Ayahs 11:104–105وَمَا نُؤَخِّرُہٗٓ اِلاَّ لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ ۔ یَوْمَ یَاْتِ لاَ تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلاَّ بِاِذْنِہ ج فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ۔ (سورۃ ہود : 104، 105)
(ہم اس کو ٹال رہے ہیں بس ایک گنتی کی مدت کے لیے۔ جب وہ دن آئے گا کوئی جان اس کے اذن کے بغیر کلام نہ کرسکے گی، پس ان میں کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ )
قیامت کو دور مت سمجھو
انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ قیامت کو بہت دور سمجھتا ہے۔ اگر اس کے سامنے قیامت کا ذکر بھی کیا جائے تو وہ اسے چنداں اہمیت نہیں دیتا۔ سمجھتا ہے کہ ابھی معاملہ بہت دور کا ہے، تو جس چیز کا آنا ابھی بہت دور ہے اس کے لیے ابھی سے اپنا عیش مکدر کیوں کیا جائے۔ پروردگار فرما رہا ہے کہ قیامت کو کوئی ایسا دور مت سمجھو، بس ایک گنی چنی سے مدت ہے جس کے بعد قیامت کا آنا یقینی ہے، پھر یہ ایسی مدت بھی نہیں جس میں تاخیر ہوسکے، اس کا وقت مقرر ہے اور اگر اس سلسلے میں آنحضرت ﷺ کے ارشاد کو پیش نظر رکھا جائے تو پھر تو معاملہ ابھی سے فکرمندی کا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ جو شخص مرگیا اس کی قیامت آگئی۔ کیونکہ موت کے ساتھ ہی عمل کا موقع ختم ہوجاتا ہے برزخی زندگی انتظار کا وقت ہے، صورِقیامت کے ساتھ ہی برزخ کا تصور ذہن سے نکل جائے گا۔ لوگ قبروں سے اس طرح اٹھیں گے جیسے ابھی سوئے تھے۔ بعض اٹھنے والے کہیں گے مَنْ بَعْثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھایا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قیامت دور کہاں ہے۔ قیامت کو دور وہی کہہ سکتا ہے جو موت کو دور سمجھتا ہو۔ اور موت کو دور سمجھنا سب سے بڑی خودفریبی ہے۔ موت جس طرح بوڑھوں کو آتی ہے جوانوں اور بچوں کو بھی آتی ہے۔ کسی عمر کے ساتھ مخصوص نہیں، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ چند خوش قسمت لوگ ہوں گے جو اس خودفریبی سے بچ سکے ہوں گے ورنہ ہر شخص موت کو بڑھاپے تک بھی اپنے آپ سے دور سمجھتا ہے حالانکہ زندگی میں آنے والی تبدیلیاں اور مختلف عوارض موت کی یاد دلانے کے لیے ہی آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کسی بزرگ نے حضرت عزرائیل (علیہ السلام) کو خواب میں دیکھا تو ان سے شکایت کی کہ ہر آنے والا ہمیشہ اپنے آنے کی اطلاع دیتا ہے لیکن ایک آپ ہیں کہ اچانک آ دھمکتے ہیں۔ انھوں نے کہا : کہ جتنی اطلاعات میں بھیجتا ہوں، کوئی بھی نہیں بھیجتا۔ جب بخار چڑھتا ہے تو یہ میرا پیغام ہوتا ہے، کوئی اور بیماری آتی ہے تو میرا سندیسہ بن کے آتی ہے، جب داڑھی میں پہلا سفید بال آتا ہے تو وہ میری طرف سے وارننگ ہوتی ہے، میں تو کبھی بلا اطلاع نہیں آتا۔ اس سے اندازہ فرمائیں کہ موت بار بار ہمیں ہچوکے دیتی ہے کہ میں زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہوں۔ اس لیے مجھے کبھی اپنے سے دور نہ سمجھو۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہم اسی حقیقت کو خودفریبی کی نظر کردیتے ہیں۔
قیامت کی ہیبت
دوسری آیت کریمہ میں فرمایا کہ تم نہ جانے قیامت کو کیا سمجھتے ہو، اس دن کی ہیبت کا تو عالم یہ ہوگا کہ کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی اس دن زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ بجز اس کے کہ اللہ کسی کو اذن گویائی دے۔ قیامت میں سب سے پہلے جو مسئلہ تمام امتوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوگا، وہ حساب کتاب کا انتظار ہوگا۔ ہر شخص اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا گا اور سورج کی گرمی جلائے دے رہی ہوگی۔ لوگ اپنی ناقابل برداشت تکلیف سے مجبور ہو کر اللہ کے رسولوں کے پاس جائیں گے کہ آپ بارگاہِ ایزدی میں التجا کریں کہ حساب شروع ہو تاکہ ہمیں اپنے انجام کی خبر ہو لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ سب نفسی نفسی پکاریں گے۔ آخر میں لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اس کے لیے اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ اب میں نہیں جانتا کہ اس وقت کن کلمات کے ساتھ میں اللہ کی تعریف کروں گا۔ اسی وقت وہ کلمات میرے دل میں ڈالے جائیں گے۔ میں بار بار اپنے اللہ سے التجا کروں گا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ میں کتنی دیر سجدے میں رہوں گا۔ آخر آواز آئے گی، محمد ﷺ اپنا سر اٹھا لو، مانگو، دیا جائے گا۔ اجازت ملنے پر آپ ﷺ التجا کریں گے، الٰہی تیری مخلوق بہت تکلیف میں ہے، ان کا حساب کتاب شروع کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔ چناچہ ادھر سے اجازت ہوگی اور حساب شروع ہوجائے گا۔ یہ وہ پہلی شفاعت ہے جو حضور ﷺ فرمائیں گے اور اسے شفاعت کبریٰ کہا گیا ہے۔ اسی سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ دن کس قدر ہیبت ناک ہوگا۔ حساب کتاب کے نتیجے میں انسانوں کی سب تقسیمختم ہوجائے گی سوائے دو تقسیموں کے۔ کچھ لوگ وہ ہوں گے جنھیں یہاں سعید کہا گیا ہے، جس کا معنی ہے خوش بخت۔ اور کچھ لوگ وہ ہوں گے جنھیں شقی فرمایا گیا ہے، جس کا معنی ہے بدبخت۔ جن کے پاس ایمان و عمل کا سرمایہ ہوگا، وہ سعید اور خوش بخت ہوں گے۔ اور جو ایمان و عمل سے تہی دامن ہوں گے، وہ بدبخت اور شقی ہوں گے۔
Ayahs 11:106–108فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّ شَھِیْقٌ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلاَّ مَاشَآئَ رَبُّکَ ط اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلاَّ مَاشَآئَ رَبُّکَ ط عَطَآئً غَیْرَمَجْذُوْذ۔ (سورۃ ہود : 106، 107، 108)
(پس رہے وہ لوگ جو بدنصیب ہیں وہ آگ میں ہوں گے۔ ان کے لیے اس آگ میں چیخنا ہے اور پھنکارنا ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہے۔ مگر جو چاہے آپ ﷺ کا پروردگار۔ بیشک آپ ﷺ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کا جس کا ارادہ کرتا ہے۔ اور رہے وہ لوگ جو خوش نصیب ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ مگر جو آپ ﷺ کا رب چاہے، یہ وہ عطا ہے جو ختم نہیں ہوگی۔
انسانوں کی تقسیم
