Ayah 10:59قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلاً ط قُلْ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْنَ ۔ (یونس : 59)
(اے پیغمبر ﷺ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہارے لیے اتارا ہے اس میں سے تم نے کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرا لیا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ان سے پوچھئے کہ کیا اللہ نے تم کو اس کا حکم دیایا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ )
توحید کا ایک پہلو
توحید اور آخرت کا مضمون جاری تھا کہ درمیان میں قرآن کریم کے حوالے سے التفات کی آیات آگئیں۔ اب پھر توحید اور آخرت کے مضامین کو لیا جارہا ہے۔ توحید کی تین قسمیں ہیں۔
1 توحید فی الذات یعنی اللہ اپنی ذات میں یکہ و تنہا اور وحدہ لاشریک ہے۔ کوئی دوسرا اس کائنات کا خدا نہیں۔
2 توحید فی الصفات یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخصوص صفات میں بےمثال و بےنظیر ہے۔ اس کی صفات میں کوئی شریک نہیں اور کسی میں اس جیسی صفات نہیں۔ وہ خالق ہے تو اس کی صفت تخلیق میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ وہ قادر ہے تو اس کی قدرت کاملہ میں کوئی حریف نہیں۔ وہ غنی و بےنیاز ہے اس کی بےنیازی میں کوئی ہمسر نہیں۔ وہ ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے اور باقی سب اس کے محتاج ہیں۔
3 وہ اپنے حقوق میں بھی بےمثال اور لاشریک ہے۔ اس کے تکوینی اور تشریعی احکام میں کوئی ہمسر نہیں۔ چونکہ وہی سب کا خالق ہے اور اس میں کسی کا حصہ نہیں تو اس سے خودبخود یہ حق نکلتا ہے کہ سب پر اسی کا حکم چلے گا اور وہ غیرمشروط اطاعت کا حق رکھتا ہے۔ اس کی تمام مخلوق چونکہ اس کی مملوک اور محکوم ہے اس لیے بجا طور پر وہ اس کا مستحق ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو جیسا چاہے اور جو چاہے حکم دے یہ اس کا خصوصی حق ہے جس میں کوئی اس کی ہمسری نہیں کرسکتا۔ اسی حق کے حوالے سے اس آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ سے سوال کیا جارہا ہے کہ اللہ نے جو رزق تم پر اتارا ہے اس کے اتارنے اور عطا کرنے میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ اس سے خودبخود یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب وہ رزق اتارنے میں تنہا ہے تو اس رزق کی تحلیل و تحریم میں بھی کسی کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔ عقلِ عام اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ آقا اپنے مملوک کو اور حاکم اپنے محکوم کو اور خالق اپنی مخلوق کو جو بھی حکم دے وہ جائز طور پر اس کا حق رکھتا ہے۔۔ وہ اس کے زیرتصرف چیزوں میں جسے چاہے حرام کردے، جسے چاہے حلال کردے۔ کسی دوسرے کے لیے اعتراض کا کوئی موقع نہیں۔ تم نے جو اللہ کے رزق میں اپنے طور پر تحلیل و تحریم کا حق استعمال کیا ہے تمہیں آخر یہ حق کس نے دیا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن و سنت میں رزق کا لفظ صرف دسترخوان کی چیزوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا جیسا ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ جو چیزیں کھائی جاتی ہیں یا پی جاتی ہیں یعنی جن کا تعلق ماکولات و مشروبات سے ہے وہی چیزیں رزق کہلانے کی مستحق ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں۔ رزق کا معنی عربی زبان میں اللہ کی عطا یا اس کی بخشش ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہم اپنی دعائوں میں دنیا و آخرت کی نعمتیں مانگتے ہیں اور نعمتیں بھی ایسی جن کا تعلق زندگی کے متنوع شعبوں سے ہے اور اس کے لیے عموماً ہم اَللّٰھُمَّ اَرْزُقْنَاکا لفظ استعمال کرتے ہیں جس کا معنی ہوتا ہے اے اللہ ہمیں رزق عطا فرما، ایمانِ کامل کا، قلبِ خاشع کا اور علم نافع کا وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ان میں سے کسی چیز کا تعلق ماکولات و مشروبات سے نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے رزق ایک وسیع لفظ ہے جو اللہ کی عطا اور اس کی دین کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ چاہے اس کا تعلق اشیائے خوردنی سے ہو یا تہذیب و تمدن سے یا شعبہ ہائے علم سے، سب کو رزق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی مقصود یہ کہنا ہے کہ تم نے انفرادی و اجتماعی زندگی کے معاملات، تہذیبی روایات اور تمدنی اقدامات میں تحلیل و تحریم کا حق اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے حالانکہ جو ذات ان تمام امکانات اور اداروں کی مالک ہے اس کی حلت و حرمت کا فیصلہ کرنے کا حق بھی اسی کو ہے کسی اور کو نہیں کیونکہ کسی بھی صاحب امر اور صاحب حکومت کے اختیارات کا اندازہ اسی سے ہوتا ہے کہ اس کو اشیاء سے لے کر انسانوں تک اور گھروں سے لے کر پارلیمانی اداروں تک فیصلہ کرنے کا اختیار کہاں تک ہے۔ اگر صورتحال یہ ہو کہ حکومت اس کی طرف منسوب کی جائے لیکن حکم کسی اور کا چلے تو ایسی حکومت کو آزاد و خودمختار حکومت تسلیم کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ ہم سورة مائدہ کے آغاز ہی میں اس پر تفصیل سے بحث کرتے ہوئے بتا چکے ہیں کہ جب انگریز نے ہندوستان کی حکومت پر قبضہ کیا تو اس وقت بادشاہِ وقت کے ساتھ جو سب سے بڑا مذاق کیا جاتا تھا وہ یہی تھا کہ بازاروں اور چوراہوں میں جب بھی کسی حکم کا اعلان کیا جاتا تو ان الفاظ میں کیا جاتا ” کہ لوگو ! زمین اللہ کی، ملک بادشاہ کا اور حکم ایسٹ انڈیا کمپنی کا۔ “ ہر سننے والا سمجھتا تھا کہ بادشاہ کی حیثیت محض ایک مہرے کی ہے جسے کسی وقت بھی اٹھا کر پھینکا جاسکتا ہے کیونکہ اصل بادشاہ وہ ہوتا ہے جس کا حکم چلے۔ اس آیت کریمہ میں بھی مشرکینِ مکہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم یہ بات تسلیم کرتے ہو کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ ہے اور تمہارا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ جتنی نعمتیں تمہارے زیر تصرف ہیں وہ سب اس نے عطا کی ہیں لیکن ان میں تصرف کرتے ہوئے یہ دیکھنا کہ ان کی حیثیت کیا ہے، ان میں کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے، کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے۔ اس کا حق یقیناً اسی ذات کے پاس ہے جو ان کا خالق ومالک ہے لیکن تم نے انفرادی و اجتماعی زندگی میں ہر سطح پر یہ حق اپنے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ اشیائے خوردونوش ہوں یا عبادات کا نظام، افراد کے باہم رشتے ہوں یا تہذیبی و تمدنی معاملات، ان کے جائز اور ناجائز ہونے اور حلال و حرام کے فیصلے تم اپنی آزادانہ مرضی سے کرتے ہو اور اگر تمہیں کوئی اس سے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو تم اس کے دشمن ہوجاتے ہو۔ سوال یہ ہے کہ تمہیں یہ تحلیل و تحریم کا حق کس نے دیا ہے۔ اگر تو تم اللہ کو اپنا خالق ومالک نہ مانتے تو بات سمجھنا آسان ہوجاتا کہ تم اللہ کی حاکمیت سے باغی ہو۔ اس لیے تم جو بھی رویہ اختیار کرو اس سے متعلق کوئی بحث نہیں ہوسکتی لیکن حیران کن بات تو یہ ہے کہ اللہ کے بارے میں صحیح تصور رکھتے ہوئے بھی تحلیل و تحریم کا اختیار تم اپنے پاس رکھنے پر مصر ہو۔ تمہارے نزدیک اللہ کی حکومت بہادر شاہ ظفر کی حکومت کی طرح ہے۔ اس میں جس کا جی چاہے ریاست کے اندر ریاست قائم کرسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تم اللہ کی حاکمیتِ مطلقہ کو تسلیم کرتے ہو تو پھر تمہیں یہ تحلیل و تحریم کا حق کس نے دیا۔ کیا اس کی اجازت تمہیں اللہ نے عطا فرمائی ہے اور اگر ایسا ہے ( جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ ہماری یہ شریعت خودساختہ نہیں بلکہ ہمیں آبائواجداد سے ملی ہے اور انھیں یقینا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے ملی ہوگی۔ ) تو پھر اس پر کوئی سند پیش کیجیے۔ کوئی دستآویزی ثبوت، کوئی ایسا صحیفہ جو بجائے خود دلیل ہو اور اگر ایسی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں جس سے معلوم ہوسکے کہ تمہاری شریعت واقعی منزل من اللہ ہے اور اس کے باوجود تم اللہ کی طرف اس کا انتساب کرتے ہو تو پھر اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو، افتراء کرتے ہو اور ایک ایسی بےسروپا بات کرتے ہو جو کسی انسان کے بارے میں بھی کہنا مناسب نہیں۔ چہ جائیکہ اللہ کریم کے بارے میں۔
Ayah 10:60وَمَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْفَضْلٍ عَلیَ النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَیَشْکُرُوْنَ ۔ (یونس : 60)
(اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو اللہ پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان پر کیا گزرے گی۔ بیشک اللہ لوگوں پر بڑے فضل والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ )
گرفت میں تاخیر اللہ کی رحمت ہے
اس آیت کریمہ میں گزشتہ آیت کریمہ میں بیان کردہ مشرکینِ مکہ کے کرتوتوں کے حوالے سے ایک سوال اٹھایا ہے کہ تمہارے طرز عمل نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ تم جو کچھ کہتے اور کرتے ہو اس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ تم سراسر اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کہ اس نے ہمیں ایسا کرنے کا اختیار دیا ہے۔ تم ہی بتائو ہم تمہیں ہی تمہارے معاملات کا منصف بناتے ہیں کہ جو لوگ اللہ پر افتراء کریں اور جھوٹ باندھیں ان کے بارے میں کیا گمان ہے کہ قیامت کے دن اللہ ان سے کیا سلوک کرے گا۔ جب وہ اپنے اعمال اور اپنے اعتقادات کا پشتارہ اٹھائے اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور انھیں برملا اس بات کا اعتراف ہوگا کہ ہم نے جو کچھ کیا اور جو کچھ کہا اور جو کچھ ہم اللہ کی طرف منسوب کرتے رہے وہ جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ان میں سے ایک ایک بات ایجادبندہ تھی۔ اللہ نے ان میں سے کسی بات کی ہمیں اجازت نہ دی تھی۔ اس دن اللہ کی صفت عدالت انھیں ان کے اعمال کے حوالے کردے گی اور ان کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو ان کے اعمال کا تقاضا ہوگا۔ یہاں پہنچ کر ذہن میں ایک خلجان سا اٹھتا ہے کہ جو لوگ اس قدر اللہ کریم کے بارے میں دلیر واقع ہوئے ہیں کہ انھیں اس کے عذاب کی بھی پرواہ نہیں، انھیں فوراً سزا کیوں نہیں دی جاتی۔ اللہ کے رسول کی معرفت جب ان پر اتمامِ حجت کردیا گیا تو اب وہ بجا طور پر اس کے مستحق ہیں کہ عذاب کا کوڑا ان پر برسے اور ان کی گردنیں دبوچ لی جائیں۔ اس آیت کریمہ کے دوسرے جملے میں اسی بات کا جواب دیا گیا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے طور اطوار ہر طرح سے انھیں عذاب کا مستحق بناتے ہیں اور وہ اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں اللہ کی زمین پر زندہ چھوڑا جائے لیکن اللہ کی ذات اپنی ایک شان رکھتی ہے، اس کے اپنے قوانین ہیں۔ وہ اگر انسانوں کی نافرمانیوں پر انسانوں ہی کی طرح پکڑنے میں جلدی کرتا تو زمین میں کوئی شخص چلتا پھرتا نظر نہ آتا کیونکہ انسانوں میں کون ایسا ہے جس سے کبھی غلطی کا صدور نہیں ہوتا۔ اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے وہ ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ کرتا ہے۔ معافی مانگنے والوں کو بےدریغ بخشتا ہے اور اپنی بداعمالیوں پر اصرار کرنے والوں کو بھی جلدی پکڑنے کی بجائے مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ مقصود یہ ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ اپنی حالت پر غور کریں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ ان کی بداعمالیاں انھیں تباہی کا مستحق ثابت کرتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تباہی کے فیصلے کو ٹالتا رہتا ہے اور ان کے لیے سنبھل جانے کے مواقع کو دراز کرتا چلا جاتا ہے۔ اللہ کی رحمت پر مبنی اس رویئے کو دیکھتے ہوئے ہر سلیم الفطرت آدمی یہ تسلیم کرے گا کہ اللہ کی دوسری بیشمار عنایات اپنی جگہ، اس کی یہی عنایت کہ وہ مہلت پہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے اتنی بڑی نعمت ہے کہ جس پر بندوں کو اس کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ لیکن یہ انسان کی کوتاہ فکری ہے کہ وہ بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے اور گمراہی پر دلیر ہوتا چلا جاتا ہے۔
