11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsروح القرآن

Ayahs 11:18–19

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور کون زیادہ ظالم ہے ان لوگوں سے جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے۔ آگاہ رہو کہ اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پر

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور یہی لوگ آخرت کے منکر تھے۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًاطاُولٰئِٓکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰی رَبِّہِمْ وَیَقُوْلُ الْاَشْہَادُ ہٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْاعَلٰی رَبِّہِمْج اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْن۔ لا الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًاط وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 18، 19) (اور کون زیادہ ظالم ہے ان لوگوں سے جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے۔ آگاہ رہو کہ اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پر جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور یہی لوگ آخرت کے منکر تھے۔ ) گزشتہ آیت ِ کریمہ سے ہمیں یہ روشنی ملی ہے کہ انسان کو اللہ نے جس سعادت پر پیدا فرمایا ہے وہ اس کی فطرت کا نور اور اس کا زندہ ضمیر ہے۔ جس نے اسے باقی رکھا اسے زندگی کے سفر میں کسی دشواری یا گمراہی سے اولاً تو واسطہ نہیں پڑتا اور اگر پڑے بھی تو اللہ کا دیا ہوا یہ نور اس کے راستوں کو روشن رکھتا ہے۔ نورِ فطرت کی حفاظت اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گمراہیوں کے ہجوم اور شیطان کے حملوں میں اس بات کا زیادہ امکان نہیں رہتا کہ فطرت کا نور علیٰ حالہ قائم رہے گا۔ اس لیے پروردگار نے انسانوں پر کرم فرمایا کہ اس نے یکے بعد دیگرے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ ان میں سے ہر رسول اپنی دلآویز شخصیت، اپنے بےعیب کردار اور اللہ کی تائید و نصرت سے حجت اللہ کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر رسول اپنے بعد کے آنے والے کے لیے گواہ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ اس کی دعوت آنے والے رسول کی دعوت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ اس کی شخصیت کے طوراطوار آنے والے رسول کی شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اس طرح سے دعوت الی اللہ کا کام اپنے مدعوین کے لیے ایک جانی پہچانی حقیقت بن جاتا ہے۔ اس کے قبول کرنے سے صرف وہ لوگ محروم رہتے ہیں جو نہ صرف نورفطرت سے محروم ہوتے ہیں بلکہ اس کے اندر ہر انسانی قدر موت کا شکار ہوچکی ہوتی ہے۔ چناچہ ان کے نمایاں اوصاف پیش نظر آیت کریمہ میں بیان کیے جارہے ہیں۔ افترا کی نوعیت ان اوصاف میں سے سب سے پہلا وصف جو ان بدنصیبوں کا بیان کیا جارہا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے یعنی اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے تھے جن کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض قوتوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور دعویٰ یہ تھا کہ اللہ نے خود انھیں اپنے اختیارات میں شریک کیا ہے اور ہمیں ان کی بندگی بجا لانے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے اپنی طرف سے ایک خانہ ساز شریعت تیار کر رکھی تھی اور اسے بھی وہ اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ تحلیل و تحریم جو سراسر اللہ کی صفت اور اس کا حق ہے وہ انھوں نے نہ جانے کس کس کے سپرد کر رکھی تھی اور اس میں کسی تبدیلی کے لیے تیار نہیں تھے۔ شعائر اسلام کے بارے میں انھوں نے خود سے کچھ آداب بنا رکھے تھے اور ان کا بجا لانا دین کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ جب انھیں اس پر ٹوکا جاتا تو وہ اسے بھی اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ بعض ظالموں نے آج کے روشن خیالوں کی طرح نہایت خطرناک مؤقف اختیار کر رکھا تھا کہ اللہ نے انسان کو زندگی کے فیصلے کرنے میں مکمل آزادی دے رکھی ہے۔ مذہب کا تعلق صرف اللہ کو یاد کرلینے کی حد تک محدود ہے۔ اس سے ہٹ کر انسانی زندگی پر انسان کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کے سوا اور کسی کی حاکمیت نہیں۔ اس کا نتیجہ تھا کہ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی مکمل طور پر اللہ کی شریعت سے آزاد تھی۔ کبھی کوئی پریشانی ہوتی، کوئی بیمار پڑجاتا، کوئی حادثہ ہوجاتا، کسی الجھن میں گرفتار ہوجاتے تو اللہ کو یاد کرتے۔ اس سے زیادہ اللہ کے ساتھ تعلق کا کوئی حوالہ نہ تھا۔ آج جس چیز کو سیکولرازم کہا جاتا ہے وہی ان کا رویہ تھا جسے وہ اللہ کی طرف منسوب کرکے اپنے تئیں مطمئن تھے۔ ان کی ایسی ہی باتوں اور ایسے ہی رویوں کو یہاں افتراء سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور درحقیقت یہی وہ رویہ ہے جس سے باقی تمام گمراہیاں جنم لیتی ہیں۔ اس لیے تمام برائیوں کی بنیاد کو ذکر فرمانے کے بعد ان کے انجام کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ البتہ یہ بھی ضروری سمجھا گیا ہے کہ ان کی چند خصوصی گمراہیوں کو ذکر کردیا جائے تاکہ دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کے انجام کے حوالے سے یہ فرمایا گیا کہ ان کے لیے وہ کیسی بدنصیبی کا وقت ہوگا جب یہ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ کسی بڑی عدالت میں پیشی بجائے خود دل ہلادینے والا حادثہ ہوتی ہے اور اگر وہ عدالت ایسی ہو جس کے سامنے کوئی دم نہ مار سکے، کوئی بغیر اذن کے سفارش نہ کرسکے، کوئی معاوضہ کام نہ آسکے، سخن سازیاں دھری رہ جائیں، نیتوں کا فتور بھی سامنے آکھڑا ہو، آدمی کا جی چاہے کہ بعض بداعمالیوں پر اخفاء کا پردہ تان دیا جائے لیکن اس کی حیرت کی انتہاء نہ رہے جب اس کا جوڑ جوڑ اس کے خلاف گواہی دینے لگے۔ زمان و مکان اس کیخلاف گواہ بن کر اٹھ کھڑے ہوں۔ اس کا بھی امکان ہے کہ ان گواہوں میں نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی بھی شامل ہو۔ ان میں سے ہر گواہ جن میں کندھوں پر بیٹھنے والے کراماً کاتبین بھی شامل ہوں گے یہ گواہی دے گا کہ الٰہی یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیشہ دین و شریعت کے حوالے سے جھوٹ بولے اور ہر صحیح بات کے مقابلے میں جھوٹی بات کو کھڑا کرنے کی کوشش کی اور اللہ کا نام لے کر اللہ ہی کے دین کیخلاف کذب اور افتراء کا طومارکھڑا کیا۔ جب گواہیاں مکمل ہوجائیں گی اور یہ لوگ بسی کی تصویر بنے اللہ سے رحم کے طالب ہوں گے، لیکن ادھر سے فیصلہ سنا دیا جائے گا کہ خبردار دنیا والوگواہ رہو کہ ایسے لوگ جنھوں نے قدم قدم پر ظلم کا رویہ اختیار کیا ہے اور ہر چیز کو اور ہر حقیقت کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر اسے غلط جگہ دینے کی کوشش کی۔ اللہ کی عظمتیں دوسروں کو سونپ دیں۔ اس کی توحید میں شرک کے دروازے کھولے، اس کی صفات کو دوسروں کی طرف منسوب کرکے شرک کے کاروبار کو فروغ دیا ان کے لیے رحم کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ وہ اللہ کی لعنت کے سزا وار ٹھہرے ہیں۔ لعنت کا معنی ہوتا ہے رحمت سے دوری۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج اللہ کی رحمت سے انھیں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ مشرکین کے جرائم اور یہ ظالم لوگ رحمت کے سزاوار ہو بھی کیسے سکتے ہیں، ان بدبختوں نے نہ صرف اپنے آپ کو اللہ کی بندگی سے دور رکھا بلکہ دوسروں کو بھی وہ اللہ کے راستے سے روکتے رہے۔ انھیں جب بھی موقع ملا انھوں نے شیطانی قوتوں کی بالادستی کے لیے کام کیا۔ نیکی کے ہر راستے پر پتھر رکھے اور برائی کا ہر راستہ آسان کردیا۔ اور اگر کسی کے بارے میں یہ شبہ بھی ہوا کہ اس کی طبیعت میں سلامتی باقی ہے اور اس کے لیے اللہ کے دین سے انکار یا اس کے راستے سے انحراف آسان نہیں ہوگا تو ایسے لوگوں کے لیے دین کا نام لے کر اس کا تصور بگاڑ کر دکھانے کی کوشش کی۔ اس کے احکام میں نوع بہ نوع الجھنیں کھڑی کیں۔ اسلامی شریعت کا بظاہر اعتراف کیا لیکن اس کے قابل عمل ہونے میں شکوک و شبہات پیدا کیے۔ الفاظ کے وہ طوطے مینا اڑائے اور تاویلات کی وہ دیواریں کھڑی کیں کہ سیدھا سادھا ذہن یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ اسلام اللہ کا سچا دین ہے، لیکن اس دور میں قابل عمل نہیں۔ ان کا یہ رویہ دراصل اس بات کا غماز ہے کہ انھیں آخرت کے آنے کا یقین نہیں۔ یہ لوگ آخرت کے بارے میں کافروں جیسا رویہ اختیار کرچکے ہیں۔ یہ اولاً تو اقرار نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو وہ صرف زبانی جمع خرچ ہے۔ حقیقت میں یہ لوگ آخرت کے منکر اور کافر ہیں۔
Ayahs 11:20–22

