Ayah 10:67ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ۔ (یونس : 67)
(وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا (تاکہ تم اس میں معاش کے لیے جدوجہد کرو) بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو بات کو سنتے ہیں۔ )
قرانِ کریم کا طریق استدلال
اس آیت کریمہ میں ظن و گمان پر استدلال کی بنیاد رکھنے کی بجائے ایسے حقائق سے استدلال کیا جارہا ہے جو ہمارے گردو پیش میں پھیلے ہوئے ہیں جنھیں ہم آفاق کے نام سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ زمین و آسمان دو ایسی حقیقتیں ہیں جن سے کوئی شخص بھی غافل نہیں ہوسکتا۔ ہر چلنے والا زمین پر چلتا ہے، زمین کی آغوش میں رہتا ہے اور آسمان کی چھت اس کے سر پر چھائی رہتی ہے۔ اس کی کتنی نعمتیں ہیں جو آسمان سے اترتی ہیں اور کتنی نعمتیں ہیں جو زمین سے مہیا ہوتی ہیں۔ انسانی زندگی کا رات دن ان دونوں سے واسطہ ہے۔ اس لیے سب سے پہلے دلائلِ آفاق میں سے ان دونوں کو دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے اور ان کے اندر جو نشانیاں مستور ہیں ان کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان نشانیوں کا اگرچہ ذکر نہیں فرمایا لیکن غور کرنے سے بہت ساری چیزیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔ زمین و آسمان کے فیضان کو اگر ایک طرف بھی رکھ دیا جائے جس سے انسان کا دامن پوری طرح گراں بار ہے تب بھی کتنی چیزیں ہیں جو نگاہ کا دامن تھام لیتی ہیں۔ مثلاً آدمی حیرت سے دیکھتا ہے کہ زمین اور آسمان اور اس میں کام کرنے والی قوتیں اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج کے درمیان اگر غور کیا جائے تو قدم قدم پر تخالف کا اندازہ ہوتا ہے۔ کہیں بھی توافق نظر نہیں آتا۔ دونوں کے درمیان ضدین کی نسبت ہے۔ رات انسان کے لیے آرام و راحت کا بستر بچھاتی ہے تو دن اس کے لیے سرگرمیوں اور محنت و مشقت کا دروازہ کھولتا ہے۔ لیکن ان دونوں ضدوں سے انسان کو قدم قدم پر وہ چیز میسر آتی ہے جو انسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ آسمان کا سورج بظاہر آگ برساتا ہے اور جھلسی ہوئی زمین پانی مانگتی ہے۔ پانی اور آگ کے درمیان تخالف کا رشتہ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن ہم حیرانی سے دیکھتے ہیں کہ سورج کی کرنیں سمندر سے پانی کے ڈول بھر بھر کر کھینچتی ہیں اور فضاء میں ابر کی چادریں بچھا دیتی ہیں۔ ہوا بظاہر ہر چیز کو اڑا دینے کی استعداد رکھتی ہے لیکن وہ ابر کو اڑانے کی بجائے کھینچ کر وہاں لے جاتی ہے جہاں پیاسی زمین منہ کھولے پکار رہی ہوتی ہے۔ آسمان سے پانی برستا ہے، زمین اور آسمان میں مخالفت کا تعلق ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ جب پانی برسے تو زمین اسے لینے سے انکار کردے۔ تو زمین کی آبیاری کا سامان نہ ہوسکے یا اس کو پورا نگل لے تو دلدل بن جائے لیکن ایسا نہیں ہوتا، ضرورت کے مطابق اسے پی لیتی ہے اور باقی ندی نالوں میں بہہ کے ذخیرہ ٔ آب میں جا شامل ہوتا ہے۔ ہر بوئی ہوئی چیز سے زندگی کی سوئی نکلتی ہے۔ سورج اسے جلانے کی بجائے اس کی پرورش کرتا ہے، ہوا اسے لوریاں دیتی ہے، موسم کے تغیررات اسے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں، بادل اس کی آبیاری کا سامان کرتے ہیں غرضیکہ بظاہر متخالف عناصر کسی کے حکم سے انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ان سے ہر وہ کام بروئے کار آرہا ہے جس کی زمینی زندگی کے لیے انتہائی ضرورت ہے۔ اس سے ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ کائنات نہ ازخود پیداہوئی ہے اور نہ اس کا کوئی کُرہ اپنے طور سے من مرضی کا اختیار رکھتا ہے بلکہ اس پر ایک بالاتر قوت حاکم ہے جو پورے نظام پر حاوی ہے اور وہ اس کے اجزائے مختلفہ میں ربط وتعلق پیدا کرکے اس کو اپنی حکمت کے مطابق چلا رہی ہے۔ قرآن کریم نے اسی طرز استدلال سے جابجا کام لیا ہے اور مخلوق سے خالق پر مربوب سے رب پر اور محتاج سے صمد پر استدلال فرما کر بات کو سمجھنا آسان فرما دیا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عہدصحابہ ﷺ میں ان کے استدلال کا یہی طریقہ تھا اور ہر دور کے سلف صالحین اسی طریقہ پر استدلال کرتے رہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے پوچھا گیا کہ آپ ( رض) نے اپنے خالق کے وجود کو کیسے جانا ؟ جواب دیا، شہتوت کے پتے سے۔ سائل نے حیران ہو کر پوچھا کہ وہ کیسے ؟ فرمایا : شہتوت کے پتے کو ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو ریشم بنتا ہے، ختن کا آہو کھاتا ہے تو اس کے ناف سے کستوری نکلتی ہے اور اگر کوئی اور جانور کھاتا ہے تو گوبر کردیتا ہے۔ شہتوت کے پتے میں کوئی خصوصیت ہوتی تو ہر جگہ اس کا اظہار ایک ہی صورت میں ہوتا۔ یہ اظہار کی مختلف صورتیں اور مختلف چیزوں کا وجود میں آنا خود بولتا ہے کہ شہتوت کے پتے کے پیچھے کوئی ہاتھ کارفرما ہے اور یہ اسی کی کارفرمائیاں ہیں جسے ہم مختلف صورتوں میں دیکھ رہے ہیں۔ پس وہ ہاتھ میرے خالق کا ہے۔ قرآن کہتا ہے :
اَفَلاَ یَنُظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ ۔
(کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اونٹ کو کیسے پیدا کیا گیا ؟ آسمان کو کیسے بنایا گیا ؟ پہاڑوں کو کیسے میخوں کی طرح گاڑ دیا گیا ؟ اور زمین کو کیسے بچھونے کی طرح بچھا دیا گیا ؟ )
یعنی ایک عرب چاہے وہ مالی لحاظ سے کتنا بھی گیا گزرا کیوں نہ ہو وہ جب آنکھ کھولتا تو اس کی نگاہ ان چار چیزوں پر ضرور پڑتی تھی۔ وہ اونٹ پر سواری کرتا تھا۔ آسمان پر بادل بہت کم آتے تھے۔ اس لیے وہ کھلے آسمان کو ہمیشہ دیکھتا تھا، پہاڑ ہر وقت نظروں کے سامنے گڑے رہتے تھے، زمین پر وہ چلتا پھرتا تھا۔ انھیں چار چیزوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ تم میں سے کم سے کم عقل رکھنے والا آدمی بھی ان چار چیزوں کو دیکھتا ہے تو وہ کیا سوچتا نہیں کہ آخر یہ چار چیزیں کیسے وجود میں آئیں ؟ اور اگر گہری نظر رکھنے والا اور علم و بصیرت کا حامل آدمی ان چار چیزوں کو دیکھے تو اس کے سامنے علم و دانش کی وہ حیرت انگیز دنیا واشگاف ہوتی ہے کہ سوائے اس آدمی کے جس کی عقل پر پتھر پڑجائیں کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ یقیناً اس زمین، آسمان اور ان پہاڑوں اور اونٹوں کا کوئی خالق ہے، جس نے ان میں ہمارے لیے منفعت کی ایک دنیا بسا دی ہے اور حقائق کا ایک جہاں سمودیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی نے مخلوق پر اس لحاظ سے نظر ڈالی ہے تو وہ اپنے خالق کو پہچانے بغیر نہیں رہ سکا۔ عرب کے ایک بدو سے جب پوچھا گیا کہ تم نے اپنے خالق کو کیسے پہچانا ؟ تو اس نے انتہائی سادگی سے کہا کہ ریگستان میں پڑی ہوئی اونٹ کی لید سے۔ سائل نے حیران ہو کر کہا وہ کیسے ؟ کہا اونٹ کی لید یقیناً کسی گزرنے والے اونٹ کی خبر دیتی ہے اور اونٹ ریگستان میں بغیر سوار کے نہیں گزرتا اور کوئی سوار اس بدامنی کے دور میں تنہا سفر نہیں کرتا یقیناً کسی قافلے کے ہمراہ گزرتا ہے تو اونٹ کی لید دیکھ کر میں یقین کرلیتا ہوں کہ کوئی قافلہ گزرا ہوگا۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس نے کہا کہ اگر اونٹ کی لید سے میں ایک قافلے کا یقین کرسکتا ہوں تو کیا اس وسیع و عریض کائنات کو دیکھ کر میں اس کے خالق کا یقین نہیں کرسکتا۔ اسی لیے پروردگار نے فرمایا :
مَاغَرًکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰکَ فَعَدَلَکَ فِیْ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّاشَآئَ رَکَّبَکَ
(کس نے تجھے اپنے رب کریم سے غفلت میں ڈالا ہے جس نے تجھے پیدا کیا اور پھر ہر لحاظ سے درست کیا اور پھر جس شکل و صورت میں تجھے چاہا بنادیا۔ )
اس آیت پر غور فرمایئے ! پروردگار انسان کو اس کے وجود کی طرف توجہ دلا کر یہ بتارہا ہے کہ تم اگر اپنے آپ کو غور سے دیکھو تو یقیناً تمہیں تمہارے ایک ایک ریشے، ایک ایک بال، ایک ایک عضو، ایک ایک احساس، ایک ایک صلاحیت اور استعداد کے پیچھے اپنے خالق ومالک کی قوت تخلیق دکھائی دے گی۔ آخر اتنی واضح شہادت کے بعد وہ کون سی چیز ہے جس نے تجھے اپنے اللہ سے غافل کردیا ؟
انسان کا وجود ہی نہیں بلکہ جب آدمی اس کی صلاحیتوں، اس کے دل و دماغ کی قوتوں اس کے تجسس اور شعور اور اعضاء کی مختلف حالتوں پر غور کرتا ہے تو حیرت میں ڈوب کر رہ جاتا ہے۔ ایک سائنسدان نے اپنی لیبارٹری میں اپنی نواسی کے کان کو دیکھ کر کہا یہ سماعت کا حیرت انگیز پرزہ ایسا ہے جس کی مثال لانے سے انسان عاجز ہے اور پھر سراپا حیرت بن کر کہا جس خالق نے اس کان کو پیدا کیا، کیا وہ خود سنتا نہیں ہوگا ؟ پورے جسم کے ایک ایک ریشے پر غور کیا جائے تو حیرت انگیز چیزیں سامنے آتی ہیں بالخصوص ایک انگوٹھے کو دیکھ لیجئے جو کس قدر چھوٹا ہے لیکن اس کی پور پر کھنچے ہوئے خطوط جن کی تعداد ہزاروں میں ہوگی ان میں یہ عجیب و غریب بات ہے کہ ایک انگوٹھے کے خطوط دوسرے انگوٹھے سے کبھی نہیں ملتے۔ اسی وجہ سے انسان کے انگوٹھے کو دستاویزات میں قابل اعتبار سمجھا گیا ہے۔ انسانی چہرہ جو ایک بڑی محدود جگہ ہے جس میں آنکھیں ہیں، ناک ہے، منہ ہے، پیشانی ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی اربوں انسان پیدا ہوئے مگر ایک دوسرے سے ملتی دکھائی نہیں دیتی۔ آپ جب غور کریں گے تو ضرور ایک دوسرے سے فرق محسوس کریں گے۔ اسی لیے یورپ کے فلسفی نے کہا تھا کہ کائنات میں سب سے بڑا معمہ یہ انسان ہے اور اس سے بڑا معمہ اس کا دماغ جو ذہانت، تجسس، شعور، حافظہ اور فکر اور کے اوصاف سے آراستہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان اوصاف کا خالق کون ہے ؟ جواب یہ ہے، وہ جسے دل نے تو ہمیشہ پہچانا لیکن خرد ضرور اس سے غافل رہی۔ پھر قرآن نے اسی دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے انسانی ضروریات ہی نہیں بلکہ تمام مخلوق کی ضروریات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ احساس دلایا ہے کہ خالق کائنات صرف خالق ہی نہیں بلکہ تمہاری زندگی کی بقاء کا سروسامان کرنے والا بھی ہے۔ تم اس کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ تو اٹھاتے ہو مگر عطا کرنے والے کو بھول جاتے ہو حالانکہ انسان اپنے کھانے پر ہی غور کرے تو اسے سوچنا چاہیے کہ یہ آخر کہاں سے آیا، انسان اپنی غذا کے لیے دانہ گندم زمین میں کاشت کرکے اسے دفن کرکے آجاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ دانہ مرجائے مگر بجائے مرنے کے اس میں زندگی کی سوئی پھوٹتی ہے جو بڑھتے بڑھتے تنا بنتی ہے، پھر اسے خوشے لگتے ہیں، خوشوں میں دانوں کے موتی بھر دیئے جاتے ہیں، سورج کی کرنیں پانی کے ڈول بھر بھر کر فضاء میں بر کی چادریں پھیلا دیتی ہیں۔ ابر پانی برسا کر کھیتی کی آبیاری کا سامان کرتا ہے، سورج اسے گرمی پہنچاتا ہے، چاند اسے حلاوت دیتا ہے۔ ہوا اسے لوریاں دیتی ہے، زمین اپنی قوت نمو بروئے کار لاتی ہے اور پھر قدرت نہ جانے کیسی کیسی قوتوں کو کام میں لا کر انسان کے لیے غذا فراہم کرتی ہے۔ سائنسدان کہتا ہے کہ نائٹروجن حیوانی و نباتاتی حیات کا لازمی جزو ہے۔ یہ دو طریقوں سے زمین میں داخل ہوتی ہے۔ اول خوردبینی اجرام یا بیکٹیریا کے ذریعے جو زمین کی بالائی تہہ میں رہتے ہیں اور کھاد وغیرہ کھا کر ایک ایسا رس خارج کرتے ہیں جن میں نائٹروجن بہت زیادہ ہوتی ہے۔ نصف چھٹانک زمین میں ان کی تعداد ایک کھرب، 35 ارب کے قریب ہوتی ہے اور زمین کے ہر ایکڑ میں ان کا کام 12 آدمیوں کے برابر ہوتا ہے۔ اگر 100 ایکڑ کھیت میں 10 کسان ہل چلا رہے ہیں تو 1200 مزدوروں کا ایک مخفی لشکر بھی وہاں کام کررہا ہوتا ہے۔ غور فرمایئے ! اس غذا کو مہیا کرنے اور اسے پروان چڑھانے میں انسان کا حصہ کتنا ہے اور اللہ کا کتنا ؟ پروردگار فرماتے ہیں :
اَفَرَئَ یْتُمْ مَّاتَحْرُثُوْنَ ئَ اَنْتُمْ َتزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ ۔
(کیا تم نے اپنی کھیتی پر کبھی غور کیا زراعت کون کرتا ہے تم یا ہم)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
فَلْیَنْظُرِالْاِنْسَانُ اِلَی طَعَامِہٖٓ اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآئَ صَبَّا ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقَّا فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا حَبَّا وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا وَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلاً وَّحَدَآئِقَ غُلْبًا وَّفَاکِھَۃً وَّاَبًّا مَّتَاعَالَّکُمُ وَلِاَنْعَامِکُمْ ۔
(انسان ذرا اپنی غذا پر نظر ڈالے (کہ کہاں سے آئی) ہم نے مینہ برسا کر زمین کا سینہ چیرا، اس سے غلے، انگور، ترکاری، زیتون، کھجوریں، گھنے باغ، میوے اور چارہ پیدا کیا۔ یہ سب تمہارا اور مویشوں کا متاع ہے۔
اسے اقبال مرحوم نے اپنے انداز میں نظم کیا :
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون
کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب
کون لایا کھنیچ کر پچھم سے باد سازگار
خاک یہ کس کی ہے کس کا ہے یہ نور آفتاب
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب
موسموں کو کس نے سکھلائی یہ خوئے انقلاب
Ayah 10:68قَالُوا اتَّخَذَاللّٰہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ط ھُوَالْغَنِیُّ ط لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط اِنْ عِنْدَکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ م بِھٰذَا ط اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (یونس : 68)
(یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے، وہ بےنیاز ہے، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جس کا تم کو علم نہیں۔ )
” ولد “ کا معنی
