Ayah 10:34قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّبْدَؤْا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ط قُلِ اللّٰہُ یَبْدَؤْا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ ۔ (یونس : 34)
(اے پیغمبر ! ان سے پوچھئے تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے۔ کہہ دیجیے وہ صرف اللہ ہی ہے جو تخلیق کا آغاز بھی کرتا ہے پھر اس کا اعادہ بھی کرے گا۔ تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو۔ )
مشرکین کی ایک اور گمراہی
اس سے پہلے آیت نمبر 31 میں پروردگار نے کچھ سوالات مشرکینِ مکہ کے سامنے پیش کیے اور پھر خود ہی ان کا وہ جواب دیا جو ان کے نزدیک مسلم تھا۔ لیکن زبان سے اس کا اظہار انھیں اس وقت کرنا پسند نہ تھا۔ اگرچہ ان کے دل اس کی گواہی دیتے تھے۔ اس سوال و جواب کے نتیجے میں دو باتیں ان سے فرمائی گئیں۔ پہلی بات یہ کہ جب تم تسلیم کرتے ہو کہ یہ ساری صفات اللہ ہی کی ہیں اور و ہی ان قدرتوں کا مالک ہے تو پھر اس کی عطاء کردہ زندگی میں اپنی مرضی کرتے اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے تم اس کے غضب سے ڈرتے نہیں ہو۔ یہ ایک ایسا مطالبہ تھا جس کے حق اور امرواقع ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ دوسری بات ان سے یہ فرمائی گئی کہ جب تم اللہ کو خالق، رازق، حواس اور عقل کا عطاء کرنے والا اور کائنات کے نظام کی تدبیر کرنے والا تسلیم کرتے ہو تو پھر اس کی موجودگی میں دوسروں کو رب کیونکر تسلیم کرتے ہو کیونکہ سروری، آقائی اور عبادت کا حق صرف اسی کو دیا جاسکتا ہے جس کے اندر یہ تمام صفات پائی جاتی ہوں اور یہی تینوں صفات ہیں جن کے مجموعہ کو ربوبیت کہتے ہیں تو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کو رب کیسے مانتے ہو جبکہ ربوبیت کے لیے بنیادی صفات وہی ہیں جن کا ابھی تذکرہ ہوا اور ان صفات سے متصف اللہ کی ذات کے سوا اور کوئی نہیں، لیکن تم نے بجائے اس کو رب واحد تسلیم کرنے کے اس کے شرکاء بنا رکھے ہیں۔ ان کی اس بنیادی گمراہی کے ابطال کے بعد پیش نظر آیت ِ کریمہ میں ان کی ایک اور بڑی گمراہی کا ازالہ سوال ہی کے انداز میں کیا جارہا ہے۔ وہ گمراہی یہ تھی کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد کو قیامت کے نہ آنے کا یا تو یقین تھا یا اس کے آنے میں شبہ تھا اور شبہ کی بنیاد یہ تھی کہ تمام انسانوں اور زمین و آسمان کا بیک لمحہ فنا ہوجانا اور پھر ایک مدت کے بعد ازسرنومعرضِ وجود میں آجانے کا انھیں یقین نہیں آتا تھا۔ یہ بات ان کی عقل کسی طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھی کہ اتنی بڑی کائنات اچانک تباہ ہوسکتی ہے اور پھر اسی طرح دوبارہ وجود میں بھی آسکتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان کی اس بنیادی گمراہی کا ازالہ فرمایا گیا ہے کیونکہ جس طرح اللہ کی ربوبیت کا انکار اللہ کو نہ ماننے کے مترادف ہے جس کے نتیجہ میں ایمان اپنے بیخ و بن سے اکھڑ جاتا ہے اسی طرح قیامت کا انکار انسان کو ایک ایسا غیرذمہ دار اور لا ابالی حیوان بنا دیتا ہے جس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے اسی زور اور اصرار کے ساتھ سوال کیا گیا ہے کہ بتائو اس کائنات کا خالق کون ہے۔ کائنات کی تخلیق کی ابتداء کس نے کی ؟ مادہ تخلیق کو کس نے پیدا کیا ؟ پھر ہر مخلوق کے سلسلہ توالد و تناسل کو کس نے وجود عطا فرمایا ؟ آج ہر مخلوق جس طرح پھیلتی چلی جارہی ہے یہ کس کا فیضان اور کس کی عطا ہے اور اگر تم مانتے ہو اور یقیناً مانتے ہو کہ اللہ ہی کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اسی نے ہر چیز کی تخلیق کا آغاز کیا ہے اور وہی اس سلسلے کو باقی رکھے ہوئے ہے اور پھر یہ بھی تو تم تسلیم کرتے ہو کہ جس طرح وہ زندگی عطا فرماتا ہے اسی طرح موت بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ وہ جس طرح کائنات کو زندگی دے سکتا ہے اسی طرح موت سے بھی ہمکنار کرسکتا ہے اور یہ عقل عام کی بات ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ جو ذات کسی چیز کے بنانے اور اس کی تخلیق کرنے پر ایک دفعہ قادر ہے وہ دوبارہ بھی اسے پیدا کرنے پر قادر ہے۔ جو معمار ایک عمارت تعمیر کرسکتا ہے وہ اسے مسمار بھی کرسکتا ہے اور اگر دوبارہ اسے بنانے کے لیے کہا جائے تو وہ دوبارہ بنا بھی سکتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ تاج محل کے معمار اگر آج زندہ ہوتے تو وہ دوبارہ اسے تعمیر نہیں کرسکتے تھے اور جن ہنرمندوں کے ہنر کا شاہکار اہرامِ مصر ہیں ان کے بارے میں کوئی عقل مند آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ دوبارہ اہرام مصر بنانے پر قادر نہیں تھے کیونکہ اگر وہ دوبارہ بنانے پر قادر نہ ہوتے تو ایک اہرام بنانے کے بعد دوسرا اہرام کبھی نہ بنا سکتے۔ اگر یہ واقعی عقل کا فتویٰ ہے کہ کوئی بھی تخلیق دو باہ ناممکن نہیں ہوتی اور کوئی بھی تخلیق کو وجود میں لانے والا دوبارہ اس سے تہی دامن نہیں ہوجاتا تو یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ تم اللہ کو بہمہ وجوہ خالق تو مانتے ہو لیکن کائنات کے فنا ہوجانے کے بعد اس کے اعادہ کرنے پر تم اسے قادر نہیں سمجھتے۔ یہ تو ایک طرح کی فکری شکست اور عقل و دانش کے اوندھے منہ گر جانے والی بات ہے اور یہ وہ حماقت کی انتہاء ہے جس نے تمہیں قیامت کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں آج تک یکسو ہونے سے محروم رکھا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ تمہاری فکر اور تمہارے اعمال میں بہتری کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ قیامت کا آنا بجائے خود مقصد نہیں بلکہ ایک مقصد کے بروئے کار لانے کا سبب ہے۔ وہ مقصد یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ میں اس دنیا میں رہتے ہوئے جس ظلم، بےاعتدالی، حق تلفی، حق شکنی اور جس گمراہی کا ارتکاب کروں گا قیامت کے دن اس کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ زندگی کا ایک ایک عمل عدالت کے سامنے ہوگا۔ وہاں ہر نیکی کا بدلہ ملے گا اور ہر برائی کی سزا ملے گی۔ عدل اپنی وسعتوں سمیت بروئے کار لایا جائے گا۔ ظلم کی ایک ایک شکل کھول کر سامنے رکھ دی جائے گی۔ کوئی قربانی دینے والا بےپایاں اعزاز سے محروم نہیں رہے گا اور کوئی بڑے سے بڑا جرم کرنے والا وسیع تر سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ یہ تمام تصورات قیامت کے ایک تصور میں رچے بسے ہیں۔ انھیں تصورات کو قبول کرنے سے انسانی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ ہر بات سوچنے سے پہلے، ہر فیصلہ کرنے سے پہلے اور ہر عمل کرنے سے پہلے سوچتا ہے کہ میں اللہ کے سامنے جا کر کیا جواب دوں گا۔ جب یہ فکر انسان میں پیدا ہوجاتی ہے تو پھر کوئی فکری اور عملی خرابی باقی رہنے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔ اس طرح بنیادی تصور اور عقیدے کے لیے سوالات کی صورت میں ایک ایسی مضبوط دلیل فراہم کی گئی ہے جس کی گرفت سے صرف وہی آدمی آزاد رہتا ہے جو زندگی کے معاملات میں سنجیدہ نہ ہو اور یہ بات واضح ہے کہ ایسے آدمی کا دنیا میں کوئی علاج نہیں۔
