Ayahs 11:36–37وَاُوْحِیَ اِلٰی نُوْحٍ اَنَّہٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلاَّ مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ ج صلے وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ج اِنَّہُمْ مُّغْرِقُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 36۔ 37)
(اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی۔ یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے آپ کی قوم میں سے بجز ان کے جو ایمان لا چکے ہیں تو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں آپ اس سے آزردہ خاطر نہ ہوں۔ آپ ہماری نگرانی میں کشتی بنایئے اور ہماری ہدایت کے مطابق اور ان ظالموں کے باب میں مجھ سے کچھ نہ کہئے۔ بیشک وہ غرق ہو کر رہیں گے۔ )
فیصلہ الٰہی کا وقت آپہنچا
گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے اعلان براءت کردیا تھا، جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ اب اس قوم کے دن گنے جا چکے ہیں۔ قدرت انھیں اب مزید مہلت نہیں دے گی۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں یہی خدشہ واقعہ کی صورت میں سامنے آگیا ہے۔ اعلانِ براءت کے بعد نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ آپ یقینا باقی انبیاء کرام کی طرح ایک ایک شخص کے ایمان کے متمنی رہے ہیں اور آپ کی آرزو میں اب تک کوئی کمی نہیں آئی۔ آپ کی قوم نے اگرچہ آپ کو آزردہ اور دکھی کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ دنیا کا کوئی صدمہ ایسا نہیں جس سے آپ کو دوچار نہیں کیا۔ آپ نے ایک ایک کے ایمان کے لیے اللہ سے دعائیں مانگیں لیکن اب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی قوم کے جن لوگوں کی قسمت میں ایمان لکھا تھا وہ ایمان لا چکے۔ اب کسی اور کے ایمان لانے کی کوئی امید نہیں۔ آپ کی تمام تر مساعی اپنی انتہاء کو پہنچ گئیں۔ آپ کی دعائوں نے آخری اثر دیکھ لیا۔ ان ظالموں نے اپنی قسمت پھوڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اس لیے اب آپ کو مزید آزردہ خاطر نہیں ہونا چاہیے۔ فیصلہ الٰہی کا وقت آپہنچا۔ اب انھیں اس فیصلے سے دوچار ہونا ہے۔ عذاب ان کا مقدر ہوچکا ہے۔ اب اس میں تاخیر کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ تبلیغ و دعوت اور تذکیرو موعظت کا کام اپنے اتمام کو پہنچ گیا اور آپ کی قوم کے انکار وتمرد نے فیصلہ الٰہی کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ اب صرف ایک کام باقی ہے کہ عذاب آنے سے پہلے آپ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو عذاب کی تباہیوں سے بچا کر کسی عافیت کدہ اور دارالامان میں پہنچانا ہے۔ اس کے بعد ان ظالموں کو مکمل تباہ کردینا ہے۔ عذاب چونکہ طوفان کی شکل میں آرہا ہے اس لیے اس سے بچائو کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایسی کشتی تیار کریں جو اس عذاب کے ہولناک تلاطم میں آپ کے تحفظ کا ذریعہ بن سکے۔ اس لیے آپ کشتی تیار کرنا شروع کردیجیے۔ لیکن دو شرطوں کے ساتھ۔ ایک یہ کہ یہ سارا کام ہماری نگرانی میں ہوگا اور دوسرا یہ کہ ہماری رہنمائی میں ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نوح (علیہ السلام) پہلے سے کشتیاں بنانے میں ماہر تھے۔ اس لیے یہ اندیشہ تھا کہ وہ اپنے سابقہ تجربے کی بنیاد پر اپنی مرضی کی کشتی بنائیں گے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اس کام سے واقف نہیں اور ہم اس بھی آگاہ ہیں کہ اس کام کے شروع کرنے سے پہلے اپنی قوم کی طرف سے آپ کے دل میں قسم قسم کے اندیشے ہوں گے کہ وہ شاید آپ کو یہ کام کرنے نہ دیں، رکاوٹیں کھڑی کریں اور تعمیر کا سامان اٹھا کرلے جائیں۔ اس لیے فرمایا کہ آپ سب کے سامنے اس کام کا آغاز کریں اور اپنے دل سے اندیشوں کو نکال دیں کیونکہ آپ پر ہماری نگرانی ہوگی۔ آپ کی ہر چیز ہماری نگرانی میں ہوگی۔ کسی اور کے لیے دخل اندازی کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ گزرنے والے تمسخر ضرور اڑائیں گے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکیں گے۔ رہی یہ بات کہ آپ اس صنعت سے واقف نہیں ہیں تو اس کی بھی فکر نہ کیجیے جس خدا نے دائود (علیہ السلام) کے ہاتھوں میں لوہا موم کردیا تھا وہ آپ کے ہاتھوں میں اس صنعت کا کمال پیدا کرے گا۔ آپ کے دماغ میں اس کا نقشہ اترتا چلا جائے گا۔ چناچہ کشتی کا طول کیا ہو ؟ عرض کیا ہو ؟ درجات کتنے ہوں ؟ مٹیریل کیسا استعمال ہو ؟ جو پانی کی خوفناک موجوں کا مقابلہ کرسکے۔ ان میں سے ایک ایک بات اللہ کی طرف سے بتائی جائے گی۔ رہا گزرنے والوں کا رویہ تو آپ ان کو منہ نہ لگائیے بلکہ وہ تو رحم کے قابل لوگ ہیں کیونکہ آپ کو پوری طرح یقین ہے کہ وہ عنقریب غرق کیے جائیں گے تو موت جس کے سر پر کھڑی ہو، اس کی باتوں کا کیا برا ماننا۔ وہ کچھ بھی کہیں، آپ نظرانداز فرمائیں۔
Ayah 11:38وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ قف وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِہٖ سَخِرُوْا مِنْہُ ط قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 38)
(اور نوح کشتی بنانے لگے۔ اور جب بھی گزرتے ان پر ان کی قوم کے سردار تو آپ کا مذاق اڑاتے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جواب میں کہتے : اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ایک دن ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گے، جس طرح تم مذاق اڑاتے ہو۔ )
قوم نوح (علیہ السلام) کا استہزا
” وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ “ اس کے ترجمے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ عربی زبان کے معروف اسلوب کے مطابق َیصْنَعُ سے پہلے جَعَلَ محذوف ہے۔ اس کا معنی ہوگا کہ نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانا شروع کردی۔ ترجمے کی دوسری شکل یہ ہے کہ نوح کشتی بناتے ہیں۔ گویا ایک منظرکشی کی جارہی ہے۔ دونوں صورتوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ بتانا صرف یہ ہے کہ جیسے ہی اللہ نے اپنے اس بندے کو کشتی بنانے کا حکم دیا جس کا کام زندگی بھر تعلیم و تربیت اور تذکیرو دعوت رہا ہے۔ جس نے ساری زندگی لوگوں کی زندگیوں کی تعمیر کی ہے اور دل و دماغ کی الجھی ہوئی کلیں سیدھی کی ہیں۔ آج اچانک وہ بڑھئی کا کام شروع کررہا ہے۔ اس نے ایک لمحے کو نہیں سوچا کہ یہ کام میرا تو نہیں۔ میں تو اس کام کے کبھی قریب بھی نہیں پھٹکا، مجھے اس کام سے کیا سروکار۔ بس حکم ملتے ہی تعمیل کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ اسباب فراہم ہونا شروع ہوگئے اور تعمیر کے لیے جن امور کا سرانجام دینا ضروری تھا۔ ان میں سے ایک ایک کو سرانجام دیا جانے لگا۔ نگرانی چونکہ اللہ تعالیٰ کی ہے اس لیے کسی کی مداخلت کا کوئی اندیشہ نہیں۔ نوح (علیہ السلام) مخالف ماحول میں بھی نہایت اطمینان سے اپنا کام شروع کرچکے ہیں۔ البتہ مخالفین کے استہزاء سے ہر وقت کا واسطہ ہے۔ وہ جب بھی وہاں سے گزرتے ہیں انھیں خود بھی حیرت ہوتی ہے اور اس کا اظہار بھی برہنہ اور جارحانہ انداز میں کرتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں بھی مخالفین کا انداز نہایت تکلیف دہ ہوتا تھا اور اب تو انھیں بہانہ ہاتھ آگیا تھا۔ وہ اس طرح کی باتیں کرتے کہ تمہارے دماغ میں خلل کا تو ہمیں پہلے ہی اندیشہ تھا کیونکہ لگتا تھا کہ بڑھاپے سے تم سٹھیا گئے ہو، لیکن اب تو یقین ہوگیا ہے کہ تم دماغی عارضہ کا شکار ہوگئے ہو۔ تم بتائو ہمارے قریب قریب کوئی دریا نہیں، یہ تمہاری کشتی آخر کہاں چلے گی ؟ کیا یہ خشکی پر دوڑے گی ؟ آخر اسے کس مقصد کے لیے تم بنا رہے ہو ؟ ایسی ہی باتوں سے وہ مذاق اڑاتے، تمسخر کرتے اور ایک تماشا بنائے رکھتے۔ لیکن نوح (علیہ السلام) چونکہ اللہ کے تربیت یافتہ تھے۔ آپ کے اللہ کے اخلاق سے تخلق کیا تھا اس لیے آپ ان کے ناگوار لہجے کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت فرما رہے تھے۔ زیادہ سے زیادہ کچھ کہا تو صرف یہ کہ آج تم ہم پر ہنس رہے ہو، وہ وقت دور نہیں جب ہم تم پر ہنسیں گے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسی طرح کی پھبتیاں تم پر چست کریں گے جس طرح کی تم کررہے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح ہمارا یہ فعل تمہاری نگاہوں میں ہنسی اور مذاق کا سبب ہے اسی طرح کل ہم جب تمہیں ایک ہولناک انجام سے دوچار ہوتا دیکھیں گے تو ہمیں تمہارے انجام سے دکھ تو ہوگا لیکن ساتھ ہی اللہ کی تائید و نصرت اور اس کے وعدوں کے وفا کرنے پر ایک طرح کی خوشی بھی ہوگی اور ہم اس پر انتہائی شکر بجا لائیں گے۔ عربی زبان میں بعض دفعہ صوتی ہم آہنگی کے لیے بعض الفاظ کو دہرا دیا جاتا ہے لیکن اس کا معنی وہ مقصود نہیں ہوتا۔ مثلاً قرآن کریم میں ہے جَزَائُ سَیِّئَۃٌ سَیِّئَۃٌ بِمِثْلِھَابرائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہے، لیکن حقیقت میں اسلام کی تعلیم برائی کا بدلہ برائی نہیں بلکہ انصاف ہے، لیکن یہاں صرف ملتے جلتے الفاظ کا تکرار ہے۔ بیشِ نظر آیت کریمہ میں بھی الفاظ کے تکرار سے جو بات سمجھ میں آرہی ہے وہ مقصود نہیں بلکہ مقصود وہ ہے جس کا ہم نے ذکر کیا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کے جواب کا مفہوم
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی کی موت یا کسی کی بربادی اظہار خوشی کا موقع نہیں۔ لیکن اگر آپ اسے ایک دوسرے پہلو سے دیکھیں تو پھر شاید آپ بھی اسے دوسرا معنی دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔ مثلاً آپ دیکھتے ہیں کہ ایک باغ کو خودرو پودوں اور جھاڑیوں نے جنگلی جڑی بوٹیوں اور جابجا اٹھے ہوئے ٹیلوں نے بالکل ویران کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوبارہ پھر یہاں باغ لہلہائے تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ ان تمام خود رو اور جنگلی بوٹیوں سے اس باغ کا چپہ چپہ خالی کرایا جائے اور تمام ٹیلے اٹھا کر زمین ہموار کی جائے۔ تخریب کا یہ عمل بظاہر ایک بربادی ہے لیکن اس کے بعد باغ کی صورت میں سامنے آنے والا نتیجہ جب دل و دماغ پر ابھرتا ہے تو یہی تخریب خوشی کا پیغام بن جاتی ہے۔ کسی انسان کی لاش دیکھنا کسی انسان کے لیے کبھی خوشی کا باعث نہیں ہوسکتا لیکن اگر ایک ڈاکو جس نے پوری آبادی کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور کتنے لوگ اس کے ہاتھوں زندگی کھو چکے ہوں اور کتنی عزتوں کے فانوس اس ظالم کے ہاتھوں بجھ چکے ہوں اگر وہ کسی مقابلہ میں مارا جائے اور اس کی لاش چورا ہے میں لا کے پھینک دی جائے تو یقینا ہر دیکھنے والا اسے دیکھ کر خوشی محسوس کرے گا۔ اللہ کی زمین پر نیکیوں کا باغ اجاڑ کر برائیوں کے جان لیوا پودوں کو اگانا ظلم و فساد سے زمین کو بھر دینا اور مفادات کے اندھے کنویں کھود کر زندگی کے لیے خطرات پیدا کرنا اور جو اللہ کی زمین پر ازسرنو نیکیوں کی بہار پیدا کرنا چاہیں ان کے قتل کے درپے ہوجانا جو لوگ اس صورتحال کو بروئے کار لانا کا ذریعہ بنتے ہیں اور زمین پر انسانوں کا جینا مشکل کردیتے ہیں ان لوگوں کو جب اللہ کے عذاب سے ختم کرکے زمین کے فساد کو ختم کیا جاتا ہے تو یقینا یہ بھی ایک خوشی کا موقع ہے جس پر اہل ایمان کو مسرور ہونا چاہیے۔
Ayah 11:39فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ لا مَنْ یَّاْتِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ۔
(سورۃ ہود : 39)
(سو تم عنقریب جان لو گے کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کردے گا اور کس پر آتا ہے وہ عذاب جو ٹالے نہ ٹلے گا۔ )
تمسخر کا مزید جواب
حضرت نوح (علیہ السلام) نے کفار کے تمسخر کے جواب میں مزید یہ فرمایا کہ تم میرے بارے میں جو چاہو سو کہو مجھے خلل دماغ کا شکار کہہ کر جتنی چاہو میری توہین کرو لیکن ایک بات یاد رکھو کہ تمہارے اس تمسخر کا جو انجام ہونے والا ہے وہ اب زیادہ دنوں کی بات نہیں۔ تم عنقریب دیکھ لو گے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ حیرت کی بات ہے کہ نوح (علیہ السلام) کفار کی کسی بات سے متاثر دکھائی نہیں دیتے۔ انھیں اللہ کے وعدوں پر اس حد تک یقین تھا کہ اس کی قوت میں کوئی بات بھی مخل نہیں ہوسکتی تھی۔ البتہ نہایت دلسوزی سے زیادہ سے زیادہ جو بات ان سے کہہ سکے ہیں وہ یہ ہے کہ عذاب کا تو فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ وہ عذاب کس پر اترے گا، کسے رسوا کرے گا اور کون تاریخ میں صرف اور صرف عبرت کے طور پر یاد کیا جائے گا لیکن اس سب کے باوجود آپ صرف اشاروں میں انھیں جواب دے رہے ہیں۔ براہ راست بات کہنے سے چونکہ دلآزاری ہوتی تھی آپ نے اسے بھی پسند نہیں فرمایا۔ صرف یہ کہا کہ عنقریب تم جان لو گے کہ کس پر عذاب اترتا ہے، پھر عذاب کی دو قسمیں بیان فرمائیں۔ ایک وہ عذاب ہے جو صرف جھنجوڑنے کے لیے آتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر ان لوگوں میں بھلائی کی کوئی رمق بھی باقی ہے تو یہ ایمان کی طرف آجائیں کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ عموماً تکلیف میں مبتلا ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے اور اسے صحیح بات کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے لیکن جب اس طرح کے جھٹکے بھی کسی قوم کو راہ راست کی طرف نہیں لاتے تو پھر آخر ان پر وہ عذاب آتا ہے جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ اور یہ عذاب پہلے عذاب کی طرح واپس نہیں جاتا بلکہ یہ جس بستی پر نازل ہوتا ہے وہیں ڈیرے ڈال دیتا ہے اور اس کی عبرت انگیز سرگزشت آثار اور کھنڈروں کی شکل میں بھی اور تاریخ کے صفحات میں بھی محفوظ ہوجاتی ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان کے انجام سے سبق سیکھیں۔ اس طرح سے ان مذاق اڑانے والوں کو ان کے اصل انجام کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش فرمائی لیکن جب وہ کسی طرح بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے پر آمادہ نہ ہوئے بلکہ ان کی سرکشی میں اور اضافہ ہوگیا تو تب اللہ کا حکم آپہنچا۔
