Ayah 11:61َواِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا م قَالَ یـٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط ھُوَ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیْھَا فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ ط اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 61)
(اور ہم نے بھیجا) قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی ( حضرت صالح (علیہ السلام) کو۔ ( حضرت صالح نے) کہا اے میری قوم ! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اس نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا اور پھر اس زمین میں تمہیں بسا دیا۔ پس اس سے مغفرت طلب کرو، پھر لوٹ جاؤ اس کی طرف۔ بیشک میرا رب قریب ہے اور ( التجائیں) قبول کرنے والا ہے۔ )
قومِ ثمود کی سرگزشت بھی گزشتہ واقعات کی کڑی ہے
اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ہود (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوچکا ہے اور ان کی دعوت کے انکار کے نتیجے میں ان کی قوموں پر عذاب آنے کے واقعات بیان ہوچکے ہیں۔ مقصود مشرکینِ مکہ کو یہ بتانا ہے کہ نبی کریم ﷺ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جو تمہاری طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف وقتوں میں ہر قوم کی طرف کوئی نہ کوئی رسول بھیجا ہے۔ رسول کے آنے کے بعد قوم ایک امتحان میں مبتلا ہوجاتی ہے، اگر وہ رسول کی دعوت کو قبول کرتی ہے تو دنیاوی اور اخروی کامیابیوں کا راستہ اس کے لیے کھل جاتا ہے لیکن اگر وہ انکار کرتی ہے تو اتمامِ حجت کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں ہلاک کردیتا ہے۔ چناچہ جن قوموں کا تذکرہ ہورہا ہے یہ بھی اسی قانون کے تحت عذاب کا شکار ہوئیں، تو اب اگر مشرکینِ مکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کریں گے تو وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ ان کی مخالفتوں کا زیادہ اثر نہ لیں۔ ہر قوم نے اپنے پیغمبر کے ساتھ ایسا ہی کیا، لیکن کامیابی بالآخر اللہ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کو ملتی ہے اور انکار کرنے والے فنا کردیئے جاتے ہیں۔ چناچہ اب اسی سلسلہ واقعات میں قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ قوم ثمود کا مسکن حجاز اور شام کا درمیانی خطہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم حضرت ہود پر ایمان لانے والوں کی اولاد تھی۔ جب قوم عاد پر عذاب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا، اور وہ یہاں آکر آباد ہوگئے۔ یہاں ان کی اولاد خوب پھیلی۔ انھوں نے محنت سے اس علاقے کو آباد کیا۔ کھیتی باڑی کے ہنر سے واقف تھے، اس لیے یہاں لہلہاتے ہوئے کھیتوں اور سرسبز و شاداب باغات کے باعث یہ علاقہ رشک ارم بن گیا۔ فنِ تعمیر میں بھی انھوں نے خوب ترقی کی تھی۔ اس لیے زراعت کے ساتھ ساتھ انھوں نے پہاڑوں میں ایسے حیرت انگیز طریقے سے کھدائی کرکے مکانات بنائے جو آج تک ان کی یادگار کے طور پر اس تباہ شدہ علاقے میں کھڑے ہیں۔ علوم و فنون میں ترقی کے باعث ان میں خودپسندی اور تکبر ونخوت ان کے کردار کا لازمی حصہ بن گئے تھے۔ دولت کی فراوانی نے انھیں خواہشات کا اسیر کردیا تھا۔ اس لیے ان کے اندر وہ تمام خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں جو دولت پر جان دینے والوں اور اپنی ترقی پر ناز کرنے والوں میں بالعموم پیدا ہوجاتی ہے۔ چناچہ ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے بارے میں سب سے پہلے وہی بات فرمائی جو پروردگار نے اکثر پیغمبروں کے بارے میں فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت صالح اور ان کے قوم کے درمیان اخوت کا رشتہ تھا۔ کیونکہ گزشتہ رکوع میں ہم یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ ہر پیغمبر کی بعثت کا مقصد اولیں لوگوں کی اصلاح ہوتا ہے۔ وہ ان کے لیے معلم اور مربی بن کے آتے۔ اس لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ تعلیم و تربیت اور تبلیغ و دعوت کے راستے میں کوئی چیز حائل نہیں ہونی چاہیے۔ اخوت دراصل اس بات کی ضمانت ہے کہ تمہاری طرف جو معلم اور مربی بھیجا گیا ہے اس کے اور تمہارے درمیان کوئی اجنبیت کا پردہ نہیں۔ تم پورے اعتماد کے ساتھ اس کی ہر بات کو قبول کرسکتے ہو۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت اور دلائل
دوسری بات اس آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے وہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت ہے جس کی طرف آپ نے اپنی قوم کو بلایا ہے۔ ہم گزشتہ رکوع میں عرض کرچکے ہیں کہ دنیا میں جو رسول بھی آیا اس نے آکر اپنی قوم کے سامنے سب سے پہلے یہی نسخہ شفا پیش کیا۔ کیونکہ انسان کے بگاڑ کا کوئی بنیادی سبب ہوسکتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ وہ کون سا آستانہ ہے جس پر اس کا سر جھکنا چاہیے۔ وہ کون سی ذات ہے جس کی اسے غیرمشروط اطاعت کرنی چاہیے۔ کون ساقادرِ مطلق ہے جس کے سامنے دست سوال دراز ہونا چاہیے، وہ کون سا محبوب حقیقی ہے جس سے دلوں کی دنیا آباد ہونی چاہیے، وہ کون سا حاکم حقیقی ہے جسے غیرمشروط طور پر آئین سازی کا حق حاصل ہے اور جس کی نافرمانی سے ہرحال میں ڈرنا چاہیے۔ وہ کون سا لاانتہاء علم و دانش کا مالک ہے جس کی ہرحال میں رہنمائی حاصل کرنی چاہیے اور وہ کون ہے جو دنیا کا بھی مالک ہے اور آخرت کا بھی۔ اس لیے اس نے دونوں کی ہدایت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اور وہ کون ہے جو بےپناہ علم و آگہی رکھتا ہے کہ وہ عالم الغیب بھی ہے اور عالم الشہادہ بھی۔ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے صحیح جواب پر انسان کی فلاح و بقا کا دارومدار ہے۔ اس لیے ہر نبی نے سب سے پہلے اسی بنیادی گرہ کو کھولا ہے اور یہ بتایا ہے کہ تم اللہ کے بندے اور اس کے غلام ہو اس لیے تمہیں ہر صورت اسی کی بندگی اور غلامی کرنی ہے اور غلامی کا تعلق صرف پوجا پاٹ سے نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں سے ہے۔ اسی طرح وہ یہ بات بھی بتاتے ہیں کہ تمہارا اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں اور اِلٰہ وہ ہوتا ہے جس میں متذکرہ بالا تمام صفات پائی جائیں۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کے سامنے تمام انبیاء کرام کی طرح یہی دعوت پیش کی اور پھر اللہ کو اِلٰہ ثابت کرنے کے لیے دو دلیلیں بھی ارشاد فرمائیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ تمہارا اِلٰہ اور حاکم حقیقی اس وجہ سے صرف اللہ ہی ہونا چاہیے کیونکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر اس کی صفت تخلیق کی ہمہ گیری اور اس کی قدرت بالغہ کا حال یہ ہے کہ تمہیں پیدا بھی زمین کے جوہر سے کیا ہے۔ تمہارے جدِ امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو تو اس نے اپنے دست قدرت سے بنایا لیکن ان کاست بھی مٹی سے تیار ہوا اور ان کے بعد ان کی اولاد میں نسل انسانی کا طریقہ یہ ٹھہرا کہ اسی زمین سے پیدا ہونے والی غذا انسان کے اندر مادہ تولید پیدا کرے گی اور یہی مادہ بقائے نسلِ انسانی کا ضامن ہوگا۔ چونکہ یہ مادہ زمین سے پیدا ہونے والی غذا سے بنتا ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ تمہارا اِلٰہ وہ ہے جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا۔ اس میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ انسان کا مادہ تخلیق تو پانی کا گندا قطرہ ہے جو زمین کی پیدا کردہ غذا سے تیار ہوا۔ لیکن پستی کی امین اس مٹی سے اور نجاست کی علامت اس مادے سے جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس کے کمالات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اس کی من موہنی اور دلآویز شکل و صورت، اس کا سڈول جسم، اس کے متناسب اعضاء، تمام مخلوقات میں سے سب سے زیادہ جاذب نظر اس کی شخصیت، اس کے دل و دماغ کی رعنائیاں، اس کے احساسات کی بلندی، اس کے تخیل کی پرواز، اس کا جمالیاتی ذوق، اس کے عزائم کی وسعت، اس کی حیرت انگیز قوت ایجاد جس نے لوہے میں قوت پرواز پیدا کردی، جس نے تاریکیوں میں روشنی کے قمقمے آویزاں کردیئے جس نے کمپیوٹر کی شکل میں ایک متبادل دماغ کو وجود دیا۔ جب انسان کی اس حیران کردینے والی شخصیت کو ہم دیکھتے ہیں اور پھر اس کے مادہ تخلیق کی بےبضاعتی پر نظر ڈالتے ہیں تو بےساختہ اللہ کی صفت تخلیق کے سامنے آدمی کا سر جھک جاتا ہے کیونکہ عقل یہ باور کرنے سے عاجز ہے کہ مٹی کی کچی اینٹوں سے تاج محل کھڑا ہوجائے اور بےجان مادے سے جاندار چیز وجود میں آجائے۔ ساکت و صامت مادہ سے دیکھنے والا، بولنے والا اپنے صلاحیتوں سے حیران کردینے والا اور دنیا کو اپنی قوت سے تسخیر کرنے والا انسان وجود میں آجائے لیکن ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
دوسری دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی زمین میں تمہیں آباد فرمایا۔ مخلوق کو کسی جگہ آباد کرنے کا مطلب اس کی ضروریات کا مہیا کرنا اور گردوپیش کو اس کے مناسب بنانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر زمین کی آبادی کا فیصلہ فرمایا تو زمین میں قوت روئیدگی رکھی تاکہ انسان کی غذائی ضرورتیں زمین ہی سے اگائی جاسکیں۔ زمین ہی پر پانی کے ذخیرے جمع کردیئے۔ زمین کے نیچے بھی پانی کے سوتے رواں کردیئے۔ کہیں چشمے ابل رہے ہیں، کہیں آبشاریں گر رہی ہیں، کہیں دریا بہہ رہے ہیں۔ سورج کی کرنوں کو حکم دیا کہ وہ سمندر سے اپنی کرنوں کے ڈول بھر بھر کر کھینچے اور فضاء میں ابر کی چادریں بچھا دے اور ہوا کو اس کام پر لگا دیا ہے کہ جہاں زمین کو آبیاری کی ضرورت ہو وہاں وہ بادلوں کو کھینچ کرلے جائے اور پانی برسا دے۔ سورج، چاند، ہوا اور آگ ہر چیز کو زمین کے اس باسی کی خدمت پر لگا دیا تاکہ اس کی آبادی کا سامان ہوسکے۔ جو شخص بھی سرسری نظر سے بھی آبادی کے ان اسباب پر غور کرے گا وہ اللہ کی صفت تخلیق کے بعد اس کی صفت ربوبیت کو دیکھ کر سر سجدے میں ڈال دے گا۔ بعض اہل علم نے اِسْتَعْمَرَکُمْ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اس نے تمہیں زمین کی آبادی کا حکم دیا ہے اور زمین کی آبادی پر لگا دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری تہذیبی اور تمدنی ضرورتوں کے لیے (جو آبادی ہی کا حصہ ہیں) تمہارے اندر اس کی صلاحیت پیدا کردی۔ آبادی کے لیے مکانوں کی ضرورت تھی۔ تمہیں فنِ تعمیر سے آگاہ فرمایا۔ زمین سے غذا کے حصول کے لیے تمہیں فنِ زراعت دیا گیا۔ تن پوشی کے لیے تمہیں کپاس کے اگانے اور پھر اس سے کپڑا بنانے کا ہنر سکھایا گیا اور یہ حقیقت ہے کہ ایک طرف تو ان تمام علوم و فنون کے سیکھنے کی صلاحیت انسان کے دماغ میں پیدا کی اور دوسری طرف انبیاء کرام کی معرفت ان چیزوں کی تعلیم کا بندوبست فرمایا۔ دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت، اس کی صفت تخلیق کا کمال، اس کی صفت ربوبیت کی ہمہ گیری اور اس کی صفت رحمت کا ظہور قدم قدم پر انسان کو احساس دلاتا ہے کہ تم اس کا آستانہ چھوڑ کر کدھر سرگرداں پھر رہے ہو۔ تمہیں تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکرگزار ہونا چاہیے اور شکرگزاری کا ادنیٰ تقاضا یہ ہے کہ اس کی نافرمانی نہ ہونے پائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اس کی شان میں کوئی گستاخی نہ ہونے پائے لیکن تم نے ان میں سے کون سی بات ہے جس کا ارتکاب نہیں کیا۔ اس کی ذات وصفات میں نجانے کس کس کو شریک ٹھہرایا۔ قدم قدم پر اس کی نافرمانیاں کیں۔ حتیٰ کہ تم نے زمین کو فساد سے بھر دیا۔ اب بھی اگر تمہیں کچھ احساس ہوجائے تو پھر سب سے پہلے اس سے استغفار کرو۔ یعنی اب تک جو نافرمانیاں کی ہیں اور غلط تصورات بنا رکھے ہیں ان سب سے ہاتھ اٹھالو۔ ایک ایک گناہ کو یاد کرو اور اسے حرف غلط کی طرح مٹا دو ۔ اس طرح جب تمہارا دامن آلودگیوں سے صاف ہوجائے اور گندگی کا کوئی داغ اور دھبہ باقی نہ رہے تو پھر پوری طرح اللہ کی طرف پلٹ جاؤ۔ اس کے سامنے سر ڈال دو اور اس سے یہ عہد کرو کہ آئندہ میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے اللہ اور اس کے رسول نے روکا ہے اور ہر وہ کام کرنے کی کوشش کروں گا جسے اللہ نے کرنے کا حکم دیا ہے۔ تمام غلط باتوں کو چھوڑ دینا اور اس پر ندامت کا اظہار کرنا استغفار ہے۔ اور آئندہ کے لیے ہمہ جہت اطاعت کا عہد کرنا اور دل و دماغ کو اسی کی محبت سے آباد کرنا یہ توبہ ہے۔ اس کے بعد مزید ایک حیرت انگیز بات فرمائی جس نے انسانی مایوسیوں کو ختم کرکے رکھ دیا۔ اسے ایک صالح زندگی اختیار کرنے کا حوصلہ ملا جس نے سالہاسال گناہوں کے دلدل میں گزارے تھے اور اسے دور سے تاریکی کے سوا کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا اس کے لیے بھی نجات کا ایک راستہ کھل گیا۔ اسے تاریکی میں ایک روشنی جس سے اگر وہ چاہے تو ایک نئی صالح زندگی استوار کرسکتا ہے۔
اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ میں ایک جہانِ معنی مضمرہے
ارشاد فرمایا : ان اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْب بیشک میرا رب قریب بھی ہے اور دعائوں اور التجاؤں کو قبول کرنے والا بھی ہے۔ ان چند لفظوں میں ایک جہانِ معنی مضمر ہے۔ مشرک قوموں کو جن غلط تصورات نے اللہ سے دور رکھا ہے بلکہ جس نے شرک کے راستے کھولے وہ ان کی یہ حماقت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بادشاہ و راجوں مہاراجوں پر قیاس کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ ہے جس طرح بادشاہ اپنے محل میں رہتا ہے، دربار لگاتا ہے لیکن اس تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اس کے مقربانِ بارگاہ ہوتے ہیں جبکہ اس کا ملک دور دراز علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ملک کے مختلف گوشوں میں رہنے والے ہزار کوشش کے باوجود اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ اس نے لوگوں کی بھلائی کے لیے جابجا اپنے کارندے مقرر کر رکھے ہیں اور انھیں اپنے اختیارات میں سے کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ اس لیے جو آدمی بادشاہ کی رعیت ہوتے ہوئے اس سے وفاداری کا اظہار کرنا چاہتا ہے یا اپنے کسی کام کے لیے اس سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ جو اس نے درمیان میں واسطے مقرر کر رکھے ہیں وہ ان واسطوں سے تعلق پیدا کرے۔ چناچہ اس کی درخواست انھیں واسطوں سے ہوتی ہوئی ممکن ہے بادشاہ تک پہنچ جائے ورنہ براہ راست اس کی درخواست کا بادشاہ تک پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ تو بہت بلند ذات ہے۔ ایک شخص محکمہ مال کے سربراہ سے ملنا چاہتا ہے یا اس سے کوئی کام کرانا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے پٹواری سے ملے، پھر قانونگو سے، پھر نائب تحصیلدار سے اور پھر تحصیلدار سے اس سے درجہ بدرجہ اوپر چڑھے گا تو اس کی فریاد کی شنوائی کا کوئی انتظام ہوسکے گا۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ تک رسائی بھی اور اس سے التجا بھی واسطوں کی محتاج ہے۔ براہ راست اس سے رابطہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس جملے میں اس تصور کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ دلیل اتنی براہ راست ہے جو دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ اس کے الفاظ بولتے ہوئے اور کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ نادانو ! ذرا غور کرو کہ جو تمہارے قریب ہو اور قریب بھی اتنا کہ شہہ رگ بھی اس سے زیادہ دور ہو۔ کیا اسے پکارنے یا اس سے رابطے کے لیے درمیان میں واسطے کی ضرورت پڑے گی۔ اسی طرح جو ہر وقت سنتا اور جواب دیتا اور التجاؤں کو قبول بھی کرتا ہو، اسے بجائے خود عرض کرنے کے کسی اور سے کہا جائے گا کہ آپ میری بات ان تک پہنچا دیں۔ عقلِ عام کا فیصلہ یہ ہے کہ جو خود قریب ہے اس میں فاصلے دے کر اسے دور مت کرو اور جو التجائیں سننے کے لیے ہر وقت مستعد ہو اسے التجائیں روک کر ناراض مت کرو۔ اللہ تعالیٰ کی ذات نامکان میں سمٹی ہوئی ہے اور نہ زمان میں۔ وہ ہر شخص کے اتنا قریب ہے کہ خود ارشاد فرماتا ہے کہ میں شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ اور سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ میں ہر پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں، جب وہ مجھے پکارتا ہے اور اسے قبول کرتا ہوں۔ عیسائیت نے یہ تصور دے کر کہ انسان پیدائشی طور پر گنہگار پیدا ہوا ہے انسان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اور ہندو ازم کے آواگون اور تناسخ نے انسانی مستقبل کو مکمل طور پر مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ صرف اسلام نے انسانیت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سطح سمندر پر لا کر ازسرنو زندگی کا امکان مہیا کیا۔ آنحضور ﷺ نے توبہ و استغفار پر اس قدر زور دیا کہ آپ کو رسول التوبہ کہا گیا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے اتنا حوصلہ دیا ہے کہ وہ براہ راست اپنے اللہ سے بات کرسکتا ہے۔ وہ ہر گنہگار کی بھی سنتا ہے اور نیک کی بھی۔ برسوں کا نیکیاں کرنے والا اگر نیکی کے پندار میں مبتلا ہوجائے تو وہ محروم ہوجاتا ہے اور زندگی بھر کا پاپی اگر اخلاص سے اس کے دروازے پر آجائے تو وہ درِ کرم اس کے لیے کھل جاتا ہے۔ اقبال نے اس احساس کی ترجمانی کرتے ہوئے بالکل صحیح کہا :
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے
Ayah 11:62قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْکُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ اَتَنْھٰنَآ اَنْ نَّعْبُدَمَایَعْبُدُ اٰبُآؤْنَا وَاِنَّنَا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ مُرِیْبٍ ۔ (سورۃ ہود : 62)
(انھوں نے کہا : اے صالح ! تم اس سے پہلے ہم میں امیدوں کا مرکز تھے۔ کیا تم ہمیں اس بات سے روکتے ہو کہ ہم عبادت کرتے ہیں ان کی جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے۔ بیشک ہم اس عمل کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے ایک بےچین کردینے والے شک میں مبتلا ہوگئے۔ )
انسان جلدی تبدیلی قبول نہیں کرتا
حضرت صالح (علیہ السلام) کی اتنی موثر تقریر کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی قوم ان کی دعوت کو قبول کرلیتی اور آپ پر ایمان لے آتی، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ انسان اپنے غلط سے غلط تصورات اور بد سے بدتر اعمال پر بھی اس طرح اڑ جاتا ہے کہ حتی الامکان اس میں تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جن اعتقادات کے ساتھ زندگی گزاری ہو وہ چاہے کیسے ہی غلط کیوں نہ ہو انسان ان سے ایسا وابستہ ہوجاتا ہے کہ کسی طرح بھی ان سے دامن چھڑا نا نہیں چاہتا حالانکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی کو ہمیشہ اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور جب بھی اسے غلطی کا احساس دلایا جائے اسے سوچنا چاہیے کہ کیونکہ اس بات کے امکان کو تو بہرحال رد نہیں کیا جاسکتا کہ عقل مند سے عقل مند آدمی بھی غلطی کرسکتا ہے تو پھر اندھوں اور بہروں کی طرح اپنی بات پر اڑ جانا ایک بےجواز سی بات ہے لیکن بگڑی ہوئی قوموں کا حال جو تاریخ نے ہمارے سپرد کیا ہے وہ یکسر اس سے مختلف ہے۔ وہ کبھی بھی تبدیلی کے خواہشمند نہیں ہوتے، جس ڈگر پر چل رہے ہوں اس میں کسی طرح کی کوئی کمی بیشی انھیں گوارا نہیں ہوتی۔ چناچہ قوم ثمود نے بھی بجائے اپنی غلطیوں پر غور کرنے کے حضرت صالح (علیہ السلام) کو مطعون کرنا شروع کردیا کہ تم نے یہ کیا الٹی سیدھی باتیں ہانکنا شروع کردیں۔ ہم تو تمہارے بارے میں بہت بلند امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔ تمہارا بچپن، تمہارا لڑکپن نہایت دل موہ لینے والا تھا۔ تمہاری جوانی پر رعنائیاں قربان ہوتی تھیں، لیکن کیا مجال ہے جو کبھی تمہارے کردار پر حرف آیا ہو۔ تمہاری زبان ہمیشہ شبنم برساتی رہی۔ تمہارے طور اطوار شرافت کی منہ بولتی تصویر رہے۔ پورے قبیلے میں کوئی تم جیسا نہ تھا تم بڑے ہوئے اور عملی زندگی میں آئے تو تمہاری اصابتِ رائے نے سب کو متاثر کیا۔ اب سب یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ وہ دن دور نہیں جب تم اس قوم کی رہنمائی سنبھالو گے اور ان کی الجھی ہوئی گتھیاں حل کرو گے لیکن یہ نہ جانے تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم بجائے اپنے آبائواجداد کا نام روشن کرنے کے ان کا نام ڈبونے پر تل گئے ہو۔ ہمیں اس راستے سے روکنا چاہتے ہو جس پر ہمارے آبائواجداد چلتے رہے ہیں۔ تم چاہتے ہو کہ ہم ان معبودوں سے تعلق توڑ لیں جو ہمارے ابائواجداد کے معبود تھے اور صرف ایک خدا کو لے کر بیٹھ جائیں۔ تمہاری اس روش نے تو ہمیں عجیب الجھن میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ جب ہم تمہاری مسحور کن شخصیت کو دیکھتے ہیں اور تمہارے عمدہ طوراطوار کو دیکھتے ہیں تو تمہاری باتیں ہمیں سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ لیکن جب ہم اپنے آبائواجداد کی روایت کو دیکھتے ہیں جن کی تعداد نہ جانے کتنی ہے تو ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیا وہ سارے ہی گمراہ تھے۔ اس صورتحال نے ہمیں ایک دورا ہے پر لا کھڑا کیا۔ کبھی تو ہم یہ سوچتے ہیں کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو یہ بالکل غلط ہے اور ہمیں تمہاری دیانت میں بھی شبہ ہونے لگتا ہے۔ لیکن جب تمہاری سابقہ زندگی کو دیکھتے ہیں تو پھر اس شبے میں بھی دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ چناچہ اس صورتحال کی تعبیر کے لیے اس آیت کریمہ میں ” شک “ کے ساتھ ” مریب “ کی صفت لائی گئی ہے۔ اَرَابَہٗ کے لغت میں معنی ہیں اَزْعَجَہٗ وَاَقْلَقَہٗ اس نے اس کو اضطراب اور الجھن میں مبتلا کردیا۔
یہ حقیقت ہے کہ نبی کی دعوت بےاثر نہیں رہتی۔ بیشک اسے قبول نہ کیا جائے لیکن وہ دلوں میں اضطراب ضرور پیدا کردیتی ہے۔ سنجیدہ فکر لوگ بالآخر ایمان لے آتے ہیں لیکن دنیا کے پرستار اور خواہش نفس کے اندھے اس اضطراب کو دبانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہی حال قوم ثمود کا بھی ہورہا تھا۔ وہ آپ کی دعوت کی تاثیر کی گرفت کو محسوس کررہے تھے۔ آپ کی غیرمعمولی زندگی اور آپ کے سیرت و کردار کی بلندی ان کے لیے لمحہ فکریہ بن کر رہ گئی تھی اور دوسری طرف آبائواجداد کی روایت اور دلوں میں بیٹھے ہوئے اعتقادات راستے کا ایسا پتھر بن گئے تھے جو ہلائے نہیں ہل رہے تھے۔ اس مرحلے سے گزرنا قوموں کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ اس سے صرف وہ گزرتے ہیں جن کے دلوں میں ایمان کا نور روشن ہوجاتا ہے۔ اقبال نے اسی مشکل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
آئینِ نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
Ayah 11:63قَالَ یٰقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَاٰتٰنِیْ مِنْہُ رَحْمَۃً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ عَصَیْتُہٗ قف فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَتَخْسِیْرٍ ۔ (سورۃ ہود : 63)
(حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم ! بھلا یہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی جانب سے رحمت خاص سے بھی مجھے نوازا ہے تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اللہ کی پکڑ کے وقت کون میرا مددگار ہوگا۔ سو تم میری بربادی ہی میں اضافہ کروگے۔ )
حضرت صالح (علیہ السلام) کا جواب سوال کی صورت میں
گزشتہ آیت کریمہ میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے بارے میں قوم نے توقعات پورا نہ ہونے پر جس طرح تأسف کا اظہار کیا اس کے بعد حضرت صالح اور آپ کی قوم کے درمیان ایک کشمکش شروع ہوگئی۔ قوم کی یقینی خواہش ہوگی کہ حضرت صالح جس راستے پر چل نکلے ہیں وہ ان کی اپنی شخصیت اور قوم دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔ ہمیں یہ کسی طرح گوارا نہیں کہ ہم اپنی قوم کے ایک ہونہار سپوت کو ضائع کردیں۔ اس لیے انھوں نے شروع میں تو آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہوگی، بڑوں نے آپ پر اپنا اثر ڈالا ہوگا، بڑی بوڑھیوں نے طعنے دیئے ہوں گے لیکن جب دیکھا کہ وہ کسی کی بھی بات سن کے نہیں دیتے تو پھر یقینا انھیں ڈرایا دھمکایا ہوگا، انھیں اونچ نیچ سمجھائی ہوگی اور ان کی روش کا انجام ان پر واضح کیا ہوگا۔ ان تمام باتوں پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ ان کے سامنے ایک سوال رکھا کہ تم مجھے یہ بتائو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے بینہ پر ہوں یعنی اللہ نے مجھے جس نور فطرت اور دل کی جس روشنی کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اور میں نے آج تک اپنے اس پیدائشی نور کو بجھنے نہیں دیا وہ برابر مجھے وہ باتیں دکھاتا اور سمجھاتا ہے جو تمہاری نگاہوں نے اوجھل ہیں۔ بس یوں سمجھو،
مجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے
پھر اس وقت مزید اللہ کی بےپایاں رحمت یہ ہے کہ اللہ نے میرے دل پر وحی اتاری ہے، فرشتہ مجھ پر اس کا کلام لے کر اترتا ہے، میں اس فرشتے کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں، اس کے کلام کو اپنے کانوں سے سنتا ہوں۔ زندگی کے بیشتر حقائق اس طرح میرے سامنے کھولے جاتے ہیں جیسے وہ پیش پا افتادہ حقیقتیں ہیں۔ اس کے بعد تمہاری میرے ساتھ تکرار اور اپنی بات منوانے کے لیے میرے درپے آزار ہونا اور میرے انکار کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دینا کیا معنی رکھتا ہے۔ اندھے اگر اکٹھے ہو کر آنکھوں والوں کو ڈرانے لگیں کہ تم چمکتے ہوئے سورج کو دیکھ کر بھی سورج کا انکار کرو، ورنہ ہم تمہارے ساتھ بدترین سلوک کریں گے تو کیا آنکھوں والوں کو اندھوں کی بات مان لینی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اس بات کو مانا نہیں جاسکتا۔ اسی طرح میری حیثیت تم میں چشم بینا رکھنے والے کی ہے اور تم اس اہم خصوصیت سے محروم ہو۔ اس کے باوجود تم دبائو کے ذریعے مجھ سے اپنی بات منوانا چاہتے ہو۔
روحانی، معنوی اور علمی زندگی میں بعض دفعہ ایسے مراحل آتے ہیں کہ ایک شخص یقین کے ساتھ ایک سچائی پر قائم ہے اور دوسرا گروہ جو اس سچائی کو سمجھنے سے قاصر ہے وہ اسے اپنے سامنے جھکانا چاہتا ہے۔ ایسی کشمکش تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف نتائج پیدا کرچکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مشہور سائنس دان گلیلیو نے بھی جب اپنی سائنسی تحقیق کی بنیاد پر زمین کے بارے میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ حرکت کرتی ہے تو کلیسا نے اسے عدالت میں طلب کرلیا۔ اس نے جب اپنی بات پر اصرار کیا تو اسے کہا گیا یہ زہر کا پیالہ تمہارے سامنے پڑا ہے اپنی تحقیق واپس لے لو یا زہر کا پیالہ پی لو۔ اس نے پہلے تو اپنی تحقیق واپس لے لی، جب عدالت سے باہر آیا تو پھر عدالت کی طرف پلٹ گیا اور جا کر جج کے سامنے کہنے لگا کہ میں کیا کروں، میں تو اب بھی زمین کو حرکت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اس لیے میں اس کا کیسے انکار کرسکتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے زہر کا پیالہ پی لیا اور اپنی تحقیق پر جان دے دی۔ سائنسدانوں کے پاس یقین کی وہ قوت نہیں ہوتی، نہ ان کے پاس فطرت کا نور ہوتا ہے اور نہ وحی الٰہی کی روشنی۔ اس کے باوجود وہ اگر اپنی تحقیق پر جان دے سکتے ہیں تو پیغمبر کا معاملہ تو اس سے بہت بالا و اعلیٰ ہے۔ اس لیے یہ چبھتا ہوا سوال حضرت صالح نے اپنی قوم کے سامنے رکھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں جانتے بوجھتے اگر اس صداقت کا انکار کردوں جس کی طرف میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں تو یقیناً اس پر اللہ کی گرفت آئے گی۔ تو بتائو تم میں سے کون ہے جو مجھے اس کی گرفت سے بچا سکتا ہے۔ اس کی گرفت سے تو کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ تم میری بربادی اور ہلاکت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہو۔ تم نے اگر اپنی تباہی کا فیصلہ کرلیا ہے تو میں تمہیں زبردستی تو نہیں روک سکتا لیکن تمہاری وجہ سے میں اللہ کی نافرمانی کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتا۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر زندگی کے لیے تباہی اور کوئی نہیں۔
Ayah 11:64وَیٰـقَوْمِ ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوْھَا تَاْکُلْ فِیْ ٓ اَرْضِ اللّٰہِ وَلاَ تَمَسُّوْھَا بِسُوْٓئٍ فَیَاخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 64)
(اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمہارے لیے نشانی ہے۔ پس اسے چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور کسی برائی کے ارادے سے اسے ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تمہیں بہت جلد عذاب آپکڑے گا۔ )
قوم کا مطالبہ اور اس کا جواب
قوم نے جب حضرت صالح (علیہ السلام) کی استقامت اور استقلال کو دیکھا اور سمجھ گئے کہ یہ اپنی دعوت سے پیچھے ہٹنے والے نہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ آہستہ آہستہ لوگ ان کی دعوت سے متاثر ہو کر ایمان لانا شروع کردیں۔ انھوں نے آپ کا امتحان لینے یا آپ کو زچ کرنے کے لیے ایک بہت بڑا مطالبہ کردیا کہ اگر آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تو اس سامنے کی چٹان سے ایک اونٹنی نکال کر دکھائو۔ امام رازی ( رح) فرماتے ہیں کہ یہ عید کا دن تھا اور مطالبہ کرنے والے یہ سمجھتے تھے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) یہ مطالبہ پورا نہ کرسکیں گے اور اس طرح سے لوگوں کے جمِ غفیر کے سامنے ان کے جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے گا۔ لیکن حضرت صالح (علیہ السلام) کو اپنے مؤقف پر یقین تھا اور اپنے اللہ پر بھروسہ تھا۔ انھوں نے اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا دیئے۔ نہایت عاجزی سے دعا کی یا اللہ اس قوم پر دلیل اثر انداز نہیں ہورہی۔ وہ کوئی ایسی نشانی دیکھنا چاہتے ہیں جو نہایت حیران کن ہو۔ تو ان کا مطالبہ پورا فرما دے، شاید یہ ایمان لے آئیں۔ چناچہ اس جمِ غفیر کے سامنے چٹان پھٹی اور اس میں سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہوئی۔ اس اونٹنی کی طرف اشارہ کرکے پروردگار نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی معرفت حکم دیا کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے۔ کیونکہ معجزانہ طور پر محض اس کی قدرت سے ایک چٹان سے برآمد ہوئی اور تمہارے لیے نشانی ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ اس نشانی کو دیکھ کر اپنا وعدہ پورا کرو اور ایمان لائو۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے اس لیے تم پر اس کا احترام ضروری ہے۔ اسے اللہ کی زمین میں چھوڑ دو ۔ جہاں چاہے کھاتی پھرے۔ اس سے تعرض نہ کرنا اور روکنے کی کوشش نہ کرنا۔ اور بعض روایات کے مطابق اس کی پانی کی باری مقرر کردی گئی۔ بستی کے کنویں سے ایک دن وہ پانی پیتی تھی اور ایک دن بستی کے جانور پانی پیتے تھے۔ وہ چونکہ پورے کنویں کا پانی پی جاتی تھی اور چارہ بھی اسی مقدار سے کھاتی ہوگی اس لیے اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس قوم کے بگڑے ہوئے لوگ تنگ آکر کہیں اسے مار نہ ڈالیں۔ اس لیے حکم دیا کہ کسی برائی کے ارادے سے اسے چھونے کی بھی کوشش نہ کرنا ورنہ تمہیں فوری اللہ کا عذاب آپکڑے گا۔
Ayah 11:65فَعَقَرُوْھَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰـثَۃَ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ وَعْدٌغَیْرُمَکْذُوْبٍ ۔
(سورۃ ہود : 65)
(پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا لطف اٹھائو اپنے گھروں میں تین دن تک۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ )
سرکشی کی انتہاء
گزشتہ آیت کریمہ میں قوم ثمود سے کہا گیا تھا کہ اللہ کی اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ تمہیں عذاب آپکڑے گا لیکن حیرانی کی بات ہے کہ جس قوم نے اپنی آنکھوں سے اتنے بڑے معجزے کو بروئے کار آتے دیکھا بغیر کسی ظاہری سبب کے چٹان پھٹی اور اونٹنی برآمد ہوئی اور پھر اس کا حاملہ ہونا اور خوردونوش کا غیرمعمولی ہونا ایک ایک چیز بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہ اونٹنی اللہ کی اونٹنی ہے۔ یہ اس کی طرف سے نشانی ہے۔ تمہیں صرف یہ سمجھانا ہے کہ اللہ کے رسول پر ایمان لائو جس کے دعا کرنے پر اللہ نے اتنا بڑا معجزہ دکھایا۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ قوم ایمان لاتی اور اپنے وعدہ کو پورا کرتی انھیں میں میں چند اوباش اٹھے (جیسے کہ سورة الاعراف میں وضاحت ہوچکی ہے۔ ) اور انھوں نے اونٹنی کو قتل کردیا۔ اونٹنی کا قتل درحقیقت اللہ کی الوہیت کے لیے ایک چیلنج تھا اور دوسرے لفظوں میں یہ کہنا تھا کہ ہم کائنات کے کسی خدا کو نہیں مانتے۔ تم جس خدا سے ڈراتے ہو وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ چناچہ اس پر اللہ کا غذاب بھڑکا اور صالح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ اپنی قوم سے کہہ دیجیے کہ اب تمہارے لیے صرف تین دن کی مہلت ہے۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے تم تباہ کردیئے جاؤ گے۔ یہاں رک کر ذرا غور فرمایئے کہ اس قوم پر عذاب کیوں آرہا ہے ؟ صرف اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی نافرمانی میں انتہا کردی اور وہ کسی طرح بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اس پر کائناتی قوتیں حرکت میں نہیں آئیں بلکہ اللہ کا حکم آیا کہ انھیں تین دن کی مہلت دی جارہی ہے اور اس کے بعد ان پر خدا کا عذاب آجائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسانوں پر مصیبتیں اور زمین اور فضاء میں تبدیلیاں محض چند طبعی امور کے جمع ہوجانے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں تو پھر یہ تین دنوں کی قید کیوں لگائی گئی اور کیا ان تین دنوں میں طبعی عوامل نے باہم مل کر کوئی فیصلہ کیا تھا کہ ہم اس کے بعد ان پر حملہ آور ہوں گے۔ یہاں تو صاف صاف کہا گیا ہے کہ اللہ نے انھیں تین دن کی مہلت دی اور عذاب ان پر ان کی سرکشی کے سبب سے آیا اور جب بھی کوئی عذاب آتا ہے تو طبعی تبدیلیوں سے نہیں آتا۔ البتہ طبعی تبدیلیاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہیں اور اس کائنات کا ہر پتا اسی کے حکم سے حرکت میں آتا ہے۔ ان واقعات پر جتنا بھی غور کیا جائے یہ دو باتیں پہلو بہ پہلو کھل کر سامنے آتی ہیں کہ اللہ جب بھی کسی کو پکڑتا ہے سرکشی اور نافرمانی کی پاداش میں پکڑتا ہے اور جب بھی دنیا میں کوئی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی تبدیلی اپنے طور پر وقوع پذیر نہیں ہوسکتی۔ زلزلہ آتا ہے تو یقینا زمین کے نیچے کائناتی قوتیں اپنا عمل دکھاتی ہیں لیکن گمراہی کی بات یہ ہے کہ ان قوتوں کے بجائے اللہ کا محکوم سمجھنے کے خود مختار سمجھ لیا گیا ہے۔ ہمارے دانشوروں کے خیال میں پہاڑوں میں آتش فشانی پہاڑوں کی مرضی سے ہوتی ہے۔ زمین میں زلزلہ کائناتی قوتوں کی مرضی سے آتا ہے۔ مون سون خودبخود بنتا ہے اور بارشیں اپنے آپ برستی ہیں لیکن قرآن کی فکر یہ ہے کہ ان میں سے کوئی کام بھی اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔ بعض چیزوں کے لیے اس نے طبعی قوانین بنا رکھے ہیں لیکن ان میں بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ لیکن انسانی سزائوں کے لیے طبعی قوانین نہیں اخلاقی قوانین کارفرما ہیں اور ان کا تعلق اللہ کے دین اور اللہ کی رضا سے ہے۔ ان کے درمیان ایک رشتہ ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے ساری خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔
Ayahs 11:66–68فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ ط اِنَّ رَبَّکَ ھُوَالْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ ۔ وَاَخَذَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ط اَ لَآ اِنَّ ثَمُوْدَاْ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ ط اَلاَ بُعْدًا لِّثَمُوْدَ ۔
(سورۃ ہود : 66۔ 67۔ 68)
(پس جب ہمارا حکم صادر ہوا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنے خاص فضل سے اس عذاب اور اس دن کی رسوائی سے نجات بخشی، بیشک تمہارا رب ہی قوی اور غالب ہے۔ اور ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا خدا کی ڈانٹ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں زمین میں چمٹے پڑے رہ گئے۔ گویا کبھی ان میں بسے ہی نہیں۔ سن لو ! ثمود نے اپنے رب کی ناشکری کی۔ سن لو ! کہ ہلاکی ہے ثمود کے لیے۔ )
حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانیوالوں کو عذاب سے نجات
ٍٗٓتین دن کی مقررہ مدت گزرنے کے بعد اللہ کے عذاب نے انھیں آپکڑا۔ لیکن اس عذاب سے پہلے اللہ نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے بچانے کا سامان کیا۔ یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کو کیسے بچایا گیا۔ کیونکہ عذاب کی ہولناکی کو دیکھتے ہوئے کسی بھی آدمی کا بچنا ناممکن تھا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھیں صرف عذاب ہی سے نہیں بچایا گیا بلکہ اس دن کی رسوائی سے بھی محفوظ رکھا گیا۔ رسوائی کی نوعیت کیا تھی، اس سے کس طرح بچایا گیا، یہ تو اسرارِ الٰہی ہیں جنھیں کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اتنی بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ قوم ثمود نے جس طرح سرکشی اور تمرد کا اظہار کیا اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو چیلنج کیا اس کی سزا کے طور پر انھیں صرف مارا ہی نہیں گیا ہوگا بلکہ ان کے دماغ کے خناس کا علاج کرنے کے لیے رسواء بھی کیا گیا ہوگا۔ عذاب سے پہلے تین دن کی مہلت کوئی تعجب نہیں کہ صرف ان کی رسوائی کے لیے رکھی گئی ہو۔ انھیں دھیرے دھیرے عذاب کی آہٹ بھی پہنچ گئی ہو اور پھر وہ ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر اس طرح روتے ہوں گے جیسے پھانسی کے سزا یافتہ اور ایک ہی جرم میں شریک آپس میں بیٹھ کر روتے ہیں۔ اور بعض دفعہ ایک دوسرے کو الزام بھی دیتے ہیں کہ تم نے ہمیں اس برے راستے پر ڈالا ورنہ ہمارا یہ انجام نہ ہوتا۔
