Ayahs 10:1–2الٓرٰ قف تِلٗکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْم۔ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِالنَّاسَ وَبَشِّرِالِّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَرَبِّھِمْ ط قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ۔ (یونس : 2۔ 1)
(” ا لف۔ لام۔ ر ا “ یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔ کیا لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ ہم نے وحی بھیجی انھیں میں سے ایک آدمی کی طرف کہ ڈرائو لوگوں کو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس مرتبہ بلند ہے۔ کافروں نے کہا بلا شبہ یہ ایک کھلا ہوا جادوگر ہے۔ )
” الر “ یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ مختلف سورتوں کے شروع میں قرآن کریم نے یہ حروف استعمال کیے ہیں۔ اس کا معنی اور مفہوم کیا ہے یا متکلم کی اس سے مراد کیا ہے۔ ہم سُوْرَۃُ الْبَقَرَہْ کے آغاز میں اس پر ایک جامع بحث کرچکے ہیں۔ بہتر ہے کہ اس بحث کو وہاں دیکھ لیا جائے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ ایک حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔
ایک تنبیہہ
یہ آیت دفع دخل مقدر کے طور پر ایک تنبیہ معلوم ہوتی ہے۔ اس سورة کے نزول کے وقت مشرکین مکہ کی مخالفت جو رنگ اختیار کرچکی تھی اس کو دیکھتے ہوئے اس تنبیہ کو سمجھنا مشکل نہیں، لیکن اگر اس صورتحال کو سامنے نہ بھی رکھا جائے جب بھی اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر یہ تنبیہ نہ صرف سمجھ میں آنے والی بات ہے بلکہ نہایت ضروری بھی ہے۔ مشرکین مکہ کی انتہائی کوشش یہ تھی کہ اس کتاب کی آیات کو لوگوں تک پہنچنے نہ دیا جائے اور اگر کسی طرح پہنچ ہی جائیں تو دل و دماغ میں پہلے سے شک و ارتیاب کے ایسے کانٹے بو دیئے جائیں جو اس پر غور کرنے کی مہلت ہی نہ دیں۔ ویسے بھی ہر وہ نظریہ اور اس پر مشتمل کتاب جو انقلاب کا پیغام لے کر آتی اور انسان کی فکری اصلاح کے لیے اٹھتی ہے۔ اہل دنیا نے ہمیشہ اسے بدگمانیوں کے غبار میں چھپا دینے کی ناپاک کوششیں کی ہیں اور اس کیخلاف اتنی دھول اڑائی ہے کہ اس کتاب یا اس نظریئے کو پیش کرنے والا اپنی جدوجہد کا بیشتر حصہ اس غبار کو صاف کرنے میں صرف کردیتا ہے۔ قرآن کریم چونکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس کا بھیجنے والا انسانی فطرت سے بھی واقف ہے اور انسانوں کے مخفی ارادوں کو بھی جانتا ہے۔ اس لیے اس نے بجائے ان کے لایعنی خیالات اور اعتراضات کو دور کرنے کے آغاز گفتگو ہی میں دوٹوک بات فرمائی ہے اور اس کے بعد اٹھائے جانے والے اعتراضات کا ایک ایک کرکے جواب دیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں نہایت کانٹے دار جو بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ تم نے اس کتاب کے لانے والے کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ہیں ہم ان کا جواب تو بعد میں دیں گے لیکن تم سب سے پہلے اس بات کو جانو کہ اس کتاب کی حیثیت کیا ہے۔ یہ کتاب، کتاب حکیم ہے۔ اس کی ایک ایک آیت میں حکمت کے خزانے مخفی ہیں۔ اس کا پیش کردہ نظام ہر طرح کے تضادات سے معرا ہے۔ اس کی ایک ایک بات میں انسانی مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو ظن و گمان نہیں بلکہ یقین کی دولت عطا کرتی ہے۔ اس کی ہر نصیحت اور اس کا ہر حکم اپنے پیچھے حقیقت کی قوت، حقانیت کا نور اور نتائج کی فطری واقعیت رکھتا ہے۔ تم اس کے لانے والے کے بارے میں اگر یکسو نہیں ہو تو ابھی اس بحث کو اٹھائے رکھو۔ اس وقت تم سب سے پہلے قرآن کریم کی آیات کو سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کرو۔ اگر تم نے ان آیات کے مضمر حقائق کو جان لیا اور اس کے دروبست کو سمجھ لیاتو تمہارے ذہن کا جھاڑ جھنکار خود بخود چھٹ جائے گا کیونکہ اس کے اندر حکمت و دانش کا جو خزانہ ہے وہ خود تمہیں اپنی طرف کھینچ لے گا۔
دین رحمت ہے جس پر شکر واجب ہے
دوسری آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کے اظہارِ تعجب کا ذکر کیا جارہا ہے جسے انھوں نے اعتراض کی صورت دے رکھی تھی۔ ان کے اعتراض کے مختلف پہلو تھے۔ اعتراض کا ایک پہلو یہ تھا کہ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں لوگوں کو خبردار کردوں اور ان پر یہ بات اچھی طرح واضح کردوں کہ تم نے جس طرح خودرو پودوں کی طرح زندگی گزارنا شروع کر رکھا ہے کہ نہ تمہاری زندگی کا کوئی مقصد ہے اور نہ تمہاری زندگی کی کوئی منزل۔ تم خودبخود وجود میں آئے ہو اور ایک دن خودرو پودے کی طرح مل دل کر ختم ہوجاؤ گے۔ اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں اور زندگی میں کیے ہوئے اعمال کے بارے میں کہیں جوابدہی نہیں حالانکہ تم دیکھتے ہو کہ یہاں ہر مخلوق کی زندگی کا ایک مقصد ہے اور وہ مخلوق مقصد کے حصول میں ہمہ تن مشغول ہے۔ سورج کا کام روشنی دینا، سمندر کی بھاپ اٹھانا، ابر کی چادریں بچھانا، غلے کو پکانا اور موسموں کو وجود دینا ہے۔ چاند کا کام پھلوں میں مٹھاس پیدا کرنا اور غلے میں گداز پیدا کرنا ہے۔ زمین انسان کے لیے بستر بنادی گئی ہے اور اس کی قوت روئیدگی کے خزانے انسانی نفع رسانی کے لیے لٹائے جارہے ہیں۔ اسی طرح باقی مخلوقات بھی مقصد کی ادائیگی میں شب و روز کوشاں ہیں۔ کلی چٹکتی ہے، پھول مہکتا ہے، ستارے ٹمٹماتے ہیں، پانی سیرابی کا کام کرتا ہے، آگ چولہے جلاتی ہے، غلہ بھوک مٹاتا ہے۔ ہر مخلوق کی جبلت اور فطرت میں اس کے مقصد کا شعور ودیعت کردیا گیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ تکوینی کے تحت اس کے بجالانے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی زندگی کے مقاصد دیئے گئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اسے آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ان مقاصد کی ادائیگی کرے۔ جب وہ خواہشات اور غلط مزعومات کے دبائو میں آکر زندگی کے مقاصد سے انحراف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے تو وہ اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے انسانوں کی ہدایت کا سازو سامان کرتا ہے۔ اللہ کی اس رحمت پر انسان جتنا بھی شکر بجالائے تھوڑا ہے لیکن اس کی بےبصیرتی کا کیا کہنا کہ بجائے شکر بجالانے کے اس پر اظہارِتعجب کرتا اور اعتراض اٹھاتا ہے۔
مشرکین کا اعتراض اور اس کا جواب
مشرکین مکہ کے اعتراض کا دوسرا پہلویہ تھا کہ اگر اللہ کو ہماری بھلائی منظور ہے اور وہ ہماری اصلاح چاہتا ہے تو اس کے لیے کسی فرشتے کو بھیجا جاتا یا کوئی اور غیرمعمولی انتظام کیا جاتا جس کے غیرمعمولی ہونے سے انسانوں کو یقین آجاتا کہ یہ واقعی اللہ کی جانب سے ہے لیکن اس پر جتنا بھی تعجب کیا جائے تھوڑا ہے کہ ہمارے اندر سے ہم جیسے ایک انسان کو رسول بنا کر کھڑا کردیا گیا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے اپنے اندر کوئی خوبی نہیں رکھتا بلکہ مزید ستم یہ ہے کہ انسان خواہشات اور منفی جذبات کا جو طوفان اپنے جلو میں لیے پھرتا ہے اسے دیکھتے ہوئے کون تصور کرسکتا ہے کہ ہمارے جیسا ایک آدمی اللہ کا اتنا مقرب ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام اس کے دل پر اتارے اور اسے انسانوں کے لیے رسول بنادیا جائے۔ مشرکین مکہ کا تعجب درحقیقت دو باتوں کی وجہ سے تھا۔ ایک تو یہ بات کہ ان کے نزدیک انسان حقیقت میں نہایت فروتر چیز تھا۔ مخلوقات میں اس کا کوئی قابل قدر مقام و مرتبہ نہیں۔ جسم کے اعتبار سے اس سے بڑی بڑی مخلوقات موجود ہیں۔ صلاحیتوں کے اعتبار سے اس کا کوئی خاص مقام نہیں۔ پاکیزگی اور تقدس کے اعتبار سے فرشتوں کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کہاں رسالت کا مقام اور کہاں بشریت کا مقام، ان دونوں میں کوئی مناسبت نہیں۔ یہ خلجان صرف مشرکین مکہ کو ہی لاحق نہیں ہوا بلکہ بیشتر قومیں اس کی زد میں رہیں۔ بنائے فساد یہ بات رہی ہے کہ وہ رسالت کو اللہ کے قرب کے باعث نہایت عظیم اور بےحد مقدس مقام سمجھتے تھے اور اس میں وہ یقینا حق بجانب تھے لیکن بشریت کے حوالے سے ان کے خیالات نہایت پست واقع ہوئے تھے۔ ان کے یہاں بشر ابوجہل اور ابولہب کا نام تھا اور ان کی دنیا ایسے ہی بشروں اور انسانوں سے بھری ہوئی تھی۔ چناچہ رسالت کا بلند مقام اور بشریت کا یہ انحطاط آپس میں کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا اور یہی چیز ان کے لیے باعث تعجب تھی۔ قرآن کریم نے مختلف جگہ تاریخ میں گزرنے والی مختلف قوموں کے حوالے سے اس اعتراض کا ذکر کیا اور یہ بتایا ہے کہ یہ برائی اور گمراہی نئی نہیں، اس کی تاریخ بہت طویل ہے حالانکہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوقات پیدا فرمائی ہیں ان میں چار مخلوقات سب سے اعلیٰ ہیں۔ (1) فرشتے، (2) حیوان، (3) انسان اور (4) جنات۔ حیوان تو غیرمکلف مخلوق ہے۔ اس لیے اس کا تو ذکر ہی کیا ؟ جنات اور فرشتوں کو حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے جدِامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو مسجود بنا کر تمام مخلوقات سے برتر ہونے کا اعلان کردیا۔ اس سے بڑھ کر حماقت کی بات اور کیا ہوگی کہ وہ مخلوق جو تمام عزت والی مخلوقات میں افضل اور برتر ہے اسے چھوڑ کر کسی دوسری مخلوق کو نبوت دے دی جاتی۔ اب رہی یہ بات کہ انسان ہمیشہ ایسے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے اور ایسے کارنامے انجام دیتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی عزت کا مستحق نہیں لیکن یہ نہایت سطحی سی بات ہے اس لیے کہ ایسے انسانوں کی کمی نہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے بھیجے ہوئے دین کی گواہی دیتے ہوئے اپنی جانیں دے دیں، اپنے بچے قربان کیے اور زندگی کی ہر راحت اس پر قربان کردی۔ محض اسی کے نام کی سربلندی کے لیے ایثار اور استقامت کے وہ چراغ روشن کیے جن کی روشنی آج بھی راستہ دکھا رہی ہے۔ انسان درحقیقت وہی ہیں۔ ویسے ہی انسان پیدا کرنا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے پیش نظر رہا ہے۔ انسان جب بگڑ کر حیوان سے بھی بدتر سطح پر اتر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اپنی کتابیں بھیجتا ہے تاکہ بگڑے ہوئے انسانوں کی اصلاح کرکے انھیں حقیقی انسان بنایا جائے۔ عرب معاشرے سے بڑھ کر کوئی معاشرہ بھی بگڑا ہوا نہیں تھا لیکن آنحضرت ﷺ کی کوششوں سے ایسے انسان تیار ہوئے کہ فرشتے بھی ان کے دامن میں نماز پڑھنا فخر محسوس کرتے تھے۔ اکبراِلہٰ آبادی نے بالکل ٹھیک کہا :
درفشانی نے تری قطروں کو دریا کردیا
دل کو روشن کردیا آنکھوں کو بینا کردیا
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
