Ayah 10:93وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیٓ اِسْرَآئِ یْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰـہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ج فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰی جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ ط اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔
(یونس : 93)
(اور ہم نے ٹھکانہ دیا بنی اسرائیل کو عزت کا ٹھکانہ اور انھیں پاکیزہ نعمتوں کا رزق بخشا پس انھوں نے اختلاف برپا نہیں کیا مگر اس وقت جب ان کے پاس علم آگیا بیشک تیرا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا قیامت کے دن ان چیزوں کے باب میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ )
بنی اسرائیل پر اللہ کا انعام اور ان کی ناشکری
اس سے پہلے ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ فرعون اور آل فرعون اور موسیٰ اور ہا رون (علیہما السلام) اور بنی اسرائیل کے درمیان برپا حق و باطل کی آویزش کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور آل فرعون کو غرق کردیا فرعون کی فوج غرق آب ہو کر ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئی البتہ فرعون کے جسم کو مزید رسوائی اور لوگوں کے لیے عبرت کے طور پر سمندر کے پانی نے باہر اگل دیا اس کی قوم کے لوگ جو غم واندوہ کی تصویر بنے ساحل سمندر پر گھوم رہے ہوں گے کہ شاید کسی لاش کا سراغ ملے انھوں نے اس کے مردہ جسم کو اٹھایا اور مختلف مرحلوں کے بعد معمول کے مطابق اس کی لاش کو مومیا کر شاہی قبرستان میں دفن کردیا گیا اللہ کی شان دیکھئے آج وہی فرعون جو کبھی اپنے آپ کو مصر کا ربِ اعلیٰ کہتا تھا عبرت کی مکروہ تصویر بنے قاہرہ کے عجائب گھر میں پڑا ہے۔ اور پوری دنیا اس کی بےبسی کو دیکھ رہی ہے لیکن تاریخ کا دوسرا باب یہ ہے جسے قرآن کی اس آیت میں الٹا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل جنھیں مدت دراز سے فرعون اور آل فرعون نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور ذلت اور حقارت کا کوئی ایسا طریقہ نہ تھا جو ان پر آزمایا نہ جارہا تھا ان کے بیٹوں کو قتل اور بیٹیوں کو زندہ رکھ کر ان کی بےغیرتی کا سامان کیا گیا تھا اور دنیا کا کوئی مؤرخ بھی یہ پیش گوئی کرنے سے عاجز تھا کہ کبھی فرعون اور آل فرعون اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچیں گے اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ غیر معمولی عزت واحترام کے ساتھ صحرائے سینا میں پہنچا دے گا۔ اور انھیں صاف صاف بتادیا جائے گا کہ ہم نے تمہارے لیے عزت کا ٹھکانہ تیار کر رکھا ہے یعنی اردن اور فلسطین کی سرزمین تمہارے لیے لکھ دی گئی ہے البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تم صحرائے سینا میں رہ کر اپنی وہ قومی کمزوریاں دور کرنے کی کوشش کرو جو غلامی کی تاریک رات نے تمہارے اندر پیدا کر رکھی ہیں تم ایک زندہ قوم کے اوصاف سے بری طرح محروم ہوچکے ہو۔ اولوا العزمی، اندازِ آفاقی، جذبہء یقین اور اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر و استقامت اور جان نثاری جیسی صفات جو زندہ قوموں کی علامات ہوتی ہیں تم ان سے کلیتاً بےبہرہ ہو۔ مستقبل میں تم سے جو توقعات وابستہ ہیں انھیں بروئے کار لانے کے لیے یہی صلاحیتیں تمہارا اصل اثاثہ ہوں گی اس لیے ضروری ہے کہ تمہیں اس صحرائی اور کہستانی زندگی کی صعوبتوں میں مبتلا رکھ کر تمہارے اندر سخت کوشی پیدا کی جائے۔
یہ بات بہت آسان تھی کہ تمہیں دوبارہ مصر میں بھیج دیا جاتاتم وہاں فرعون کے تخت وتاج کے وارث ٹھہرتے اور زندگی کی آسائشیں تمہارے قدموں میں ہوتیں لیکن قدرت تم سے جو کام لینا چاہتی ہے اس کے لیے جس سخت کوشی عزائم کی بلندی اور صبر و استقامت ضروری ہے وہ تمہیں مصر میں کبھی میسر نہ آسکتی۔ وہاں آل فرعون کے بچے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہ کر تمہاری وہی حالت ہوتی جو اس مریض کی ہوسکتی ہے جس کی صحت کی امید کی جارہی ہو لیکن اچانک اسے ان لوگوں میں بھیج دیا جائے جو وبائی امراض کا شکار ہوں اور جن کی بیماریوں نے پورے ماحول کو متعفن کر رکھا ہو اس لیے قدرت نے بنی اسرائیل کو دوبارہ مصر جانے کی اجازت نہیں دی بلکہ انھیں اس انتظار میں رکھا کہ وہ خود اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور بنی اسرائیل کے مبلغین ان کی بہتری کے لیے کوشاں رہیں چناچہ جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں برپا کیے جانے والا انقلاب اردن اور فلسطین میں اپنے پاؤں جما لے گا تو مصر بھی اس سے محروم نہیں رہے گا لیکن اگر آج ان کی تربیت کے لیے صحرائی اور کوہستانی زندگی سے انھیں نہ گزارا گیا تو یہ کبھی مستقبل کی تعمیر کے قابل نہ ہو سکیں گے کیونکہ
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندئہ صحرائی یا مرد کہستانی
قرآن ِکریم نے بنی اسرائیل کو دیئے جانے والے ٹھکانے کا اگرچہ نام نہیں لیا لیکن اس کے لیے جو تعریفی کلمات استعمال کیے ہیں وہ خود اس کی مراد کو واضح کرتے ہیں۔ ٹھکانے کی پہلی صفت ” صدق “ کے لفظ سے تعبیر فرمائی ہے۔ ” صدق “ کا لفظ جب بطور صفت استعمال ہوتا ہے تو اس سے سچائی، عمدگی، خوبی، خوبصورتی، استحکام، بلندمرتبت جیسی صفات مراد ہوتی ہیں۔ ایسی صفات کا حامل کوئی ملک یا شہر اگر تلاش کیا جائے تو فلسطین اور اردن کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا یہی وہ علاقہ ہے جسے قرآن کریم نے ارض مقدسہ قرار دیا ہے۔ یہی وہ علاقہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد حق و باطل کی آماجگاہ بنا رہا ہے۔ یہاں کئی نبیوں اور رسولوں کی اعلائے کلمۃ الحق کے لیے کی جانے والی کاوشوں کے نقوش زندہ ہیں۔ کتنے ہی انبیاء کرام وہاں دفن ہیں کتنے رسول ہیں جن کی روحوں کی خوشبو ابھی تک اس ماحول میں مہک رہی ہے اس لیے یہی وہ سرزمین ہے جسے بجا طور پر ” صدق “ سے یاد کیا جانا چاہیے تھا۔