آیت کی تشریح سے پہلے یہ بات ذہن میں رہے کہ عربی زبان میں جس طرح ” ولد “ کا لفظ لڑکے یا بیٹے کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی طرح یہ مذکر، مونث اور واحد تثنیہ اور جمع سب کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی جس طرح اس کا معنی بیٹا یا لڑکا ہوسکتا ہے اسی طرح اس کا معنی بیٹے اور بیٹیاں بھی ہوسکتا ہے۔ یہ چونکہ مکی صورت ہے اور اس میں براہ راست خطاب مشرکینِ مکہ سے ہے اس لیے قرین قیاس بات یہ ہے کہ اس سے مراد بیٹا لینے کی بجائے بیٹیاں لی جائیں۔ کیونکہ مشرکینِ عرب کے جو عقائد، تاریخِ مذہب کی روشنی میں ہم تک پہنچے ہیں ان میں یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مانتے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہود کا ایک گروہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے، لیکن مکی سورتوں میں عموماً ان کے خیالات زیربحث نہیں آتے، تو جب تک کوئی دلیل نہ ہو یہ خیال کرنا کہ یہاں ان کے عقائد کی تردید کی جارہی ہے، صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ بہتر یہی ہے کہ یہاں لفظِ ” ولد “ کو بیٹیوں کے معنی میں لیا جائے۔
مشرکین کے عقائد کا رد
گزشتہ آیات کی تشریح میں ہم یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ جن لوگوں نے وحی الٰہی کی روشنی قبول نہیں کی وہ ہمیشہ موت کے بعد کی زندگی، اس میں پیش آنے والے حقائق اور کائنات کے پس پردہ مستور حقیقت کا سراغ لگانے کے لیے ہمیشہ ظن و گمان سے کام لیتے رہے ہیں۔ چناچہ ان کے طرزفکر کا ایک نمونہ اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے کہ مشرکینِ عرب کے پاس مذہب کے حوالے سے ظن و گمان اور توہمات کے سواکچھ نہیں۔ چناچہ اسی جہالت اور کج فکری کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ دنیا میں ہر ایک کو بقاء کی خواہش ہے، ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ میرے بعد میرا کوئی نام لیوا ہو جس سے میری نسل چلے اور بڑھاپے میں میرا سہارا بنے۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے لیے کچھ سہارے بنا رکھے ہیں۔ ان نادانوں نے اللہ کو اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے یہ گمان کرلیا کہ شاید اسے بھی بڑھاپا آئے گا، اسے بھی کمزوری لاحق ہوگی، وہ بھی کبھی نہ کبھی دوسروں کی مدد کا محتاج ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مشرکانہ خیالات کا رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : سبحانہ، وہ اس طرح کی کمزوریوں سے پاک ہے۔ احتیاج جسم کا تقاضا ہے، اللہ جسم سے ماورا ہے۔ مخلوق کی کوئی کمزوری اس کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ وہ بےمثل ہے، اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ ھوالغنی، وہ بےنیاز ہے، ساری کائنات اس کی محتاج ہے لیکن وہ ہر احتیاج سے بےنیاز ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور سب اس کے غلام ہیں۔ بڑھاپا فنا کی علامت ہے۔ اس پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔ کائنات کی ہر مخلوق اپنے وجود وبقاء کے لیے اس کی محتاج ہے۔ وہ ازلی اور ابدی ہے، زمان و مکان سے مستغنی ہے۔ کائنات کا وجود اس کی صفت تخلیق کا مرہون منت ہے۔ اور جب تک اسے منظور ہے یہ کائنات باقی رہے گی۔ اور جب اسے منظور نہیں ہوگا اس کا ایک حکم کائنات کو فنا کردے گا اور ایک ہی حکم ازسرنو زندگی عطا کردے گا۔ اسی کے حکم نے تمام مخلوقات کو عارضی زندگی بخشی۔ اسی کا حکم جسے چاہے گا ابدی زندگی عطا فرمائے گا۔
Ayahs 10:69–70قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُوْنَ ۔ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیْقُھُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ۔ (یونس : 69، 70)
(اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے بس دنیا میں چند روز فائدہ اٹھا لینا ہے۔ پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر ہم انھیں عذاب شدید چکھائیں گے کیونکہ یہ کفر کیا کرتے تھے۔ )
مشرکین کو وارننگ
ان آیات میں مشرکین کو وارننگ دی جارہی ہے کہ تم اللہ پر افترا کرکے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کررہے ہو جس سے بڑا جرم کوئی نہیں ہوسکتا۔ ایسا جرم کرنے والے کبھی آخرت کی فلاح کو نہیں پاسکتے۔ تم نے جو راستہ اختیار کیا ہے ناکامی اور رسوائی اس کا مقدر ہے۔ تمہیں غلط فہمی یہ ہے کہ تم بڑے آرام سے زندگی گزار رہے ہو۔ لیکن تمہیں اندازہ نہیں کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کے متاع کی کیا حیثیت ہے۔ جس طرح مچھلی کے شکار کے لیے کنڈی کے سرے پر گوشت کا چھوٹا سا ٹکڑا لگایا جاتا ہے تاکہ وہ اسے خوراک سمجھ کر اسے کھانے کے لیے لپکے اور اس طرح کنڈی کا کانٹا اس کے حلق میں اتر جائے۔ لیکن مچھلی بجائے اس کے کہ گوشت کے ٹکڑے کو اپنے لیے موت کا پیغام سمجھے وہ اسے زندگی کا سامان سمجھتی ہے۔ بڑے شوق سے اسے کھاتی ہے لیکن اسے پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ اس کے حلق میں اتر کر اس کے لیے موت کا سبب بنتا ہے۔ ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے والا ہے مچھلی ایک بےسمجھ مخلوق ہے۔ اس کے عمل کا کیا افسوس، افسوس تو انسانوں پر ہے جو فہم و شعور رکھتے ہوئے بھی اپنے نفع و ضرر کا احساس نہیں رکھتے اور تباہی کے راستے پر یہ سمجھ کر بڑھتے چلے جاتے ہیں کہ ہم کامیابی کے راستے پر جارہے ہیں۔
اس موج کی قسمت پر روتی ہے بھنور کی آنکھ
طوفاں سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی
Ayahs 10:71–72وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَانُوْحٍ م اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنْ کَانَ کَبُرَعَلَیْکُمْ مَّقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَکُمْ وَشُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ لاَ یَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمّۃًَ ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَیَّ وَلاَ تُنْظِرُوْنَ ۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ لا وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (یونس : 71، 72 )
(اور پڑھ کر سنائو انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اگر گراں ہوگیا ہے تم پر تمہارے درمیان میرا رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں میرا نصیحت کرنا تو میں نے تو بس اللہ پر بھروسہ کیا ہے۔ تم اپنی رائے مجتمع کرلو اور اپنے شریکوں کو بھی بلا لو پھر تمہارے فیصلہ میں کوئی تذبذب باقی نہ رہے پھر کر گزرو میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ پس اگر تم اعراض کرو گے تو میں نے تم سے کوئی اجر نہیں مانگا ہے۔ میرا اجر تو بس اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے بنوں۔ )
مشرکین کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کی سرگزشت سے استشہاد