قرآن کریم نے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے دوسری جگہ فرمایا کہ اگر زمین میں بسنے والے فرشتے ہوتے تو ہم ان کی طرف یقینا کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے لیکن زمین میں بسنے والے چونکہ فرشتے نہیں انسان ہیں اس لیے ان کی اصلاح کے لیے انسان ہی کا آنا ضروری تھا کیونکہ اصلاح کے عمل کے لیے جانبین میں مناسبت کا ہونا ضروری ہے۔ فرشتوں کو بھوک نہیں لگتی، انھیں پیاس پریشان نہیں کرتی۔ وہ کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ روزے کی افادیت کیا ہے۔ فرشتے کبھی بیمار نہیں ہوتے، وہ کبھی زخمی نہیں ہوتے۔ انھیں کیا خبر کہ صبر کسے کہتے ہیں۔ ان کے اندر احساسات اور خواہشات نہیں رکھے گئے۔ وہ احساسات کی شدت اور خواہشات کی گرفت کو کیسے جان سکتے ہیں۔ انھیں کیا خبر کہ ان کی گرفت سے بچ نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ اگر ان کے کسی فرد کو انسانوں کی اصلاح کے لیے بھیجا جاتا تو غور کیجیے کہ وہ انسان کی اصلاح کیسے کرتے اور پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں نوری مخلوق بنایا ہے، وہ گناہ سے معصوم رکھے گئے ہیں تو گناہوں سے بچنے اور خواہشات پر قابو رکھنے کے لیے وہ انسانوں کو کیا اسوہ اور نمونہ مہیا کرتے۔
ایک پہلودار بات
وہ ایک اور پہلودار بات بھی کہتے تھے کہ اگر کسی انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا تو ایسے انسان کو رسول بنایا جاتا جس کی حیثیت عرفی کو تسلیم کی سند حاصل ہوتی۔ وہ کوئی بڑا مالدار آدمی ہوتایا کسی خاندان کا سردار ہوتا۔ وہ عموماً طائف کے سرداروں کی طرف انگلی اٹھاتے کہ اگر کسی کو رسالت مل سکتی تو یہ لوگ اس قابل تھے کہ ان کو رسالت دی جاتی۔ محمد ﷺ کو رسالت کیوں دی گئی ؟ وہ یتیم پیدا ہوئے۔ لڑکپن ہی میں ہر سہارا چھوٹ گیا، بکریاں چرا کر آپ ﷺ نے اپنا معاش پیدا کیا۔ ان کے والد نے معمولی وراثت کے سوا کوئی مال نہیں چھوڑا۔ بڑے ہوئے تو دوسروں کا مال لے کر تجارت شروع کی۔ آخر ان میں ایسی کیا خوبی ہے کہ سب کو چھوڑ کر ان کو رسول بنایا گیا۔ ” رسول “ کو نکرہ لا کر ایک خاص بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ دولت مند ہونا یا کسی قبیلے کا سردار ہونا یہ ایسی صلاحیت نہیں جو نبوت کے بوجھ کو اٹھا سکے۔ نبوت اور رسالت کے لیے اللہ اسے چنتا ہے جو انسانی خصائص اور ملکوتی صفات کا اعلیٰ ترین نمونہ ہوتا ہے۔ انسانیت جس پر فخر کرتی ہے جو بگڑے ہوئے انسانی پتھروں کے ڈھیر میں ہیرے کی طرح چمکتا ہے، جو مشرکوں میں توحید کی مثال ہوتا ہے، جو اخلاق سے عاری معاشرے میں مکارمِ اخلاق کا نمونہ اور پاکیزگی کا مجسمہ ہوتا ہے۔ شرم و حیا سے بےبہرہ انسانوں میں ایسا حیاء دار ہوتا ہے کہ کنواری لڑکیاں بھی اس کی پاکدامنی کی قسم کھاتی ہیں۔ جس معاشرے میں بداخلاقی کا تعفن پھیلا ہوا ہے اس میں بلند ترین صفات کی خوشبو کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ انسانیت کی ہر خوبی کے لیے اس کی مثال دی جاتی ہے۔ اگر یہی فضائل اور صفات ہیں جو کسی انسان کو حقیقی انسان بناتے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے قابل بناتے ہیں تو بتائو ان صفات کی حامل ذات محمد کریم ﷺ کے سوا اور کون ہے۔ تمہیں ان کے رسول ہونے پر کس لحاظ سے تعجب ہے بلکہ تمہارے لیے یہ بات باعث اطمینان ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو اپنا رسول بنایا ہے جو تمہارے ہی ایک عظیم خاندان یعنی قریش کا چشم و چراغ ہے۔ تمہارے ہی رشتوں میں سے کسی نہ کسی رشتے سے اس کا تعلق ہے۔ تمہارے سامنے اس کے شب وروز گزرے ہیں۔ تم اس کی زندگی کے ایک ایک ورق سے واقف ہو۔ تمہارا ایک ایک فرد گواہی دیتا ہے کہ وہ الامین اور الصادق ہے۔ اس کی پوری زندگی امانت اور صداقت کی تصویر ہے۔ اگر تمہیں عصبیت نے اندھا نہ کردیا ہوتا تو تم آگے بڑھ کر اس کا علم اٹھاتے اور اس پر ایمان لانے اور اطاعت کرنے میں فخر محسوس کرتے۔ یہ تمہاری کوتاہ فکری ہے کہ جو باتیں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کی دلیل تھی تم نے انھیں کو اعتراض بنا لیا۔
آپ کی بعثت کا مقصد
” اَنْ اَنْذِرِالنَّاسَ “ یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے نبی کریم ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔ اہل دنیا جب غفلت کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں اور ہوائے نفس کا اتباع ان کا چلن بن جاتا ہے، خواہشات کا حصول ان کی منزل ٹھہرتا ہے، بہیمانہ خصائص انسانی صفات کی جگہ لے لیتے ہیں تو پھر انسان ایک طرف اگر اللہ تعالیٰ سے کٹ جاتا ہے تو دوسری طرف باہمی انسانی تعلقات شکست و ریخت کا شکار ہوجاتے ہیں، حقوق و فرائض کی صف لپیٹ دی جاتی ہے، طاقت معاشرے کا قانون بن جاتی ہے، رشتے اپنا تقدس کھو دیتے ہیں، زندگی اپنے ہر حسن سے محروم ہو کر تباہی کے راستے کی مسافر بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے تو انسانوں کی اصلاح اور بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہے۔ وہ دوبارہ انسانوں کو اللہ کے آستانے کی طرف بلاتا ہے۔ وہ زندگی کا ہر دکھ اٹھا کر انسان کی دنیا اور آخرت کو سنوارنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ انھیں انذار کرتا اور خبردار کرتا ہے کہ تم تباہی کے جس راستے پر بھاگتے جارہے ہو، اگر تم نہ رکے اور تم نے پلٹنے کی کوشش نہ کی تو تم تباہ و برباد ہوجاؤ گے۔ ہر پیغمبر اسی مقصد کے لیے دنیا میں تشریف لاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ بھی اسی فرض کی ادائیگی کے لیے تشریف لائے تاکہ لوگوں کو آنے والے خطرات سے خبردار کردیں کہ تم جس طرح اپنی من مرضی کی زندگی گزار رہے ہو اور تمہیں احساس ہی نہیں کہ تمہارا کوئی آقا اور اِلٰہ بھی ہے جس نے تمہیں زندگی گزارنے کا ایک ضابطہ عطا فرمایا ہے اور ایک دن وہ تم سب کو زندہ کرے گا اور تم میں سے ہر ایک سے پوچھے گا کہ بتائو تم زندگی کیسے گزار کے آئے ہو۔ اگر تم نے آج اپنی تیاری نہ کی تو سوچ لو تمہارا انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ تم یہاں ہمیشہ تو نہیں رہو گے، ہر ایک کو ایک نہ ایک دن یہاں سے کوچ کرنا ہے کیونکہ :
