Ayah 10:45وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْٓا اِلاَّ سَاعَۃً مِّنَ النَّھَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَہُمْ ط فَدْخَسِرَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآئِ اللّٰہِ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ ۔ (یونس : 45)
(اور جس روز اللہ انھیں جمع کرے گا (اس دن وہ محسوس کریں گے) کہ گویا وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (تب حقیقت کھلے گی) کہ نامراد ہوئے وہ لوگ جنھوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور وہ ہدایت حاصل کرنے والے نہ بنے۔ )
مشرکین مکہ کی ایک اور فکری گمراہی
مشرکینِ مکہ کے افکارِ فاسدہ پر تنقید ہورہی ہے۔ ان کی ایک اور فکری گمراہی اور کج روی کا ذکر فرمایا جارہا ہے جسے ہم دو پہلوئوں سے زیر بحث لاسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس دور کا بگڑا ہوا انسان اولاً تو قیامت کا انکار کرتا تھا اور اگر کبھی بےدلی سے اقرار کرتا تو اس سے متاثر ہونے کی بجائے یہ کہتا کہ ہم ابھی سے اس آخرت کو اپنے دماغوں پر سوار کرلیں جس کے بارے میں معلوم ہی نہیں کہ اس کے آنے میں کتنی صدیوں کا فاصلہ حائل ہے۔ انسانی سفر پر صدیاں بیت گئیں اور قیامت کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیئے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مزید کتنی صدیاں انتظار کرنا ہوگا۔ آخر اس کے انتظار میں کون بیٹھا رہے۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ تھا کہ قیامت کے دن کی جوابدہی ایک مذاق بن کے رہ گئی تھی۔ اعمال کا تول ایک افسانہ معلوم ہوتا تھا۔ جنت جہنم کے واقعات لوگوں کی عقلوں پر گراں گزرتے تھے۔ لوگ عموماً جھلا کر یہ بات کہتے کہ :
جب حشر کا دن آئے گا
اس وقت دیکھا جائے گا
اور مسلمانوں میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اس طرح کا تصور رکھتے ہیں۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت بھی اور آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو زندگی کے معاملے میں ہرگز سنجیدہ نہیں۔ ایسی باتیں ان کی سوچ پر گراں گزرتی ہیں کہ کبھی یہ عیش و عشرت کا زمانہ سمٹنے والا بھی ہے۔ وہ دنیا کی لذتوں میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ اس کی بےثباتی کی طرف کبھی ان کا دھیان نہیں جاتا۔ جنازے ان کے سامنے اٹھتے ہیں، ایک سے ایک بڑا حادثہ ہوتا ہے، ہر سو عبرت کے نمونے بکھرے ہوئے ہیں لیکن رنگ و بو نے انھیں اس طرح اندھا کر رکھا ہے کہ وہ کبھی یہ سوچنے کی بھی زحمت نہیں کرتے کہ جس فریبِ نظر پر ہم ریجھے ہوئے ہیں اس کی عمر چند روز سے زیادہ نہیں۔
ان دونوں پہلوئوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ فرمایا جارہا ہے کہ جس دن میدان حشر میں اللہ لوگوں کو جمع کرے گا اور پھر وہ پیچھے پلٹ کر دنیا میں گزری ہوئی زندگی پر ایک نظر ڈالیں گے اور اپنے سامنے آخرت کی بےپایاں زندگی دکھائی دے گی تو جس زندگی کو وہ اس قدر دراز سمجھتے تھے کہ اس کے بارے میں سوچنا بھی گوارا نہ تھا اور جس کے عیش و عشرت پر اس قدر مفتون تھے کہ کبھی انھیں یقین نہیں آتا تھا کہ عیش و عشرت کا یہ زمانہ کبھی ہم سے چھوٹ بھی سکتا ہے یا ہم اس زمانے سے بھی الگ کیے جاسکتے ہیں۔ اب میدان حشر میں دنیا میں گزاری ہوئی زندگی اور وہاں کی عشوہ طرازیاں انھیں ایک فریب دکھائی دیں گی۔ سالہاسال میں گزرنے والی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک لمحہ محسوس ہوگی اور وہ اپنے دائیں بائیں پھیلی ہوئی خلق خدا کو دیکھیں گے تو ہر چہرہ شناسا دکھائی دے گا۔
قرآن کریم نے ان حقائق کو بعض مثالوں سے اسی لیے واضح فرمایا ہے تاکہ قیامت سے پہلے آدمی زندگی کی حقیقت کو سمجھ لے اور قیامت کی حقیقت کا بھی ادراک کرلے۔ اصحابِ کہف کا قصہ بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ جب تقریباً تین صدیاں گزرنے کے بعد غار والے جاگے تو ایک دوسرے سے پوچھا کہ ہم کتنی دیر سوئے رہے تو سب کا خیال تھا کہ ایک دوپہر گزری ہے یا ایک پورا دن گزر گیا، لیکن وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ہم تین صدیاں گزار چکے ہیں۔ دنیا میں گزری ہوئی تین صدیاں انھیں چند لمحے محسوس ہورہے تھے۔
حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ بھی اسی حقیقت کو واشگاف کرنے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ ایک تباہ شدہ بستی پر جب وہ گزرے تو اللہ نے وہاں ان پر موت طاری کردی۔ سو سال کے بعد انھیں زندہ کیا گیا۔ پوچھا ” کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْماً اَوْبَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَۃَ عَامٍ “ یہاں کتنی دیر ٹھہرے ہو۔ کہا ایک دن رہا ہوں یا دن کا ایک حصہ۔ اللہ نے فرمایا تم یہاں سو سال گزار چکے ہو۔
ان واقعات سے بتانا یہ مقصود تھا کہ جس آخرت کو تم دور سمجھتے ہو کیونکہ درمیان میں ایک لمبی زندگی حائل ہے جب وہ آخرت آئے گی تو تمہیں دنیا کی زندگی چند لمحوں سے زیادہ محسوس نہیں ہوگی اور دنیا کی جس عیش و عشرت پر آج تم مفتون ہو اور اس سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے جب آخرت کی نعمتوں یا اس کی سزائوں کو دیکھو گے تو تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم کس فریبِ نظر کا شکار تھے۔ تب تم چیختے ہوئے کہو گے کہ وہ لوگ برباد ہوگئے جن لوگوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کو جھٹلایا کیونکہ اصل حقیقت تو قیامت ہی تھی وہی انسان کی حقیقی منزل تھی۔ وہی دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کا انعام تھی یا سزا تھی اس کا انکار کرکے یا اسے بھلا کر ہم نے اپنا سب کچھ برباد کردیا اور اس بربادی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ ہم اپنی منزل کا سراغ نہ پا سکے۔
Ayah 10:46وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ ثُمَّ اللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَایَفْعَلُوْنَ ۔ (یونس : 46)
(یا ہم آپ ﷺ کو اس کا کچھ حصہ دکھا دیں گے جس کا ان سے وعدہ کررہے ہیں یا ہم آپ ﷺ کو اٹھا لیں گے۔ ہر حالت میں ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہوگا۔ پھر اللہ گواہ ہے اس پر جو وہ کرتے ہیں۔ )
عذاب سے متعلق مشرکین کی غلط فہمی