Ayah 11:40حَتّٰی اِذَا جَآئَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ لا قُلْنَا احْمِلْ فِیْہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَہْلَکَ اِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ط وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗ اِلاَّ قَلِیْلٌ۔ (سورۃ ہود : 40)
(یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اپنے گھر والوں کو بھی بجز ان لوگوں کے جن پر حکم نافذ ہوچکا ہے اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے اور نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لانے والوں کی تعداد بس تھوڑی ہی تھی۔ )
عذاب ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے
کشتی بن کے تیار ہوگئی۔ مخالفین کی زبان درازیاں اپنی انتہاء کو پہنچ گئیں۔ مخالفین انتظار میں ہیں کہ دیکھئے یہ کشتی کس کام آتی ہے۔ نوح (علیہ السلام) جانتے ہیں کہ اب عذاب آیا ہی چاہتا ہے، لیکن وہ خود بخود تو نہیں آئے گا وہ بھی ہماری طرح اللہ کے حکم کا پابند ہے۔ چناچہ پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ عذاب اس وقت آیا جب ہمارا حکم آگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم پر جب عذاب آتا ہے تو وہ اللہ کے حکم سے آتا ہے۔ جس طرح ہمارے بعض نام نہاد دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ کائناتی قوتیں اپنا کام کرنے میں آزاد ہیں، وہ جب چاہتی ہیں زمین میں زلزلہ لے آتی ہیں، جب چاہتی ہیں سمندروں میں طوفان آجاتا ہے، یہ ایک ایسا تباہ کن نظریہ ہے جسے اختیار کرلینے سے ایمان تو خیر جاتا ہی ہے قرآن کریم جیسی علمی کتاب کی تصریحات کا بھی کوئی جواب بن نہیں آتا۔ معذب قوموں پر جب بھی عذاب آئے ہیں قرآن کریم کی گواہی کے مطابق اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑا ہے۔ مخلوقات میں چاہے وہ زمین و آسمان ہی کیوں نہ ہوں کسی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اپنے طور سے کسی تبدیلی کا سبب بن سکے۔ تشریعی قانون میں اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو آزادی دی ہے لیکن کائنات کا وہ نظام جو تکوینی قانون کے تحت چل رہا ہے۔ اس میں جہاں تہاں کوئی قوت اپنا فرض انجام دے رہی ہے وہ اللہ کے قانون کی پابند ہے۔ اپنی آزادانہ مرضی سے کچھ نہیں کرسکتی۔ اس لیے طوفانِ نوح کا ذکر کرنے سے پہلے فرمایا کہ جب ہمارا حکم آگیا کہ اب عذاب کو طوفان کی شکل میں آنا چاہے تو تب اس کا آغاز اس طرح ہوا کہ ایک تنور پھٹا۔ بعض اہل علم نے اسے استعارہ سمجھ کر اس سے سائیکلونی طوفان مراد لیا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک صحیح وہی ہے جو قرآن کے صریح الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے کہ طوفان کی ابتداء ایک خاص تنور سے ہوئی جس کے نیچے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ اس کے بعد سورة ٔ قمر کی تصریح کے مطابق آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، موسلادھار بارش شروع ہوگئی، زمین میں جگہ جگہ چشمے ابل پڑے اور یہ دونوں طرح کے پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گئے جو مقدر کردیا گیا تھا۔
طوفان کا آغاز ہوتے ہی یا اس سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ ہر طرح کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو۔ اپنے گھر والوں کو بھی سوار کرلو۔ ہاں ان میں سے جن کے بارے میں اللہ کا فیصلہ پہلے صادر ہوچکا ہے انھیں سوار کرنے کی اجازت نہیں۔ اس سے مراد یہ تھی کہ اس کشتی میں وہ لوگ سوار ہوں گے جو صاحب ایمان ہوں اور جس کے پاس ایمان و عمل کا سرمایہ نہ ہو اس کے لیے اس کشتی میں کوئی گنجائش نہیں۔ چناچہ نوح (علیہ السلام) کی بیوی کو کشتی میں سوار نہیں کیا گیا۔
قرآن کریم کی اس وضاحت سے کہ نوح (علیہ السلام) کے ساتھ صرف صاحب ایمان لوگ کشتی پر سوار ہوئے ہیں اور انھیں کو اس طوفان سے بچایا گیا ہے۔ مؤرخین اور علماء انساب کی ایک بہت بڑی غلطی کی اصلاح ہوتی ہے جن کا دعویٰ یہ ہے کہ تمام انسانی نسلوں کا شجرہ نسب حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں تک پہنچتا ہے۔ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس کی تصریح کی ہے کہ اس کشتی میں صرف حضرت نوح کا خاندان ہی سوار نہیں تھا بلکہ ایک معتدبہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو نوح (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے اور سورة بنی اسرائیل اور سورة مریم میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں بسنے والے انسان ان لوگوں کی اولاد ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے جن میں آپ کی اولاد بھی تھی اور آپ پر ایمان لانے والے بھی لیکن قرآن کریم آپ کے تین بیٹوں کا ذکر کہیں نہیں کرتا۔ یہ صرف اسرائیلی روایات کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی ہے جس پر مؤرخین نے اپنی تحقیقات کا مدار رکھا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) جب کشتی کو روانگی کے لیے تیار کرچکے تو تب اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے اپنے ساتھیوں کو کشتی پر سوار ہونے کا حکم دیا۔ قرآن کریم اس کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے :
Ayah 11:41وَقَالَ ارْکَبُوْا فِیْہَا بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖہَا وَمُرْسٰہَا ط اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔
(سورۃ ہود : 41)
(اور نوح نے کہا سوار ہوجاؤ اس کشتی میں۔ اللہ تعالیٰ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا لنگرانداز ہونا۔ بیشک میرا رب غفور و رحیم ہے۔ )
مومن کا اصل سہارا
اس آیت کو پڑھئے اور غور فرمایئے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں کے سوا سب لوگ طوفان کی نذر ہورہے ہیں۔ کوئی ادھر ڈوب رہا ہے کوئی ادھر ڈوب رہا ہے۔ اپنی ساری کوششوں کے باوجود کسی کے لیے کوئی پناہ نہیں۔ ان کے بڑے بڑے متمردین لہروں کی نذر ہوچکے ہیں۔ ایک نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی ہیں جنھیں پانی سے بچائو کے وسائل میسر ہیں۔ ایک محفوظ پناہ گاہ ان کے پاس ہے۔ ضرورت کی ساری چیزیں ہمراہ ہیں۔ اسباب کی دنیا میں کسی چیز کی ان کے یہاں کمی نہیں۔ بایں ہمہ وہ اپنے ساتھیوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہ اس میں سوار ہونے سے پہلے یہ مت سمجھنا کہ تم اپنے وسائل کی مدد سے اس طوفان سے بچ جاؤ گے یا یہ کشتی تمہیں بچا لے گی۔ ایک مومن کا اصل بھروسہ اسباب پر نہیں مسبب الاسباب پر ہوتا ہے۔ ہم اسی کے بھروسے پر کشتی میں قدم رکھیں گے۔ ہمارے لیے اصل سہارا وہی ہے۔ اس کے چاہنے سے کشتی تیر سکتی ہے اور وہ اگر نہ چاہے تو اس کے تیرنے کی کوئی ضمانت نہیں۔ بڑے بڑے بحری جہاز ڈوب جاتے ہیں اور اگر اللہ بچانا چاہے تو کشتی کا ایک ٹوٹا ہوا تختہ اپنے اوپر سوار مسافروں کو بچا لیتا ہے۔ یہی عقیدہ ایک مومن کی حقیقی قوت ہے۔ چناچہ اسی کا نام لے کر وہ اس کشتی میں سوار ہوئے کہ اللہ ہی کے نام سے اس کشتی کا چلنا ہے اور لنگر انداز ہونا ہے۔ یہ اس کی بےپایاں رحمت ہے کہ آج اس نے ہمیں ایمان کی توفیق بخشی اور اس عذاب سے ہمیں محفوظ فرمایا۔