اس آیت کے پہلے جملے میں آپ نے غور کیا کہ سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ عذاب اس وقت آیا جب ہمارا حکم آگیا۔ یعنی حکم اور عذاب میں کوئی فاصلہ نہیں تھا۔ اس فاصلہ نہ ہونے کے باوجود حکم کے بغیر عذاب نہیں آتا اور حکم آنے کے بعد عذاب میں تاخیر نہیں ہوتی۔
حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو کہاں پناہ دی گئی، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن آج تک کوہ طور کا وہ حصہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اعتکاف کیا کرتے تھے اور وہیں آپ کو تورات دی گئی۔ اس کے قریب ایک پہاڑ ہے جسے نبی صالح کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت صالح (علیہ السلام) نے آکر پناہ لی تھی۔
عذاب کی نوعیت
قومِ ثمود پر اللہ کا عذاب الصَّیْحَۃُ کی شکل میں آیا۔ الصیحہ دھاڑ، چنگھاڑ اور خوفناک دھماکے کو کہتے ہیں۔ لیکن سورة الاعراف میں یہ کہا گیا ہے کہ اس قوم پر عذاب الرجفۃ کی شکل میں آیا تھا۔ اس کا معنی ہے زلزلہ۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں تضاد ہے۔ لیکن حقیقت میں کوئی تضاد نہیں۔ بعض اہل علم کی رائے تو یہ ہے کہ بادتند اور طوفان باراں کے ساتھ ساتھ زلزلہ بھی آیا جس میں خوفناک آوازیں تھیں۔ اور اگر بعض روایات کے مطابق یہ کہا جائے کہ یہ فرشتے کی آواز تھی جو اس قدر مہیب اور خوفناک تھی کہ جس سے تمام قوم ثمود کے جگر پھٹ گئے اور وہ اوندھے منہ اپنے گھروں میں گرگئے۔ اسی آواز کے ارتعاش سے یقینا زمین پھٹی اور زلزلہ آیا ہوگا جس سے ان کی ساری بستیاں تباہ ہوگئی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فرمایا گیا کہ ان کی بستیاں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بستیوں کے مکین یہاں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ ان پر یہ تباہی صرف اس لیے آئی کہ انھوں نے اپنے رب سے کفر کیا جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے اور آج تک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے عبرت کا سامان بنے ہوئے ہیں۔
Ayah 11:69وَلَقَدْجَآئَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰھِیْمَ بِالْبُشْرٰی قَالُوْا سَلٰمًا ط قَالَ سَلٰمٌ فَمَالَبِثَ اَنْ جَآئَ بِعِجْلٍ جَنِیْذٍ ۔ (سورۃ ہود : 69)
(بلاشبہ ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کے آئے۔ انھوں نے کہا (اے ابراہیم) آپ پر سلام ہو، ( آپ نے فرمایا) آپ پر بھی سلام ہو۔ دیر نہیں گزری کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھنا ہوا بچھڑا لے کر آگئے۔ )
گزشتہ واقعات کے تسلسل میں اور دعوت و تبلیغ کی حکمت کے ضمن میں یہاں قوم لوط کے احوال اور ان کا انجام بیان کرنا مقصود ہے، لیکن حضرت لوط کی سرگزشت کی تمہید کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کی جارہی ہے کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ آپ نہ صرف آپ کے چچا زاد بھائی تھے بلکہ وہی ایک جانثار تھے جنھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی جرأت کی اور ہجرت کے سفر میں آپ کا ساتھ دیا۔ برسوں آپ کے زیر تربیت رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت اور رسالت سے نوازا۔ اور اس علاقہ میں آپ کی بعثت ہوئی جو دریائے اردن کی ترائی میں واقع ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے قریبی تعلق قائم رکھنے کے لیے کنعان میں رہائش رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دریائے اردن کی ترائی کا علاقہ اپنی زرخیزی اور شادابی میں اپنی مثال آپ تھا۔ یہاں سدوم، عموراہ، اوماد اور زبولیم کی بستیاں آباد تھیں۔ اس علاقہ کے بسنے والوں کو خوشحالی اور خوش عیشی نے ایسی بداخلاقیوں میں مبتلا کردیا تھا جس کی نظیر اس وقت بھی روئے زمین پر موجود نہ تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت جب اپنا اثر دکھانے سے عاجز رہی اور ان کی قوم نے نہ صرف ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا بلکہ وہ شرافتِ انسانی کی تمام قدروں کو پامال کرنے پر تل گئے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے جانی دشمن ہوگئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آیا اور ان بستیوں کو تباہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تین فرشتوں کو بھیجا اور ساتھ ہی ان کو یہ حکم دیا کہ وہ پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہو کر انھیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سنائیں۔ چناچہ وہ اسی حکم کی تعمیل میں پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے۔ یہاں رُسُل سے مراد وہی فرشتے ہیں جن کی تعداد تین تھی۔ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو خوشخبری لے کر لیکن اس کے سنانے کی نوبت ذرا دیر سے آئی۔ اس سے پہلے جو واقعات پیش آئے ہماری نفع رسانی کے لیے انھیں ذکر فرمایا جارہا ہے۔
قومِ لوط کی سرگزشت کے لیے تمہید
فرشتے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ انسانی شکل میں تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انھیں پہچاننے سے قاصر رہے۔ انھوں نے شائستہ اطوار لوگوں کی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کہا اور آپ نے بھی جواب میں سلام کہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت محمدی کی طرح ملت ابراہیمی میں بھی سلام کہنے کا یہی انداز تھا جو ہمیں سکھایا گیا ہے بلکہ قرآن کریم سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کا بھی یہی انداز ہوگا کہ آنے والا پہلے سے موجود فرد یا افراد کو سلام کہے گا اور سلام کا طریقہ یہی ہوگا کہ آپ پر سلام ہو اور سننے والا پلٹ کر اسی طرح سلام کا جواب دے گا اور آج مسلمان اسی طریقے پر عمل کرنے کے پابند ہیں کہ آنے والا موجود لوگوں کو سلام کہے۔ چلنے والا بیٹھنے والوں کو۔ سوار پیدل چلنے والوں کو اور بڑی حیثیت کا مالک غریب کو سلام کہنے میں پہل کرے۔ البتہ جہاں احترام کا رشتہ ہو وہاں چھوٹے کو چاہیے کہ بڑے کو سلام کرے۔ مثلاً بیٹا باپ کو، شاگرد استاد کو اور مرید اپنے شیخ کو، اور نوجوان اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کو سلام کہنے میں پہل کرے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی میزبانی