کہ سب قافلہ یاں سے ہے جانے والا
ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا
اور ساتھ ہی آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ مجھ پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ضابطہ حیات کے مطابق زندگی گزاریں گے میں انھیں بشارت دینے کے لیے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انھیں بلند مرتبہ عطا فرمائے گا۔ ” قَدَمَ صِدْقٌ“ کا معنی ہوتا ہے بلند مرتبہ کیونکہ قدم تو قدم ہی کے معنی میں ہے یعنی مرتبہ، اور صدق رسوخ، استحکام اور تمکن پر دلیل ہے۔ یعنی ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ ایسے عزت کے مقام، بلند مرتبہ اور لازوال سرفرازی سے نوازے گا کیونکہ آنحضرت ﷺ پر ایمان، توحید کا اقرار، آخرت پر یقین اور شریعت کی پابندی جس طرح آخرت میں سرخروئی کا باعث ہے، اسی طرح دنیا میں بھی بہتر زندگی اور عزت کا مقام انھیں حقائق سے وابستہ ہے۔ تاریخ بھی شاہد ہے کہ جب کبھی انسان نے اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنایا، اس کے رسولوں کی اطاعت کی اور زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے گزاری تو اللہ تعالیٰ نے انھیں جس طرح آخرت میں سرخرو فرمایا، اسی طرح دنیاوی سرفرازیاں بھی ان کے قدموں کی خاک بن گئیں۔
آپ کے کمالات کو سحر کہا گیا
” وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا الَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ۔ “ اور کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔ کافروں کو ایک تو تعجب اس بات پر تھا کہ ایک بشر اور انسان اللہ کا رسول کیسے ہوگیا۔ رسالت ایک بہت بلند مرتبہ ہے اور بشریت نہایت فروتر چیز ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بشر جیسی فروتر مخلوق اللہ کی رسالت اور پیغام بری کی حامل ٹھہرے اور دوسرا تعجب انھیں اس بات پر تھا کہ ایک ایسا شخص جوا نہیں میں پیدا ہوا، انھیں میں پلابڑھا، انھیں کے ماحول میں اس نے تربیت پائی، انھیں کے معروفات اور منکرات سے آگاہی حاصل کی۔ اسی معاشرے کی اچھائیوں اور برائیوں کا وہ وارث بنا لیکن انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کی خوبیاں، اس معاشرے میں ناپید دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے کردار کا اجلاپن کہیں اور نظر نہیں پڑتا۔ اس معاشرے کی برائیاں اسے چھو کر بھی نہیں گزریں۔ وہ معاشرہ اپنے اندر علم کی کوئی خوبی نہیں رکھتا اور یہ شخص اپنی زبان سے ایسے جو اہرپارے اگل رہا ہے جس کی مثال کہیں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ وہ ایسی علم و حکمت کی باتیں قرآن کی شکل میں لوگوں کے سامنے بیان کررہا ہے جس کی خبر دنیا میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں۔ اس کی زبان سے فصاحت و بلاغت کے پھول جھڑتے ہیں۔ حکمت کا سوتا پھوٹتا ہے۔ آنے والی دنیا کے بارے میں اس تیقن سے بات کہتا ہے۔ گویا وہ اس کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ اس کی ایک ایک بات اور ایک ایک ادا موہ لینی والی بھی ہے اور حیران کردینے والی بھی۔ ان تمام باتوں سے صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی بجائے ان کے نفس امارہ نے انھیں یہ سجھایا کہ یہ کردار کی پاکیزگی غیرمعمولی فصاحت و بلاغت بیان و دہن کی شیرینی عالم بالا اور عالم آخرت کی خبریں یہ اس شخص کے رسول ہونے کی دلیل نہیں بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایک بہت بڑا جادوگر ہے۔ اس کا لاجواب کردینے والا کلام درحقیقت ایک شعبدہ بازی ہے۔ اس کے غیرمعمولی کمالات سحر کا نتیجہ ہیں۔ اس طرح سے وہ درحقیقت لوگوں میں آنحضرت ﷺ کے کمالات اور آپ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کی تاثیر اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کی اثرآفرینی کا توڑ کرنا چاہتے تھے۔ وہ جب دیکھتے کہ لوگ اس سے اثر قبول کرتے ہیں تو وہ اسے بےاثر کرنے کے لیے انھیں یقین دلاتے کہ ان میں کوئی بات بھی حقیقت نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک جادو ہے جو کسی بھی چیز کو کچھ سے کچھ بنا کے دکھا سکتا ہے۔ الفاظ کی شعبدہ بازی ہے جو وقتی طور پر سننے والے کو حیران کردیتی ہے۔ اس طرح سے ان کی کوشش یہ ہوتی کہ اپنے عوام کو آنحضرت ﷺ اور قرآن کی تاثیر سے بچایا جائے حالانکہ ان کے شرفاء بھی یہ بات جانتے تھے کہ قرآن کریم ایک غیرمعمولی کتاب ہے۔ اس کے الفاظ، اس کے جملے، جملوں کی ترکیب، اس کے محاورات، اس کا اندازِبیان، اس کا دروبست، اس کی ضرب الامثال، اس کی تلمیحات، اس کے بیان کی ندرت، اس کے خطبات کی اثرآفرینی، ان میں سے ایک ایک بات زبان وبیان کے تیورشناس کو متأثر کردینے کے لیے کافی تھی۔ عرب اپنی تمام برائیوں کے باوجود زبان وبیان کی خوبیوں سے واقف تھے۔ اس لیے کوئی بھی اچھا قصیدہ کوئی بھی نثری شہ پارہ یا کوئی فصیح وبلیغ خطبہ اس کے لیے جادوکا اثر رکھتا تھا۔ قرآن کریم چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس لیے اس کے اندر زبان وبیان کی ایسی خوبیاں جمع تھیں جس نے اس کو معجز بنادیا تھا۔ عرب اس کو سمجھتے تھے لیکن ان کی عصبیت اور جاہلیت پر ضد، انھیں ادھر آنے نہیں دیتی تھی۔ اس لیے جب بھی انھیں کوئی اس صورتحال سے نکلنے کا سہارا نظر آتا تو فوراً اسے قبول کرلیتے۔ چناچہ ان کے گمراہ کرنے والے لیڈروں نے جیسے ہی ان کو یہ سہارا دیا کہ یہ سب کچھ شعبدہ بازی اور سحر کا کمال ہے تو انھوں نے اسے اپنے لیے کافی سمجھا۔