آپ جانتے ہیں یہ مکی سورت ہے، اس میں دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ بنیادی طور پر مشرک قوم کے عقائدِ فاسدہ پر تنقید کی جاتی ہے۔ عقیدہ چونکہ اعمال کی بنیاد ہے اس لیے عقیدہ کی خرابی تمام اعمال کی خرابی پر منتج ہوتی ہے۔ بنابریں قرآن کریم مکی سورتوں میں اسلامی عقائد کو نہ صرف پوری طرح کھول کر بیان کرتا ہے بلکہ دلائل سے انھیں مرصع بھی کرتا ہے اور غلط عقائد کی ایک ایک غلطی کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح کے تمام ذرائع کو بروئے کار لاتا ہے۔ چناچہ گزشتہ آیات میں مشرکینِ مکہ کے عقائد پر تنقید بھی فرمائی گئی اور ان کی اصلاح کے لیے موقع کے مطابق ترغیب اور ترہیب سے کام بھی لیا گیا ہے۔ کبھی دل دہلادینے والا اندازِ بیان اختیار کیا گیا اور کبھی دل کو موہ لینے والی نصیحتوں سے سمجھانے کی کوشش فرمائی گئی ہے۔ لیکن مشرکین نے اپنے رویئے میں کوئی تبدیلی پیدا کرنا قبول نہ کیا۔ جن کی قسمت میں ایمان قدرت نے ودیعت کیا تھا وہ ایمان سے بہرہ ور ہوئے لیکن دوسرے لوگ مخالفت میں شدید سے شدید تر ہوتے چلے گئے۔ مکہ کی سرزمین عقوبت خانہ میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔ مسلمانوں کو ایذا پہنچاتے ہوئے مشرکین کو نہ کبھی قرابت یاد آتی، نہ ہمسائیگی کا خیال آتا، نہ کوئی اور حوالہ ان پر اثرانداز ہوتا۔ وہ یہ جاننے کے باوجود کہ جس ذات عزیز نے ان کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا ہے اور جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ اپنی صداقت اور سیرت و کردار کے بےعیب ہونے میں ہر طرح کے شک و شبہ سے بالا ہے۔ ہزار مخالفتوں کے باوجود بداخلاقی کا کوئی چھینٹا اس پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ سیرت و کردار کی کسی معمولی خرابی کا بھی طعنہ نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی دلآویز شخصیت اس کی زبان سے پھوٹنے والا علم و حکمت کا سرچشمہ بجائے خود اپنی دلیل تھا لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود مشرکینِ مکہ کا وطیرہ بن گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی ہر دلیل کے جواب میں وہ گالی دیتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی ہر دعا سن کر وہ پتھر برساتے تھے۔ ان کے لیے یہ بات سخت ناگوار تھی کہ ہم اندھوں میں ایک بینا کیوں پیدا ہوگیا ہے۔ پتھروں میں یہ ہیرا کیوں چمکنے لگا ہے۔ بدکاروں میں مکارمِ اخلاق کا یہ نمونہ کیوں پیدا ہوگیا ہے۔ اگر اس کی بینائی ختم نہ کی گئی تو یہ ہمارے عیوب ہمیں بتاتا رہے گا۔ اس کی روشنی ہماری ظلمتوں کا مذاق اڑاتی رہے گی۔ اس کی بےنفسی اور پاکبازی ہمارے لیے ایک سوالیہ نشان بنی رہے گی اور ہم اس کے سامنے کبھی سرنہ اٹھا سکیں گے۔ ظاہر ہے یہ صورتحال ہم کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔ ہمارے عزت سے جینے کے لیے ضروری ہے کہ یہ شمع بجھ جائے، یہ روشنی گل ہوجائے اور اس کی بےنفسی اور معصومیت کے چرچے ہمیشہ کے لیے ختم کردیئے جائیں۔ قرآن کریم نے ان کے عزائم کا راستہ روکنے کے لیے بجائے مزید نصیحتیں کرنے کے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر سنائیں۔ اس قصے کے آئینہ میں اگر ان کی بصارت بالکل جواب نہیں دے گئی تو یہ خود اپنی شکل دیکھ سکیں گے اور یہ بھی اندازہ کرسکیں گے کہ اگر انھوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو کیسا بھیانک انجام ان کے انتظار میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں عموماً اور قرآن کریم میں خصوصاً جب ان قوموں کا ذکر فرمایا ہے جن کے حد سے بڑھے ہوئے فساد کی اصلاح کے لیے جب اللہ نے انبیاء اور رسل بھیجے اور انھوں نے مقدور بھر ان کی اصلاح کی کوشش کی لیکن قوم نے جب کسی طرح بھی ان کی دعوت کو قبول نہ کیا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کی اذیت رسانی میں اضافہ کرتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آیا کہ جب قوم نے فیصلہ کرلیا کہ اب ہم ہدایت کی اس روشنی کو ہمیشہ کے لیے گل کرکے چھوڑیں گے۔ جس کی دعوت نے ہماری من مرضی کی زندگی ہمارے لیے مشکل کردی ہے تب اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آیا اور اپنے رسول اور ایمان لانے والوں کو ہجرت کا حکم دے کر بچا لیا گیا اور باقی قوم کو ان کی بداعمالیوں اور کفر کے باعث ہمیشہ کے لیے تباہ کردیا گیا۔ چناچہ ایسی قوموں کی ایک تاریخ ہے جو جابجا آسمانی کتابوں میں مرقوم ہے۔ چناچہ جب ہم اس تاریخ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلا عذاب جس قوم پر آیا وہ، وہ قوم تھی جس کی طرف حضرت نوح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے تھے۔ عام تاریخ بھی اس کی تائید کرتی ہے اور قرآن کریم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔
قرآن کے اشارات اور بائبل کی تصریحات سے یہ بات متحقق ہوجاتی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اس سرزمین میں رہتی تھی جس کو آج ہم ” عراق “ کے نام سے جانتے ہیں۔ بابل کے آثار قدیمہ میں بائبل سے قدیم تر جو کتبات ملے ہیں ان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔
نبائَ نوح کا مفہوم
پیشِ نظر آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کو ” نباً نُوْحٍ “ سے تعبیر کیا ہے۔” نباء “ عرب زبان میں کسی اہم واقعہ یا اہم خبر کو کہتے ہیں۔ عام خبر پر اس لفظ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کے تیسویں پارے کی دوسری آیت میں قیامت کو ”’ نبا “ کہا گیا ہے۔ ظاہر ہے قیامت سے بڑی خبر کیا ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قصہ نوح سنانے سے مقصد قصہ سنانا نہیں بلکہ اس کے ضمن میں کسی اہم بات کا ذکر کرنا مقصود ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کے ہر طرح کے بگاڑ کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے۔ ان کی قوم کا بگاڑ یوں تو ایک وسیع مضمون کا تقاضا کرتا ہے لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قوم اللہ تعالیٰ کے وجود کی منکر نہ تھی، نہ اس سے ناواقف تھی، نہ اسے اللہ کی عبادت سے انکار تھا بلکہ اصل گمراہی جس میں وہ مبتلا ہوگئی تھی شرک کی گمراہی تھی۔ یعنی اس نے اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو خدائی میں شریک اور عبادت کے استحقاق میں حصہ دار قرار دے دیا تھا۔ پھر اس بنیادی گمراہی سے بیشمار خرابیاں رونما ہوتی چلی گئیں۔ جو خودساختہ معبود خدائی میں شریک ٹھہرا لیے گئے تھے ان کی نمائندگی کرنے کے لیے قوم میں خاص طبقہ پیدا ہوگیا تھا جو تمام مذہبی و سیاسی اور معاشی اقتدار کا مالک بن بیٹھا۔ اور اس نے انسانوں میں اونچ نیچ کی تقسیم پیدا کردی۔ اجتماعی زندگی کو ظلم و فساد سے بھر دیا اور اخلاقی فسق و فجور سے انسانیت کی جڑیں کھوکھلی کردیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب ان کے رویئے پر انھیں ٹوکا، ان کی گمراہیوں پر تنقید کی، انھیں اللہ کی طرف بلایا اور شرک کی تمام صورتوں کو ان کے لیے تباہ کن قرار دیا تو ملک کا اقتدار اور ان کا مذہبی طبقہ جو باہمی ملی بھگت کرچکا تھا اور عوام جو رسم و رواج کی زنجیروں میں بری طرح جکڑے ہونے کی وجہ سے مذہبی طبقے کی گرفت میں تھے۔ سب نے مل کر آپ کے خلاف ایک محاذ قائم کرلیا، لیکن اس کے باوجود حضرت نوح (علیہ السلام) کی ہمت، استقامت اور اللہ پر بےپناہ اعتماد کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ آپ نے ساڑھے نوسو سال تک شب و روز اپنی قوم کو اللہ کے دین کی طرف بلایا، ان کی ایک ایک گمراہی کی اصلاح فرمائی، انھیں ان کے برے انجام سے بار بار ڈرایا اور جب یہ دیکھا کہ یہ قوم اب شاید مجھے مزید برداشت نہ کرسکے۔ کیونکہ آپ یقیناً ان کے منصوبوں سے بیخبر نہیں ہوں گے۔ آپ نے محسوس کیا کہ قوم میرے قتل کے منصوبے باندھنے لگی ہے تو آپ نے ان سے دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک تو یہ فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی ذاتی جھگڑا یا قبیلے کی جنگ نہیں۔ میں سینکڑوں سال سے تمہیں صرف اللہ کی طرف بلا رہا ہوں اور ہر طرح کے دلائل سے کام لے کر تمہاری گمراہیوں کو واضح کررہا ہوں اور میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں یہ کام اللہ کے حکم سے کر رہا ہوں۔ اس نے مجھے رسالت عطا کی ہے اور اس عظیم منصب پر فائز کرکے ایک عظیم ترین ذمہ داری میرے سپرد فرمائی ہے۔ اگر میں نے ازخود یہ کام شروع کیا ہوتا تو ہوسکتا تھا کہ اس میں میری نفسانیت کا شائبہ ہوتا یا اس میں میرے لیے دو راستے ہوتے کہ چاہے کروں یا نہ کروں۔ یہ تو احکم الحاکمین کا عائد کردہ فریضہ ہے جس کی بجاآوری زندگی کا سانس لینے سے بھی زیادہ ضروری ہے اور اس کام کی انجام دہی کی اصل قوت صرف اللہ پر توکل ہے۔ آج تک میں نے تمہاری ہر مخالفت کا سامنا کیا اور تمہاری ہر اذیت برداشت کی۔ تو میرے پاس تمہارے مقابلے کے لیے اللہ پر توکل کے سوا کوئی ہتھیار نہ تھا اور اب اگر تم نے مجھے ختم کردینے کا فیصلہ کرلیا ہے تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ تم اپنے فیصلے پر اچھی طرح غور و فکر کرلو۔ اللہ کی صفات میں تم نے جنھیں شریک کر رکھا ہے ان کو بھی بلا لو۔ اور پھر سر جوڑ کر بیٹھو تاکہ کل کو یہ نہ کہہ سکو کہ ہمیں یہ فیصلہ کرتے ہوئے سوچنے کا موقع نہ ملا تھا اور سوچنے کے بعد اگر میرے قتل ہی کا فیصلہ کروتو میں تم سے زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا کیونکہ اللہ کے رسول ایسا نہیں کیا کرتے۔ تم یکبارگی مجھ پر حملہ کرو اور مجھے سنبھلنے کے لیے بالکل مہلت نہ دو ۔ اس ناچیز کا گمان یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی موت سے بےنیازی اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور دشمن سے بےالتفاتی بجائے خود آپ کے دعوے اور مؤقف کی بہت محکم دلیل ہے۔ ہر سوچنے والا دماغ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جو شخص ایک امر حق کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے وہ یقیناً اس امر حق کو اپنی جان سے قیمتی سمجھتا ہے جبکہ جان سے زیادہ دنیا میں کوئی قیمتی چیز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس امر حق کے حق ہونے میں ذرہ برابر شبہ نہیں ورنہ وہ اس کے لیے زندگی کو دائو پر نہ لگاتا اور کسی بھی صداقت اور حقیقت کے لیے اس سے بڑی اور کوئی دلیل نہیں ہوسکتی کہ اس کی حقانیت کو واضح کرنے کے لیے جان دے دی جائے۔
اگر تم غور و فکر کے بعد میری نصیحت سے روگردانی اور میری نبوت سے انکار اور میری دعوت کو رد کردینے کا فیصلہ کرلوتو پھر یاد رکھو کہ تمہارے اس اعراض اور انکار سے میری دنیا اجڑ نہیں جائے گی۔ کیونکہ میں جو تمہیں تبلیغ و تذکیر کررہا تھا تو میں اس کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں لے رہا کہ مجھے اس سے محروم ہوجانے کا غم ہو۔ نبوت قربانی اور ایثار کا کام ہے، کوئی دکانداری نہیں۔ یہ سر کٹوانے کا عمل ہے، سر پر کلغی سجانے کا نہیں۔ تو تمہارا انکار تمہاری عاقبت تباہ کردے گا بلکہ تمہاری زندگی تمہارے عذاب کو دعوت دے گی۔ میرا تو اس سے کچھ نہیں بگڑے گا۔ میں نے آج تک جو کچھ کیا اور آئندہ جو کچھ کروں گا اس کا اجر سراسر اللہ مجھے دے گا۔ وہ یقیناً مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔ اور مزید یہ بات بھی یاد رکھو کہ تم نے اگر میری دعوت کو قبول نہیں کیا تو شاید تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھے اس کی جوابدہی کرنا پڑے گی، یہ خیال غلط ہے۔ اس لیے کہ مجھے جس بات کا حکم دیا گیا تھا وہ بات صرف یہ تھی کہ میں ہرحال میں اللہ کا فرمانبردار رہوں۔ قوم ایمان لے آئے تو تب بھی میری فرمانبرداری میں فرق نہ آئے اور اگر مجھے قتل کرنے پر تل جائے تو تب بھی میری فرمانبرداری مجھے مقتل تک جانے کی ہمت دے۔ سو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں نے اپنی فرمانبرداری میں کمی نہیں کی۔ البتہ تم نے قدم قدم پر اس کی مخالفت کرکے اپنی بندگی کو ضرور رسوا کیا ہے۔
Ayah 10:73فَکَذَّبُوْہُ فَنَجَّیْنٰـہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَجَعَلْنٰـھُمْ خَلٰٓئِفَ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰٰ ٰیتِنَا ج فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ۔ (یونس : 73)
(پس انھوں نے اسے جھٹلادیاتو ہم نے اس کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دے دی۔ اور انھیں کو زمین میں جانشین بنایا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ پس دیکھئے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جن کو متنبہ کیا گیا تھا۔ )
قریش کو انذار
اس آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام بھی ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کا سبب بھی۔ انجام ذکر کرنے سے پہلے سبب کا ذکر فرمایا، تاکہ مشرکینِ مکہ اس بات پر اچھی طرح غور کرلیں کہ جس سبب کی وجہ سے سب سے پہلی قوم پر اللہ کا عذاب آیا، آخری پیغمبر کی قوم پر بھی اسی سبب سے عذاب آسکتا ہے کیونکہ اللہ کی سنت کبھی نہیں بدلتی اور انسانوں سے اس کے معاملات میں کبھی تبدیلی نہیں آتی اور مزید یہ بات بھی کہ اگر حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کی تکذیب کے نتیجے میں طوفانِ نوح آسکتا ہے جبکہ آپ کے بعد ابھی مزید انبیاء و رسل کو آنا تھا تو نبی آخرالزماں ﷺ کے بعد تو سلسلہ نبوت ختم کیا جارہا ہے تو جو قوم اس عظیم پیغمبر کی دعوت کو رد کردے جس پر ہدایت اپنے منطقی اختتام کو پہنچ رہی ہے تو یہ جرم ایسا ہوگا جو سب سے شدید سمجھا جائے گا۔ نہ جانے مشرکینِ مکہ ان سامنے کی باتوں کو سمجھنے کی زحمت کیوں نہیں کررہے۔
اس آیت کریمہ کا اسلوب عجیب ہے کہ قوم نوح پر عذاب کا سبب تو ذکر فرما دیا لیکن عذاب کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ عذاب سے پہلے ان لوگوں کو نجات دینے کا ذکر فرمایا جو اللہ کے دین سے وابستہ تھے۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والے۔ یہ دراصل سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ جب کسی قوم پر عذاب بھیجتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ نافرمان اور فرمانبردار سب سے یکساں سلوک ہو بلکہ اس کی رحمت جوش میں ہوتی ہے اس لیے وہ سب سے پہلے اپنے پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو اس سرزمین سے نکال کر کسی قطعہ عافیت میں پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کا غضب بھڑکتا ہے کیونکہ پیغمبر کی حیثیت قوم کے اندر روح کی ہوتی ہے۔ جب تک وہ اپنی قوم کے اندر ہے، قوم اپنی تمام نافرمانیوں کے باوجود زندہ رہتی اور عذاب سے محفوظ رہتی ہے لیکن جب اللہ کا پیغمبر وہاں سے ہجرت کرجاتا ہے تو پھر یہ قوم بےروح جسم کی طرح ہوجاتی ہے جسے کسی وقت بھی اٹھا کر پھینکا جاسکتا ہے۔