جو لوگ اپنی بداعمالی کے باعث بدبخت ٹھہریں گے یعنی وہ سرے سے ایمان سے ہی تہی دامن ہوں گے اور ان کے اعمال میں سوائے اللہ سے سرکشی کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا تو ان کا انجام جہنم ہوگا۔ جب انھیں جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہاں عذاب کی شدت اور پیاس کی بےتابی کے باعث اس طرح ان کے منہ سے آوازیں نکلیں گی جیسے گدھے کے منہ سے نکلتی ہیں۔ گدھا جب چیختا ہے تو جو سانس وہ باہر کی طرف نکالتا ہے اس کو زفیر کہتے ہیں اور جو سانس اندر کو لے جاتا ہے اس کو شہیق کہتے ہیں یعنی اس بدنصیب کا حال یہ ہوگا کہ سزا کے طور پر آگ میں تو جلنا ہی ہوگا لیکن ساتھ ہی ذلت کا عالم یہ ہوگا کہ گدھوں کی طرح چیخیں اور چلائیں گے اور اس آگ میں وہ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں یعنی یہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیونکہ زمین و آسمان سے مراد یہ دنیوی زمین و آسمان نہیں بلکہ وہ زمین و آسمان ہیں جو قیامت کے بعد دوبارہ وجود میں لائے جائیں گے کیونکہ قیامت کے بپا ہونے کے ساتھ ہی زمین بھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور آسمان بھی تباہ ہوجائیں گے۔ البتہ ان کی جگہ نئی زمین اور نئے آسمان بنیں گے۔ قرآن کریم میں ہے یَوْمَ تُبَدَّلُ الُاَرْضُ غَیْرَالْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دیئے جائیں گے۔ زمین پہلی سے زمین نہیں ہوگی اور آسمان پہلا سا آسمان نہیں ہوگا۔ اب یہ دونوں ہمیشہ باقی رہیں گے، کبھی انھیں زوال نہیں آئے گا۔ یہاں یہ جو فرمایا گیا کہ جب تک زمین و آسمان قائم ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ جس طرح وہ ہمیشہ قائم رہیں گے، اسی طرح اہل جہنم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ اس کے بعد ایک استثنا ہے اِلاَّ مَاشَا ئَ رَبُّکَمگر جو چاہے تیرا رب، اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام بدبخت یعنی کافر لوگ بھی ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے جن کے بارے میں اللہ کچھ اور چاہے گا وہ اس کے مطابق جہنم سے نکال دیئے جائیں گے، مگر اس سے یہ مراد نہیں کیونکہ احادیث میں وضاحت موجود ہے کہ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ قرآن کریم میں بھی ہے وَمَا ھُمُ بِخَارِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ، کہ وہ لوگ جہنم سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ اس لیے آیت کے اس جملے سے تنبیہہ کرنا مقصود ہے کہ اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس قانون کے ہاتھوں مجبور ہے، اب وہ اگر چاہے بھی تو کسی کافر کو جہنم سے نکال نہیں سکتا۔ اس لیے فرمایا کہ تیرا رب اگر چاہے تو وہ اس سے مختلف فیصلہ بھی کرسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے فیصلے بدلا نہیں کرتا۔ کوئی قانون بھی اس پر لازم نہیں ہوتا۔ البتہ ہر قانون اس کا محتاج ہے۔ اس کی مشیت جو بھی چاہے وہی ہوجائے گا۔ لیکن دوسری تصریحات کے مطابق وہ ایسا چاہے گا نہیں اور آیت کے آخری حصہ میں خود اس کی وضاحت بھی موجود ہے کہ تیرا رب جو چاہے اسے کر گزرنے والا ہے۔ یعنی وہ خودمختار ہے۔ وہ کسی دوسرے کی مرضی کا پابند نہیں۔
اہل جنت کے مدارج میں ترقی ہوتی رہے گی
تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ رہے وہ لوگ جو خوش بخت ٹھہرے کہ جو ایمان و عمل کی وجہ سے اللہ کے یہاں خوش نصیب ہوں گے انھیں اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں۔ زمین و آسمان قیامت کے بعد چونکہ ہمیشہ قائم رہیں گے اس لیے یہ لوگ بھی ہمیشہ رہیں گے۔ البتہ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اہل جنت کے حالات اور مدارج میں ہمیشہ یکسانی نہیں رہے گی۔ ان میں جب اللہ کو منظور ہوگا تبدیلی بھی آئے گی۔ لیکن یہ تبدیلی خوب سے خوب تر کی طرف ہوگی کہ جن مقامات پر انھیں فائز کیا جائے گا، وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ لیکن یہ اس وقت ہوگا جب اللہ کی مشیت کو منظور ہوگا۔ آیت کے آخری حصہ میں اس کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کا جنت میں جانا یہ وہ عطا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس تبدیلی کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ اہل جنت کو جنت سے نکالا جائے گا کیونکہ ان کا جنت میں دخول اللہ کی عطا ہے جس کے انقطاع کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تو اس عطا و بخشش میں یقینا نئے نئے پھول کھلیں گے۔
Ayah 11:109فَلاَ تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّماَّ یَعْبُدُ ھٰٓؤْلَآئِ ط مَا یَعْبُدُوْنَ اِلاَّ کَمَا یَعْبُدُاٰبَآؤْھُمْ مِّنْ قَبْلُ ط وَاِنَّا لَمُوْفُّوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ ۔ (سورۃ ہود : 109)
(پس آپ ان کے باب میں کسی تردد میں نہ پڑیں جن کی یہ لوگ پوجا کررہے ہیں۔ یہ اسی طرح پوج رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے رہے اور ہم ان کا حصہ ان کو پورا پورا بغیر کسی کمی کے دے کے رہیں گے۔ )
عتاب مخالفین پر ہے
اس آیت کریمہ میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن روئے سخن مشرکینِ مکہ کی طرف ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جب پروردگار مشرکینِ سے انتہائی ناراضی کے طور پر ان سے خطاب کرنا بھی ناگوار محسوس فرماتا ہے تو اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے کیا جاتا ہے۔ یہ بتانے کے لیے کہ تم خطاب کے قابل نہیں رہے۔ لیکن اس میں عتاب کا رخ مشرکین کی طرف ہوتا ہے اور بعض اہل علم اس کو یوں سلجھاتے ہیں کہ یہاں خطاب کسی بھی غیرمتعین مخاطب سے ہے کہ یہ مشرکین جس طرح اپنے بتوں کو یا اپنے دیوی دیوتائوں کو پوجتے ہیں اور ہزار سمجھانے کے باوجود بھی وہ اس سے رکتے نظر نہیں آتے تو آپ کو اس سے یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ لوگ سوچنے سمجھنے والے اور عقل و فکر کے حامل لوگ ہیں۔ اگر غیر اللہ کی پوجا پاٹ میں انھیں کچھ نہ ملتا تو یہ یقینا اسے چھوڑ دیتے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ جتنا انھیں سمجھایا جاتا ہے وہ اتنا ہی اور زیادہ پختہ ہوتے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کی پوجا پاٹ میں بھی کوئی سچائی تو ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو تم یہ سمجھتے ہو کہ سوچ سمجھ کر عمل کرنے والے لوگ ہیں، ایسا نہیں بلکہ یہ تو لکیر کے فقیر ہیں۔ اندھی تقلید ان کا شیوہ ہے۔ انھوں نے اپنے آبائواجداد کو جنھیں پوجتے دیکھا ہے، انھیں کو یہ پوج رہے ہیں۔ لیکن انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے آبائواجداد کا کسی کو پوجنا اور پرستش کرنا ان کے لیے قیامت کے دن عذر نہیں بنے گا۔ وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے اور یہ اپنے جرائم میں پکڑے جائیں گے۔ ہم ان کا حصہ بھی انھیں پورا پورادیں گے اور ان کا بھی۔ یعنی کوئی بھی اپنی گمراہی کی سزا سے بچ نہیں سکے گا۔
Ayah 11:110وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ ط وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَفِیْ شَکٍ مِّنْہُ مُرِیْبٍ ۔ (سورۃ ہود : 110)
(اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر ایک بات پہلے طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ بیشک وہ ایسے شبہ میں مبتلا ہیں جو الجھن میں ڈال دینے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اور یہ تینوں باتیں جاری سلسلہ بیان سے مربوط ہیں۔ گزشتہ آیات سے آنحضرت ﷺ کو معاندین اور مخالفین کی بڑھتی ہوئی دشمنی کے حوالے سے تسلی دی جارہی ہے اور مخالفین کو گزشتہ تاریخ کا آئینہ دکھایا جارہا ہے تاکہ وہ اگر اندھے نہیں ہوگئے ہیں تو اپنا انجام دیکھ سکیں۔ اس آیت میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ اس بات پر کیوں دل گرفتہ ہوتے ہیں کہ آپ کی ایک ایسی دعوت جس میں کوئی پیچیدگی نہیں آپ کی ہر بات عقل اور انصاف کے ترازو میں تلنے کے لائق ہے۔ آپ کی ہر دلیل محکم ہے، آپ کا لب و لہجہ یقین کی خبر دیتا ہے۔ آپ کا کردار یہ کہنے کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ کوئی غلط بات بھی کہہ سکتے ہیں۔ بایں ہمہ مخالفین آپ کی ہر بات میں کیڑے ڈالتے اور مختلف راستے نکالتے ہیں، مختلف باتیں کہتے اور عجیب و غریب تبصرے کرتے ہیں۔ ہر بات میں اختلاف کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ پروردگار تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ان اختلافی باتوں اور مخالفین کے رویئے سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔ جب بھی کسی پیغمبر نے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے اور ان میں اصلاح کا آغاز کیا ہے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ قوم نے یکسو ہو کر اسے قبول کرلیا ہو۔ قوم کے مختلف طبقات اپنے اپنے فہم کے مطابق اور بقدر ہمت اللہ کے نبی کا راستہ روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ بہت کم ایسی خوش نصیب قومیں گزری ہیں جو ہدایت سے بہرہ ور ہوئی ہوں ورنہ عموماً رسول کی بعثت کے بعد اس کی برسہابرس کی مساعی جمیلہ کے ناکام ہوجانے کے بعد اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور قوم اللہ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ جو شخص بھی تاریخ پر نظر رکھتا ہے وہ اس حقیقت کو کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ اس لیے آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ آپ کی تبلیغی مساعی میں بفضلہ تعالیٰ کوئی کمی نہیں، لیکن آپ کی قوم اسی راستے پر بڑھتی جارہی ہے جس راستے پر پہلی قومیں چل کر تباہ ہوئی ہیں۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ممکن ہے آپ کی طرف سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد ان کا انجام بھی گزشتہ قوموں کی طرح ہو۔ اس لیے آپ کو ہرگز فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ رہی یہ بات کہ اگر ان کا رویہ ایسا ہی مایوس کن ہے تو پھر ان پر اللہ کا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ یہ وہ دوسری بات ہے جسے اس آیت کریمہ میں نمایاں کیا جارہا ہے۔ نہایت اختصار سے سابقہ تاریخی حقیقت کی طرح اس تاریخی حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ قوموں کی اصلاح کے لیے رسول بھیجتا اور کتابیں اتارتا ہے اور رسول دنیا میں آکر ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ لوگ اس کی دعوت کو قبول کرکے اللہ کی خوشنودی حاصل کرلیں اور اس کے غضب سے بچ جائیں لیکن جب قوم کسی طرح بھی راہ راست اختیار نہیں کرتی تو پھر ان پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے لیکن عذاب کے بارے میں اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ اس میں جلد بازی کبھی نہیں کرتا۔ قوموں کو مہلت پہ مہلت دیتا ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ جائیں۔ ان کے کرتوت دیکھنے والوں کی نگاہ میں اس قابل ہوتے ہیں کہ انھیں ایک دن کی مہلت نہ دی جائے بلکہ اللہ کا عذاب آکر ان کو تباہ کردے لیکن اللہ فرماتا ہے کہ عذاب اپنے وقت سے کبھی پہلے نہیں آتا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ عذاب کے نزول کا وقت کون سا ہے۔ کیونکہ کسی شخص کے علم میں یہ بات نہیں آسکتی کہ قوم میں قبولیت کی صلاحیت مکمل طور پر کب ختم ہوتی ہے۔ کیونکہ دلوں کے حال اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ مہلت عمل اس لیے دیتا ہے کہ اگر کسی میں تھوڑی بہت بھی قبولیت ایمان کی استعداد باقی ہے تو اسے بروئے کار آنے کا موقع دینا چاہیے لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ مکھن کا آخری شمہ بھی نکالا جا چکا ہے اور اب پیچھے لسی کے سوا کچھ نہیں، تب اس کی طرف سے نزول عذاب کا حکم آتا ہے۔ اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنا یہ قانون طے نہ کرچکے ہوتے تو ممکن تھا کہ بہت پہلے ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ لیکن اللہ نے چونکہ اپنے اوپر یہ پابندی قبول کر رکھی ہے، اس لیے وقت مقرر آنے سے پہلے وہ کبھی عذاب نازل نہیں فرماتا، اور جب وقت مقرر آجاتا ہے تو پھر ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہوتی۔
تیسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ مخالفین ایک ایسے شک میں مبتلا ہیں جو الجھن میں ڈال دینے والا ہے۔ مریب اسم صفت ہے۔ اس کا معنی ہے الجھن میں ڈال دینے والا یا بےچین کردینے والا۔ حقیقت کا علم تو اللہ کو ہے لیکن جو بات بظاہر اس سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ مخالفین اپنے شک میں بھی یکسو نہیں ہیں۔ انھیں اس بات پر پورا اطمینان نہیں کہ ہم جو رویہ اللہ کے پیغمبر کے بارے میں اختیار کرچکے ہیں وہ سو فیصد صحیح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جب کسی حقیقت کا انکار کرتا ہے تو حقیقت پسندانہ رویہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اس حقیقت کا اچھی طرح جائزہ لے۔ اور اگر وہ اس بارے میں یکسو ہوجائے کہ یہ حقیقت نہیں، محض واہمہ یا فریب ہے تو پھر اسے پوری جرأت سے اس کا انکار کردینا چاہیے۔ لیکن اگر اس کا یہ حال ہو کہ یا تو وہ اصل حقیقت پر توجہ ہی نہ دے، لوگوں نے مخالفت کا جو ہنگامہ کھڑا کر رکھا ہے یہ ان کی اڑائی ہوئی دھول میں گم ہوجائے۔ اور یا توجہ تو دے لیکن مکمل طور پر اسے سمجھ کر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اور اگر اس کا انکار کرے تو اپنے انکار کے بارے میں یکسو نہ ہو تو ایسا شخص یقینا دوہرے عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔ ایک حقیقت کا انکار اور دوسرا انکار کے بارے میں شک اور تردد۔ مشرکینِ مکہ بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار معلوم ہوتے ہیں کہ جب وہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کو سنتے ہیں تو اپنے پشتوں کے عقائد کی مخالفت انھیں ناگوار گزرتی ہے۔ بجائے غور و فکر کرنے کے اندھی عصبیت اور غیرحقیقت پسندانہ جذباتیت کا شکار ہو کر ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ لیکن جب وہ آنحضرت ﷺ کی شخصیت کو دیکھتے ہیں تو اپنے انکار کے بارے میں انھیں تردد ہونے لگتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا کیا اب وہ ڈھلتی عمر میں جھوٹ بولے گا۔ جس کی سیرت و کردار میں آج تک کبھی کوئی جھول نہیں پڑا، جس نے کبھی کوئی کمزور بات نہیں کہی، جس نے کبھی معاملات میں خیانت نہیں کی، جس نے کبھی کسی کو فریب نہیں دیا، آخر وہ اپنی قوم کو اتنا بڑا فریب کیسے دے سکتا ہے۔ پھر وہ مزید دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری ہی طرح کا ایک امی عرب ہے جسے کہیں سے علم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا، اس کے پاس معلومات کا وہی ذخیرہ ہے اور وہی ذرائع ہیں جو ہر عرب کے پاس ہیں۔ بایں ہمہ وہ باتیں وہ کہتا اور ان حقائق کو بیان کرتا ہے جس سے بڑے سے بڑا صاحب علم بےبہرہ ہے۔ اس نے ان تاریخی حقائق کو صحت کا لباس پہنایا ہے جن میں دنیا آج تک ٹھوکریں کھا رہی تھی۔ اس نے اشاروں میں ایسی گتھیاں سلجھا دی ہیں جو انسانوں کے لیے لاینحل بنی ہوئی تھیں تو وہ سوچنے لگتے ہیں کہ آخر ایسے حقائق کی خبر اس کو کون دیتا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود وہ انکار پر اس لیے قائم ہیں کہ خاندانی عصیبت سے وہ الگ نہیں ہوسکتے۔ لیکن یہی انکار ان کے شک و تردد میں بار بار الجھن بھی پیدا کرتا ہے کہ تمہارے انکار کی کوئی دلیل بھی تو ہونی چاہیے۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ تم اس لیے پیغمبر اور اس کی دعوت کی صداقت کے بارے میں شک کررہے ہو کہ تمہارا قبیلہ مان کے نہیں دے رہا۔