ساحر کی پھبتی آپ ﷺ پر چسپاں نہیں ہوتی
مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کو جادوگر قرار دے کر اپنے تئیں آپ ﷺ کی شخصیت اور آپ ﷺ کے پیغام کی اثرآفرینی کو بےاثر کردیا تھا لیکن وہ یہ بات سمجھ نہ سکے کہ ساحر اور جادوگر کی پھبتی آنحضرت ﷺ پر کسی طرح بھی چسپاں نہیں ہوتی اور اگر کسی پر ایسی پھبتی کسی جائے جو اس کے حسب حال نہ ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کہنے والا نہایت نامناسب آدمی ہے۔ یہی حال مشرکین مکہ کا بھی معلوم ہوتا ہے۔ ان میں اتنی عقل نہیں کہ وہ پھبتی کسنے سے پہلے تقابل و تطابق کرکے دیکھ لیں کہ کیا ہم جو کر رہے ہیں یہ جامہ آپ ﷺ پر راست بھی آتا ہے یا نہیں۔ مشرکین مکہ نے آپ کو جادوگر ان معنوں میں قرار دیا تھا کہ آپ ﷺ کی شخصیت دلوں میں اترتی جاتی ہے اور آپ ﷺ کا کلام دماغوں میں اپنی جگہ بنائے بغیر نہیں رہتا۔ یہ غیرمعمولی تاثیر یقینا کسی جادو کا نتیجہ ہے حالانکہ وہ یہ بات بھول گئے کہ جادوگر محض دنیا بنانے اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے جادو کا کھیل کھیلتے ہیں۔ ان کا ذاتی کردار نہایت قابل نفرت ہوتا ہے۔ ان کے دائیں بائیں رہنے والے لوگ برے طوراطوار کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے پیش نظر اپنی دنیا بنانے کے سوا کوئی اور مقصد نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ کا نبی اپنی دعوت کے نتیجے میں دنیا بناتا نہیں بلکہ اپنی دنیا اجاڑتا ہے۔ وہ لوگوں سے منفعت حاصل نہیں کرتا بلکہ لوگوں کی سیرت و کردار کی تعمیر کرتا ہے۔ جو شخص اس کے جتنا قریب ہوتا ہے وہ اتنا ہی ارفع و اعلیٰ مقاصد کا حامل اور مصفا ومجلا سیرت و کردار کا پیکر ہوتا ہے۔ اس کی ذات ایثار و قربانی کی پیکر اور لوگوں کی بھلائی کی حریص ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کی اذیت رسانیوں کو صرف اس لیے خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے تاکہ لوگ اس کے جذبہ ہمدردی اور خیرخواہی سے متاثر ہو کر راہ راست اختیار کرلیں۔ وہ اپنا وقت، اپنا مال حتیٰ کہ بعض دفعہ پوری زندگی لوگوں کی ہدایت کے لیے صرف کردیتا ہے۔ اس کے دن لوگوں کو سمجھاتے گزرتے اور راتیں ان کے لیے دعائوں میں گزرتی ہیں۔ ایسی ذات عزیز کو جادوگروں سے کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس کے کمالات شعبدہ بازی نہیں بلکہ اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم کا ظہور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جادو کا جواب ممکن ہوتا ہے اور اس کا توڑ کیا جاسکتا ہے لیکن پیغمبر کا معجزہ عاجز کردینے والا ہوتا ہے اور اس کے کمالات حرف آخر ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ذات میں حجت بن کر آتا ہے۔ اس کی شخصیت اور اس کے پیغام سے دنیا پر اتمام حجت کردیا جاتا ہے۔ اس طرح سے اس کا وجود اہل دنیا کے لیے روح کی مانند ہوتا ہے کہ اسی سے ان کی زندگی وابستہ ہوتی ہے اور اگر خدانخواستہ لوگوں نے بدنصیبی کا راستہ اختیار کیا تو موت ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ ان حقائق کو دیکھتے ہوئے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے نبی پر ساحر کی پھبتی کستا ہے اس سے زیادہ کم عقل اور متعصب کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
Ayah 10:3اِنّ َربَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُالْاَمْرَط مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ م بَعْدِ اِذْنِہٖ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (یونس : 3)
(بےشک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو 6 دنوں میں پیدا فرمایا، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے، پس تم اسی کی بندگی کرو۔ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے۔ )
گزشتہ آیت میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کو انذار کریں اور جو ایمان لے آئیں انھیں بشارت دیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کے فریضہ منصبی کی دلیل دی جارہی ہے جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بےسبب نہیں بھیجا اور یہ آخری رسول بھی یونہی نہیں چلے آئے بلکہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے جس کے انجام دینے کے لیے اللہ کے نبی اور رسول آتے رہے ہیں اور اسی کے لیے خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے ہیں۔ اس حقیقت کو بیان کرنے سے پہلے تمہیدی طور پر دو باتیں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
تمہید
