیت اور میری بندگی سے انکار کرتے ہیں اور انھوں نے نہ جانے کتنی دیویوں اور دیوتائوں کو میرا شریک بنا رکھا ہے، پھر وہ اپنے رسول بھیج کر لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ انھیں سمجھنے کے لیے مہلت دیتا ہے لیکن جب وہ اپنی ہٹ پر قائم رہتے ہیں تو آخر اس کی صفت عدل حرکت میں آتی ہے تو یہ لوگ جنھوں نے اس کی زمین کو فساد سے بھردیا ہے اور گلشن ہستی کو اپنی بداعمالیوں کے جھاڑ جھنکار سے ویرانے میں تبدیل کردیا ہے۔ انھیں تباہ کرکے ازسرنو اس ویرانے کو گلشن میں تبدیل کرتا ہے۔ تو یہ تباہی و بربادی ان لوگوں کی نافرمانی اور ان کی سرکشی کے نتیجے میں ان پر مسلط ہوتی ہے اور اس کا سبب وہ خود بنتے ہیں اور یہی وہ ظلم ہے جو وہ اپنے اوپر کرتے ہیں، اللہ ان پر ظلم نہیں کرتا۔
گمراہی کا عمومی سبب
آیت کے دوسرے حصے میں قوموں کے بگاڑ کا ایک عمومی سبب بیان فرمایا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جنھیں سرے سے اس بات کا احساس ہی نہ ہو کہ اگر قیامت کے دن اللہ کے سامنے حاضری ہوئی اور وہاں اپنی زندگی کے اعمال کے بارے میں جوابدہی کرنا پڑی تو ہم کیا کریں گے۔ ہر شخص کے دل میں یہ خواہش موجود رہتی ہے کہ میں کسی نہ کسی طرح قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ رہوں۔ اس سے بچنے کا ایک راستہ تو وہ ہے جو پیغمبر لوگوں کو بتاتے ہیں لیکن وہ راستہ چونکہ کٹھن ہے، اس میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں، خواہش نفس کی مخالفت ہے اور ایک خاص دائرے میں رہ کر زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ اسی مشکل کو محسوس کرتے ہوئے کچھ لوگ ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں، شیطان ایسے ہی موقعوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے لیے شارٹ کٹ تجویز کرتا ہے اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ تمہیں قیامت یا جوابدہی سے ہراساں نہیں ہونا چاہیے۔ اولاً تو یہ ساری باتیں ہی باتیں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں، لیکن اگر حقیقت ہو بھی تو تم ان قوتوں سے اپنا رشتہ جوڑو جو اللہ سے قریبی رشتہ رکھتی ہیں۔ ان کی بندگی بجا لائو، ان کے لیے قربانیاں کرو اور جب ضرروت پڑے انھیں سے استمداد کرو۔ انھیں اللہ نے اپنی صفات اور اپنے اختیارات میں شریک کر رکھا ہے اور وہی اس کائنات کا نظام چلا رہے ہیں۔ قیامت کے دن یہی لوگ تمہاری شفاعت کریں گے۔ ان کے ہوتے ہوئے تمہیں کسی طرح کا تردد نہیں کرنا چاہیے۔ شفاعت کا یہ وہ غلط تصور ہے جس نے قوموں کی قومیں برباد کی ہیں۔ جب کوئی شخص یہ یقین کرلیتا ہے کہ میں جن قوتوں کو اللہ کے مقابلے میں پکارتا ہوں وہ مجھے اللہ سے چھڑا سکتی ہیں۔ میں نے جن کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے رکھا ہے اور جن کا میں نے دامن تھام رکھا ہے وہ میری شفاعت کریں گی۔ تو ایسے شخص کو پھر کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ شریعت کے احکام پر عمل کرے یا کسی بھی معاملے میں اللہ سے ڈر کر صحیح راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرے۔ شفاعت کا غلط تصور اور قیامت کے حقیقی تصور میں بعدالمشرقین ہے۔ قیامت تو اس لیے آئے گی تاکہ ان لوگوں کو جزاء دی جائے اور اچھے بدلے سے نوازا جائے جنھوں نے اللہ کی فرمانبرداری میں زندگی گزاری اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہر قربانی دی۔ حتیٰ کہ اگر اس راہ میں جان بھی قربان کرنا پڑی تو اس سے بھی دریغ نہ کیا۔ اگر اس کے مقابلے میں یہ تصور قبول کرلیا جائے کہ زندگی جیسے چاہو خواہشِ نفس کی پیروی میں گزارو، جیسے چاہو داد عیش دیتے رہو، جہاں بس چلے دوسروں کے حقوق چھین لو اور کمزوروں پر ظلم توڑو اور اگر قیامت کے دن کوئی بازپرس ہوئی تو تم جن کے دامن گرفتہ ہو ان کی سفارش تمہاری نجات کا باعث بن جائے گی۔ تمہاری کوئی بدعملی اور نافرمانی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ اندازہ فرمایئے، شفاعت کے اس غلط تصور کے نتیجے میں قیامت کا کیا مفہوم باقی رہ جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اللہ کی کوئی فرمانبرداری کرے تو کیونکر اور اس کے راستے میں قربانی دے تو کیوں ؟ جب کسی نیکی کا کوئی صلہ نہیں اور کسی بُرائی کی کوئی سزا نہیں تو نیکی کی رغبت اور بُرائی سے پرہیز آخر اس کی کیا علت باقی رہ جاتی ہے۔ بگاڑ کے اسی حقیقی سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ان بگڑی ہوئی قوموں پر ہمارا عذاب آیا تو جن دیوی دیوتائوں کی شفاعت کے سہارے پر وہ شرک اور نافرمانی کرتے رہے، کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ وہ یہ سمجھتے رہے کہ ان سے تعلق کی وجہ سے قدرت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، لیکن جب اس کی گرفت آئی تو دور دور تک کوئی ان کا مددگار نہ پہنچا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ اگر یہ غلط تصور ان کا سہارا نہ بنتا تو شاید وہ ہدایت کی بات کو قبول کرلیتے اور پیغمبر کی تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں سوچنے پر آمادہ ہوجاتے، لیکن شفاعت کے اس غلط تصور نے انھیں بچانے کی بجائے ان کی ہلاکت میں اضافہ کیا۔ اس کے سہارے وہ اپنی ڈگر پر چلتے رہے اور کسی بات کو سننا بھی گوارا نہ کیا۔
Ayah 11:102وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَالْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَۃٌ ط اِنَّ اَخْذَہٗٓ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ۔
(سورۃ ہود : 102)
(اور اسی طرح ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم میں پکڑتا ہے۔ بیشک اس کی پکڑ بڑی ہی دردناک اور سخت ہے)
قریش کو تنبیہہ
گزشتہ چند رکوع میں جن معذب قوموں کی داستان بیان ہوئی ہے اور جیسا ہولناک عذاب ان پر ٹوٹا ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار فرما رہا ہے کہ جب قومیں اپنے رب کو بھول جاتی ہیں اور اس کی نافرمانی اور سرکشی پر دلیر ہوجاتی ہیں، اس کی ربوبیت کے فیضان سے پلتی اور پروان چڑھتی ہیں لیکن اسی کی نافرمانی بھی کرتی ہیں تو پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ اس طرح آتی ہے جیسے آپ نے ان قوموں کی تباہی دیکھی ہے۔ کسی کو بحرقلزم میں غرق کیا اور کسی پر زلزلہ آیا اور پھر ان پر پتھروں کی بارش ہوئی، کسی کی دھرتی الٹ ڈالی گئی۔ غرضیکہ تباہی کی جتنی بھی بدترین شکلیں ہوسکتی ہیں انھیں ان تمام کا شکار ہونا پڑا اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس لیے ہوا کہ ان بستیوں کے رہنے والے ظالم تھے۔ یعنی انھوں نے ہر وہ کام کیا جس سے انھیں روکا گیا تھا اور اپنی صلاحیتوں اور اپنے جسم و جان کو ان تمام کاموں میں صرف کیا جس کے لیے انھیں یہ صلاحیتیں اور جسم و جان عطا نہیں کیے گئے تھے۔ اور ان قوموں پر یہ سخت ترین عذاب کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جب بھی اللہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ ہمیشہ ایسی ہی دردناک اور شدید ہوتی ہے۔ وہ مہلت ضرور دیتا ہے کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے، جلد بازی نہیں کرتا۔ لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نکل جانے اور بچ جانے کا کوئی موقع نہیں ہوتا۔
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیرگیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
مشرکینِ مکہ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم بھی اب اسی میزان میں ہو جس میں باقی قومیں تولی جا چکی ہیں۔ ابھی موقع ہے کہ تلنے سے پہلے اپنے آپ کو درست کرلو، ورنہ اللہ کا عدل بےلاگ ہے جو کچھ دوسری قوموں کے ساتھ ہوا ہے تم اس سے بچ نہیں سکو گے۔