Ayahs 11:42–43وَہِیَ تَجْرِیْ بِہِمْ فِیْ مَوْجٍ کَالْجِبَالِقف وَنَادٰی نُوْحُ نِ ابْنَہٗ وَکَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْکَبْ مَّعَنَا وَلَا تَکُنْ مَّعَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ قَالَ سَاٰوِیْ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآئِ ط قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ ج وَحَالَ بَیْنَہُمَالْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرِقِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 42۔ 43)
(وہ کشتی انھیں لے کر چلنے لگی، ایسی موجوں میں جو پہاڑ کی مانند ہیں اور پکارا حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو جو ان سے الگ تھا۔ اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور ان کافروں کا ساتھ نہ دے۔ بیٹے نے کہا (مجھے کشتی کی ضرورت نہیں) میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا اور وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا آج اللہ کے قہر سے کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر وہی جس پر رحم فرمائے اور حائل ہوگئی ان کے درمیان موج۔ پس وہ ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔ )
عذاب تو عظیم تھا ہی بچانے والا عظیم تر تھا
اب وہ کشتی حضرت نوح (علیہ السلام) ، آپ کے اہل خانہ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو اس شان سے لے کر چلی کہ جس سے قدم قدم پر اللہ کی قدرت اور بندوں پر اس کی رحمت کا اظہار ہوتا تھا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین سے چشمے ابلے اور آسمان سے موسلادھار بارش برسی جس سے جل تھل ایک ہوگیا۔ ہر نشیبی علاقے میں پانی بھر گیا۔ ہوتے ہوتے بلندیاں بھی پانی میں چھپ گئیں اور کشتی پانی کی سطح پر دھیرے دھیرے بہنے لگی۔ قرآن کریم کا بیان اس سے مختلف صورتحال بتاتا ہے۔ یہ صورتحال بھی دل ہلادینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن وہاں تو حال یہ تھا کہ صرف پانی ہی نے ہر چیز کو چھپا نہیں دیا تھا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ سمندر بھی ساتھ شامل ہوگیا تھا اور اس کے سیلاب نے جب زمین کا رخ کیا تو ہر طرف پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھنے لگیں جس نے کبھی کنارے پر کھڑے ہو کر سمندر میں اٹھتی ہوئی موجیں دیکھی ہوں وہ ان کی سطوت ور فعت کا کچھ اندازہ کرسکتا ہے۔ لیکن حقیقی اندازہ اسے ہوسکتا ہے جس نے سونامی جیسے طوفان دیکھے ہوں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ کشتی پانی کی سطح پر بہہ رہی تھی لیکن اس کے دائیں بائیں ایسے موجیں اٹھ رہی تھیں جیسے بلند وبالا پہاڑ ہوں۔ ایسی منہ زور طغیانی میں بڑے بڑے بحری جہاز اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں لیکن اندازہ لگائیے کہ یہ کشتی کس کے سہارے پانی پر رواں دواں تھی۔ دھاڑتی ہوئی موجیں اور تندوتیز پانی کے دھارے کشتی کے دائیں بائیں سے گزرتے تھے لیکن کشتی سب کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی جارہی تھی۔ اس کشتی میں نہ کوئی بادبان تھا اور نہ مشینی قوت۔ اسے محفوظ رکھنے والی اور اپنی منزل کی طرف لے جانے والی وہ ذات تھی جس کے حکم سے یہ طوفان اٹھا تھا۔ عین اس حالت میں جبکہ قوم کے بیشتر لوگ ڈوب چکے تھے کہ اچانک حضرت نوح (علیہ السلام) کو الگ تھلگ پہاڑ کے دامن میں اپنا فرزند کھڑا نظر آیا۔ آپ جانتے تھے کہ میرا یہ بیٹا کافر ہے۔ اس لیے اللہ کی رحمت سے محروم ہے لیکن پدری محبت نے جوش مارا اور کچھ اس خیال نے سہارا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اہل کو بچانے کا وعدہ فرمایا تھا، شاید میرے بیٹے کے بچائو کی بھی کوئی صورت نکل آئے۔ آپ نے بیٹے کو پکارا کہ بیٹا دیکھ ایک طرف قوم کے متمردین اور بڑے بڑے کافر ہیں جو اس طوفان کی نذر ہوگئے ہیں اور دوسری طرف یہ کشتی ہے جو آج عافیت کی جگہ اور اللہ کی رحمت کا مرکز ہے تو کافروں کا ساتھ چھوڑ دے اور تائب ہو کر ایمان کا دامن تھام کر میرے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا۔ کچھ بعید نہیں کہ اس آخری وقت کا ایمان اللہ قبول فرما لے۔ لیکن بگڑے ہوئے بیٹے نے بڑی رعونت سے کہا : کہ میں آپ کے ساتھ کشتی پر سوار نہیں ہوں گا۔ یہ سامنے بلند وبالا پہاڑ کھڑے ہیں، میں جوان آدمی ہوں، میں ان میں سے کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور وہ مجھے غرق ہونے سے بچا لے گا۔ نوح (علیہ السلام) نے اس کا جواب سن کر بڑی دردمندی سے فرمایا : کہ اصل طاقت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جب چاہتا ہے اپنے بندوں کو نوازتا ہے اور جب بےنیازی پر آتا ہے یا عذاب دینے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر سب اس سے عافیت مانگتے ہیں اور نفسی نفسی پکارتے ہیں۔ یہ طوفان اللہ کا عذاب ہے جسے امر اللہ کہا گیا ہے۔ آج اس عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ صرف وہ بچے گا جس پر اللہ رحم فرمائے گا اور رحم اس پر ہوگا جو اللہ کی بندگی اور رسول کی رسالت اور آخرت کا اقرار کرے گا اور اپنے آپ کو اللہ کے دامن رحمت میں دے دے گا۔ اللہ کا قانون ہے کہ وہ عذاب آجانے کے بعد پھر کسی کی نہیں سنتا۔ اس لیے ایک موج اٹھی اور باپ بیٹے کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ مغرور بیٹا چشم زدن میں پانی کی لہروں کی نذر ہوگیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس ہولناک ٹریجڈی کا آخری منظر تھا۔ اس کے بعد اللہ کے عذاب کا مقصد پورا ہوگیا۔ نافرمان قوم اپنے انجام کو پہنچی۔ فرمانبردار بچا لیے گئے، زمین نافرمانی کے کانٹوں سے صاف کردی گئی۔ اس کے بعد کی تعمیر کے لیے آسمان و زمین کو احکام دے دیئے گئے۔
Ayah 11:44وَقِیْلَ یٰٓاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآئَ کِ وَیٰسَمَآئُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآئُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 44)
(اور حکم دیا گیا اے زمین اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان تھم جا، اور پانی اتار دیا گیا، اور معاملے کا فیصلہ ہوگیا، اور کشتی جودی پہاڑ پر جا لگی، اور اعلان کردیا گیا، رحمت سے دوری ہے ظالموں کی قوم کے لیے۔ )
ارض و سما کو احکام