1 قرآن و سنت سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ انسانی زندگی کی اچھائی اور برائی اور اس کے حسن و قبح کا دارومدار انسانی افکار میں ان خیالات اور تصورات پر ہے جو دلوں میں ایسی جگہ بنا لیتے ہیں کہ وہ نکالے بھی نہیں نکلتے۔ یعنی وہ انمٹ تصورات اور ناقابل تغیرخیالات جو انسان کو وراثت میں ملتے ہیں یا معاشرہ اس کے سپرد کرتا ہے یا تعلیم و تربیت سے دلوں میں راسخ ہوجاتے ہیں یا ہر آدمی کا اپنا مطالعہ بعض خیالات کو دل میں پیوست کردیتا ہے۔ چناچہ یہی تصورات اور خیالات ہر انسان کی زندگی میں حکمرانی کرتے ہیں۔ وہ جب تک ان خیالات کے زیراثر رہتا ہے اسی طرح کے اعمال اس سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ ایک شخص روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں سڑک پر بےہوش پڑا ہے اور زخموں سے بری طرح گھائل ہے۔ اچانک ایک آدمی وہاں پہنچتا ہے، اس کی نازک حالت دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ سب سے پہلے اس کی جیب ٹٹولتا ہے۔ اس میں جو کچھ ہاتھ آتا ہے نکال لیتا ہے، پھر اس کی کلائی دیکھتا ہے اور اس کی گھڑی اتار لیتا ہے، پھر دائیں بائیں نظر ڈالتا ہے۔ جب مطمئن ہوجاتا ہے کسی نے اسے نہیں دیکھا تو وہ وہاں سے غائب ہوجاتا ہے۔ ایک دوسرا شخص آتا ہے۔ وہ بھی اس کو بےہوش دیکھ کر اس کی طرف سرسری سا متوجہ ہوتا ہے، ایک نگاہ غلط انداز ڈالتا ہے اور اپنی راہ لیتا ہے۔ اس کے بعد ایک تیسرا شخص وہاں پہنچتا ہے۔ جیسے ہی اس کی نظر اس زخمی پر پڑتی ہے تو وہ اس کی تشویشناک حالت دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے۔ سب سے پہلے اس کی نبض ٹٹولتا ہے، پھر دل کی حرکت جاننے کی کوشش کرتا ہے، جب دیکھتا ہے کہ نبض بھی چل رہی ہے اور دل بھی حرکت میں ہے تو فوراً اسے اٹھا کر کندھے پر ڈالتا ہے یا اپنی گاڑی میں لٹاتا ہے اور سب سے قریب کسی کلینک پر لے کر اسے پہنچتا ہے تاکہ اسے فرسٹ ایڈ دی جائے اور اس کی جان بچائی جاسکے۔ غور فرمایئے کہ ان تین آدمیوں کے رکنے کا سبب زخمی کا سرِراہ بےہوشی کی حالت میں پڑا ہونا ہے۔ سبب کی یکسانی میں تینوں برابر ہیں لیکن اعمال تینوں کے الگ الگ اور جدا جدا ہیں۔ ایک نے اس کی بےہوشی سے فائدہ اٹھایا اور اس کی جیب میں جو کچھ تھا لے کر چلتا بنا۔ دوسرے نے نگاہ ضرور ڈالی لیکن کوئی اثر قبول نہیں کیا اور اپنا وقت ضائع کیے بغیر چلا گیا۔ تیسرے آدمی نے جب اس کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھی تو فوراً اس کی نبض اور دل کی کیفیت جاننے کی کوشش کی تاکہ معلوم ہو کہ وہ زندہ ہے یا مرگیا۔ چناچہ جب اسے یقین ہوگیا کہ زخمی زندہ ہے تو اب اس نے اسے بچانے کے لیے اپنی تمام مساعی صرف کرڈالیں۔ سوال یہ ہے کہ سبب ایک ہونے کے باوجود تینوں کے اعمال مختلف کیوں ہیں ؟ آپ اگر غور کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ جس آدمی کے دل و دماغ میں برے خیالات بسے ہوئے تھے اور اس کے اندر ایک چور بیٹھا تھا، اس نے بجائے اس کے زخموں سے متاثر ہونے کے اس کی جیب صاف کی۔ دوسرا شخص جس کے دل میں انسانیت کا درد تو کجا کوئی ہمدردی بھی ناپید تھی۔ اس نے جب زخمی کو بےہوش حالت میں دیکھا تو اس نے کوئی تاثر لیے بغیر یہ خیال کیا کہ یہاں سڑک کے کنارے جانور مرتے ہی رہتے ہیں، یہ بھی ایک جاندار ہی ہے اس لیے اس نے ایک سرسری نظر ڈالی اور وہاں سے رفوچکر ہوگیا۔ تیسرا آدمی جس کے دل میں انسانیت کا درد اور غمگساری کا جذبہ تھا وہ تڑپ کر اپنی سواری سے نکلا اور اس زخمی کی جان بچانے کے لیے اپنے تمام وسائل جھونک دیئے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ کس طرح انسانوں کے اعمال پہلے سے دلوں میں بیٹھے ہوئے خیالات کے تابع ہوتے ہیں۔ اسی لیے اقبال نے کہا :
دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اٹھتے
نگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو اندازِ آفاقی
یہ انمٹ نقوش اور پختہ خیالات جو انسانی زندگی پر حکمرانی کرتے ہیں شریعت کی زبان میں انھیں عقائد کہا جاتا ہے۔ چونکہ عقائد کے زیراثر اعمال کی تشکیل ہوتی ہے اس لیے قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ نے انسانی تربیت کے لیے سب سے پہلے عقائد کی اصلاح کی طرف توجہ دی۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عرب کا وہ معاشرہ جس کا بگاڑ انتہا کو پہنچ چکا تھا، جس کی کوئی کَل بھی سیدھی نہ تھی، جس میں ڈھونڈے سے بھی کوئی اچھائی نظر نہ آتی تھی، انسانیت سے کوسوں دور اور بہیمیت سے ملتی جلتی زندگی اس معاشرے کی زندگی بن چکی تھی۔ قانون کا تصور انھیں چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔ خواہشات کی پیروی ان کا مقصود زندگی بن چکا تھا لیکن آنحضرت ﷺ کی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں جب ان کے بنیادی خیالات یعنی عقائد میں انقلاب آیا تو دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں ایک ایسا انسانی معاشرہ، ایک ایسی امت تیار ہوئی جس کی نظیر نہ تاریخ میں پہلے موجود تھی نہ آج تک موجود ہے۔ چناچہ اسی تشخیص کے تحت اس آیت ِ کریمہ میں سب سے پہلے عقائد کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔
2 دوسری بات اس سلسلے میں قابل ذکر یہ ہے کہ بحث عقائد کی ہو یا کسی اور صنف علم کی۔ قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ اپنی بات کے اثبات کے لیے جب دلیل پیش کرتا ہے تو مقدمات کو ترتیب اس طرح دیتا ہے کہ سب سے پہلے مقدمہ اولیٰ کے طور پر اس بات کا ذکر کرتا ہے جو جانبین کے نزدیک مسلّم ہو یعنی دونوں اسے تسلیم کرتے ہوں تاکہ اس کو بنیاد بنا کر بات کو آگے بڑھایا جاسکے۔ یہ وہ حکیمانہ اسلوب ہے جس سے کسی بھی بات کو سمجھانا اور منوانا آسان ہوجاتا ہے۔ مثلاً یہاں فرمایا گیا ہے کہ تمہارا رب وہ ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، جو تمہارا خالق ہے، جو لوح و قلم اور عرش کرسی کی تخلیق کرنے والا ہے اور تم اسے تسلیم کرتے ہو کہ کائنات کا خالق اور ہمارا خالق یقینا اللہ ہے، اس کے سوا کوئی اور نہیں، پھر تم ایک بات کا جواب دو کہ اگر واقعی تمہارا بھی اور کائنات کا بھی خالق اللہ ہی ہے تو پھر تمہارا اور کائنات کا رب کسے ہونا چاہیے ؟ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی اور کیا ہوگی کہ پیدا تو تمہیں اللہ نے کیا، تمہارا آبائواجداد کو بھی اسی نے پیدا کیا، تمہارے لیے زمین سے غذا اسی نے پیدا کی، تمہارے لیے روشنی کا سامان کرنے کے لیے سورج اور چاند کو اس نے پیدا کیا، تمہاری اولاد کو بھی وہی پیدا کرتا ہے، تو پھر کیا یہ بات قرین قیاس ہے کہ پیدا تو اللہ کرے اور ربوبیت کا منصب کسی اور کو دے دیا جائے۔ یہ ایک ایسی حماقت ہے جسے کوئی بھی عقل مند آدمی بقائمی ہوش و حواس تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا اور نہ وہ یہ تسلیم کرسکتا ہے کہ جب کائنات کا خالق ایک اللہ ہے تو تمہیں اولاد دینے میں دوسروں کا دخل کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ تخلیق کے کسی عمل میں بھی کسی اور کی شرکت کیسے گوارہ کرسکتا ہے اور مزید یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ کائنات کی تخلیق اس طرح وجود میں نہیں آئی کہ اللہ نے ایک ہی وقت میں تمام کائنات کو پیدا فرما دیا بلکہ ایک تدریج کے ساتھ تخلیق کا عمل مکمل ہوا۔ وہ اگر چاہتا تو کلمہ کُن کے ذریعے سے ساری کائنات کو ایک لمحے میں وجود میں لے آتا لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ مختلف ادوار میں کائنات کو وجود دیا جائے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے 6 دنوں میں زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا۔ سوال یہ ہے کہ 6 دنوں سے مراد کیا ہے ؟ اس لیے کہ انسانوں میں طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک کے وقت کو ایک دن کہتے ہیں لیکن کائنات کے پیدا ہونے سے پہلے اس دن کے وجود کا تصور کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت نہ سورج تھا نہ زمین۔ اس لیے معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہمارا دن نہیں بلکہ اس سے مراد کوئی بھی وقت ہے جس کے دورانیے کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ قرآن کریم نے اپنا ایک دن ایک ہزار سال کا قرار دیا ہے۔ اگر وہ دن مراد لیں تو پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کی تخلیق 6 ہزار سال میں مکمل ہوئی اور یہ بھی ممکن ہے کہ دن سے مراد دور ہو۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ 6 ادوار میں کائنات کی تخلیق عمل میں آئی۔ کوئی سی بھی صورت ہو یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب انسان کتم عدم تھا۔ ابھی وقت کی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی، تصور کو وجود تک نہیں ملا تھا تو ایسے زمانے کی باتوں کو ہم اپنی عقل کے ترازو میں اگر تول کر کوئی تعبیر دینا چاہیں تو یہ سراسر اپنے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ اسے متشابہات میں شامل سمجھ کر اس کا یقین رکھیں لیکن اس بات کو تسلیم کریں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ذات ابدی نہیں۔ مادہ قدیم نہیں وہ مخلوق اور حادث ہے۔ اس کا وجود بھی اور اس میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہیں۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ نے یکبارگی کائنات کو پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا کہ اب وہ جیسے چاہے حرکت کرتی رہے اور اس میں جو تبدیلیاں ممکن ہوں آتی رہیں اور جو شکلیں بن سکتی ہوں بنتی رہیں۔ اللہ علت العلل بن کر کائنات کے کسی گوشے میں خاموش بیٹھا ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ اس نے زمین اور آسمانوں کو 6 دنوں میں تخلیق فرمایا اور پھر عرش حکومت پر متمکن ہوا تاکہ دنیا کے معاملات کی تدبیر کرے اور انتظام چلائے۔ اگر وہ صرف خالق ہوتا اور تخت سلطنت پر اور کوئی متمکن ہوتا یا تخت سلطنت خالی رہتا تو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ اس نے کائنات کو پیدا ضرور کیا لیکن اس پہیئے کو حرکت دے کر آپ کہیں خاموشی کی چادر اوڑھ کر لیٹ گیا حالانکہ اس کی شان تو یہ ہے کہ اس نے ہر چیز کو تخلیق فرمایا پھر اس کی زمام کار سنبھالی، پھر ہر مخلوق کے انتظام کو سیدھا کیا۔ چناچہ آج بھی اس کائنات کا ایک ایک ادارہ اس کے احکام سے بندھا ہوا ہے۔ اس کائنات کی کوئی حرکت اس کے حکم کے بغیر نہیں ہوتی۔ وہ برابر تدبیر امور میں لگا ہوا ہے۔ وہ خود فرماتا ہے کہ صحرا میں کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو وہ جانتا ہے، کوئی دانہ پھوٹتا ہے تو اس کے علم میں ہوتا ہے۔ جس طرح وہ انسانی اعمال کی نگرانی کرتا ہے۔ اسی طرح وہ کائناتی نظام کو بھی اپنے حکم سے چلاتا ہے۔ اس نظام سلطنت کی مضبوطی کا عالم یہ ہے کہ کائنات کا کوئی کرہ اپنی مرضی سے کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ مخلوقات میں سورج ایک بہت بڑی مخلوق ہے اور اس کی توانائیوں کی کوئی انتہا نہیں۔ بایں ہمہ قانون کے سامنے اس کی بےبسی کا عالم یہ ہے کہ سورة یٰسین میں ارشاد فرمایا گیا ہے ” لاَالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَوَلاَالَّیْلُ سَابِقُ الْنَّھَارِ ط “ سورج کی مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ ہر کرہ اپنے مدار میں گھوم رہا ہے۔ ہر مخلوق اس کے حکم کی پابند ہے۔ جس طرح سورج اور چاند اس کے حکم کے تابع ہیں۔ اسی طرح کائنات کے تمام کرے تمام ثوابت اور سیارے اسی کے احکام کی اطاعت کررہے ہیں۔ اسی طرح زمین کی حرکتیں بھی اسی کے تابع ہیں۔ زمین میں زلزلے کائناتی فورسز کی مرضی سے نہیں آتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کائناتی فورسز اپنا کام کرتی ہیں۔ سمندر میں جواربھاٹا، دریائوں کی طغیانی، پہاڑوں کا لاوا اگلنا، بادل کا کڑکنا اور بجلی کا کوندنا، ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کے احکام سے بندھی ہوئی ہے۔ اسی طرح اس کا ایک اخلاقی نظام بھی ہے۔ قوموں کا عروج وزوال اسی کے فیصلوں کا پابند ہے۔ جس قوم پر بھی عذاب آیا، اس کی مرضی سے آیا۔ بعض برخودغلط لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو قومیں تباہی کا شکار ہوئیں وہ زمین کے کسی تغیر کے نتیجہ میں ہوئیں حالانکہ قرآن کریم نے واضح طور پر فرمایا کہ ہم نے جسے بھی پکڑا اسے اس کے گناہوں کی پاداش میں پکڑا اور اسے کسی کائناتی قوت نے نہیں بلکہ ہم نے پکڑا۔ بعض قوموں کو پہلے وارننگ دی گئی کہ تین دنوں کے بعد تمہارا خاتمہ کردیا جائے گا۔ چناچہ جب انھوں نے اس کی پروا نہ کی تو تین دن کے بعد اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ یہ تین دن کی وارننگ اور پھر اس کے مطابق عذاب آنا کیا یہ زمینی قوتوں کی طرف سے تھا۔ یہ وہ تدبیر اور عمل ہے جس کا اظہار پوری کائنات میں ہورہا ہے اور یہ نظام اس قدر مضبوط اور اس قدر بےلچک ہے کہ کسی شفاعت کرنے والے کی مجال نہیں کہ وہ سفارش کرسکے۔ بادشاہوں کے یہاں بھی امراء اور وزراء کی سفارشیں چلتی ہیں، بعض دفعہ فیصلے تبدیل کرا دیئے جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی سفارش کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ (البتہ آخرت میں شفاعت کا مضمون وہ ایک الگ چیز ہے جس کی بحث اپنے مقام پر آئے گی) ذرا غور کیجیے کہ جب تمہارا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے، وجود دینے والا وہ ہے، رزق وہ عطا کرتا ہے، زندگی کی ہر ضرورت وہ پوری کرتا ہے اور کائنات کا نظام وہ چلا رہا ہے اور اس نے کائنات کو وجود مختلف ادوار میں نہایت حکمت کے ساتھ عطا کیا ہے اور اس کی حکومت کسی اور کے سپرد نہیں بلکہ وہ خود انجام دیتا ہے۔ اس پوری صورتحال کو سامنے رکھ کر یہ بتایئے کہ کیا رب اس کے سوا کوئی اور ہوگا ؟ رب وہ ہوتا ہے جو مخلوق کو پالتا ہے، وہی اس کا حاکم حقیقی ہوتا ہے اور وہی اس کا مالک اور آقا ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر حماقت کی بات اور کیا ہوگی کہ خلق کوئی کرے اور مالک اور آقا کوئی اور ہو۔ زندگی کی ضروریات کوئی اور مہیا کرے اور فرماروائی کوئی اور کرے۔ نظام سلطنت وہ چلائے، دل و دماغ کو رعنائیاں وہ عطا کرے اور صلاحیتوں سے وہ نوازے اور غلامی کسی اور کی جائے۔ ان فطری اور عقلی مقدمات کے ذریعے عربوں کی بےدینی اور مشرکانہ زندگی کو غلط ثابت کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے۔
ذَالِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہٗ یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا پروردگار ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو۔
جس طرح ربوبیت میں فرمانروائی، حاکمیت اور آقائی کے مفاہیم شامل ہیں۔ اسی طرح بندگی و عبودیت میں بھی یہ تینوں مضامین شامل ہیں کہ تم غلامی کرو تو صرف اس اللہ کی جو تمہارا رب ہے۔ احکام پر چلو تو اس خدا کے جس نے تمہیں پیدا کیا اور آقائی تسلیم کرو اس مالک کی جس نے تمہیں زندگی عطا کی ہے لیکن یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جسے تم خالق مانتے اور شب و روز جس کا رزق کھاتے ہو اور جس کی دی ہوئی نعمتوں سے متمتع ہوتے ہو اسی کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو، اس کی بندگی کرنے کی بجائے دوسروں کی بندگی بجا لاتے ہو، اسے آقا سمجھنے کی بجائے دوسروں کی آقائی کے سامنے سر جھکاتے ہو۔ دنیا میں ایسا احمق شاید ہی کوئی ہوگا کہ وہ تنخواہ کسی سے لے اور ڈیوٹی کسی کی انجام دے۔ زندگی کی تمام نعمتیں کسی اور سے حاصل کرے اور اطاعت اور غلامی کسی اور کی کرے۔ اگر دنیا میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ مشہور کہاوت ہے کہ جس کا کھایا جاتا ہے اسی کا گایا جاتا ہے۔ تو تم بھی جس کا کھاتے ہو، اسی کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرو۔ اسی بات کو ایک اور جگہ پروردگار نے فرمایا الالہ الخلق والامر خبردارجس کے لیے پیدا کرنا ہے اسی کے لیے حکم دینا بھی ہے۔ یعنی جو پیدا کرتا ہے حکم دینا بھی اسی کا حق ہے۔
اَفَلاَ تَذَکَّرُوْن کیا تم ان سامنے کی باتوں اور جانی پہچانی حقیقتوں سے نصیحت حاصل نہیں کرتے ہو۔