Ayah 11:111وَاِنَّ کُلاًّ لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَہُمْ ط اِنَّہٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (سورۃ ہود : 111)
(اور یقینا تیرا رب ان سب کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ یہ کررہے ہیں اس سے باخبر ہے۔ )
لَمَّاکی تحقیق
آیت کی تشریح سے پہلے ” لَمَّا “ کی تحقیق ! بعض قراء نے اسے بغیر تشدید کے پڑھا ہے اور بعض نے تشدید کے ساتھ۔ پھر الگ الگ اس کی تعلیل اور توجیہ کی ہے، لیکن ہم تفصیل سے بچتے ہوئے صرف اتنا عرض کرتے ہیں کہ ” لَمَّا “ میں ’ ’ لام “ تا کید اور قسم کے لیے ہے اور ’ ’ مَا “ زائد ہے۔ عربی زبان میں بعض دفعہ صوتی آہنگ کی درستی کے لیے اس طرح الفاظ کا استعمال عام معمول ہے اور قرآن کریم میں بھی مختلف مقامات پر اس طرح الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے۔
مشرکین کو تنبیہہ
مشرکینِ مکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کی مخالفت میں جس طرح بےروک بگٹٹ بھاگے جارہے ہیں اور انھیں اپنے انجام کی کوئی فکر نہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا ایک خدا بھی ہے جو ان کے ایک ایک عمل کی خبر رکھتا ہے۔ ان کے ہر عمل کو لکھا جارہا ہے۔ ان کے کندھوں پر بیٹھے ہوئے فرشتے ان کا نامہ عمل تیار کررہے ہیں۔ دنیا میں کسی محفوظ سے محفوظ دفتر میں بھی کوائف اس طرح محفوظ نہیں ہوں گے جیسے فرشتوں کے نوشتوں اور اللہ کے علم میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے ہر شخص کو اس کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ خود تسلیم کرے گا کہ یہ ایسا نامہ عمل ہے جس میں کوئی جھوٹی بڑی بات چھوٹنے نہیں پائی۔ اس لیے مشرکین کو آج یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ کہہ رہے ہیں ان میں سے ہر بات اور ہر عمل کا ریکارڈ تیار ہورہا ہے اور قیامت کے دن اسی کے مطابق ان سے بازپرس ہوگی۔ آج یہ اپنے آپ کو قوت کی علامت سمجھتے ہیں اور انھیں گمان یہ ہے کہ انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں، لیکن قیامت کے دن ہم پورے اعمال کا حساب لیں گے۔ اور تمام اعمال پر جزاء اور سزا دیں گے۔ آیت کریمہ میں اگرچہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم ان کے اعمال پورے کے پورے انھیں دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریری شکل اور محفوظ حالت میں ان کے اعمال کا ریکارڈ انھیں دیا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اعمال سے پہلے جزاء کا لفظ محذوف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے تمام اعمال کی جزاء و سزا دیں گے جو انھوں نے برسرعام یا برسر مجلس کیے یا گھروں میں چھپ کر سازشیں کیں یا باہمی مشاورت گاہوں میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف منصوبے باندھے۔ ان میں سے کوئی بھی عمل اس دن بغیر فیصلے کے نہیں رہے گا۔
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
Ayahs 11:112–113فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ وَلاَ تَطْغَوْا ط اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْر۔ وَلاَ تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ لا وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 112، 113)
(پس ثابت قدم رہئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ بھی (ثابت قدم رہیں) جنھوں نے آپ کے ساتھ توبہ کی ہے اور سرکشی نہ کرو۔ بیشک جو کچھ تم کررہے ہو وہ اسے خوب دیکھ رہا ہے اور ان لوگوں کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا ہے کہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ آپکڑے اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی نہیں، پھر تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی۔ )
جادہ مستقیم پر استقامت کی ہدایت
اس آیت کریمہ میں بنی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو استقامت کا حکم دیا گیا ہے۔ مخالفین کی اذیت رسانیوں کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسے منہ زور اور خونخوار دشمنوں کا مقابلہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ نہ ان کی زبانوں پر کوئی روک ہے، نہ ان کی آنکھوں میں حیا ہے، نہ ان کے دلوں میں کوئی لحاظ و مروت ہے۔ وہ تمام رشتوں کو بھول کر دشمنی پر کمرہمت باندھ چکے ہیں۔ غریب صحابہ کو بطورخاص نشانہ بنایا جارہا ہے اور تپتی ہوئی ریت پر انھیں گھسیٹا جاتا ہے اور کبھی دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ مقابلے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو اور برداشت کرنا بھی آسان نہ ہو۔ ایسے حالات میں استقامت کا حکم دینا بجائے خود بہت بڑا امتحان ہے۔ اللہ کے آخری نبی جو اللہ کے حبیب بھی ہیں اور بےانتہا رفعتوں کے مالک بھی۔ سب سے پہلے انھیں حکم دیا جارہا ہے اور اس میں اتنی کمی بھی نہیں چھوڑی جارہی کہ آپ حالات کو دیکھ کر اپنا رویہ متعین کریں بلکہ صاف فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسی راستے پر چلتے رہنا، انھیں مقامات پر کھڑے رہنا اور اپنے عقائد میں کوئی اضمحلال پیدا نہ ہونے دینا اور کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ کرنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ سب باتیں استقامت کے برعکس ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب ( رض) نے مختصر الفاظ میں نہایت خوبصورتی سے اس کا مفہوم واضح فرمایا ہے۔ آپ نے کہا ! الَاِسْتِقَامَۃَ اَنْ تَسْتَقِیْمَ عَلٰی الْاَمْرُوالْنَہِیْ وَلاَ تَرُوْغُ رُوْغَانَ الثَّعْلَبِ کہ استقامت یہ ہے کہ تو اللہ کے اوامرو نواہی پر ثابت قدمی سے عمل پیرا رہے اور لومڑی کی طرح پینترے نہ بدلے۔
نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ( رض) استقامت کا نمونہ ہیں۔ آپ نے مکی زندگی میں 13 سال اور مدنی زندگی میں 10 سال کفر کے مقابلے میں جس طرح استقامت دکھائی ہے وہ تاریخ کا نہایت قابل فخر کارنامہ ہے۔ آپ کو ایک اکھڑ اور اجڈ قوم سے واسطہ پڑا جو اپنے معتقدات کے خلاف کوئی بات سننا گوارا نہ کرتی تھی۔ آپ نے نہ صرف ان کی گمراہیوں پر تنقید کی بلکہ ان کی ایک ایک غلط بات اور غلط عقیدے کو ہدف تنقید بنایا۔ ان کی ہر طرح کی مخالفت کو برداشت کیا۔ حتیٰ کہ معاملہ قتل کی منصوبہ بندی تک پہنچ گیا لیکن آپ کے ارادوں میں کبھی ضعف پیدا نہ ہوا۔ صحابہ کرام نے بھی اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرتے ہوئے مشکل سے مشکل مرحلوں کو طے کیا۔ کلمہ حق کہنے میں انھوں نے کبھی کسی مخالفت یا اذیت کی پرواہ نہ کی۔ انھوں نے زندگی کا ہر دکھ اٹھایا لیکن اعلائے کلمۃ الحق پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔
آنحضرت ﷺ کو تو صرف استقامت کا حکم دیا لیکن صحابہ کرام کو اس کے ساتھ ساتھ سرکشی اختیار نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس لیے استقامت کا حکم واحد مذکر حاضر کی صورت میں آیا اور صحابہ کو اس حکم میں عطف کے ذریعے شامل کیا گیا لیکن سرکشی اختیار نہ کرنے کا حکم جمع کی صورت میں دیا تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اس میں آنحضرت ﷺ شریک نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو سرکشی کی اجازت ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے آپ کو معصوم پیدا فرمایا۔ اس لیے سرکشی کا آپ سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن نئے نئے ایمان لانے والے لوگ جو صحابہ کرام ہی کہلاتے ہیں ان سے اس بات کا اندیشہ ہوسکتا تھا کہ ان میں کبھی کوئی کمزوری پیدا ہوجاتی اور وہ جب حالات کو ناموافق دیکھتے اور اذیتوں کو ناقابل برداشت سمجھتے تو ممکن تھا ان کے اندر نفسانیت سر اٹھا لیتی اور کبھی نہ کبھی سرکشی کی نوبت آجاتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تربیت نے صحابہ میں وہ کردار پیدا فرما دیا تھا اور ان کے دلوں میں انقیاد اور اطاعت کا وہ جذبہ پیدا ہوگیا تھا جس کے بعد سرکشی تو کیا نافرمانی کو بھی جگہ نہیں مل سکتی تھی۔ لیکن تربیتی مراحل میں چونکہ ہر بات کا اندیشہ ہوتا ہے اور پھر آئندہ بھی انھیں احکام کو قیامت تک امت کے لیے مشعل راہ بننا تھا۔ اس لیے یہ حکم قرین تربیت تھا بلکہ تربیت کا تقاضا تھا اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اس بات کو کبھی نہ بھولنا کہ جو کچھ تم کررہے ہو اللہ برابر اسے دیکھ رہا ہے۔ اس کی نگاہ کبھی چوکتی نہیں اور نہ اسے کبھی اونگھ آتی ہے۔ یہ وہ تصور ہے کہ جب دل و دماغ میں اتر کر عقیدے کی مضبوط بن جاتا ہے تو پھر وہ تقویٰ کی قوت پیدا ہوتی ہے جو انسان کو ہمیشہ راہ راست پر رہنے کی ضمانت دیتی ہے۔
دوسری آیت کریمہ میں مزید ایک بات کا حکم دیا گیا ہے اور اس حکم کے مخاطب بھی آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے لوگ ہیں۔ جس طرح اللہ سے سرکشی ایک بہت بڑا جرم ہے اسی طرح دشمن کی طرف جھک جانا اور اس کی طرف مائل ہوجانا بھی مشکل حالات میں اسلامی قوت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں اسلام کے پاس خطرناک حد تک افرادی قوت کی کمی تھی۔ دشمن ہر قیمت پر ایمان کا راستہ روکنے کی کوشش کررہا تھا۔ ایسے حالات میں چھوٹی سے کمزوری بھی برے نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ ایسی کمزوریوں کا آغاز ہمیشہ ایسی ہی باتوں سے ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں کھڑے رہنے کے لیے ایک مضبوط جذبے کی ضرورت ہوتی ہے اور جہاں آدمی کا جھکائو دشمن کی طرف ہوجائے وہاں مقابلہ تو دور کی بات ہے، عہد وفا کے شکست ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے اور سمجھدار دشمن ہمیشہ ایسے موقعوں کی تلاش میں ہوتا ہے۔ عام لوگوں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے ہمیں نہایت رواداری کا حکم دیا گیا ہے لیکن فرعونِ وقت کے ساتھ جب تصادم شدت اختیار کرجائے تو پھر لب و لہجہ میں وہی کاٹ ہونی چاہیے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لب و لہجہ میں تھی۔ اس لیے قرآن کریم نے شدید رویہ اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہارا جھکائو اعدائے دین کی طرف ہوگیا تو اندیشہ ہے کہ تمہیں آگ نہ آپکڑے، یعنی تمہارا انجام بھی وہی ہو۔ ایسی صورت میں پھر کوئی تمہارا حامی و مددگار نہیں ہوگا اور نہ تم مدد کیے جاؤ گے۔
Ayahs 11:114–115وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ط اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ط ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ ۔ وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ۔
(سورۃ ہود : 114، 115)
(اور نماز قائم کیجیے دن کے دونوں سروں پر۔ اور کچھ رات کے حصوں میں۔ بیشک نیکیاں بُرائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے اور صبر کیجیے۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوبکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ )
نماز سے استقامت پر مدد لیجئے
گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں میں یہ آیات نازل ہورہی تھیں وہ دن وہ تھے جبکہ اذیت رسانی کی چکی پوری شدت سے گھوم رہی تھی۔ ان اذیتوں کی تاب نہ لا کر بہت سے لوگ ہجرت کرچکے تھے۔ جو پیچھے رہ گئے تھے انھیں پوری طرح تختہ مشق بنایا جارہا تھا۔ ایسے حالات میں استقامت دکھانا اور دشمن کی طرف معمولی جھکائو سے بھی بچنا بلکہ ان سے ترک تعلق کردینا نہایت مشکل کام تھا۔ ایسا کٹھن کام اللہ کی مدد اور نصرت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ چناچہ اسی مشکل کو آسان بنانے کے لیے پروردگار مسلمانوں کو ایک ایسا فارمولا بتا رہے ہیں جس پر عمل کرکے مشکلیں آسان ہوسکتی ہیں۔ وہ فارمولا یہ ہے کہ دن کے دونوں طرفوں میں نماز کا اہتمام کرو۔ اور رات کے بھی کسی حصے میں اللہ کے سامنے نماز کے لیے قیام کرو۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے تمہارا رشتہ اللہ سے مضبوط ہوجائے گا۔ اللہ سے تمہارا تعلق اس قدر پختہ ہوجائے گا کہ تم بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی کبھی اپنے آپ کو تنہا نہیں سمجھو گے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج شریف سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر دن کے دونوں اطراف کی نماز سے مراد فجر اور مغرب ہوسکتی ہے اور قیام لیل سے عشاء بھی مراد لی جاسکتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ تہجد مراد لی جائے کیونکہ صبح شام کی دو نمازیں پنج وقتہ نماز سے پہلے بھی مشروع تھیں اور تہجد کی نماز کا پڑھنا تو ضروری تھا۔ چناچہ طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی نماز دن بھر کی مشکلات پر قابو پانے کا ذریعہ تھی۔ اور رات کی نماز اللہ سے توفیق مانگنے کا اور ہمت طلب کرنے کا ایک موثر واسطہ تھی۔ نماز ایک عظیم فریضہ ہے جس میں ایک طرف تو آدمی اللہ کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ ہاتھ اٹھا کر جب نیت باندھتا ہے تو تمام دنیا سے ترک تعلق کا اعلان کرتا ہے اور دونوں ہاتھ باندھ کر اللہ کی غلامی کا نہ صرف اقرار کرتا ہے بلکہ اس پر کمرہمت باندھ لیتا ہے۔ پھر اسی غلامی کا اظہار کبھی رکوع کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی سجود کی شکل میں اور کبھی قعود کی حالت میں۔ پھر اس میں تسبیحات اللہ سے مناجات کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اس میں دعائیں پگھلتے ہوئے دل کی داستان دہراتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہر رکن کی ادائیگی پر اللہ اکبر کا اعلان انسان کو ایک ایسی بےکراں قوت سے جوڑ دیتا ہے جس کے بعد کسی کمزوری کا احساس باقی نہیں رہتا۔ ایک طرف بندگی کے تمام تقاضے پورے ہوتے ہیں اور دوسری طرف عظمت اور قوت دل میں اترتی چلی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ کوئی آستان نظروں میں جچتا ہے اور نہ تخت و تاج کے لوگ نگاہوں میں بستے ہیں۔ کیفیت یہ ہوتی ہے کہ :