مشرکینِ مکہ کو قیامت کے آنے سے انکار تھا یا وہ اس کے بارے میں شبہ میں مبتلا تھے اور اگر انھیں اقرار تھا بھی تو ان کے بعض احساسات نے اس اقرار کو بےمعنی کر رکھا تھا۔ قرآن کریم میں گزشتہ آیت کریمہ میں اسی کی تردید فرمائی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ان کا رویہ قیامت ہی کے بارے میں غلط نہیں بلکہ آپ انھیں جس عذاب سے ڈراتے ہیں انھیں اس عذاب کے آنے میں بھی شبہ ہے بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ انکار ہے۔ عذاب کیوں آتا ہے اور کس طرح آتا ہے اس کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوچکا ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مشرکینِ مکہ پر ابھی تک عذاب نہ آنے کا سبب یہ تھا کہ وہ اگرچہ اسلام کی مخالفت اور آنحضرت ﷺ کو اذیت دینے میں تمام حدود سے تجاوز کرچکے تھے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں ایمان کی قبولیت کا سلسلہ بالکل ختم نہیں ہوا تھا۔ خاموشی سے گھروں میں بعض لوگ اسلام قبول کرچکے تھے لیکن اس کا اظہار نہیں کرتے تھے اور یہ مخفی قبولیتِ ایمان کا سلسلہ برابر وقفے وقفے سے جاری رہا ہے اور اسی نے اہل مکہ کو اللہ کے عذاب سے بچائے رکھا۔ ان کے قتل کے منصوبوں نے اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا اور ہجرت کے بعد حق و باطل کے معرکے میں بھی وسعت آگئی۔ پہلے صرف اذیت رسانی تھی اور اسلام کو روکنے کی کوششیں تھیں لیکن اب کفراجتماعی طور پر اسلام پر یلغار کرنے لگا اور اسلام کو مٹانے کی تدبیریں بروئے کار آنے لگیں۔ لیکن جہاں تک قبولیتِ ایمان کا تعلق ہے اس میں ان حالات کے باوجود مکمل انقطاع نہیں ہوا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ اہل مکہ مکمل عذاب سے کیونکر محفوظ رہے۔ البتہ اس بات کا امکان بہرحال باقی تھا کہ انھیں دنیا میں عذاب کا کچھ نہ کچھ مزہ چکھایا جائے اور مکمل عذاب قیامت پر اٹھا رکھا جائے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا گیا ہے کہ یہ بدنصیب لوگ مکمل عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ انھوں نے اسے مذاق سمجھ رکھا ہے۔ لیکن اللہ کی مشیت اپنی سنت کے مطابق اس بڑے عذاب سے تو انھیں محفوظ رکھے گی البتہ عذاب کا ایک آدھ جھٹکا آپ ﷺ کی زندگی میں ہی انھیں ضرور دیا جائے گا۔ چناچہ جنگ بدر اہل مکہ کے لیے عذاب کا ایک جھٹکا تھا جس سے انھیں ہوا کا رخ پہچاننے یعنی اللہ کی مشیت کو سمجھنے میں آسانی ہوسکتی تھی۔ جہاں تک بڑے عذاب کا تعلق ہے وہ دنیا میں نہیں آتا بلکہ اس سے واسطہ قیامت کے دن پڑے گا۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ لوگ اگر چھوٹے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے دن انھیں بہرصورت اللہ ہی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ وہاں انھیں اس عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا اور تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ہم دنیا میں جو کچھ کرتے رہے ہیں اس کا انجام کتنا بھیانک نکلا ہے۔
Ayah 10:47وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ ج فَاِذَا جَآئَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔
(یونس : 47)
(ہر امت کے لیے ایک رسول ہے، پس جب آجاتا ہے ان کا رسول تو ان کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جاتا ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے۔ )
اتمامِ حجت کے بعد فیصلہ کردیا جاتا ہے
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کا کام جس طرح اپنے ذمہ لے رکھا ہے اس کو بطوراصول کے ذکر فرمانے کے بعد اہل مکہ کو بات سمجھانے کی کوشش فرمائی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔ اس نے جہاں جہاں بھی کوئی مخلوق پیدا فرمائی ہے وہاں وہاں اس کی ضرورتوں کا انتظام بھی فرمایا ہے۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر مخلوق کی ضرورتیں دو طرح کی ہیں۔ ایک یہ کہ اسے زندگی گزارنے اور زندگی کی بقا کے لیے اسباب دستیاب ہونے چاہئیں۔ اسے غذا ملنی چاہیے، موسم کی شدت سے بچائو کا سامان ہونا چاہیے، حوادث سے رکاوٹ کے لیے کوئی پناہ ہونی چاہیے، بیماری کی صورت میں علاج معالجہ کا سامان ہونا چاہیے اور اگر اس مخلوق کے سلسلے کو باقی رکھنا ہے تو توالد و تناسل کی سہولت ہونی چاہیے اور دوسرا یہ کہ ان تمام چیزوں کو مہیا کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے اور اس سے محظوظ ہونے کا طریقہ بھی معلوم ہونا چاہیے۔ یعنی زندگی میں جو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں انھیں حاصل کرنے اور پھر ان سے مستفید ہونے کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے۔ چناچہ یہی وہ بات ہے جسے قرآن کریم نے ہدایت سے تعبیر کیا۔ چناچہ فرعون کے سوال کرنے پر کہ اے موسیٰ تمہارا رب کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہمارا رب وہ اللہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اسے ہدایت عطا فرمائی۔ پرندوں کو اڑنا سکھایا، مچھلیوں کو تیرنا سکھایا، چرند اور درند کو جنگلوں میں دوڑنا اور شکار کرنا سکھایا۔ کلی کو چٹکنا اور پھول کو مہکنا سکھایا، پہاڑوں کو ایستادگی سکھائی اور پودوں کو لہکنا سکھایا، پانی کو بہنا اور آگ کو بھڑکنا سکھایا، آبشار کو گرنا اور چشمے کو ابلنا سکھایا، غرضیکہ ہر مخلوق کو پیدا کرکے ہی نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ اسے ضروریات مہیا کی گئیں اور ان سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سکھایا۔ اس کے لیے کہیں جبلت کو رہنما بنایا اور کہیں فطرت سے یہ کام لیا گیا اور کہیں حواس کی کارفرمائی سے تمام ضرورتیں پوری کی گئیں لیکن انسان چونکہ اس کائنات کا گل سرسبد، مسجودِ ملائک اور خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا تو اس کی ربوبیت کے لیے جہاں باقی حیوانوں کی طرح ضروریات بہم پہنچائیں، اسی طرح ان سے فائدہ اٹھانے کی رہنمائی بھی عطا فرمائی۔ انسان کی زندگی کا تعلق چونکہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت سے بھی ہے اس لیے اگر اسے دنیا کی رہنمائی کے لیے حواس دیئے گئے اور عقل عطا کی گئی تو آخرت کی رہنمائی کے لیے وحی الٰہی کا نور بخشا گیا۔ اللہ کے رسول دنیا میں آئے، اللہ نے ان پر کتابیں نازل فرمائیں کیونکہ پروردگار نے دونوں طرح کی رہنمائی اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے : اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی وَاِنَّ لَنَا لَلْآخِرَۃَ وَالْاُوْلٰیبیشک زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی دینا ہمارے ذمہ ہے اور بیشک ہمارے لیے آخرت بھی ہے اور دنیا بھی۔ چناچہ اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے تحت اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر علاقے میں اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ اس طرح سے انسانوں کی ضرورت کو پورا فرمایا تاکہ قیامت کے دن کوئی آدمی یہ نہ کہہ سکے کہ آپ جن باتوں کو مجھ سے جواب طلب کررہے ہیں مجھے تو کسی نے ان کی تعلیم نہیں دی تھی۔ آج ہم تفصیل سے نہیں جانتے کہ دنیا کے کس کس خطے میں رسول آئے لیکن قرآن کریم جابجا اس کا ذکر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ہر گروہ میں اپنے رسول بھیجے اور ان پر اتمامِ حجت کیا ہے۔ چناچہ اسی اصول کے تحت مکہ معظمہ میں نبی کریمو کی بعثت ہوئی اور آپ ﷺ نے مسلسل فریضہ رسالت انجام دے کر ان پر اتمامِ حجت کردیا۔ اب وہ قیامت کے دن یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ لیکن اس بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب کسی قوم میں اللہ کا رسول آکر اللہ کی طرف سے اتمامِ حجت کردیتا ہے یعنی اللہ نے جو ہدایت دینے کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے اسے باحسن طریق انجام دے کر اللہ کی طرف سے ہدایت کا حق ادا کردیا جاتا ہے تو اسے اتمامِ حجت کہتے ہیں۔ اس کے بعد اس امت کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرے۔ ایمان لائے اور شریعت کی پابندی کا عہد کرے۔ اب اگر وہ اس میں کوتاہی کرتی ہے یا انکار کردیتی ہے تو پھر کبھی تو اللہ کی طرف سے دنیا ہی میں ان پر عذاب آجاتا ہے اور یا قیامت کے دن ان کے معاملات کا پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ یہاں اسی اصول کو بیان فرما کر اہل مکہ کو جھنجوڑا گیا ہے کہ تم بار بار عذاب نہ آنے کا سوال کرتے ہو لیکن تمہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ تمہارے اس رویئے کا انجام کیا ہونا ہے۔ اللہ کے رسول کے آجانے کے بعد تم پر اتمامِ حجت ہوچکا ہے۔ اس کے بعد تو صرف فیصلے کا وقت باقی رہ جاتا ہے اور اللہ کا فیصلہ جتنی دیر اور جتنی طویل مہلت کے بعد آتا ہے اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔ مولانا ظفرعلی خان نے ٹھیک کہا :
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیرگیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayah 10:48وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (یونس : 48)
(وہ کہتے ہیں کب پورا ہوگا یہ عذاب کا وعدہ، اگر تم سچے ہو۔ )
ہدایت سے انکار انسان کو فہم و شعور سے عاری کردیتا ہے
اس آیت کریمہ سے دو باتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ پہلی یہ بات کہ انسان بھی عجیب واقع ہوا ہے۔ جب یہ بگاڑ کا راستہ اختیار کرلیتا ہے تو اپنے حالات، اپنے احباب اور اپنے گردوپیش کی دنیا میں اس طرح سمٹ کر رہ جاتا ہے کہ نہ اس پر نصیحت اثر کرتی ہے اور نہ کوئی دلیل اس کے دماغ میں اترتی ہے۔ اللہ کے رسول کی شخصیت سے بڑھ کر کوئی دلآویز شخصیت نہیں ہوتی۔ اس کی گفتگو سے زیادہ کوئی آواز موثر نہیں ہوتی، کسی کی زبان سے اس کی زبان سے بڑھ کر پھول نہیں جھڑتے اور کسی کا کردار اتنا اجلا، اتنا مصفا اور اتنا دل موہ لینے والا نہیں ہوتا جتنا رسول کا ہوتا ہے۔ بایں ہمہ انسانوں کا بگاڑ جب شدت اختیار کرجاتا ہے تو وہ ایسی ہمہ گیر کاوشوں سے بھی کوئی تأثر قبول نہیں کرتا۔ چناچہ اہل مکہ کا بھی حال ایسا ہی ابتر معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کریم کا معجزانہ انداز بھی ان پر موثر ہوتا نظر نہیں آتا۔ قرآن کریم کے دلائل بھی ان کے سامنے اپنی تمام اثرآفرینی کھو دیتے ہیں اور وہ بجائے اثر قبول کرنے کے اپنی ہٹ دھرمی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کی زبان درازیاں صرف نبی کریم ﷺ تک محدود نہیں تھیں بلکہ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ کے جمع کے صیغے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام صحابہ کرام ( رض) سے بھی نہ صرف الجھتے تھے بلکہ ان کا مذاق اور تمسخر اڑاتے تھے اور انھوں نے ان کی یہ چھیڑ بنا رکھی تھی کہ تم جو قیامت کے آنے اور کبھی عذاب کے آنے سے ڈراتے رہتے ہو تو آخر وہ وعدہ تمہارا کہاں رک گیا ہے، وہ آنے کا نام کیوں نہیں لیتا۔
ان کا رویہ دیکھ کر بعض دفعہ حیرت ہونے لگتی ہے کہ وہ گوشت پوست کے انسان تھے یا پتھر کے، کہ ان پر نہ نبوت کا جلال اثر کرتا تھا نہ جمال۔ ایک نبی کی بےنفسی، بےلوثی، خیرخواہی، ہمدردی اور غمگساری دشمنوں کے یہاں بھی ہمیشہ مُسلِّم رہی ہے لیکن یہ ایسے ناہنجار تھے کہ یہ انسانیت کا پورا سرمایہ بھی ان پر اثراندازی سے عاجز رہ جاتا تھا۔ مزید برآں یہ کہ وہ اس بات سے اچھی طرح باخبر تھے کہ اللہ کے رسول دنیا میں ہدایت لے کر آتے ہیں اور رحمت کی نوید سناتے ہیں۔ وہ دنیا کو عذاب دینے کے لیے نہیں بلکہ عذاب سے بچانے کے لیے آتے ہیں۔ لیکن جب کوئی قوم اللہ کی ناراضی کا راستہ اختیار کرلیتی ہے تو پھر وہ انھیں عذاب سے بچانے کے لیے عذاب والے کاموں سے ڈراتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے بارے میں کیا کہئے کہ جو عذاب ہی کو اپنا مطالبہ بنا لیتے ہیں اور وہ اتنی بات نہیں سمجھتے کہ اگر واقعی عذاب آگیا تو ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی عیش و عشرت کا خرمن بھی نذرآتش ہوجائے گا تو اس کے بعد ان کی زندگی کے امکانات کیا ہیں۔
Ayah 10:49قُلْ لاَّ ٓاَمْلِکُ لِنَفْسِیْ ضَرّٰاوَّلاَ نَفْعًا اِلاَّ مَاشَآئَ اللّٰہُ ط لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ط اِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَلاَ یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلاَ یَسْتَقْدِمُوْنَ ۔ (یونس : 49)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے میں مالک نہیں ہوں اپنے آپ کے لیے، نقصان کا نہ نفع کا۔ مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لیے میعاد مقرر ہے۔ جب ان کی مقرر میعاد آجائے گی تو نہ وہ ایک لمحہ پیچھے رہ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ )
قریش کے مطالبہ عذاب کا جواب
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے قریش کے مطالبہ عذاب کا نبی کریم ﷺ کو جواب دینے کا حکم فرمایا۔ اور آپ ﷺ نے جس طرح اللہ کی ہدایت کے مطابق جواب ارشاد فرمایا، اس سے اگر ایک طرف عقیدہ توحید کو جلاملتی ہے تو دوسری طرف ذات رسالت مآب ﷺ کی حقانیت بھی واضح ہوتی ہے۔ اندازہ فرمایئے کہ قریش مکہ بار بار آپ ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آپ ﷺ نے انھیں عذاب سے اس لیے ڈرایا تاکہ وہ اللہ کے عذاب کا مستحق نہ بنیں بلکہ ایمان لا کر اس کی رحمتوں کے مستحق بن جائیں لیکن ان نادانوں نے عذاب کو ایک کھیل سمجھا اور اسی کا مطالبہ آپ ﷺ سے بار بار کرنا شروع کردیا۔ اگر خدانخواستہ کوئی جعلی نبی ہوتا تو وہ ہزار پردوں اور سینکڑوں تاویلوں سے عذاب کی تاویل کی کوشش کرتا اور انداز ایسا اختیار کرتا جس سے اس کی ذاتی عظمت میں اور اضافہ ہوجاتا اور لوگ براہ راست اس سے ڈرنے لگتے اور یہاں حال یہ ہے کہ آپ ﷺ صاف صاف اپنی بےبسی کا اظہار فرما رہے ہیں۔ اپنی تمام شخصی وجاہتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے صاف اعتراف فرما رہے ہیں کہ میری ذات تو سراسر اللہ کے قبضے میں ہے۔ میں اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں کیونکہ اللہ والوں کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کی قدرتوں اور عظمتوں کے سامنے اپنے آپ کو فنا کردیتے ہیں اور یہاں تو معاملہ ہی ایسا ہے جس کا سررشتہ سراسر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ عذاب آنے یا نہ آنے میں اللہ کے رسول کی دعا کا تو ایک تعلق ہوتا ہے لیکن عذاب کا حتمی فیصلہ، اس کے نزول کا وقت اور اس کی تباہی کا دائرہ یہ سب باتیں اللہ کی قدرت اور اس کی مشیت سے متعلق ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ نے صاف صاف فرمایا کہ نفع و ضرر کا مالک صرف اللہ ہے۔ میں تو اپنی ذات کے لیے بھی اسی کا محتاج ہوں۔ میرے پاس کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں۔ بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے کوئی اختیار دے دے یا کوئی ذمہ داری تفویض فرما دے۔ پیغمبر کے ہاتھ سے بعض دفعہ معجزات کا ظہور ہوتا ہے تو اس میں بھی قرآن کریم نے واضح کیا ہے کہ اس میں ہاتھ اللہ کے نبی کا ہوتا ہے لیکن قدرت اللہ کی ہوتی ہے۔ تو جب حقیقت یہ ہے تو پھر تم مجھ سے بار بار مطالبہ کیوں کرتے ہو۔ تمہیں مطالبہ کرنے کا ایسا ہی شوق ہے تو براہ راست اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائو۔
دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ میں تمہیں اللہ کی طرف سے جب یہ کہتا ہوں کہ ایمان لائو اور اپنی حالت کو درست کرو، ورنہ تم پر اللہ کا عذاب بھی آسکتا ہے، جیسے پہلی امتوں پر آیا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عذاب آنے کا کوئی قاعدہ قانون نہیں۔ اللہ کی سلطنت میں میں کوئی کام بھی بغیر کسی قانون کے نہیں ہوتا۔ جس طرح انسانوں کی زندگی اور موت کے وقت مقرر ہیں۔ کوئی شخص وقت سے پہلے دنیا میں آ نہیں سکتا اور وقت کے بعد دنیا میں رہ نہیں سکتا۔ اسی طرح قوموں کی بھی عمریں ہیں جنھیں اجل کہا گیا ہے اور اس اجل کے پورا ہونے کا دارومدار ان کے اعمال پر ہے، جس طرح ہر پھل کے پکنے کا ایک وقت ہے اور ہر کلی کے چٹکنے کا ایک موقع ہے اور ہر پھول کے مرجھانے کی ایک عمر ہے اور ہمارے اپنے معمولات میں ہر کام کے نتیجہ خیز ہونے کا ایک مقرر وقت ہے۔ آپ دیگچی میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دیں اور نیچے آگ جلا دیں اس پانی کے گرم ہونے کا ایک وقت ہے اور وہ یہ ہے کہ جتنی حرارت سے پانی کے کھولنے کا قدرت نے قانون مقرر کردیا ہے جب وہ مطلوب مقدارِ حرارت پانی کو پہنچ جائے گی تو پانی کھول اٹھے گا اور یہ اس کے کھولنے کا وقت ہے۔ اسی طرح قوموں کے لیے بھی تباہی کا ایک وقت مقرر ہے۔ لیکن وہ ان کے اعمال کے اصلاح و فساد سے کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ تمہارے لیے عذاب کا بھی اللہ کے یہاں ایک وقت مقرر ہے جسے اس آیت کریمہ میں اجل سے تعبیر کیا گیا اور اس کا علم صرف اللہ کو ہے مجھے نہیں۔ جب تک وہ وقت نہیں آتا تم پر عذاب نہیں آسکتا اور جب وہ وقت آجائے گا تو پھر تم اس میں ایک لمحے کی بھی کمی بیشی نہیں کرسکتے۔ تمہیں جلدی عذاب کی نہیں ہونی چاہیے، فکر اعمال کی ہونی چاہیے۔ اگر تم نے ایمان لا کر اپنے اعمال درست کرلیے تو بجائے عذاب کے اللہ کی رحمت کے مستحق ٹھہرو گے لیکن اگر تم نے ایمان و عمل کی طرف توجہ نہ کی اور انھیں عیاشیوں میں پڑے رہے تو پھر یاد رکھو کہ زندگی کا کوئی لمحہ بھی اس کے عذاب کو روک نہیں سکتا۔
Ayah 10:50قُلْ اَرَئَ ْیتُمْ اِنْ اَتٰـکُمْ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوْنَھَا رًامَّا ذَایَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ ۔
(یونس : 50)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ذرا غور تو کرو کہ اگر آجائے تمہارے پاس اس کا عذاب راتوں رات یا دن دیہاڑے (تو تم کیا کرلو گے) وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے مجرم جلدی مچا رہے ہیں۔ )
جلد بازوں سے ایک سوال
اس آیت کا اندازِ بیان نہایت سادہ ہونے کے باوجود نہایت طرحدار بھی ہے۔ انسانی نفسیات میں ڈوب کر پوچھا جارہا ہے کہ تمہاری زندگی شب و روز کی آمد و رفت کا نام ہی تو ہے۔ اسی آمد و رفت میں تمہاری زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ نہ تمہیں دن پر قدرت ہے نہ رات پر۔ البتہ لیل و نہار کی تمام گردشیں اور اس کے تمام اوقات اللہ کی گرفت میں ہیں۔ وہ جب چاہے ان سے کوئی سا کام لے سکتا ہے۔ وہ اپنا عذاب رات کو بھیجنا چاہے یا دن کو، کسی کو روکنے کا یارا نہیں۔ البتہ تم یہ بتائو کہ تم جو عذاب کے آنے کا شور مچاتے ہو اور جلدی کرتے ہو اگر وہ واقعی آگیا تو تم نے اس سے بچنے کے کیا انتظامات کر رکھے ہیں اور اس میں طرحدار بات یہ ہے کہ جن سے یہ سوال کیا گیا ہے ان کو مجرم کہہ کر پکارا گیا ہے تاکہ وہ کچھ کہنے سے پہلے اپنی حیثیت کا ادراک کرلیں۔ بےگناہ آدمی تو اگر کسی سزا میں پکڑا جائے تو عام طور پر ہاتھ پائوں مارنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جس شخص کو معلوم ہو کہ قانون کی نگاہ میں میں مجرم ثابت ہوچکا ہوں، اس کا تو سایہ بھی اس سے الگ ہوجاتا ہے۔ وہ دوسروں سے مدد لینے کی بجائے دوسروں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
Ayah 10:51اَثُمَّ اِذَا مَاوَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِہٖ ط آٰ لْئٰنَ وَقَدْکُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ (یونس : 51)
(کیا جب عذاب نازل ہوجائے گا، تب اس پر ایمان لائو گے (فرشتے انھیں کہیں گے) اب تم تو اس عذاب کے لیے بڑی جلدی مچایا کرتے تھے۔ )
اس آیت میں ان کی بےعقلی اور بدنصیبی پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ تم نے اگر یہ سمجھ رکھا ہے کہ جیسے ہی عذاب کا وقوع شروع ہو تو اس وقت ہم ایمان لے آئیں گے۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان کا وقت تو اس وقت تک ہے جب تک موت کی علامتیں ظاہر نہیں ہوتیں اور موت کے فرشتے نظر نہیں آتے اور آنے والی دنیا کے آثار دکھائی نہیں دیتے، لیکن جب موت کا آنا یقینی طور پر معلوم ہوجائے اس وقت کا لایا ہوا ایمان قابل اعتبار نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ فرعون جب ڈوبنے لگا تو اس نے کہا اَمَنْتُ اَنَّہُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ الَّذِیْ آمَنَتْ بِہٖ بَنُوْ اِسْرَائِیْلتو حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب تمہیں ایمان یاد آیا جب کہ موت سامنے نظر آرہی ہے۔ اس سے پہلے تو تم مفسدین میں سے تھے۔ یہاں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ اگر تم عذاب کے وقوع کے وقت ایمان لانا چاہو گے تو تمہارا ایمان قبول نہیں ہوگا اور ساتھ ہی ان کے حوصلے کی بھی داد دی گئی ہے کہ تم تو عذاب کے لیے بڑی جلدی مچاتے تھے اب اس کی ایک ہی جھلک نے تمہارے حواس کیوں بدل ڈالے۔ اب مردانگی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا سامنا کرو۔
Ayah 10:52ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ ج ھَلْ تُجْزَوْنَ اِلاَّ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ۔