ہم یہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی ایک ایک آیت اپنے اندر ابدیت کی شان رکھتی ہے۔ اس کا کوئی لفظ بھی فنا ہوجانے والا نہیں۔ اس میں بیان کردہ ہر مضمون ہمیشہ کے لیے اپنے اندرتازگی اور شادابی رکھتا ہے۔ اس میں جو بات اس دور کے لوگوں کے لیے کہی گئی ہے جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا وہ بات آج بھی حقیقتِ ثابتہ اور قیامت تک کے لیے واجب العمل ہے۔
متذکرہ بالا آیات کریمہ میں جو بات نہایت برہمی سے مشرکینِ مکہ سے کہی گئی ہے ہر دور کی اسلامی دنیا ہمیشہ اس کی مخاطب رہے گی۔ اگر اس دور میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور زندگی کے معاملات میں تحلیل و تحریم یعنی قانون سازی کا حق اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں تھا تو آج بھی نہیں ہے اور قیامت تک نہیں ہوگا۔ اس آئینہ میں عالم اسلام کو بالعموم اور اہل پاکستان کو بالخصوص یہ سوچنا چاہیے کہ ہم نے یہ ملک اللہ سے اسلام کے نام پر لیا تھا۔ ہم نے اسے اسلامی تجربہ گاہ بنانے کا عہد کیا تھا اور پھر قراردادِ مقاصد کی منظوری سے اس اقرار و اعتراف کو قانونی شکل دی تھی اور 1973 ء کے آئین میں اللہ سے اور اہل پاکستان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ 7 سال کے عرصے میں کوئی ایسا قانون جو غیراسلامی ہو باقی نہیں رہ سکے گا اور ملک کے گوشے گوشے میں ہم اسلامی زندگی کے احیاء اور آسانی کے لیے امکانات بلکہ محرکات پیدا کریں گے۔ لیکن ہم نے آج تک جو کچھ کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہم ہر قدم پر اسلام سے دور اور کفر کے قریب ہوتے چلے گئے ہیں۔ کل تک وہ غیراسلامی باتیں جنھیں کبھی زبان پر لانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی آج زبان زد عام و خاص ہیں۔ آج تحلیل و تحریم کا حق ہم پوری طرح اپنے قبضے میں لے چکے ہیں۔ جسے چاہتے ہیں حلال کرتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں حرام ٹھہراتے ہیں۔ ایمان و استقامت کو ہم نے بنیاد پرستی کا نام دے دیا ہے اور اخلاص و للہیت کو انتہا پسندی کا۔ اللہ کے راستے میں قربانی و ایثاراب قدامت پرستی ہے اور اعلائے کلمۃ الحق اور غیرت و خودداری کو ہم نے دہشت گردی سے تعبیر کردیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے :
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے
لیکن قرآن کریم مشرکینِ مکہ کی طرح ہم سے بھی پوچھ رہا ہے کہ کیا تمہیں اس طرح کے اختیارات اللہ نے دیئے ہیں کہ تم الفاظ کے طوطے مینا اڑاتے ہوئے اور دشمن قوتوں کا ہوَّا دکھاتے ہوئے جائز کو ناجائز کردو اور ناجائز کو جائز۔ حسن و قبح کے پیمانے بدل ڈالو، اسلامی روایات کو پامال کردو، ملک کے استقلال اور آزادی کو سوالیہ نشان بنادو، آخر ان باتوں کا جواب اللہ کے سامنے جا کر کیا دو گے۔ اور تم نے کبھی سوچا ہے کہ قیامت میں اس کے نتیجے میں تم پر کیا گزرے گی۔ یہ قدرت کا فضل و احسان ہے کہ اس نے ڈھیل دے رکھی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا احتساب کرسکیں اور ساتھ ہی زلزلے کی صورت میں ایک بڑا دھچکا بھی دیا ہے لیکن اگر ہم نے اپنا احتساب نہ کیا اور اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پھر اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے :
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیرگیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayah 10:61وَمَا تَکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْہُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلاَ تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُم شُھُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ط وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآئِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرَ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (یونس : 61)
(اور آپ ﷺ جس حال میں بھی ہوتے ہیں اور قرآن سے جو بھی آپ ﷺ پڑھ کر سناتے ہیں اور (اے مسلمانو ! ) تم جو کام بھی کرتے ہو ہم تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں جس وقت تم اس میں مشغول ہوتے ہو۔ اور تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں، زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی۔ مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ )
مخالفتوں کے ہجوم میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی
اگر ہم مکہ معظمہ کا وہ منظر ذہن میں رکھیں جب قرآن کریم آنحضرت ﷺ پر نازل ہورہا تھا اور آپ ﷺ اس امانت کو مکہ کے رہنے والوں تک پہنچانے کی سعی بلیغ فرما رہے تھے۔ شروع میں تو ایک مدت تک آپ ﷺ یہ عظیم فریضہ تنہا انجام دیتے رہے پھر جیسے جیسے لوگ اسلام قبول کرتے گئے ویسے ویسے دعوت کے معاونین میں اضافہ ہوتا گیا۔ اب اللہ کے دین کو پہنچانے کا کام جس طرح نبی کریم ﷺ ادا کررہے تھے اسی طرح صحابہ کرام ( رض) بھی کبھی آپ ﷺ کے ساتھ مل کر اور کبھی الگ اس فریضہ الٰہی سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کررہے تھے اور اس کے جواب میں مشرکینِ مکہ کی طرف سے جو سلوک ہورہا تھا وہ بھی تاریخ کے کسی طالب علم سے مخفی نہیں۔ زندگی کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو مشرکین کی جانب سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کہ پہنچایا نہ گیا ہو۔ اس کی وسعت کا اندازہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشادِ مبارک سے ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ( رض) سے ایک دفعہ فرمایا کہ میں اس راستے میں جتنا ستایا گیا ہوں، کوئی پیغمبر اس قدر ستایا نہیں گیا۔ حالانکہ کئی پیغمبر اس راستے میں شہید بھی ہوئے لیکن شہادت بہت بڑی قربانی ہونے کے باوجودایک وقتی تکلیف ہے۔ شہ رگ کٹ جانے کے بعد اس تکلیف کا احساس جاتا رہتا ہے۔ لیکن وہ تکلیفیں اور اذیتیں جو مسلسل دی جاتی ہیں اور پھر جن کی چوٹ دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے اس کی شدت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے سالہاسال تک جسمانی اذیتیں بھی برداشت کیں اور دل و دماغ کے چرکے بھی سہے۔ آپ ﷺ کے راستے میں صرف کانٹے نہیں بچھائے گئے، آپ ﷺ کے سرمبارک پر صرف خاک نہیں ڈالی گئی، آپ ﷺ کے مبارک گلے میں صرف پٹکا نہیں ڈالا گیا بلکہ آپ ﷺ کو بیٹیوں کے صدمے سے بھی دوچار کیا گیا۔ آپ ﷺ کی دو بیٹیاں ابولہب کے بیٹوں سے منسوب تھیں۔ انھوں نے باپ کے کہنے پر نہ صرف آپ ﷺ کے سامنے آپ ﷺ کی بیٹیوں کو طلاقیں دیں بلکہ آپ ﷺ کے روئے مبارک پر ان میں سے ایک بدبخت نہیں تھوکنے کی کوشش بھی کی، جس پر برہم ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا : یا اللہ اس پر اپنا کتا مسلط فرما۔ چناچہ وہ ایک تجارتی سفر میں اپنے ہمسفروں کے ساتھ تمام احتیاطی تدابیر بروئے کار لا کے سو رہا تھا کہ رات کے کسی حصے میں شیرآیا تو دوسروں کے اوپر سے گزرتا ہوا اس تک پہنچا اور اسے اٹھا کرلے گیا اور صبح اس کے ساتھیوں نے اس کی لاش اس طرح دیکھی کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ محفوظ نہیں تھا۔
آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے بھی اپنی اپنی جگہ ایسی ہی اذیتوں کا سامنا کررہے تھے۔ ان کو مارا پیٹا بھی جارہا تھا اور ساتھ ساتھ طعن وتشنیع کے ذریعے ان کے سینوں کو بھی چھلنی کیا جارہا تھا۔ وہ جب اس بات کی دعوت دیتے کہ لوگو ! اس کلمے کو قبول کرو جس کے نتیجے میں تمہیں دنیا کی سرفرازی بھی ملے گی اور آخرت کی سرخروئی بھی۔ اور اگر تم نے اس کلمے سے وفاداری کا حق ادا کیا تو ایک وقت آئے گا جب قیصروکسریٰ تمہارے قدموں میں پڑے ہوں گے۔ تمہارے گھروں میں رزق کی فراوانی ہوگی۔ مخالفین یہ باتیں سن کر یا تو اور برہم ہوجاتے اور یا ان کا تمسخر اڑاتے کہ ذرا ان کنگلوں کو دیکھو، نہ انھیں کھانے کو ملتا ہے اور نہ پہننے کو۔ جوتے تک نصیب نہیں، لیکن دعوے ہیں قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کے۔ رہنے کو جھونپڑا میسر نہیں اور خواب محلوں کے دیکھے جارہے ہیں۔ اس طرح راہ چلتے ان کا مذا ق اڑایا جاتا۔ لیکن قربان جایئے ان کی استقامت پر کہ آنحضرت ﷺ کی تربیت نے نہ جانے ان میں کیا بجلیاں بھردی تھیں کہ دشمن ہر ممکن طریقے سے انھیں ہراساں کرنے کی کوشش کررہا تھا اور زندگی ان کے لیے دشوار بنادی گئی تھی لیکن قرآن کریم ان کی محنت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے اِذْتُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ۔ اَفَاضَ کا صلہ جب فِیْ کے ساتھ آتا ہے تو اس کا معنی کسی چیز میں غایت درجہ انہماک کے ہوتے ہیں تو آیت کے اس جملے کا معنی یہ ہوگا کہ تم ساری مخالفتوں کے باوجود جب دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیتے ہو تو تمہارے انہماک میں کوئی کمی نہیں آتی۔ دشمن اپنا کام کرتا ہے اور تم اپنا کام کرتے ہو۔ نبی کریم ﷺ تو اس معاملے میں اسوہ کاملہ ہیں ہی لیکن حیرانی تو ان کے متبعین پر ہے کہ ان میں اکثریت بھوکے ننگے غریب لوگوں کی ہے۔ لیکن نہ جانے آنحضرت ﷺ کی تربیت نے ان میں اتنا وقار، اتنی سربلندی، اتنی استقامت اور اتنا استقلال کیسے بھر دیا تھا کہ وہ کسی مخالفت کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ ان کے سینوں پر پتھر کی سلیں رکھ دی جاتیں تاکہ وہ دب کے مرجائیں، لیکن ان کی زبان سے اللہ احد کی صدائیں گونجتی تھیں۔ جب یہ ایمان افزاء منظر مکہ کی وادیوں میں جگہ جگہ بہار دے رہا تھا تو اللہ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ اور اے مسلمانو ! یہ مت سمجھنا کہ ہم نے آپ کو بےیارومددگار چھوڑ دیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تمہاری یہ ساری قربانیاں اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ہیں۔ تم جان دے کر بھی صرف اس کی رضا کے طلبگار ہو اس لیے ہم دنیا ہی میں تمہیں اس کا یہ صلہ دے رہے ہیں کہ ظالم تو تمہیں ادھیڑنے کھدھیڑنے میں لگے ہوتے ہیں لیکن ہم تمہیں نہایت پیار بھری نگاہ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کی دشمنیاں تو وقتی چیز ہیں، بہت جلد ان کا اختتام ہونے والا ہے۔ لیکن اللہ کی نگاہ سے نہ جانے کیسے کیسے مدارج پیدا ہونے والے ہیں اور ویسے بھی ایک محب اور عاشق کے لیے اس سے بڑا انعام اور کیا ہوسکتا ہے کہ اسے یہ معلوم ہوجائے کہ میرا محبوب مجھے محبت سے دیکھ رہا ہے۔ چاہنے والے تو اس وارفتگی میں زندگی گزار دیتے ہیں کہ محبت سے نہ سہی کوئی ہمیں سرسری نگاہ سے تو دیکھ رہا ہے، ہمارے لیے اس سے بڑا انعام اور کیا ہوسکتا ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے :
گو سرسری ہی دیکھتے ہیں، دیکھتے تو ہیں
ہم خوش ہیں کہ ہیں کسی کی نگاہ میں
اس طرح سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ تم ہر وقت ہماری نگاہوں میں ہو اور ہم ہر وقت تمہارے ساتھ موجود ہیں۔ قریش مکہ کا بڑے سے بڑا فیصلہ بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ چناچہ حالات نے ثابت کردیا کہ وہ جیسے جیسے درندگی پر اترتے گئے ویسے ویسے زمین ان کے لیے سمٹتی گئی اور مسلمانوں کے لیے ہجرت کے راستے آسان ہوتے گئے۔ انھوں نے دعوت کے اس عمل کو روکنے کے لیے آخری فیصلہ آنحضرت ﷺ کے قتل کا کیا لیکن اس میں بھی انھیں ہزیمت اٹھانا پڑی۔ آپ ﷺ وہاں سے بخیریت تمام نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اہل مکہ کو اگرچہ اپنی ناکامی کا دکھ ہوا لیکن ساتھ ہی ایک اطمینان بھی ہوا کہ چلیے ہماری جان چھوٹ گئی، اب اجنبی وطن خود انھیں تباہ کردے گا۔ لیکن 8 ہی سالوں میں اللہ نے اس طرح مدد فرمائی کہ قریش مکہ جو اپنے آپ کو قوت کا سرچشمہ سمجھتے تھے آنحضرت ﷺ کے سامنے جان کی بھیک مانگتے ہوئے نظر آئے اور مکہ کی قوت ہمیشہ کے لیے اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگئی اور اللہ کا گھر، اللہ کی بندگی کے لیے آزاد ہوگیا۔