Ayah 11:103اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَ ۃِ ط ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لا لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْھُوْدٌ۔ (سورۃ ہود : 103)
(بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ وہ ایک ایسا دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور وہ ایسا دن ہوگا جب سب کو حاضر کیا جائے گا۔ )
آیت کا مفہوم اور آج کی گمراہی
معذب قوموں کے واقعات میں ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس میں پہلی بات تو جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ جن قوموں پر اللہ کا عذاب آیا ہے اور قرآن کریم مختلف مواقع پر انھیں بیان فرماتا ہے اس سے مقصود محض داستان سرائی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں جو عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں لیکن جنھیں اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں کہ آخرت بھی کوئی چیز ہے، قیامت بھی آنے والی ہے، اس دن حساب کتاب بھی ہوگا اور اسی کے مطابق جزاء و سزا کا فیصلہ ہوگا، ان کے لیے اس میں کوئی نشانی نہیں بلکہ وہ تو ایسی قوموں کے کھنڈرات پر اس لیے جاتے ہیں تاکہ وہاں تفریح کرسکیں۔ جہاں اللہ کے عذاب کا کوڑا برس چکا ہے ان کے نزدیک وہ تفریح کی جگہ ہے، ان کے کھنڈرات کو دلچسپی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اگر غور و فکر کرتے ہیں تو صرف اس لیے کہ وہاں سے ان معذب قوموں کا کلچر تلاش کیا جاسکے۔ اس طرح سے تاریخ کے مصنوعی فلسفے کی کڑیاں جوڑی جاسکیں اور جب کبھی یہ بحث چھڑتی ہے کہ یہ بستیاں تباہ کیوں ہوئیں اور بستے ہوئے شہر کیسے تباہی کا شکار ہوگئے، قوموں کی قومیں کس طرح موت کی دلدل میں اتر گئیں تو بڑے اطمینان سے یہ جواب دیتے ہیں کہ فلاں علاقے میں زلزلہ آیا، اس میں اتنے لاکھ آدمی مرگئے اور یہ کوئی انہونی بات نہیں، زلزلے آیا ہی کرتے ہیں۔ فلاں زمانے میں فلاں علاقے میں دریائوں میں طغیانی آئی، بارشوں نے زور باندھا، پانی نے سیلاب کی شکل آختیار کرلی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ بستیوں کی بستیاں سیلاب میں بہہ گئیں اور ان کا نام و نشان مٹ گیا اور سیلاب بھی کوئی غیرمعمولی بات نہیں، مختلف علاقوں میں آتے ہیں رہتے ہیں۔ ہر تباہی کے پیچھے ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ طبعی اسباب کام کرتے ہیں جن کی وجہ سے تباہی کا عمل بروئے کار آتا ہے۔ آج کے دانشور انھیں طبعی عوامل کو خودمختار اور فیصلہ کن سمجھتا ہے۔ سیلاب جسے چاہتا ہے بہا کے لے جاتا ہے۔ کائناتی قوتیں جب چاہتی ہیں زمین کے کسی حصے میں زلزلہ بپا کردیتی ہیں، نہ انھیں کوئی کنٹرول کرنے والا ہے اور نہ یہ کسی کے احکام کی پابند ہیں۔ یہ وہ جاہلانہ تصور ہے جس نے بڑی سے بڑی تباہی سے بھی سبق سیکھنے سے ہمیں محروم کردیا ہے۔ ہم گمراہ قوموں کی دیکھا دیکھی وہاں کلچر ڈھونڈتے ہیں، عبرت کی تلاش نہیں ہوتی۔ موہنجوڈارو اور ہڑپہ وغیرہ علاقوں میں ہم نے نہ جانے کتنی قوموں کا کلچر تلاش کر ڈالا لیکن یہ کبھی بھول کر بھی خیال نہ آیا کہ آخر یہ آبادیاں تباہ کیوں ہوئیں۔
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