(یونس : 52)
(پھر ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ چکھو دائمی عذاب کا مزہ۔ تمہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کمایا کرتے تھے۔ )
عذاب کا شکار ہو کر جب تم موت کے منہ میں پہنچ جاؤ گے پھر تم سے کہا جائے گا کہ تم عذاب کا بار بار مطالبہ کرتے تھے نہ جانے تم نے اسے کیا سمجھ رکھا تھا۔ اب اس کے بعد قیامت کا عذاب تمہارے انتظار میں ہے۔ تمہاری مہلت عمل ختم ہوچکی۔ اب جس عذاب سے تمہیں واسطہ پڑنے والا ہے وہ دائمی عذاب ہے جس سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں اور اس میں ایسا بھی نہیں کہ بلا وجہ تمہیں سزا دی جائے گی بلکہ تمہیں انھیں اعمال کی سزا دی جائے گی جو تم نے دنیا میں کیے تھے۔
Ayah 10:53وَیَسْتَنْبِئُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ ط قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ ٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ج ط وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔
(یونس : 53)
(اور وہ آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا یہ بات واقعی سچ ہے۔ کہہ دیجیے ہاں، میرے رب کی قسم۔ بیشک وہ حق ( اور ہو کے رہنے والی) ہے۔ اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ )
عذاب کا مذاق اڑانے والوں کو جواب
قرآن کریم نے مشرکینِ مکہ کی جانب سے عذاب اور قیامت کے آنے کے حوالے سے متعدد مواقع پر سوالات ذکر فرمائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ جس قدر انھیں عذاب سے بچانے کے لیے عذاب سے ڈراتے تھے اور انھیں اس انذار کے ذریعے ایمان لانے کی ترغیب دیتے تھے۔ مشرکینِ مکہ میں سے بیشتر لوگ اسی قدر اس سے ڈرنے کی بجائے اور زیادہ دلیر ہوتے اور بہانے بہانے سے کبھی عذاب کے بارے میں اور کبھی قیامت کے حوالے سے الٹے سیدھے سوالات کرتے۔ ابھی اسی رکوع میں مَتٰی ھٰذَاالْوَاعْدُ کے الفاظ سے ان کا سوال نقل کیا گیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سوال کرنے والے اگر نسبتاً سنجیدہ لوگ ہوتے تو وہ مناسب الفاظ میں ذرا رکھ رکھائو کے ساتھ سوال کرتے۔ لیکن جب وہی سوال عام لوگوں کی زبانوں پر ہے چڑھ جاتا جنھیں اخلاق سے زیادہ حصہ نہیں ملاہوتا اور وہ مجلسی آداب سے بھی واقف نہیں ہوتے تو ان کے سوال کا انداز یقیناً غیرمہذب ہوتا ہے۔ پیش نظر سوال بھی ایسے ہی غیرمہذب لوگوں کی طرف سے معلوم ہوتا ہے۔ ان کے سوال کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ جو ہمیں بار بار عذاب آنے سے ڈراتے ہیں کیا اس میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں، یا محض دھونس جمانے اور اپنی شخصیت کا رعب بٹھانے کے لیے آپ اس طرح کی بےتکی باتیں کرتے ہیں۔ اس سوال کا ایک ایک لفظ بازاری انداز لیے ہوئے ہے۔ اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ آنحضور ﷺ اس کے جواب میں سخت لب و لہجہ اختیار فرماتے جس سے انھیں اپنے سوال کی بےہودگی کا اندازہ ہوتا۔ لیکن ایسے ہی تو مواقع ہیں جن سے اللہ کے نبی کی عظمت اور حقانیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس طرح پھول کا رنگ و روپ جگہ کی نامناسبت سے تبدیل نہیں ہوتا۔ جس طرح نکہتوں کا قافلہ نامناسب ماحول میں کبھی اپنی اثر آفرینی کھو نہیں دیتا اور جس طرح روشنی محل اور جھونپڑے میں فرق نہیں کرتی ایسے ہی پیغمبر کا اخلاق اور اس کی حکمت دعوت نامناسب لوگوں سے بھی اپنا دامن سمیٹنا گوارا نہیں کرتی۔ مشرکین کا سوال کیسا ہی نازیبا سہی آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں نہ صرف کہ برہمی اختیار نہیں کی بلکہ نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ قطعیت کے انداز میں اس کا جواب دیا۔ سوال کرنے والوں نے پوچھا تھا کہ کیا عذاب کا آنا واقعی حتمی اور اٹل ہے یا محض آپ دھونس جما رہے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے نہایت سنجیدگی سے فرمایا اِیْ وَرَبِّیْ ہاں اللہ کی قسم، اِیْ نَعَمکے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے بعد قسم آتی ہے۔ آپ ﷺ نے ان کی غیرسنجیدگی اور استہزاء کا طلسم توڑنے کے لیے سادہ جواب دینے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ قسم کے ساتھ اسے مؤکد کردیا۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ یہ بات حق ہے یعنی یہ ایسی بات ہے جو شدنی ہے جسے بہرصورت ہو کے رہنا ہے۔ تم مذاق اڑائو یا سنجیدگی سے سوال کرو اس کے واقع ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے نامناسب رویئے اور رعونت آمیز طرزعمل سے عذاب رک سکتا ہے یا تم اس سے بچ کے نکل سکتے ہو تو یاد رکھو تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور نہ اس عذاب کی ہولناکی کو کند کرسکتے ہو۔ اس کے عذاب کا کوڑا جب برستا ہے تو پھر اس کے سامنے کوئی چیز سلامت نہیں رہتی۔ معذب قوموں کی تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ آج بھی ان علاقوں پر نحوست برستی ہے۔ صدیاں گزر گئیں لیکن عذاب کے ہولناک اثرات ابھی تک ان علاقوں کا مقدر بنے ہوئے ہیں۔
Ayah 10:54وَلَوْ اَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَافِی الْاَرْضِ لاَ فْتَدَتْ بِہٖ ط وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ج وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ (یونس : 54)
(اور اگر ہر شخص جس نے ظلم کا ارتکاب کیا اگر اس کو مل جائے وہ سب کچھ جو زمین میں ہے تو وہ اس کو فدیہ میں دے دے اور وہ ظالم ندامت کو چھپائیں گے جب عذاب کو دیکھیں گے۔ اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔ )
متکبرین کی اصل حیثیت
ہم نے گزشتہ آیت میں دیکھا کہ سوال کرنے والوں میں ایک رعونت ہے جو انھیں بدتمیزی پر اکساتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی کم مائیگی اور اسلام کی غربت کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں۔ پورا ماحول چونکہ انھیں اپنے اندر سے اکھاڑ دینا چاہتا ہے اس لیے مغرور لوگ حالات کو حسب حال پاتے ہوئے برے سے برا رویہ اختیار کرنے میں بھی کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے ان کے غرور اور تکبر پر ایک چوٹ لگائی گئی ہے۔ اور ان کے سامنے قیامت کا منظر پیش کیا گیا ہے جس سے انھیں بہرحال دوچار ہونا ہے۔ اس دن انھیں اندازہ ہوگا کہ ان کی اصل حقیقت کیا ہے۔ آج وہ اپنے تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں لیکن انھیں احساس ہونا چاہیے کہ زمین ان کے پائوں تلے سے سرک رہی ہے۔ آخرت کا انجام توقطعی اور یقینی ہے اس میں تو کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ دنیا میں بھی ان کی یہ حالت دیر تک رہنے والی نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آخرت کے انجام سے دوچار ہونے سے پہلے اپنی دنیا ہی کی فکر کرلیں اور اگر یہ نصیب میں نہیں تو پھر آخرت میں تو ان کی اصل حیثیت ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ اس روز ان کی بےبسی کا عالم یہ ہوگا کہ ان میں سے ایک ایک شخص اپنی بےاعتدالیوں کو نگاہوں میں سمیٹے اپنی بداعمالیوں کا انبار سامنے دیکھ رہا ہوگا جس سے انھیں یہ اندازہ کرلینے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ انھوں نے قدم قدم پر اپنے اوپر ظلم کیے۔ انھیں اس بات کا اعتراف تھا کہ اللہ ہی ان کا خالق ہے۔ اس کے بعد یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہ تھا کہ جب وہ ان کا خالق ہے تو وہ ان کی صلاحیتوں کا بھی خالق ہے۔ ان کے دل و دماغ کی رعنائیاں بھی اسی کی دین ہیں۔ اس کے اعضاء وجوارح کی فعلی قوتیں بھی اسی کی عطا کردہ ہیں۔ اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ جس نے یہ سب کچھ عطا کیا ہے اسی کے خلاف اور اس کی نافرمانی میں انھیں استعمال کیا جائے۔ دماغ اسی کے خلاف منصوبے باندھیں، دل اس کے دشمنوں کی محبت سے آباد ہوں، اعضاء وجوارح کی قوتیں شیطانی اور طاغوتی منصوبوں کی بجاآوری میں صرف ہوں۔ جب ان میں سے ایک ایک چیز پر پروردگار گرفت فرمائے گا اور ان کا جواب طلب کرے گا اس وقت ایک ایک ظالم تمنا کرے گا کاش میرے پاس زمین کی ساری دولت ہوتی اور میں آج اسے فدیہ میں دے کر اپنی جان چھڑا لیتا۔ ایک طرف تو عذاب کی ہولناکی دل ہلادینے کے لیے کافی ہوگی اور دوسری طرف جب ہر شخص اپنی آنکھوں کے سامنے جہنم کو ابلتا ہوا دیکھے گا تو اسے بار بار یہ خیال آئے گا کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا تھا اور جس قیامت کے آنے کا ہمیں یقین دلایا جاتا تھا لیکن ہم ان میں سے ہر بات کو ایک افسانہ سمجھتے تھے آج وہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس سے ان کے اندر ایک ندامت کا لاوا اٹھے گا۔ لیکن اپنے گزشتہ کرتوت انھیں مجبور کریں گے کہ اس ندامت کو دل میں چھپا کے رکھو۔ سورة انعام ایت نمبر 31 میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے ” یہاں تک کہ جب وہ گھڑی ان پر آدھمکے گی وہ کہیں گے ہائے افسوس اس کوتاہی پر جو اس معاملے میں ہم نے کی۔ “ اب جبکہ یہ اسی ندا اور شرمندگی میں گڑے جارہے ہوں گے تو اسی دوران ان کے زندگی بھر کے کرتوتوں کا پشتارہ ان کے سامنے لا رکھا جائے گا اور پھر ایک ایک بات کا فیصلہ عین انصاف کے مطابق چکایا جائے گا۔ انھوں نے اگرچہ زندگی میں ظلم ہی کی فصل بوئی ہوگی اور آج اسی کو کاٹیں گے لیکن ان پر کوئی ظلم نہیں کی جائے گا۔ ہر جرم کی وہی سزا ملے گی جو اس کا جائز حق ہوگا۔ اور آج تک انھوں نے اپنے جن مزعومہ شرکاء اور شفعاء سے امیدیں باندھ رکھی تھیں وہ سب پادرہوا ہوجائیں گی اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ آج ان کے سہارے کس قدر بودے ثابت ہوئے ہیں جن کے سہارے انھوں نے اپنی زندگی برباد کی۔ آج ان کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ہوگا۔ ایک اللہ کی حکومت ہوگی اور دنیا کے تمام چھوٹے بڑے حکمران اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے۔ اس کے انبیاء تک نفسی نفسی پکارتے ہوں گے۔ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْم ” آج کس کی حکومت ہے، کی پکار ہر طرف گونج رہی ہوگی۔ انسان کو اپنی بےثباتی اور بےبسی کا صحیح ادراک میدانِ حشر ہی میں ہوگا۔ لیکن اس وقت یہ ادراک کام نہیں آئے گا۔ چناچہ اسی ادراک اور احساس کو مزید گہرا کرنے کے لیے فرمایا :
Ayahs 10:55–56اَلَآ اِنَّ اللّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَ لَآ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ اکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ ھُوَیُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (یونس : 55، 56)
(سن لو بیشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سنو ! یقیناً اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ )
اس آیت کریمہ میں جس کلمہ جامعہ اور حقیقت ثابتہ کا اعلان فرمایا گیا ہے وہی دراصل اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اسی حقیقت سے منسلک ہوجانے میں انسان کی عافیت بھی ہے اور عظمت بھی۔ اور اسی سے محروم ہوجانے میں تباہی بھی ہے اور ہلاکت بھی۔ اسی اہمیت کے پیش نظرآغاز میں کلمہ تنبیہ لایا گیا۔ الا سنو ! یعنی اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے۔ یعنی ایک ایک چیز اسی کی ملکیت ہے، اسی کی مملوک ہے، اسی کی بندہ ہے، اسی کی غلام ہے، اسی کی فرمانبردار ہے۔ اس کی مخلوقات میں جمادات بھی ہیں اور نباتات بھی۔ حیوانات بھی ہیں اور پرندے بھی۔ حشرات بھی ہیں اور انسان بھی۔ فرشتے بھی ہیں اور ملاء اعلیٰ کے مقربین بھی۔ ان میں سے کوئی بھی اس کی بندگی، غلامی اور ملکیت سے باہر نہیں۔ مقربین بارگاہ بھی اسی سے لرزاں و ترساں ہیں۔ اس کے عظیم فرشتے بھی اس کے معزز غلام ہیں۔ اس کے انبیاء و رسل بھی اسی کے فرمانبردار بندے ہیں۔ اس کے بڑے بڑے پہاڑ بھی اسی کے لیے قیام میں ہیں۔ دریا اور سمندر اسی کی چاکری میں ہیں، ہوا اسی کے حکم سے چلتی ہے، زمین اسی کے حکم سے گردش میں ہے، سورج و چاند، سیارے اور ثوابت سب اس کے احکام کے پابند ہیں۔ خامہ اسی کے سامنے گردن جھکائے ہوئے ہے۔ جب سب کچھ اس کا ہے اور اسی کا فرمانبردار ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی مکلف مخلوق سے جواب طلبی کے لیے ایک دن سب کو اکٹھا نہ کرے اور سب کو زندہ کرکے وہ نہ پوچھے کہ بتلائو تم زندگی کیسے گزار کے آئے ہو۔ میں نے تمہیں عقل دی، تمہارے طرف اپنے پیغمبر بھیجے، اپنی کتابیں اتاریں، تم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جس طرح یہ بات حق ہے کہ وہی سب کا خالق ومالک ہے اور سب اس کی ملکیت ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی حق ہے کہ وہ ایک دن سب کو زندہ کرے گا اور ایک میدان میں جمع کرکے ان کی گزری ہوئی زندگی کا حساب لے گا۔ ان دونوں باتوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے جس کی حاکمیت کا اقرار کیا جائے اس کے اس حق کا بھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے محکوموں سے جواب طلبی کا حق رکھتا ہے۔ یہی بات اس آیت کے دوسرے جملے میں فرمائی گئی ہے کہ اللہ کا وعدہ جسے قیامت کہا جاتا ہے وہ حق ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ نہ جاننے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا علم کوئی پہیلی اور چیستان ہے۔ البتہ ان کے نہ جاننے کا سبب ان کی خواہشات کی پیروی ہے۔ ہوائے نفس نے ان کی زندگی کو ایسا ویران کیا ہے کہ اتباع نفس کے سوا ان کی ہر صلاحیت نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خواہشات کی دنیا کو ساری دنیا سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ اور کچھ نہیں تو یہ بات تو ایک معمولی آدمی بھی جانتا ہے کہ اللہ ہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور وہی ہے جو مارتا ہے۔ زندگی بھی اسی کے قبضے میں ہے اور موت بھی اسی کے قبضے میں۔ جس نے زندگی اور موت کو تخلیق کیا ہے اور پھر وہ جسے چاہتا ہے زندگی دیتا ہے اور جب چاہتا زندگی چھین لیتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے زندگی کی جہتِ سفر اور منزل سفر مقرر نہ کی ہو۔ یہاں اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ کہ تمہاری اصل منزل اللہ کی ذات کے حضور حاضری ہے۔ تمہارا حاصل عمر اسی کے قرب کا حصول ہے۔ تمہارا مقصد اسی کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ اور اسی حوالے سے وہ تم سے قیامت کے دن بازپرس کرے گا۔