مسلمانوں کو تسلی کے ساتھ ساتھ قریش مکہ کو اس آیت میں تنبہہ بھی کی جارہی ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ تم جو کچھ کررہے ہو وہ اللہ کی نگاہ سے مخفی ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی ذرہ برابر چیز بھی اس سے مخفی نہیں رہ سکتی بلکہ ذرہ سے چھوٹی چیزیں جنھیں غیرمسلح نگاہ نہیں دیکھ سکتی وہ بھی اللہ سے مخفی نہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ہر چیز اللہ کی نگاہ میں ہے بلکہ وہ کتاب مبین جو مخلوقات الٰہیہ کے حالات و حوادث کا مخزن و منبع ہے، اس میں بھی ایک ایک چیز محفوظ ہے۔ اس حفاظت اور شہادت سے جس طرح مسلمانوں کے اجروثواب اور رفع درجات میں اضافہ ہوگا اسی طرح کافروں کا ایک ایک عملجہنم کے انگاروں میں تبدیل ہوتا جائے گا جس کے نتیجے میں اللہ کا گروہ سرفراز ہوگا اور دشمنوں کے گروہ خائب و خاسر ہوں گے۔
Ayahs 10:62–65اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ج صلے الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوِۃ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ط لاَ تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (یونس : 62، 63، 64)
(یاد رکھو بیشک جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ان پر کوئی ڈر ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔ اللہ کی باتیں تبدیل نہیں ہوتیں یہی وہ بڑی کامیابی ہے۔ )
محولہ بالا لوگ ہی اولیاء اللہ ہیں
گزشتہ آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے اللہ کے راستے میں ان کی سرگرمیوں کا اعتراف فرمایا گیا تھا اور ضمناً یہ بات کہی گئی تھی کہ جو لوگ ایمان لانے کے بعد اللہ کے راستے میں سرفروشی اور جانسپاری دکھاتے ہیں دنیا انھیں ایمان کے حوالے سے کچھ بھی کہے اور کیسی بھی اذیتیں پہنچائے ان کے ایمان و عمل اور ان کی سرگرمی اور استقامت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا یہ بجا طور پر اس قابل ہیں کہ اللہ کی نظرعنایت کے مستحق ٹھہریں۔ چناچہ اب اس کے فوراً بعد اولیاء اللہ کا ذکر فرما کر شاید یہ بتانا مقصود ہے کہ درحقیقت یہی لوگ ہیں جو اولیاء اللہ کہلانے کے مستحق ہیں۔ دنیا نے نفع و ضرر کے کیسے کیسے پیمانے بنارکھے ہیں۔ اسی طرح دنیا کی نعمتوں کے حوالے سے انھوں نے خوف و حزن کے کیسے کیسے بت دلوں میں سجا رکھے ہیں۔ لیکن اللہ کے ولیوں کا حال یہ ہے کہ بڑے سے بڑا خطرہ ان کے اندر خوف کی لہر پیدا نہیں کرتا اور بڑی سے بڑی قربانی ان کے لیے پچھتاوا نہیں بنتی۔ وہ چونکہ اللہ کے قرب کو اپنی منزل بنا کر اللہ کے ولی بن چکے ہیں اس لیے ان کے خوف و حزن کے سابقے اور لاحقے دنیا سے بالکل الگ ہیں۔ اہل دنیا ان سے سب کچھ چھین کر یہ سمجھتی ہے کہ ہم نے شاید انھیں پریشان کردیا اور انھیں محرومیوں کے حوالے کردیا ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کی خوشیاں ان چیزوں میں نہیں جو ان سے چھینی جارہی ہیں۔ علامہ ابن تیمیہ ( رح) فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کو کیا خبر کہ ہماری جنت ہمارے دل میں ہے۔ وہ اسے ہم سے کس طرح چھین سکتے ہیں۔ بعض اہل اللہ کے بارے میں مؤرخین لکھتے ہیں کہ وہ فرماتے تھے کہ دنیا کو اگر پتہ چل جائے کہ ہم جس بوریئے پر بیٹھتے ہیں اور جس جائے نماز پر نماز پڑھتے ہیں ہمیں اس سے کیا ملتا ہے۔ تو وہ ہم سے یہ بھی چھین کرلے جائیں اور ہمارے اطمینان اور آسودگی کو دیکھ کر وہ ہمارے بوریئے کے نیچے سے زمین کھودنا شروع کردیں کہ شاید اس کے نیچے کوئی خزانہ نکلے گا۔ وہ دنیا میں بھی خدا مستی کی وجہ سے نہایت بےخوفی کی زندگی گزارتے ہیں اور آخرت میں تو یقینا دوسرے اہل جنت کی طرح ایک ایسی زندگی گزاریں گے جس میں خوف و حزن کا گزر تک نہیں ہوگا۔ اس سے اگلی آیت میں ایک غلط فہمی کو دور فرمایا گیا کہ لوگ کہیں یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کا ولی ہونا ایک ایسا مرتبہ ہے جو نبوت کی طرح اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ولی بننے کے لیے محنت درکار ہے۔ یہ ایک اکتسابی صفت ہے جو اللہ کی توفیق سے آدمی محنت سے حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے دو کنارے ہیں۔ پہلا کنارہ ایمان ہے اور دوسرا تقویٰ ہے۔ ان دونوں میں بیشمار مدارج ہیں جو آدمی اللہ کی توفیق اور مدد سے ان میں بڑھتا چلا جاتا ہے وہ اللہ کی ولایت کا مرتبہ حاصل کرلیتا ہے۔ ابتدائی بات سمجھنے کے لیے تو اس قدر گزارشات بھی کافی ہیں لیکن مزید کچھ جاننے کے لیے ہم معارف القرآن سے استفادہ کرتے ہیں۔ مفتی صاحب محترم اس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں :
اولیاء کی تحقیق
(اولیاء ولی کی جمع ہے، لفظ ولی عربی زبان میں قریب کے معنی میں بھی آتا ہے اور دوست و محب کے معنی میں بھی، اللہ تعالیٰ کے قرب و محبت کا ایک عام درجہ تو ایسا ہے کہ اس سے دنیا کا کوئی انسان و حیوان بلکہ کوئی چیز بھی مستثنیٰ نہیں، اگر یہ قرب نہ ہو تو سارے عالم میں کوئی چیز وجود ہی میں نہیں آسکتی، تمام عالم کے وجود کی اصل علت وہی خاص رابطہ ہے جو اس کو حق تعالیٰ شانہٗ سے حاصل ہے گو اس رابطہ کی حقیقت کو نہ کسی نے سمجھا اور نہ سمجھ سکتا ہے، مگر ایک بےکیف رابطہ کا ہونا یقینی ہے، مگر لفظ اولیاء اللہ میں یہ درجہ ولایت کا مراد نہیں بلکہ ولایت و محبت اور قرب کا ایک دوسرا درجہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں کے ساتھ خاص ہے یہ قرب محبت کہلاتا ہے۔ جن لوگوں کو یہ قرب خاص حاصل ہو وہ اولیاء اللہ کہلاتے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں ہے، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو پھر میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں۔ وہ جو کچھ سنتا ہے میرے ذریعہ سنتا ہے، میں ہی اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، وہ جو کچھ دیکھتا ہے مجھ سے دیکھتا ہے۔ میں ہی اس کے ہاتھ پائوں بن جاتا ہوں وہ جو کچھ کرتا ہے مجھ سے کرتا ہے، مطلب اس کا یہ ہے کہ اس کی کوئی حرکت و سکون اور کوئی کام میری رضا کے خلاف نہیں ہوتا۔