بنی اسرائیل کو عطا کیے جانے والے ٹھکانے کی دوسری صفت جو قرآن ِ کریم نے استعمال کی ہے وہ ہے ” ورزقناہم من الطیبات “ ہم نے ان کو طیبات کا رزق عطا کیا یہ اس علاقے کی سرسبزی اور شادابی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اردن اور فلسطین کا علاقہ انتہائی سرسبز اور نہایت بارآور ہے۔ زمین سے نکلنے والی کوئی نعمت ایسی نہیں ہے جو وہاں پیدا نہیں ہوتی۔ قسم قسم کے پھل پیدا ہوتے ہیں، خوش رنگ پودے اور مشام جان کو معطر کرنے والے خوشبو دار پھولوں کی وہ بہتات ہے کہ اللہ کی قدرت یاد آتی ہے۔ بہار کے دنوں میں زمین مخملی لباس پہن لیتی ہے اور رنگ ونور کا سیلاب پھیلتا ہوا دکھائی دیتا ہے مصر بھی ایک سرسبز علاقہ ہے لیکن فلسطین اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ بنی اسرائیل نے ہمیشہ اسی علاقہ کی تمنا کی تھی چناچہ انہی کی آرزو کے مطابق یہ علاقہ ان کے لیے مخصوص کردیا گیا لیکن جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ اب مقصودانھیں ایک زندہ قوم میں تبدیل کرنا تھا اور مستقبل کی قیادت اور توحید کا علم ان کے ہاتھ میں دینا تھا اس کے لیے مشیت کا فیصلہ یہ ٹھہرا کہ اب معجزاتی طور پر یہ شہر ان کے حوالہ نہیں کیے جائیں گے بلکہ قوت بازو سے انھیں فتح کرنے کی کوشش کرنا ہوگی البتہ اللہ کی تائید ونصرت یقینا ان کے ہم رکاب ہوگی۔ لیکن بنی اسرائیل نے ان شہروں کے حصول کے لیے کیا کیا اور کس کس طرح صحرائے سینا کی خاک چھانی۔ اللہ کی شریعت میں کس طرح چور دروازے نکالے۔ راہ حق میں سرفروشی سے کس طرح جان چرائی اور پھر کس طرح اللہ کے عتاب کے مورد بنے۔ یہ ایک الگ داستان ہے۔
قرآن کریم چونکہ اللہ کی کتاب ہے اور اس کا نازل کرنے والا اپنے بےپایاں علم میں زمانے کی تقسیم نہیں رکھتا اس کے ہاں ماضی، حال اور مستقبل سب برابر ہیں اور روشن ہیں اس لیے وہ بعض دفعہ ایک ہی آیت میں صدیوں کی کہانی سمیٹ لیتا ہے ہمارے لیے یہ فاصلے طے کرنا ممکن ہے دشوار ہوں لیکن ایک بےپایاں بےکراں اور ازلی اور ابدی علم کے مالک کے لیے معمول کی بات ہے۔ اس لیے صدیوں کا سفر لپیٹتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ باوجود اس کے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو علم وحی سے نوازا انھیں کتاب عطا کی سالوں تک دو عظیم رسولوں کی تربیت ان کے شامل حال رہی۔ قدم قدم پر اللہ کی رہنمائی بارش کی طرح ان پر برستی رہی اور معجزات ایسے ایسے عطا کیے گئے کہ اس امت پر سب سے زیادہ نازپروردہ امت ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس امت نے اللہ کے دین میں اختلافات کے راستے نکال لیے۔ احکام میں تبدیلیاں پیدا کیں نئی نئی باتیں شریعت میں داخل کی گئیں اللہ کی کتاب کو اپنی خواہشات کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ان کی ہدایت کے لیے اللہ نے نبی اور رسول بھیجے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے میں اللہ نے ان کو وہ شان و شوکت عطا فرمائی کہ دنیا کی بیشتر حکومتیں انھیں خراج ادا کرنے پر مجبور ہوئیں۔ لیکن اس کے بعدان کا زوال تیزی سے بڑھتا چلا گیا۔ سورة بنی اسرائیل میں بتایا گیا ہے کہ یہ کس طرح بار بار اللہ کے عذاب کی گرفت میں آتے رہے کبھی اہل بابل نے انھیں پامال کیا اور کبھی رومیوں نے ان کی اجتماعی زندگی پارہ پارہ کردی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت یہود کے لیے ایک بہت بڑی رحمت تھی لیکن یہود نے انھیں اپنے لیے زحمت سمجھا اور بجائے ان کی قدر کرنے کے ان کے درپَئے آزار ہوگئے۔ اپنے تئیں انھیں صلیب تک لے گئے۔ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری ان کے لیے سنبھلنے کا آخری موقع تھا وہ اگر چاہتے تو اپنی قسمت سنوار سکتے تھے لیکن اپنے تاریخی عوارض سے وہ جان نہ چھڑا سکے اور صدیوں نے ان میں جو خصائل ِ بد پختہ کردیئے تھے ان میں سے ایک ایک کا ظہور ہونے لگا۔ قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ نے ان کی ایک ایک خیانت کو پکڑا، ان کی ایک ایک خباثت کا علاج کیا، ان کے اشتباہات کو دور کرنے اور ان کے اعتراضات کو رفع کرنے کی ہر ممکن کوشش فرمائی۔ لیکن یہ اپنی تاریخ سے ہٹ کر کوئی نیا کردار انجام دینے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ انھیں ہر ممکن طریقے سے ملی زندگی کے دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ کسی قیمت پر بدلنے کے لیے تیار نہ ہوئے تو پروردگار نے فیصلہ کن ارشاد فرمایا اے پیغمبر آپ ان کی طرف سے پریشان نہ ہوں اب ان کی قسمت کا فیصلہ اور ان کے اٹھائے ہوئے فتنوں کا فیصلہ قیامت کے دن پروردگار خود فرمائیں گے۔ لیکن اس دن کا فیصلہ ان کے کسی کام آنے کی بجائے ان کی سزاکا موجب ہوگا اور ہمیشہ کے لیے ان کی قسمت میں پتھر پڑجائیں گے۔
Ayahs 10:94–95فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمِّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَئُ وْنَ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکَ لَقَدْ جَآئَ کَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ وَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (یونس : 94، 95)
(پس اگر آپ شک میں ہیں اس چیز میں جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تو پھر ان لوگوں سے پوچھئے جو آپ سے پہلے سے کتاب پڑھتے آرہے ہیں۔ بیشک آپ کے پاس حق آگیا آپ کے رب کی طرف سے پس آپ شک کرنے والوں سے نہ ہوں اور نہ آپ ان لوگوں میں سے ہوں جنھوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی کہ آپ بھی نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں۔
اس آیت کریمہ کو سمجھنے کا دارومدار چند باتوں کو سمجھنے پر ہے۔
آیت کی تفہیم کے لیے تین باتوں کی وضاحت
1 اس آیت میں خطاب کس سے ہے۔ ؟
2 شک کا تعلق کس بات ہے۔
3 پہلے سے کتاب پڑھنے والوں سے کون مراد ہیں۔
1… اب اسی ترتیب سے ہم اس آیت کریمہ پر غور کرتے ہیں سب سے پہلے خطاب کے مسئلے کو لیجئے اس میں امکان دونوں ہی ہوسکتے ہیں کہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہو یا کسی بھی انسان سے اگر ہم اس کا مخاطب کسی بھی انسان کو قرار دیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا جو شخص بھی قرآن کریم کو اللہ کی کتاب مانتا ہے اور وہ مومن ہے تو اولاً اس کے لیے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ قرآن کریم میں نازل ہونے والی بات کے بارے میں شک وشبہ کا اظہار کرے یا دل میں کوئی شک محسوس کرے کیونکہ ایمان درحقیقت زبان کے اقرار، دل کی تصدیق اور مکمل یقین کا نام ہے۔ اور جو شخص قرآن پاک میں اترنے والی کسی بات میں شک محسوس کرتا ہے اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اس آیت میں مخاطب نبی کریم ﷺ کو بنایا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کا نبی جو کئی سالوں سے دنیا کو حق کی طرف بلا رہا ہے اور اس کے لیے ہر تکلیف برداشت کر رہا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے اوپر نازل ہونے والے احکام میں کسی شک اور تردد کا شکار ہویقینا ایسا نہیں ہوسکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خطاب تو آنحضرت ﷺ سے ہی ہے لیکن اس میں شک وشبہ کی نسبت اور اس پر جو عتاب فرمایا جا رہا ہے اس کا خطاب آپ سے نہیں بلکہ انکار کرنے والوں سے ہے۔ قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب ہے جس کی جا بجا مثالیں مل جائیں گی وہ یہ ہے کہ پروردگار جب انکار کرنے والوں یا تکذیب کرنے والوں کی روش سے انتہائی ناخوش ہوتے ہیں تو ان سے رحمت کی نظر پھیر لیتے ہیں لیکن چونکہ ابھی تک ان کی محرومی کا فیصلہ نہیں کیا ہوتا اس لیے انھیں سمجھانا بجھانا یکسر ترک بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سمجھانے بجانے کی ضرورت تقاضا کرتی ہے کہ ان سے خطاب کیا جائے اور اللہ کی ناراضگی کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں منہ نہ لگایا جائے۔ ایسی صورت حال میں پروردگار خطاب تو اپنے پیغمبر سے فرماتے ہیں لیکن عتاب کا رخ ان مکذبین کی طرف ہوتا ہے اور نتیجے کی بات بھی انھیں سے کی جارہی ہے کہ اگر تم شک اور تردد کی فضا سے نہیں نکلو گے تو حق کے ثبات میں تو کوئی فرق نہیں آئے گا البتہ تمہارا شمار نامرادوں میں ہوجائے گا۔