Ayah 10:57یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ قَدْجَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ 5 لا وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (یونس : 57)
(اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی نصیحت اور سینے کے امراض کی شفاء اور اہل ایمان کے لیے ہدایت و رحمت۔ )
قرآن کی چار صفات
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔ اس لیے اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ قیامت برپا کرے اور انسانوں اور جنات سے ان کی زندگی کا حساب لے۔ اس سے خودبخود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کا حساب اسی صورت میں لیا جاسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو بتادیا جائے کہ وہ زندگی گزارنے کا کون سا طریقہ ہے جسے میں نے بھیجا ہے اور جس کے مطابق زندگی گزارنے والوں سے میں خوش ہوتا ہوں۔ چناچہ اسی سوال کا جواب پیش نظر آیت کریمہ میں دیا گیا ہے۔ اس میں خطاب صرف مسلمانوں سے ہی نہیں بلکہ پوری نوع انسانی سے ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن تمام نسل انسانی کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اس لیے ہر دور میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے تاکہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے تو معلوم نہ تھا کہ میرا اللہ کن باتوں میں راضی ہے۔ قرآن کریم اسی سلسلے کی آخری کڑی ہے جس میں اس ضرورت کو بتمام و کمال پورا کردیا گیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت و افادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی چند صفات بھی بیان کردی گئی ہیں۔ سب سے پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ لوگو ! تمہارے رب کی جانب سے آخری نصیحت آگئی ہے جس کے بعد کبھی آسمان زمین سے ہمکلام نہیں ہوگا اور اہل زمین پر کبھی اللہ کا کلام نہیں اترے گا۔ اس کے لیے مَوْعِظَۃٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی عام طور پر نصیحت اور خیرخواہی کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کے دو پہلو ہیں ایک وہ پہلو ہے جس کا تعلق مراد سے ہے اور ایک وہ پہلو ہے جس کا تعلق طریق نصیحت سے ہے۔ جہاں تک مراد نصیحت کا تعلق ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسانوں کے لیے جو امور خطرات کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن سے انھیں بہرصورت بچنا چاہیے ان سے آگاہی اور وہ امور جو انسانی زندگی کے لیے قوت اور بھلائی کا باعث ہیں لیکن عموماً انسانی مزاج ان کی طرف میلان نہیں رکھتا۔ ان کی طرف راغب کرنے کی کوشش۔ قرآن کریم کے اوامرو نواہی عموماً ان دونوں باتوں پر مشتمل ہیں۔ چناچہ اوامرو نواہی سے آگاہی اور طبیعتوں میں انھیں راسخ کرنے کے لیے ترغیب اور ترہیب، کہنا چاہیے کہ یہ موعظت کا حاصل ہے۔ دوسرا پہلو اس کے طریقے سے متعلق ہے۔ موعظت وعظ سے ہے اس لیے اس کا مقصد انسان کے دل میں نرمی پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے، دنیا کی غفلت کا پردہ چاک ہو اور آخرت کی فکر دل میں جاگزیں ہوجائے۔ اس لیے پیرایہ بیان ایسا اثرانگیز اور اخلاص میں ڈوبا ہوا ہونا چاہیے جس سے سننے والا اثر قبول کیے بغیر نہ رہ سکے۔ چناچہ اس لحاظ سے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہر آیت خیرخواہی اور خیراندیشی کا مرقع معلوم ہوتی ہے اور اسلوب ایسا دلکش کہ کہیں وعدہ ہے تو ساتھ وعید بھی ہے۔ ثواب ہے تو اس کے ساتھ ذکر عذاب کا بھی ہے۔ دنیاو آخرت میں فلاح و کامیابی کے ساتھ ساتھ ناکامی اور گمراہی کی طرف اشارے بھی ہیں۔ چناچہ اسی اسلوب کا نتیجہ تھا کہ عربوں جیسے پتھر دل لوگ اس نصیحت کے سامنے موم ہوگئے اور غفلت میں مدہوش قومیں بیداری کا پیغام بن کر اٹھیں۔
دوسری صفت قرآن کریم کی جو اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے وہ شِفَائٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ہے یعنی یہ قرآن کریم شفاء ہے ان امراض کی جو دلوں کو لاحق ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر دیکھا جائے تو انسان کے اعمال اس کے احساسات کے تابع ہیں اور انسانی احساسات کا مصدر و منبع انسانی دل ہے۔ اسی کے اندر احساسات مختلف تصورات کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ انھیں کے زیر اثر اعمال وقوع پذیر ہوتے ہیں اور خیر و شر کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ اس عمومی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دل و دماغ چونکہ صلاح و فلاح کے سرچشمے کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے قرآن کریم براہ راست اس سرچشمے کی ہدایت کا کام کرتا ہے۔ اس کے اندر اٹھنے والے احساسات میں جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ان کے لیے شفاء کا باعث بنتا ہے اور اگر خصوصی طور پر دیکھا جائے تو کئی ایسے اخلاقِ ذمیمہ ہیں جو دلوں میں پیدا ہوتے اور دلوں ہی میں سلگتے رہتے ہیں مثلاً حسد، بغض، کینہ، شہرت کی ہوس، حبِ دنیا، حبِ جاہ وغیرہ۔ یہ دل کے امراض ہیں۔ قرآن کریم خاص طور پر ان امراض کو اپنا ہدف بناتا ہے اور طریقے طریقے سے ان کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے اور جو لوگ فی الواقع قرآن کریم سے اپنا تعلق جوڑ لیتے ہیں قرآن کریم کی برکت سے ان کے اندر یہ امراض صفر کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت عہد نبوت اور قرون اولیٰ ہیں کہ جن میں ہم یہ بیماریاں کم سے کم دیکھتے ہیں۔ اس آیت کے انداز ِبیان کو دیکھتے ہوئے حضرت حسن بصری ( رح) نے فرمایا کہ قرآن کریم خاص طور پر دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے لیکن جسمانی بیماریوں کے علاج سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن بعض دوسرے اہل علم حضرات کا خیال یہ ہے کہ قرآن کریم روحانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ جسمانی بیماریوں کا بھی علاج ہے۔ روحانی بیماریاں چونکہ جسمانی بیماریوں سے زیادہ شدید ہیں اور اس کا علاج بھی ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے بطور خاص اس کا ذکر فرمایا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قرآن کریم جسمانی بیماریوں کے لیے شفاء نہیں۔ چناچہ بعض احادیث سے بھی اس پر استدلال کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری ( رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے سینے میں تکلیف ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا قرآن پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قرآن سینوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے۔ اسی طرح حضرت واثلہ ( رض) بن اسقع کی روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیان کیا کہ میرے حلق میں تکلیف ہے۔ آپ ﷺ نے اس کو بھی یہی فرمایا کہ قرآن پڑھا کرو۔ چناچہ ایسی ہی روایات اور اپنے تجربات سے بعض بزرگوں نے آیات قرآنی کے خواص و فوائد پر مستقل کتابیں مرتب کی ہیں جن میں امام غزالی کی کتاب ” خواصِ قرآنی “ بہت مشہور ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کے نزول کا اصل مقصد انسانوں کی ہدایت اور اصلاح ہے، ان کا جسمانی علاج نہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ قرآن کریم کے اصل مقصد کی طرف توجہ رکھی جائے۔ البتہ ضمنی طور پر جسمانی علاج کے فوائد بھی میسر آجائیں تو اسے اللہ کی رحمت سمجھنا چاہیے۔
قرآن کریم کی تیسری صفت اس کا ہدایت ہونا ہے۔ یعنی یہ انسانی زندگی کے لیے رہنمائی ہے۔ بلاشبہ قرآن کریم ایک ایسی رہنما کتاب ہے جس نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔ اس نے معاشرت کی ترتیب کے لیے اصول معاشرت دیئے ہیں، معیشت کی بہتری کے لیے نظام معیشت فراہم کیا ہے، سیاست کی اصلاح کے لیے سیاسی ہدایات دی ہیں، حکومت بنانے کے لیے حکومت کے طریقے بتائے ہیں اور اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرہ کے لیے آئین اور قانون بخشا ہے۔ اللہ اور بندے کے درمیان رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے عقائد و عبادات کا ایک نظام دیا ہے۔ غرضیکہ ایک فرد سے لے کر امت کے آخری حصے تک جس قدر ضرورتیں پیش آسکتی ہیں ان کے لیے مکمل رہنمائی قرآن کریم نے عطا کی ہے۔
اس کی چوتھی صفت رحمت ہے۔ یوں تو قرآن کریم اور اس کی ایک ایک آیت نبی کریم ﷺ کا وجود گرامی اور امت مسلمہ کا وجود ان میں سے کون سی چیز ہے جو بجائے خود اللہ کی رحمت سے کم ہو۔ بالخصوص قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی ذات والا صفات یہ تو اللہ کی ایسی رحمتیں ہیں جن کا اللہ نے انسانوں پر احسان جتلایا ہے۔ لیکن قرآن کریم کی صفت کے طور پر اس کا تذکرہ شاید اس لیے فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت سے لے کر اس کے مکمل عطا کردہ نظام کے نفاذ تک جتنے راستے کے مراحل ہیں ان میں ہر ہر مرحلے پر اللہ کی رحمت شامل حال ہوتی ہے اور جیسے جیسے اس کا نظام امت مسلمہ میں مستحکم ہوتا جاتا ہے اور دین بن کر دل و دماغ میں اترتا جاتا ہے ویسے ویسے اللہ کی رحمت کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ رزق میں فراوانی آجاتی ہے، زمین پر یہ امت اللہ کی دلیل بن جاتی ہے، اس کا لوہا ہر لوہے کو کاٹنے لگتا ہے۔ آخر ایک وقت آتا ہے کہ پوری دنیا اسی امت کے دروازے سے اللہ کی رحمت کی بھیک مانگتی ہے اور اس امت کا ایک ایک فرد دنیا کے ہر فرد کے لیے سرتاپا رحمت بن جاتا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے :
قدم قدم پہ رحمتیں نفس نفس پہ برکتیں
جہاں جہاں سے وہ شفیعِ عاصیاں گزر گیا
جہاں نظر نہیں پڑی وہاں ہے رات آج تک
وہیں وہیں سحر ہوئی جہاں جہاں گزر گیا
Ayah 10:58قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ط ھُوَخَیْرٌمِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ (یونس : 58)
(کہہ دیجیے یہ کتاب نازل ہوئی ہے محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے، پس چاہیے کہ اس پر خوشی منائیں۔ یہ بہتر ہے ان تمام چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ )
قرآن کریم عظیم نعمت
اس سے پہلے قرآن کریم کی چار صفات بیان کی گئی ہیں جن کی کسی حد تک تفصیل آپ پڑھ چکے ہیں۔ اسی سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ کتاب یقیناً نصیحت ہے دلوں کے امراض کے لیے شفاء ہے، ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ لیکن ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لائے۔ اور اس میں مندرج ہدایات کو نہ صرف آویزہ گوش بنایا بلکہ اسے زندگی کی رہنما، دلوں کی حرارت اور عمل کا اسلوب بھی بنایا۔ زندگی پر اسی کی چھاپ رہی اور یہی ایمان لانے والے کی شناخت بن گئی۔ اس سورت میں جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ فی الواقع اپنا رنگ دکھائیں گی۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ صرف ایمان لانے والوں کو نہیں سب جن و انس کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم وہ عظیم نعمت ہے جو اپنے جلو میں اللہ کے فضل اور رحمت کو لے کر اتری ہے۔ اور مزید یہ بات کہ اس کا اترنا بجائے خود اللہ کے فضل اور رحمت کا نتیجہ ہے وہ چونکہ اپنے بندوں پر رحیم و کریم ہے اس نے جب انسانی کشتی کو ڈوبنے کے قریب دیکھا اور انسانی زندگی کو تباہی کے کنارے محسوس کیا تو اس کا فضل اور رحمت جوش میں آئے۔ تو جس طرح اس کی رحمت کا ظہور اللہ کے رسول کی صورت میں ہوا اسی طرح قرآن کی صورت میں بھی ہوا۔ انسان کی کوتاہ فہمی ہے کہ وہ ہمیشہ دنیا اور اموالِ دنیا کو اپنا مقصد بناتا ہے۔ اسی کے لیے محنت کرتا ہے، اسی کے حصول پر فخر کرتا ہے، اسی کی کثرت پر خوشیاں مناتا ہے۔ لیکن حقیقت سے بیخبر انسان کو یہ معلوم نہیں کہ دولت اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ اور اس آزمائش پر پورا اترنے اور اس نعمت کو اپنے اور خلق خدا کے لیے اللہ کا فضل بنانے کے لیے جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں ہے۔ اس لیے انسانوں کو چاہیے کہ بجائے ان خزف ریزوں پر جان دینے کے قرآن کریم اور اس کی تعلیمات کو سینے سے لگائیں۔ اپنی زندگی کو اس کی رہنمائی میں دے دیں اور پھر اللہ کی اس نعمت پر جس قدر بھی خوشیاں منائیں، کم ہیں۔ کیونکہ حقیقت میں یہی وہ نعمت ہے جس کے واسطے سے انسان اللہ سے اپنا رشتہ جوڑ سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان اللہ کی ایک رسی لٹک رہی ہے جس نے اسے تھام لیا وہ اللہ سے وابستہ ہوگیا اور جس نے اسے چھوڑ دیا اس کی تباہی اور بربادی میں کوئی کلام نہیں۔ صحابہ کرام ( رض) نے پوچھا حضور ﷺ وہ اللہ کی رسی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ قرآن کریم ہے۔ اس سے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ قرآن کریم دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اہل دنیا کو اس کا عطا ہوجانا یقیناً اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