10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsروح القرآن

Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

پس مثال حیات دنیا کی ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی اتارا۔ پس اس سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہوگئی جس سے انسان بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی۔ یہاں تک کہ جب لے لیا زمین نے اپنا سنگھار اور وہ خوب آراستہ ہوگئی اور اہل زمین نے یقین کرلیا کہ وہ اس پر قادر ہیں تو دفعۃً اس پر ہمارا قہر رات کو یا دن کو آدھمکا۔ پس ہم نے اسے کاٹ کر رکھ دیا، گویا کل وہ یہاں تھی ہی نہیں۔ ہم وضاحت سے بیان کرتے ہیں اپنی قدرت کی نشانیاں اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہے۔

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآئٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآئِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْکُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ ط حَتّٰیٓ اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیَّنَتُ وَظَنَّ اَھْلُھَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْھَآ لا اَتٰھَآ اَمْرُنَا لَیْلاً اَوْنَھَارًا فَجَعَلْنٰھَا حَصِیْدًا کَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ ط کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (یونس : 24) (پس مثال حیات دنیا کی ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی اتارا۔ پس اس سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہوگئی جس سے انسان بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی۔ یہاں تک کہ جب لے لیا زمین نے اپنا سنگھار اور وہ خوب آراستہ ہوگئی اور اہل زمین نے یقین کرلیا کہ وہ اس پر قادر ہیں تو دفعۃً اس پر ہمارا قہر رات کو یا دن کو آدھمکا۔ پس ہم نے اسے کاٹ کر رکھ دیا، گویا کل وہ یہاں تھی ہی نہیں۔ ہم وضاحت سے بیان کرتے ہیں اپنی قدرت کی نشانیاں اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہے۔ ) حیاتِ دنیا کی تمثیل اس آیت کریمہ میں اس حیات دنیا کی تمثیل بیان کی گئی ہے جس کا ذکر گزشتہ آیت کریمہ میں مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاکے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ تمثیل میں زمین کی زرعی کیفیت کو پیش کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت کی مخاطب دنیا کے لیے یہ مثال سامنے کی بھی تھی اور آسان بھی لیکن مقصود اس سے دنیا کا ہر وہ سامان، ہر وہ نعمت اور ہر وہ صنعت ہے جس پر اہل دنیا فریفتہ ہوتے اور زندگی کو اس کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ تمثیل کو یوں سمجھئے کہ ایک آبادی ہے جس کی زمین مدتوں سے بارش کو ترس رہی ہے۔ بارش نہ ہونے سے زمین جھلس کر رہ گئی ہے۔ کھیتوں میں ویرانی کا دوردورہ ہے، ہر طرف قحط کا سا سماں ہے۔ اچانک اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے۔ آسمان سے بارش برستی ہے۔ چند دنوں کے بعد سبزے کی چادریں بچھ جاتی ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے زمین نے مخملی لباس پہن لیا ہے۔ فصلیں لہلہانے لگتی ہیں۔ پانی کے جانور جن کا کہیں نشان تک نہ تھا جوہڑوں میں پانی بھر جانے کے باعث ہر جگہ پھدکتے اور ٹراتے پھرتے ہیں۔ نئی نئی کونپلیں پھوٹنے لگی ہیں، سایہ گہرا ہوگیا ہے، ہر طرف حسن جھلکتا دکھائی دیتا ہے، پرندوں کی آوازوں سے موسیقی کی دھنیں پیدا ہورہی ہیں۔ فضاء پردہ رنگ میں مستور ہوتی جارہی ہے۔ پتھر کی رگوں میں بھی خون رواں معلوم ہوتا ہے۔ کھیتوں اور باغوں کے مالک خوشیوں سے مخمور ہیں۔ ان کی محنتوں کا پھل ان کے سامنے تیار کھڑا ہے۔ فصلیں کٹیں گی، کھلیان لگ جائیں گے، پھل اتریں گے ڈھیر سج جائیں گے۔ چند ہی دنوں میں دولت کی ریل پیل ہوجائے گی۔ وہ انھیں خوشیوں میں مست اپنے گھروں میں فصلوں کے اترنے کا انتظار کررہے ہیں کہ اچانک اللہ کی طرف سے گھٹا اٹھتی ہے، طوفان سر اٹھاتا ہے، ہوا بےقابو ہوجاتی ہے، ژالہ باری میں تیزی آجاتی ہے، کبھی طوفان سائیکلون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اللہ کے قہر کے مختلف رنگ ہیں۔ ہوا کبھی باد صر صر بن جاتی ہے اور کبھی باد سموم کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ کبھی آگ برستی ہے اور کبھی برف برستی ہے۔ کبھی اس کا قہر رات کو ٹوٹتا ہے اور کبھی دن کو کیونکہ ہر وقت اس کا وقت ہے، وہ کسی وقت کا پابند نہیں۔ چند گھنٹوں کے بعد جیسے ہی موسم کھلتا ہے تو دیکھنے والے یہ دیکھ کے دنگ رہ جاتے ہیں کہ جہاں فصلیں سنہری قبائیں پہنے کھڑی تھیں وہاں کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ نہ صرف غلہ برباد کردیا گیا ہے بلکہ غلہ کا بوجھ اٹھانے والے پودے اپنی وجود سے محروم ہوگئے ہیں، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ہیں۔ ہر چیز اس طرح کاٹ کے رکھ دی گئی ہے معلوم ہوتا ہے یہاں کبھی اس کا نشان ہی نہ تھا۔ یہ قہر الٰہی کی ایک مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب پروردگار غضب پر آتا ہے تو اس کے لشکر ہر چیز کا تباہ و برباد کرکے رکھ دیتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے عذاب سے صرف فصلیں ہی تباہ ہوتی ہیں۔ اس کے عذاب سے انسان کی عظمت کا تمام سرمایہ ایک لمحے میں ڈھیر ہوجاتا ہے۔ انسان کو یہی بتلانا مقصود ہے کہ تم آج زمین میں جس ترقی پر نازاں ہو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ صدیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انسان کے علم و فکر نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ اس نے زمین پر سربفلک عمارتیں اٹھائی ہیں۔ اس نے ایسے برقی طاقتور قمقمے ایجاد کیے ہیں جو ستاروں کو شرما دے رہے ہیں۔ اس نے دریائوں کی سرکش موجوں کو ڈیموں میں پابند کردیا ہے۔ سمندر سے مختلف شاخیں نکال کر شہروں کے اندر سے گزار دی ہیں۔ سمندر کو پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ اس کے اندر سے مختلف دھاتیں نکالی جارہی ہیں۔ اس کی تحقیق اور تجسس کے نتیجے میں فضاء کی وسعتیں سکڑ گئی ہیں۔ اس کے جذبہ تسخیر نے نہ جانے کس کس قوت کو زنجیر پہنا دی ہے۔ اس نے لوہے میں قوت پرواز پیدا کی ہے۔ اس نے چند آلات کو جوڑ کر انسانی دماغ کا متبادل پیدا کردیا ہے۔ آج کی دنیا عجوبوں کی دنیا ہے اور ایک ایک عجوبہ انسان کی ذہانت و فطانت کا گن گا رہا ہے۔ بایں ہمہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے : جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا روندنے والا وہ ستاروں کی گزرگاہوں کا اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا انسان اگر ایک طرف رنگ و بو کے گلستان سجاتا ہے تو دوسری طرف ایٹمی تباہ کاریوں سے بستے شہروں کو ویرانوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ اگر وہ ایک طرف پرندوں اور حیوانوں کی زندگی کے ذرائع پیدا کرتا اور ان کے غم میں گھلتا ہے تو دوسری طرف انسانوں کی زندگی اجیرن کرتا ہے اور ان کے رزق کے سوتوں پر قبضہ جماتا ہے۔ اس لیے اسے کہا جارہا ہے کہ تم حیات دنیا کے سامان سے استفادہ ضرور کرو لیکن اس بات کو کبھی نہ بھولو کہ : یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ اسے بتان وہم و گماں کو چھوڑ کر لا الہ الا اللہ کا شعور پیدا کرنا ہے اور اپنے خالق ومالک کو پہچاننا ہے۔ اسے اپنے مقاصدِحیات کو جاننا اور اس پر عمل کرنا ہے ورنہ اس کے بغیر دنیا کی ترقی خودفریبی کے سوا اور کچھ نہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ انسان یہ کوشش تو کرتا ہے کہ میں تیزرفتار سواریاں ایجاد کروں لیکن یہ وہ کبھی نہیں سوچتا کہ مجھے چلنا کیسے چاہیے۔ وہ کمپیوٹر تو ایجاد کرتا ہے لیکن اپنی زبان اور دل پر پہرے نہیں بٹھاتا اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کو یاد رکھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس رویہ سے زندگی میں چکاچوند تو پیدا ہوسکتی ہے لیکن وہ راست فکری اور راست روی نہیں آسکتی جو انسانی زندگی کی اصل ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں حقائق کی طرف تفصیل سے انسانوں کو دعوت دیتا ہے تاکہ انسان اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کریں اور اپنے حقیقی مقصد کو پہچانیں۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دے دیتا ہے۔

وَاللّٰہُ یَدْعُوْآ اِلٰی دَارِالسَّلٰمِ ط وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ ط وَلاَ یَرْھَقُ وُجُوْھَھُمْ فَتَرٌوَّلاَ ذِلَّۃٌ ط اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآئُ سَیِّئَۃٍ م بِمِثْلِھَا لا وَتَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ ط مَالَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مُنْ عَاصِمٍ ج کَاَنَّمَآ اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا ط اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (یونس : 25، 26، 27) (اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دے دیتا ہے۔ جن لوگوں نے اچھے کام کیے ان کے لیے اچھا بدلہ ہے بلکہ اس پر مزید بھی۔ اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ یہی لوگ جنتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جنھوں نے برے کام کیے تو برائی کی سزا اس جیسی ہوگی۔ اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ اللہ سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ گویا ڈھانپ دیئے گئے ہیں ان کے چہرے کالی رات کے ٹکڑوں سے۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ) گزشتہ آیات میں حیات دنیا کے بارے میں کفار کے طرزعمل پر تنقید فرمائی ہے اور ایک مثال کے ذریعے واضح فرمایا کہ تمہارے زندگی ہر وقت معرض خطر میں ہے۔ تم جس ترقی اور عروج پر نازاں ہو، وہی تمہارے لیے ایک دن تباہی کا سامان بننے والا ہے۔ تم جن چیزوں سے آسودگی، عزت و وجاہت اور ہیبت و عظمت محسوس کرتے ہو وہی تمہارے لیے ہلاکت اور بربادی کا سبب بننے والی ہیں کیونکہ جب تک انسان اپنی زندگی کے اصل مقصد کو نہیں پہچانتا اور اپنے اور کائنات اور خالق کے باہمی رشتوں کو نہیں سمجھتا اس وقت تک وہ جو بھی ترقی کرے گا اور جتنی بھی تیز رفتاری دکھائے گا وہ اتنا ہی منزل سے دور ہوتا جائے گا کیونکہ : تیز رفتاری ہے لیکن جانبِ منزل نہیں لیکن اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس چیز کی طرف بلاتا ہے اور پیغمبر جس کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ دارالسلام ہے یعنی امن اور سلامتی کا گھر۔ اس سے مراد جنت ہے۔ وہ حقیقت میں امن اور سلامتی کا گھر ہے جس میں کسی خطرے کو داخل ہونے کی اجازت نہیں جس میں سلامتی پر کبھی خراش تک نہیں آسکتی۔ وہاں کسی انسان کو کسی سے شکایت نہیں ہوگی۔ وہاں کوئی کسی کے خلاف کبھی سوچنے کی بھی غلطی نہیں کرے گا۔ وہاں محبت کے چشمے ابلتے ہوں گے اور بغض و نفاق، حسد اور کینہ وہاں کبھی راہ نہ پاسکیں گے۔ لیکن جنت کا یہ گھر اسے ملے گا جس نے یہ دنیا اس کی طرف چلتے ہوئے گزاری ہو۔ اس راستے کو صراط مستقیم کہا جاتا ہے جس میں غور و فکر سے لے کر اعمال و آداب کے آخری حصے تک کہیں کج روی کا شائبہ نہیں، جس میں ہر وقت برائیوں سے اجتناب کی کوشش اور نیکیوں سے محبت کا جذبہ کارفرما رہتا ہے۔ اس راستے پہ چلنے والوں کے لیے ہر نیکی کا ایک صلہ ہے اور وہ صلہ ایک نیکی تک محدود نہیں بلکہ اس میں اللہ کی جودوسخا کا بھی ہر وقت امکان ہے۔ وہ عام طور پر ایک کے بدلے میں دس نیکیاں عطا فرماتا ہے لیکن اگر اخلاص وتقویٰ میں اضافہ ہوتا جائے تو وہ سات سو گنا اور اس سے زیادہ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اس کے راستے میں چلنے والے چونکہ اس صلے سے ہمیشہ نوازے جاتے ہیں اس لیے کبھی بھی نہ ان کے چہروں پر مایوسی کی سیاہی پھیلتی ہے اور نہ کبھی وہ اپنے مرتبے میں ذلت آشنا ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اصحاب الجنۃ کہا گیا ہے اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کی اس بےپایاں عنایت کے باوجود جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ جلدی ان کو سزا نہیں دیتا۔ ان کی برائیوں کے معاملے میں بھی ان کے ساتھ رویہ نرمی اور مہربانی کا رکھتا ہے تاکہ وہ جب بھی پلٹنا چاہیں تو ان کے لیے پلٹنے کا سامان موجود ہو۔ وہ ایک برائی کرتے ہیں تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور اگر برائی کا ارادہ کرکے عمل سے اجتناب کرتے ہیں تو ان کے نامہ اعمال میں کچھ نہیں لکھا جاتا۔ اس قدر آسانیوں اور ہدایت کی کوششوں کے باوجود وہ لوگ اگر ہدایت کی طرف آنا پسند نہیں کرتے تو پھر ان کا مقدر ذلت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ وہ ترقی کے نام سے ہزاروں کوششیں کر دیکھیں لیکن وہ کبھی بھی نامرادی اور مایوسی کی رسوائی سے بچ نہیں سکتے۔ ان کی عقل و خرد ان کو اس دلدل سے نکالنے سے ہمیشہ عاجز رہتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اہل جہنم کہا گیا ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
Ayahs 10:26–29

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے اچھے کام کیے ان کے لیے اچھا بدلہ ہے بلکہ اس پر مزید بھی۔ اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ یہی لوگ جنتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنھوں نے برے کام کیے تو برائی کی سزا اس جیسی ہوگی۔ اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ اللہ سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ گویا ڈھانپ دیئے گئے ہیں ان کے چہرے کالی رات کے ٹکڑوں سے۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم جمع کریں گے سب کو، پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ ٹھہر جائو اپنی جگہوں پر تم اور تمہارے شرکاء، پھر ہم ان کے درمیان تفریق کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

پس کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ ہمارے اور تمہارے درمیان کہ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔

وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ ج فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُ ھُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَاتَعْبُدُوْنَ ۔ (یونس : 28) (اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم جمع کریں گے سب کو، پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ ٹھہر جاؤ اپنی جگہوں پر تم اور تمہارے شرکاء، پھر ہم ان کے درمیان تفریق کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ ) مشرکین اور ان کے شرکاء آخرت میں گزشتہ آیات کریمہ میں شرک کے ابطال پر مختلف قسم کے دلائل دیئے گئے ہیں جن میں عقلی بھی ہیں، تاریخی بھی، واقعاتی بھی ہیں اور نفسی بھی اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس آیت کریمہ میں ترہیب کے انداز میں مشرکین کے سامنے قیامت میں گزرنے والے احوال کے حوالے سے منظر کشی کی گئی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اگر تم ذہنی طور پر اتنے بانجھ ہوگئے ہو کہ تم پر کوئی دلیل اثر نہیں کرتی اور یا شاید اتنے بلید ہوگئے ہو کہ دلائل کو سمجھنے سے قاصر ہو تو ہم محض ہمدردی کے طور پر تمہارے سامنے آخرت کا وہ منظر پیش کرتے ہیں جس میں تم نہایت ناخوشگوار اور ناقابل برداشت صورتحال سے دوچار ہوجاؤ گے۔ آج جبکہ تمہارے سامنے تمہارے انجام کی بات ہوتی ہے تو تم اس لیے زیادہ پرواہ نہیں کرتے کیونکہ تمہیں اپنے ان شرکاء پر بھروسہ ہے جنھیں تم نے اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کر رکھا ہے اور تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز تمہیں اللہ کی گرفت سے بچا لیں گے جیسے دنیا میں تمہارے زعم کے مطابق تمہاری مدد کرتے رہے ہیں اور تمہاری خوشحالیوں کا باعث بنے رہے ہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی تمہیں جہنم کے عذاب سے بچا لیں گے، لیکن تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن جب تم پر اللہ کا غضب برس رہا ہوگا اور نہایت ہولناک انجام تمہارے سامنے ہوگا اس وقت تم تنہا نہیں ہو گے بلکہ جن کو تم نے اللہ کا شریک بنایا وہ سب تمہارے ساتھ ہوں گے۔ ” جمیعاً “ کا لفظ بول کر بطور خاص اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جن قوتوں کے سہارے تم نے اپنے انجام کو بگاڑا، اپنی دنیا بھی برباد کی اور پیغمبر کی کسی بات پر تم نے کان نہ دھرا۔ قیامت کے دن وہ تمام سہارے تمہارے ساتھ محشر میں موجود ہوں گے اور عبرت کی بات یہ ہے کہ جس صورتحال سے وہاں تمہیں گزارا جائے گا وہی صورتحال انھیں بھی درپیش ہوگی۔ شرکاء کون ہیں اس آیت کریمہ کے الفاظ پر غور کیجیے اور آگے جو مکالمہ مشرکین اور شرکاء کے درمیان نقل کیا جارہا ہے اسے غور سے پڑھئے تو معلوم ہوجائے گا کہ جن لوگوں کو اس آیت کریمہ میں شرکاء کہہ کر ذکر کیا جارہا ہے وہ پتھر کے بت نہیں ہوں گے بلکہ وہ جیتی جاگتی شخصیتیں ہوں گی کیونکہ قرآن کریم نے بار بار مشرکین سے یہ کہا کہ جن بتوں کے سامنے تم سر جھکاتے ہو وہ نہ بول سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں، تمہاری دعائوں کو کیسے قبول کریں گے اور کس طرح تمہاری مدد کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جو بت دنیا میں بولنے سے عاجز تھے وہ قیامت میں بھی بولنے سے عاجز ہوں گے۔ ان بتوں کو جہنم میں ضرور پھینکا جائے گا تاکہ ان سے ایندھن کا کام لیا جائے لیکن ان سے پوجنے والوں کا مکالمہ کہیں نہیں ہوگا بلکہ مکالمہ ان شخصیتوں سے ہوگا جن کے بت بنائے گئے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کا انسان بھی اور آج کے دور کا بھی اگر کہیں مجسموں کی پوجا کرتا ہے یا مجسموں کا احترام بجالاتا ہے یا انھیں کسی نہ کسی طرح باقی رکھنے پر اصرار کرتا ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ وہ مجسمے ہیں بلکہ ان کا احترام اس لیے ہے کہ وہ بعض زندہ شخصیتوں کے مجسمے ہیں۔ اپنے دور میں یہ شخصیتیں مرجع خلائق رہیں۔ ان کے کارناموں کی شہرت اور ان کی نیکیوں کے تذکرے نے انھیں دلوں میں اتارا اور دنیا سے گزر جانے کے بعد لوگوں نے ان کی یاد باقی رکھنے کے لیے ان کے مجسمے بنا لیے۔ جہاں مجسمہ سازی کا فن ابتدائی درجے میں تھا وہاں بت گھڑے گئے اور جہاں مجسمہ سازی کا فن عروج پر تھا وہاں خوبصورت مجسمے آراستہ کیے گئے لیکن مقصود نہ مجسمے تھے نہ بت، مقصود ان کے پیچھے وہ زندہ، متحرک اور نیک نام شخصیات تھیں جن کی وجہ سے لوگ ان کا احترام کرتے اور ان سے عقیدت رکھتے تھے۔ لات و منات اور عزیٰ وہبل وغیرہ، سب کے پیچھے زندہ شخصیات تھیں جن کی عقیدت میں یہ بت تراشے گئے تھے۔ آیتِ کریمہ کے الفاظ پر اگر ہم مزید غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف نیک نام شخصیات ہی نہیں بلکہ ایسے لوگ بھی مراد ہیں جن کے افکار کی دنیا میں پیروی کی گئی جنھوں نے زندگی گزارنے کے لیے وضعی قوانین دیئے۔ کہیں معیشت، کہیں سیاست، کہیں تہذیب و تمدن، کہیں معاشرت، کہیں مرد و عورت کی حقیقت اور کہیں کائنات اور خالق کے تعلق کے حوالے سے مخصوص تصورات دیئے جس کے نتیجے میں کہیں شرم و حیاء کو نقصان پہنچا، کہیں خاندانی نظام ادھڑ گیا، کہیں انسان کی اصل حیثیت گم ہوگئی اور اسے معاشی حیوان میں تبدیل کردیا گیا، کہیں علم اور اخلاق کی حیثیت اور ترتیب کو بگاڑ دیا گیا اور ان کے پیچھے چلنے والوں نے انھیں رہنما اور مقتداء کی حیثیت دے کر اپنے اوپر ان کی پیروی لازم کرلی۔ یہ سب لوگ قیامت کے دن اپنے پیچھے چلنے والوں کے ساتھ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ جب مجرموں کو قیامت کی طرف جانے کا حکم ہوگا تو ان لوگوں کو الگ روک لیا جائے گا اور فرمایا جائے گا۔ مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ (تم اور تمہارے شرکاء اپنی جگہ ٹھہرے رہو) مَکَانَکُمْ سے امکثوا یاقفوا یا اس کا کوئی ہم معنی لفظ یہاں محذوف ہے اور عربی کا طریقہ یہ ہے کہ جہاں کسی فوری اور واجب التعمیل حکم کا موقع ہو تو ظرف یا مفعول سے پہلے فعل کو حذف کردیتے ہیں تاکہ مخاطب کی ساری توجہ اصل بات پر مرتکز رہے۔ یہاں بھی اسی مقصد کے لیے فعل کو حذف کردیا گیا ہے لیکن وہ معنی میں باقی ہے۔ یعنی ان لوگوں کو قدم آگے بڑھانے سے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ پیروی کرنے والے اور جن کی پیروی کی جاتی رہی دونوں ایک طرف ہو کر کھڑے ہوجائیں اور دونوں ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کریں، ممکن ہے بعدزمان و مکان یا قیامت کے ہولناک منظر کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو پہچان نہ سکیں تو پروردگار فرماتے ہیں فَزَیَلْنَا بَیْنَھُمْ پھر ہم ان کے درمیان تفریق کردیں گے یعنی ان پر جو اجنبیت کا پردہ پڑا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو پہچان نہیں پا رہے تھے اور ممکن ہے کہ گھلے ملے ہوں۔ اب اجنبیت کا پردہ اٹھ جانے سے اور دونوں کے درمیان تفریق ہوجانے سے دونوں ایک دوسرے کو پہچاننے لگیں گے۔ وہ لوگ جو اپنے رہنمائوں سے عقیدت کے باعث ان کی ہر بات مانتے رہے اور وہ لوگ جو نیک نام لوگوں کے بت پوجتے رہے جب ان لوگوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو زندگی بھر ہم نے اس لیے پوجا کہ یہ قیامت میں ہمارے کام آئیں گے۔ آج یہ خود ہماری طرح پکڑے ہوئے ہیں تو ان کی پریشانیوں میں انتہا درجے کا اضافہ ہوجائے گا۔ اسی طرح وہ لوگ جو اپنے سامنے ان لوگوں کو پائیں گے جن کی فکری رہنمائی کو انھوں نے ہمیشہ زندگی کا سرمایہ سمجھا اور ہر بات میں ان کی اطاعت کرتے رہے لیکن آج یہی اطاعت جب انھیں جہنم تک پہنچا رہی ہوگی تو وہ چیخیں گے کہ یا اللہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں دنیا میں گمراہ کیا۔ ہمارا جرم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے ان کی پیروی کی یا ان کے سامنے سر جھکایا۔ ان میں سے کتنے ایسے ہیں جنھوں نے ہمیں یقین دلایا کہ قیامت کے دن ہم تمہیں پار لگائیں گے، ہمارا دامن گرفتہ کوئی شخص اس دن پکڑا نہیں جائے گا۔ ہم نے ان پر اعتماد کیا اور اس حال کو پہنچے۔ اس لیے سزا ہمیں نہیں انھیں ملنی چاہیے کیونکہ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا اور رہے وہ فکری رہنما انھوں نے ہمیں اسلام کے تصور ہی سے دور رکھا۔ کچھ لوگوں نے مذہب کو افیون قرار دیا ہم نے ان کے کہنے کی وجہ سے مذہب سے تعلق توڑ لیا۔ کچھ لوگوں نے خدائی کا انکار کردیا اور انسان کو ایک معاشی حیوان ٹھہرایا۔ ہم ان کے دلائل کے سامنے جھک گئے اور کو لہو کے بیل کی طرح ساری زندگی معاش کی چکی پستے رہے۔ کچھ لوگوں نے اللہ کو کائنات کا خالق ومالک تو مانا لیکن دلائل سے یہ بات ثابت کی کہ اس کا دنیا میں نظام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ہمیں عقل دے کر آزادی دے دی گئی ہے کہ جیسے چاہو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نظام وضع کرو۔ چناچہ ان کی پیروی میں ہم نے قرآن کو صرف ایک حصول ثواب کی کتاب جانا اور اس کی رہنمائی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مذہب کو بھی ایک انفرادی معاملہ سمجھا جس کا تعلق بندے اور اللہ سے ہے، کسی اور ادارے سے نہیں۔ چناچہ ہم نے نماز روزے کو مذہب کی ضرورت کے طور پر باقی رکھا، باقی ہر چیز سے اپنے آپ کو آزاد کرلیا۔ یہ مختلف قسم کے رہنما اور لیڈر حضرات ہمارے سامنے کھڑے ہیں ہم نے جو کچھ بھی کیا انھیں کی رہنمائی میں کیا۔ اس لیے آج اگر عذاب کے مستحق ہیں تو یہ لوگ ہیں۔ ہمیں تو ہماری سادگی کی وجہ سے معافی مل جانی چاہیے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ دنیا میں بھی قانون سے بیخبر ی کبھی عذر تسلیم نہیں کی گئی۔ Ignorence of law is no excuse قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے اللہ کے یہاں بھی دین سے بیخبر ی اور جہالت بھی عذر نہیں بن سکے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین کے بنیادی علم کو سیکھنا فرض قرار دیا ہے جو آدمی اس میں کوتاہی کرتا ہے اور پھر اس کو بنیاد بنا کر بدعملی یا بےعملی کا ارتکاب کرتا ہے وہ در حقیقت دوہرا جرم کرتا ہے۔ اس لیے قیامت کے دن بھی لوگ مختلف حوالوں سے جان چھڑانے کی کوشش کریں گے لیکن جان نہیں چھوٹے گی بلکہ قدرت کی طرف سے ان کی جگ ہنسائی اور رسوائی کا انتظام اس طرح ہوگا کہ جب یہ لوگ اپنے مقتدائوں اور رہنمائوں پر سارا ملبہ ڈال رہے ہوں گے تو ان کے مقتداء اور رہنما یہ کہہ کر ان سے ہر تعلق کا انکار کردیں گے۔ شرکاء کا اعلانِ براء ت وَقَالَ شُرَکَآؤُ ھُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَاتَعْبُدُوْنَ (اور ان کے شرکاء کہیں گے کہ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ ) یہاں رک کر اندازہ کیجیے کہ یہ کیسا منظر ہوگا کہ جن کے بھروسے پر زندگی گزاری اور اللہ کے رسولوں کی دعوت کو اس لیے درخوراعتنا نہ سمجھا کہ ہمیں جو بار بار اللہ کی گرفت سے ڈرایا جارہا ہے ہمیں اس کی کیا پرواہ کیونکہ جن کے ہم دامن گرفتہ ہیں یا جن سے ہمارا روحانی رشتہ ہے اور جنھیں ہم نے ان امیدوں سے ہمیشہ پکارا کہ وہ ہمیں اللہ کی پکڑ سے بچائیں گے اور ہم پر وہاں آنچ بھی نہیں آنے پائے گی اور آج وہ ساری دنیا کے سامنے صاف انکار کررہے ہیں کہ ہمیں تو معلوم بھی نہیں کہ تم کب ہماری بندگی کرتے رہے ہو اور کب تم نے ہمارے اعتماد پر اللہ کے رسول کی دعوت کو نظرانداز کیا۔ ہم آج تمہارے لیے کیا کرسکتے ہیں۔ ہمیں تو آج خود اپنی جان بچانے کی فکر ہے۔ ہمیں اپنا برا انجام سامنے نظر آرہا ہے اور ہم جو کچھ تم سے کہہ رہے ہیں یہ کوئی فرضی بات نہیں بلکہ : فَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدً م ابَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ ۔ (یونس : 29) (پس کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ ہمارے اور تمہارے درمیان کہ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔ ) ہم اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتے ہیں یعنی ہم اس کی قسم کھا کر یہ بات کہتے ہیں (کیونکہ یہاں گواہی قسم کے معنی میں ہے) کہ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔ یہاں ” اِنْ ، اِنَّ “ کا مخففہ ہے۔ لَغَافِلِیْنَ پر لام اس کا قرینہ ہے۔ یہ دونوں قسم کی تاکید کے لیے آئے ہیں کہ ہم تمہیں بار بار نہایت تاکید سے حلفاً یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہاری پرستش، تمہاری اطاعت اور تمہاری بندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ اگر تم نے واقعی ایسا کیا ہے تو اس کی ذمہ داری تم پر ہے۔ ہم تو خود اس جرم میں پکڑے گئے ہیں کہ ہم نے اللہ کی بندگی سے انحراف کیا اور تم اپنی بندگی کا بار بھی ہم پر ڈال رہے ہو۔ اب غیر اللہ کی پوجا کرنے والے حیران کھڑے سوچیں گے کہ جن کے بھروسے اور اعتماد پر ہم نے اپنی آخرت تباہ کی وہ تو ہم سے بھی زیادہ برے انجام کی گرفت میں معلوم ہوتے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ : توقع تھی وہ جن سے خستگی میں داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نکلے
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اس وقت ہر شخص اپنے اس عمل سے دوچار ہوگا جو اس نے آگے بھیجا تھا اور وہ سب لوگ اپنے مولیٰ حقیقی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور گم ہوجائے گا ان سے جو وہ افتراء باندھا کرتے تھے۔

ھُنَالِکَ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْآ اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (یونس : 30) (اس وقت ہر شخص اپنے اس عمل سے دوچار ہوگا جو اس نے آگے بھیجا تھا اور وہ سب لوگ اپنے مولیٰ حقیقی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور گم ہوجائے گا ان سے جو وہ افتراء باندھا کرتے تھے۔ ) سب کی پیشی اللہ کے سامنے اس رسوائی اور جگ ہنسائی کے بعد دونوں کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ یقین کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ہم نے جو سہارے دنیا میں تراش رکھے تھے وہ فریب نظر کے سوا کچھ نہ تھا۔ آج یہاں نہ کوئی سہارا کام آئے گا نہ کوئی معاوضہ۔ یہاں تو عدل کی حکومت ہے اور یہاں سکہ صرف ایمان وعمل کا چلتا ہے۔ ہر طرف سے آواز آتی ہوئی سنائی دے گی : یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے اب انھیں اپنے اعمال کی فکر ہوگی۔ جن لوگوں کو وہ اپنا ملجا اور ماویٰ سمجھتے تھے اور جن کے تقرب کے زعم سے وہ ہر طرح کی کامیابی کا یقین رکھتے تھے۔ آج وہ دیکھیں گے کہ جس طرح یہاں عمل کے سوا کوئی چیز کارآمد نہیں اسی طرح یہاں آقائے حقیقی کے سوا کوئی آقا نہیں۔ وہاں ایک ہی آستانہ ہے جو صرف پروردگار کا ہے۔ ایک ہی مرجع ہے جو پروردگار کی ذات ہے اور ایک ہی ملجا و ماویٰ ہے جو خداوندقدوس ہے اور ایک ہی سایہ ہے جو اس کے عرش معلی کا ہے۔ جو کچھ ہم نے اپنے خیالوں میں بسا رکھا تھا وہ سب کچھ جاتا رہا اب تو چھوٹے بڑے سب لوگ اسی کے حضور کھڑے ہیں جسے اللہ کہا جاتا ہے اور جس کے ہزاروں صفاتی نام ہیں۔ آج کے دن وہ صفت عدل کے ساتھ تخت عدالت پر متمکن ہے۔ اس لیے آج اس کی حکومت کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ وہ جو فیصلہ کرے گا وہی حقیقی فیصلہ ہوگا۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ تمہیں آسمان اور زمین سے رزق کون دیتا ہے ؟ یا کون ہے جو کان اور آنکھوں کا مالک ہے اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور کون ہے جو ساری کائنات کا انتظام فرماتا ہے، تو وہ جواب دیں گے، اللہ۔ تو ان سے کہئے کیا تم اس اللہ سے ڈرتے نہیں۔