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے۔ ان کا دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو انھوں نے گھڑ رکھے تھے سب ہوا ہوجائیں گے۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خسارے میں ہوں گے۔

اُولٰئِٓکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ یُضٰعَفُ لَہُمُ الْعَذَابُط مَاکَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ ۔ اُولٰئِٓکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ لاَ جَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 20، 21، 22) (یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے۔ ان کا دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو انھوں نے گھڑ رکھے تھے سب ہوا ہوجائیں گے۔ لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خسارے میں ہوں گے۔ ) گزشتہ آیات میں جن کفار کے اوصاف اور ان کی خباثتوں کی تفصیل پڑھی ہے اس سے فوراً ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے دین کے اتنے کھلے کھلے دشمن تھے اور جنھوں نے امکان بھر لوگوں کو اللہ کے دین سے روکنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، آخر پروردگار نے ان کی گرفت کیوں نہ فرمائی، کیا وہ ایسے ہی طاقتور لوگ تھے کہ جن کا گرفت میں لانا مشکل ہورہا تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی گروہ بھی ایسا نہیں جو اللہ کی گرفت سے بچ سکے۔ ساری کائنات اس کی مٹھی میں ہے۔ وہ جب چاہے تباہی اور ہلاکت مسلط کرسکتا ہے۔ ان لوگوں کا نہ پکڑنا اس وجہ سے نہیں کہ یہ کوئی طاقتور لوگ تھے بلکہ ان کی گرفت میں تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر قوم کو مہلت دیتا ہے اور جب تک یہ مہلت مکمل نہیں ہوتی ان کی گرفت نہیں فرماتا۔ مہلت کا تعین سراسر اللہ کی حکمت و مشیت سے ہے اور اس بات سے بھی کہ اللہ کے نبی کی دعوت کے نتیجے میں ایمان لانے کے کچھ آثار باقی ہیں یا نہیں، جس طرح مکھن کی چند باقیات موجودہوں تو دودھ بلونے والا اپنی کوششیں ترک نہیں کرتا۔ لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ اب پیچھے خالص چھاچھ رہ گئی ہے تو پھر وہ اپنا کام ختم کردیتا ہے۔ اللہ کے نبی جس قوم کی طرف آتے ہیں جب تک ان کی طرف سے مایوسی مکمل نہیں ہوجاتی اس وقت تک مہلت عمل ختم نہیں ہوتی اور اس کے نتیجے میں کافر قوم کو بھی زندگی کا سانس لینے کا موقع ملتا رہتا ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے ان کی رسی کھینچنے کا وقت آجاتا ہے تو پھر اس گرفت میں تاخیر نہیں ہوتی لیکن بیوقوف لوگ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ انھیں شاید ان کے شریکوں کی مدد حاصل ہے، حالانکہ جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو دنیا کی کوئی قوت اس سے بچانے پر قادر نہیں ہوتی۔ چناچہ ان پر بھی جب اللہ کی گرفت آئے گی تو ان کے نام نہاد شریک ان کے کسی کام نہیں آئیں گے بلکہ ان کا انجام یہ ہونے والا ہے کہ انھیں دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ ان کے جرم کی نوعیت دوچند تھی۔ ایک تو یہ خود دین کے منکر تھے اور دوسرا یہ کہ یہ دوسرے لوگوں کو بھی دین کی طرف آنے سے روکتے تھے۔ چناچہ ان جرائم کی حوالے سے انھیں دگنا عذاب دیا جائے گا۔ مزید احقاق حق فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آخر انھیں سزا دگنا کیوں نہ دی جائے جبکہ ان کا حال یہ تھا کہ یہ اللہ کے دین سے اس حد تک بیزار تھے کہ یہ دین کی کسی بات کو سننے کے بھی متحمل نہیں ہوتے تھے اور دنیا کی محبت کا پردہ اس حد تک ان کے دلوں پر تنا ہوا تھا کہ وہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے قوت بصارت کو بھی زحمت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ آیت نمبر 21 اور 22 میں فرمایا کہ ایسے ہی لوگ اپنے کرتوتوں کے باعث اپنی بربادی کا سامان کرتے ہیں اور جن نام نہاد معبودوں کے سہارے وہ گمراہیوں میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ ان سے اس طرح گم ہوجاتے ہیں کہ جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص کی اپنی سرگرمیاں اس کی تباہی کا باعث بنیں اور اس کے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں وہ نامراد اور ناکام نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور عجزونیاز سے اپنے پروردگار کی طرف جھک گئے یہی لوگ جنتی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰی رَبِّھِمْ لا اُوْلٰٓئِکَ اَضْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 23) (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور عجزونیاز سے اپنے پروردگار کی طرف جھک گئے یہی لوگ جنتی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ) اہل ایمان کے فضائل گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا تذکرہ ہوا جنھوں نے اللہ کے نبی پر ایمان لانے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ہر قدم پر ان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ لوگوں کو اللہ کی طرف آنے سے روکا۔ اللہ کے پیغمبر کی دعوت میں قسم قسم کی پیچیدگیاں پیدا کیں۔ دین کی سیدھی راہ کو بھی اپنے فتورِعقل اور زور بیان سے الجھانے کی کوشش کی۔ دنیا کی محبت میں ایسے ڈوبے کہ آخرت ان کے لیے ناقابلِ یقین ہو کر رہ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کرتوتوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان کے انجام کا بھی ذکر فرمایا۔ اب ان کے مقابل میں ان لوگوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو اپنے دل و دماغ کی رعنائیوں سے لے کر جسم و جان کی تمام توانائیاں اللہ کے راستے میں جھونک چکے۔ وہ ہر طرف سے کٹ کر پوری دل جمعی اور کامل یکسوئی کے ساتھ اللہ کی بندگی اور رسول کی اطاعت کے راستے پر چل پڑے۔ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰی رَبِّھِم کا معنی ہے کہ وہ ہر ایک سے کٹ کر اپنے رب کی طرف نہایت دل جمعی اور کامل یکسوئی کے ساتھ اس طرح مائل ہوئے کہ ان کے دل و دماغ میں کسی اور کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور ان کی زندگی کی سرگرمیوں میں کوئی اور نقطہ م اس کہ باقی نہیں رہا۔ ان کی عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے، ان کی ریاضت صرف اس کی خوشنودی کے حصول کے لیے، ان کی انسانیت کا آئیڈیل صرف اللہ کا رسول ﷺ اور ان کی منزل صراط مستقیم پر چلتے ہوئے اللہ کی جنت۔ یہ وہ لوگ ہیں جو متذکرہ بالا کفار کے مقابلے میں دنیا کی زینت اور آخرت کا سرمایہ ہیں۔ ایسے ہی معاشرے کا پیدا کرنا اور ایسے انسانوں کو وجود دینا اللہ کے نبی کی کاوشوں کا حاصل ہے۔
Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