آیت میں مزید یہ بھی فرمایا کہ ہم نے انھیں لوگوں کو پھر اس زمین پر جانشین بنایا کیونکہ جو لوگ آخری حد تک اللہ کی نافرمانی پر تلے رہتے ہیں۔ وہ اللہ کی زمین پر رہنے کے قابل نہیں رہتے۔ ان کی حیثیت جھاڑ جھنکاڑ کی ہوتی ہے۔ قدرت ان سے زمین کو صاف کراتی ہے اور پھر اپنے محبوب بندوں کو ان کی جگہ ٹھکانہ دیتی ہے۔
عذاب کی تفصیل کے ضمن میں قرآن کریم نے جو اشارات کیے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کی ابتدا ایک خاص تنور سے ہوئی جس کے نیچے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ پھر ایک طرف آسمان سے موسلادھار بارش شروع ہوگئی اور دوسری طرف زمین میں جگہ جگہ سے چشمے پھوٹنے لگے۔ سورة ہود میں صرف تنور کے ابل پڑنے کا ذکر ہے اور آگے چل کر بارش کی طرف بھی اشارہ ہے۔ مگر سورة قمر میں اس کی تفصیل دی گئی ہے کہ ” فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْھَمِرٍ وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍقَدْقُدِرَ “ (ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیئے جن سے لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین کو پھاڑ دیا کہ ہر طرف چشمے ہی چشمے پھوٹ نکلے اور یہ دونوں طرح کے پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گئے جو مقدر کردیا گیا تھا۔ ) نیز لفظ تنور پر الف لام داخل کرنے کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تنور کو اس کام کی ابتدا کے لیے نامزد فرما دیا تھا جو اشارہ پاتے ہی ٹھیک اپنے وقت پر ابل پڑا اور بعد میں طوفان والے تنور کی حیثیت سے معروف ہوگیا۔
طوفان عالمگیر تھا یا نہیں
یہ طوفان عالمگیر تھا یا اس خاص علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا۔ اسرائیلی روایات کی بنا پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا۔ (پیدائش : 7: 18۔ 24) مگر قرآن میں یہ بات کہیں نہیں کہی گئی ہے۔ قرآن کے اشارات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی انسانی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سے ہیں جو طوفان نوح سے بچا لیے گئے تھے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا ہو کیونکہ یہ بات اس طرح بھی صحیح ہوسکتی ہے کہ اس وقت تک بنی آدم کی آبادی اسی خطہ تک محدود رہی ہو جہاں طوفان آیا تھا اور طوفان کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئی ہوں وہ بتدریج تمام دنیا میں پھیل گئی ہوں۔ اس نظریہ کی تائید دو چیزوں سے ہوتی ہے ایک یہ کہ دجلہ و فرات کی سرزمین میں تو ایک زبردست طوفان کا ثبوت تاریخی روایات سے، آثارِ قدیمہ سے اور طبقات الارض سے ملتا ہے لیکن روئے زمین کے تمام خطوں میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس سے کسی عالمگیر طوفان کا یقین کیا جاسکے۔ دوسرے یہ کہ روئے زمین کی اکثر و بیشتر قوموں میں ایک طوفان عظیم کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں حتیٰ کہ آسٹریلیا، امریکہ اور نیوگنی جیسے دوردراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کسی وقت ان سب قوموں کے آبائواجداد ایک ہی خطہ میں آباد ہوں گے جہاں یہ طوفان آیا تھا اور پھر جب ان کی نسلیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلیں تو یہ روایات ان کے ساتھ گئیں۔
قرآن کریم سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ جب طوفان آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جانوروں کا جوڑا جوڑا اور ضرورت کی اشیاء اور تمام ایمان لانے والے اپنے اہل و عیال سمیت کشتی میں سوار کرلیے گئے۔ جگہ جگہ سے زمین چشموں کی صورت میں ابلنے لگی اور آسمان نے بھی اپنے دروازے کھول دیئے۔ پانی کی تیزی اور وسعت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے آبادیاں پانی کی نذر ہوگئیں اور کشتی اپنے سواروں کو لے کر پانی پر تیرتی ہوئی پہاڑوں سے بھی بلند ہوگئی۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنے دنوں تک یہی کیفیت رہی بالآخر بارشیں رکیں، پانی اترنا شروع ہوا اور کشتی جودی پہاڑی کی چوٹی پر ٹک گئی۔ ابن جریر ( رح) نے قتادہ ( رض) کی یہ روایت کی ہے کہ عہد صحابہ میں جب مسلمان الجزیرہ کے علاقے میں گئے ہیں تو انھوں نے کوہ جودی پر (اور ایک روایت کی رو سے باقرویٰ نامی بستی کے قریب) اس کشتی کو دیکھا۔ موجودہ زمانہ میں بھی وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات اخبارات میں آتی رہتی ہیں کہ کشتی نوح کو تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جارہی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بسا اوقات ہوائی جہاز جب کوہستانِ اراراط پر سے گزرے ہیں تو ایک چوٹی پر انھوں نے ایسی چیز دیکھی ہے جو کشتی سے مشابہ ہے۔
امام بخاری ( رح) ، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق اور ابن جریر نے قتادہ سے یہ روایات نقل کی ہیں کہ مسلمانوں کی فتح عراق و الجزیرہ کے زمانے میں یہ کشتی جودی پر موجود تھی اور ابتدائی دور کے اہل اسلام نے اس کو دیکھا تھا۔
فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ
پس غور کیجیے کیسے ہوا انجام ان لوگوں کا جنھیں ڈرایا گیا تھا یہی وہ بات ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر آنے والے عذاب کے حوالہ سے بتانا مقصود تھی اس میں بیک وقت نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود ہے کہ آپ حالات کی سنگینی سے دل گرفتہ نہ ہوں انبیاء کرام کو ایسے حالات سے واسطہ پڑا ہی کرتا ہے اور مشرکین مکہ کو تنبیہ بھی ہے کہ تم اس واقعہ پر غور کرو اور پھر سوچو کہ تمہاری اور قوم نوح کی پوزیشن میں کیا فرق ہے۔ محمد کریم ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی تھی۔ آپ بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح اپنی ہمت اور توانائی کا آخری قطرہ بھی نچوڑ دینا چاہتے ہیں تاکہ تم کسی طرح راہ راست اختیار کرلو لیکن تم نے وہی رویہ اختیار کیا ہے جو قوم نوح نے کیا تھا جس طرح وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مخالفت بڑھتی چلی گئی اسی طرح تمہاری اذیت رسانیوں میں بھی رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے تمہیں بتانا صرف یہ ہے کہ جس طرز عمل کے نتیجے میں قوم نوح تباہ ہوگئی اسی طرز عمل کو اختیار کرنے کے بعد آخر تم کیسے بچ جاؤ گے۔ انذار کا حق انھوں نے بھی ادا کیا تھا اور آنحضرت بھی ادا کرچکے اب صرف آخری فیصلہ آنے کا انتظار ہے تمہارے پاس اب بھی موقع ہے کہ ان انتظار کے لمحوں کو اپنے لیے عذاب کا ذریعہ مت بناؤ۔
Ayah 10:74ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ م بَعْدِہٖ رُسُلاً اِلٰی قَوْمِھِمْ فَجَآئُ وْھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ ط کَذٰلِکَ نَطْبَعُ عَلٰی قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ ۔ (یونس : 74)
(پھر بھیجے ہم نے اس کے بعد کئی رسول، ان کی اپنی قوموں کی طرف، تو وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ لیکن وہ اس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے، جس کو پہلے جھٹلاچکے تھے۔ اسی طرح ہم مہر کردیتے ہیں حق سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر۔ )