زمین کو حکم دیا گیا کہ اپنا پانی نگل جا اور آسمان سے کہا گیا کہ تھم جا اور بارش کو روک دے۔ بار ش کے رک جانے، زمین کے ابلنے والے چشموں کے ٹھہر جانے اور زمین کے پانی کو نگل جانے سے بھی زمین کی خشکی کا سامان نہیں ہوسکتا تھا اور مقصود یہ تھا کہ زمین پوری طرح خشک ہوجائے تاکہ رہائش کے قابل ہوسکے اور انسانی اور حیوانی غذائوں کے حصول کے لیے پیداوار دینے کی صلاحیت پیدا کرسکے جبکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ پانی کو اسی قدر نگلتی ہے جو اس کی آبیاری کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ پانی ضرورت سے زیادہ نگل لے تو دلدل بن جائے جہاں نہ انسانی آبادی ممکن ہو اور نہ کاشتکاری کے قابل رہے۔ اس لیے تیسرے جملے میں فرمایا کہ زمین خشک کردی گئی، اس کا پانی ختم کردیا گیا۔ یقینا اس کی یہی صورت رہی ہوگی کہ ضرورت کے مطابق زمین نے اس کو اپنے اندر جذب اور باقی ندی نالوں کے ذریعے دریائوں اور سمندروں میں پہنچا دیا گیا۔ اس طرح سے دونوں کام مکمل ہوگئے۔ عذاب کے ذریعے کافروں کی جڑ کاٹ دی گئی اور زمین کو خشک کرکے اہل ایمان کے بسنے کا امکان پیدا کردیا گیا۔
کیا طوفان عالمگیر تھا ؟
یہاں عام طور پر اہل علم نے یہ بحث چھیڑی ہے کہ طوفانِ نوح کیا صرف اس علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی یا ساری زمین اس کی لپیٹ میں آگئی تھی۔ باتیں دونوں طرح کی کہی گئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پوری زمین پر طوفان کے پھیل جانے کا کوئی ثبوت تاریخ کے پاس نہیں۔ ہمارے پاس ایسے واقعات کو جاننے کے لیے تین ہی ذرائع ہیں۔ (1) تاریخ، (2) آثارِ قدیمہ اور (3) طبقات الارض کا علم۔ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے۔ یہ زمانہ اگرچہ قبل از تاریخ کا ہے لیکن آسمانی کتابوں نے کم از کم انبیاء کی تاریخ کو کسی نہ کسی حد تک ضرور بیان کیا ہے۔ چناچہ بعض آسمانی کتابوں میں طوفانِ نوح کا تذکرہ مختلف حوالوں سے ملتا ہے لیکن کسی جگہ بھی اس کا ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ طوفان پوری زمین پر آیا تھا۔ البتہ قرآن کریم کے اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مرکز وہی علاقہ ہے جہاں قوم نوح آباد تھی اور وہ دجلہ اور فرات کا دو آبہ ہے اور دوبارہ اسی سرزمین پر انسانوں کی آبادی ہوئی کیونکہ جودی پہاڑ اسی علاقے میں آباد ہے۔ جہاں تک آثار قدیمہ کا تعلق ہے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں طوفان کے آثار جابجا ملتے ہیں اور جب بھی کہیں کھدائی ہوئی ہے، کچھ نہ کچھ ایسے نوادرات ضرور ملے ہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن دنیا کے دوسرے علاقوں میں کہیں بھی ایسے طوفان کی علامات نہیں ملتیں جسے عالمگیر کہا جاسکتا۔ اسی طرح طبقات الارض کے ماہرین نے ہمیشہ اسی علاقے میں ایک عظیم طوفان کی خبر دی ہے اور دوسرے کسی علاقے میں اس کے شواہد آج تک میسر نہیں آسکے۔ اس لیے یہ بات گمان غالب سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ طوفان عالمگیر طوفان نہ تھا۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت کی تمام انسانی آبادی اس کا ہدف تھی۔ اس لیے اسے عالمگیر بھی کہا جاسکتا ہے۔
کشتی کہاں رکی ؟
تورات کی شہادت کے مطابق کشتی کوہ ارارات پر رکی جبکہ قرآن کریم نے متعین طور پر جودی پہاڑ کا نام دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ اراراط جس طرح پہاڑ کا نام ہے اسی طرح ایک سلسلہ کوہستان کا نام بھی ہے جو آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی سلسلہِ کوہستان کا ایک پہاڑ جودی بھی ہے جو موصل اور جزیرہ ابن عمر کے پاس ہے اور اس پر نزول قرآن کریم سے پہلے کی بعض تاریخی کتب شہادت دیتی ہیں۔ ارسطو کے ایک شاگرد نے اپنی تاریخ میں اس کی تائید کی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے تقریباً اڑھائی سو سال پہلے لکھی جانے والی ایک کتاب میں بھی اسی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مصنف نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ موصل اور اس کے اڑوس پڑوس میں رہنے والے لوگ اب تک اپنے پاس اس کشتی کے ٹوٹے ہوئے کچھ ٹکڑے رکھتے ہیں اور جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو ان ٹکڑوں کو پانی میں بھگو کر تبرک کے طور پر پلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بیماروں کو شفا دیتے ہیں۔
بعض اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دس مہینے تک یہ کشتی پانی کی لہروں پر تیرتی رہی۔ اس کے بعد طوفان رکا، پانی اترا اور کشتی جودی پہاڑ پر رکنے کے قابل ہوسکی۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانا ہے کہ کشتی کتنا عرصہ پانی کی سطح پر رہی لیکن یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی بلندی اس قدر تھی کہ آبادیوں کا تو کیا ذکر پہاڑ بھی پانی میں چھپ گئے تھے۔ پانی کچھ کم ہوا تو کشتی جودی پہاڑ پر رک سکی۔
بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْن َکا مفہوم
اس طرح سے جب طوفانِ نوح کا مقصد پورا ہوگیا، کفر اپنے برے انجام کو پہنچا اور اہل ایمان بچا لیے گئے تو تب فرمایا : دوری ہو ظالموں کی قوم کے لیے، یہ اظہار نفرت و لعنت کا جملہ ہے۔ دوسروں لفظوں میں یوں کہا گیا ” خس کم جہاں پاک ! “ یہاں ” بُعد “ کا لفظ لعنت کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ لعنت اللہ کی رحمت سے دوری کو کہتے ہیں۔ اتنا بڑا حادثہ کہ لاکھوں انسان لقمہ آب ہوگئے، نسلیں برباد کردی گئیں۔ بجائے اس کے کہ ان کی ہلاکت پر تأسف کا اظہار کیا جاتا، اظہارِ نفرت و لعنت کیا جارہا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی علاقے میں انسانیت کے قاتل جمع ہوجائیں جن سے ہر وقت انسانوں کی جانوں کو خطرہ ہو اور جب بھی ان کا بس چلے تو وہ زمین کو فساد سے بھر دیتے ہوں تو اگر کبھی حکومت کو ان پر قابو مل جاتا ہے یا وہ ان پر قابو پانے کے لیے طاقت استعمال کرتی ہے تو اس میں وہ تمام مارے جاتے ہیں تو انتہائی رحم دل اور سنجیدہ جرنیل بھی ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہی کہتا ہے، خس کم جہاں پاک !۔ اللہ کی نگاہ میں سب سے قابل نفرت چیز کفر اور شرک ہے۔ یعنی اللہ سے بغاوت اور اس کی نافرمانی۔ جو قوم ان دونوں جرائم میں تمام حدود سے تجاوز کرجاتی ہے وہ زمین پر رہنے کے قابل نہیں رہتی۔ اس کا وجود ایک متعفن لاش کی طرح ہے جسے کسی بھی گڑھے یا بند کنویں میں پھینک دیا جاتا ہے۔
ایک اہم حقیقت