مثال ان دونوں فریقوں کی ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرہ ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا۔ کیا یکساں ہے ان دونوں کا حال ؟ کیا تم اس مثال میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ )

َمثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ کَالْاَعْمٰی وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِط ہَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلاً ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 24) (مثال ان دونوں فریقوں کی ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرہ ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا۔ کیا یکساں ہے ان دونوں کا حال ؟ کیا تم اس مثال میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ ) سابقہ آیات کریمہ میں کفار کے اعتقادات اور ان کی بداعمالیوں کا ذکر ہوا اور اس کے نتیجے میں ان کی ناکامی اور محرومی کا بھی تذکرہ ہوا۔ ان کی پوری زندگی کے احوال کو سمیٹتے ہوئے پروردگار نے فرمایا مَاکَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ (نہ وہ حق کی آواز کو سن سکتے تھے اور نہ وہ حق کے نور کو دیکھ سکتے تھے۔ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ایمان و عمل کی خرابی سے اپنی جس محرومی کو دعوت دی اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ہوش کے کان سلب کرلیے اور ان کی بصیرت کی آنکھیں چھین لیں۔ انھوں نے زندگی اس طرح گزاری کہ جس میں بصیرت کا کوئی موقع نہ تھا اور حق کی قبولیت کا کوئی اثر نہ تھا۔ دنیا میں حیوانوں کی طرح کھانے پینے اور ضروریات کے حصول کو زندگی کا مقصد سمجھا۔ انسانیت کی ایک ایک قدر ان سے رخصت ہوتی چلی گئی۔ اس لیے کہ حیوانوں اور انسانوں میں بنیادی طور پر دو ہی باتوں میں فرق ہے۔ حیوان صرف پیٹ کی آواز سنتا اور معدے کا طواف کرتا ہے اور انسان ہر معاملے کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھتا اور ہر نصیحت کو سماع قبول سے سنتا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں کافروں اور مسلمانوں کو دو گروہوں کے طور پر اور ان میں بنیادی فرق کو ایک تشبیہ کی صورت میں واضح فرمایا ہے۔ ارشاد ہوا کہ دنیا میں دو گروہ ہیں، ایک گروہ اندھوں اور بہروں کا ہے اور دوسرا گروہ سننے والوں اور دیکھنے والوں کا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں گروہ کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام رسولوں کی دعوت بالخصوص آنخضرت ﷺ کی سرتا سر عقل و بصیرت پر مبنی ہے۔ اس پر وہی لوگ ایمان لائیں گے جن کے کان اور دل کھلے ہوں اور جنھوں نے اپنی فطری صلاحیتوں کو برباد نہ کیا ہو۔ رہے وہ لوگ جن کے پاس بصیرت ہو اور نہ نصیحت سننے کی طاقت۔ ان کو پہلے لوگوں سے کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ پھر تمام لوگوں کو اس حقیقت پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
Ayahs 11:25–26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ (انھوں نے کہا بیشک میں تمہارے لیے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ میں تم پر ایک دردناک عذاب کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہِٓ ز اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّ اللّٰہَ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ ۔ (سورۃ ہود : 25، 26) (ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ (انھوں نے کہا بیشک میں تمہارے لیے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ میں تم پر ایک دردناک عذاب کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ ) چند ابتدائی باتیں پیشِ نظر آیت کریمہ اور اس کے بعد کی بھی کئی آیات کو پڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم چند ابتدائی باتوں کو ذہن نشین کرلیں۔ 1 جب بھی اللہ کی طرف سے کوئی نبی یا رسول مبعوث ہوتا ہے تو اس کی بگڑی ہوئی قوم مخالفتوں کا ایک طوفان کھڑا کردیتی ہے۔ وہ اس دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے جو مختلف قسم کے سوالات کرتی ہیں ان میں سے ایک بہت اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ نے حواس بخشے ہیں، عقل عطاء کی ہے، قوت امتیاز بخشی ہے، ہم زندگی کا تجربہ رکھتے ہیں، ہمارے لیے کیا ضروری ہے کہ کوئی سمجھانے والا اٹھے اور ہمارے معتقدات سے لے کر ہماری عادات واطوار تک کو تنقید کا نشانہ بنا لے۔ ہم میں ایک سے ایک بڑھ کر سمجھدار اور تجربہ کار آدمی موجود ہے۔ ہمیں اس کی کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنے جیسے ایک آدمی کو یہ حیثیت دے دیں کہ اس کی ہر بات کو ماننا ضروری ہے اور وہ زندگی کے بارے میں جو تصور دے اسے قبول کرنا لازمی ٹھہرے۔ یہ تو بلاوجہ کا ایک خرخشہ ہے جو پیدا کردیا گیا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیات کریمہ میں ایک ترتیب کے ساتھ کئی انبیاء اکرام کا تذکرہ کیا گیا ہے اور جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لوگو ! تم اپنے خیالات، اعتقادات، معاملات اور زندگی کے رویوں میں بری طرح گمراہیوں کا شکار ہوچکے ہو۔ تمہاری بہتری اور فلاح و کامرانی صرف اس بات میں ہے کہ تم اللہ کے رسول پر ایمان لائو اور اس کی رہنمائی میں زندگی گزارو، اسی میں تمہاری دنیا کی سلامتی ہے اور اسی میں آخرت کی سرخروئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا دنیا کی ہدایت کے لیے تشریف لانا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے ایک لاکھ سے بھی زائد نبی اور رسول مختلف علاقوں میں تشریف لاتے رہے اور انھوں نے آکر ہمیشہ انسانوں کی اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ انسان اپنے طور پر اپنے آپ کو کچھ بھی سمجھے لیکن زندگی کی بنیادی اقدار اور اجتماعی مسائل میں وہ قدم قدم پر اللہ کی ہدایت کا محتاج ہے۔ چناچہ ہر رسول اسی مقصد کے لیے مبعوث ہوتا رہا اور آنحضرت ﷺ اسی مقصد کے لیے تشریف لائے۔ اس لیے مشرکینِ مکہ کا یہ اعتراض کرنا کہ آپ کی بعثت نے بلاوجہ ایک پرسکون معاشرے کو اختلافات کا جہنم بنادیا ہے کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ 2 نبی کریم ﷺ نے جب اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا شروع کیا اور لوگوں کو توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی تو ابتداء میں سمجھدار لوگوں نے اس سے تغافل برتا اور اسے یہ سمجھ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کی کہ چند لڑکے بالے ہیں جو محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ جوش و خروش مدھم پڑجائے گا اور زندگی اپنی ڈگر پر چلنے لگے گی، لیکن جیسے جیسے آنحضرت ﷺ کی دعوت میں وسعت آتی گئی اور ایمان لانے والوں کا حلقہ وسیع ہوتا گیا ویسے ویسے اشرافِ قریش نے سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا شروع کردیا۔ چند ہی سالوں میں یہ مخالفت معاندت تک پہنچ گئی۔ دلیل کے سامنے بےبسی کے بعد ان کے رد عمل میں شدت آگئی۔ اب ان کا ہر چھوٹا بڑا اس طرح غضب کی تصویر بن گیا کہ ان کی زبانیں زہر اگلنے لگیں اور ان کے ہاتھ غریب مسلمانوں پر مشق ستم ڈھانے لگے۔ معاملہ اتنا سنگین ہوگیا کہ مسلمانوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑگئیں۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء اکرام کے حالات پر مشتمل یہ چند رکوع نازل فرمائے، جس سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے اور آپ کے سامنے ایک سے ایک بڑھ کر اخلاص، استقامت اور جسارت کا نمونہ پیش کرنا ہے تاکہ آپ ﷺ کے دل کو قوت ملے کہ یہ جو کچھ آپ اور صاحب ایمان لوگوں کے ساتھ ہورہا ہے یہ پہلا موقع نہیں بلکہ جب کبھی بھی کسی نے اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا شروع کیا ہے تو اس کی رات آرام کی کبھی نہیں کٹی، اس کا دن خیریت سے کبھی نہیں گزرا، اس کی دعوت کو کبھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا گیا، حق و باطل کی یہ پرخاش اور یہ کشمکش نئی نہیں بلکہ ؎ ستیزہ کار ہا ہے ازل سے تا امروز چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے ان میں سے کوئی بات نئی نہیں، یہ تو اس راستے کی سنتیں ہیں جنھیں بہرحال پورا کرنا پڑتا ہے۔ آپ ﷺ کو نہایت استقامت اور جانسپاری کے ساتھ اس کام کو جاری رکھنا ہے اور اس راستے میں آنے والی تکلیفوں کو اسی عزیمت سے برداشت کرنا ہے جس طرح اولوالعزم رسول برداشت کرتے رہے۔ آپ ﷺ کو اسی طرح صبر دکھانا ہے جیسے آپ ﷺ سے پہلے تمام رسول صبر کے پیکر بنے رہے لیکن وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی عزیمت، آپ ﷺ کے اخلاص اور آپ ﷺ کے صبر کو قبول فرمائے گا اور غلبہ دین کا فیصلہ ہوجائے گا۔ 3 ان واقعات کو بیان کرنے سے مقصود مشرکینِ مکہ کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ تم غور سے ان واقعات کو پڑھو، تو تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ نبی کریم ﷺ اس مقام پر کھڑے ہیں جس مقام پر اولوالعزم رسول فائز رہ چکے ہیں اور تم بالکل اسی ڈگر پر چل رہے ہو جس ڈگر پر ان کی قومیں چلتی رہیں۔ ان کا انجام تمہارے سامنے ہے کہ ان کو ایک خاص وقت تک مہلت دی گئی، لیکن جب ان کے انکار اور تمرد میں کوئی فرق نہ آیا تو بالآخر اللہ کے عذاب نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی اور تاریخ نے ان کو عبرت کا نشانہ بنادیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت انبیاء کرام کے تذکرے کے سلسلے میں سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت شروع کی جارہی ہے۔ اس کا اجمالی تذکرہ گزشتہ سورت میں بھی ہوچکا اور کسی حد تک تفصیل سورة اعراف میں بھی آچکی ہے۔ اس لیے آپ کے تعارف کے لیے ان باتوں کو دہرانا تحصیل حاصل سے زیادہ نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ حضرت ِ آدم (علیہ السلام) سے 2262 سال بعد تشریف لائے، لیکن یہ تورات کا بیان ہے، قرآن و سنت میں اس طرح کی باتیں عام طور پر بیان نہیں کی جاتیں۔ قرآن کا بیان اس حد تک محدود رہتا ہے جس کا اصل موضوع سے تعلق ہو۔ حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، لیکن قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے گزرنے والے رسول حضرت آدم ہوں یا کوئی اور انھیں گزرے ہوئے یقینااتنی طویل مدت گزر چکی تھی کہ جس مدت میں قومیں عام طور پر بگاڑ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ آپ ﷺ نے جس طرح اپنی قوم کے خیالات پر تنقید فرمائی ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کی کوئی کل سیدھی نہیں رہی تھی۔ وہ اللہ کی توحید میں مختلف قسم کا شرک داخل کرچکے تھے۔ ایک معتدبہ تعداد ایسے نام نہاد بتوں کی بھی جنھیں وہ اللہ کے ساتھ شریک بنا چکے تھے۔ ان کے سامنے سر جھکاتے، ان کے ڈنڈوت بجالاتے، ان سے مرادیں مانگتے، انھیں کائنات کے نظام میں دخیل سمجھتے اور صاحب اختیار جانتے تھے۔ تحلیل و تحریم کا حق اللہ سے چھین کر مختلف قوتوں کو دے چکے تھے۔ ایک خانہ ساز شریعت ان کی زندگی کا قانون بن چکا تھا۔ اخلاقی بگاڑ اس انتہاء کو پہنچ گیا تھا کہ باہمی تعلقات کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہ گئی تھی۔ حبِ دنیا نے آخرت کا تصور گہنا کر رکھ دیا تھا۔ اللہ کے سامنے جوابدہی خواب و خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی برائی کا ارتکاب کرتے ہوئے بھی ان کے سامنے کوئی روک نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے آپ ﷺ نے اپنی دعوت کے آغاز ہی میں انھیں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ تم اپنے معاملات کو اس حد تک بگاڑ چکے ہو اور اللہ تعالیٰ سے تمہارا رشتہ اس طرح شکست و ریخت کا شکار ہوا ہے کہ اگر تم نے اس میں اصلاح کی کوشش نہ کی اور مجھ پر ایمان لا کر زندگی کے نئے سفر کا آغاز نہ کیا تو میں تمہارے لیے ایک عذاب عظیم کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ نذیر مبین کا مفہوم اس میں تم سے صاف صاف کہتا ہوں کہ تمہارے حالات دیکھتے ہوئے میں صرف نصیحت پر اکتفا نہیں کروں گا بلکہ صاف صاف کہوں گا کہ میں تمہارے لیے نذیرمبین بن کر آیا ہوں، ممکن ہے اس سے اشارہ عربوں کی ایک خاص روایت کی طرف ہو، کیونکہ مقصود کو مشرکینِ مکہ کو سمجھانا ہے۔ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنی آبادی کی حفاظت کے لیے کسی بلند ٹیلہ یا پہاڑی پر ایک دیدبان بناتے تھے جہاں ہر وقت ایک نگران مقرر رہتا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ آبادی کے چاروں طرف دور دور تک نگاہ رکھے کہ کوئی قبیلہ بیخبر ی میں ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش تو نہیں کررہا۔ چناچہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے وہ کئی میل کے فاصلے پر آنے والے حملہ آوروں کو دیکھ سکتا تھا۔ پہاڑی سلسلوں میں بہت دور تک گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دے جاتی تھی اور گھوڑوں کے پائوں سے اڑنے والا غبار خطرے کی خبر دے دیتا تھا۔ چناچہ جب وہ یہ دیکھتا کہ کسی طرف سے حملہ آوروں کی کوئی جماعت اس کی قوم پر حملہ کیا چاہتی ہے تو وہ اپنے کپڑے پھاڑ کر ننگا ہوجاتا اور واصباحا ! کا نعرہ لگاتا۔ یہ پوری قوم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی اور لوگ یہ سنتے ہی تلواریں سونت سونت کر مدافعت کے لیے باہر نکل آتے۔ ایسا شخص جو بروقت خطرے کی خبر دیتا تھا اس کو ” نذیرعریاں “ کہتے تھے۔ اللہ کے رسول بھی اپنی قوم کو اسی طرح آنے والے عذاب سے خبردار کرنے کے لیے آتے ہیں، لیکن وحی الٰہی کی زبان چونکہ نہایت مہذب زبان ہوتی ہے اس لیے انھیں نذیرعریاں نہیں کہا گیا بلکہ نذیرمبین کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی کوہ صفا پر چڑھ کر اسی طرح اپنی قوم کو آنے والے خطرے کی خبر دی تھی اور اپنی رسالت کا اعلان فرمایا تھا۔ پیغمبر صرف خطرے کا اعلان ہی نہیں کرتا بلکہ اس سے بچنے کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو زندگی کا وہ نسخہ شفاء دیتا ہے جس سے انسان اللہ کے عذاب سے بچ سکے۔ چناچہ اسی لیے یہاں اسی نسخہ شفاء کے حوالے سے فرمایا : اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓ ا اِلاَّاللّٰہَیہ ہر پیغمبر کی دعوت کا نقطہ آغاز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اسی بات سے اپنی دعوت کا آغاز فرمایا تھا، کیونکہ انسانی زندگی میں تمام خرابیوں کی بنیاد یہ ہے کہ انسان اللہ کی بندگی کو چھوڑ کر غیر اللہ کی بندگی کو اختیار کرلیتا ہے۔ اسی سی اعتقادات میں خرابی آتی ہے، اسی سے اطاعت اور عقیدت کے حوالے بدلتے ہیں، اسی سے اخلاق کے پیمانوں میں تبدیلی آتی ہے، اسی سے انسان کی منزل نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ اس لیے جب تک اس رشتہ اول کو سیدھا نہ کیا جائے اس وقت تک انسان کی اصلاح و فلاح کی کوئی ضمانت نہیں۔ چناچہ نوح (علیہ السلام) نے جب اس بنیادی حقیقت سے اپنی دعوت کا آغاز فرمایا تو ان کی قوم کے بگڑے ہوئے سرداروں نے آپ پر وہی اعتراضات کیے جو ہر قوم اپنے پیغمبر پر کرتی رہی اور نبی کریم ﷺ بھی اپنی قوم کی جانب سے انھیں اعتراضات کا ہدف تھے۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو کہنے لگے ان کی قوم کے سردار جنھوں نے کفر کیا تھا، اے نوح ہم نہیں دیکھتے تمہیں مگر اپنے جیسا انسان اور نہیں دیکھتے تمہیں کہ پیروی کرتے ہوں تمہاری بجز ان لوگوں کے جو ہم میں حقیر و ذلیل ہیں بلاسوچے سمجھے اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل ہے بلکہ ہم تو تجھے جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَانَرٰکَ اِلاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلاَّ الَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَابَادِیَ الرَّاْیِ ج وَمَانَرٰی لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ م بَلْ نَظُنُّکُمْ کٰذِبِیْن۔ (سورۃ ہود : 27) (تو کہنے لگے ان کی قوم کے سردار جنھوں نے کفر کیا تھا، اے نوح ہم نہیں دیکھتے تمہیں مگر اپنے جیسا انسان اور نہیں دیکھتے تمہیں کہ پیروی کرتے ہوں تمہاری بجز ان لوگوں کے جو ہم میں حقیر و ذلیل ہیں بلاسوچے سمجھے اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل ہے بلکہ ہم تو تجھے جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ ) اس آیت کریمہ میں ایک لفظ آیا ہے ” بَادِیَ الرَّاْیِ “ بادی کا ماخذ بَدَأہے یا بدو پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا کسی چیز کو دیکھتے ہی اس میں غور و فکر کیے بغیر رائے قائم کرلینا اور دوسری صورت میں اس کا معنی ہوگا ظاہر بینی سے رائے قائم کرنے والے۔ تین اعتراضات حضرت نوح (علیہ السلام) کی بگڑی ہوئی قوم کے سرداروں نے اپنی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ پر جو اعتراضات کیے وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رہے ہوں گے لیکن ان میں سے اس آیت میں تین کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 پہلا اعتراض یہ ہے کہ آپ ﷺ کو رسول ہونے کا دعویٰ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ رسالت ایک عظیم منصب ہے جو کسی بہت بڑے آدمی کو ملتا ہے اور یا انسانوں کے علاوہ اور کسی کو اس منصب پر فائز کیا جاتا ہے لیکن آپ ﷺ تو ہماری طرح ایک عام انسان ہیں، ہماری طرح کھاتے پیتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، بیوی بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور مزید یہ کہ آپ ﷺ کے مالی حالات ہم سے بھی فروتر ہیں تو پھر آخر آپ ﷺ میں ایسی کیا بات ہے کہ آپ ﷺ کو اس عظیم منصب کا اہل سمجھ لیا جائے۔ رسالت جس قدر پاکیزہ ذمہ داری ہے اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس کے لیے کسی فرشتے کا انتخاب کیا جائے اور انسانوں میں ہی سے کسی کو بھیجنا ہو تو فرشتے اس کے دائیں بائیں اترنے چاہئیں لیکن تمہارے ساتھ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو پھر تمہیں آخر کس طرح اللہ کا رسول باور کرلیا جائے۔ 2 ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ جو لوگ تم پر ایمان لائے ہیں اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ہے وہ ہمارے معاشرے کے گرے پڑے لوگ ہیں۔ لوگوں کی نگاہ میں جن کی کوئی عزت نہیں۔ ان میں یہ صلاحیت بھی نہیں کہ وہ کسی بات کو اس کے حقیقی پس منظر میں دیکھ سکیں۔ انھوں نے بلا سوچے سمجھے تمہاری پیروی شروع کردی ہے لیکن ان کی پیروی سے یہ بات بخوبی عیاں ہوجاتی ہے کہ اگر تمہاری دعوت میں کوئی جان ہوتی، فکری قوت ہوتی، زندگی کے مسائل کا حل ہوتا، خیالات کی بلندی ہوتی، دلوں میں اتر جانے والی باتیں ہوتیں تو یقینا ہماری سوسائٹی کے بالاقامت لوگ اس طرف رجوع کرتے، ذہین طبقہ اس طرف متوجہ ہوتا، معاشرے کے ذمہ دار لوگوں میں اس کی پذیرائی ہوتی، لیکن جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو معاملہ اس سے بالکل برعکس ہے۔ یہ گویا اس بات کی دلیل ہے کہ تمہاری دعوت کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں اور اس میں کوئی علوِّفکر نہیں۔ 3 تیسری بات یہ ہے کہ تمہیں اور تم پر ایمان لانے والوں کو ہم پر کسی قسم کی کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ تمہاری اکثریت نادار لوگوں پر مشتمل ہے، تمہارا انتساب کسی بڑے قبیلے کی طرف نہیں، سوسائٹی میں بڑائی اور عزت کے جتنے حوالے ہیں تم سب سے تہی دامن ہو، تو پھر کیسے مان لیا جائے کہ تمہیں اللہ نے اتنے بڑے منصب کے لیے انتخاب کیا ہے۔ کسی کی عظمت کے اگر یہی معیارات ہیں جو یہاں مذکور ہوئے ہیں تو پھر اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ تم اپنے دعویٰ میں بالکل جھوٹے ہو۔ تم نے اپنے دل سے چند باتیں گھڑ لی ہیں انھیں اللہ کی طرف منسوب کرے ہمیں سناتے رہتے ہو۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا، اے میرے ہم قومو ! بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور پھر اس نے خاص اپنی رحمت سے بھی نوازا ہے اور وہ تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کو تم پر چپکا دیں جبکہ تم اس سے بیزار بھی ہو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَاٰتٰنِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ ط اَنُلْزِمُکُمُوْھَا وَاَنْتُمْ لَھَا کٰرِھُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 28) (حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا، اے میرے ہم قومو ! بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور پھر اس نے خاص اپنی رحمت سے بھی نوازا ہے اور وہ تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کو تم پر چپکا دیں جبکہ تم اس سے بیزار بھی ہو۔ ) اعتراضات کا جواب پیشِ نظر آیت کریمہ اور اس کے بعد آنے والی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے خلاف ترتیب متذکرہ بالا اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ سب سے پہلے اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ مجھے تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ نادانو ! تم یہ سمجھتے ہو کہ فضیلت، عہدہ و منصب میں برتری اور مال و دولت میں کثرت کا نام ہے۔ چاہے ان دونوں کا حامل اپنے تئیں کیسا ہی انسانیت کے لیے عار کیوں نہ ہو۔ جس گھر میں بھی تمہیں دولت کی ریل پیل نظر آتی ہے تم سمجھتے ہو اس گھر میں اشراف رہتے ہیں اور جس شخص کو بھی ورثے میں عزت و وجاہت ملی ہے تمہارا خیال یہ ہے کہ وہ اپنے وقت کا بڑا آدمی ہے۔ حالانکہ مال و دولت اور عہدہ و منصب آنی جانی چیزیں ہیں۔ آج ایک کے پاس ہیں کل دوسروں کے پاس۔ نہ ان کے آنے سے انسانیت میں اضافہ ہوتا ہے نہ ان کے جانے سے کمی ہوتی ہے۔ فرعون تخت پر بیٹھ کر بھی بےوقار ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کمبل میں ملبوس عصابدست اور دربار میں بےیارومددگار کھڑا بھی عظیم ہوتا ہے۔ مجھے اللہ نے تم پر مال و دولت میں کوئی فضیلت نہیں دی۔ البتہ دو باتیں مجھے ایسی عطاء فرمائی ہیں تمہیں جن کا شعور بھی نہیں۔ ان میں پہلی بات جسے بینۃ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وہ فطرت کا نور، دل کی روشنی اور ضمیر کی زندگی ہے جس سے میں نوازا گیا ہوں۔ میرے دل کا آئینہ اپنی آب و تاب رکھتا ہے، میرا ضمیر پوری طرح زندہ ہے، میں انھیں کی مدد سے اللہ کی قدرت کے آثار دیکھتا ہوں، کائنات میں پھیلے ہوئے اس کے حسن کی بہار دیکھتا ہوں، مجھے اس کی صفات آشکارا دکھائی دیتی ہیں، چمکتا ہوں سورج، دمکتا ہوا چاند، ٹمٹماتے ہوئے ستارے، کھلتی ہوئی کلیاں، مسکراتے ہوئے پھول، گاتے ہوئے چشمے، شور مچاتی ہوئی آبشاریں، زمین پر بہتے ہوئے دریا اور فضاء میں اٹھتی ہوئی گھٹائیں، میں ان سب کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی ذات کا ظہور دیکھتا ہوں۔ مزید اس نے مجھ پر یہ احسان کیا ہے کہ میرے اندر میرے دل کی روشنی نے اللہ کی مرضیات معلوم کرنے اور اس کے راستے کی تفصیلات جاننے کی جو تڑپ پیدا کی تھی، وحی الٰہی کی شکل میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ اس نے مجھے ایک ایک سوال کا جواب مہیا کیا ہے۔ میرے لیے عمل کے راستے کھولے۔ زندگی الجھنیں دور کیں اور آخرت کی تیاری کو آسان کیا ہے لیکن تمہاری بدنصیبی کے باعث اللہ نے تمہیں اس رحمت سے محروم رکھا۔ تمہاری آنکھوں پر اندھیرا چھایا رہا، تمہاری ناشکریوں اور بداعمالیوں نے تمہاری فطرت کے نور کو گل کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تم اللہ کے قانون کی گرفت میں آگئے جس نے تمہارے دلوں کی روشنی بجھا دی۔ ان سے قبولیت کی استعدادسلب کرلی اور تمہیں اللہ کی ہدایت سے محروم کردیا۔ تم نے جن حقائق سے آنکھیں بند رکھیں اب یہ کیسے ممکن ہے کہ میں زبردستی انھیں تم پر چپکا دوں جبکہ تمہاری مزید بدنصیبی کا عالم یہ ہے کہ کہ تم ان کے نام سے بھی بیزار ہو۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میرے ہم قومو ! میں اس خدمت پر تم سے کسی مال کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور میں ان لوگوں کو ہرگز دھتکارنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں۔ یہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں بلکہ میں تو تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت میں مبتلا ہو۔

