10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsروح القرآن

Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا ان کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچاسکیں اور نہ نفع۔ اور کہتے ہیں یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے کیا تم اللہ کو خبر دیتے ہو ایسی بات کی جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک اور بالاو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَضُرُّھُمْ وَلاَ یَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلَآئِ شُفُعَآؤُنَا عِنْدَاللّٰہِ ط قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ ط سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (یونس : 18) (اور وہ اللہ کے سوا ان کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچاسکیں اور نہ نفع۔ اور کہتے ہیں یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے کیا تم اللہ کو خبر دیتے ہو ایسی بات کی جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک اور بالاو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں) ۔ گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مشرکین مکہ نہ تو آنحضرت ﷺ کو اللہ کا نبی مانتے تھے اور نہ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب تسلیم کرتے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ آپ اس قرآن کو بدل ڈالیے اور اس کی جگہ ایسا قرآن لایئے جو ہمارے لیے قابل قبول ہوسکے اور یا اس میں ایسی ترامیم کیجیے کہ یہی قرآن ہمارے لیے قبول کرنا آسان ہوجائے۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی باتوں کے پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ آپ ہرگز اللہ کے رسول نہیں کیونکہ اگر آپ کو وہ اللہ کے رسول مانتے تو اس طرح کے مطالبات کی جرأت کبھی نہ کرتے۔ اس آیت کریمہ میں اس پس منظر پر دلیل پیش کی جارہی ہے۔ پس منظر اور دلیل تصور کیجیے کہ جو لوگ پتھر کی گھڑی ہوئی مورتیوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ پتھر نہ انھیں نفع پہنچاسکتے ہیں، نہ انھیں نقصان دے سکتے ہیں اور نہ زندگی کے معاملات میں ان کی کوئی مدد کرسکتے ہیں لیکن ان تمام سامنے کی باتوں کے باوجود وہ یہ افترا کرنے سے باز نہیں آتے کہ یہی وہ بت ہیں جو اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، یہ بھی صحیح ہے کہ وہ روزی رساں نہیں ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اللہ جیسی قدرتوں کے مالک نہیں۔ بایں ہمہ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ وہ دنیا کے بہت سے کاموں میں ہماری سفارش کرتے ہیں اور آخرت میں بھی وہ ہمارے لیے سفارشی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ پوری کائنات کا مالک ہے، کائنات کے دوردراز گوشوں کی نہ اسے خبر ہوسکتی ہے اور نہ ان گوشوں میں رہنے والوں کی مدد کرسکتا ہے۔ چناچہ یہ بت اور یہ مجسمے جو بظاہر پتھر کے ہیں حقیقت میں اس کی مقرب شخصیتوں کی شبیہیں ہیں۔ یہ جہاں جہاں پائے جاتے ہیں وہاں اپنے پجاریوں کے حالات اللہ کو بھی بہم پہنچاتے ہیں اور سفارش بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ان کی سفارش سنتا ہے۔ غورکیجیے کہ وہ لوگ اپنے ٹھہرائے ہوئے شرکاء کو خالق ومالک نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ انھیں اللہ کے چہیتے جانتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ اس کے یہ چہیتے ہماری مشکلات میں ہمارے کام آتے ہیں اور سفارش کرتے ہیں۔ قرآن کریم توجہ دلاتا ہے کہ جو شخص اللہ کے بارے میں ایسے لغو اور لایعنی خیالات رکھے اور اللہ پر افترا کرے اس سے یہ کوئی بعید نہیں کہ وہ اللہ کے رسول اور اس پر اترنے والی کتاب کے بارے میں بھی اللہ پر جھوٹ باندھے اور افتر اکرے۔ اس پس منظر کی طرف توجہ دلانے کے بعد قرآن کریم نے ایک نہایت مسکت، سادہ اور دل کو لگنے والی دلیل دی ہے کہ تم یہ کہتے ہو کہ فلاں فلاں کو اللہ نے اپنا شریک بنا رکھا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں ہمارے سفارشی ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ تم ایک ایسی بات کہتے ہو اور ایسے لوگوں کو اللہ کے سامنے سفارشی ٹھہراتے ہو جنھیں اللہ نے اپنا سفارشی مقرر نہیں کیا۔ وہ اگر بت ہیں تو پتھروں کا ڈھیر ہیں۔ شخصیت ہیں تو اس کے عاجز بندے ہیں۔ اگر وہ جنات ہیں تو تمہاری طرح کی ایک مخلوق ہیں اور اگر وہ فرشتے ہیں تو وہ اللہ کے نہایت فرمانبردار اور معزز غلام ہیں۔ ان میں سے تو کوئی بھی اس کے سامنے سفارشی کی حیثیت نہیں رکھتا اور اس کی مرضی کے بغیر شفاعت نہیں کرسکتا۔ تو آخر جن کو تم شفاعت کرنے والا کہتے ہو، وہ کون ہیں۔ اللہ تو ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حالانکہ زمین و آسمان اور ساری کائنات اس کے سامنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح موجود اور معلوم ہے لیکن اس پوری کائنات میں اللہ کے علم میں ان کا تو کوئی وجود نہیں۔ کیا یہ مان لیاجائے کہ اللہ کا علم ناقص ہے۔ وہ کچھ جانتا ہے اور کچھ نہیں جانتا حالانکہ ایسی بات تو شاید تم بھی کہنے کی جرأت نہ کرسکو تو پھر اس کا نتیجہ ایک ہی ہوسکتا ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو اور تم جن قوتوں کو اس کا شریک سمجھتے ہو وہ اس سے نہایت بالا اور برتر ہے اور ایسے ہر شرک سے پاک ہے۔
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت۔ پھر انھوں نے اختلاف کیا اور اگر تیرے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ پاچکی ہوتی تو فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان جس چیز میں وہ باہم اختلاف کررہے تھے۔

وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا ط وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ فِیْمَا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (یونس : 19) (اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت۔ پھر انھوں نے اختلاف کیا اور اگر تیرے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ پاچکی ہوتی تو فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان جس چیز میں وہ باہم اختلاف کررہے تھے) ۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ کے ذریعے انسانوں کی متعدد گمراہیوں اور غلط تصورات کی اصلاح کی ہے جسے ہم ایک ترتیب سے عرض کرتے ہیں۔ متعدد گمراہیوں کی اصلاح 1 آج کا فلسفی یہ سمجھتا ہے اور تاریخِ انسان کا مؤرخ بھی یہ لکھتا ہے کہ انسان کی زندگی کا روئے زمین پر جب آغاز ہوا تو جس طرح انسان اپنی معاشرت میں حیوانوں کی سطح پر تھا اسی طرح اپنے مذہبی خیالات میں بھی بالکل ابتدائی حیثیت کا مالک تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا آغازغاروں سے کیا۔ موسم کی شدت سے بچنے کے لیے اس نے غاروں میں پناہ لی۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے جھونپڑا بنانا سیکھا۔ پھر اس کے اندر ایک گھر کا خیال پیدا ہوا۔ مختلف گھروں سے آبادی کے تصور نے جنم لیا جو بڑھتے بڑھتے گائوں اور شہر کی صورت اختیار کرگیا۔ حتیٰ کہ ملک اور ریاست کی صورت میں اجتماعی نظم نے ظہور کیا۔ اسی طرح انسانی تصورات میں بھی رفتہ رفتہ ترقی آئی۔ شروع شروع میں انسان نے ہر اس قوت کی پوجا کی جہاں اسے منفعت دکھائی دی۔ ہر اس چیز کے سامنے جھکا جہاں اسے طاقت نظر آئی یا جسے وہ سر نہ کرسکا۔ ہر بلند قامت چیز اس کا مسجود بن گئی اور آسمانوں پر چمکنے والے مظاہرقدرت اس کے معبود ٹھہرے لیکن جیسے جیسے اس کے مذہبی خیالات میں اصلاح ہوتی گئی ویسے ویسے وہ نقطہ حق کی طرف بڑھتا گیا تو آخر ایک دن اس نے نقطہ توحید کو اپنی منزل بنا لیا۔ اس طرح سے جہالت سے علم کی طرف، گمراہی سے ہدایت کی طرف، بیخبر ی سے خبر کی طرف اور بےعلمی سے علم کی طرف اور افتراق سے اجتماع کی طرف انسان کا سفر جاری رہا۔ تاریکی میں آنکھیں کھولنے والے انسان نے آہستہ آہستہ روشن زندگی کا راستہ پایا۔ لیکن قرآن کریم اس سے بالکل برعکس بات کہتا ہے۔ اس نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ انسان کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) جیسی شخصیت سے ہوا۔ نفس واحدہ سے انسانی مخلوق وجود میں آئی اور پھیلتی چلی گئی۔ جس طرح پہلا انسان مکمل باپ اور باشعور شوہر تھا اسی طرح وہ اپنے خالق ومالک کے بارے میں بھی مکمل شعور سے بہرہ ور تھا۔ قدرت نے اسے اپنی ضروریات کے حصول کے لیے زمین پر محنت کرنے اور تلاش و جستجو اور تحقیق و تفتیش کو رہنما بنانے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات اور بندگی کے تقاضوں کا علم اسے وحی الٰہی کے ذریعے عطا کیا گیا۔ اس لیے اس میں کسی خطا، کسی ابتدا اور کسی نارسائی کا کوئی گزر ہوسکتا تھا۔ انسانوں کو پہلے دن سے ایک خدا کی بندگی کا حکم دیا گیا۔ اسی سے ڈرنے، اسی کے سامنے جھکنے اور اسی سے مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ انسان کتنی صدیوں تک اس ہدایت پر قائم رہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چونکہ ابلیس بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی زمین پر اترا تھا اور اسے انسانوں کو گمراہ کرنے کی نہ صرف اجازت دی گئی تھی بلکہ امکانات بھی دیئے گئے تھے۔ اس نے بھی اپنا کام جاری رکھا اور آہستہ آہستہ انسانوں میں مختلف قسم کے تصورات اور اختلافات کا بیج بونے میں کامیاب ہوگیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے انسانی اصلاح کے لیے اپنے نبی اور رسول بھیجنے شروع کیے۔ ان گزارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی گمراہی بعد کی چیز ہے وہ پہلے دن اپنے ساتھ ہدایت لے کے آیا تھا اور وہ اس وقت تک ہدایت پر رہا جب تک اسے شیطان گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا اور دوسری یہ بات کہ جیسے ہی انسانوں میں گمراہی کی صورتیں پیدا ہوئیں تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان اور پہلے نبی کے ذریعے انسانوں کو ہدایت عطا فرمائی تھی اسی طرح ہر دور میں انبیاء اور کتابوں کے ذریعے انسانوں کو ہدایت عطا کی جاتی رہی۔ نبی کریم ﷺ اسی سلسلہ کی آخری کڑی ہیں۔ 2 مشرکین مکہ سے کہا جارہا ہے کہ تم گمراہی کے جس دلدل میں اترتے جارہے ہو اور تمہارے اندر بہت سے اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اس کا سبب شیطان کی پیروی ہے کیونکہ ان اختلافات کا آغاز شیطان کی پیروی سے ہوا تھا اور ہر دور میں اس کی اصلاح اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر ایمان لانے اور ان کی پیروی کرنے سے ہوئی ہے۔ آج بھی اگر تم اصلاح چاہتے ہو اور تمہیں اپنی نجات کی فکر ہے تو اس کا راستہ نبی آخرالزمان ﷺ پر ایمان اور آپ ﷺ کے اتباع کے سوا اور کوئی نہیں۔ 3 تم یہ سمجھتے ہو کہ ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی ایسے غیرمعمولی طریقے کو اختیار کیا جانا چاہیے جس کو دیکھ کر کوئی شخص ایمان لائے بغیر نہ رہے۔ لیکن یہ بات خلاف عقل بھی ہے اور خلاف تاریخ بھی۔ تم سے پہلے ایسی امتیں گزری ہیں جن کی تاریخ سے تم واقف ہو کہ ان کی گمراہی کے علاج کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں لیکن انھوں نے ایمان کے لیے معجزات کو شرط رکھا اور قسم قسم کی نشانیاں مانگیں حالانکہ عقل کی بات یہ ہے کہ انھیں ضرورت ہدایت کی ہے جو پیغمبر لے کر آتا ہے اور پیغمبر کی شخصیت اور اس کی وجاہت اس کی دلیل کے طور پر کافی ہوتی ہے۔ بایں ہمہ وہ ایک سے ایک بڑی نشانی مانگتے ہیں اور بعض دفعہ جب ان کی مطلوب نشانی انھیں دکھا دی جاتی ہے تو تب بھی وہ ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اونٹنی کا معجزہ طلب کیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اونٹنی پہاڑ سے نکلی جس کے پیچھے ایک بچہ بھی تھا اور اونٹنی اپنی ذات میں بجائے خود ایک معجزہ تھی۔ ساری بستی کا پانی وہ ایک وقت میں اکیلی پی جاتی تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انھیں بتایا کہ تمہاری بقاء اب اس بات کے ساتھ معلق ہوگئی ہے کہ تم اس اونٹنی کو کوئی آزار نہ پہنچانا۔ لیکن ان بدبختوں نے آخر اس اونٹنی کو بھی قتل کر ڈالا۔ اسی کی پاداش میں خدا کا عذاب آیا اور ان کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اس لیے یہاں بتایا جارہا ہے کہ ہر دور میں پیغمبر ہی اصلاح کا ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔ اگر تمہیں اصلاح عزیز ہے تو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائو۔ غیرمعمولی نشانیوں کی طلب نہ پہلے ایمان کا ذریعہ بنی ہے اور نہ اب بنے گی۔ پروردگار کے لیے کسی بڑی سے بڑی نشانی کو دکھا دینا کوئی مشکل نہیں۔ لیکن یہ اس کی سنت کے خلاف ہے۔ اس نے انسان کی نجات اور جزاء و سزا کا دارومدار اس بات پر رکھا ہے کہ حقیقت کو انسانوں کے حواس سے پوشیدہ رکھ کر ان کی عقل و فہم اور ضمیر و وجدان کو آزمائش میں ڈالا جائے۔ جو اس آزمائش میں پورا اترے وہ نجات کا مستحق ٹھہرے اور جو اس آزمائش میں ناکام ثابت ہو وہ آخرت میں ناکام ٹھہرے اور اگر کسی بہت بڑی نشانی کو دکھا کر کسی کو ایمان لانے پر مجبور کیا جائے تو یہ اس کی اس سنت کے خلاف ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ کسی جماعت کو ایک متعین نصاب بتادیا جائے اور یہ کہہ دیا جائے کہ اتنے عرصے بعد اس نصاب کا امتحان ہوگا جو اس میں پاس ہوگا وہ سرخرو ٹھہرے گا اور جو فیل ہوگا وہ ہر طرح کی رسوائی اور ناکامی کا مستحق ہوگا۔ لیکن وہ جماعت اس کے مقابلے میں یہ کہے کہ ہم تو اس صورت میں امتحان میں بیٹھنے کے لیے تیار ہیں کہ ہمیں قبل از وقت تمام سوالات بتا دیئے جائیں تاکہ ہم اپنی صلاحیت کے امتحان سے بچ جائیں اور محنت بھی نہ کرنی پڑے۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ کون اس مطالبے کو قبول کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کسی ایسی نشانی کا ظہور جو صاف صاف اللہ کی الوہیت، پیغمبر کی رسالت اور دین کی حقانیت کو کھول کر رکھ دے۔ اس کے بعد ایمان کی کیا حقیقت باقی رہ جاتی ہے کیونکہ حقیقت کھل جانے کے بعد تو انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سورج نکلنے سے پہلے سورج نکلنے کا یقین عقل کا امتحان ہے لیکن سورج نکلنے کے بعد سورج نکلنے کا اقرار کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ اب اس اقرار کے سوا کوئی چارا ہی نہیں۔ یہی انسان کا امتحان ہے۔ اللہ اور اس کی صفات، وحی الٰہی اور نبوت کی حقیقت، عالم برزخ اور قیامت کے آنے کے بعد تمام کائنات کا فنا ہوجانا اور پھر ایک وقت تمام انسانوں کا ازسرنو زندہ ہونا اور محشر میں حساب کتاب کے لیے پیش ہونا اور زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا یہ وہ حقائق ہیں جنھیں تسلیم کرنا ہمارے عقل و شعور پر چھوڑا گیا ہے اور حواس پر ان کی حقیقت کھولی نہیں گئی۔ آج جو بھی ان پر ایمان لاتا ہے وہ اللہ کے نبی کے اعتماد پر ایمان لاتا ہے اور اسی کی قدر و قیمت ہے جس کے نتیجہ میں نجات کی امید کی جاسکتی ہے۔ وَلَوْلاَکَلِمَۃٌ سَبَقَتْ …الخ ہر دور کے مشرکین کی طرح مشرکین مکہ بھی نبی کریم ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے کہ دنیا اور آخرت کے بارے میں ایک نقطہ نگاہ ہمارا ہے اور ایک تمھارا۔ زندگی کے بارے میں ایک طریقہ اور رویہ ہمارا ہے اور ایک تم ہمیں دینا چاہتے ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے صحیح کون سا ہے۔ آخر اس کا فیصلہ کون کرے گا اور اس اختلاف کو اتفاق میں بدلنے کی سند کس کے پاس ہے۔ تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو پھر اپنے اللہ سے کہو کہ وہ کسی غیرمعمولی طریقے سے تمہارا رسول ہونا ثابت کردے اور تم جو کچھ کہتے ہو اس کا حق اور صحیح ہونا ہمارے سامنے مبرہن ہوجائے کیونکہ جب تک ہمارے درمیان فکرونظر اور جادہ عمل کا اختلاف باقی رہتا ہے ہم تمہاری بات ماننے سے معذور ہیں۔ قرآن کریم اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے دن سے ایک فیصلہ کر رکھا ہے کہ حق و باطل اور صحیح اور غلط کا فیصلہ ہم دنیا میں نہیں، آخرت میں کریں گے۔ دنیا میں ہم نے حق و باطل میں امتیاز کے لیے تمہیں عقل دی ہے، پھر مزید آسانی کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ ان کا ذاتی سیرت و کردار اور ان کا حُسنِ اخلاق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے بڑھ کر سچے لوگ ہیں۔ پھر ان پر جو کتاب اترتی ہے اس کی ایک ایک بات اپنے اندر دلیل کی ایسی قوت رکھتی ہے جس پر شک و ارتیاب کا سایہ نہیں پڑ سکتا۔ رسولوں کی زندگی اور کتاب کی صداقت اور جامعیت سلیم الطبع لوگوں کے لیے ہدایت دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ جہاں کہیں ان کی عقل ٹھوکر کھاتی ہے پیغمبر کی تعلیم انھیں سہارا دیتی ہے لیکن اگر اس تمام انتظام کے باوجود بھی کوئی شخص راہ ہدایت اختیار نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص ہوائے نفس کا پرستار ہے۔ اس کی زندگی خواہشات کے اتباع سے عبارت ہے۔ وہ پیغمبر پر ایمان لانے سے اس لیے انکار نہیں کرتا کہ اس کے سمجھنے کے لیے اسے دلائل میسر نہیں آئے یا بات اس کے سامنے واضح نہیں ہوسکی بلکہ اس کا انکار صرف اس لیے ہوتا ہے کہ وہ خواہشات کی آزادی چھوڑ کر شریعت کی پابندیاں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حقوق و فرائض اسے زنجیر معلوم ہوتے ہیں اور اس کے پیش نظر ایسی زندگی ہے جس میں کھل کھیلنے کے امکانات ہر وقت موجود ہوں۔ ایسے شخص کے لیے اختلافات کا فیصلہ اور حق و باطل میں امتیاز اس دنیا میں نہیں، آخرت میں ہوگا جہاں ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی۔ پروردگار کا انکار کرنے والے اپنی آنکھوں سے اسے دیکھیں گے۔ جنت و جہنم کا مذاق اڑانے والے بچشم سر ہر چیز کا نظارہ کریں گے۔ یہ وہ فیصلہ ہے جو پروردگار انسانوں کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے فرما چکے ہیں۔ اب دنیا میں اس سے مختلف بات نہیں ہوسکتی۔ اگر اللہ کی جانب سے یہ فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو پھر مشرکین مکہ کے سامنے ایسی باتیں کھول کر رکھ دی جاتیں لیکن پھر وہ اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکتے۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی تو آپ کہہ دیجیے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے۔ تو تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔

وَیَقُوْلُوْنَ لَوْلَآاُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ج فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰہِ فَانْتَظِرُوْا ج اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْن۔ (یونس : 20) (اور وہ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی تو آپ کہہ دیجیے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے۔ تو تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ ) اللہ کے نبیوں کی تاریخ یہ ہے کہ انھیں جس عظیم منصب یعنی انسانوں کی ہدایت پر مامور کیا جاتا ہے وہ اس کی ادائیگی کے لیے ہمت سے بڑھ کر جان لڑاتے ہیں۔ زبان کی پوری قوت، ذہن کی تمام تر رعنائی اور قلب کا سارا سوز و گداز اس راستے میں جھونک دیتے ہیں۔ دن بھر لوگوں کو دعوت دیتے، مخالفت برداشت کرتے اور سمجھاتے گزرتا ہے اور رات کو مخالفین کی ہدایت کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ ان کی قوم ان پر مظالم توڑتی ہے لیکن وہ ان کے ساتھ انتہائی مربیانہ سلوک کرتے ہیں۔ وہ ہر ممکن طریقے سے ان کا جینا مشکل کردیتے ہیں لیکن یہ ان کی زندگی کی آسانیوں کے لیے صبح و شام انھیں دعوت دیتے ہیں۔ اپنی شخصیت کی ساری دلآویزیاں جب ان پر نچھاور کردینے کے بعد بھی ان کی طرف سے قبولیت کا امکان پیدا نہیں ہوتا تو پھر انھیں دنیا میں اللہ کے عذاب سے اور قیامت میں آخرت کے عذاب سے اس طرح ڈراتے ہیں کہ ان کے دل اس سے کا نپیں لیکن وہ اسے اپنی مخالفت نہ سمجھیں۔ کیونکہ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ نصیحت کو نصیحت سمجھ کر بہت کم قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ چیز اثراندازہوتی ہے جس میں ترغیب ہو یا ترہیب ہو۔ یعنی اسے اس کا یقین دلادیا جائے کہ تم اگر اس بات کو قبول کرلوتو تمہیں اس کے نتیجے میں یہ اور یہ کامرانیاں ملیں گی۔ اور اگر تم نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تو اس کے نتیجے میں تمہیں یہ اور یہ نعمتیں ملیں گی اور ایسی اور ایسی ناکامیوں سے واسطہ پڑے گا۔ چناچہ اللہ کے نبی اپنی دعوت کو ہمیشہ ان دونوں باتوں سے موثر بناتے ہیں اور اللہ کی کتاب بھی ہمیشہ وعدہ اور وعید کو اہمیت دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی دعوت اسلامی کی قبولیت کے نتیجے میں اچھی اور آسودہ زندگی، دنیا کی حکمرانی اور آخرت کی سرخروئی کی نہ صرف نویدسنائی بلکہ وعدہ بھی فرمایا اور عدم قبولیت کی صورت میں دو عذابوں سے ڈرایا کہ اگر تمنے اللہ کے نبی کی دعوت کو اجتماعی طور پر مسترد کردیا اور نبی کو ہجرت پر مجبور کردیا تو پھر اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا ہی میں اللہ کا ایسا عذاب ٹوٹے جس سے تمہاری جڑ کٹ جائے اور اگر مشیت الٰہی کی مصلحتوں سے دنیا میں اللہ کا عذاب نہ آئے تو آخرت میں ابدی سزا سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا اور وہ سزا ایسی ہے جسے قرآن کریم نے عذاب ِ اکبر کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ مشرکین مکہ اپنے نخوت اور تکبر کے باعث اس دھمکی اور وعید پر بہت برہم ہوتے اور بجائے اس سے مثبت اثر لینے کے آنحضرت ﷺ کا منہ چڑاتے اور بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے اور بعض دفعہ تو ان کا یہ مطالبہ استہزاء کی شکل اختیار کرجاتا۔ اس آیت کریمہ میں ” آیت “ سے دنیا کا عذاب ہی مراد ہے اور مشرکین مکہ اس کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ آخر وہ عذاب کہاں رک گیا ہے۔ اگر اسے آنا ہوتا تو اب تک آچکا ہوتا۔ ہمارے رویئے میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم نے تمہاری دعوت کا تمسخر اڑانے میں اور تمہاری ذات اور مسلمانوں کو اذیت پہنچانے میں تو کوئی کوتاہی نہیں کی تو پھر آخر تمہارا عذاب کیوں نہیں آرہا ؟ قرآن کریم نے ان کا مطالبہ نقل کرنے کے بعد اس کا نہایت مختصر جواب دیا ہے، لیکن اس کے الفاظ مختصر ضرور ہیں معنی اور مفہوم مختصر نہیں۔ مقصود کہنے کا یہ ہے کہ میں تمہاری طرف ہدایت لے کر آیا ہوں تم بجائے مجھ سے ہدایت مانگنے کے عذاب کا مطالبہ کررہے ہو۔ اللہ کے رسول، اللہ کی رحمت بن کر آتے ہیں، عذاب بن کر نہیں آتے۔ ان کی ساری کوشش تو قوم کو عذاب سے بچانے کے لیے ہوتی ہے۔ ہدایت کے لیے سعی و کاوش میں، میں نے کوئی کمی نہیں کی اور میں ہر ممکن طریقے سے تمہیں عذاب سے بچانے کی کوشش کررہا ہوں لیکن تمہاری طرف سے بار بار یہ مطالبہ ہورہا ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عذاب کا سررشتہ میرے ہاتھ میں نہیں، وہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے مجھے تمہیں آگاہ کرنے کا حکم دیا۔ میں نے تمہیں اس سے آگاہ کردیا۔ اب رہی یہ بات کہ وہ عذاب کیوں نہیں آیا تو یہ سراسر ایسی بات ہے جس کا تعلق غیب سے ہے تو مجھے اللہ نے پیغمبر بنا کے بھیجا ہے، غیب دان بنا کر نہیں بھیجا۔ عالم غیب کی ہر وہ بات جتنی اللہ تعالیٰ مجھے بتاتا ہے اور جس کا تعلق ہدایت سے ہوتا ہے، میں اسے تم تک پہنچا دیتا ہوں، لیکن جس بات کو مجھ پر اتارا نہیں جاتا اسے میں نہیں جانتا۔ اتنی بات یقینی ہے کہ تم نے اگر پہلی قوموں جیسا رویہ اختیار کیا تو جس طرح پہلی قوموں پر عذاب آیا، تم پر بھی آئے گا، لیکن وہ کب آئے گا، اس کی شکل کیا ہوگی، میں اسے نہیں جانتا۔ کیونکہ غیب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے۔ تمہیں اگر عذاب سے ڈرنے کی بجائے اس کے آنے کا انتظار ہے تو انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ البتہ میرے انتظار اور تمہارے انتظار میں فرق ہے۔ میرا انتظار اس شخص کی مانند ہے جو ایک جاں بلب مریض کو دیکھتا ہے اور اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے اسے اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ مریض کا آخری وقت دور نہیں۔ وہ اس کے آخری وقت کے انتظار میں رہتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ نہایت بےکلی اور بےچینی سے اس کی صحت کے لیے دعائیں بھی مانگتا ہے۔ لیکن تمہارا انتظار ایک تمسخر ہے لیکن تمہیں اندازہ نہیں کہ جتنی قومیں بھی عذاب کا شکار ہوئیں وہ اسے تمسخر ہی سمجھتی تھیں لیکن آخرکار اس عذاب نے انھیں تباہ و برباد کردیا اور وہ دنیا کی تاریخ میں عبرت بن کر رہ گئیں۔ اللہ نہ کرے تمہارا انجام بھی ان جیسا ہو۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو کسی تکلیف کے بعد ” جو ان کو پہنچ چکی ہے “ اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چالیں چلنے لگتے ہیں۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ اپنی تدبیر میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ بیشک ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں جو چالیں تم چل رہے ہو

وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً مِّنْ م بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْھُمْ اِذَآ لَھُمْ مَّکْرٌفِیْ ٓاٰیَاتِنَا ط قُلِ اللّٰہُ اَسْرَعُ مَکْرًا ط اِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُوْنَ مَاتَمْکُرُوْنَ ۔ (یونس : 21) (اور جب ہم لوگوں کو کسی تکلیف کے بعد ” جو ان کو پہنچ چکی ہے “ اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چالیں چلنے لگتے ہیں۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ اپنی تدبیر میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ بیشک ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں جو چالیں تم چل رہے ہو۔ ) اس آیت کریمہ میں روئے سخن مشرکینِ مکہ ہی کی طرف ہے، لیکن بات ان سے خطاب کرنے کی بجائے عام اسلوب میں کہی گئی ہے تاکہ انھیں اندازہ ہوجائے کہ وہ لوگ اللہ کی نگاہ میں اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے خطاب کیا جائے بلکہ وہ بےالتفاتی کے سزا وار ہیں۔ عام اسلوب اختیار کرنے کا ممکن ہے یہ بھی سبب ہو کہ جس بیماری اور کوتاہی کا یہاں ذکر فرمایا جارہا ہے وہ مشرکینِ مکہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جب بھی قومیں علوم و فنون میں ترقی کرتی ہیں یا خوشحالیوں میں آگے بڑھ جاتی ہیں تو عموماً ان کی سوچ اور عمل کا انداز ایسا ہی ہوتا ہے۔ پہلی معذب قوموں کی تاریخ بھی اس پر گواہ ہے اور ہر دور کے گمراہ لوگ اسی گمراہی کا ارتکاب کرتے چلے آئے ہیں۔ مشرکین کی اصل گمراہی سابقہ آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں دکھائی جاتی جو انھیں ایمان لانے پر مجبور کردے۔ تو اس آیت میں ان کے اس مطالبے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان کی اصل فکری اور عملی کمزوری کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے اللہ کی طرف سے قحط تم پر مسلط کیا گیا تھا اور وہ ایک ایسی ہی نشانی تھی جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تائید میں اہل مصر پر قحط کا عذاب بھیجا گیا تھا۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ لوگوں کے دل نرم پڑیں، اللہ کی پکڑ سے ڈریں اور پیغمبر کی دعوت کو تسلیم کریں اور اسی مقصد کے لیے اہل مکہ پر بھی قحط بھیجا گیا لیکن جب نبی کریم ﷺ کی دعا سے قحط ٹال دیا گیا اور جابجا رحمت کی بارشیں برسنے لگیں، سبزہ اگنے اور کھیتیاں بارآور ہونے کی وجہ سے جب کھانے پینے کے وسائل عام ہونے لگے تو اس بیماری نے ان کے اندر سر اٹھانا شروع کیا جو ہر دور کے گمراہ لوگوں میں سر اٹھاتی رہی ہے۔ جیسے ہی آسودگی نصیب ہوئی اور مصیبت کے بعد رحمت دیکھنے کو ملی، حالات تبدیل ہوئے، اچھے دن آئے تو بجائے اللہ کی طرف راغب ہونے کے ان کی گردنیں اکڑنے لگیں، پرانے دن پھر عود کر آئے۔ نائونوش کی محفلیں جمنے لگیں، بےحیائی عام ہونے لگی اور جب کسی نے توجہ دلائی کہ ابھی جو تم پر مصیبت گزری ہے تو بہت جلد اسے بھولے ہو تو ان کے پڑھے لکھے لوگوں اور زبان آورمقرروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اس میں کیا تعجب کی بات ہے ہر قوم پر نرم اور گرم حالات آتے ہی رہتے ہیں۔ کبھی مصیبت اور کبھی راحت، ایسے ہی ہے جیسے کبھی بہار اور کبھی خزاں۔ یہ تو اس دھرتی کی ریت ہے کہ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، پلٹ پلٹ کر آتے ہیں۔ چناچہ انھوں نے اس طرح چال بازیوں سے اپنی قوم کو خیر کی طرف آنے سے روکا حالانکہ اگر وہ معمولی سے بھی غور و فکر سے کام لیتے یا ان کی عقل مسموم نہ ہوچکی ہوتی تو یہ بات سمجھنا ان کے لیے مشکل نہ تھا کہ ہم نے قحط دور کرنے کے لیے کیسے کیسے نذرانے بتوں کے سامنے پیش کیے، کیسے کیسے چڑھاوے آستانوں پر چڑھائے اور کیسی کسی منتیں ہر اس جگہ جا کے مانیں جس جگہ کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ وہاں انسانوں کی سنی جاتی ہے، لیکن کسی طرف سے بھی اس سختی کے ٹلنے اور عذاب کے دور ہونے کی امید پیدا نہ ہوئی، لیکن جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور اس عذاب کو دور کرنے کی دعا کی تو اللہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے اس مصیبت کو اہل مکہ سے دور کردیا۔ یہ دلیل ان کے اطمینان کے لیے کافی ہونی چاہیے تھی لیکن ان کے دانشوروں نے ان کو نئی چال بازیوں میں الجھا دیا کہ قوموں کا مصیبت میں مبتلا ہونا اور پھر مصیبتوں سے نکل آنایہ تو تاریخ کی ایک ایسی روایت ہے جو ہمیشہ سے چلی آئی ہے۔ اس لیے ہمیں اس سے اثر قبول کرنے کی بجائے دنیا کا ایک معمول سمجھ کر اسے نظرانداز کردینا چاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : قُلِ اللّٰہُ اَسْرَعُ مَکْراً کہہ دیجیے اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے یعنی تم نے اپنی سخن سازیوں سے جس طرح ایک حقیقت کو روایت کہہ کر پامال کیا ہے اور اللہ کی قدرت کو مخلوق کے معمولات کی نذر کردیا ہے تمہیں اس کی سزا یہ ملے گی کہ تمہاری ان چال بازیوں کے جواب میں اللہ کی خفیہ تدبیر حرکت میں آئے گی اور وہ ایسی دھیمی اور خفیہ تدبیر ہوگی کہ بہت مشکل سے کوئی قوم اس کی گرفت سے نکلتی ہے۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ جب لوگ خوشحالیوں کی وجہ سے عیش و عشرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ کی طرف سے آنے والی تنبیہات کو نذرانداز کر جاتے ہیں تو قدرت کی طرف سے ایک تدبیر ان کے لیے سزا بن کے آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ان کی خوشحالیوں کو دراز کردیا جاتا ہے، ان کے اعمال ان کے لیے مزین کردیئے جاتے ہیں، ان کا عیش و عشرت ان کی ترقی کی علامت بنادیا جاتا ہے۔ وہ صرف مادی ترقی پر اکتفا کرکے اپنی قومی ترقی کے پیمانے بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا اخلاقی زوال، ان کے انسانی رشتوں کی تباہی، ان کے عائلی نظام کی ناکامی اور ان کے اندر بڑھتے ہوئے جرائم ان کو جگانے کی بجائے اور سلانے کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ ان کو ڈھیل پہ ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس ڈھیل کے نتیجے میں اپنے معمولات میں مست رہتے ہیں اور ادھر قدرت کے بندوبست کا حال یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے : اِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُوْنَ مَاتَمْکُرُوْنَ ۔ بیشک ہمارے فرشتے لکھتے رہتے ہیں جو کچھ وہ چال بازیاں کرتے ہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل انھیں سلائے رکھتی ہے اور وہ اپنی گمراہیوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں لیکن کارکنانِ قضاء و قدربرابر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں لگے رہتے ہیں۔ وہ ان کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک عمل کو نوٹ کرتے ہیں۔ چناچہ جب انھیں پکڑنے کا وقت آتا ہے تو یہی ان کا نامہ عمل ان کیخلاف شہادت بن جاتا ہے اور یہی شہادت یہاں بھی اور وہاں بھی ان کے لیے زنجیر ثابت ہوگی۔
Ayahs 10:22–23

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں سفر کراتا ہے۔ چناچہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور کشتیاں ان کو لے کر بادموافق کے سہارے چل رہی ہوتی ہیں اور وہ ان کشتیوں میں شاداں وفرحاں ہوتے ہیں کہ دفعۃًایک بادتند آتی ہے اور ہر طرف سے موجیں ان سے ٹکرانے لگتی ہیں اور مسافر گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ گھیر لیے گئے ہیں۔ اس وقت وہ اللہ کو پکارتے ہیں۔ اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کہ اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم شکرگزار بندے بنیں گے۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو پھر اچانک وہی لوگ بغیر کسی حق کے زمین میں سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! تمہاری سرکشی تمہارے ہی نفسوں پر پڑنے والی ہے۔ تم دنیا کی زندگی کا نفع اٹھالو پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے۔ تب ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

ھُوَالَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط حَتّٰیٓ اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ ج وَجَرَیْنَ بِھِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَّفَرِحُوْا بِھَاجَآئَ ْتھَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآئَ ھُمُ الْمَوْجُ مِنْ کِلِّ مَکَانٍ وَّظَنُّوْا اَنَّھُمْ اُحِیْطَ بِہِمْ لادَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ 5 ج لَئِنْ اَنْجْیْتَنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ فَلَمَّآ اَنْجٰھُمْ اِذَا ھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ ط یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُکُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ لا مَّتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ز ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجُعْکُمْ فَنُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (یونس : 22۔ 23) (وہی ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں سفر کراتا ہے۔ چناچہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور کشتیاں ان کو لے کر بادموافق کے سہارے چل رہی ہوتی ہیں اور وہ ان کشتیوں میں شاداں وفرحاں ہوتے ہیں کہ دفعۃًایک بادتند آتی ہے اور ہر طرف سے موجیں ان سے ٹکرانے لگتی ہیں اور مسافر گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ گھیر لیے گئے ہیں۔ اس وقت وہ اللہ کو پکارتے ہیں۔ اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کہ اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم شکرگزار بندے بنیں گے۔ (پھر جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو پھر اچانک وہی لوگ بغیر کسی حق کے زمین میں سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! تمہاری سرکشی تمہارے ہی نفسوں پر پڑنے والی ہے۔ تم دنیا کی زندگی کا نفع اٹھالو پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے۔ تب ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ ) ان دو آیتوں میں توحید کی ایک ایسی دلیل بیان کی گئی ہے جو ہر انسان کے نفس میں موجود ہے اور انسان کی گمراہی کی بھی ایک ایسی سند بیان کی گئی ہے جو تمام بگڑی ہوئی قوموں کی کہانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کو اپنا بندہ بنایا اور خلافت کا شرف بخشا لیکن انسان اپنی بندگی کو مختلف عوارض کے باعث بار بار بھولتا ہے۔ پروردگار کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے انسان کو اس بھول سے بچانے کے لیے ایسے انتظامات کیے ہیں کہ اگر انسان واقعی ان سے فائدہ اٹھا کر صحیح راستے پر چلنا چاہے تو اس کے لیے کبھی دشواری پیش نہ آئے۔ پہلا انتظام تو پروردگار نے یہ فرمایا کہ انسانوں کے دنیا میں آنے سے پہلے عالم ارواح میں ان سے ایک عہد لیا گیا جسے عہد الست کہتے ہیں۔ اس نے اپنی توحید کا بیج ہر شخص کی روح میں بودیا۔ دنیا میں آنے کے بعد جب مختلف عوارض نے اس بیج کو بڑھنے سے روکا بلکہ اس کے مرجانے کے امکانات پیدا کردیئے تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے گردوپیش میں ایسی نشانیاں اٹھا دیں کہ اگر ہم کھلی آنکھوں سے ان کا نظارہ کریں تو وہ ہمیں اس عہد کی یاد دلانے کے لیے کافی ہیں۔ سورج چمکتا ہے، چاند دمکتا ہے، ستارے ٹمٹماٹے ہیں، پھول مہکتا ہے، کلیاں چٹکتی ہیں، بہاریں مسکراتی ہیں، سبزہ مخمل کی طرح ہمارے قدم چومتا ہے، درختوں کی چھتریاں ہمیں سایہ دیتی ہیں، گرتی ہوئی آبشاریں، ابلتے ہوئے چشمے ہمارے سامنے حسن کی آغوش وا کردیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خود ہمارے اندر احساسات اور انفعالات کی ایک دنیا ہے جو دل کی دھڑکنوں سے وجود میں آتی ہے اور دماغ کی رعنائیاں ہیں جو کبھی اسے عشق کی بےتابیاں بخشتی ہیں اور کبھی حسن کا زیور پہنا دیتی ہیں۔ ان میں سے ایک ایک چیز ہمیں نہ صرف اللہ کے وجود کی طرف بلاتی ہے بلکہ اس کے جمال کی رعنائیاں بھی دکھاتی ہے۔ اسی طرح جب گھنگھور گھٹائیں جھوم کے اٹھتی ہیں اور پر بت پر چھائونی چھا جاتی ہے پھر بجلی کی کڑک اور بادل کی گرج، پہاڑوں کی سربفلک ایستادگی، لاوا ابلتے ہوئے پہاڑوں کی آتش فشانی، جنگل میں شیر کی دھاڑ اور چیتے جیسے درندوں کی برق رفتار تیزی جیسے مناظر ہیں جن میں سے ایک ایک چیز اللہ کے جلال کا ظہور ہے۔ جب بھی کوئی شخص کائنات کی ان چیزوں کو غور سے دیکھتا ہے تو اگر اس کی عقل نارسا واقع نہیں ہوئی تو وہ یقیناً پسِ پردہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسی ہر کوشش جو اپنے پہلو میں اخلاص بھی رکھتی ہو کبھی نہیں ہوسکتا کہ دیکھنے والے کو خالق کی طرف رہنمائی نہ کرے۔ وہ پھول کی ایک پنکھڑی کو لے کر بیٹھ جائے تو اس کی نزاکت، خوشبو اور رنگ و آہنگ اسے خالق کا پتہ دیتے ہیں لیکن اگر انسانوں نے اپنے ہی اڑائے ہوئے غبار میں اپنے عقل و شعورکو بری طرح کند کرلیا ہو تو پھر اللہ کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے وحی الٰہی کے ذریعے اپنے پاکیزہ انسانوں کو رسول بنا کر ان پر کتابیں نازل کرکے انسان کی ضرورت کو نہایت آسان کردیا، لیکن پروردگار کے انھیں فیوض و عنایات کی ایک کڑی یہ بھی ہے کہ اس نے بعض دلیلیں انسان کی فطرت میں اتاری ہیں جس سے کام لے کر انسان بڑی آسانی سے اپنے اللہ کو پہچان سکتا ہے۔ چناچہ انھیں فطری دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے جس کو مثال کے طور پر اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے لیکن اس کو بیان کرنے سے پہلے ایک لفظ سے ان پردوں کو ہٹانے کی کوشش فرمائی ہے جو انسان کے لیے ایسی رہنمائی کے راستے میں موانع بن جاتے ہیں۔ مثلاً آدمی بروبحر میں سفر کرتا ہے، ہوائوں میں اڑتا ہے تو وہ کبھی اس پر توجہ نہیں کرتا کہ وہ جن وسائل سے کام لے رہا ہے کیا یہ وسائل اس نے پیدا کیے ہیں۔ وہ جن صلاحیتوں اور قوتوں سے کام لے کر وسائل کو خدمت کرنے پر مجبور کرتا ہے ان کے بارے میں کبھی سوچنے کی زحمت نہیں کرتا کہ کیا وہ ان کا خالق ہے۔ اس لیے اس کمزوری کی طرف توجہ دلانے کے لیے فرمایا : ھُوَالَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْر اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں بر و بحر میں سفر کراتا ہے ورنہ تم خود اس قابل نہیں تھے۔ جب تم اپنی مائوں کے پیٹوں سے پیدا ہوئے تھے ” لاَ تَعْلَمُوْنَ شَیئاً “ تم کچھ نہیں جانتے تھے، پرندوں اور حیوانوں کے بچے پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو پہچانتے اور اپنی غذا کو تلاش کرلیتے ہیں لیکن انسان کا بچہ کئی مہینوں تک نہ اپنی ماں کو پہچانتا ہے نہ باپ کو۔ اسے صرف بھوک کا احساس دیا گیا ہے۔ اس لیے وہ بھوک لگنے پر روتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ میری غذا کا مرکز کہاں ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ پھر میں نے ضرورت کے مطابق قوت سماعت سے نوازا، قوت مشاہدہ عطا کی، دل و دماغ کی قوتیں بخشیں، حتیٰ کہ ان علوم اور حقائق کے لیے جہاں حواس و عقل کافی نہیں تھے وحی الٰہی کا نور روشن کیا، جس نے تمہیں زندگی کے سفر میں درجہ بدرجہ رہنمائی عطا کی۔ اس لیے تمہیں پہلے اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ تمہاری زندگی میں جولانیاں، تگ و تاز اور ہمہ ہمی یہ تمہاری ہمت سے نہیں بلکہ اللہ کی عطا سے ہے۔ تمہاری ایجادات بھی، تمہارے غور و فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ اچانک اس کی طرف سے الہام سے ہے۔ نیوٹن ہر روز باغ سے سیب گرتے دیکھتا تھا لیکن کبھی اس پرکشش زمین کا عقدہ نہیں کھلا اور یہ اس وقت کھلا جب اللہ نے اس کے دماغ میں اسے الہام کیا۔ اگر آدمی اس نقطے ہی کو سمجھ لے تو وہ زندگی کے سفر میں روانہ ہونے اور کشتیوں پر سوار ہونے سے پہلے اللہ کی توحید سے ہم آغوش ہوجائے، لیکن اس کے پیشگی تغافل کو دیکھتے ہوئے اللہ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آگے مزید دلائل کا باب کھول دیا جس سے ہمیں فطرت کی رہنمائی کی طرف رہنمائی ملی اور یہ ایک ایسی رہنمائی ہے جس میں فطرت، حواس اور عقل ہم آغوش ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ عرب اپنی ہر ضرورت اور اپنی ہر مشکل میں ان قوتوں کو پکارتے تھے جنھیں وہ اللہ کا شریک سمجھتے تھے۔ چناچہ کبھی بتوں کی جے پکاری جاتی، کبھی ان کے سامنے دست ِ سوال دراز کیا جاتا، کبھی ان کے نام کے چڑھاوے چڑھائے جاتے۔ اسی طرح کبھی جنات اور کبھی فرشتوں سے استمداد کی جاتی۔ عام زندگی میں ان کا یہی معمول تھا۔ اسی طرح جب وہ سفر پر روانہ ہوتے تو روانہ ہونے سے پہلے وہ انھیں قوتوں سے مدد طلب کرتے ہوئے سفر کا آغاز کرتے، لیکن بحری سفر میں جب کبھی ان کی کشتیاں یا بحری جہاز سمندری طوفان کی زد میں آجاتے جس کا حوالہ اس آیت کریمہ میں دیا گیا ہے۔ ہوائوں کے تھپیڑے اور سمندر میں اٹھتی ہوئی موجیں ان کی کشتیوں کو ٹوٹے ہوئے تختوں کی طرح ادھر ادھر پھینکنا شروع کردیتیں تو اب وہ سمجھ جاتے کہ اس ہولناک طغیانی اور منہ زور طوفان میں وہ قوتیں ہمارے کام نہیں آسکتیں جنھیں ہم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔ چناچہ ایسی حالت میں وہ صرف اللہ کو پکارتے اور یہ سمجھتے کہ وہ ایک ہی ذات ہے جو اس مصیبت سے ہمیں نجات دے سکتی ہے۔ عکرمہ بن ابی جہل جسے اسلام دشمنی اپنے باپ سے ورثے میں ملی تھی۔ فتحِ مکہ تک کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں وہ شریک نہ ہوا ہو اور فتح مکہ میں بھی اس نے ہر ممکن طریقے سے راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن جب کوئی صورت کامیاب نہ ہوئی اور اپنے اعمال کے آئینے میں اسے اپنی موت یقینی دکھائی دی تو اس نے عافیت اسی میں سمجھی کہ وہ مکہ سے بھاگ جائے۔ چناچہ وہ موقع ملتے ہی یمن بھاگ گیا۔ اس کی بیوی مسلمان ہوگئی۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ اس کا شوہر یمن چلا گیا ہے تو وہ بھی کوشش کرکے اس کے پیچھے یمن پہنچی اور اسے سمجھا کر اپنے ساتھ مکہ معظمہ لے آئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی واپسی میں جس چیز نے سب سے اہم کردار ادا کیا وہ یہ تھی کہ جب وہ ایک کشتی پر یمن جارہا تھا تو راستے میں سمندری طوفان نے ان کی کشتی کو گھیر لیا۔ اہل کشتی نے اپنی روایت کے مطابق شروع شروع میں اپنے بتوں سے مدد طلب کی، جنات کو پکارا اور فرشتوں کی دہائی دی، لیکن جب دیکھا کہ یہ طوفان ٹلتا نظر نہیں آتا اور ہلاکت یقینی ہے تو آپس میں کہنے لگے کہ ایسے ہولناک طوفان سے اللہ کے سوا ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ اگر واقعی بچنا چاہتے ہو تو اللہ ہی کو مدد کے لیے پکارو۔ چناچہ جب انھوں نے اللہ کو مدد کے لیے پکارنا شروع کیا تو ایک خیال عکرمہ کے دل میں بجلی کی طرح کو ندا کہ محمد ﷺ گزشتہ 21 سال سے ہمیں یہی بات سمجھاتے رہے کہ لوگو ! اللہ کے سوا کوئی نفع و ضرر کا مالک نہیں۔ تمام قوتیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ جب بھی مانگو اسی سے مانگو۔ انسان کو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے۔ تمام مخلوقات اس کے لیے مسخر کی گئی ہیں۔ وہ ان سے خدمت لینے کا حق رکھتا ہے۔ وہ ان کا مسجود بھی ہے اور مخدوم بھی۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ مخدوم اٹھ کر خادم کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ ہاتھ پھیلانا صرف اللہ کے سامنے روا ہے، جس طرح اس کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کیا جاسکتا، کسی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہوا جاسکتا، اسی طرح مدد کے لیے کسی اور سے فریاد بھی نہیں کی جاسکتی۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے 21 سال تک ہمیں سمجھایا گیا، لیکن ہم نے بجائے ان کی بات ماننے کے، ان سے لڑائیاں لڑیں اور زندگی کا ہر دکھ پہنچایا۔ اور آج میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم خود اسی خدا کو پکارنے پر مجبور ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی بات فطرت کی آواز ہے اور یہی ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تو پھر میں کس قدر بیوقوف ہوں کہ جس نے آج تک ہمیں یہ روشنی دکھائی، میں اسی کی دشمنی کو سینے سے لگائے مکہ سے بھاگ آیا اور اب سایوں کا تعاقب کررہا ہوں اور نئی سے نئی پناہ کی امید رکھتا ہوں۔ مجھے واپس جانا چاہیے۔ ہدایت کا سرچشمہ اسی عظیم رسول کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں جب ان سے معافی مانگوں گا اور اپنے گناہوں کا اقرار کروں گا تو وہ کریم ابن کریم ضرور میرے گناہوں سے درگزر کرے گا۔ چناچہ یہی وہ دلیل تھی جس نے عکرمہ کو بدلا اور ان کی زوجہ محترمہ کو انھیں ساتھ لانے میں آسانی ہوئی۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ عکرمہ جیسے ہی یمن سے واپس آکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے جرائم اگرچہ اس کے قتل کے لیے کافی تھے لیکن بار بار آنحضرت ﷺ کا عفو و درگزر اس کی ہمت بندھاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے جیسے ہی اسے دیکھا بےساختہ اس کے استقبال کے لیے یہ کہتے ہوئے اٹھے مَرْحَبًا بِالرَّاکِبِ الْمُہَاجِر (مہاجر سوار کے لیے خوش آمدید) آپ ﷺ نے خوشی سے اس کا اسلام قبول کیا اور اس کی سالہاسال کی عداوت اور دشمنی کا بھول کر بھی تذکرہ نہ فرمایا۔ یہ واقعہ ہمیں بتانے کے لیے کافی ہے کہ انسان کی فطرت میں توحید کے برحق ہونے کی دلیل موجود ہے بشرطیکہ کوئی اس پر غور کرنے کی زحمت کرے۔ اس آیت میں اللہ کریم فرما رہا ہے کہ اسی فطرت سے مجبور ہو کر یہ لوگ طوفان میں گھر کر جب اللہ کو پکارتے ہیں تو اس وقت یہ وعدہ کرتے ہیں کہ یا اللہ اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم تیرے ہی لیے اطاعت کو خالص رکھیں گے اور تیرے شکرگزار بندے بن کر رہیں گے لیکن عجیب بات یہ ہے جس کا تذکرہ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ انھیں نجات دے دیتا ہے اور وہ عافیت سے اپنے ٹھکانے پہنچ جاتے ہیں اور ہر طرح کے خطرے سے محفوظ ہوجاتے ہیں تو پھر ان میں اللہ سے سرکشی اپنا رنگ دکھاتی ہے اور وہ اللہ کی زمین میں پھر بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ ان کی اطاعت کا رشتہ پھر غیر اللہ سے استوار ہوجاتا ہے۔ حق سے منحرف ہوکر ناحق کے پرستار بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نہایت بردباری اور محبت کے ساتھ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ” اَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّمَا بَغْیَکُمْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ “ اے لوگو ! تمہاری سرکشی تمہیں پر پڑے گی۔ روئے سخن اگرچہ قریش مکہ کی طرف ہے لیکن الناس سے پوری نوع انسانی کو خطاب ہے۔ کیونکہ ہدایت صرف قریش مکہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری نوع انسانی کا ہے۔ اور جس گمراہی میں قریش مکہ مبتلا ہیں انسان من حیث الانسان عموماً اسی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں کہ جب بھی مصبتوں اور دکھوں کے بعد آسانی ملتی ہیں، خوشحالی کا دور دورہ ہوتا ہے، دولت کی ریل پیل ہوتی ہے، حالات ہر طرح سے موافق ہوتے ہیں تو انسان عموماً یہ بات بھول جاتا ہے کہ میرا کوئی خالق بھی ہے۔ مجھے کسی نے زندگی گزارنے کا طریقہ بھی دیا، اس کے کچھ اوامر اور نواہی بھی ہیں۔ میں یہاں آزادروی کے لیے نہیں بھیجا گیا اور نہ من مرضی مجھے زیب دیتی ہے۔ میں جس کی مخلوق ہوں اسی کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی ہی میرا فریضہ حیات ہے۔ لیکن انسان میں عجیب کمزوری ہے کہ جب اسے ڈھیل ملتی ہے اور اس پر نعمتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ہر طرح کی آسائشیں اس کا مقدر بن جاتی ہیں تو بجائے اس کہ وہ پہلے سے بڑھ کر اللہ کا شکرگزار ہو۔ وہ اللہ کو بھولنے لگتا ہے بلکہ اس کے احکام سے انکار اس کی روش بن جاتی ہے۔ وہ اللہ کی زمین پر رہتا ہے، اسی کا دیا ہوا رزق کھاتا ہے اور اسی کی نعمتوں سے شادکام ہوتا ہے لیکن اسی کیخلاف سرکشی کرتا ہے اور اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہاں پروردگار فرما رہے ہیں کہ لوگو ! تم نے جو سرکشی کا رویہ اختیار کرلیا ہے تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ یہ رویہ تمہیں لے بیٹھے گا۔ یہی نعمتیں تمہارے لیے وبال جان بن جائیں گی۔ تمہارا زندگی کا چلن زندگی کے لیے عذاب بن جائے گا۔ جب اس زمین پر بسنے والی ہر قوم انسانیت کا جامہ تار تار کردے گی اور دوسری قوموں پر اپنی برتری جتانے کے لیے تباہ کن ہتھیار ایجاد کرے گی اور حقوق و فرائض سے لاتعلقی کے باعث جس طرح گھراجڑیں گے اور معاشرہ تباہ ہوگا اسی طرح جب قومیں قوموں کے حقوق کو پہچاننے سے انکار کردیں گی تو ہر قومی وحدت دوسری قومی وحدت سے ٹکرائے گی۔ ملک، ملکوں سے دست و گریباں ہوں گے۔ یہی زمین جو آغوش مادر کی طرح انسان کو راحت دیتی ہے، پناہ دینے سے انکار کردے گی۔ جس طرح امریکہ کا دماغ خراب ہوا اس نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم پھینک کر قیامت برپا کردی۔ اب پھر اسے دنیا کا خدا بننے کا سودا ہوا ہے تو وہ ملک اجاڑنے پر تل گیا ہے اور ہر قوم سے اپنا کلمہ پڑھوانا چاہتا ہے۔ کمزور اور مظلوم ملکوں میں تو آج بھی ظلم کا بسیرا ہے۔ لیکن ایک نہ ایک دن ردعمل شدید ہوگا اور کوئی مقابل طاقت اٹھے گی تو پھر اس زمین پر سرکشی ہر ملک اور ہر گھر کی تباہی کا باعث بنے گی۔ پروردگار ان ظالموں سے خطاب کرکے فرما رہے ہیں کہ آج اگر تمہارا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں اور تمہاری قوتوں کا جواب کسی کے پاس نہیں تو یہ مت بھولو کہ کائنات کو پیدا کرنے والے نے کائنات کو انسانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا ہے۔ تم ایک حد تک ظلم کی رسی دراز کرسکتے ہو لیکن اس کا پیدا کرنے والا دیر تک اس کی مہلت نہیں دیتا۔ ایک وقت آئے گا جب افراد کی طرح قومیں بھی اللہ کی طرف لوٹنے پر مجبور ہوں گی۔ جو پید ہوا ہے اسے ایک نہ ایک دن اللہ کے سامنے حاضری دینی ہے۔ اس کائنات کا سفر اسی کی ذات کی طرف ہے، وہی اس کا منتہا ہے اور وہی اس کا مرجع ہے۔ اس کی بارگاہ میں سب بےبس اور بےکس ہوں گے۔ آج پر اپیگنڈے اور ذرائع ابلاغ کے زور سے غلط کو صحیح بنا کر پیش کیا جارہا ہے اور سادہ لوح لوگ بعض دفعہ اس پر یقین کرلیتے ہیں لیکن اللہ کی عدالت میں نہ سخن سازی کام آئے گی، نہ ڈپلومیسی چلے گی سب کروفر یہیں پڑا رہ جائے گا۔ تباہ کن ہتھیار بھی تباہ ہوجائیں گے۔ قوتوں کا بھرم کھل جائے گا۔ آج کے تیمور اور چنگیز وہاں نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے سامنے ظالموں کا ظلم مبرہن کرکے رکھ دے گا۔ نہایت پردوں میں کی ہوئی سازشیں سرعام بولیں گی جس طرح انسان کا جسم اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دے گا اسی طرح ہر وہ جگہ بولے گی جہاں ظلم ہوا۔ ہر مظلوم کو انصاف ملے گا، جن آلات سے ظلم توڑا گیا اور ناانصافیاں کی گئیں وہ آلات اپنے کرنے والوں کے خلاف گواہی دیں گے۔ ہر طرف سے آواز آئے گی : یہاں لٹی تھی کسی کی عصمت وہاں گرا تھا لہو کسی کا یہاں جلائے گئے تھے انسان ہر ایک شے کا حساب ہوگا کاش ہر دور کا انسان یہ بات سمجھ لے : قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین کا سب چھوٹے بڑے انسان جب اپنا نامہ عمل دیکھیں گے تو یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی کہ کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس میں درج ہونے سے رہ گیا ہو۔ انسان چیختا ہوا کہے گا مَالِہٰذَا الْکِتَابُ لاَیُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَلاَ کَبِیْرَۃً اِلاَّاَحْصَاھَا وَوَجْدُوْامَاعَمِلُوْا حَاضِراً یہ نوشتہ کیسا ہے نہ اس میں کوئی چھوٹی بات چھوٹنے پائی ہے نہ کوئی بڑی بات۔ مگر اس نے سب کچھ شمار کر ڈالا ہے اور سب لوگ جو کچھ انھوں نے کیا ہے اس میں موجود پائیں گے۔