البتہ جو لوگ عذاب آخرت کی فکر رکھتے ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں ایک تسلسل کے ساتھ قومیں اٹھتی بھی ہیں اور گرتی بھی ہیں اور جب سے اس زمین پر انسان کی بساط بچھائی گئی ہے یہ عمل جاری ہے اور پھر تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ سر اٹھا کر چلنے والی قومیں وہ رہی ہیں جنھوں نے علم و اخلاق کے چراغ روشن کیے۔ جنھوں نے انسانی اور اخلاقی حدود کو پامال کرنے کی بجائے ان کی پاسداری کی۔ البتہ وہ قومیں جنھوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اخلاق کا ایک ایک ٹانکا توڑ ڈالا وہ بالآخر تباہی کا شکار ہوئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات پر طبعی عوامل کی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک ایسی ذات کی حکومت ہے جس کے نزدیک انسانی زندگی کی بقاء، اخلاق کی زندگی کی بقاء سے وابستہ ہے۔ جو قومیں صرف ضروریات زندگی تک اپنی مساعی کو منحصر رکھتی ہیں اور اسی میں ترقی کرتی ہیں اور مقاصدِ زندگی کو فراموش کردیتی ہیں، وہ آخرکار اللہ کے عذاب کا شکار ہوتی ہیں۔ اگر اس حقیقت کا ادراک ہوجائے تو اس سے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ اگر اس زمین پر قوموں کی حیات و ممات کا دارومدار اللہ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نظام زندگی کی پابندی پر ہے اور اسی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ قوموں کو ڈھیل بھی دیتا ہے اور گرفت بھی کرتا ہے۔ تو یقینا ایک ایسا دن بھی ضرور آئے گا جب پوری دنیا کے اعمال و افکار کا جائزہ لینے اور قربانیوں اور مظالم پر جزاء و سزا کے لیے سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ جب نیکوں کو نیکیوں کا صلہ ملے گا اور برے اپنی بُرائیوں کے باعث جہنم کا شکار ہوں گے۔ اور مزید غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح کوئی نیکی ایک دن میں پروان نہیں چڑھ جاتی بلکہ اس پر برسوں محنت ہوتی ہے۔ اسی طرح کوئی برائی بھی اپنی تباہ کن شکل اچانک اختیار نہیں کرلیتی، اس کا ارتقاء بھی وقت لیتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ کسی قوم پر بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب اس وقت تک نہیں آتا جب تک وہ اپنے عقیدے کی خرابیوں، اعمال کی ناہمواریوں اور اخلاق کی بداطواریوں میں مایوس کن حد تک نہیں پہنچ جاتا اور یہ سمجھنے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں کہ کوئی قوم بھی ایسی حالت کو صرف ایک نسل کی فکری یولیدگی اور رویئے کی گمراہی سے نہیں پہنچتی بلکہ اس میں اس سے پہلے گزرنے والی قوموں کا بھی رول ہوتا ہے۔ ابتداء کہیں سے ہوتی ہے اور انتہا کسی نسل پر جا کر رکتی ہے لیکن پکڑی جانے والی نسل آخری ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کی نسلیں جنھوں نے عقیدے اور عمل کی خرابیوں کو پیدا کیا اور پھر سیراب کیا وہ اپنے اپنے وقتوں میں طبعی موت کا شکار ہو کر اللہ کے عذاب سے بچ جاتی ہیں۔ اس پر جب کوئی انسان غور کرتا ہے تو وہ یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ بات تو ظلم سے کم نہیں کہ ایک طرح کی بدعملی اور عقیدے کی خرابی پر ایک نسل کو پکڑا جائے اور دوسری نسلوں کو چھوڑ دیا جائے۔ اسی کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ اللہ جیسی عادل ذات سے ظلم کا صدور کبھی نہیں ہوتا۔ اس نے اسی لیے قیامت کے دن کو عدل کا فطری تقاضا قرار دیا ہے تاکہ جن قوموں کو جو عذاب کی مستحق تھیں، عذاب نہیں ہوا، انھیں قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور اس دن ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ کس نسل نے کسی خرابی کی نمود و پرداخت میں کتنا حصہ لیا اور وہ عذاب میں بھی بقدر حصہ گرفت میں آئے گا۔
مندرجہ بالا حکمتوں کو جنھیں قرآن کریم نے اشاروں میں بیان کیا ہے اگر اپنے ذہن میں بٹھا لیا جائے تو پھر یہ بات سمجھنا مشکل نہیں رہتی کہ ہماری عافیت اسی میں ہے کہ ہم معذب قوموں کے حالات کے آئینہ میں آنے والی قیامت کو دیکھنے کی کوشش کریں۔ اور یہ یقین پیدا کرلیں کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہر شخص اپنے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے ہوگا اور وہ اسی کے مطابق جزاء یا سزا سے گزارا جائے گا۔