Ayah 10:35قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّن یَّھْدِیْ ٓ اِلَی الْحَق ط قُلِ اللّٰہُ یَھْدِیْ لِلْحَقِّ ط اَفَمَنْ یَّھْدِیْ ٓ اِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لاَّ یَھِدِّیْ ٓ اِلَّآ اَنْ یُّھْدٰی ج فَمَا لَکُمْ قف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ۔ (یونس : 35)
(اے پیغمبر ! ان سے پوچھئے کیا تمہارے شرکاء میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو، کہہ دیجیے وہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ تو کیا جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا الا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے تو تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔ )
رہنمائی کے حوالے سے اصولی بات
اس آیت کی تشریح میں صاحب تفہیم القرآن نے ایک قابل قدر نوٹ لکھا ہے، ہم اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جس کو ذرا تفصیل کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے۔ دنیا میں انسان کی ضرورتوں کا دائرہ صرف اسی حد تک محدود نہیں ہے کہ اس کو کھانے پینے، پہننے اور زندگی بسر کرنے کا سامان بہم پہنچے اور آفات، مصائب اور نقصانات سے وہ محفوظ رہے بلکہ اس کی ایک ضرورت (اور درحقیقت سب سے بڑی ضرورت) یہ بھی ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ معلوم ہو اور وہ جانے کہ اپنی ذات کے ساتھ، اپنی قوتوں اور قابلیتوں کے ساتھ، اس سرد سامان کے ساتھ جو روئے زمین پر اس کے تصرف میں ہے، ان بیشمار انسانوں کے ساتھ جن سے مختلف حیثیتوں میں اس کو سابقہ پیش آتا ہے اور مجموعی طور پر اس نظام کائنات کے ساتھ جس کے ماتحت رہ کر ہی بہرحال اس کو کام کرنا ہے، وہ کیا اور کس طرح معاملہ کرے جس سے اس کی زندگی بحیثیت مجموعی کامیاب ہو اور اس کی کوششیں اور محنتیں غلط راہوں میں صرف ہو کر تباہی و بربادی پر منتج نہ ہوں۔ اسی صحیح طریقہ کا نام ” حق “ ہے اور جو رہنمائی اس طریقہ کی طرف انسان کو لے جائے وہی ” ہدایت حق “ ہے۔ اب قرآن تمام مشرکین سے اور ان سب لوگوں سے جو پیغمبر کی تعلیم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ پوچھتا ہے کہ تم خدا کے سوا جن جن کی بندگی کرتے ہو ان میں کوئی ہے جو تمہارے لیے ” ہدایت حق “ حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہو یا بن سکتا ہو ؟… ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس لیے کہ انسان خدا کے سوا جن کی بندگی کرتا ہے وہ دو بڑی اقسام پر منقسم ہیں۔
ایک وہ دیویاں، دیوتا اور زندہ یا مردہ انسان جن کی پرستش کی جاتی ہے۔ سو ان کی طرف تو انسان کا رجوع صرف اس غرض کے لیے ہوتا ہے کہ فوق الفطری طریقے سے وہ اس کی حاجتیں پوری کریں اور اس کو آفات سے بچائیں۔ رہی ہدایتِ حق تو وہ نہ کبھی ان کی طرف سے آئی، نہ کبھی کسی مشرک نے اس کے لیے ان کی طرف رجوع کیا اور نہ کوئی مشرک یہ کہتا ہے کہ اس کے یہ معبود اسے اخلاق، معاشرت، تمدن، معیشت، سیاست، قانون، عدالت وغیرہ کے اصول سکھاتے ہیں۔
دوسرے وہ انسان جن کے بنائے ہوئے اصولوں اور قوانین کی پیروی و اطاعت کی جاتی ہے۔ سو وہ رہنما تو ضرور ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا فی الواقع وہ ” رہنمائے حق “ بھی ہیں یا ہوسکتے ہیں ؟ کیا ان میں سے کسی کا علم بھی ان تمام حقائق پر حاوی ہے جن کو جاننا انسانی زندگی کے صحیح اصول وضع کرنے کے لیے ضروری ہے ؟ کیا ان میں سے کسی کی نظر بھی اس پورے دائرے پر پھیلتی ہے جس میں انسانی زندگی سے تعلق رکھنے والے مسائل پھیلے ہوئے ہیں ؟ کیا ان میں سے کوئی بھی ان کمزوریوں سے، ان تعصبات سے، ان شخصی یا گروہی دلچسپیوں سے، ان اغراض و خواہشات سے اور ان رجحانات و میلانات سے بالاتر ہے جو انسانی معاشرے کے لیے منصفانہ قوانین بنانے میں مانع ہوتے ہیں ؟ اگر جواب نفی میں ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی صحیح الدماغ آدمی ان سوالات کا جواب اثبات میں نہیں دے سکتا، تو آخر یہ لوگ ” ہدایت حق “ کا سرچشمہ کیسے ہوسکتے ہیں ؟
اسی بنا پر قرآن یہ سوال کرتا ہے کہ لوگو ! تمہارے ان مذہبی معبودوں اور تمدنی خدائوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو راہ راست کی طرف تمہاری رہنمائی کرنے والا ہو ؟ اوپر کے سوالات کے ساتھ مل کر یہ آخری سوال دین و مذہب کے پورے مسئلے کا فیصلہ کردیتا ہے۔ انسان کی ساری ضرورتیں دوہی نوعیت کی ہیں۔ ایک نوعیت کی ضروریات یہ ہیں کہ کوئی اس کا پروردگار ہو، کوئی ملجا و ماویٰ ہو، کوئی دعائوں کا سننے والا اور حاجتوں کا پورا کرنے والا ہو جس کا مستقل سہارا اس عالم اسباب کے بےثبات سہاروں کے درمیان رہتے ہوئے وہ تھام سکے۔ سو اوپر کے سوالات نے فیصلہ کردیا کہ اس ضرورت کو پورا کرنے والا خدا کے سوا کوئی نہیں ہے۔ دوسری نوعیت کی ضروریات یہ ہیں کہ کوئی ایسا رہنما ہو جو دنیا میں زندگی بسر کرنے کے صحیح اصول بتائے اور جس کے دیئے ہوئے قوانین حیات کی پیروی پورے اعتماد و اطمینان کے ساتھ کی جاسکے۔ سو اس آخری سوال نے اس کا فیصلہ بھی کردیا کہ وہ بھی صرف خدا ہی ہے۔ اس کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی جس کی بنا پر انسان مشرکانہ مذاہب اور لادینی (Secular) اصولِ تمدن و اخلاق و سیاست سے چمٹا رہے۔
Ayah 10:36وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُھُمُ اِلاَّ ظَنًّا ط اِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْائً ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا یَفْعَلُوْنَ ۔ (یونس : 36)
(ان میں سے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی، حالانکہ گمان حق کا بدل ذرا بھی نہیں ہوسکتا۔ بیشک اللہ جاننے والا ہے جو کچھ یہ کررہے ہیں۔ )
حق کے مقابلے میں ظن کی پیروی