ایک نظر پلٹ کر اس آیت سے سابقہ آیت پر دوبارہ ڈال لیجئے جس میں یہ منظر دکھایا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جیسا عظیم باپ اپنے ناہنجار بیٹے کو ایک پہاڑ کے دامن میں کھڑا دیکھ کر شفقت پدری سے مجبور ہو کر کہتا ہے کہ بیٹا آئو ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، لیکن وہ ناہنجار بیٹاتباہی و بربادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی اپنی سرکشی سے باز نہ آیا اور کہا کہ میں آپ کے ساتھ سوار ہونا نہیں چاہتا اور مجھے اس طوفان کی بھی کوئی پرواہ نہیں، میں ان پہاڑوں میں سے بھی کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور وہ مجھے بچا لے گا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ گفتگو پسند نہیں آئی، چناچہ ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور بیٹا چشم زدن میں موجوں کی نذر ہوگیا۔ بیٹا کیسا بھی ناہنجار ہو اس کی موت باپ کے لیے قابل برداشت نہیں ہوتی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دل پر نہ جانے کیسی قیامت گزری ہوگی۔ چناچہ انھوں نے اسے بچانے کے لیے آخری کوشش کے طور پر اللہ سے شکایت بھی کی اور التجا بھی۔ لیکن ہم یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکایت اور التجا کا ذکر بعد میں کیا، لیکن زمین و آسمان کو جو احکام دیئے گئے اور جس طرح دوبارہ انسانی آبادی کے امکانات پیدا کیے گئے اور اس معذب قوم پر جس طرح نفرت و لعنت کا اطہار فرمایا گیا یہ سب باتیں پہلے کہی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایک پیغمبر کے جوان بیٹے کا غرق آب ہوجانا ایک حادثہ سہی لیکن وہ ایسا بڑا حادثہ نہیں کہ اسے بطور خاص ذکر کیا جائے۔ اگر وہ بیٹا صاحب ایمان ہوتا تو اولاً تو ایسے حادثے کا کوئی امکان نہ تھا اور اگر کبھی کسی حکمت کے تحت یہ حادثہ وجود میں آہی جاتا تو اس کو جس ہمدردی اور دکھ کے ساتھ ذکر کیا جاتا اس کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے لیکن یہاں اس کے ذکر کو روک کر سلسلہ سخن میں دوسری باتوں کا لے آنا یہ اشارہ کردینے کے لیے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اصل قدر و قیمت ایمان کی ہے۔ وہ بلال حبشی کو نصیب ہوجائے تو اس کی سرفرازی اسے کعبہ کی چھت پر کھڑا کردیتی ہے لیکن وہ شخص یا وہ قوم جو اللہ سے بغاوت کرتی ہے ان میں چاہے پیغمبر کا بیٹا کیوں نہ ہو اس کی قدر و قیمت اتنی بھی نہیں کہ سلسلہ بیان میں اسے مناسب جگہ دی جائے۔ یہ تو ظالموں کا گروہ ہے جنھوں نے نہ صرف اپنے اوپر ظلم ڈھایا بلکہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بھی ظلم کی نذر کردیا۔ اس لیے ان سے اظہارِ نفرت کرتے ہوئے فرمایا کہ لعنت ہے ایسی ظالموں کی قوم کے لیے۔ ظلم کا مفہوم ہے ہر چیز جس مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے اسے اس کے مصرف سے ہٹا کر دوسرے مصرف میں صرف کردینا اور اس کا جو مقصدمتعین کیا گیا ہے اسے اس مقصد سے دور کردینا۔ اللہ نے انسان کو سر اس لیے دیا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے جھکے۔ جب اسے غیر خدا کے سامنے جھکایا جاتا ہے تو سر اس ظلم پر چیختا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صلاحیتیں اس لیے دی ہیں کہ وہ اس کے دین کی سربلندی میں کام آئیں۔ گردن اس لیے دی ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے خم ہو اور بوقت ضرورت اسی کے راستے میں کٹے۔ پسینہ اس لیے ہے کہ وہ اللہ کے متعین راستوں میں بہے۔ نعمتیں اس لیے دی گئی ہیں کہ ان کا شکر بجا لا کر ان کا صحیح حق دیا جائے۔ جب بھی ان جگہوں سے انحراف ہوتا ہے تو ظلم کا راستہ کھل جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی عظمت کھو دیتا ہے۔ وہ اپنی حیثیت گم کرکے وہاں جا کھڑا ہوتا ہے جو اس کے دشمنوں اور اس کے چاکروں کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی۔ اقبال نے شاید ایسے ہی تأثر کے تحت کہا تھا :
پانی پانی کرگئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے تو تن تیرا نہ من
Ayahs 11:45–46وَنَادٰی نُوْحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَہْلِیْ وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ ۔ قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَہْلِکَ ج اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ زق صلے فَلاَ تَسْئَلْنِ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ط اِنِّیْ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 45۔ 46)
(اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا۔ پس کہا اے میرے رب بیشک میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور یقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بہتر حکم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے نوح ! وہ تیرے اہل میں سے نہیں، وہ نہایت نابکار ہے۔ مجھ سے اس چیز کے لیے درخواست نہ کروجس کا تمہیں علم نہ ہو۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ بنو۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کی شفقت پدری
بیٹے کے ڈوب جانے کے بعدنوح (علیہ السلام) نے فرطِ جذبات اور محبت پدری سے مغلوب ہو کر اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے پروردگار ! یہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ تھا کہ تو میرے اہل کو بچائے گا تو پھر میرا بیٹا کیسے ڈوب گیا۔ اس پر بعض لوگوں کو اشکال پیدا ہوا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ ان لوگوں کو کشتی پر سوار کریں جو آپ پر ایمان لا چکے ہیں۔ لیکن جن پر اللہ کا یہ فیصلہ پہلے آچکا ہے کہ شیطان کے راستے پر چلنے والوں سے وہ جہنم بھرے گا، ان لوگوں کو کشتی میں سوار نہ کرنا اور مزید یہ بات بھی کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کافروں کی جڑ کاٹنے کے لیے آتا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تو کافروں کی بربادی کے لیے عذاب نازل فرمائے اور اللہ کا رسول کسی کافر کو بچانے کی سعی کرے۔ آپ کا بیٹا کنعان کافر تھا۔ آپ نے اسے بچانے کی کوشش کیوں کی اور جب اسے ڈبو دیا گیا تو آپ نے اللہ سے شکایت کیوں کی ؟ بعض اہل علم کا گمان تو یہ ہے کہ آپ پدری محبت سے مجبور ہو کر ایسا کرگزرے تھے اور یہ کوئی خلاف تعجب بات نہیں کیونکہ پیغمبر بھی بہرحال انسان ہوتے ہیں۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا خیال ہے کہ آپ کو واضح طور پر اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا کافر ہے۔ وہ درحقیقت منافق تھا اور اپنے عظیم باپ کے سامنے مسلمان بنا رہتا تھا۔ اس لیے آپ نے اپنے حسن ظن کے مطابق اسے مسلمان سمجھ کر اللہ سے شکایت کی۔ بعض مفسرین ایک تیسری رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ جب تنور ابل پڑا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جانوروں کا جوڑا جوڑا کشتی پر سوار کرلیجئے اور اپنے اہلخانہ کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو لوگ آپ پر ایمان لا چکے ہیں۔ اس طرح سے کشتی پر سوار ہونے والوں کی تین اقسام ہوگئیں جن میں دوسری قسم آپ کے اہل خانہ کی تھی۔ چناچہ آپ نے اس اہل کے لفظ سے یہ سمجھا کہ میرا بیٹا کافر بھی ہو تو وہ میرے اہل میں سے تو تھا، اس لیے اس کو ڈوبنا نہیں چاہیے تھا۔ پروردگار نے اس پر اصلاح بھی فرمائی اور تنبیہہ بھی۔ اصلاح یہ فرمائی کہ تیرا بیٹا، تیسرے اہل میں سے نہیں تھا۔ تم اہل کا مفہوم یہ سمجھتے ہو کہ وہ بچے جو باپ کے صلب سے پیدا ہوتے ہیں وہ باپ کے اہل میں سے ہوتے ہیں۔ جسمانی طور پر تو یہ بات ٹھیک ہے لیکن پیغمبر دنیا میں قرابت اور خاندان کا نیا تصورے کر آتے ہیں۔ ان کے یہاں ایمان کا رشتہ صلبی رشتوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ رنگ اور نسل کی بھی ایک اہمیت ہے لیکن اس وقت جب ایمان کا اشتراک پایا جاتا ہو لیکن عدم ایمان کی صورت میں ایک مومن کا کافر سے کوئی رشتہ نہیں۔ جنگ بدر میں مسلمانوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے قریبی عزیزوں کو ختم کیا اور علمبردارِ اسلام حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ تم میرے بھائی نہیں ہو، میرا بھائی وہ ہے جو تمہاری مشکیں کس رہا ہے۔ یہ اہلیت اور اخوت کا ایک نیا تصور ہے جو اللہ کے نبی لوگوں میں راسخ کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اس لحاظ سے فرمایا کہ آپ نے محض صلبی رشتے کو دیکھتے ہوئے بیٹے کو اپنے اہل خانہ میں شمار کرلیا حالانکہ وہ کافر ہونے کی وجہ سے آپ کے اہل بیت میں شمار ہونے کے لائق نہیں تھا کیونکہ وہ شخص غیرصالح عمل رکھتا تھا۔ ناہنجار اور کندہ ناتراش تھا۔ اسے آپ سے کیا نسبت ہوسکتی تھی۔ ایک نبی سے نسبت، نبی پر ایمان اور اس کے اتباع سے پیدا ہوتی ہے۔