دوسری بات اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے تین مہمانوں کو بٹھا کر جنھیں وہ جانتے تک نہ تھے مہمانی کے انتظام میں لگ گئے اور کچھ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آپ نے ایک صحت مند بھنا ہوا بچھڑا ان کے سامنے لا کر پیش کردیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نظام اخلاق میں مہمانوں کا اکرام اور ان کی ضیافت بہت اہمیت رکھتی تھی اور اس امت کو بھی آنحضرت ﷺ نے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ ان کی ضروریات کا خیال کرے اور ان کے آرام کو آسائش کا اہتمام کرے۔ چناچہ علماء کرام نے تصریح کی ہے کہ ایسے دیہات جہاں باہر سے آنے والے مسافروں کے لیے قیام و طعام کا کوئی انتظام نہ ہو تو وہاں لوگوں پر لازم ہے کہ وہ مہمان کے قیام و طعام کا انتظام کریں۔ البتہ جہاں ہوٹل اور سرائے موجود ہوں اور مہمان ان میں ٹھہرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو تو وہاں آنے والوں کی مہمانی کرنا ضروری تو نہیں البتہ مکارم اخلاق میں ضرور شامل ہے۔
ایک شبے کا ازالہ
آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مُسلّم بھنا ہوا بچھڑا مہمانوں کے کھانے کے لیے پیش کیا جبکہ نظربظاہر یہ تین آدمیوں کے لیے بہت زیادہ معلوم ہوتا ہے مہمانی کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ آپ جوش میزبانی میں اسراف کی حد کو چھونے لگیں لیکن یہ خیال قلت تدبر کا نتیجہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ گھر میں جب مہمان آتا ہے تو خوشحال گھرانوں میں جو کچھ مہمان کے لیے پکتا ہے اس میں سارے اہل خانہ شریک ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یہاں اولاد تو نہ تھی لیکن قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ رہنے والوں کی ایک معقول تعداد تھی۔ ان سب کی ضرورت کے لیے ایک بچھڑا یقینا زیادہ نہ تھا اور دوسری یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ عربی زبان کا یہ معروف اسلوب ہے کہ بعض دفعہ کُل بول کر جز مراد لیتے ہیں۔ یہاں بھی یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ بچھڑا کا لفظ بول کر بچھڑے کا گوشت مراد ہو۔ اس صورت میں اچنبھے کی کوئی بات باقی نہیں رہتی۔ البتہ قرآن کریم نے اسے جس طرح بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے مہمانوں کے لیے کس قدر فیاض واقع ہوئے تھے جبکہ مہمان بھی ایسے تھے جن سے کوئی جان پہچان نہ تھی۔ یہی رویہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر نبی کریم ﷺ کا تھا کہ آپ ﷺ چاہے خود فاقے سے ہوتے لیکن مہمان کے لیے مقدور سے بڑھ کر آپ مہمان نواز واقع ہوئے تھے۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ تمام ازواج مطہرات کے گھروں میں مہمانی کے لیے کچھ نہ ملا تو آپ کی پریشانی کو دیکھ کر کوئی ایک صحابی اٹھے اور آپ کے مہمانوں کو اپنے ساتھ گھر لے گئے اور وہاں اس طرح حق مہمانی ادا کیا کہ بچوں کو بھوکا سلا دیا، خود میاں بیوی بھوکے رہے لیکن مہمانوں کو سیر کرکے کھلایا۔
Ayah 11:70فَلَمَّا رَآٰ اَیْدِیَھُمْ لاَ تَصِلُ اِلَیْہِ نَکِرَھُمْ وَاَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیْفَۃً ط قَالُوْا لاَ تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ ۔ (سورۃ ہود : 70)
(اور جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھ نہیں رہے تو انھیں اجنبی خیال کیا اور دل ہی دل میں ان سے اندیشہ کرنے لگے۔ (مہمانوں) نے کہا آپ خوف نہ کھائیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تشویش اور اس کا سبب
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ میں نے اپنے نامعلوم اور اجنبی مہمانوں کے لیے جس محبت اور اخلاص سے ضیافت پیش کی ہے وہ اس کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھا رہے یعنی اسے کھانا نہیں چاہتے تو ان کے دل میں کھٹکاسا پیدا ہوا اور وہ اپنے جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگے کہ اللہ نہ کرے یہ شریفوں کے لباس میں کہیں کوئی ایسے ویسے لوگ نہ ہوں اور مہمانوں کے بھیس میں کہیں میرے دشمن نہ ہوں کیونکہ اگر یہ میرے اپنے ہوتے یا مجھ سے محبت کرنے والے ہوتے تو شوق سے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے۔ کھانا بھی کھاتے اور شکریہ بھی ادا کرتے کیونکہ اس زمانے کی یہ ریت تھی کہ جب کوئی شخص برے ارادے سے اپنے دشمن کے گھر جاتا تھا تو اس کے گھر کا کھانا نہیں کھاتا تھا کیونکہ اسے نہایت ذلت کی بات سمجھا جاتا تھا کہ کسی کے گھر کا کھانا بھی کھایا جائے اور پھر اس سے دشمنی بھی کی جائے لیکن بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اور وہ خیال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگلی آیت کریمہ سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اندیشوں کا سبب یہ نہ تھا کہ وہ مہمانوں کو اپنا دشمن سمجھے تھے بلکہ ان کے اندیشوں کی وجہ یہ تھی کہ وہ جنھیں انسان سمجھ رہے ہیں کہیں وہ فرشتے نہ ہوں کیونکہ فرشتے کھاتے پیتے نہیں اور محض فرشتہ ہونا بھی کوئی ڈرنے کی وجہ نہ تھی بلکہ خدشے کا سبب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ سوچ تھی کہ اس طرح سے فرشتوں کا انسانی لباس میں آنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ فرشتے کسی غیرمعمولی فرض کی انجام دہی کے لیے آئے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سے کوئی قصور سرزد ہوگیا ہو یا ہمارے گردوپیش رہنے والوں میں کوئی ایسی نافرمانی کے آثار ہوں جس پر سزا دینا ضروری ہو اور فرشتے سزا دہی کے لیے آئے ہوں۔ یہ سوچ کر نہایت پریشان ہوگئے کیونکہ آپ غائت درجہ اللہ سے ڈرنے والے اور نہایت نرم دل واقع ہوئے تھے۔ چناچہ فرشتوں نے آپ کے خدشوں کو محسوس کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ ہم آپ کے دشمن نہیں، آپ ہم سے خوف مت کھائیں اور نہ یہ کہا ہم تو فرشتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ فرشتے کھایا نہیں کرتے بلکہ اس کی بجائے یہ کہا ہم فرشتے ضرور ہیں اور فرشتوں کا اس طرح سے آنا یقینا فکر مندی کا سبب ہے لیکن آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے، ہمیں آپ کی طرف نہیں بھیجا گیا، ہمیں تو قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے۔