قیامت پر عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے چونکہ زندگی میں سنجیدگی اور فکرمندی پیدا نہیں ہوتی اور آدمی اپنے آپ کو ہر طرح کی داروگیر اور جواب طلبی سے آزاد سمجھتا ہے۔ خواہشاتِ نفس اسے جس طرف کھینچ لے جاتی ہیں اسی طرف چل دیتا ہے۔ ہر طرح کی ہوس مقصد زندگی بن جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی سا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی جاتی کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ہے۔ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو قیامت کے انکار سے خودبخود جنم لیتا ہے۔ چناچہ یہی رویہ مشرکینِ مکہ میں بھی جنم لے چکا تھا اور ان کے بنیادی عقائد سے انکار کے نتیجے میں اس سے مختلف کسی نتیجے کے ظاہر ہونے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ چناچہ اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی زندگی کی روش اور ان کے دماغی فیصلوں کی رہنمائی حق کے ہاتھ میں نہیں کیونکہ اسے تو وہ ماننے سے انکار کردیتے ہیں کیونکہ جس طرح وہ قیامت سے انکار کرچکے ہیں اسی طرح وہ اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو قبول کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ تو نہ ان کے پاس جوابدہی کی سنجیدگی باقی رہی اور نہ حق کی رہنمائی تو اس کا نتیجہ اس کا سوا اور کیا ہوگا کہ وہ اٹکل پچو سے زندگی گزاریں کہ جو جی میں آئے کر گزریں۔ جدھر لوگ چلنے لگیں وہ بھی چلنے لگیں۔ یہاں ” ظن “ علم، یقین اور حق تینوں کی ضد کے طور پر آیا ہے۔ یعنی انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ علم کے تقاضے کیا ہیں، یقین کس طرف ہے اور حق کہاں ہے۔ وہ اپنے لیے جو شرعی احکام تجویز کرچکے ہیں انھوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ ان کی کوئی علمی سند بھی ہے یا نہیں۔ جن روایات پر وہ جان دیتے ہیں ان کے لیے ان کے پاس باپ دادا کے سوا کوئی دلیل نہیں۔ ظاہر ہے کہ باپ دادا ہونا تو کوئی دلیل کی بات نہیں۔ دنیا نے حماقتیں پہلے بھی کی ہیں اور آج بھی کررہی ہے۔ انھوں نے جن قوتوں کو اللہ کے شریک بنا رکھا ہے ان کے حوالے سے انھوں نے حق بات کو تلاش کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ہر معاملے میں ظن اور گمان سے رہنمائی لیتے ہیں حالانکہ ظن اور گمان تو حق کے مقابلے میں کسی طرح بھی زندگی کی رہنمائی کے لیے کافی نہیں۔ یہ تو اپنے آپ کو تاریکیوں میں ڈبو دینے کی ایک کوشش ہے جس کا نتیجہ معلوم ہے۔
Ayah 10:37وَمَا کَانَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰی مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰـکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ قف۔ (یونس : 37)
(اور یہ قرآن ایسی چیز نہیں جسے گھڑ لیا گیا ہو اللہ سے پرے پرے بلکہ یہ تو تصدیق ہے اس کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہے اور الکتاب کی تفصیل ہے۔ اس کے رب العالمین کی طرف سے ہونے میں کوئی شک نہیں۔ )
قرآن کریم سابق پیشگوئیوں کی تصدیق ہے
مشرکینِ مکہ کے مزعوماتِ فاسدہ اور اعتقاداتِ باطلہ کا رد کرتے ہوئے پروردگار نے گزشتہ آیات میں ان کی بےعقلی اور جہالت کو بھی نمایاں کیا ہے اور ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کا اگر ایک طرف جواب دینا ممکن نہیں تو دوسری طرف یہ مانے بغیر چارا نہیں کہ مشرکین نہ صرف اعتقادات کے فساد کا شکار ہیں بلکہ جہالت اور تعصب نے ان کی عقلوں کو بھی مائوف کرکے رکھ دیا ہے۔ جن قوتوں کو انھوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ان کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کائنات کی تخلیق اور مخلوقات کی ہدایت کے عمل میں کسی حد تک بھی شریک نہیں۔ وہ جس طرح قوت وقدرت سے تہی دامن ہیں اسی طرح ہدایت کے علم سے بالکل کورے ہیں۔ وہ بالکل نہیں جانتے کہ ہر مخلوق کے لیے اسبابِ معیشت کیا ہیں، معیشت کا راستہ کیا ہے۔ ان کی زندگی کے طبعی اور جبلی مقاصد کیا ہیں اور ان کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے۔ انسان کائنات کا گل سرسبد ہے۔ اس کی حقیقت کو جاننا اور اس کے لیے زندگی کے اسباب فراہم کرنا اور مقاصدِ زندگی متعین کرنا تو بجائے ایک خود لاینحل مسئلہ ہے۔ جو قوتیں باقی مخلوقات کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں وہ انسانوں کی رہنمائی کا فرض کیسے انجام دے سکتی ہیں، لیکن انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ عرب کے جاہلوں نے ایسی ہی قوتوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا۔ پھر اس پر مزید ستم یہ ہے کہ انسان کی معنوی اور روحانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور کی طرح اس دور میں بھی اپنا آخری رسول اور اپنی آخری کتاب نازل فرمائی ہے جس میں قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی رہنمائی مہیا کی گئی ہے لیکن ان جاہلوں کا حال یہ ہے کہ یہ مسلسل اپنی جہالت اور حماقت میں اضافے کا ثبوت دیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کررہے ہیں اور اس پر مزید ستم یہ ہے کہ ایک طرف قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کی اہمیت اور عظمت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ اس کی فصاحت و بلاغت کے سامنے گنگ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کی حیرت انگیز تاثیر ان کو مبہوت کرکے رکھ دیتی ہے۔ اس میں بیان کردہ ایک مربوط نظام زندگی ان کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ اس میں بیان کی جانے والی پیشگوئیاں انھیں ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں، لیکن ان کا تعصب اور ان کی جہالت اور ان کا فکری جمود اور ان کے آبائواجداد کی تقلید کا نہ ٹوٹنے والا طلسم انھیں قرآن کریم کو تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے کبھی وہ اسے شعر قرار دیتے ہیں، کبھی جادو کہتے ہیں، کبھی اسے کہانت کا نام دیتے ہیں۔ ان کی حالت دیکھ کر ان کی اندرونی کشمکش کا اندازہ کرنا مشکل نہیں رہتا۔ وہ ایک دورا ہے پر کھڑے ہیں، اقرار کرتے ہیں تو ان کے تئیں صدیوں کا سرمایہ لٹ جاتا ہے اور انکار کرتے ہیں تو کوئی معقول جواب بن نہیں پڑتا۔ اس لیے وہ بلادلیل ایک ہی بات دوہراتے چلے جارہے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں، اللہ کا کلام نہیں، اسے خود گھڑ لیا گیا ہے، پھر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ضمیر اس پر ملامت کرتا ہے کہ محمد ﷺ تمہیں میں پلے بڑھے اور جوان ہوئے اور اب ان کی عمر ڈھلنے لگی ہے۔ وہ وہی زبان بولتے ہیں جو تم بولتے ہو، ان کے پاس سیکھنے کے وہی ذرائع ہیں جو تمہارے پاس ہیں۔ ماحول نے ان کو وہی کچھ دیا ہے جو تمہیں دیا ہے۔ انھوں نے اگر تجارت کی ہے تو تم میں تاجروں کی کیا کمی ہے۔ انھوں نے اگر ایک دو بیرونی سفر کیے ہیں تو تم ان سے بہت زیادہ کرچکے ہو۔ اس کے باوجود جو قرآن وہ پیش کررہے ہیں اس کا ایک ایک لفظ، ایک ایک بات، ایک ایک مضمون، ایک ایک پیش گوئی، ایک ایک حقیقت اپنے اندر ایک ایسی معجزانہ شان رکھتی ہے کہ تم خود اس کی عظمت کا انکار نہیں کرسکتے۔ خود سوچو کہ تم سب مل کر جس کتاب کا مقابلہ کرنا تو دور کی بات ہے اس کی ابجد تک سے واقف نہیں ہو تو آخر اس ماحول میں پروان چڑھنے والی ایک ذات عزیز نے اسے کیسے لکھ لیا۔ اس پر لاجواب ہو کر وہ یہ کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کوئی لکھ کردیتا ہے۔ لیکن ان سے اس بات کا جواب بن نہیں پڑتا تھا کہ آخر اس مکہ میں ایسا پڑھا لکھا آدمی کون ہے جو ایسی حیرت انگیز باتیں کہتا ہے جس سے تمام روئے زمین والے بھی بیخبر ہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے اس آیت کے آغاز ہی میں فرمایا کہ یہ قرآن کریم کوئی ایسی کتاب نہیں جسے اللہ سے پرے پرے گھڑ لیا جائے۔ یعنی اس کی باتیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کے حقائق اللہ ہی کے عطا کردہ ہیں۔ اس کے الفاظ سے لے کر اس کی معجز بیانی تک، اس کی نصیحتوں اور پیشگوئیوں سے لے کر اس کے عطا کردہ مربوط نظام زندگی تک ایک ایک چیز اپنے منہ سے بول رہی ہے کہ اس کی مثال انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس کا رشتہ اللہ کے علم سے ہے جو ہر غلطی سے پاک ہے۔ ایسی کتاب اللہ کے علاوہ اور اس سے ہٹ کر کیسے وجود میں آسکتی ہے۔ پھر اس کی تسہیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی تین صفات بیان فرمائیں جس سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم کیوں غیرمعمولی کتاب ہے اور کیوں اس کی مثال لانا انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ اس کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ پہلی آسمانی کتابوں میں بیان کردہ پیشگوئیوں کا مصداق بن کے آئی ہے۔ یعنی اس نے اپنے الفاظ و معنی اور حکم و عبر سے ایک ایک بات کی تصدیق کردی ہے جو اس قرآن اور اس رسول کے بارے میں جس پر قرآن اترنے والا تھا پہلی آسمانی کتابوں میں بیان کی گئی تھیں۔ یہ کتاب اسی شان سے نازل ہوئی ہے جس کا ذکر تورات، انجیل اور زبور کرچکی تھیں۔ اس نے اس کتاب کی جن امتیازی خوبیوں اور غیرمعمولی صداقتوں اور اس میں بیان کردہ انقلاب کی کامیابیوں کا جیسے جیسے ذکر کیا تھا یہ کتاب ان میں سے ایک ایک بات کا مصداق بن کر آئی ہے۔ اسی طرح جس رسول پر یہ کتاب نازل ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ پہلی کتابوں نے کہا یعنی اس کا نام بتایا گیا، اس کے وطن کی خبر دی گئی، اس کی قوم کے سلوک کا ذکر کیا گیا، اس کی ہجرت کے احوال بیان کیے گئے، دارالہجرت کی علامات بیان کی گئیں، اس کی فتح و کامرانی کی تفصیلات نمایاں کی گئیں، اس کے بعض معجزات کا ذکر کیا گیا، اس کی شریعت کی بعض صفات کو بیان کیا گیا اور پھر ایک کامیاب انقلاب کے بعددشمنوں سے آپ کے سلوک کا ذکر فرمایا گیا۔ اسی طرح اس کی اس صفت کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ الکتاب کی تفصیل بن کر آئے گی۔ الکتاب سے مراد ” تورات “ ہے کیونکہ حقیقت میں تورات ہی کتاب کہلانے کی مستحق ہے باقی کتابیں اس کے اجزاء معلوم ہوتی ہیں۔ تورات نے جن احکام کو مجمل بیان کیا تھا اس کتاب نے ان کی تفصیل بیان فرمائی۔ اس نے جن پیشگوئیوں کا ذکر کیا تھا اس کتاب نے ان پیشگوئیوں کو کھول کر بیان کیا۔ قرآن کریم سے پہلے آنے والی تمام کتابیں ایک ایسی شریعت اور دین لے کر آئی تھی جس کی تکمیل ابھی ہونے والی تھی۔ قرآن کریم نے اس دین کو تکمیل تک پہنچایا، اس نعمت کو اتمام کیا اور اس انقلاب کو دنیا کے سامنے ایک ایسی قوت کے ساتھ پیش فرمایا جس کا جواب دینا دنیا کے لیے ممکن نہ رہا۔ بنیادی اعتقادات، توحید و رسالت اور آخرت ان تمام کے مجملات کو کھولا۔ ان میں رعائتوں کو واپس لے کر مکمل شان عطا فرمائی۔ تیسری صفت یہ بیان کی گئی کہ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ کیونکہ کتاب کا نزول لوگوں کے سامنے ہوتا رہا۔ کاتبانِ وحی جانے پہچانے لوگ رہے۔ جہری نمازوں میں روزانہ بلند آواز سے تلاوت ہوتی رہی اور نماز میں شرکت کرنے والے سنتے رہے اور اس میں پیش کردہ پیشگوئیاں لوگ اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھتے رہے۔ اس کی ایک ایک حقیقت لوگوں کے سامنے جلوہ فرما ہوتی رہی۔ اللہ کی طرف سے اس کے نزول کی جتنی شہادتیں ممکن ہوسکتی تھیں وہ ایک ایک کرکے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ اس کے بعد آخر کیا شبہ رہ سکتا ہے کہ وہ لاریب اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب ہے۔
Ayah 10:38اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہ ط قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (یونس : 38)
(کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو اس نے گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہئے تم اس کی مانند کوئی سورت لائو اور بلالو اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکو، اگر تم سچے ہو۔ )
قرآن کریم کا چیلنج
گزشتہ آیت کریمہ میں جیسا کہ ہم نے عرض کیا پروردگار نے قرآن کریم کی تین صفات بیان فرمائی ہیں۔
1 وہ پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس کا مصداق بن کر آئی ہے۔ یعنی پہلی آسمانی کتابوں نے آنحضرت ﷺ کی جتنی علامتیں بیان فرمائی ہیں اور قرآن کریم کی جتنی صفات بیان کی ہیں ان سے اہل کتاب خوب واقف ہیں۔ وہ ان صفات اور علامات کو اپنے سامنے رکھیں اور پھر آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور قرآن کریم سے ایک ایک علامت اور ایک ایک صفت کا تقابل کرکے دیکھ لیں۔ انھیں ان دونوں میں کہیں سرمو فرق محسوس نہیں ہوگا۔
2 قرآن کریم تورات کی تفصیل ہے۔ قرآن کریم میں بیان کردہ عقائد، اخلاق، اعمال، گزشتہ امتوں کے حالات، آنے والے دنوں کے بارے میں پیشگوئیاں ان میں سے ایک ایک چیز کی قرآن کریم تفصیل بیان کرتا ہے۔ پہلی امتوں کو ان کی ذہنی حالت اور ان کے معاشروں کی سماجی ضرورت کے مطابق جو عقائد اور احکام دیئے گئے اس میں ان کی ذہنی اور سماجی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اتمام اور تکمیل سے گریز فرمایا گیا، لیکن نبی آخرالزمان ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب چونکہ انسان کی بلوغتِ فکر کے بعد نازل ہوئی ہے اس لیے اس میں عقائد کی بھی تکمیل کی گئی اور احکام میں بھی اتمامی شان پیدا کرنے کے لیے پوری تفصیل سے کام لیا گیا۔