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الَحْیِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُالْاَمْرَ ط فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ ج فَقُلْ اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ ۔ (یونس : 31) (اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ تمہیں آسمان اور زمین سے رزق کون دیتا ہے ؟ یا کون ہے جو کان اور آنکھوں کا مالک ہے اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور کون ہے جو ساری کائنات کا انتظام فرماتا ہے، تو وہ جواب دیں گے، اللہ۔ تو ان سے کہئے کیا تم اس اللہ سے ڈرتے نہیں۔ ) مشرکین کا فکری تضاد انسان بھی عجیب واقع ہوا ہے کہ جب اکڑنے اور انکار کرنے پر آتا ہے تو خالق کائنات کا انکار کردیتا ہے اور جب ماننے اور تسلیم کرنے پر آتا ہے تو انسانوں، جنات، ملائکہ، حکمرانوں اور مظاہرِ قدرت و فطرت کے سامنے جھک جاتا ہے اور پتھروں کو سجدہ کرنا شروع کردیتا ہے اور جن قوتوں کو اللہ نے اس کے لیے مسخر کیا ہے ان کی بندگی بجالانا شروع کردیتا ہے۔ انسان کی اسی غیرمتوازن سوچ سے قسم قسم کا شرک پیدا ہوا اور جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی توحید سے دور ہوتا چلا گیا۔ اللہ کے نبی اور رسول جب انسانوں کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوتے ہیں تو وہ انسان کی اسی فکری نا ہمواری اور عملی بےاعتدالی کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ توحید جس طرح پورے دین کی بنیاد ہے اسی طرح شرک انسان کی فکری کج روی اور عملی بےاعتدالی کا حقیقی سبب ہے۔ جب تک اس کا سد باب نہیں ہوتا اس وقت تک نہ اللہ کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے اور نہ انسان کے فکرو عمل میں راست روی آسکتی ہے۔ اسی لیے ہم مکی سورتوں میں دیکھتے ہیں کہ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ پیش نظر آیت ِکریمہ میں بھی بالکل سامنے کی مثالیں دے کر جن کا تعلق ہمارے گردوپیش سے بھی ہے اور ہماری واقعاتی زندگی سے بھی۔ اسی حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ انسان کی سب سے پہلی ضرورت غذا ہے جس کا تعلق کھانے سے بھی ہے اور پینے سے بھی اور باقی ضرورتوں سے بھی۔ ان سب چیزوں کی طرف رزق کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔ انسان جس طرح سب سے زیادہ غذا کی احتیاج رکھتا ہے اسی طرح زندگی کی بیشتر صلاحیتوں کو اسی کے حصول میں صرف کرتا ہے اور جب اس میں کہیں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو پھر وہیں سے شرک کا آغاز ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی کو نوکری سے نکال دیا گیا، روزگار ٹھپ ہو کر رہ گیا، صحت جواب دینے لگی، کاروبار زندگی میں پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں، آدمی جب ادھر ادھر ہاتھ مارنے سے مایوس ہونے لگتا ہے تو پھر بعض دفعہ وہ غیر مرئی قوتوں کو پکارنے لگتا ہے۔ اپنی بےبصیرتی یا شیطانی اثرات کے نتیجے میں مختلف آستانوں پر دریوزہ گری کرنے لگتا ہے۔ یہیں سے شرک کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس کے ازالے کی آسان ترین کوشش یہی ہے کہ انسان کو توجہ دلائی جائے کہ تیری بنیادی ضرورتوں کا خالق کون ہے۔ اگر تم اس بات کو بھول گئے ہو کہ تم خود کس کی تخلیق ہو تو یہ بات تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ تمہیں رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل رہا ہے۔ رزق کے سروسامان یا وسائل کا حقیقی سرچشمہ زمین ہے۔ ہماری جن ضرورتوں کا تعلق نباتات سے ہے وہ ہمیں زمین مہیا کرتی ہے، لیکن زمین اس خدمت میں بجالانے میں نہ خود مختار ہے نہ خودکفیل ہے۔ جس طرح تمہیں اور تمہاری صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اسی طرح زمین اور اس کی قوت روئیدگی کو بھی اللہ ہی نے پیدا کیا۔ تم جب اس میں کاشت کے لیے غلے کا بیج ڈالتے ہو اور اس پر سہاگہ چلا کر اسے دفن کردیتے ہو تو ہونا تو یہ چاہیے کہ بویا جانے والا بیج مرجائے کیونکہ جو چیز زمین میں دفن کردی جاتی ہے وہ زندہ ہو تو مرجاتی ہے، مردہ ہو تو گل جاتی ہے، لیکن دو دن کے بعد حیرت زدہ نگاہ دیکھتی ہے کہ زمین میں دراڑیں پڑتی ہیں اور ان دراڑوں میں سے ہر دانے میں سے نکلنے والی سوئی باہر آنا شروع کردیتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس تنہائی اور تاریکی میں دانے کو کس نے پھاڑا اور کس نے اس کی سوئی باہر نکالی۔ پھر یہ سوئی باہر نکل کر آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کردیتی ہے۔ ہوا اس کو لوریاں دیتی ہے، موسم کی آغوش اس کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس کی آبیاری کا سامان کیا جائے تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ دریا اور سمندروں سے سورج کی کرنیں ڈول بھر بھر کے کھینچتی ہیں اور فضاء میں ابر کی چادریں بچھا دیتی ہیں پھر انھیں ہانکتی ہوئی وہاں لے جاتی ہیں جہاں آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ چھم چھم بارش برستی ہے لیکن زمین صرف اتنا چوستی ہے جتنی آبیاری کے لیے ضرورت ہے۔ اگر وہ سارا پانی نگل لیتی تو دلدل بن جاتی اور ہر اگنے والی چیز مرجاتی اور اگر وہ پانی کی ایک ایک بوند اگل دیتی تو آبیاری کی ضرورت پوری نہ ہوتی۔ اب یہ پودا جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے ویسے ویسے موسم اس کی افزائش میں اپنا رول ادا کرتا ہے۔ زمین میں پھیلی ہوئی مختلف گیسیں اپنا کام کرتی ہیں، سورج اسے گرمی پہنچاتا ہے تاکہ اسے پکنے میں مددے اور چاند اس میں گداز پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ معمول ہے جس سے ہر کاشتکار کی نگاہ واقف ہے اور عام انسانی زندگی سے آگاہ آدمی بھی اس سے غافل نہیں۔ سب کو مخاطب کرکے پوچھا جارہا ہے کہ تم بتائو کہ یہ تمہارے غلے پکنے اور تمہارے پھلوں کے بارآور ہونے کا جو ایک سلسلہ ہے یہ کس کے ہاتھ میں ہے۔ کیا زمین کی قوت روئیدگی کو تم نے پیدا کیا، دانے کو تم نے پھاڑا اور اس سے کونپل نکالی۔ قدم قدم اگنے والے پودے کی تم نے حفاظت کی۔ اس کی آبیاری کا سامان تم نے کیا۔ اس میں سختی اور نرمی تم نے پیدا کی۔ تم جانتے ہو یہ سب کچھ اللہ نے کیا ہے اور اسی کی قدرت سے غلے کا کھلیان تمہارے گھر میں پہنچتا ہے۔ اسی کی رحمت سے قسم قسم کے پھل، طرح طرح کی سبزیاں انسانوں کے کام و دہن کی لذت کے لیے مہیا کی جاتی ہیں۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسی انداز میں سوالات کیے : پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار خاک یہ کس کی ہے کس کا ہے یہ نور آفتاب کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب موسموں کو کس نے سکھلائی یہ خوئے انقلاب یہ تو وہ چند نعمتیں ہیں جن کا تعلق انسانی غذا سے ہے اور یہ چونکہ ہر وقت انسان کے سامنے رہتی ہیں اس لیے پروردگار نے اس کا ذکر فرمایا۔ اگلے جملے میں ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جن کا تعلق انسان کے جسم اور اس کے احساسات سے ہے۔ اگر انسان کے چاروں طرف نعمتوں کے انبار لگا دیئے جاتے جو ایک سے ایک بڑھ کر لطف و لذت کا مرقع ہوتیں۔ ہر طرف رنگوں کی بہار برس رہی ہوتی اور موسیقی کی دھنیں فضاء میں بکھر رہی ہوتیں لیکن اس سے محظوظ ہونے اور فائدہ اٹھانے کے لیے انسان کو حواس نہ دیئے جاتے، وہ نہ سن سکتا نہ دیکھ سکتا نہ محسوس کرسکتا۔ اندازہ فرمائیے اس کے لیے رنگ و حسن کی بہار کیا معنی رکھتی اور اس کی زندگی کس قدر بوجھل ہوتی۔ اس لیے اب ان چند نعمتوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو اس پہلو سے انسان کی سب سے بڑی دولت ہے اور سوال کے انداز میں پوچھا جارہا ہے کہ بتائو سمع اور بصر کا مالک کون ہے، کس کے قبضے میں ہیں یہ نعمتیں کہ وہ جسے چاہے دے اور جسے چاہے نہ دے۔ ان میں سے ایک نعمت کان ہیں یعنی قوت سماعت کا آلہ۔ حصول علم کے جتنے ذرائع ہیں ان میں سے ایک معتبر ذریعہ اور ہدایت کے جتنے امکانات ہیں ان میں سے ایک نہایت قیمتی امکان انسان کے دائیں بائیں سماعت کے دو پرزے لگا دیئے گئے ہیں۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ اگر سننے کا یہ آلہ ناکارہ ہوجائے تو دنیا بھر کے سائنسدان مل کر بھی ایک کان نہیں بنا سکتے کیونکہ وہ ایک کان جیسا کان تو تراش سکتے ہیں لیکن اس میں قوت سماعت پیدا نہیں کرسکتے۔ ایک سائنسدان کا قول مشہور ہے کہ جس پروردگار نے سماعت کا یہ حیرت انگیز آلہ پیدا کیا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خود نہ سنتا ہو کیونکہ سماعت ایک ایسی قوت ہے جو اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ جس طرح اس کی تخلیق پر کوئی قادر نہیں اسی طرح اس کی تنقیح پر بھی کوئی قادر نہیں۔ سماعت کے بعد دوسری بیش بہا نعمت وہ دیکھنے کی قوت ہے۔ آنکھ کی خوبصورتی بجائے خود ایک معجزہ ہے۔ اس کے اندر قوت بصارت معجزے سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ سائنسدانوں نے مکھی کی آنکھ پر تحقیق کے جو نتائج مرتب کیے ہیں انھیں پڑھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے اور انسان کی آنکھ تو تمام مخلوقات کی آنکھوں سے قوت بصارت میں بہتر اور خوبصورت ہے۔ سمع اور بصر ہی دو بنیادی ذریعے ہیں اسی سے ترقی کرتا ہوا انسان دور تک علم کی وادیوں میں پہنچ گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک تیسری نعمت کو بیان فرمایا جو سب نعمتوں سے بڑھ کر ایک نعمت ہے وہ زندگی اور موت ہے۔ دنیا کی ساری ہمہ ہمی زندگی کے دم قدم سے ہے اور زندگی کی ساری مایوسیوں، محرومیوں اور تلخیوں کی انتہا موت سے ہوتی ہے۔ بظاہر موت ایک دکھ ہے لیکن حقیقت میں ایک نعمت ہے جس سے زندگی کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ غالب نے ٹھیک کہا : ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمتیں ہیں کہ انسان ایجاد و دریافت کے ہزاروں دعوئوں کے باوجود اس کی حقیقت کو نہ پاسکا۔ زندگی کیا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے اور موت کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے۔ آج تک اس کی کنہ کو کوئی معلوم نہ کرسکا۔ انسان کے اندر سے زندگی نکل جاتی ہے تو انسان بیکار ہوجاتا ہے لیکن انسان ساری کوشش کے باوجود یہ نہیں جان سکا کہ انسان کے اندر سے کیا نکل جاتا ہے اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ڈاکٹروں نے کسی مریض کی موت کا اعلان کردیا لیکن اس کی زندگیعود کر آئی اور ڈاکٹر کچھ نہ سمجھ سکے کہ وہ کیا چیز ہے جو واپس آگئی ہے اور مزید عجیب بات یہ ہے کہ زندگی کا سفر صرف زندگی ہی سے آگے نہیں بڑھتا بلکہ نہایت حیرت کی بات یہ ہے کہ موت سے زندگی پھوٹتی ہے اور زندگی سے موت نکلتی ہے۔ نطفہ ایک پانی کی بوند ہے لیکن اس سے انسان اور حیوان پیدا ہورہے ہیں یعنی ایک مردہ سے زندہ انسان پیدا کیے جارہے ہیں اور انسان زندہ ہے اور اس کے اندر سے مردہ نطفہ پیدا کیا جارہا ہے اور زندہ مرغی سے مردہ انڈہ نکالا جارہا ہے۔ پروردگار پوچھتا ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ اس قوت تخلیق کا خالق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں تو پھر تم کہاں بہک جاتے ہو۔ مزید فرمایا کہ اس نے صرف زندگی پیدا نہیں فرمائی یا اس نے زندہ انسان ہی پیدا نہیں فرمائے اور پھر اس نے زندگی کی بقا کے لیے وسائلِ زندگی ہی فراہم نہیں کیے بلکہ اپنی بیشمار مخلوقات میں اس نے حیرت انگیز نظم و ترتیب بھی پیدا کی۔ ایک ڈسپلن پیدا کیا۔ ہر مخلوق کی ڈیوٹیاں مقرر کیں اور ڈیوٹیوں کی ادائیگی کے لیے علم عطا کیا۔ جس طرح کسی کو بنایا ویسا اسے جسم عطا کیا اور جیسا جسم دیا ویسا ماحول مہیا کیا۔ زمین پر بسنے والا انسان کائنات کا گل سرسبد ہے لیکن جس کرے پر یہ رہتا ہے وہ شاید کائنات کا سب سے چھوٹا کُرہ ہے۔ ایسے ہی اور اس سے بہت بڑے بیشمار کرے ہیں لیکن انسانی نگاہ آج تک ان کا علم حاصل نہ کرسکی۔ سائنسدان خود کہتے ہیں کہ یہ کائنات اتنی وسیع و عریض ہے کہ اس کے بعض ستارے ایسے ہیں کہ جب سے وہ پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے ان کی روشنی زمین کی طرف سفر کررہی ہے لیکن آج تک زمین تک پہنچ نہیں سکی۔ اتنی بڑی کائنات اور اس میں بیشمار کُرے اور لاتعداد مخلوقات ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ بتائو ان سب کے معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے، کس نے ان کو پیدا کیا، کس نے ان کی حرکتیں مقرر کیں، کس نے ان کے مدار مقرر کیے، کس نے ان میں کشش اور جذب کی قوت رکھی اور کس نے انھیں بغیر ستونوں کے ثبات و قیام بخشا۔ ان کو جو فرائض دیئے گئے ہیں ان کی ادائیگی کی نگرانی کون کرتا ہے، سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں، چاند سورج سے کیوں نہیں جا ٹکراتا اور رات دن سے آگے کیوں نہیں بڑھ جاتی۔ ان میں سے ہر ایک اپنے مدار میں گردش کرنے پر کیوں مجبور ہے۔ ان کی گردش اور رفتار پر اہل زمین کے کیلنڈرز کا دارومدار ہے۔ اگر ان کی رفتار میں معمولی کمی بیشی ہوجاتی تو ہماری تمام جنتریاں اور ہمارے تمام کیلنڈر غلط ہوجاتے اور ہمارا کمپیوٹر ماضی کے تخمینے لگانے سے عاجز ہوجاتا لیکن خداوندذوالجلال کی حیرت انگیز تدبیر کارفرما ہے کہ اتنی بڑی کائنات کہ جس کے اور چھور کا کوئی اندازہ نہیں اس میں کہیں غلطی کا امکان تک پیدا نہیں ہوتا۔ قرآن کریم ہمیں آسمانوں کی طرف توجہ دلاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا تم نے رحمن کی تخلیق میں کہیں تفاوت دیکھا ہے۔ تم بار بار اس تخلیق کو دیکھو، تمہیں کہیں کوئی فتور اور کہیں کوئی دراڑ نظر آتی ہے۔ تم اس کے حیرت انگیز نظم و ترتیب کو دیکھو، کہیں تمہیں شکست و ریخت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار اس آیت کریمہ میں پوچھتا ہے، لوگو ! بتائو تم نے جو اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں انھیں آسمانوں اور زمین میں رزق کون دیتا ہے، تمہارے حواس اور احساسات کا مالک کون ہے، تمہیں مشاہدات اور مسموعات کی دولت سے کس نے گراں بار کیا ہے۔ زندگی اور موت کس کے ہاتھ میں ہے، کون زندہ سے مردہ کو اور مردہ کو زندہ سے نکال رہا ہے، کون ہے جس نے مادہ کو حیات سے نوازا اور پھر جب وہ چاہتا ہے مادہ کو حیات سے بیگانہ کردیتا ہے۔ کون ہے جس نے بیجان چیزوں میں فکری حقیقتیں رکھی ہیں اور فکری قوتوں سے حسن معنی کی دنیا وجود پذیر ہوئی ہے اور پھر اس عظیم کائنات جس کی وسعتوں کا کسی کو اندازہ نہیں کی تدبیر کون کرتا ہے۔ کون اس کے نظام کو چلاتا ہے اور کس نے حیرت انگیز طریقے سے ہر مخلوق کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا ہے اور اس کی تمام مخلوقات اس کی دی ہوئی رہنمائی کے مطابق نہایت کامیابی سے زندگی گزار رہی ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ یہ نادان لوگ شاید جواب نہ دیں لیکن اگر وہ جواب دیں تو یقیناً یہی ہوگا کہ سب کچھ کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ ان سے کہئے کہ اگر پوری کائنات کا سررشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تم اسی کی ربوبیت سے فیض یاب ہورہے ہو، ہر چیز کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور سب کو پالنے والا، ضرورتیں مہیا کرنے والا اور عطا کرنے والا بھی وہی ہے تو پھر تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہوئے اس سے ڈرتے نہیں ہو ؟
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا حقیقی رب ہے۔ تو حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے، تو کہاں تمہاری عقل الٹ جاتی ہے۔

فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ج فَمَاذَا بَعْدَالْحَقِّ اِلاَّ الضَّلٰلُ صلے جفَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ۔ (یونس : 32) (یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا حقیقی رب ہے۔ تو حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے، تو کہاں تمہاری عقل الٹ جاتی ہے۔ ) مشرکینِ عرب کے مذہب کی تاریخ جو ہم تک پہنچی ہے اور جس کی طرف قرآن کریم بھی جابجا اشارے کرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف خالق و رازق، سمع و بصر کا مالک اور زندگی اور موت کا منبع مانتے تھے بلکہ کائنات کا مدبر اور منتظم بھی اسی کو تصور کرتے تھے۔ وہ اپنے بتوں اور دوسرے شرکاء کو اللہ تعالیٰ کی ان صفات میں شریک نہیں سمجھتے تھے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود جانتے تھے۔ البتہ ان کے ذہن میں جو فکری خرابی پیدا ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ ساری کائنات کا انتظام و انصرام تنہا ایک ذات کیسے کرسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو عرش معلی پر رونق افروز ہے، اسے ساری کائنات اور اہل زمین کے ایک ایک فرد کے بارے میں ہر وقت تفصیل کیسے معلوم ہوسکتی ہے، اس نے یقینا ایک بادشاہ کی طرح اپنے مقربین کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں اور ان کے ذمہ کچھ فرائض لگا رکھے ہیں مثلاً کسی کو اولاد دینے کا حق دے دیا ہے، کسی کو رزق میں اضافہ کرنے کا اور کسی کو مصیبتوں سے نجات دینے کا۔ یہ اگرچہ اپنے اختیارات میں اللہ تعالیٰ کے ماتحت بھی ہیں اور محکوم بھی، لیکن چونکہ انھیں ایک تقرب حاصل ہے اس لیے پروردگار ان سے بازپرس نہیں کرتا۔ وہ ایک طرح سے اپنے کاموں میں آزاد ہیں۔ یہ ایک جاہلانہ تصور تھا جس نے ان میں شرک کی چند درچند شکلیں پیدا کردی تھیں۔ ایک اور غلط فہمی جو ہمیشہ مشرک قوموں میں موجود رہی ہے اور مشرکینِ مکہ میں بھی تھی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اصل بنائے فساد ہی یہ تھی تو غلط نہیں ہوگا۔ وہ غلط فہمی یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک، منتظم اور مدبر تو مانتے تھے لیکن اسے حاکم حقیقی اور آقائے کل تسلیم نہیں کرتے تھے۔ قرآن کریم سب سے زیادہ جس بات پر زور دیتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ جو تمہارا خالق ہے وہی تمہارا رزق رساں بھی ہے اسی نے زندگی کی تمام ضرورتیں تمہیں مہیا کی ہیں۔ زندگی کے مختلف ادوار میں کوئی دور ایسا نہیں جس میں اس نے بدلتی ہوئی ضرورتوں کا لحاظ نہ فرمایا ہو اور پھر ضرورتوں کے اعتبار سے اس کی ہمہ گیری کا عالم یہ ہے کہ وہ جس طرح دودھ پیتے بچے کے لیے ماں کے سینے میں دودھ اتارتا ہے اور جب وہ ذرا بڑا ہوتا ہے تو اسے کھانا بھی دیتا ہے اور اسے ہضم کرنے کے لیے معدہ میں قوت بھی عطا کرتا ہے اور بچے کی عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی غذا میں تنوع پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے لیے نئی سے نئی معنوی نعمتوں کو بھی عطا کرتا چلا جاتا ہے۔ جب تلک بچہ حواس سے عاری تھا تو ماں نے اسے گود میں اٹھایا اور اس کی ہر ضرورت کی کفالت کی اور جب وہ بڑا ہوا تو اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تو قدرت نے بھی اس کے اندر حواس کا نور روشن کردیا اور جب وہ سکول کی عمر کو پہنچا تو آہستہ آہستہ اس کے اندر عقل کا چراغ جلنے لگا۔ جسم کی جیسے جیسے ضرورتیں بڑھتی گئیں ویسے ویسے حواس بھی پختہ ہوتے گئے اور عقل بھی تیز ہوتی گئی لیکن جب بلوغ کے بعد وقت آیا خیر و شر میں امتیاز کا، حسن قبح کی معرفت کا، کائنات کی حقیقت کے ادراک کا، اخلاقی مسلمات کے جاننے کا، کائناتی اور فطری اصولوں کی شناخت کا اور قوموں کی زندگی میں اجتماعی اخلاق کی تاثیر کے علم کا تو اللہ تعالیٰ نے وحی الٰہی سے انسان کو نوازا۔ پاکیزہ صفت، پاکیزہ شعار، پاکیزہ اخلاق اور دلآویز شخصیتوں کے مالک اور نمونے کے لوگ رسول بنا کر اٹھائے، کتابیں اتاریں۔ اس طرح سے اس نے انسان کی ہمہ نوعی ضرورتوں کو پورا فرما کر یہ تصور دیا کہ وہ تمہارا خالق ومالک جو تمہاری جسمانی ضرورتوں کے لیے فیضانِ ربوبیت رکھتا ہے وہ تمہاری معنوی اور روحانی ضرورتوں کے لیے بھی ایسی ہی رحمت کی نظر رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے اس معنوی اور روحانی فیضان سے انسان کو کبھی محروم نہیں رکھا۔ بنا بریں ضروری ہے کہ جس طرح تم اپنے وجود کو دیکھ کر اللہ کے خالق ہونے کا یقین رکھتے ہو اور جس طرح کائنات کے نظام میں نظم و ترتیب کو دیکھ کر اللہ کے مدبر ہونے کو تسلیم کرتے ہو، اسی طرح تمہیں یہ اقرار کرنا چاہیے کہ جس نے تمہاری روحانی اور معنوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے سلسلہ رسالت چلایا ہے اور وحی الٰہی کا نور روشن کیا ہے وہ تمہار اس حوالے سے بھی رب ہے اور یہی وہ رب ہے جو تمہارا حاکم حقیقی ہے کیونکہ ایک حاکم ِ حقیقی ہی تمام ضرورتوں کو مہیا کرنے والا اور اس کو بروئے کار لانے والا ہوسکتا ہے۔ وہ تمہارا آقائے حقیقی بھی ہے کیونکہ تم اسی کے بندے اور غلام ہو جس طرح تم اس کا کھاتے اور پیتے ہو، اس کی نعمتوں سے حظ اٹھاتے ہو اور اس کی عطا کردہ زندگی سے متمتع ہوتے ہو اسی طرح تم پر لازم ہے کہ اس کے احکام کو مانو، اس کی حکومت کو تسلیم کرو، اس کے نازل کردہ آئین و قوانین کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرو اور اگر تم کھاتے تو اس کا ہو لیکن گاتے کسی اور کا ہو، شادکام تو اس کی نعمتوں سے ہوتے ہو لیکن زندگی کسی اور کی مرضی سے گزارتے اور تمہارے دل و دماغ اور تمہاری صلاحیتوں پر حکمرانی کسی اور کی ہے تو یہ وہ شرک اور دوئی کا تصور ہے جسے پروردگار قبول نہیں کرتاکیون کہ : باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول تم اسی کے بندے ہو، تو بندگی میں تقسیم نہیں ہوسکتی اور وہ تمہارا آقا ہے تو اس کی آقائی میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔ جب تک تم اس حقیقت کو نہیں سمجھو گے اس وقت تک تمہاری زندگی سے شرک نکل نہیں سکے گا اور تم کہیں نہ کہیں شرک میں ملوث ہوتے رہو گے۔ اس کا کیا کیا جائے کہ قرآن کریم مشرکین کے جس رویئے پر جابجا تنقید کرتا ہے اور ان کے شرک کی مختلف اقسام پر نہایت برہمی کا اظہار کرتا ہے۔ ان میں سے بیشتر شرک کی صورتیں ایسی ہیں جن میں آج مسلمان بھی ملوث ہیں لیکن دکھ یہ ہے کہ بیشتر مسلمانوں کو اس کا احساس نہیں۔ انھوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم چونکہ آخری امت ہیں اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے ہم چاہے کیسے بھی شرک میں مبتلا ہوجائیں ہمارے ایمان اور اسلام کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اس سلسلے میں خود کچھعرض کرنے کی بجائے مولانا الطاف حسین حالی کے اشعار نقل کرتا ہوں جس سے شاید ہمیں اپنے بارے میں سوچنے کا موقع ملے۔ کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر کرشمہ جو کو کب میں مانے تو کافر جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح پوری ہوچکی ہے تیرے رب کی بات ان لوگوں پر جو حدود سے نکل گئے ہیں کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

کَذٰلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیْنَ فَسَقُوْآ اَنُّہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (یونس : 33) (اسی طرح پوری ہوچکی ہے تیرے رب کی بات ان لوگوں پر جو حدود سے نکل گئے ہیں کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ) گزشتہ آیات کریمہ میں قرآن کریم نے زوردار دلائل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ جس اللہ کو تم اپنا خالق تسلیم کرتے ہو وہی تمہاری زندگی اور موت کا مالک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں پوری کائنات کا انتظام و انصرام ہے اور و ہی کائنات کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہیں پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا بلکہ تمہاری تمام زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنا اور جس کائنات میں تم رہتے ہو اس کے معاملات کا انتظام کرنا اور تمہیں اس دنیا میں رہتے ہوئے جس ظاہری، معنوی، ذہنی اور روحانی رہنمائی کی ضرورت ہے اسے پوری طرح روئے کار لانا اور تمہیں اس سے آراستہ کرنا یہ بھی اس نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ اس لحاظ سے جہاں وہ خالق اور مدبر ہے وہاں وہ تمہارا رب یعنی حاکم حقیقی، آقائے حقیقی اور معبودِ حقیقی بھی ہے۔ یہ تینوں صفتیں ربوبیت کا تقاضا بھی ہیں اور لازمہ بھی۔ جب تک تم انھیں بہمہ وجوہ تسلیم نہیں کرو گے اس وقت تک تم شرک کی گندگی سے پاک نہیں ہوسکتے۔ یہ تمام باتیں دلائل سے ثابت کرنے کے بعد فرمایا کہ اب تمہیں اس بات کا یقین ہوگیا ہوگا کہ یہی اللہ تمہارا رب حقیقی ہے اور کائنات کا سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی یہی ہے۔ اسے اگر اچھی طرح سمجھ گئے ہوتواب حق کے قبول کرنے میں کوئی دیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ حق واضح ہوجانے کے بعد گمراہی کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ جو آدمی اب بھی حق سے انحراف کرے گا وہ یقیناً گمراہی میں مبتلا ہوگا۔ ایسے آدمی کے بارے میں اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کی عقل پر پتھر پڑگئے اور اس نے دراصل اپنے آپ کو شیطانی قوتوں کے حوالے کردیا ہے۔ وہ نجانے اسے کن وادیوں میں لیے پھرتے ہیں۔ اللہ کا قانونِ ہدایت و ضلالت اس تمام صورتحال کے واضح ہوجانے کے بعد جب ایک مخاطب یہ دیکھتا ہے کہ اب جبکہ حق کھل کے سامنے آگیا ہے تو آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ اب بھی کچھ لوگ ایمان لا کے نہیں دیتے بلکہ وہ اپنی جہالت اور ضلالت پر قائم رہنے ہی کو دانشمندی سمجھتے ہیں۔ اس شبے کے ازالے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ تم جس صورتحال کو دیکھ کر تعجب کا اظہار کررہے ہو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں بلکہ یہ سنت اللہ کے عین مطابق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا قانونِ ہدایت و ضلالت جو اس دنیا میں انسانوں میں نافذ ہے اس کا لازمی تقاضا یہی ہے۔ آپ شاید اسے نہ سمجھے ہوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اس کی وضاحت کییدیتا ہوں۔ اللہ کا طریقہ اور اس کی سنت یہ ہے کہ اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے چند اسباب پیدا کیے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو جب تک اس کی فطرت اور اس کی قلبی کیفیت کو ماحول کے اثرات سے بگاڑ نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کا قلبی میلان اور فطری رجحان اللہ کی معرفت اور اس کی بندگی کی طرف رہتا ہے۔ لیکن جب وہ مخالف ماحول، مخالف تعلیم اور بگڑے ہوئے احباب میں رہ کر اپنی سلامت روی کو بگاڑ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے حواس اور عقل عطا کرتے ہیں۔ حق اور باطل میں امتیاز کرنے کے لیے اسے قوت تمیز عطا کی جاتی ہے اور آسمانوں سے کتابیں اترتی ہیں۔ ہر قوم میں سے ایک ایسا فرد جو ہر لحاظ سے بھروسے کے لائق ہو اور جس کے سیرت و کردار میں کوئی عیب نہ ہو اس پر اللہ کی وحی اترتی ہے اور وہ انسانوں کو اپنی ہمت سے بڑھ کر اپنی پوری شخصیت کو دائو پر لگا کر اور زندگی کا ہر دکھ اٹھا کر نہایت ہمدردی اور جانفشانی سے قوم کو اللہ کی ہدایت کی طرف بلاتا ہے اور دعوت کا کوئی اسلوب ایسا باقی نہیں رہتا جس سے وہ کام نہیں لیتا لیکن ان تمام مساعی اور ہمدردی و جانسپاری کے باوجود جو شخص ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر ممکن طریق سے اللہ کے نبی کا راستہ روکتا ہے تو پھر اللہ کی ایک مخصوص سنت اور ایک خاص قانون حرکت میں آتا ہے جسے ہدایت و ضلالت کا قانون کہنا چاہیے۔ ایسا شخص اس قانون کی زد میں آجاتا ہے اور قدرت کی جانب سے اس کے دل و دماغ پر ہدایت سے محرومی کی مہر لگا دی جاتی ہے۔ اب وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ ہدایت قبول کرسکے۔ اس آیت کریمہ میں اسی قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کریم کے تمام دلائل اور آنحضرت ﷺ کی تمام دعوتی کوششوں کو نظرانداز کرکے شرک پر اصرار جاری رکھا اور وہ اپنی گمراہی کے راستے پر جمے رہے اور ہدایت کی ہر بات کو پھلانگتے ہوئے پامال کرگئے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر شیاطین کو مسلط کردیتا ہے جو انھیں اپنا مصاحب اور ساتھی بنا لیتے ہیں اور پھر ہر وقت اسے اپنے ساتھ ساتھ لیے پھرتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے جب اسے گمراہی کی کھائیوں کی نذر کردیتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ لوگ کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِالرَّحمَانِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطَانًا فَھُوَلَہُ قَرِیْنٌ۔