2… جہاں تک ماانزل اللہ میں شک کا تعلق ہے۔ اس سے مفسرین کرام نے دو مطلب مراد لیے ہیں ایک تو یہ کہ نبی کریم و پر جو اللہ کی وحی اتر رہی ہے اور قرآن کریم نازل ہو رہا ہے یہی مراد ہے۔ ظاہر ہے جو شخص بھی اس میں شبہ کرے گا تو اللہ کے دین سے اس کا کیا تعلق باقی رہ سکتا ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل کے وہ حالات ہیں جن کا تعلق فرعون اور آل فرعون سے ہے اور جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی حفاظت میں بحر قلزم سے پار پہنچایا اور فرعون اور آل فرعون کو بحر قلزم میں غرق کردیا۔ نزول قرآن کے وقت ایسے لوگ ہوں گے جو ان واقعات میں شبہات کا اظہار کرتے ہوں گے انھیں بنی اسرائیل کا معجزاتی طور پر سمندر کا عبور کرجانا قابل تسلیم نہ تھا ان سے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں اگر بنی اسرائیل کی تاریخ میں شبہ ہے کہ شاید قرآن کریم اسے صحیح صورت میں پیش نہیں کر رہاتو تم مؤرخین یہود سے پوچھو جو تاریخ سے بھی واقف ہیں اور پہلی آسمانی کتابوں سے بھی۔ تورات بجائے خود اب اللہ کی کتاب ہی نہیں بلکہ یہود کی تاریخ بھی ہے پھر تلمود مستقل اپنا ایک مقام رکھتی ہے ان کی شہادتوں کی روشنی میں بڑی آسانی سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کا بیان صحیح ہے یا غلط۔
3… پہلے سے کتاب پڑھنے والوں سے مراد یہود ہیں کیونکہ وہ اس سے پہلے تورات اور زبور کے پڑھنے والے تھے تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی اور زبور حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اور درمیان میں متعدد آسمانی صحائف نازل ہوتے رہے ان کتابوں کو پڑھنے والا آہستہ آہستہ آسمانی کتابوں کا مزاج شناس ہوجاتا ہے وہ بڑی آسانی سے پہچان جاتا ہے کہ میں جس کتاب کو پڑھ رہا ہوں وہ اللہ کی کتاب ہے یا نہیں۔ مزید برآں یہ بات بھی کہ پہلی آسمانی کتابوں میں نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک جب ان کا مصداق بن کر تشریف لائے تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے اور آپ اللہ کے رسول۔ اتنے بڑے ثبوت کے بعد بھی جو آدمی حق کے حق ہونے کے بارے میں یکسو نہیں ہوتا اور مسلسل اس میں شبہات کا اظہار کرتا ہے تو اسے اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ انتہائی نامراد شخص ہے۔
Ayah 10:96اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْہِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ وَلَوْ جَآئَ تْہُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ (یونس : 96، 97)
(بےشک جن لوگوں پر پوری ہوچکی ہے تیرے رب کی بات وہ ایمان نہیں لائیں گے خواہ ان کے پاس ساری ہی نشانیاں آجائیں جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ )
سُنتِ الٰہی
اللہ کے نبیوں کو دعوت و تبلیغ کی کٹھن ذمہ داری سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کشمکش میں جو انسانی تجربات پیش آتے ہیں ان میں اتنا تنوع ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی کی ذہنی کیفیتیں عجیب و غریب تغیرات سے دوچار رہتی ہیں وہ جس اخلاص و توانائی سے انذار وتبشیر کرتا ہے اور اپنے ایک ایک مخاطب کی باتوں کو جس حوصلہ سے سنتا ہے اور ان کے ذہنی اشتباہات کو جس دلمجمعی سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کے احساسات کو جس طرح سلجھانے کی سعی کرتا ہے اس کی وجہ سے ہر لمحہ اس کے اندر ایک نئی امید پیدا ہوتی ہے اور وہ ہر لمحہ معاشرے میں ایک نئی تبدیلی کی آرزولیے ہوئے آگے بڑھتا ہے لیکن جب قدم قدم پر اس کی آرزوؤں کا خون ہوتا ہے اور اس کی امیدیں ٹوٹتی ہیں اور جس طرح سے اس کے ارادے شکست ہوتے ہیں اس سے بعض دفعہ وہ گہری سوچ میں ڈ وب جاتا ہے اور کبھی اس پر دل گرفتگی طاری ہوتی ہے اس پر قرآن کریم کبھی مرہم رکھتا ہے کبھی شبنم بن کر برستا ہے کبھی انسانی فطرت کا در کھولتا ہے اور کبھی سنت اللہ کی خبر دیتا ہے چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں اللہ کی ایک سنت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کی ساری مخلصانہ کوششیں جس طرح سے بعض لوگوں میں ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں اور ان کے دل کے کسی گوشے سے کوئی خیر کی کرن پھوٹتی دکھائی نہیں دیتی اس کی وجہ یہ نہیں کہ آپ کی تبلیغی مساعی میں کوئی کمی ہے بلکہ اس کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے قانون کی گرفت میں آچکے ہیں۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ہر انسان کو صحیح راستہ اختیار کرنے کے تمام ممکن ذرائع سے بہرہ مند فرماتا ہے اسے حواس کے بعد عقل کا میزان اور شعور کا نور عطا کیا جاتا ہے۔ اور پھر اس کی تائید میں اللہ کے نبی کی دل آویز شخصیت اس کا مضبوط کردار اس کی اپنے مخالفین کے لیے گہری ہمدردی اور قرآن کریم کے ٹھوس دلائل وبراہین مہیا ہوتے ہیں تاکہ اسے زندگی کے اس اہم موڑ پر فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو لیکن جب وہ ان تمام دلائل وبراہین کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ آنحضرت ﷺ کی صورت میں جلتی ہوئی شمع سے اکتساب نور کرنا نہیں چاہتا۔ اور فطرت کے عطا کردہ رہنمائی کے ذرائع کو ایک طرف لپیٹ کے رکھ دیتا ہے اور وہ اپنے دل پر ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھا دیتا ہے اور دنیا کے عشق میں مدہوش ہو کر آخرت کے تصور کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے تو ایسے شخص کے لیے اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے جسے محرومی اور مہر لگانے کا قانون کہتے ہیں۔ اس نے جس طرح دعوت و ہدایت کے ہر راستے سے منہ پھیرلیا اور رہنمائی کی جتنی فطری عقلی اور آسمانی صورتیں ممکن تھیں سب سے لاتعلقی اختیار کرلی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی ناقدری کو حقیقت بنا کر اس پر چسپاں کردیا اس کے دل کا نور چھین لیا گیا اور اس سے عقل کی سلامتی واپس لے لی گئی۔ اب اسے خواہشات ِنفس کے حوالے کر کے اس کی لگام کسی شیطان کے ہاتھ میں دے دی گئی اب وہ بظاہر اپنی ہدایت کے لیے کبھی کسی نشانی کو دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی کسی معجزے کی طلب کرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ ایک مفلوج اور محروم آدمی ہے جسے ساری نشانیاں بھی دکھا دی جائیں تو وہ راہ راست اختیار نہیں کرسکتا البتہ اس کی فطرت اس کی جبلت اور اس کی حقیقت کو اگر کوئی چیز وقتی طور پر بیدار کرسکتی ہے تو وہ صرف اللہ کے عذاب کا ایک جھٹکا ہے جب وہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے یا اس کی شدت اس کے جسم کو چھوتی ہے تو تب اسے حقیقت کا شعور ہونے لگتا ہے اور پھر وہ پکار اٹھتا ہے کہ میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں لیکن ایسی حالت میں ایمان قابل قبول نہیں ہوتا کیونکہ جیسے ہی عذاب کا نزول شروع ہوتا ہے انسان پر بہت سی غیبی حقیقتیں منکشف ہونے لگتی ہیں وہ فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اللہ کی قدرت اسے صاف صاف دکھائی دیتی ہے اسے ایمان بالغیب نہیں کہا جاسکتا جو انسانوں سے مطلوب ہے بلکہ یہ ایمان بالشہادۃ ہے۔ جو اس دنیا میں قابل قبول نہیں ہے یہی وہ ایمان ہے جس کا فرعون نے دعویٰ کیا لیکن اللہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ویسے اگر ایک دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ عذاب کا نزول انسانی زندگی کے خاتمہ کا اعلان ہے تو جب زندگی ہی نہ رہی تو ایمان کی بحث کا کیا فائدہ ؟ عذاب تو جس قوم پہ آتا ہے اس کے ایک ایک فرد کو نگل جاتا ہے اور وہ قوم دنیا میں عبرت کے طور پر ایک کہانی بن کر رہ جاتی ہے البتہ اس عذاب سے اگر کوئی قوم بچ سکی تو وہ صرف ایک قوم تھی جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں آرہا ہے۔
Ayahs 10:97–98فَلَوْلاَ کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِیْمَانُہَآ اِلاَّ قَوْمَ یُوْنُسَ ط لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ ۔ (یونس : 98)
(پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی کہ اس کا ایمان اس کو نفع دیتابجز یونس (علیہ السلام) کی قوم کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کردیا ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں، اور ایک وقت تک ان کو زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیا۔ )
قریش کو تربیت
اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے بالواسطہ مشرکین مکہ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم بھی گمراہ قوموں کی طرح ہمیشہ نبی کریم ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور جب تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو تم برافروختہ ہو کر آپ سے عذاب کا مطالبہ کرنے لگتے ہو حالانکہ اللہ کے نبی دنیا میں ہدایت لے کر آتے ہیں عذاب لے کر نہیں آتے آنحضرت ﷺ رسولِ رحمت ہیں رسول عذاب نہیں۔ آپ جس عذاب سے ڈراتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے کھلونا سمجھ کر مانگنا شروع کردو بلکہ وہ ایک تنبیہہ ہے کہ تم جس حد تک اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہو بچو ورنہ وہ عذاب ایسی ہولناک چیز ہے جس قوم پر بھی آتا ہے اس قوم کی جڑ تک باقی نہیں رہتی۔ اس کے آجانے کے بعد کسی ہدایت کی امید نہیں کی جاسکتی البتہ صرف ایک مثال ہے قوم یونس (علیہ السلام) کی کہ ان کی طرف خدا کا عذاب آیا لیکن وہ قوم اللہ کے عذاب سے بچ گئی لیکن تم یقین رکھو کہ اگر وہ عذاب آگیا تم اس کی تباہی سے بچ نہ سکو گے اس لیے بہتر ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی طرح عذاب اترنے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں جھک جاؤ جزع وفزع تضرع اور عاجزی سے جس طرح انھوں نے اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ کرلیا تھا تم بھی وہی راستہ اختیار کرو۔
حضرت یونس (علیہ السلام) اللہ کے سچے پیغمبر گزرے ہیں قرآن کریم انھیں یونس سے یاد کرتا ہے اور تورات میں ان کا نام ” یونا “ لیا گیا ہے ان کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح کے وسط کا زمانہ ہے۔ ان کا معاصر اسرائیلی بادشاہ یربعام تھا آپ اگرچہ اسرائیلی نبی تھے مگر آپ کو اسیریا والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا آپ شہر نینویٰ کے رہنے والے تھے جو اپنے زمانے میں اسیریا کی نہایت طاقتور سلطنت کا پایہء تخت تھا اور آج تک عراق میں جہاں موصل ہے اس کے مقابل دریائے دجلہ کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس کا دارالسلطنت تقریباً ساٹھ میل کے دور میں پھیلا ہوا تھا۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ
قرآن کریم نے اس قصہ کی طرف تین جگہ اشارے کیے ہیں لیکن تفصیل بیان نہیں فرمائی۔ بائبل میں یونا کے نام سے جو مختصر سا صحیفہ ہے اس میں کچھ تفصیل تو ملتی ہے مگر وہ قابل اعتماد نہیں ان کی زندگی میں چونکہ بعض حیرت انگیز واقعات پیش آئے ہیں اور خاص طور پر یہ سوال کہ عذاب آجانے کے بعد ان کی قوم عذاب سے کیسے بچ گئی ہم اس سلسلہ میں کچھ عرض کرنے سے پہلے مناسب سمجھتے ہیں کہ مفتی محمد شفیع صاحب نے معارف القرآن میں حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں ایک تفصیلی نوٹ لکھا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ جس کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایاتِ حدیث و تاریخ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینویٰ میں بستی تھی، ان کی تعداد قرآن کریم میں ایک لاکھ سے زیادہ بتلائی ہے ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کو بھیجا، انھوں نے ایمان لانے سے انکار کیا، حق تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونس (علیہ السلام) نے قوم میں اس کا اعلان کردیا، قوم یونس (علیہ السلام) نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ ہم نے کبھی یونس (علیہ السلام) کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لیے ان کی بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مشورہ میں یہ طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس (علیہ السلام) رات کو ہمارے اندر اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے گئے تو یقین کرلو کہ صبح کو ہم پر عذاب آئے گا، حضرت یونس (علیہ السلام) بارشادِ خداوندی رات کو اس بستی سے نکل گئے، صبح ہوئی تو عذاب الٰہی ایک سیاہ دھوئیں اور بادل کی شکل میں ان کے سروں پر منڈلانے لگا اور فضاء ِآسمانی سے نیچے ان کے قریب ہونے لگا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اب ہم سب ہلاک