3 قرآن کریم کو اس شان سے نازل کیا گیا اور اس کے الفاظ و معنی اور اس کے احکام و آداب کو اس اعجاز کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ ان تین صفات کو بیان کرنے کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں تعجب کے انداز میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایسی جامع الصفات اور اعجاز نما کتاب کے بارے میں کیا اب بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ اسے محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ یہ بات اس قدر لغو، بےسروپا اور خلاف عقل ہے کہ اس کا جواب دینا حماقت سے کم نہیں۔ اس لیے ایسے آدمی یا ایسے لوگوں کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی دلیل تمہارے ذہن میں نہیں اترتی اور کوئی معقولیت تمہیں اپیل نہیں کرتی تو پھر تم اس کتاب کی مانند کوئی ایک سورت بنا کے لے آئو جو کم از کم متذکرہ بالا تین صفات سے متصف ہو اور ہم تم میں سے کسی ایک کو اس کا مکلف نہیں ٹھہراتے کہ وہ تنہا اس کام کو کرے بلکہ ہم تمہیں دعوت دیتے ہیں کہ تم جن جن لوگوں کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہو، بلا لو۔ تم نے آج تک جن کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے اور جن سے تم مرادیں مانگتے ہو اور جن کی شفاعت پر اعتماد کی وجہ سے تمہیں اللہ کے دین کی طرف آنا گوارہ نہیں بلکہ اسی اعتماد کے باعث تم آخرت کو بھی خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہو۔ ایک طرف یہ کام تمہارے لیے نہایت سہل ہونا چاہیے کیونکہ اگر بقول تمہارے اس قرآن کریم کو محمد ﷺ نے خود لکھ لیا ہے تو وہ بھی تمہاری طرح ایک عرب ہیں، قریشی ہیں، مکہ کے رہنے والے ہیں، تمہاری طرح انھیں بھی کہیں حصول علم کے مواقع میسر نہیں آئے۔ ماحول نے تمہیں بھی اور انھیں بھی ایک جیسا معلومات کا خزانہ بہم پہنچایا ہے۔ اگر وہ تنہا ایسی حیرت انگیز کتاب لکھ سکتے ہیں تو تم ہزاروں مل کر اور پھر تمام غیبی قوتوں کو ساتھ ملا کر ایسی کتاب نہیں اس جیسی ایک سورت بنانے سے کیسے عاجز رہ سکتے ہو اور دوسری یہ بات کہ قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی تنقید نے تمہیں ایک دو را ہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ تمہارے پاس ان کے دلائل کا کوئی جواب نہیں۔ لے دے کے یہ ایک دلیل ہے جسے تم الزام کے طور پر استعمال کرتے ہو اور اسی پر تمہارے تمام تر انکار اور کفر کی عمارت کھڑی ہے اور اللہ کے علاوہ جن جن کو تم نے خدائی کے منصب پر فائز کر رکھا ہے ان کی خدائیاں بھی اسی پر قائم ہیں۔ تم اپنے موروثی دین کو سچا ثابت کرنے کے لیے زندگی کا ہر دکھ اٹھانے کے لیے تیار ہو جبکہ یہ بات ایسی ہے جس میں نہ تمہارے لیے کوئی خطرہ ہے اور نہ کوئی نقصان۔ ایک سورت تین جملوں سے تشکیل پا جاتی ہے۔ جیسے سورة الکوثر۔ تو تین جملے فصیح عربی میں ڈھال لینا اور قرآنی خصوصیات کا حامل بنادینا تمہارے لیے کیا مشکل ہے۔ لیکن اگر تم ایسا نہ کرسکو تو پھر اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ تم اس بات میں سچے نہیں ہو کہ اس کتاب کو محمد ﷺ نے خود لکھا ہے اور یہ انسانی کاوشوں سے وجود میں آئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک ایسی قوم جس نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو اپنے لیے ایک چیلنج سمجھ لیا ہے اور وہ اس کے لیے ہر انتہا تک جانے کا فیصلہ کرچکی ہے اور اس کے لیے اس نے متعدد دفعہ نہایت خطرناک جنگوں کو بھی دعوت دی ہے لیکن جب اسے کہا جاتا ہے کہ تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ یہ قرآن منزل من اللہ نہیں تو تم اس جیسی کتاب نہیں ایک سورت ہی بنا لائو لیکن تم اس کی بھی ہمت نہیں کرتے۔ آخر اس کا سبب کیا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں قرآن کریم نے اس کا جواب دیا ہے۔
Ayah 10:39بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِھِمْ تَاوِیْلُہٗ ط کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (یونس : 39)
(بلکہ یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں اس چیز کو جو ان کے علم کے احاطے میں نہیں آئی اور ابھی تک اس کی حقیقت ان کے سامنے ظاہر نہیں ہوئی۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ پس دیکھئے کیسا ہوا انجام ظالموں کا۔ )
انکار کا اصل سبب
اس آیت کریمہ میں ان کے انکار کا سبب بیان فرمایا گیا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے جو بات مترشح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب ان سے یہ فرماتے ہیں کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بنی ہو کے آیا ہوں اور اللہ نے اپنا کلام مجھ پر قرآن کریم کی شکل میں اتارا ہے اور فرشتہ میرے دل پر قرآن کریم لے کر اترتا ہے اور مزید یہ بات کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ تنہا تمام کائنات کا خالق ومالک بھی ہے اور مدبر بھی۔ کائنات کا پورا نظام اس کے ہاتھ میں ہے وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ کارکنان قضاء و قدر اس کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ زندگی اور موت اسی کے قبضے میں ہے۔ جس طرح تم ایک دن موت کا شکار ہوجاؤ گے اسی طرح کائنات پر بھی ایک دن موت طاری ہوگی۔ پھر ایک طویل عرصہ کے بعد سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور انھیں ایک میدان میں لے جایا جائے گا جہاں اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی۔ وہاں انھیں زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں جنت یا جہنم سے واسطہ پڑے گا۔ اسی طرح وہ تمام امور جن کا تعلق عالم غیب سے ہے، وہ تمام اخلاقی مسلمات جو قوموں کے عروج وزوال میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ایسے ہی اور امور جب ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں تو چونکہ یہ باتیں ان کے علم سے ماورا، ان کی ذہنی سطح سے بلند اور ان کی قوت ادراک سے باہر ہیں تو وہ انھیں ماننے سے انکار کردیتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ ہمیں یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں، یہ تم کیسی خلاف عقل باتیں کرتے ہو۔ اس طرح سے ان کا انکار جب آہستہ آہستہ مخالفت اور مقاومت سے ہوتے ہوئے شقاوت تک جا پہنچا تو پھر ترغیب نے ترہیب کی صورت اختیار کرلی اور آنحضرت ﷺ نے انھیں انذار کرتے ہوئے فرمایا : کہ اگر تم نے حق سے انحراف اور اللہ کے رسول کی مخالفت کا رویہ ترک نہ کیا تو تم پر بھی پہلی قوموں کی طرح اللہ کا عذاب آسکتا ہے اور اگر کچھ لوگ اس عذاب آنے سے پہلے موت کا شکار ہوجائیں گے تو قیامت کے عذاب سے بہرحال انھیں واسطہ پڑے گا۔ یہ بات چونکہ ان کے ہر چھوٹے بڑے پر گراں گزرتی ہے اور ان کا طبقہ امراء بطور خاص اسے اپنے لیے چیلنج سمجھتا ہے تو وہ بار بار نبی کریم ﷺ سے الجھتا ہے کہ تم جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو، آخر وہ ہم پر آکیوں نہیں جاتا۔ ہم نے تمہاری مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ آخر وہ عذاب ہم پر وارد کیوں نہیں ہوجاتا اور جہاں تک قیامت کے عذاب کا تعلق ہے وہ تو ہمارے لیے اس لیے قابل قبول نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قیامت کبھی نہیں آئے گی اور یہ کائنات اسی طرح محو سفر رہے گی۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے فرمایا : کہ اللہ کے دین کو قبول کرنے میں ان کے لیے جو چیز رکاوٹ بن گئی ہے وہ یہ ہے کہ دین کی بیشتر باتیں ان کی گرفت میں نہیں آتیں۔ اللہ کی شریعت کے احکام اگرچہ عقل کے عین مطابق ہیں لیکن خود اللہ کی ذات، اس کی صفات، وحی الٰہی کی حقیقت، روح کی کارفرمائی، فرشتوں کا وجود، اخلا قی مسلمات، قوموں کے عروج وزوال کے اخلاقی اسباب، قیامت اور اس کی تفصیلات، عالم بالا اور عالم غیب کی خبریں ان میں سے کوئی چیز بھی عقل کے تابع نہیں۔ ان پر ایمان لانا اللہ کے نبی پر ایمان لانے کا نتیجہ ہے۔ اور جہاں تک تعلق ہے ان پر عذاب آنے کا اس کا دارومدار بھی اس بات پر ہے کہ پہلے اللہ کی صفات پر ایمان لایا جائے اور مزید یہ بات کہ یہ لوگ چونکہ خوگرپیکرِ محسوس بن چکے ہیں۔ یہ جب تک کسی چیز کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیتے اس وقت تک ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے عذاب کے بارے میں بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک اس کا نزول ہو نہیں جاتایا اس کا کوئی حصہ نازل نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس پر یقین کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔ لیکن یہ عقل کے پرستار اتنی بات نہیں سمجھتے کہ جب اللہ کا عذاب نازل ہوجائے گا اس کے بعد اس کے ماننے کا کیا فائدہ۔ کیونکہ عذاب کوئی ایسی چیز نہیں جسے آدمی چھو سکے یا اس سے محظوظ ہوسکے۔ وہ تو ایک تباہی ہے جس کے بعد سنبھل جانے کا کوئی موقع نہیں۔ پہلی قوموں نے بھی یہی رویہ اختیار کیا۔ انبیاء کرام نے بار بار انھیں وارننگ دی لیکن انھوں نے عذاب کی ہر دھمکی کو مذاق میں اڑا دیا۔ نتیجہ اس کا بالآخر یہ ہوا کہ وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ ان کا حوالہ دے کر فرمایا جارہا ہے کہ وہ لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں جو ان حقائق کو جاننے کی بجائے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس بات پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اللہ کے نبی دنیا میں ہدایت دینے کے لیے آتے ہیں، عذاب کے لیے نہیں آتے۔ عذاب تو ہدایت کو رد کردینے اور اللہ کے نبی کو قتل کرنے کے منصوبے باندھنے پر آتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ اپنے اعمال پر غور کریں اور ان اعمال سے توبہ کریں جو عذاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن پہلی قوموں نے بھی یہی حماقت کی اور بالآخر تباہ ہوگئیں اور مشرکینِ مکہ بھی اسی حماقت پر تلے ہوئے تھے لیکن پروردگار ایک طرف سے انھیں عذاب سے ڈراتا ہے اور دوسری طرف امم سابقہ کے انجام کا حوالہ دے کر انھیں اپنی اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔
Ayah 10:40وَمِنْھُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِہٖ وَمِنْہُمْ مَّنْ لاَّیُؤْمِنْ بِہٖ ط وَرَبُّکَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ ۔ (یونس : 40)
(اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ اور تیرا پروردگار فساد پھیلانے والوں کو خوب پہچاننے والا ہے۔ )
عذاب لانے سے متعلق اللہ کا قانون
گزشتہ آیت کریمہ پڑھنے کے بعد ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرکینِ مکہ نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ ایمان کی دھمکیاں بھی ان کے لیے تمسخر کا سامان بن کے رہ گئی تھیں۔ اس ذات گرامی کی بےادبی کرتے ہوئے انھیں کبھی تامل نہیں ہوتا تھا جس کے قدموں کی دھول بھی کائنات سے زیادہ قیمتی تھی۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی تمام بداطواریوں کے باوجودان پر عذاب نازل نہیں کیا گیا۔ تاریخ یہ بھی جانتی ہے کہ مشرکینِ مکہ نے نبی کریم ﷺ کے قتل کے نہ صرف منصوبے باندھے بلکہ اسے عمل کی صورت دینے میں بھی کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ہجرت کی رات آپ ﷺ کے گھر کا گھیرائو ہوچکا تھا۔ اگر اللہ کو منظور نہ ہوتا تو بظاہر آپ ﷺ کے بچ نکلنے کے اسباب صفر کے درجے میں تھے۔ غارِ ثور تک آپ ﷺ کا کھوج لگایا گیا اور مکہ سے میلوں باہر تک آپ ﷺ کا تعاقب کیا گیا۔ مکہ کے اندر بھی بارہا آپ کی جان لینے کی کوشش کی گئی۔ ان کی ایک ایک بات ان کی جان کو مباح کردینے کے لیے کافی تھی۔ لیکن پروردگار نے ان سے رحمت کا سلوک فرمایا اور ان کے مستحق ہونے کے باوجود ان پر عذاب نازل نہیں فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں اس کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے جس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کے بارے میں اللہ کا قانون کیا ہے۔ وجہ یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ مکہ معظمہ میں اگرچہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو بےحد ستایا گیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے کا سلسلہ یکسر مسدود کبھی نہیں ہوا۔ اس کی رفتار کبھی مدھم رہی، کبھی تیز اور کبھی نہ ہونے کے برابر، لیکن مکمل انقطاع کبھی نہ ہوسکا اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ جس قوم کی طرف اللہ کا رسول مبعوث ہوتا ہے اگر وہ قوم مکمل طور پر ایمان لانے سے انکار کردے اور اللہ کے نبی کے قتل کے درپے ہوجائے تو تب اس پر عذاب آجاتا ہے۔ مشرکینِ مکہ نے آپ ﷺ کے قتل کے منصوبے ضرورباندھے اور ان کے بڑے بڑے لوگوں نے عام لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے بہت حد تک روکا بھی۔ لیکن اس کے باوجود دھیرے دھیرے یہ سلسلہ جاری رہا۔ نبی کریم ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد بھی اندر ہی اندر خفیہ طریقے سے یہ سلسلہ چلتا رہا۔ حتیٰ کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد 70 نوجوان ساحل سمندر پر اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے جا بیٹھے اور انہوں نے قریش کا ناطقہ بند کردیا۔ اس آیت کریمہ میں اسی خاموش ایمان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ان پر عذاب نہ بھیجنے کا سبب یہ ہے کہ ان میں اگر ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کسی طور بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ایسے لوگ بھی ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لاتے ہیں، چاہے خفیہ طریقے سے لاتے ہیں۔ اور تیرا رب چونکہ مفسدین کو زیادہ جانتا ہے اس کے علم میں ہے کہ انھیں مفسدین میں سے مومنین نکلیں گے، جس طرح دودھ بلونے والا اس وقت تک دودھ بلوتا رہتا ہے جب تک مکھن کی آخری پھٹکی بھی نکالنے میں کامیاب نہیں ہوجاتا۔ اس طرح پروردگار بھی کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتا جب تک اس قوم کے آخری آدمی سے بھی مایوسی یقینی نہیں ہوجاتی۔
Ayah 10:41وَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ ج اَنْتُمْ بَرِْ ٓیْٔوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِیْ ٓ ئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (یونس : 41)
(اگر وہ آپ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل۔ تم بری الذمہ ہو میرے عمل سے۔ اور میں بری الذمہ ہوں تمہارے عمل سے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