بعد کے رسولوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ
طوفانِ نوح کے بعد جب حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کی اولاد کو ازسرنو زمین پر بسایا گیا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ صاحب ایمان لوگ کب تک زندہ رہے اور ان کی اولادوں میں کب تک ایمان و عمل زندہ رہا۔ رفتہ رفتہ شیطان کو کام کرنے کا موقع ملا تو اس نے پھر انسانوں میں بگاڑ پیدا کیا۔ شرک کے نئے طریقے ایجاد کیے، کچھ پرانی چیزوں کو زندہ کیا، معاملات میں حب دنیا اور نفس پرستی کی وجہ سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں انھیں شیطانی اثرات نے مقدور بھر انفرادی اور اجتماعی زندگی میں راسخ کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح سے عقائد بھی مجروح ہوئے اور معاملات بھی ابتر ہوئے۔ انسان اصلاح کے بعد پھر بگاڑ کے راستے پر چل پڑا۔ اب ضرورت پیدا ہوئی کہ عقیدہ و عمل کی اصلاح کے لیے انبیاء کرام اور رسولانِ عظام کو بھیجا جائے۔ چناچہ مختلف وقتوں میں مختلف نبی اور رسول تشریف لائے۔ انھوں نے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو ادا فرمایا۔ ہم سب آنے والوں کے اسمائے گرامی اور حالات سے تو واقف نہیں ہیں البتہ قرآن کریم نے مختلف مواقع پر حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد آنے والے بعض انبیاء و رسل کا تذکرہ کیا ہے۔ یہاں صرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے۔ البتہ سورة ہود میں جو اس سورت کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے میں حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کا تفصیلی ذکر فرمایا گیا ہے۔ ہم بھی انشاء اللہ تفصیل وہیں پڑھیں گے۔ یہاں تو صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ انسانی بگاڑ جب انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے تو وہ انسانوں کی اصلاح کے لیے اپنے پیغمبر بھیجتا ہے تاکہ وہ دنیا و عقبیٰ کی تباہی سے بچ جائیں۔ ہر دور میں اس کا یہی معمول رہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو رد کرکے دنیا نے تباہی مول لی اور ایسا عذاب آیا جس نے اس وقت کی معلوم دنیا کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد پھر بگاڑ کا دور آیا تو اللہ کی سنت کے مطابق پھر نبی اور رسول آئے۔ ان کی قوموں نے اپنی روایت کے مطابق انھیں ماننے سے انکار کیا اور ہر ممکن طریقے سے انھیں ناکام کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نبوت اور رسالت کی سنت کے مطابق اللہ کی طرف سے واضح آیات لے کر آئے۔ آیات سے مراد ہر رسول پر نازل ہونے والی کتاب کی آیات بھی ہیں اور ہر پیغمبر کو دیئے جانے والے معجزات بھی۔ انھوں نے معجزات دکھا کر یہ ثابت کیا کہ ہم ازخود اٹھ کر نہیں آگئے بلکہ ہم مامورمن اللہ ہیں۔ ہم نے زندگی کا ایک حصہ نہایت راست بازی، دیانتداری اور معصومیت کے ساتھ تمہارے اندر گزارا۔ ہم نے کبھی کسی غیرمعمولی بات کا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن اب اگر ہم نبوت کا دعویٰ لے کر آئے ہیں تو یہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہے اور اس کی نشانی اور علامت یہ معجزات ہیں۔ اس کے بعد وہ کتاب اللہ کی آیات پڑھ کر ان کی زندگی میں رہنمائی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں اونچ نیچ سمجھاتے، زندگی کی الجھنوں سے نکالتے ہیں، ان کی اپنی زندگی اور ان پر نازل ہونے والی کتاب بجائے خود غیرمعمولی دلیل ہوتی ہے۔ لیکن ان کی قومیں اس سب کچھ کے باوجود ایمان لانے کی طرف نہیں آتیں۔ ان کا حال بدکے ہوئے گدھوں کی طرح ہوتا ہے کہ وہ جتنا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ اتنا دور بھاگتے ہیں۔
توفیق کے معاملے اللہ کا قانون
یہاں پہنچ کر پروردگار نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ نبی جیسا داعی اور کتاب اللہ جیسی کتاب معجزات اور حقائق سے مرصع ہو کر جب قوم کے سامنے آتے ہیں تو وہ انھیں قبول کرنے سے انکار کیسے کردیتے ہیں۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ انھیں فوراً سر جھکا دینا چاہیے لیکن امتوں کی تاریخ اس کے بالکل برعکس کہانی سناتی ہے تو اس کی وجہ وہ ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس نے انسان کو وجدان کی دولت دی ہے۔ اسے حواس اور عقل سے نوازا ہے، پھر وحی الٰہی کے ذریعے اس کے لیے ہدایت کا راستہ آسان کردیا تاکہ وہ زندگی کے اس اہم فیصلے میں غلطی نہ کرے۔ اس کے بعد انھیں آزادی دے دی گئی ہے کہ تم چاہو تو اللہ کے نبی کی دعوت کو قبول کرو اور چاہو تو رد کردو۔ قبول کرنا چاہو گے تو ہم اس کے امکانات روشن کردیں گے اور رد کرنا چاہو گے تو ہم اس کے لیے راستے کھول دیں گے۔ چناچہ اب انسان اپنی آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو بھی فیصلہ کرتا ہے کارکنان قضاء و قدر اس کے لیے سہولتیں بہم پہنچانا شروع کردیتے ہیں۔ جو آدمی نیکی کا راستہ اختیار کرتا ہے اس کے لیے نیکی کے راستے پر چلنا آسان کردیا جاتا ہے اور جو آدمی سمجھانے کے باوجود برائی کے راستے پر اصرار کرتا ہے تو اس پر ایک شیطان مسلط کردیا جاتا ہے جو اسے برائی کے راستوں پر کھینچے لیے پھرتا ہے۔ چناچہ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب اس کے دل و دماغ کی صلاحیتیں قبولیت حق سے محروم ہوجاتی ہیں۔ اسی کو دلوں پر مہر لگنا کہا گیا ہے۔
انبیاء کی آمد اور قوموں کے رویئے پر مشتمل تاریخ کا ضمنی تذکرہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ مشرکینِ مکہ اس آئینہ میں اپنی شکل پہچاننے کی کوشش کریں۔ وہ آنحضرت ﷺ کی حیثیت کو سمجھیں اور اپنے رویئے کو دیکھتے ہوئے اپنے انجام کی فکر کرنے کی کوشش کریں۔
Ayah 10:75ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ م بَعْدِھِمْ مُّوْسٰی وَھٰرُوْنَ اِلٰی فِرْعُوْنَ وَمَلَاْ ئِہٖ بِاٰ ٰیتِنَا فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ۔ (یونس : 75)
(پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انھوں نے گھمنڈ کیا اور وہ تھے ہی مجرم لوگ۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات سے استشہاد
پیشِ نظر آیت کریمہ میں انبیاء اور رسل کی طویل تاریخ سے حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کی دعوت کی تائید و وضاحت اور آپ ﷺ کی تسلی اور اطمینان کے لیے سب سے زیادہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالاتِ زندگی اور نبوت کے بعد آپ کو پیش آنے والے حالات سے استشہاد کیا گیا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات میں بہت حد تک موافقت پائی جاتی ہے۔ چناچہ یہاں ان کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے مشرکینِ مکہ کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے اور ان کا انجام دکھا کر انھیں تنبہ کیا گیا ہے۔