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
صبر بھی ذریعہ استقامت ہے
اس فارمولے کا دوسرا حصہ صبر پر عمل کرنا ہے۔ صبر بےبسی کا نام نہیں۔ اور نہ طاقت و قوت دیکھ کر حق سے دستبردار ہوجانے کا نام ہے بلکہ صبر ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو کسی ظلم کے سامنے جھکنے نہیں دیتی۔ کسی تخت کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہونے دیتی۔ وہ حق و صداقت کا علمبردار بن کر اٹھتا ہے تو اس راستے میں آنے والی مشکلات اس کے نزدیک سامانِ سفر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ وہ کٹ سکتا ہے لیکن جھکنا نہیں جانتا۔ چناچہ جب ایک مسلمان نماز سے بندگی اور عظمت کا راز پا کر اور صبر سے استقامت کا درس لے کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیونکہ نماز اور صبر سے جو کردار وجود میں آتا ہے اسے صرف نیکی نہیں کہا جاسکتا بلکہ وہ برترین نیکی ہے جس کے آگے نیکی کا کوئی مقام نہیں اور اسی مقام کو مقام احسان کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ احسان پر عمل کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں فرمایا۔ ضائع تو وہ کسی کا اجر بھی نہیں کرتا لیکن اس میں ایک طرح کی ضمانت دی گئی ہے اور مقام کی بلندی کی خبر کی گئی ہے۔
Ayah 11:116فَلَوْلاَ کَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ اُوْلُوْا بَقِیَّۃٍ یَّنْھَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْھُمْ ج وَاتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِیْہِ وَکَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۔
(سورۃ ہود : 116)
(پس کیوں نہ ہوئے تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے اہل خیر جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے ؟ مگر تھوڑے ان میں سے جن کو ہم نے ان میں سے نجات بخشی، اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا وہ اسی عیش میں پڑے رہے جس میں تھے اور وہ مجرم بن کر رہے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
تشریح سے پہلے مشکل الفاظ کا مفہوم : اُوْلُوْا بَقِیَّۃٍاس کا لفظی معنی ہے بقیہ والے۔ بقیہ کا معنی عقل و دانش بھی کیا جاتا ہے اور خیر و صلاح بھی۔ لیکن استعمال میں اس کے معنی میں وسعت آجاتی ہے۔ جب یہ کہیں کہ فلان بقیۃ قومہ تو اس کا معنی صرف یہ نہیں ہوتا کہ فلاں آدمی اپنی قوم کے اہل دانش میں سے ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے اخیار و صالحین میں سے ہے اور یہ بات واضح ہے کہ قوم کے اخیار جس طرح مکارمِ اخلاق کے پیکر ہوتے ہیں اسی طرح عقل و دانش میں بھی فائق ہوتے ہیں۔ اس لیے جن لوگوں نے اس کا ترجمہ اصحابِ خیر کیا ہے اس میں ایک طرح کی جامعیت پائی جاتی ہے۔
مَآ اُتْرِفُوْا فِیْہِاتراف، مال و دولت کی فراوانی کو کہتے ہیں۔ اترفہ المال کے معنی ہوں گے کہ مال و اسباب نے اس کو طغیان و فساد میں مبتلا کردیا تومآ اُتْرِفُوْا فِیْہِکا مفہوم ہوگا کہ اسبابِ عیش کی فراوانی نے ان کو جس سرمستی میں مبتلا کردیا تھا، اسی میں پڑے رہے۔
عذاب کے اسباب
گزشتہ 6 رکوع میں جن معذب قوموں کا ذکر ہوا ہے، ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے کہ ان پر نزول عذاب کے اسباب کیا تھے تاکہ مشرکینِ مکہ کو سمجھنے میں آسانی ہو کہ کہیں وہی اسباب ان میں موجود تو نہیں ہیں جن کی وجہ سے ان پر بھی عذاب نازل ہوسکتا ہو اور اگر وہ اسباب ان میں موجود ہیں تو انھیں ان کے دور کرنے کی فکر کرنی چاہیے ورنہ اللہ تعالیٰ کا عدل بےلاگ ہے، اس کے یہاں کوئی رورعایت نہیں، وہ ایک ہی ترازو سے سب کو تولتا ہے۔ جن اسباب سے محولہ بالا قومیں عذاب کی مستحق ٹھہریں، کوئی وجہ نہیں کہ کوئی اور قوم انھیں اسباب کی حامل ہوتے ہوئے، اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے۔
آیتِ کریمہ میں غور کرنے سے مندرجہ ذیل اسباب ذہنی افق پر ابھرتے ہیں۔ سب سے پہلا یہ ہے کہ جب کوئی قوم بگاڑ کا شکار ہوتی ہے اس کے عقائد اور افکار میں گمراہی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے اعمال و اخلاق بگاڑ کا شکار ہوجاتے ہیں تو اللہ کی طرف سے فوراً ان پر عذاب نازل نہیں ہوجاتا ہے بلکہ عذاب اس وقت اترتا ہے جب ان میں ایسے لوگ ختم ہوجاتے ہیں یا بہت کم رہ جاتے ہیں جو اپنی قوم کو برائی سے روکنے اور نیکی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کریں، اور ایسا دو صورتوں میں ہوتا ہے، کبھی تو اس وقت جب قوم اتنی بانجھ ہوجاتی ہے کہ اس میں اچھے لوگ پیدا ہی نہیں ہوتے۔ اور ان کا ماحول اور ان کی اجتماعی فضا اس قدر سُمّیّت کا شکار ہوجاتی ہے کہ وہاں خیر و صلاح کا کوئی پودا پروان نہیں چڑھتا اور دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ اصحابِ خیر عزیمت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ دیکھ کر کہ لوگوں کا اجتماعی ضمیر نیکی کی کسی بات کو قبول کرکے نہیں دیتا تو وہ اپنے گھروں میں سمٹ کر رہنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ صورت کوئی بھی ہو، حقیقت صرف یہ ہے کہ جب قوم کا بگاڑ انتہائی صورت اختیار کرجائے اور اس میں منکرات سے روکنے والے عزیمت کا راستہ چھوڑ دیں یا سرے سے پیدا ہی نہ ہوں تو ایسی قوم پر عموماً اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔
دوسرا سبب یہ ہے کہ قوم کے وسائلِ معیشت یا اقتدار کی چابیاں ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائیں جنھیں عیش و تنعم کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہ ہو۔ خواہشاتِ نفس اور سفلی جذبات کی حکمرانی ہوجائے اور پیٹ کا دائرہ پھیل کر پوری زندگی پر حاوی ہوجائے اور ایسے لوگ قوم کے رہنما بن کے اٹھیں اور قوم بجائے کسی شریف آدمی کی بات سننے کے انھیں کی پیروی کرنے کو اپنے لیے کامیابی سمجھے تو ایسی قوم میں نیکی کے سوتے آہستہ آہستہ خشک ہوجاتے ہیں اور برائی کا احساس رفتہ رفتہ دم توڑ جاتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پوری قوم مجرموں کی قوم بن جاتی ہے جس میں ڈھونڈے سے نیکی کے آثار نہیں ملتے۔ وہ کہنے کو تو ایک قوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں برائیوں کا ایسا جھاڑ جھنکار ہے جسے اٹھا کر باہر پھینک دینے میں ہی گلشن کی زندگی ہے۔
Ayah 11:117وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا مُصْلِحُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 117)
(اور تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق (ظلم سے) تباہ کردے حالانکہ اس میں بسنے والے نیکوکار ہوں یا اصلاح میں سرگرم ہوں)
مفسرین کرام نے اس آیت کریمہ کے مختلف مفاہیم بیان کیے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی غلط نہیں۔ اس لیے ہم انھیں ایک ترتیب سے بیان کردیتے ہیں۔