یہ آیت کریمہ اپنے اندر شعلہ و شبنم کا امتزاج رکھتی ہے۔ اس آیت میں ایک طرف نبی کریم ﷺ سے براہ راست خطاب ہے اور دوسری طرف آپ ﷺ کی تکذیب کرنے والوں سے بالواسطہ خطاب ہے۔ نبی کریم ﷺ سے خطاب فرماتے ہوئے آپ ﷺ کے دردمند قلب مبارک پر رحمت کی شبنم ٹپکائی جارہی ہے۔ یعنی آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ نے ہمت سے بڑھ کر اللہ کے دین کی دعوت ان کافروں تک پہنچائی ہے۔ اس راستے میں ہر طرح کے دکھ اٹھائے، دل و دماغ پر کیسی کیسی تکلیف دہ باتوں کے زخم لگے۔ آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپ ﷺ کے فرقِ مبارک پر نعوذباللہ راکھ پھینکی گئی۔ بایں ہمہ آپ ﷺ نے دعوت الی اللہ میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ اس کے باوجود اگر انکار کرنے والے اپنے انکار پر اڑے ہوئے ہیں اور تکذیب کرنے والے اپنے رویئے پر شرمانے کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ ﷺ کو ہرگز دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ ﷺ کے سپرد جو کام کیا گیا تھا اس میں آپ ﷺ نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ رہا ان کا ہدایت قبول نہ کرنا تو اس کی جوابدہی انھیں کرنا ہوگی۔ اس لیے آپ ﷺ کو ہرگز کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔
مشرکین کو تنبیہہ
البتہ آپ ﷺ کو ان تکذیب کرنے والوں سے صاف صاف کہہ دینا چاہیے کہ تم جو میری مخالفت پر کمربستہ ہوگئے ہو اور میری ہمدردی میں ڈوبی ہوئی دعوت بھی تمہارے دلوں میں اترنے کا نام نہیں لیتی اور تم مجھے دیکھتے ہو کہ تمہارا ہدایت قبول نہ کرنا مجھے ہر درجہ مغموم کردیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تمہارے ہدایت قبول نہ کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ تمہارے اعمال کی بازپرس پروردگار مجھ سے نہیں فرمائے گا اور میرے اعمال کی جوابدہی تمہیں کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ تم اپنے اعمال کے جوابدہ ہو اور میں اپنے اعمال کا جوابدہ ہوں۔ بظاہر ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جو تسلی دی جارہی ہے، شاید یہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی کا کوئی پہلو نہیں۔ اس کا مضمون تو پہلے جملے میں مکمل ہوگیا۔ اس میں درحقیقت کافروں سے ایک ایسی بات کہی جارہی ہے جو شعلہ سے بھی بڑھ کر بھسم کردینے والی ہے اور یہ بات ہمیشہ قوموں کے لیے عذاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہے۔ اسے قرآن کریم کی زبان میں بر اءت کہا جاتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کو جب اپنی قوم کو سمجھاتے ہوئے ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے اور قوم اس کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی بلکہ ان کے انکار کی شدت اور اذیت رسانی میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے تو پھر ایک وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے قوم کے لیے آخری تنبیہات شروع ہوجاتی ہیں اور اگر اس پر بھی قوم کان نہیں دھرتی تو پھر عموماً اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ یہاں بھی ایسی ہی تنبیہ کی جارہی ہے کہ میں تمہارے لیے ہدایت و رحمت کا پیغمبر بن کر آیا ہوں۔ میں جس طرح تمہارے لیے سرچشمہ ہدایت اور مینارہ نور ہوں جس سے تمہیں اپنی تاریکی روشن کرنے کے لیے روشنی میسر آسکتی ہے۔ اسی طرح میری ذات تمہارے لیے امان اور سپر بھی ہے۔ میں جب تک تمہارے اندر ہوں اور تمہیں اللہ کے دین کی طرف بلا رہا ہوں تمہارے انکار کے باوجود اللہ کا عذاب تم سے رکا ہوا ہے لیکن میری طرف سے اعلانِ براءت کے بعد اللہ کی طرف سے عذاب کے آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب آخری وقت شاید دور نہیں۔ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ہجرت کا حکم دے سکتے ہیں۔ چناچہ اس کا قانون یہ ہے کہ جب اس کا پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے اپنے دعوتی مستقر اور امت دعوت کو چھوڑ کر کسی نئی بستی اور نئی سرزمین کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں تو پھر عموماً اللہ کی طرف سے عذاب آجاتا ہے۔ جیسے کہ مہذب قوموں کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے۔ یہاں بھی اسی آخری حادثے کی طرف توجہ دلا کر کافر قوم کو اپنا رویہ بدلنے پر آمادہ کیا جارہا ہے۔
Ayahs 10:42–43وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ ط اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْکَانُوْا لاَ یَعْقِلُوْن۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّنْظُرُاِلَیْکَ ط اَفَاَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَوْکَانُوْا لاَ یُبْصِرُوْنَ ۔
(یونس : 42۔ 43)
(ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ ﷺ کی بات کان لگا کر سنتے ہیں تو کیا آپ ﷺ بہروں کو سنائیں گے، خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں۔ اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپ ﷺ کی طرف دیکھتے ہیں تو کیا آپ ﷺ اندھوں کو راہ دکھائیں گے، خواہ وہ کچھ نہ دیکھتے ہوں۔ )
دو مفہوم
ان دونوں آیتوں کے مفسرین کرام نے دو مختلف مفہوم بیان کیے ہیں اور آیات کے الفاظ میں دونوں کے لیے گنجائش ہے۔ پہلا مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں دو قسم کے انسانوں کا تذکرہ ہے اور اس سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا بھی ہے اور اللہ کی سنت کا ذکر کرنا بھی۔ وضاحت اس کی یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ مشرکینِ مکہ کے تیزی سے اسلام قبول نہ کرنے بلکہ ہر طرح کی مخالفت پر تل جانے سے آپ ﷺ کو دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ ﷺ دیکھ رہے ہیں کہ اہل مکہ نے مکمل طور سے آپ ﷺ کی دعوت کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ ان میں ایک معقول تعداد ایمان لانے والوں کی بھی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی طبیعت میں نیکی کا میلان اور سلامتیِ فکر دوسروں کی نسبت زیادہ تھی۔ ان کے دل و دماغ کی زمین ایسی بنجر نہیں ہوئی تھی کہ اس میں ہدایت و نصیحت کا کوئی پودا جڑ نہ پکڑ سکتا۔ چناچہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق کسی نے جلدی اور کسی نے دیر سے اسلام کی دعوت کو قبول کرلیا۔ رہے معاندین اور مخالفین تو ان کے بارے میں آپ ﷺ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قبولیتِ حق کی استعداد ان کے اندر مرچکی ہے۔ وہ بظاہر سنتے ہیں لیکن سماع قبول سے محروم ہیں۔ حواس کے بعد عقل کا مقام ہے جو کسی چیز کے قبول یا عدم قبول کا فیصلہ کرتی ہے لیکن جس شخص کے حواس عقل کے سپرد معلومات کرنے سے عاجز ہوجاتیں اور یا وہ معلومات سپرد کرنے میں قدم قدم پر غلطی کریں تو ان کی عقل بھی بیکار ہو کے رہ جاتی ہے۔ ان لوگوں کا حال ایسا ہی ہے کہ وہ سماعت سے اس طرح محروم ہوئے ہیں کہ ان کی عقل نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔
اسی طرح ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو قوت سماعت کے ساتھ ساتھ بصیرت و بصارت سے بھی بہرہ مند ہیں۔ چناچہ یہی وہ لوگ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لا چکے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو بصارت سے بھی محروم ہیں اور بصیرت سے بھی۔ تو آپ ﷺ ایسے اندھے لوگوں کو کس طرح ہدایت کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ حقیقی سماعت اور حقیقی بصیرت رکھتے تھے وہ آپ ﷺ پر ایمان لانے سے دور نہیں رہے، اللہ نے ان کو ایمان کی دولت دی اور آج وہ آپ ﷺ کے دائیں بائیں اسلام کی خدمت بجالا رہے ہیں اور یہ بات آپ ﷺ کے اطمینان کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ رہے وہ لوگ جو سماع قبول سے بھی محروم ہیں اور دل کی بصیرت سے بھی۔ وہ بیشک آنکھیں رکھتے ہیں لیکن ان کے دل کا نور بجھ چکا ہے۔ تو وہ اگر ایمان نہیں لاتے تو ان کا ایمان نہ لانا اللہ کے قانون کا عین تقاضا ہے۔ اور ایسے لوگوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ ہدایت کا راستہ اختیار کریں گے یہ تو اس دیئے سے روشنی کی امید رکھنے کے برابر ہے جس کا تیل ختم ہوچکا ہو۔
دوسرا مفہوم ان آیات کا بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان نہ لانے والوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ ﷺ کی مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں اور جب آپ ﷺ کوئی بات فرماتے ہیں تو وہ آگے بڑھ بڑھ کر بڑی توجہ سے اسے سنتے ہیں اور جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے ہیں تو آپ ﷺ کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہیں۔ ان کی ان حرکتوں سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ سن بھی رہے ہیں اور غور و فکر بھی کررہے ہیں حالانکہ وہ سماع قبول سے بھی محروم ہیں اور بصیرت سے بھی عاری ہیں چونکہ وہ ان دونوں صلاحیتوں سے محروم ہوچکے ہیں اس لیے ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرکے ایمان لے آئیں گے کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ ان لوگوں کے اس رویئے سے آپ ﷺ کو دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ لوگ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اللہ کے قانون کی گرفت میں آچکے ہیں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں پروردگار نے اپنا وہ قانون بیان فرمایا ہے۔
Ayah 10:44اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَظْلِمُ النَّاسَ شْیْائً وَّلٰـکِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (یونس : 44)
(یقیناً اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، لیکن لوگ ہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کا قانونِ ہدایت
اللہ کا قانون یہ ہے (جس کا پہلے بھی تذکرہ ہوچکا ہے) کہ وہ نہ زبردستی کسی کو راہ راست پر چلاتا ہے اور نہ زبردستی کسی کو گمراہ کرتا ہے۔ اس نے انسان کو معمولاتِ زندگی کی ادائیگی کے لیے حواس عطا فرمائے اور صحیح اور غلط اور اچھائی اور برائی میں امتیاز کے لیے عقل کا جوہر عطا فرمایا۔ اور اچھائی اور برائی کے معاملے میں جن چیزوں کا تعلق عقل سے ماورا حقائق کے ساتھ تھا ان میں وحی الٰہی کی رہنمائی عطا فرمائی، پیغمبر معبوث فرمائے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ اور اللہ کے پیغمبروں کو باطنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایسی ظاہری خوبیوں سے بھی نوازا اور اللہ سے تعلق کی گہرائی کے ساتھ ساتھ بندوں سے تعلقات میں بھی ایسی حیرت انگیز نظافتِ فکر طہارتِ عمل، ایثارِ طبیعت اور قناعت و کفایت سے بہرہ مند فرمایا جنھیں دیکھ اور سمجھ کر عقل بڑی آسانی سے فیصلہ کرسکتی ہے کہ رسالت کا دعویٰ کرنے والا اپنے دعویٰ میں کہاں تک سچا ہے کیونکہ انسان میں جس طرح معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے اسی طرح انسانوں کو برکھنے کی بھی ذہانت اور بصیرت موجود ہے۔ چناچہ ان بنیادی صلاحیتوں کے عطا کرنے کے بعد اسے آزاد چھوڑ دیا گیا کہ حق کو اختیار کرو یا باطل کو۔ خیر کے راستے پر چلو یا شر کے راستے پر۔ اس دنیا میں تم پر کسی طرح کا جبر نہیں کیا جائے گا بلکہ جو راستہ بھی اختیار کرو گے ہم اس کے لیے آسانیاں مہیا کرتے رہیں گے۔ چناچہ جو آدمی حق کا راستہ اختیار کرتا ہے اور اللہ سے توفیق کا طالب ہوتا ہے تو اللہ کی توفیق اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔ وہ جیسے جیسے نیکی کی طرف بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ اس کے لیے راستہ کھولتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اسے منزل مقصود پر پہنچا دیتی ہے۔ اسی طرح جو شخص باطل کے راستے پر چلنا چاہتا ہے تو اللہ کے نبی اور ان کے پیروکار اہل حق اپنی تبلیغ و دعوت سے ہرچند انھیں راہ راست کی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس پر کسی طرح کی زبردستی نہیں کرتا۔ اگر وہ سب کی اصلاحی کوششوں کو رد کرکے باطل ہی کے راستے پر بڑھنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پروردگار اس پر ایک شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کے لیے باطل کے راستوں پر رہنمائی دیتا ہے اور ہر غلط راستے اور ہر بری جگہ پر اسے کھینچے لیے پھرتا ہے اور اس وقت تک اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا جب تک اس کی عاقبت پوری طرح تباہ نہیں کردیتا۔
یہ ہے وہ اللہ کا قانون جس سے انسانوں کو واسطہ پڑتا ہے۔ نیک لوگوں کو بھی اور برے لوگوں کو بھی۔ لیکن جب آدمی یہ دیکھتا ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے، تو اسے یہ غلط فہمی ہونے لگتی ہے کہ خود ہی گمراہ کرنا اور پھر اس پر سزا دینا اور آخرت میں جہنم رسید کردینا یہ تو بہت بڑا ظلم ہے۔ لیکن اگر پیش نظر اللہ کا یہ قانون رہے کہ اس نے راہ ِ راست اختیار کرنے کے لیے اپنے بندوں کو عقل سے بھی نوازا اور وحی الٰہی سے بھی۔ لیکن جو شخص ان قوتوں سے کام لینے کی بجائے نفس کی پیروی اور شیطان کے اتباع پر اصرار کرتا ہے تو پھر ظلم یہ نہیں کہ اسے گمراہ ہونے کے لیے کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے یہ تو اس کے فیصلے کا عین تقاضا ہے۔ البتہ جب اس کے فیصلے اور اس کی مرضی کے خلاف اسے نیکی کے راستے پر چلنے کے لیے مجبور کیا جاتا تو یہ یقیناً اس پر ظلم ہوتا اور اللہ اپنے بندوں پر چونکہ ظالم نہیں اس لیے نہ وہ نیکی کے لیے جبر کرتا ہے اور نہ وہ برائی کے لیے مجبور کرتا ہے۔ انسان کے سامنے دونوں راستے کھلے ہیں۔ وہ جس کو چاہے اختیار کرے۔ کارکنانِ قضاء و قدر اس کے لیے ویسے ہی آسانیاں مہیا کرتے چلے جائیں گے۔