وَیٰقَوْمِ لَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالاً ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ وَمَآ اَنَابِطَارِدِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَلٰکِنِّیْٓ اَرٰکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 29) (اور اے میرے ہم قومو ! میں اس خدمت پر تم سے کسی مال کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور میں ان لوگوں کو ہرگز دھتکارنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں۔ یہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں بلکہ میں تو تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت میں مبتلا ہو۔ ) قوم کی نخوت پر چوٹ بگڑی ہوئی قوموں کا تمام تر انحصار مال و دولت پر ہوتا ہے، وہ اسی میں اپنی زندگی خیال کرتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی خواہشات نفس کو تسکین صرف مال و دولت سے ملتی ہے۔ مال و دولت کی کثرت ہی ان کے غروروتکبر اور ان کے نفس کے پندار کی غذا بنتی ہے۔ چناچہ اسی پندار پر چوٹ لگانے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم چونکہ کاروباری ذہنیت رکھتے ہو اس لیے تم شاید یہ سمجھتے ہو کہ میں بھی شاید اسی ذہنیت کا حامل ہوں۔ میں جو جان جوکھوں میں ڈال کر اور خون جگر پی پی کر تمہیں اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہوں وہ شاید میرا کوئی کاروبار ہے اور گر تم نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو میرے کاروبار کے بیٹھ جانے کا امکان پیدا ہوجائے گا۔ میں تو تمہاری بہتری اور بھلائی کے لیے جان کھپاتا ہوں اور تم اسے مال و دولت کا کھیل سمجھتے ہو۔ یاد رکھو میری محنتوں کا صلہ میرے اللہ کے ذمہ ہے۔ تم سے میں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا کہ تم ایمان لے آئو۔ رہی یہ بات کہ جو لوگ مجھ پر ایمان لائے ہیں وہ گرے پڑے لوگ ہیں اور معاشرے میں ان کی کوئی عزت نہیں۔ یاد رکھو اس طرح کی باتوں سے ممکن ہے تمہاری انا کو تسکین ملتی ہو لیکن اگر تم غور کرو گے تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ ہر دور میں اللہ کے نبیوں پر ایمان لانے والے شروع میں ہمیشہ غریب لوگ ہی رہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دکھوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے اندر کے احساسات زندہ ہوتے ہیں۔ عہدہ و منصب کی ہوس اور مال و دولت کی کثرت نے ان کی انسانیت کو موت کے گھاٹ اتارا نہیں ہوتا۔ جب وہ سنتے ہیں کہ پکارنے والا ہمیں انسانیت کی طرف پکار رہا ہے اور ہمیں خالق کے راستے کی طرف بلایا جارہا ہے تو وہ اپنے غم بھول کر جنت گم گشتہ کے حصول کے لیے اس آواز کی طرف لپکتے ہوئے آتے ہیں۔ انھیں اس دعوت میں اپنے دکھوں کا مداوا اور اپنے دل کی تسکین کا سامان نظر آتا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے خالق ومالک نے ہمارے لیے قرب کے راستے کھول دیئے ہیں۔ وہ اپنی بےبضاعتی کے باوجود بلندیوں کے مسافر ہیں۔ تم انھیں ہزار ذلیل سمجھو، لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ چیتھڑوں میں لپٹے ہوئے ہیرے ہیں اس لیے میں انھیں اپنے پاس سے کیسے دور کرنے کی غلًطی کرسکتا ہوں۔ تم تو آخرت کی جوابدہی سے بےنیاز ہو۔ لیکن انھیں یقین ہے کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں۔ اس لیے انھیں شب و روز اللہ کے سامنے جوابدہی کی فکر رہتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ ایک ایسا سرمایہ اور اثاثہ ہیں جن کی جنتی بھی قدر کی جائے تھوڑی ہے۔ البتہ تمہاری بےحسی اور بےنیازی تمہاری جہالت کی آئینہ دار ہے اور تم ان کے خصائص کو دیکھنے کی بجائے ان کے ظاہر پر جس طرح حملہ آور ہورہے ہو وہ سراسر ایک جاہلانہ حرکت ہے۔ اس لیے میں انھیں اپنے پاس سے ہٹانے کی بجائے تم سے کہتا ہوں کہ تم جاہل ہو اور اپنی اس جہالت کے باعث جہنم کے مسافر بن گئے ہو۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! کون مدد کرسکتا ہے میری اللہ کے مقابلے میں، اگر میں انھیں نکال دوں۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔

وَ یٰـقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّھُمْ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 30) (اور اے میری قوم ! کون مدد کرسکتا ہے میری اللہ کے مقابلے میں، اگر میں انھیں نکال دوں۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ ) گزشتہ مضمون کی تائید و توثیق گزشتہ آیت کے مضمون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں ان صاحب ایمان لوگوں کے مقام و مرتبہ کا حقیقی ادراک نہیں۔ تم کیا جانو کہ یہ اللہ کے یہاں کس عظمت کے مالک ہیں۔ پروردگار کے یہاں ان کی نازبرداریوں کا حال یہ ہے کہ اگر میں انھیں اپنے پاس سے نکلنے کا حکم دے دوں تو باوجود اس کے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں اللہ کی طرف سے گرفت کا خطرہ محسوس کرتا ہوں اور وہ گرفت ایسی ہوگی جس سے بچانے کے لیے میری کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ اللہ کا یہ غضب محض اس لیے بھڑکے گا کہ میں نے بظاہر ان غریبوں کی عزت افزائی کی بجائے ان کو اپنے پاس سے کیوں نکالا۔ تو جن کی قدر و منزلت کا یہ حال ہو تم ان کا طعنہ دے کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی عقل بھی نہیں کہ تم ان باتوں کو سمجھ سکو۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تمہاری نگاہیں حقیر جانتی ہیں انھیں اللہ تعالیٰ ہرگز کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے۔ ( اگر میں ایسا کروں تو) میں بھی ظالموں میں سے ہوجائوں گا۔

وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَلاَ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَکٌ وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْ ٓ اَعْیُنُُکمْ لَنْ یُّؤْتِیَھُمُ اللّٰہُ خَیْرًا طاَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا فِْیٓ اَنْفُسِھِمْ ج صلے اِنِّیْ ٓاِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 31) (اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تمہاری نگاہیں حقیر جانتی ہیں انھیں اللہ تعالیٰ ہرگز کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے۔ ( اگر میں ایسا کروں تو) میں بھی ظالموں میں سے ہوجاؤں گا۔ ) باقی اعتراضات کا جواب اس آیت کریمہ میں مخالفین کے باقی اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ مخالفین کا کہنا یہ تھا کہ ہم تو تمہیں اپنا جیسا بشر دیکھتے ہیں اور ان کے نزدیک بشریت اور نبوت میں تضاد تھا۔ ان کے جواب میں کہا گیا ہے کہ تم جن باتوں کو بطور اعتراض مجھ پر وارد کررہے ہو، میں نے ان کا دعویٰ کب کیا ہے۔ میں کب کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں بلکہ میں تو دنیا کو یہ بات سمجھانے کے لیے آیا ہوں کہ کائنات کے ہر طرح کے وسائل کا مالک صرف اللہ ہے۔ اللہ کے رسول بھی اللہ ہی سے مانگتے ہیں۔ کسی کو اس کے خزانوں پر دسترس حاصل نہیں۔ اسی طرح تم مجھ سے عجیب و غریب سوالات کرتے ہو۔ کبھی ماضی کے حالات کے بارے میں، کبھی مستقبل کے بارے میں حالانکہ اللہ کا پیغمبر انسانوں کی ہدایت کے لیے آتا ہے، پہیلیاں بجھوانے کے لیے تو نہیں آتا۔ وہ کبھی بھی غیب دان ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا اور میں نے بھی ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ میں وہی بات جانتا ہوں جو میرا اللہ مجھے بتاتا ہے۔ علم ِ غیب بغیر کسی واسطے کے ازخود ان دیکھی باتوں کو جاننے کا نام ہے۔ اللہ کے سوا یہ شان کسی اور کی نہیں۔ اللہ کے نبی بعض دفعہ ایسی باتوں کی خبر دیتے ہیں جنھیں اور کوئی نہیں جانتا لیکن ان کا واسطہ اللہ کی ذات ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو مابعدالطبعیات کی خبر دیتے ہیں۔ عالم غیب کی باتیں بتاتے ہیں، عالم آخرت کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔ اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں ان حقائق کا علم دیتے ہیں جنھیں صرف وہی بتاسکتے ہیں۔ بایں ہمہ وہ عالم الغیب نہیں ہوتے کیونکہ وہ کوئی بات اللہ کے بتائے بغیر نہیں کہتے۔ اس آیت میں مزید فرمایا گیا کہ مجھ پر جو غریب لوگ ایمان لائے ہیں اور تم جنھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو اور تمہارا خیال یہ ہے کہ اگر اس چیز میں کوئی بھلائی ہوتی جسے میں لے کے آیا ہوں تو اس بھلائی کے مستحق تم تھے نہ کہ یہ غریب لوگ۔ میں نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ انھیں کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ کیونکہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے۔ وہ سینوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور باطن کو بھی، اس کے مطابق وہ ہر ایک سے سلوک کرتا ہے۔ ان غریب لوگوں سے بھی وہ اپنے علم کے مطابق سلوک کرے گا۔ میں چونکہ کسی کے قلبی احساسات سے آگاہ نہیں ہوں اس لیے بلاجانے بوجھے اگر میں تمہاری تائید کرنا شروع کردوں تو میرا شمار ظالموں میں سے ہوگا کہ میں نے اپنی حیثیت کا غلط اندازہ لگایا۔ میرا کام اللہ کے دین کی دعوت دینا تھا۔ میں نے لوگوں کے اسرارغیب پر محاکمہ کب سے شروع کردیا۔ میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اور اللہ کے علم پر بھروسہ کرتا ہوں۔
Ayahs 11:32–33