ہونے والے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت یونس (علیہ السلام) کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف بہ ایمان ہوجائیں اور پچھلے انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس (علیہ السلام) کو نہ پایا تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے، بستی سے ایک میدان میں نکل آئے، عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کردیئے گئے، ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجزوزاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ وپکار سے گونجنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور عذاب ان سے ہٹا دیا جیسا کہ اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے، روایات میں ہے کہ یہ عاشوراء یعنی دسویں محرم کا دن تھا، ادھر حضرت یونس (علیہ السلام) بستی سے باہر اس انتظار میں تھے کہ اب اس قوم پر عذاب نازل ہوگا، ان کے توبہ و استغفار کا حال ان کو معلوم نہ تھا، جب عذاب ٹل گیا تو ان کو فکر ہوئی کہ مجھے جھُوٹا قرار دیا جائے گا کیونکہ میں نے اعلان کیا تھا کہ تین دن کے اندر عذاب آجائے گا، اس قوم میں قانون یہ تھا کہ جس شخص کا جھوٹ معلوم ہو اور وہ اپنے کلام پر کوئی شہادت نہ پیش کرے تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا، یُونس (علیہ السلام) کو فکر ہوئی کہ مجھے جھوٹا قرار دے کر قتل کردیا جائے گا :
انبیاء (علیہم السلام) ہر گناہ و معصیت سے معصوم ہوتے ہیں مگر انسانی فطرت و طبیعت سے جدا نہیں ہوتے، اس وقت یونس (علیہ السلام) کو طبعی طور پر یہ ملال ہوا کہ میں نے بحکم الٰہی اعلان کیا تھا اور اب میں اعلان کی وجہ سے جھوٹا قراردیا جاؤں گا، اپنی جگہ واپس جاؤں تو کس منہ سے جاؤں اور قوم کے قانون کے مطابق گردن زدنی بنوں، اس رنج وغم اور پریشانی کے عالم میں اس شہر سے نکل جانے کا ارادہ کر کے چل دیئے یہاں تک کہ بحر روم کے کنارہ پر پہنچ گئے وہاں ایک کشتی دیکھی جس میں لوگ سوار ہو رہے تھے، یونس (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کرلیا، کشتی روانہ ہو کر جب وسط دریا میں پہنچ گئی تو دفعہً ٹھہر گئی، نہ آگے بڑھتی ہے نہ پیچھے چلتی ہے، کشتی والوں نے منادی کی کہ ہماری اس کشتی کی مِن جانب اللہ یہی شان ہے کہ جب اس میں کوئی ظالم گناہگار یا بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے تو یہ کشتی خودبخود رک جاتی ہے، اس آدمی کو ظاہر کردینا چاہیئے تاکہ ایک آدمی کی وجہ سے سب پر مصیبت نہ آئے :
حضرت یونس (علیہ السلام) بول اٹھے کہ وہ بھاگا ہوا غلام گناہگار میں ہوں، کیونکہ اپنے شہر سے غائب ہو کر کشتی میں سوار ہونا ایک طبعی خوف کی وجہ سے تھا باذن الٰہی نہ تھا، اس بغیر اذن کے اس طرف آنے کو حضرت یونس (علیہ السلام) کی پیغمبرانہ شان نے ایک گناہ قرار دیا کہ پیغمبر کی کوئی نقل و حرکت بلا اذن کے نہ ہونی چاہیئے تھی اس لیے فرمایا کہ مجھے دریا میں ڈال دو تو تم سب اس عذاب سے بچ جاؤ گے، کشتی والے اس پر تیار نہ ہوئے بلکہ انھوں نے قرعہ اندازی کی تاکہ قرعہ میں جسکا نام نکل آئے اس کو دریا میں ڈال جائے، اتفاقاً قرعہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکل آیا، ان لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو کئی مرتبہ قرعہ اندازی کی ہر مرتبہ بحکم قضاء وقدر حضرت یونس (علیہ السلام) کا ہی نام آتا رہا، قرآن کریم میں اس قرعہ اندازی اور اس میں یونس (علیہ السلام) کا نام نکلنے کا ذکر موجود ہے فَسَاہَمَ فَکَان مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ ،
یُونس (علیہ السلام) کے ساتھ حق تعالیٰ کا یہ معاملہ ان کے مخصوص پیغمبرانہ مقام کی وجہ سے تھا کہ اگرچہ انھوں نے اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جس کو گناہ اور معصیت کہا جاتا اور کسی پیغمبر سے اسکا امکان نہیں، کیونکہ وہ معصوم ہوتے ہیں لیکن پیغمبر کے مقام بلند کے مناسب نہ تھا کہ محض خوف طبعی سے کسی جگہ بغیر اذن خداوندی منتقل ہوجاویں، اس خلاف شان عمل پر بطور عتاب یہ معاملہ کیا گیا،
اس طرف قرعہ میں نام نکل کردریا میں ڈالے جانے کا سامان ہو رہا تھا دوسری طرف ایک بہت بڑی مچھلی بحکم خداوندی کشتی کے قریب منہ پھیلائے ہوئے لگی ہوئی تھی کہ یہ دریا میں آئیں تو ان کو اپنے پیٹ میں جگہ دے، جس کو حق تعالیٰ نے پہلے سے حکم دے رکھا تھا کہ یونس (علیہ السلام) کا جسم جو تیرے پیٹ کے اندر رکھاجائے گا یہ تیری غذا نہیں بلکہ ہم نے تیرے پیٹ کو ان کا مسکن بنایا ہے، یونس (علیہ السلام) دریا میں گئے تو فوراً اس مچھلی نے منہ میں لے لیا، حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) نے فرمایا کہ یونس (علیہ السلام) اس مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز رہے یہ ان کو زمین کی تہ تک لے جاتی اور دور دراز کی مسافتوں میں پھراتی رہی، بعض حضرات نے سات، بعض نے پانچ دن اور بعض نے ایک دن کے چند گھنٹے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدّت بتلائی ہے (مظہری) حقیقتِ حال حق تعالیٰ کو معلوم ہے، اس حالت میں حضرت یونس (علیہ السلام) نے یہ دعا کی لآَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا اور بالکل صحیح وسالم حضرت یونس (علیہ السلام) کو دریا کے کنارے پر ڈال دیا،
مچھلی کے پیٹ کی گرمی سے ان کے بدن پر کوئی بال نہ رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے قریب ایک کدّو (لوکی) کا درخت اگادیا، جس کے پتّوں کا سایہ بھی حضرت یونس (علیہ السلام) کے لیے ایک راحت بن گئی، اور ایک جنگلی بکری کو اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا کہ وہ صبح وشام ان کے پاس آ کھڑی ہوتی اور وہ اس کا دودھ پی لیتے تھے،
اس طرح حضرت یونس (علیہ السلام) کو اس لغزش پر تنبیہ بھی ہوگئی، اور بعد میں ان کی قوم کو بھی پورا حال معلوم ہوگیا،
اس قصّہ میں جتنے اجزاء قرآن میں مذکور یا مستند روایاتِ حدیث سے ثابت ہیں وہ تو یقینی ہیں باقی اجزاء تاریخی روایات کے ہیں جن پر کسی شرعی مسئلہ کا مدار نہیں رکھاجاسکتا)