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور فرعون اور آل فرعون کے ردعمل کی تفصیلات تو بیان نہیں کی گئیں لیکن اشاروں میں بہت کچھ کہہ دیا گیا ہے جس سے یہ بات اچھی طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ پیغمبروں کو کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے اور قوم اگر اپنی سیرت و کردار کے بگاڑ میں بہت دور تک پہنچ جاتی ہے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے یہ بات فرمائی کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ اور اس طرح بھیجا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا کوئی تصور تک نہ تھا۔ آپ کی زندگی قدم قدم پر حیرتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ آپ کے ولادت اس حال میں ہوتی ہے کہ ان کا پورا خاندان اپنے نوزائیدہ بچوں کے حوالے سے غم میں ڈوبا ہوا تھا۔ بنی اسرائیل میں جو بچہ پیدا ہوتا فرعونی حکومت کے کارندے اسے اٹھا کے لے جاتے اور موت کی نذر کردیتے۔ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت نے فرعونی حکومت کے لیے ایک ایسا خطرہ پیدا کردیا تھا کہ انھوں نے اس خطرے سے عہدہ برا ہونے کے لیے یہ ظالمانہ قانون نافذ کیا کہ بنی اسرائیل کے گھر کسی پیدا ہونے والے بچے کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ کی ماں زچگی کی تکلیف کو بھول کر آپ کو بچانے کی فکر میں تھی۔ ایک تابوت میں ڈال کر آپ کو دریائے نیل کے سپرد کردیا گیا۔ اللہ کی قدرت کا کیا کہنا کہ جس فرعون کے لیے ان بچوں کا وجود ناقابل برداشت تھا اسی کے گھر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح پہنچے کہ فرعون کی اہلیہ نے انھیں اپنی گود میں لے لیا اور آپ شہزادوں کی طرح محل میں پلنے لگے۔ بڑے ہوئے تو ایسے رعنا جوان نکلے کہ مصر اور قرب و جوار میں آپ کی جوانی اور رعنائی کے تذکرے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ بات کھل گئی کہ آپ بنی اسرائیل ہی میں سے ہیں۔ اس لیے آپ کو بھی قدرتی طور پر بنی اسرائیل کی زبوں حالی کو دیکھ کر ان سے ہمدردی ہونے لگی۔ ایسے ہی ایک موقع پر ایک اسرائیلی کو ایک قبطی سے بچانے کے لیے قبطی کو مکا مارا تو وہ جہنم رسید ہوگیا۔ دوسرے ہی دن جس کی ہمدردی میں یہ واقع پیش آیا تھا اس نے یہ بات اگل دی کہ مرنے والے کے قاتل موسیٰ ہیں۔ محل میں جو لوگ آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے موقع کی تلاش میں تھے انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی، آپ کو بروقت اطلاع ہوگئی اور آپ مدین چلے گئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک شریف گھرانے میں پناہ دی۔ دس سال وہاں گزار کر بےسروسامانی اور گمنامی کی حالت میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ واپس مصر تشریف لا رہے تھے کہ راستہ بھول کر کوہ طور پر جا پہنچے۔ وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت دستگیر ہوئی اور آپ کو نبوت عطا کی گئی اور ساتھ ہی دو معجزات دیئے گئے۔ آپ کے ہاتھ کی وہ لاٹھی جس کی مدد سے آپ بکریاں چرایا کرتے تھے وہ سانپ بن گئی اور آپ کا ہاتھ جب بغل سے نکلتا تو وہ سورج کی طرح چمکنے لگتا۔ اس طرح عصائے موسیٰ اور یدبیضا دو معجزات آپ کو دیئے گئے۔ یہ گویا آپ کے لیے نشان ماموریت تھے جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ آپ اللہ کی طرف سے ایک عظیم منصب پر فائز کیے گئے ہیں اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو آپ کی تائید و نصرت کے لیے آپ کی دعا پر نبوت عطا کی اور دونوں کو حکم دیا گیا کہ فرعون کی طرف جاؤ، وہ عبدیت کی حدود سے گزر گیا ہے اور اسے کہو کہ ہم تیرے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ تجھے اللہ کے راستے کی ہدایت دیں۔ ہوسکتا ہے تیرے دل میں اس کا ڈر پیدا ہو اور تو اپنی زندگی اور عاقبت بچا لے اور تو اگر چاہے تو ہم تیری پاکیزگی نفس اور پاکیزگی افکار کا بھی انتظام کرنے کو تیار ہیں۔ یہ یاد رہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس فرعون کے گھر میں پلے تھے اب وہ برسراقتدار نہیں تھا بلکہ وہ مرچکا تھا اور تاریخ اسے رعمسیس کے نام سے جانتی ہے اور اب تخت فرعونی پر فائز اس کا بیٹا تھا جس کا نام منفتاح تھا۔ یہ یقیناً آپ کے ساتھ ہی پلا بڑھا ہوگا۔ چناچہ آپ اس کے پاس پہنچے تو قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اس نے تکبر اور بڑائی کا اظہار کرتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو طعنہ دیا کہ تم وہی ہو جو ہمارے گھر میں پلتے رہے اور ہمارا ہی کھا کر ہمیں سمجھانے کے لیے آگئے ہو اور مزید یہ کہ ہم نے تو تم پر احسانات کیے اور تم نے احسانات کا بدلہ یہ دیا کہ ہمارا ایک آدمی قتل کرکے بھاگ گئے اور اب ہمارے پاس نبوت کا دعویٰ لے کر آگئے ہو۔ اور اس کے دائیں بائیں بیٹھنے والوں نے بھی تکبر کی زبان سے نجانے کیسے کیسے پھنکارے مارے اور کیسی کیسی زہر میں ڈوبی ہوئی باتیں کیں۔ بجائے اس کے کہ وہ آپ کے دعویٰ نبوت پر غور کرتے، آپ کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے، آپ کے معجزات کو دیکھتے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے لیے توجہ کے قابل نہ بن سکی۔ اس کے لیے سب سے بڑی یہ بات تھی کہ بنی اسرائیل جن کو وہ غلام بنا چکے تھے، موسیٰ اور ہارون ان غلاموں سے رشتہ رکھتے ہیں اور ہم جو ان کے آقا ہیں اور جن کی عنایات سے یہ مصر کی زمین پر چلتے پھرتے اور زندگی گزارتے ہیں ایسے کنگلے اور نادار اٹھ کر ہمیں کو سمجھانے کے لیے چلے آئے ہیں۔ جس طرح ایک بدمعاش اور جرائم پیشہ آدمی کسی شریف آدمی کی بات سننے کا روادار نہیں ہوتا اسی طرح انھوں نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو اہمیت دینے سے انکار کردیا۔ البتہ ان کو ایک مشکل پیش آئی کہ کہاں تو یہ دعویٰ کہ وہ مصر کے رب ہیں اور کہاں یہ حال کہ عصائے موسیٰ جب اژدھا بن کر ان کے سامنے نمودار ہوا تو وہ اس کا سدباب کرنے سے عاجز رہے اور جب حضرت ہارون نے اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت کے دلائل پیش کیے تو یہ رب صاحب اپنی ساری شیخی بھول گئے اور ان کے سوا کوئی چارا کار نہ رہا کہ وہ کچھ کہیں کہ جس کا اگلی آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 10:76فَلَمَّا جَآئُ ھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْآ اِنَّ ھٰذَالَسِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (یونس : 76)
(اور جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو بولے یہ یقیناً ایک کھلا کھلا جادو ہے۔ )
ہر دور کے منکرین کی طرح پیغمبر کے معجزات کو رد کرنے کا انھوں نے یہ آسان طریقہ نکالا، کہ یہ جادو کے سوا اور کچھ نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ موسیٰ ایک ایسی دعوت لے کر آئے تھے جس کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا کیونکہ معجزات کو دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قوت ہے اور اس کی تائید کے لیے پروردگار نے مزید فرمایا کہ حق ہماری طرف سے آیا۔ ظاہر ہے کہ جو چیز اللہ کی طرف سے آئے گی اس کے حق ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