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

وہ بولے اے نوح تم نے ہم سے بحث کرلی اور بہت بحث کرلی۔ پس اب لے آئو ہمارے پاس اس عذاب کو جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے تھے اگر تم سچے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ ہی لے آئے گا اسے تمہارے پاس، اگر چاہے گا اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو۔

قَالُوْ یٰـنُوْحُ قَدْجٰدَلْتَنَا فَاَکْثَرْتَ جِدَاَلْنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ بِہِ اللّٰہُ اِنْ شَآئَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 32، 33) (وہ بولے اے نوح تم نے ہم سے بحث کرلی اور بہت بحث کرلی۔ پس اب لے آئو ہمارے پاس اس عذاب کو جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے تھے اگر تم سچے ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ ہی لے آئے گا اسے تمہارے پاس، اگر چاہے گا اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ ) قوم نوح (علیہ السلام) کا مطالبہ عذاب مخالفین کے تمام اعتراضات کے جب نوح (علیہ السلام) نے مسکت جواب دیئے اور قوم کے عمائدین بےبسی سے بغلیں جھانکنے لگے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنے ہر اعتراض کا جواب ملنے پر اللہ کے نبی پر ایمان لے آتے۔ لیکن ان کی بدنصیبی نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا۔ بجائے ایمان لانے کے نوح (علیہ السلام) کے جوابات کو جدال قرار دے کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ نوح تم نے ہم سے بہت جھگڑا کیا۔ تمہاری بحث اب طول کھینچ گئی ہے۔ تمہاری ہر بات کا جواب ہمارے لیے ممکن نہیں۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ ایمان نہ لانے کی صورت میں اللہ کی طرف سے جس عذاب کی تم ہمیں دھمکی دیتے رہتے ہو اسے لے آئوتا کہ روز روز کا ٹانٹا ختم ہوجائے تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے جواب میں فرمایا کہ میں رسول ہدایت ہوں، عذاب لانا میرا کام نہیں۔ البتہ میں تم سے جو ہمدردی اور خیرخواہی رکھتا ہوں اس کے پیش نظر میں تمہیں آگاہ کرتا رہتا ہوں کہ اگر تم نے کفر سے توبہ نہ کی اور ایمان کا راستہ اختیار نہ کیا تو اللہ کا عذاب کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ تو تم بجائے اس کے کہ مجھ سے عذاب کا مطالبہ کرو، تمہیں اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ تم جس بےنیازی بلکہ طنطنہ کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کررہے ہو تمہیں اندازہ نہیں کہ عذاب آنے کے بعد ہوتا کیا ہے۔ مجرموں کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ تم اپنے تمام تر تکبر اور غرور کے باوجود عذاب کو روک نہیں سکو گے۔ کیونکہ اللہ کا عذاب اس کی قدرت کا ظہور ہوتا ہے۔ انسانوں کے وسائل اس کے سامنے عاجز آجاتے ہیں۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور نہیں نفع دے گی تمہیں میری خیرخواہی۔ اگرچہ میں ارادہ کروں تمہاری خیرخواہی کا۔ اگر اللہ تم کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹنا ہے۔

وَلاَ یَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْ ٓاِنْ اََرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَکُمْ اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغُوِیَکُمْ ط ھُوَرَبُّکُمْ قف وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 34) (اور نہیں نفع دے گی تمہیں میری خیرخواہی۔ اگرچہ میں ارادہ کروں تمہاری خیرخواہی کا۔ اگر اللہ تم کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹنا ہے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے تمام اعتراضات کا جواب پا کر نصیحت حاصل کرنے کی بجائے جو معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ اختیار کیا اسے دیکھتے ہوئے اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کی طرف سے مایوس ہو کر یہ کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری خیرخواہی تمہارے لیے کارآمد نہیں۔ میں ہزار کوشش کروں تم اس انجام سے نہیں بچ سکو گے جس کا فیصلہ پروردگار فرما چکے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے درحقیقت اللہ کے قانون کا اعلان فرمایا۔ وہ یہ ہے کہ دعوت و نصیحت اور تذکیرو موعظت جب بیکار ہوجاتی ہے تو پھر پیغمبر کی جانب سے اپنی سبکدوشی کا اعلان ہوتا ہے۔ اس سے امت کی بدنصیبی پر مہر لگ جاتی ہے اور مخالفین کو ان کے اس انجام کے حوالے کردیا جاتا ہے جو ان کے لیے مقدر ہوچکا ہوتا ہے۔ اس آیت میں بھی درحقیقت یہی بات فرمائی گئی ہے۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرے جرم کا وبال میرے ہی اوپر ہوگا اور جو جرم تم کررہے ہو میں اس سے بری ہوں۔ )

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرَاہُ ط قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَاَنَا بَرِیْ ٓئٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 35) (کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرے جرم کا وبال میرے ہی اوپر ہوگا اور جو جرم تم کررہے ہو میں اس سے بری ہوں۔ ) مفسرین میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں مخاطب کون ہے ؟ آنحضرت ﷺ یا حضرت نوح (علیہ السلام) ۔ اگر مخاطب آنحضرت ﷺ کو سمجھا جائے تو پھر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ مشرکینِ مکہ نے یہ کہا کہ یہ جو آپ ﷺ قرآن کریم کا نام لے کر ایسی آیات ہمیں سناتے ہیں جو واقعی ہم پر منطبق ہوتی ہیں تو یہ سراسر آپ ﷺ کی اپنی گھڑی ہوئی ہیں اور اگر خطاب حضرت نوح (علیہ السلام) کو ہو تو پھر یہ التفات کی آیت نہیں ہوگی بلکہ اسی سیاق کلام سے وابستہ ہوگی جو پیچھے سے چلا آرہا ہے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ آپ (علیہ السلام) خود ان باتوں کو گھڑتے ہیں اور اللہ کی طرف منسوب کرکے ہمیں سناتے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : کہ حقیقت کچھ بھی ہو تم اب یہ بحث بند کرو۔ اگر یہ سب کچھ میرا افتراء ہے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور اگر یہ حق ہے اور تم جان بوجھ کر اس سے بغاوت کررہے ہو تو میں تمہارے اس جرم کی ذمہ داری سے اپنی برأت کا اعلان کرتا ہوں اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کی جانب سے جب اس طرح اعلانِ برأت ہوتا ہے تو پھر قوم کے لیے فیصلہ کن گھڑی آجاتی ہے۔