پیشِ نظر آیت کریمہ اور حضرت یونس (علیہ السلام) کو پیش آنے والے حالات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دو باتیں توجہ کا دامن کھینچتی ہیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر وقت کے پیغمبر کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر اللہ کا عذاب آتا ہے تو پھر اس وقت ایمان قبول نہیں ہوتا جیسے فرعون کا ایمان قبول نہیں کیا گیا لیکن اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم یونس پر اللہ کا عذاب آیا لیکن وہ ٹل گیا اور قوم عذاب سے بچ گئی۔ دوسری یہ بات کہ حضرت یونس (علیہ السلام) جس ابتلا سے گزرے اور غیر معمولی حوادث کا شکار ہوئے اس کا سبب کیا تھا ؟ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو اس میں بعض جدید محققین کا خیال یہ ہے کہ اللہ کا یہ بھی قانون ہے کہ وہ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتا جب تک اپنی حجت تمام نہیں کرلیتا اور حجت تمام اس وقت ہوتی ہے جب پیغمبر کو ہجرت کا حکم ملتا ہے اور جیسے ہی پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے خطرے کی زد سے نکل جاتے ہیں تب اس قوم پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ قوم یونس اس لیے عذاب سے بچ گئی کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو یہ خبر دی کہ تین دن کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آنے والا ہے تو پھر عذاب کا انتظار کیے بغیر وہاں سے تشریف لے گئے جب کہ اللہ کی طرف سے ابھی آپ کو ہجرت کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ { وَذَا النُّون اِذْ ذَہَبَ مُغَاضِباً …الخ } سے اسی بات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے ہجرت کا حکم آنے سے پہلے اپنے مستفر سے روانہ ہوجانے کا مطلب جدید محققین کے نزدیک یہ ہے کہ اس قوم پر اتمام حجت میں کمی رہ گئی اور اللہ تعالیٰ کا انصاف چونکہ بےلاگ ہے اس لیے اس کا فائدہ اس قوم کو پہنچا اور وہ عذاب سے بچ گئے جبکہ ہمارے قدیم مفسرین کا خیال یہ ہے کہ ان کے عذاب سے بچ جانے کی وجہ یہ ہے کہ ابھی عذاب ان تک پہنچا نہیں تھا بلکہ فضائِ آسمانی کی وسعتوں میں ابھی تک معلق تھا اور تین دن کی مدت ابھی ختم ہونے میں نہیں آئی تھی لیکن جب یونس (علیہ السلام) کی قوم نے عذاب کو محسوس کرتے ہوئے اس کے نزول سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں تمام لوازمات سمیت توبہ کی اور اپنے آنسوؤں سے زمین کو نہلا دیاتو اللہ کی رحمت جوش میں آئی تو عذاب ان سے واپس بلا لیا گیا۔
جہاں تک حضرت یونس کا ابتلا میں مبتلا ہونے کا تعلق ہے اس کے بارے میں جدید محققین کا کہنا یہ ہے کہ اس کا سبب حضرت یونس (علیہ السلام) کی اجتہادی غلطی ہوئی وہ یہ سمجھے کہ چونکہ اب تین دن کی مدت طے ہوگئی ہے تو اس مدت میں اللہ کا عذاب یقینا آئے گا۔ اب مزید کسی انتظار کی ضرورت نہیں چناچہ آپ نے اجازت کا انتظار کیے بغیر وہاں سے ہجرت فرمائی یہ وہ آپ کی اجتہادی غلطی ہے جو آپ کی گرفت کا سبب بنی لیکن ہمارے قدیم مفسرین یہ کہتے ہیں کہ آپ سے یقینا یہ فروگزاشت ہوئی کہ آپ اجازت سے پہلے سفر ہجرت پر روانہ ہوگئے لیکن وہ ہجرت یہ نہیں تھی جس کا جدید محققین ذکر کر رہے ہیں بلکہ وہ ہجرت یہ تھی کہ جب آپ اپنے شہر سے چلے گئے اور دور کسی علاقے میں عذاب کا انتظار کرتے رہے تو وقت موعود گزرنے کے بعد آپ کو اطلاع ملی کہ آپ کی قوم پر اللہ کا عذاب نہیں آیا بلکہ وہ اس سے بچ گئے ہیں تو آپ نے سوچا کہ اب اگر میں اپنی قوم کے پاس واپس جاتا ہوں تو میری قوم یہ سمجھے گی کہ میں نے ان سے جھوٹ بولا ہے اور ان کے یہاں جھوٹ کی سزا قتل ہے تو مجھے اس جھوٹ کی وجہ سے لوگ قتل کردیں گے چناچہ آپ نے اس قتل سے بچنے کے لیے ہجرت کا ارادہ فرما لیا اور وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اس پوری صورت حال پر غور کرنے سے یہ بات بہرحال واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے تسامح ہوا اور آپ اجتہادی غلطی کا شکار ہوئے لیکن یہ غلطی وہ نہیں جسے انبیاء کرام کی عصمت کے خلاف کہا جاسکے البتہ اس بات کا فیصلہ کرنا ہمارے لیے آسان نہیں کہ اس کوتاہی کی وجہ سے کیا فریضہء رسالت کی ادائیگی میں کوئی کمی ہوئی یا نہیں ! واللہ اعلم واحکم بالصواب۔
آیت کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ قوم ایمان لے آئی تو اس کی مہلت ِ عمر میں اضافہ کردیا گیا ایک مدت تک وہ ایمان وعمل میں کوتاہیوں سے محفوظ زندگی گزارتے رہے لیکن پھر رفتہ رفتہ ان میں خیال وعمل کی گمراہیاں پیدا ہوئیں اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے مختلف وقتوں میں مختلف انبیاء کرام کو بھیجا۔ 720 تا 698 قبل مسیح ناحوم نبی نے ان کی اصلاح کی کوشش کی مگر کوئی اثر نہ ہوا پھر صفنیاہ نبی 640 ۔ 609 قبل مسیح نے انھیں آخری تنبیہ کی وہ بھی کارگر نہ ہوئی آخر کا 612 قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں اللہ تعالیٰ نے میڈیا والوں کو اس پر مسلط کردیا۔ میڈیا کا بادشاہ بابل والوں کی مدد سے اشور کے علاقہ پر چڑھ آیا۔ اشوری فوج شکست کھا کر نینویٰ میں محصور ہوگئی۔ کچھ مدت تک اس نے سخت مقابلہ کیا پھر دجلہ کی طغیانی نے فصیل شہر توڑ دی اور حملہ آور اندر گھس گئے اور پورا شہر جلا کر خاک سیاہ کردیا گیا۔ گردوپیش کے علاقے کا بھی یہی حشر ہوا اشور کا بادشاہ خود اپنے محل میں آگ لگا کر جل مرا۔ اور اس کے ساتھ ہی اشوری سلطنت اور تہذیب بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی زمانہ حال میں آثار قدیمہ کی جو کھدائیاں اس علاقے میں ہوئی ہیں ان میں آتش زدگی کے نشانات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔
Ayahs 10:99–100وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعاً ط اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِط وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (یونس : 99، 100)
(اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین پر جتنے لوگ ہیں سب ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ مومن بن جائیں۔ اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایمان لاسکے مگر اللہ کے اذن سے۔ (اور اللہ کا طریقہ یہ ہے) کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیا کرتا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے اور ایمان کے حوالہ سے حقیقت حال بھی واضح کی گئی ہے۔ اللہ کے نبی لوگوں کی ہدایت کے لیے جس طرح بےچین رہتے ہیں وہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔ لوگ ان کے ساتھ کیسا ہی ظالمانہ سلوک کریں اور ان کو کیسی کیسی اذیتیں پہنچائیں لیکن وہ ان کے لیے ہمیشہ دل وجان سے دُعائیں مانگتے رہتے ہیں اور انھیں سمجھانے بجھانے میں اپنی ہمت کا آخری قطرہ تک نچوڑ دیتے ہیں اس کے باوجودجب لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ راہ راست کی طرف آنے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ ان کا انحراف اور روگردانی بڑھتی چلی جاتی ہے تو پھر اللہ کے نبی کا دھیان اللہ کی قدرت کی طرف جاتا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی بات بعید نہیں وہ چاہے تو رگ سنگ سے لہو بہنے لگے اور صحراء سے حباب اٹھنے لگیں۔ انسانوں کے دل اس کے قبضے میں ہیں جب چاہے انھیں ایمان کی طرف پھیردے۔ اور ایسے ہی خیالات مسلمانوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوتے ہیں جب وہ اپنی عددی کمی کو دیکھتے ہیں اور دنیا بھرکے کفر کے جتھوں کی سرکشی دکھائی دیتی ہے تو بےساختہ ان کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھتی ہیں اور ہر ایک دل سے یہ تمنا اٹھتی ہے کہ اللہ کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ اسلام کے دشمنوں کو اسلام کا سپاہی بنا دے اور انھیں ایمان لانے کی توفیق دے دے۔ اللہ فرماتا ہے کہ تمہاری خواہشیں بھی اچھی ہیں اور تمہاری کاوشیں بھی صحیح۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ نہیں چاہتی کہ کسی کو زبردستی مومن بنایا جائے اور تکوینی یا تخلیقی طور پر دلوں میں ایمان کو راسخ کردیا جائے اور ہر جوان ہونے والا بچہ طبعی طور پر ایمان کا حامل ہو کیونکہ اگر ایسا ہوجائے تو پھر اللہ نے جس مقصد کے تحت انسانوں کو زمین پر اٹھایا اور انھیں خلافت عطا فرمائی ہے اس مقصد کا کیا بنے گا۔ زمین پر انسان کا آنا اللہ سے اس کی وفاداری کا امتحان ہے۔ اسے شعور عطا کیا اور عقل مرحمت فرمائی تاکہ وہ اللہ کی قدرتوں اور صفات کو جاننے کی کوشش کرے۔ اور وحی الٰہی کا نور روشن کیا تاکہ اس کی رہنمائی میں زندگی کی حدود کو متعین کرے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شریعت اسلامی کے نام سے ایک منظم قانون دیا تاکہ ہر انسان اور انسانوں کا ہر گروہ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزار سکے۔ اللہ کی بنیادی حیثیت اس کا اقتدار اعلیٰ اس کی طرف سے آنے والے پیغمبر اور نازل ہونے والی کتابوں کو دل وجان سے ماننا اور ان کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنا یہ وہ مقصد ہے جس کے لیے انسان کو دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اب اگر ایک شخص اپنی مرضی سے اسے قبول کرتا ہے تو وہ اس مقصد سے وفا کا عہد کرتا ہے اور اگر کوئی شخص اسے ماننے سے انکار کرتا ہے تو اس سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے۔ اور وہ شیطان کے دھڑے میں جاکھڑا ہوتا ہے۔ ماننے والے نے مان کر اور اس کے مطابق زندگی گزار کر اس امتحان کو پاس کیا اور قیامت کے دن اس کی کامیابی یا ناکامی پر مہر تصدیق ثبت ہوجائے گی۔ اور انکار کرنے والے نے اپنے خالق ومالک سے بغاوت کر کے اپنی اصل حیثیت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس طرح سے باغیوں کی صف میں جا کھڑا ہوا۔ اگر پروردگار سب کو زبردستی ایمان کی دولت سے بہرہ مند کردیتا اور ہر شخص پیدائشی طور صاحب ایمان اور صاحب عمل ہوتا تو وفادار اور بےوفا کی تقسیم ختم ہوجاتی۔ فرمانبردار اور نافرمان سب برابر ہوتے، جزاوسزا کا کوئی معنی نہ ہوتا۔ حق و باطل کی کشمکش ایک فضول بات ہوتی۔ روئے زمین پر سب اللہ پر ایمان لانے والے اور اس کے فرمانبردار ہوتے نتیجتاً کوئی امتیاز نہ ہو تاکہ ان میں اللہ والے کون ہیں اور شیطان والے کون ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمین حق و باطل کی ستیزہ گاہ ہے جس میں رہنے والے انسان اپنی عقل اور اپنے فیصلے کے مطابق حق و باطل سے نسبت اختیار کرتے ہیں۔ اور اسی سے ان کے انجام کا فیصلہ ہوتا ہے۔ نبیوں کا آنا اور کتابوں کا نازل ہونا انسانوں کے فیصلے کے لیے ایک ترغیب اور تعاون کی حیثیت رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ نے اپنا فرض انجام دینے کے لیے اپنی ہمت سے بڑھ کر جان لڑائی ہے اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کو آپ نے جس استقامت اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا ہے وہ تاریخ کی ایک روشن مثال ہے۔ اس کے بعد کسی کا ایمان لانا یا نہ لانا اس کی اپنی ذمہ داری ہے آپ نے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ کا جذبہ اور لوگوں کے حق میں آپ کی رحمت اپنی جگہ۔ لیکن اللہ کا قانون اور اس کی سنت میں اس بات کی ہرگز گنجائش نہیں کہ کسی کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کیا جائے۔ نبی کی سنت چونکہ اللہ کی سنت کے تابع ہوتی ہے اس لیے کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ لوگوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کریں۔ ویسے بھی ایمان دل کی ایک کیفیت کا نام ہے۔ دماغ کا ایک فیصلہ ہے اور زندگی کا ایک رویہ ہے جس پر زندگی کے تمام اعمال کا دارومدار ہے۔ اتنے بڑے فیصلے کا اختیار اور آزادی اگرچہ انسان کو دی گئی ہے لیکن مکمل طور پر انسان اس میں آزاد نہیں ہے۔ آدمی کو آزادی صرف اس حد تک دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے یا کسی بھی عمل کی خواہش کرتا یا ارادہ کرتا ہے۔ اور پھر اسے بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کام کے وجود میں آنے کے لیے جو حقیقی اسباب، وسائل اور محرکات ہونے چاہئیں وہ انسان کے بس میں نہیں۔ مثلاً انسان اگر بازو کو حرکت دینا چاہتا ہے تو حرکت دینے کا ارادہ کرنا یہ تو انسان کے بس میں ہے لیکن بازو میں حرکت کی طاقت کا ہونا اس میں اعصاب کا اپنا فرض انجام دینایہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی ایمان لانے کا ارادہ بھی رکھتا ہے وہ جب تک اللہ سے اس کے لیے توفیق نہیں مانگتا یعنی اسباب کی فراہمی کی دعا نہیں کرتا اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت نہیں آجاتی اس وقت تک وہ چاہتے ہوئے بھی ایمان لانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس لیے پروردگار نے فرمایا کہ کسی نفس کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی توفیق کے بغیر ایمان لے آئے۔ اور جو شخص سرے سے ایمان کا ارادہ ہی نہیں رکھتا اور کائنات کے جن حقائق کو جاننا اور ماننا ایمان کا تقاضا ہے اس کے لیے حواس، عقل اور شعورجو اللہ کے عطا کردہ ذرائع ہیں ان سے کام لینے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ وہ شخص ایمان سے رفتہ رفتہ اور دور ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ خواہشاتِ نفس کے اتباع میں جیسے کچھ اعمال جمع کرتا رہتا ہے ان تمام اعمال کی گندگی اٹھا کر پروردگار اس پر لاد دیتا ہے۔ یہی گندگی کا ڈھیر اس کے رستے کی ایک ایسی رکاوٹ بن جاتا ہے جس سے زندگی بھر وہ عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 10:101قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَمَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَّ یُؤْمِنُوْنَ ۔ ( یونس : 101)
(اے پیغمبر ! ان سے کہیے کہ دیکھو کہ کیا ہے آسمانوں اور زمین میں ؟ اور نہیں کام آتیں نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کو جو ایمان لانا نہیں چاہتے۔ )
مطالبہ معجزات کا جواب