ظلم کے مختلف مفاہیم
1 ظلم سے مراد انفرادی خرابیاں ہیں، مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی قوم انفرادی طور پر بگڑ جائے اور اس کے اعمال و اخلاق میں خرابیاں پیدا ہوجائیں، معاملات میں بگاڑ پیدا ہوجائے لیکن اجتماعی طور پر اس کے ادارے درست کام کررہے ہوں، منزل تبدیل نہ ہوئی ہو، جہت سفر میں بھی تغیر نہ آیا ہو اور اصلاح کے لیے کام کرنے والے لوگ اور ادارے اپنااپنا فرض انجام دے رہے ہوں تو محض کسی قوم کے انفرادی گناہ اللہ کے عذاب کا موجب نہیں بنتے۔ کیونکہ اجتماعی حالت میں خیر غالب رہنے تک انفرادی زندگی کی اصلاح کی امید باقی رہتی ہے اور یہی امید ہے جو عذاب کو روکے رکھتی ہے۔ اسی کی طرف اقبال نے اشارہ کرتے ہوئے کہا :
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
2 ظلم کا تعلق اللہ کی ذات سے ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو بھی ناحق سزا نہیں دیتا۔ وہ ایسا رحیم و کریم ہے کہ اس سے ظلم کا صدور ممکن ہی نہیں۔ جس کسی فرد کو سزا ملتی ہے یا کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو وہ اس کے عدل و انصاف کا اظہار ہوتا ہے۔ ورنہ بجائے خود وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ یہاں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ ظلم سے اور ناحق اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ہلاک کردے اس حال میں کہ بستی کے رہنے والے اصلاح کا کام کررہے ہوں یا خود نیک ہوں یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جب بھی کسی قوم پر عذاب آیا ہے تو مت سمجھو کہ اللہ نے کسی کو بےسبب مارا ہے بلکہ اس قوم کی تاریخ اور ان کے حالات میں اس عذاب کے اسباب تلاش کرو، تو تمہیں مل جائیں گے۔
3 ظلم سے مراد شرک ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ شرک اللہ کے یہاں کفر کے بعد سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑا جرم ہے، لیکن اتنے بڑے جرم کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ شرک کرنے والی قوم کو بھی تباہ نہیں کرتا، اسے بھی مہلت دیتا ہے، بشرطیکہ اس مشرک قوم میں اصلاحِ اعمال جاری وساری ہو۔ ان کی عدالتیں ٹھیک کام کررہی ہوں، مظلوموں کو انصاف دیا جارہا ہو، ان کے رفاہی ادارے اپنا فرض انجام دے رہے ہوں، ان کا کاروبار ٹھیک بنیادوں پر چل رہا ہو، لوگوں کی جان و مال اور عزت محفوظ ہو تو قدرت ایسی قوم کو تباہ نہیں کرتی۔ جہاں تک ان کے شرک و کفر کا تعلق ہے اس کی سزا انھیں آخرت میں ملے گی۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ قومیں شرک اور کفر سے زندہ رہ سکتی ہیں لیکن ظلم سے زندہ نہیں رہ سکتیں۔
Ayahs 11:118–119وَلَوْشَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَلاَ یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ ۔ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ ط وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ ط وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لاََ مْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔
(سورۃ ہود : 118، 119)
(اور اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا اور اب تو وہ مختلف طریقوں پر چلتے رہیں گے، بجز ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے اور اسی لیے ان کو اس نے پیدا کیا ہے اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ )
ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں قانونِ الٰہی
ان دو آیتوں میں دفع دخل مقدر بھی ہے اور قانونِ ہدایت و ضلالت کی و ضاحت بھی۔ اعتراض یہ کیا جاتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ طبعیتوں میں اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اللہ کی مشیت سے ہی ہورہا ہے۔ کیا وہ اپنی مشیت سے یہ نہیں کرسکتا تھا کہ تمام انسانوں کو ایک امت بنا دیتا۔ سب اللہ کی توحید کو ماننے والے ہوتے، کفر اور شرک سے نفرت کرنے والے، اسی کی یاد سے اپنے سینوں کو آباد کرنے والے اور انحراف کے راستوں سے کوسوں دور بھاگنے والے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا کہ کسی کے جہنم میں جانے کا خدشہ نہ ہوتا، سب لوگ دنیا میں بھی ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار ہوتے اور آخرت میں جنت کی نعمتوں سے شادکام ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے کفر اور ایمان کی آزادی دے کر انسانوں کو ایک بہت بڑے خطرے میں مبتلا کردیا ہے۔ چناچہ اس کا جواب دیتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بات بعید نہیں، وہ چاہتا تو وہ سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن اگر اس کو ایسا ہی کرنا ہوتا تو پھر جن و انس کی تخلیق کی ضرورت کیا تھی۔ فرشتے ایک ہی امت بن کر جی رہے تھے۔ ان میں اللہ کے احکام سے نافرمانی کا جذبہ ہی پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے وہ ہمہ وقت اس کی فرمانبرداری میں لگے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا، اس کی حکمت نے یہ چاہا کہ میں ایک ایسی مخلوق پیدا کروں جنھیں خیر و شر کے حوالے سے آزادی دوں۔ لیکن خیر و شر کی پہچان کے لیے انھیں عقل سے نوازوں، قوت امتیاز بخشوں، پھر مزید آسانی کے لیے اپنے رسول بھیجوں اور کتابیں نازل کروں تاکہ جو بلید لوگ اپنے تئیں نہ سمجھ سکیں وہ بار بار کی یاد دہانی اور تبلیغ و دعوت سے سمجھ جائیں لیکن میں کسی طرح ان پر جبر نہ کروں، نہ کسی کو زبردستی ایمان دے کر جنت کے راستے پہ ڈالوں اور نہ کسی کو ایمان سے محروم رکھ کر جہنم کا مستحق بنائوں۔ ہدایت و رشد کی ایک ایک بات واضح کردی جائے اور سرکشی اور نافرمانی کا نقصان اور انجام بھی کھول کر بیان کردیا جائے اور پیغمبر اپنی عملی زندگی سے ان دونوں چیزوں کو کھول کھول کر بیان کردیں۔ اس کے بعد انسان کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ چاہے ایمان و تسلیم کا راستہ اختیار کرے اور چاہے کفر اور طغیان کا۔ اگر وہ زبردستی سب کو مومن بنا دیتا تو یہ اسی طرح جبر ہوتا اور قابل مذمت ہوتا جس طرح کسی کو زبردستی کافر اور گمراہ بنادینا ظلم اور قابل مذمت ہے۔ اللہ کے اس قانون کے نافذ ہوجانے کے بعد اب اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ اللہ تعالیٰ نیکی یا برائی میں جبر سے کام لے گا۔ اب تو لوگ برابر ایک دوسرے سے مختلف راستہ اختیار کریں گے اور اس پر چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔ اور اسی ذمہ داری کے حوالے سے قیامت کے دن وہ ماخوذ ہوں گے۔ البتہ جو شخص اپنی رائے اور عقل کی آزادی سے صحیح راستے کا انتخاب کرے گا اور اللہ سے اس کے لیے توفیق مانگے گا تو اللہ فرماتا ہے کہ وہ میرے رحم کا مستحق ہوگا۔ چناچہ ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے اللہ کا یہ وہ قانون ہے جس کا ہر ایک شخص کو پابند کیا گیا ہے اور اسی قانون کی بالادستی میں ہر انسان کی آزمائش ہے اور اسی لیے تمام انسانوں کو اللہ نے پیدا فرمایا ہے کہ وہ عقل و قوت امتیاز کی آزادی لے کر اس کا صحیح استعمال کرتے ہیں یا غلط استعمال کرتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ شیطانی قوتیں ہمیشہ انسان کے بگاڑ میں لگی رہتی ہیں۔ تو یہ بات چنداں قابل تشویش نہیں، کیونکہ اگر ایک طرف شیطانی قوتیں اپنا کام کررہی ہیں تو دوسری طرف انبیاء و رسل اور ان کے راستے پر چلنے والے مصلحین ہمیشہ اصلاحی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ البتہ ان کی کوششوں کے باوجود بھی جو لوگ شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اس کے راستے پر چلیں گے تو یہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب شیطان کو جنت سے نکالا تھا اور پھر اسے اور حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی ذریت کو دنیا میں بھیجا تھا تو شیطان نے سرکشی دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ پروردگار آپ نے مجھے آدم کو سجدہ نہ کرنے کے جرم میں جس طرح راندہ درگاہ ٹھہرایا ہے، میں اس کا آدم کی اولاد سے انتقام لوں گا۔ میں ان کے چاروں طرف سے حملہ آور ہوں گا۔ آپ دیکھیں گے کہ میری کوششوں کے نتیجے میں بہت کم لوگ آپ کے شکر گزار ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا تھا کہ اس سے میری خدائی میں کیا کمی واقع ہوگی۔ تجھے بھی اور تیرے پیروکاروں کو بھی میں جہنم میں پھینکوں گا اور تیرے جیسے لوگوں ہی سے جہنم کو بھروں گا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ یہ بات جو پروردگار نے شیطان سے فرمائی تھی لوگوں کا کفر پر اصرار اور اللہ پر ایمان سے انکار کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ثابت ہو کے رہے گا کہ انھیں لوگوں سے جہنم بھرا جائے گا۔
Ayah 11:120وَکُلاًّ نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَمنْبَآئِ الرُّسُلِ مَانُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَاَدَکَ ج وَجَآئَ کَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 120)
(اور ہم رسولوں کی سرگزشتوں میں سے ہر ایک تمہیں سنا رہے ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں اور ان میں تمہارے پاس حق آیا ہے اور مومنوں کے لیے ان میں نصیحت اور یاددہانی ہے۔ )
معذب قوموں کے واقعات سنانے سے مقصود
گزشتہ معذب قوموں کی سرگزشتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم ان قوموں کی سرگزشتیں آپ کو اس لیے سناتے ہیں کہ آپ کو ان سے حوصلہ پیدا ہو۔ آپ کی قوم آپ سے جو بہیمانہ سلوک کررہی ہے اور جس طرح اس نے اذیت رسانی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ان کا سامنا کرنا یقینا ایک مشکل ترین کام ہے اور آپ اس مشکل کام کو خندہ پیشانی سے انجام دے رہے ہیں لیکن جب آپ محولہ بالا پیغمبروں کے واقعات دیکھیں گے تو آپ کو اس سے حوصلہ ملے گا۔ اس راستے پر چلنے والے صرف آپ ہی نہیں ہر دور کے پیغمبر کو ان راہوں سے گزرنا پڑا ہے۔ ان میں سے بعض نے تو صدیوں تک ناقابلِ برداشت تکلیفیں اٹھائی ہیں لیکن کبھی اپنے اللہ سے شکایت نہ کی۔ انھیں یقین تھا کہ فتح و کامرانی ہمارا مقدر ہے۔ ہم حق پر ہیں تو یقینا اللہ آپ کا ساتھ دے گا۔ اور آپ نے دیکھا ہے کہ پھر اللہ نے ان کا ساتھ دیا۔ ان کی قومیں تباہ کردی گئیں اور اللہ نے انھیں نہ صرف نجات دی بلکہ سرفراز بھی فرمایا۔
دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ ان سرگزشتوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کوئی بات ایسی نہیں فرمائی گئی جس میں غلطی کا امکان ہو۔ اس میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے اس کا ایک ایک لفظ حق اور سچ ہے۔ اس کی تاریخ حقائق پر مبنی ہے۔ یہ محض تاریخی افسانے نہیں بلکہ ایسے سچے واقعات ہیں جس سے قوموں کی قسمتیں وابستہ ہیں۔ ان واقعات سے نہایت آسانی سے آپ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اللہ کے نبی کا حق لے کے آنا اور قوم کا اسے قبول کرنے سے انکار کردینا اور پھر برسوں تک اس کشمکش کا جاری رہنا اور بالآخر قوم کا اپنے انکار کی پاداش میں عذاب کا شکار ہونا اور پیغمبر اور ایمان لانے والوں کا نجات پا جانا یہ وہ حق ہے جو سبق دینے کے لیے کافی ہے کہ آپ اطمینان سے اپنا کام کرتے جائیں، کامیابی آپ کا مقدر ہے اور آپ کا انکار کرنے والے اگر اپنی روش نہیں بدلیں گے تو تباہی اور ہلاکت ان کے انتظار میں ہے۔
ان ہی واقعات میں اہل ایمان کے لیے موعظت اور یاددہانی ہے۔ وہ ان سرگزشتوں کو بار بار پڑھیں اور پھر ان سے وہ باتیں اخذ کریں جو اس دور کے اہل ایمان کا سرمایہ تھیں اور جن باتوں کی وجہ سے وہ اللہ کی عنایات کے مستحق ٹھہرے۔ اور ان باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں جن سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور جن باتوں پر بعض دفعہ گرفت بھی کی گئی اور پھر اس پر پیغمبر اور اصحابِ ایمان کا رویہ دیکھیں کہ کس قدر انھوں نے توبہ و استغفار سے اپنے اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
Ayahs 11:121–122وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ ط اِنَّا عٰمِلُوْنَ ۔ وَانْتَظِرُوْا ج اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 121، 122)
(اور اے پیغمبر کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لا رہے ہیں کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کام کیے جاتے ہیں اور تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔ )
مخالفین کو فیصلہ کن جواب
ان آیتوں میں کلام خداوندی کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ نے اب تک ریشمی لب و لہجہ میں قریش مکہ کو اللہ کے دین کی طرف بلایا لیکن ان کی طرف سے اذیتوں اور مخالفتوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ انھوں نے آپ کی دعائوں کے جواب میں بھی بدزبانی کی، اللہ کے کلام کا تمسخر اڑایا۔ یہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کسی اندھے راجے کی نگری ہے جس میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کاش انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ اس دنیا کا خالق ومالک بڑی قدرتوں کا مالک ہے۔ وہ کمزور حکمرانوں کی طرح پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر اس کی گرفت سے نکل کوئی نہیں سکتا۔ اب آپ ان سے لہجہ بدل کر صاف صاف فرما دیجیے کہ میں تم سے براءت کا اعلان کرتا ہوں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ تمہاری ساری ژاژخایوں کے بدلے میں ہم اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ تم سے جو ہوسکے کر گزرو اور اپنا کام جاری رکھو۔ ہم تمہیں برابر اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہیں گے اور وہ دیکھنے والا تمہیں بھی دیکھے گا اور ہمیں بھی دیکھے گا اور اس کے بعد کیا ہوگا جس کی نگاہوں میں انبیاء کرام اور ان کی قوموں کی تاریخ ہے وہ جانتا ہے۔ اس لیے میں تمہیں بار بار اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ تم نے اپنے رویئے سے عذاب کے تمام امکانات پیدا کردیئے ہیں لیکن عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کریں گے۔