اور اس ولایتِ خاصہ کے درجات بیشمار اور غیرمتناہی ہیں، اس کا اعلیٰ درجہ انبیاء (علیہم السلام) کا حصہ ہے کیونکہ ہر نبی کا ولی اللہ ہونا لازمی ہے اور اس میں سب سے اونچا مقام سیدالانبیاء نبی کریم ﷺ کا ہے اور ادنیٰ درجہ اس ولایت کا وہ ہے جس کو صوفیائے کرام کی اصطلاح میں درجہ فناء کہا جاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا قلب اللہ تعالیٰ کی یاد میں ایسا مستغرق ہو کہ دنیا میں کسی کی محبت اس پر غالب نہ آئے، وہ جس سے محبت کرتا ہے تو اللہ کے لیے کرتا ہے جس سے نفرت کرتا ہے تو اللہ کے لیے کرتا ہے اس کے حب و بغض اور محبت و عداوت میں اپنی ذات کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ظاہر و باطن اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں مشغول رہتا ہے اور وہ ہر ایسی چیز سے پرہیز کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسند ہو۔ اسی حالت کی علامت ہے کثرت ذکر اور دوام طاعت یعنی اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنا اور ہمیشہ ہرحال میں اس کے احکام کی اطاعت کرنا، یہ دو وصف جس شخص میں موجود ہوں وہ ولی اللہ کہلاتا ہے جس میں ان دونوں میں سے کوئی ایک نہ ہو وہ اس فہرست میں داخل نہیں، پھر جس میں یہ دونوں موجود ہوں اس کے درجات ادنیٰ و اعلیٰ کی کوئی حد نہیں، انھیں درجات کے اعتبار سے اولیاء اللہ کے درجات متفاضل اور کم و بیش ہوتے ہیں۔
ایک حدیث میں بروایت حضرت ابوہریرہ ( رض) مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ اس آیت میں اولیاء اللہ سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو خالص اللہ کے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں، کوئی دنیاوی غرض درمیان میں نہیں ہوتی (مظہری از ابن مردویہ) اور ظاہر ہے کہ یہ حالت انھیں لوگوں کی ہوسکتی ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا۔
یہاں ایک سوال اور بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس درجہ ولایت کے حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ( رح) نے تفسیر مظہری میں فرمایا کہ امت کے افراد کو یہ درجہ ولایت رسول کریم ﷺ ہی کے فیض صحبت سے حاصل ہوسکتا ہے، اسی سے تعلق مع اللہ کا وہ رنگ جو آنحضرت ﷺ کو حاصل تھا اپنے حوصلہ کے مطابق اس کا کوئی حصہ امت کے اولیاء کو ملتا ہے پھر یہ فیض صحبت صحابہ کرام ( رض) کو بلاواسطہ حاصل تھا، اسی وجہ سے ان کا درجہ ولایت تمام امت کے اولیاء و اقطاب سے بالاتر تھا، بعد کے لوگوں کو یہی فیض ایک واسطہ یا چند واسطوں سے حاصل ہوتا ہے جتنے وسائط بڑھتے جاتے ہیں اتنا ہی اس میں فرق پڑتا جاتا ہے، یہ واسطہ صرف وہی لوگ بن سکتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے رنگ میں رنگے ہوئے آپ کی سنت کے پیرو ہیں۔ ایسے لوگوں کی کثرت سے مجالست اور صحبت جبکہ اس کے ساتھ ان کے ارشادات کی پیروی اور اطاعت اور ذکر اللہ کی کثرت بھی ہو، یہی نسخہ ہے درجہ ولایت حاصل کرنے کا جو تین جزء سے مرکب ہے، کسی ولی اللہ کی صحت، اس کی اطاعت اور ذکر اللہ کی کثرت۔ بشرطیکہ یہ کثرت ذکر مسنون طریقہ پر ہو کیونکہ کثرت ذکر سے آئینہ قلب کو جلا ہوتی ہے تو وہ نورولایت کے انعکاس کے قابل بن جاتا ہے، حدیث میں ہے کہ ہر چیز کے لیے صیقل اور صفائی کا کوئی طریقہ ہوتا ہے، قلب کی صیقل ذکر اللہ سے ہوتی ہے، اس کو بیہقی نے بروایت ابن عمر ( رض) نقل فرمایا، (مظہری)
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) نے فرمایا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی بزرگ سے محبت کرتا ہے مگر عمل کے اعتبار سے ان کے درجہ تک نہیں پہنچتا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبّیعنی ہر شخص اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اس کو محبت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کی محبت و صحبت انسان کے لیے حصول ولایت کا ذریعہ ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت زرین ( رض) کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت زرین ( رض) سے فرمایا کہ میں تمہیں دین کا ایسا اصول بتلاتا ہوں جس سے تم دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی حاصل کرسکتے ہو، وہ یہ ہے کہ اہل ذکر کی مجلس و صحبت کو لازم پکڑو اور جب تنہائی میں جاؤ تو جتنا زیادہ ہوسکے اللہ کے ذکر سے اپنی زبان کو حرکت دو جس سے محبت کرو اللہ کے لیے کرو جس سے نفرت کرو اللہ کے لیے کرو۔ (مظہری)
مگر یہ صحبت و مجالست انھیں لوگوں کی مفید ہے جو خود ولی اللہ متبع سنت ہوں اور جو رسول کریم ﷺ کی سنت کے تابع نہیں وہ خود درجہ ولایت سے محروم ہیں، چاہے کشف و کرامات ان سے کتنے ہی صادر ہوں اور جو شخص مذکورہ صفات کے اعتبار سے ولی ہو اگرچہ اس سے کبھی کوئی کشف و کرامت ظاہر نہ ہوئی ہو وہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہے۔ (مظہری)
اولیاء اللہ کی علامت اور پہچان تفسیر مظہری میں ایک حدیث قدسی کے حوالہ سے یہ نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے اولیاء میرے بندوں میں سے وہ لوگ ہیں جو میری یاد کے ساتھ یاد آئیں اور جن کی یاد کے ساتھ میں یاد آئوں۔ اور ابن ماجہ میں بروایت حضرت اسماء بنت یزید مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اولیا اللہ کی یہ پہچان بتلائی اَلَّذِیْنَ اِذَا رُئُ وْا ذُکِرَاللّٰہُ یعنی جن کو دیکھ کر خدا یاد آئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر انسان کو اللہ کے ذکر کی توفیق اور دنیاوی فکروں کی کمی محسوس ہو، یہ علامت اس کے ولی اللہ ہونے کی ہے۔
تفسیر مظہری میں فرمایا کہ عوام نے جو اولیاء اللہ کی علامت کشف و کرامت یا غیب کی چیزیں معلوم ہونے کو سمجھ رکھا ہے یہ غلط اور دھوکہ ہے، ہزاروں اولیاء اللہ ہیں جن سے اس طرح کی کوئی چیز ثابت نہیں اور اس کے خلاف ایسے لوگوں سے کشف اور غیب کی خبریں منقول ہیں جن کا ایمان بھی درست نہیں۔