ایک تنبیہہ
اصلاح کے بعد ایک تنبیہہ فرمائی گئی کہ آپ مجھ سے کوئی ایسی بات مت پوچھیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ نزول عذاب کے بعد ایک نئی حقیقت کھل کر دنیا کے سامنے آئی ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر رہنے کا حق صرف ان لوگوں کو ہے جو اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے نبی کی دعوت کو قبول کرکے اس کے راستے کے مسافر بن جاتے ہیں۔ جو لوگ اس راستے پر چلنے سے انکار کردیتے ہیں انھیں خاص حد تک مہلت تو دی جاتی ہے لیکن ایک وقت آتا ہے جب اس جھاڑ جھنکاڑ کو ختم کردیا جاتا ہے تاکہ اللہ کی زمین پر نیکی پھلے پھولے، اسی کے احکام کی اطاعت کی جائے، اسی کے احکام کی بجاآوری کے ساتھ ساتھ ان کی بالادستی اور نفاذ کو عام ہونے کا موقع ملے۔ اس راستے پر چلنے والے لوگوں کے ساتھ وہ لوگ نہیں چل سکتے جو نفسانیت کے پرستار اور شیطان کے بندے ہیں۔ ان کی حیثیت تو اعضاء انسانی میں سڑے ہوئے عضو کی ہے جسے کاٹ دینا ڈاکٹر اپنا فرض سمجھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس کو کاٹا نہیں جائے گا تو یہ باقی اعضاء کو بھی مسموم کردے گا۔ ایسے عضو کو کاٹتے ہوئے ڈاکٹر یقینا مریض سے یہ کہتا ہے کہ یہ عضو یقینا آپ کے جسم کا حصہ ہے لیکن اب آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور اگر اس تعلق کی نوعیت کو سمجھا نہیں جائے گا تو پھر باقی جسم کی صحت کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ انسانی قرابت کا یہ وہ نیا تصور تھا جس کی بنیاد شاید حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہاتھوں رکھوائی گئی اور جس نے مستقلاً انسان کو تمام تقسیموں سے بےنیاز کرکے دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک اہل حق کا گروہ اور دوسرا اہل باطل کا۔ اسی امتیاز و شعور پر آج تک حق و باطل کی شناخت قائم ہے اور یہی وہ علم ہے جس کا لحاظ کرنے کی نوح (علیہ السلام) کو تاکید فرمائی گئی اور اس سے پہلے شاید یہ عقدہ اس طرح کھولا نہیں گیا تھا، اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کی نگاہوں سے اس کا زہول ہوگیا اور آپ نے اپنے بیٹے کے بارے میں شکایت کرنے کی جسارت کر ڈالی، لیکن جب اس پر توجہ دلا دی گئی تو اللہ کا رسول فوراً بارگاہ حق میں جھک گیا۔
جاہل کا مفہوم
یہاں ایک بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ پروردگار حضرت نوح (علیہ السلام) سے فرما رہے ہیں کہ آپ ایسی کوئی بات مجھ سے مت پوچھیں جس کے بارے میں آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ جاہلوں میں سے ہوجائیں۔ یہ جاہل کا لفظ بہت کھٹکنے والا ہے۔ ایک پیغمبر کی ذات والا قدر پر اس لفظ کا اطلاق کیسے ممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں جس طرح جہالت کا لفظ علم کے مقابلوں میں بولا جاتا ہے۔ اسی طرح حلم کے مقابلے میں بھی بولا جاتا ہے۔ ہم ان پڑھ اور نہ جاننے والے کو جاہل کہتے ہیں لیکن قرآن کریم کی زبان میں اس شخص کو بھی جاہل کہا جاتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہوجاتا ہے اور حلم کا رشتہ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ جاتا ہے نوح (علیہ السلام) سے فرمایا جارہا ہے کہ شفقت پدری ایک محمود جذبہ ہے، اسلام اس کی قدر کرتا ہے لیکن اس سے اس طرح مغلوب ہوجانا کہ اسلامی جذبات نظرانداز ہوجائیں۔ یہ جہالت ہے اور اللہ کا نبی چونکہ اپنی امت کے لیے مکمل اسوہ حسنہ ہوتا ہے۔ وہ جس طرح کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔ اسی طرح نیکیوں میں بھی فرق مراتب کا نگران ہوتا ہے۔ اس خیر کا کون سا مقام ہے اور کس نیکی کو کہاں رکھنا ہے اور کون سا جذبہ کہاں تک ساتھ چل سکتا ہے یہ وہ ذوق ہے جو اللہ کے رسول کو دیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے جذباتِ خیر میں سے کوئی جذبہ اگر غالب آکر دوسرے جذبات کے لیے باعث نقصان ہوتا ہے تو پروردگار فوراً اس پر تنبیہہ فرماتا ہے اور اس جذبہ کو جہالت کا نام دیتا ہے۔
Ayah 11:47قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ ط وَاِلاَّ تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِٓیْ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 47)
(نوح (علیہ السلام) نے فوراً عرض کیا، اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اس سے کہ اس بات کا تجھ سے سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظمت
اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم پیغمبر کو جیسے ہی تنبیہہ فرمائی تو انھوں نے اس پر جو رویہ اختیار کیا اس نے انھیں عظیم سے عظیم تر بنادیا کیونکہ اللہ کے نبی انسانوں کے لیے تو عظمت و رفعت کا نمونہ ہوتے ہیں لیکن اپنے مالک کے سامنے ان کی عاجزی اور بندگی اسلامی تعلیمات کا ایسا سرمایہ ہوتی ہے جس سے نسلیں راہ پاتی ہیں۔ آپ نے فوراً اس تنبیہہ کے سامنے سر جھکا دیا اور پکار اٹھے، یا اللہ میں اس سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں ایسی بات آپ سے پوچھوں جس کا مجھے علم نہ ہو۔ باپ کے دل میں بیٹے کی محبت بھی تو ہی ڈالنے والا ہے، تو نے ہی ان نازک احساسات کو انسانی رشتوں کی بقاء کے لیے پیدا فرمایا ہے اور انسان کا شدت احساسات سے مغلوب ہوجانا ایک سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے اس بات کی خبر نہ تھی کہ اسلامی رشتہ باپ بیٹے کے رشتے سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگر بیٹا اللہ کی رسی کو تھامنے کے لیے تیار نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے رشتہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسا بیٹا بیشک اپنے باپ کا بیٹا ہے لیکن حقیقت میں اسے ایک مسلمان باپ سے کوئی نسبت نہیں۔ چہ جائیکہ وہ پیغمبر کا بیٹا ہو۔ پیغمبر رشتہ اسلام کی مضبوطی کے سب سے بڑے مناد ہوتے ہیں۔ انھیں کی مثالوں سے اس رشتے کی بقاء اور برتری کا احساس باقی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اگر اللہ کے حکم سے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ نہ کیا ہوتا تو دنیا پر کون اس راز کو کھولتا کہ اللہ کا حکم بیٹے کی زندگی سے برتر ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار حضرت نوح (علیہ السلام) کے سامنے کیا گیا۔ آپ وقتی طور پر پدری محبت سے مغلوب ہو کر اللہ سے شکایت کر بیٹھے تو اس پر تنبیہہ فرمائی گئی کہ قیامت تک کے لیے جو عظیم انسان اس عظیم حقیقت کے نگران بنائے گئے ہیں وہ انبیاء کرام کا گروہ ہے اس لیے آپ سے ایسی کسی بات کا صدور انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس حقیقت کو سمجھا اور اللہ کی بار گاہ میں جھکتے ہوئے التجا کی یا اللہ مجھ سے جو کوتاہی ہوئی ہے آپ اسے معاف فرما دیں اور مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ تان دیں۔ اگر آپ نے مجھے معاف نہ فرمایا اور مجھے اپنی رحمت کا مستحق نہ جانا تو میں تو برباد ہو کر رہ جاؤں گا کیونکہ میرا سرمایہ صرف آپ کی نوازشات ہیں۔ میرا سہارا صرف آپ کی رحمت ہے۔ میری قوم اور وطن والوں نے صدیوں تک میرے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے لیکن یہ صرف آپ کا سہارا تھا جس نے مجھے کھڑا رکھا۔ اس ہولناک عذاب سے بھی صرف تیری دستگیری نے بچائے رکھا۔ دنیا ساری ڈوب گئی مگر تیری رحمت نے ہمیں نہ صرف ڈوبنے سے بچایا بلکہ نئی دنیا کی ہمیں امید بنادیا۔ آئندہ بھی تیری رحمت ہی کا سہارا ہے۔ اس لیے میں تیری رحمت ہی کا طلب گار ہوں۔ اس آستانے کے سوا مجھے کسی اور آستانے سے غرض نہیں۔
سلسلہ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول کی گئی اور آپ کو ان مقامات سے نوازا گیا جس کے اس وقت صرف آپ ہی مستحق تھے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا :
Ayah 11:48قِیْلَ یٰنُوْحُ اہْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَکٰتٍ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَکَ ط وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمْ ثُمَّ یَمَسُّہُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (سورۃ ہود : 48)
(ارشاد ہوا اے نوح، اترو، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ۔ اپنے اوپر بھی اور ان امتوں پر بھی جو ان سے ظہور میں آئیں جو تمہارے ساتھ ہیں، اور ایسی امتیں بھی اٹھیں گی جن کو ہم بہرہ مند کریں گے۔ پھر ان کو ہماری طرف سے ایک عذاب دردناک پکڑے گا۔ )
تعمیرِنو کا آغاز
طوفان گزر گیا، زمین خشک ہوگئی، ہر طرف سے پانی سمیٹ لیا گیا، کشتی جودی پہاڑ پر ٹکی ہوئی تھی معلوم ہوتا ہے جودی پہاڑ سے نیچے اتر کر زمین پر آباد ہونے کا حکم دیا جارہا ہے۔ بظاہر تو بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایک ایسا تباہ کن طوفان جس نے اس وقت کی آباد دنیا کو نیست و نابود کردیا ہے اور نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھ چند خوش نصیب صاحب ایمان لوگ اس طوفان سے بچ سکے۔ ان کے لیے زمین پر اترنا یقینا مسرت کی بات ہے لیکن ساتھ ہی اترنے والوں کے دلوں میں کتنے اندیشے ہوں گے کہ نہ جانے اب یہ نئی زندگی کیسی ہو۔ وطن چھوٹ گیا، گھر برباد ہوگئے، کوئی شہر باقی نہ رہا، تباہ شدہ کھنڈرات اور بےآباد زمین پر ایک نئی آبادی بسانا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ اس میں محنت بھی درکار ہوگی، موسموں کی شدت بھی رکاوٹ بنے گی، وسائل کی کمی بھی آڑے آئے گی۔ نہ جانے معمول کی زندگی شروع کرنے میں کتنی دشواریاں ہوں گی۔ ایسے ہی اندیشوں سے گراں بارلوگوں کو اترنے کا حکم دینے کے ساتھ ہی ایسی دو خوشخبریاں سنائی گئیں جن کی وجہ سے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے تمام اندیشے پادر ہوا ہوگئے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ انھیں اترنے کا حکم اس طرح نہیں دیا گیا ہے جیسے کسی کو جگہ کی الاٹ منٹ دے کر اور چند وسائل مہیا کرکے حالات کے حوالے کردیا جائے بلکہ یہ فرمایا گیا کہ تم اترو ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ جس کا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں اب کسی قسم کا اندیشہ پریشان نہیں کرے گا۔ زندگی میں پیش آنے والی مشکلات تمہارے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گی۔ تم جہاں بھی ٹھہرو گے سلامتی تمہارے دائیں بائیں ہوگی۔ قدرت کی حفاظت کے ہاتھ تمہارے ساتھ ہوں گے۔ عناصرِ قدرت تمہارے ہم رکاب چلیں گے۔ مزید فرمایا کہ اے پیغمبر آپ پر بھی برکتیں ہوں گی اور ان لوگوں پر بھی جو آپ کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔ تم جہاں بھی ٹھہرو گے اللہ کی برکتیں تم پر بارش کی طرح برسیں گی۔ سلامتی حفاظت کا ذریعہ ہے اور برکت اسباب میں افزائش کی نوید ہے اور یہ دو خوشخبریاں اس ذات بابرکات کی طرف سے دی جارہی ہیں جس کی ربوبیت مہد سے لحد تک انسان کی دستگیری کرتی ہیں۔ مزید فرمایا کہ اللہ کی طرف سے سلامتی اور برکتیں جس طرح نوح (علیہ السلام) پر برسیں گی کیونکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اسی طرح آپ کے ساتھ نجات پانے والے لوگوں کو بھی نصیب ہوں گی۔ وہ اگرچہ چند لوگ ہیں ممکن ہے ان کی تعداد سینکڑوں میں ہو لیکن امم کا لفظ بول کر یقین دلادیا گیا ہے کہ یہ چند لوگ مستقبل میں امتوں کی صورت میں روئے زمین پر پھیل جائیں گی۔ اللہ ان کی اولاد میں برکت دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے زمین کی آبادی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں یہ نوح (علیہ السلام) کی اولاد اور آپ پر ایمان لانے والوں سے معرض وجود میں آئی ہے۔ اہل مغرب کا یہ تصور بالکل غلط ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہی آج کی دنیا کے انسانوں کے آبائواجداد ہیں اور بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی تعداد تین ہے اور الگ الگ براعظم ان تینوں کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت نوح کی اولاد سے نوع انسانی پھیلی لیکن یہ بات کہ صرف نوع انسانی انھیں کی اولاد کی اولاد ہے یہ صحیح نہیں۔ قرآن کریم کی شہادت کے مطابق آپ پر ایمان لانے والے بھی نوع انسانی کے اجداد میں شامل ہیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ آج کی دنیا کے جدِامجد آدم (علیہ السلام) کے بعد جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اسی طرح آپ پر ایمان لانے والے بھی ہیں۔
مزید فرمایا کہ افراد سے امتیں بنیں گی۔ آگے امتوں سے مزید امتیں وجود میں آئیں گی لیکن ہدایت کا سلسلہ تمام امتوں تک دراز نہیں ہوگا۔ ایک وقت آئے گا جب پھر بگاڑ پیدا ہوگا۔ ان کی اصلاح کے لیے پھر پیغمبر آئیں گے، حق و باطل کی کشمکش پھر برپا ہوگی، اللہ انھیں مہلت سے بھی نوازے گا، لیکن ان میں جو لوگ پیغمبر کی مخالفت اور اپنے کفر پر آڑ جائیں گے وہ آخر عذاب کا شکار ہوں گے۔ آج کی یہ کشمکش جو مشرکین مکہ نے برپا کر رکھی ہے یہ تاریخِ ہدایت کا ایک تسلسل ہے جو آخرکار ہدایت کی صورت میں عافیت سے ہمکنار ہوتا ہے اور انکار اور تمرد کی صورت میں طوفانِ نوح کی طرح عذاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