مشرکین ِمکہ معذب قوموں کی طرح نبی کریم ﷺ سے بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ہمارے سامنے ایسی بڑی بڑی نشانیاں لائیں جنھیں دیکھ کر ہم یقین کرنے پر مجبور ہوجائیں کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں، اور یا ہمارے سامنے کوئی ایسا ہولناک منظر لائیں یا دل ہلا دینے والی مصیبتیں ہم پر مسلط کردیں جس سے ہمارے دل دہل جائیں اور ہم یہ تسلیم کرنے پر تیار ہوجائیں کہ اگر ہم نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا تو ہم تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ ایسی بڑی بڑی نشانیاں جو صرف اللہ کی دسترس میں ہیں انھیں دیکھ کر ایمان نہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کے نمائندے کی توہین کر رہے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ایمان قبول کرنا ہمارے لیے لازمی ہوجائے گا۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ نشانی ایک نشان راہ ہوتی ہے جس سے منزل کی خبر ملتی ہے اور ڈراوا ایک نقصان سے بچنے کا الارم ہوتا ہے۔ جس کے پیچھے ایک بہت بڑا خطرہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کے لیے حضرت انسان کو کسی خاص تردد کی ضرورت نہیں۔ اگر وہ اپنے گردوپیش میں آنکھیں کھول کر دیکھے تو اسے زمین کے فرش سے لے کر فضائے نیلگوں تک اور پھر آسمان کی بلندیوں میں ایک سے ایک بڑھ کر نشانی دکھائی دیتی ہے جس سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی بےپناہ قدرتوں کا ثبوت ملتا ہے۔ گھاس کی پتی سے لے کر زمین میں پھیلی ہوئی مختلف قسم کی فصلیں پانی کے ابلتے ہوئے چشمے، بلندی سے گرتی ہوئی آبشاریں، برق ورعد کے ہنگامے، بادوباراں کے طلسماتی جلوے، زمین پر پھولی ہوئی سرسوں اور گردوپیش میں مسکراتے ہوئے زعفرانی پھول اور رنگ وروپ کے مسحور کن منظر نامے زمین کی قوت روئیدگی کی معجزاتی کیفیتیں سورج کی روشنی اور چاند کی ٹھنڈک سے پیدا ہونے والے خیرہ کن اثرات غرضیکہ نشانیوں کی ایک دنیا ہے جو زمین سے امنڈتی ہوئی اور آسمان سے برستی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان کو دیکھنے والی نگاہوں میں بصیرت کی روشنی موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے ؎
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تم کو اندھا کیا رنگ و بُو نے
جس آنکھ میں بصیرت ہے اور دل میں قبولیت کا مادہ ہے اس کے لیے کائنات کا ایک ایک ورق درس ِنصیحت اور درس عبرت ہے۔ لیکن جن دلوں میں نور نہیں اور جن کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں ان کے لیے دنیا کی کوئی چیز بھی روشنی کا سامان نہیں بن سکتی۔
Ayahs 10:102–103فَہَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلاَّ مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْط قُلْ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ۔ ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کَذٰلِکَ ج حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع
(یونس : 102، 103)
(پس وہ انتظار نہیں کر رہے مگر ان جیسے لوگوں کے حالات کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں آپ کہہ دیجیے اچھا انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر ہم نجات دے دیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو۔ ایسے ہی ہم پر حق ہے ہم مؤمنوں کو نجات دیں گے۔ )
جو لوگ اپنے رویے سے اپنے آپ کو فطری صلاحیتوں سے محروم کرلیتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ وہ آفاق وانفس کے اندر پھیلی ہوئی نشانیوں سے استفادہ کرنے سے تہی دامن ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی صلاحیتیں معکوس راستے پر چل نکلتی ہیں وہ بجائے اس کے کہ اپنی صلاحیتوں سے اور کائنات میں پھیلی ہوئی اور بولتی ہوئی نصیحت اور عبرت کی باتوں سے کوئی سبق سیکھیں وہ ہر صحیح بات کا منہ چڑاتے اور ہر غلط بات کی طرف لپکتے ہوئے جاتے ہیں۔ تاریخ بھی ایک درس عبرت ہے لیکن ایسے لوگ اس سے بھی سبق سیکھنے کی بجائے ان لوگوں کے نقوش راہ ڈھونڈتے ہیں جو اپنے پیچھے تباہی کی داستانیں چھوڑ گئے۔ بجائے اس کے کہ وہ ان کی تاریخ سے سبق سیکھ کر ان راہوں سے بچتے جن پر چلنے سے وہ تباہ ہوئے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خیر وشر کے پیمانوں میں کوئی ایسی تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ ان کو یہی راستے اچھے لگتے اور یہی تباہ ہونے والے لوگ ان کی دلچسپی کا باعث بن جاتے ہیں۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جس فرعون کی لاش عبرت بنی ہوئی قاہرہ کے میوزیم میں پڑی ہوئی ہے اسی قاہرہ کے حکمران قریبی تاریخ تک اس فرعون کے مجسمے شاہراہوں پر نصب کر کے اپنے آپ کو اس کی اولاد کہنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ ایران کا بادشاہ پرانے دور جاہلیت سے اپنی نسبتوں پر فخر کرتا تھا اور ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے آپ کو راجہ داہر کا وارث قرار دیتے ہیں انھیں اس عظیم تاریخی انقلاب سے کوئی دلچسپی نہیں جسے نبی کریم ﷺ کے مبارک ہاتھوں نے سر زمین عرب پر برپا کیا اور جس کے اثرات آج تک دنیا کے کونے کونے میں اپنا رنگ دکھا رہے ہیں لیکن انھیں دلچسپی ہے تو موہنجوڈارو کے کھنڈرات سے جہاں شب وروز کی کھدائی سے چند ٹوٹے ہوئے ظروف تلاش کر کے وہ ایک پوری تہذیب کا تانا بانا تیار کرنے میں مصروف ہیں اور اس مصنوعی کلچر پر انھیں فخر ہے۔ کسی شاعر نے نہایت تأسف سے نہایت کام کی بات کہی ہے۔
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
قرآن کریم اپنے مخاطبین کا نوحہ پڑھتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ انھیں کائنات کی کسی نشانی سے غرض نہیں البتہ یہ انتظار کر رہے ہیں اسی قسم کے فیصلہ کن عذاب کا جو عاد وثمود کو تاریخ کی دھول بنا چکا ہے۔ فرمایا کہ اگر تمہیں ایسے ہی حالات اور ایسے ہی عذاب کا انتظار ہے تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں کیونکہ تمہارے کرتوت اسی راستے پر جانے کی خبر دیتے ہیں البتہ میں تمہیں کوئی متعین تاریخ نہیں دے سکتا کیونکہ عذاب لانا میرا کام نہیں بلکہ یہ پروردگار کا کام ہے۔ میں تو تمہارے پاس وہ دین لے کر آیا ہوں جسے قبول کر کے تم اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہو۔ لیکن ایک بات یاد رکھو کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب ایسا عذاب نازل ہوتا ہے تو اس سے ہمیشہ اللہ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والے بچا لیے جاتے ہیں تو اے مشرکینِ مکہ ! اگر تم نے اپنی بداعمالیوں اور بداطواریوں سے اللہ کے عذاب کو دعوت دے دی تو پھر یہ مت سمجھو کہ اس کا نقصان کسی اور کو پہنچے گا، نہیں، اس کا کوڑا تمہاری کمر پر برسے گا اور تمہاری جڑ اکھاڑ دی جائے گی۔