آخرِ آیت میں جو یہ فرمایا گیا کہ اولیاء کے لیے دنیا میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی، آخرت کی خوشخبری تو یہ ہے کہ موت کے وقت جب اس کی روح کو اللہ کے پاس لے جایا جائے گا اس وقت اس کو خوشخبری جنت کی ملے گی پھر قیامت کے روز قبر سے اٹھنے کے وقت جنت کی خوشخبری دی جائے گی جیسا کہ طبرانی نے بروایت ابن عمر ( رض) نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل لَآاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کو نہ موت کے وقت کوئی وحشت ہوگی نہ قبر میں اور نہ قبر سے اٹھنے کے وقت، گویا میری آنکھیں اس وقت کا حال دیکھ رہی ہیں جب یہ لوگ اپنی قبروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ ٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہمارا غم دور کردیا۔
اور دنیا کی بشارت کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ سچی خوابیں جو انسان خود دیکھے یا اس کے لیے کوئی دوسرا دیکھے جن میں ان کے لیے خوشخبری ہو۔ (رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ)
اور دنیا کی دوسری بشارت یہ ہے کہ عام مسلمان بغیر کسی غرض کے اس سے محبت کریں اور اچھا سمجھیں، اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تِلْکَ عَاجِلُ بُشْرَی الْمُؤْمِنِیعنی عام مسلمانوں کا اچھا سمجھنا اور تعریف کرنا مومن کے لیے نقد خوشخبری ہے۔ (مسلم و بغوی)
وَلاَ یَحْزُنْکَ قَوْلُھُمْ م اِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا ط ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (یونس : 65)
(اور آپ ﷺ کو غمزدہ نہ کریں ان کی باتیں، یقینا ساری عزت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ وہ سب کچھ سننے والا اور ہر چیز جاننے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
گزشتہ چار آیات التفات کی آیات ہیں جن میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ جن حالات سے گزر رہے ہیں آپٖ کا خالق ومالک ان سے بیخبر نہیں۔ آپ جس حال میں بھی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوتا ہے، آپ کو دیکھتا ہے، آپ کے مراتب بلند فرماتا ہے اور آپ کے لیے آسانیاں مہیا کرتا ہے۔ لیکن تسلی کی ان آیات میں چونکہ پروردگار نے مسلمانوں کو مزید کامیابیوں کی خوشخبریاں بھی دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آج تک نبی کریم ﷺ کامیاب مستقبل کی جو نوید سناتے رہے ہیں اس کے ظہور کا وقت قریب آرہا ہے۔ قربانیاں دینے والوں کی قربانیاں رنگ لانے والی ہیں۔ جہاد و غزا کی فصل اب پکنے والی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کیسے ممکن تھا کہ دین کے جو دشمن مسلمانوں پر پھبتیاں کستے رہے ہیں اور مستقبل میں اللہ کی تائید و نصرت کے وعدوں کا تمسخر اڑاتے رہے ہیں وہ ان آیات کے نزول کے بعد خاموش رہیں اور مسلمانوں کی دلآزاری کو ترک کردیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ نے ان آیات کے نزول کے بعد اپنے معمولاتِ شنیعہ میں اور شدت پیدا کردی اور مسلمانوں کی دلآزاری کو اپنا معمول بنا لیا۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی دی ہے۔ کہ قریش مکہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور انھوں نے جس طرح کا وطیرہ بنا لیا ہے، آپ ﷺ ہرگز اس سے اثر قبول نہ کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ بار بار آپ کی عظمتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ وہ بہانے بہانے سے آپ ﷺ کی شخصیت کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے، آپ ﷺ سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ عزت کے خزانے اللہ کے پاس ہیں۔ خرافات بکنے، دوسروں کی عزتوں پر حملہ کرنے اور اپنی بڑائی کا دعویٰ کرنے سے عزت نہیں مل جاتی۔ اور اگر بظاہر عزت ملے بھی تو وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ حقیقی عزت صرف اللہ کی عطا سے ملتی ہے۔ اس نے آپ کو دنیا و آخرت میں عزتیں دینے اور مقامات بلند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آپ کے دشمن بھی آپ کی دشمنی کی وجہ سے جانے جائیں گے۔ اور آپ کے چاہنے والے تو آپ کی چاہتوں کو اپنا سرمایہ سمجھیں گے۔ پوری کائنات میں جہاں اللہ کا نام بلند ہوگا وہاں آپ ﷺ کا بھی نام بلند ہوگا۔ اس لیے آپ ان کی یا وہ گوئی سے متاثر نہ ہوں۔ رقیبوں کا غوغا کبھی کسی کی منزل کھوٹی نہیں کرتا۔ آپ تو انسانیت کا گل سرسبد ہیں۔ آپ کے رنگ و بو کو کون ماند کرسکتا ہے۔ مخالفین جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ اسے سن رہا ہے۔ اور جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔ اس لیے وہ ان کے ہر شر سے آپ کو محفوظ رکھے گا۔
Ayah 10:66اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ ط وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُرَکَآئَ ط اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔ (یونس : 66)
(آگاہ رہو ! کہ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے ماسوا کو پکارتے ہیں یہ شریکوں کی پیروی نہیں کررہے بلکہ وہ نرے وہم و گمان کے پیرو ہیں۔ اور اٹکل کے تیرت کے چلاتے ہیں۔ )
انسان فریبِ نظر کا شکار ہے
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف التفات فرماتے ہوئے تسلی دی گئی ہے اور آپ ﷺ کے مخالفین کو تنبیہ کی گئی ہے اور مخالفین جس بنیاد پر مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کا تمسخر اڑاتے تھے اور اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار تھے اس کی تردید فرمائی گئی ہے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں اس تردید پر دلیل ارشاد فرمائی جارہی ہے۔ کہ اے مشرکین مکہ تم اپنے آپ کو سرزمین عرب کی تمام عزتوں کا مالک سمجھتے ہو۔ بنابریں تم آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہو اور دلیل تمہارے پاس یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کا دین اللہ کا پسندیدہ دین ہوتا تو دنیاوی مال و دولت اور جاہ و مرتبہ ان کے پاس ہوتا کیونکہ یہی چیزیں دنیا میں عزت کی علامت سمجھی جاتی ہیں لیکن اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کل تک انتہائی فارغ البال اور ایک کامیاب تاجر تھے اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں حضرت ابوبکرصدیق ( رض) اور ان جیسے دوسرے جلیل القدر صحابہ ( رض) بھی اپنا وسیع کاروبار رکھتے تھے۔ لیکن اب اسلامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے باعث اور قریش کی مخالفت کے سبب سے وہ سب نان شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں اور دنیاوی عزت و وجاہت کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پہلی حالت اللہ کے یہاں پسندیدہ حالت تھی اور اب وہ اللہ کی طرف سے راندہ درگاہ لوگ ہیں اور ہم ان کے مقابلے میں دنیاوی جاہ و جلال کے مالک اور اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے مزعومات فاسدہ کے جواب میں صرف یہ فرماتے ہیں کہ دنیاوی مال و دولت اور جاہ و اقتدار کبھی بھی عزت کی علامت نہیں رہے اور ان سے تہی دامن ہونا کبھی ذلت کا سبب نہیں رہا۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بجائے آذر اور نمرود کو معزز ہونا چاہیے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں فرعون کی قدر و منزلت ہونی چاہیے۔ حقیقی قدر و منزلت اللہ کی نگاہ میں ایمان کی پختگی اور کردار کی سربلندی سے ہے۔ اور یہی دونوں چیزیں حق و باطل میں کشمکش کے بعد کھرا سونا ثابت ہوتی اور عزت و منقبت کے تخت پر فائز ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں مال و دولت ہو یا اقتدار، وہ پانی پر اٹھتے ہوئے جھاگ کی مانند ہیں جن کی اٹھان دیکھ کر آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا لیکن جلد ہی یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ انسان ہمیشہ فریبِ نظر کا شکار ہوتا ہے۔ اس کائنات کی اصل حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ کی مخلوق اور اس کی مملوک ہے۔ وہی ایک آقا ہے باقی سب اس کے غلام ہیں۔ آقا کی عزت و حرمت سے وابستگی کے لیے ضروری ہے کہ آقا سے رشتہ باندھا جائے۔ اپنی ذات کو اس سے منسوب کیا جائے۔ اپنی بندگی کو اسی ایک آقا کے آستانے کی امانت بنادیا جائے۔ اسی کے احکام انسانی زندگی کا طرزعمل بن جائیں۔ جس انسان یا جس گروہ نے اس آقا کا دامن تھام لیا اور اپنے آپ کو اس سے وابستہ کرلیا وہی درحقیقت عزت وافتخار کا سزاوار ٹھہرا۔ اس کے آقا کی عنایتیں اس کے لیے مخصوص ہوگئیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کا آستانہ چھوڑ کر دوسروں کے آستانوں پر جھکتے ہیں اور انھیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ درحقیقت جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ کائنات میں کسی کا یہ درجہ نہیں کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک وسہیم ہو۔ اس لیے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کے فلاں شریک کو پکار کر اس کی بندگی بجا لاتا ہوں وہ ایک ایسا دعویٰ کرتا ہے جس کی حیثیت وہم و گمان کے سوا کچھ نہیں۔ جب کائنات میں اس کا کوئی شریک ممکن ہی نہیں کیونکہ مشرک قوتوں نے جن جن قوتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے وہ سب اللہ کی مخلوق اور اللہ کے غلام ہیں۔ فرشتے اسی کی غلامی میں شب و روز بندھے ہوئے ہیں۔ جنات اس کے احکام سے سرتابی نہیں کرسکتے اور اگر کریں گے تو جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ عناصرِ فطرت اور عناصرِ قدرت سب اللہ کے احکام میں جکڑے ہوئے اور رات دن اس کی بندگی بجا لارہے ہیں۔ شمس و قمر کو دیوتا ماننے والے ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ وہ کس قدر اپنی ڈیوٹی میں بندھے ہوئے ہیں۔ کیا مجال ہے جو اپنے سفر میں راستہ بدل لیں یا اپنی منزل سے پس و پیش کرجائیں۔ کائنات کا ایک ایک کُرّہ اللہ کے احکام کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہے تو جو شخص ان کو شریک ٹھہراتا ہے وہ درحقیقت جھوٹ بولتا ہے۔ وہ نام شرکاء کا لیتا ہے لیکن پیروی درحقیقت اپنے وہم و گمان کی کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنے وہم و گمان میں کچھ لوگوں کو شریک بنا لیا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں۔ اس لحاظ سے ان لوگوں کی زندگی پر وہم و گمان اور ظن وتخمین کی حکومت ہے۔ انسانی زندگی میں یہ حادثہ کسی ایک دور میں نہیں گزرا بلکہ شرک اور اہل شرک کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب بھی ان لوگوں نے ظاہر کے اس پردے کے پیچھے جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی ہے اور اس پوشیدہ حقیقت کا سراغ لگانا چاہا ہے جو انسان کی ہمیشہ مقصود رہی ہے تو انھوں نے فلسفیانہ تجسس سے اس کا آغاز کیا لیکن کبھی وہم و گمان سے آگے نہ بڑھ سکے۔ مشرکین تو توہم پرستی سے آگے سوچ ہی نہ سکے لیکن اشراقیوں اور جوگیوں نے اگرچہ بظاہر مراقبہ کو اس کا ذریعہ بنایا اور اس کے ذریعہ سے باطن کو دیکھنے کا دعویٰ کیا لیکن حقیقت میں وہ بھی وہم و گمان کی دلدل سے نہ نکل سکے۔ اصطلاحی فلسفیوں کا حال بھی ان سے مختلف نہیں۔ انھوں نے اگرچہ منطقی استدلال اور مصنوعی تعقل کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن نتیجہ وہی رہا۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ انھیں اپنی ناکامی پر ملال ہوتا اور وہ قرآنی فکر پر غور کرنے کی کوشش کرتے، انھوں نے اپنے اوہام اور خرافات پر تعصب کا ایسا پردہ تانا کہ دوسرے کی بات سننے اور غور کرنے سے محروم ہوگئے۔ اس کے برعکس قرآن کریم ہمارے سامنے غور و فکر کی ایک نئی بنیاد فراہم کرتا ہے جس کے کئی راستے ہیں۔ کبھی وہ خالصتاً عقل سے کام لیتا ہے اور مقدمات کو ترتیب دے کر بات کو واضح کرتا ہے۔ کبھی دلائلِ آفاق سے اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی دلائل انفس سے کام لے کر براہ راست دلوں پر دستک دیتا ہے اور کبھی کائنات کے فطری اصولوں کا حوالہ دے کر انسانی فطرت کو متوجہ کرتا ہے۔ غرضیکہ اس کے استدلال کے کئی رنگ ہیں جن میں آسان ترین وہ ہے جسے ہم استدلال فطری کہہ سکتے ہیں اور جن میں دلائلِ آفاق سے کام لیا جاتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