Ayahs 10:104–107قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلاَ ٓ اَ عْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ اَعْبُدُ اللّٰہَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْجصلے وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَاَنْ اَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنَ حَنِیْفاً ج وَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ وَلاَ تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَنْفَعُکَ وَلاَ یَضُرُّکَج فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہٗ اِلاَّ ہُوَج وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِہٖط یُصِیْبُ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖط وَہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۔
(یونس : 104، 105، 106، 107)
(اے پیغمبر ! کہہ دیجیے۔ اے لوگو اگر تمہیں شک ہو میرے دین کے بارے میں تو سن لو کہ تم اللہ کے سواء جن کی بندگی کرتے ہو میں ان کی بندگی نہیں کرتا۔ بلکہ میں تو بندگی کرتا ہوں اس اللہ کی جو تمہیں مارتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔ نیز (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ) اپنے آپ کو جما کر رکھ اس دین پر ہر طرف سے یکسو ہو کر اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوجا اور نہ پکار اللہ تعالیٰ کے سواء کسی ایسی ہستی کو جو نہ تجھے نفع دے سکے اور نہ نقصان پہنچا سکے۔ اگر تو ایسا کرے گا تو پھر تیرا شمار ظالموں میں سے ہوگا۔ اور اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سواء اسے دور کرنے والا کوئی نہیں۔ اور اگر وہ ارادہ فرمائے تیرے حق میں کسی بھلائی کا تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے سرفراز فرماتا ہے۔ وہ درگزر کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ )
آیت کے فہم کے لیے چند امور کی وضاحت
پیشِ نظر آیات کریمہ میں توحید کے مختلف گوشوں کو اس طرح کھولا گیا ہے کہ آدمی تفکر اور تدبر سے مقدور بھر جتنا گہرا اترتا جاتا ہے اتنا ہی اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ کتاب خداوندی کی کسی بھی آیت کے مفہوم کی پاتال تک پہنچ سکے۔ ہم اپنی حقیر کاوشوں سے کام لے کر کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔
سب سے پہلی جو چیزسامنے آتی ہے وہ سورة یونس کا اسلوب ہے آپ پہلا رکوع پڑھ کر دیکھ لیجئے اس میں مشرکین کے بعض اعتراضات کا جواب اور ان کی بعض حماقتوں کا ذکر فرمانے کے بعد انھیں اللہ کی خالص بندگی کی دعوت دی گئی ہے۔ چناچہ ان آیات کو دیکھ لیجئے یہ سورة کی آخری آیات ہیں جن پر سورة ختم ہوجاتی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان آیات کا مرکزی مضمون بھی توحید اور اللہ کی بندگی اور اطاعت ہے۔ یوں کہنا چاہیے کہ تمام عقائد کے لیے توحید کو بنیاد بنانے اور اس پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دینے اور پیدا ہونے والے بعض گوشوں کا تذکرہ فرمانے کے بعد ان آیات میں اب ان تمام مضامین اور تمام بحث کو Some of کیا جا رہا ہے۔
دوسری بات جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے ان آیات کے تیور زیادہ تیکھے معلوم ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے اللہ کی بردباری اور حلم کے بندھن ٹوٹنے والے ہیں۔ اگرچہ وہ آخری وقت جس میں کسی قوم کا فیصلہ کردیا جاتا ہے وہ تو نہیں آیا تاہم اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے برأت کا اعلان کیا جارہا ہے۔ ہر رسول کی دعوتی زندگی میں ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے اپنی قوم کا ردعمل اور رویہ ناقابلِ برداشت معلوم ہونے لگتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ میری تمام مثبت کوششوں کے جواب میں قوم کے منفی طرز عمل میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ بھلائی کے بدلے میں بھلائی اور احسان کے بدلے میں احسان کرتا ہے۔ مسکراہٹ کا جواب ہمیشہ مسکراہٹ ہوتا ہے لیکن دعوتی زندگی کا یہ حادثہ ہے کہ اللہ کا رسول جو اپنے اندر اپنی قوم کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کا ایک سمندر موجزن رکھتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ ان کی گالیاں سُن کر دعائیں دیتا ہے۔ ان کے پتھر کھا کرحسنِ سلوک کے موتی برساتا ہے۔ ان کے مظالم پر بددعا کرنے کی بجائے ان کی ہدایت کے لیے دعا مانگتا ہے لیکن قوم ان احسانات کا اثر قبول کیے بغیرجب اذیت اور عداوت میں حد سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ کے رسول کو خیال ہونے لگتا ہے کہ اس قوم میں ہدایت کی قبولیت کے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ یہ رفتہ رفتہ لطیف جذبات سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ اب وہ اپنی قوم سے اللہ کے دین کے حوالے سے فیصلہ کُن باتیں کرنے لگتا ہے۔ اور ان کی ہدایت کی جانب سے برأت کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ یہ وہ آخری مرحلہ ہوتا ہے کہ یا قوم سدھر جاتی ہے یا ایک مدت کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور ایمان لانے والوں کو ہجرت کا حکم دے کر کسی محفوظ جگہ منتقل کردیتا ہے۔ اور وہ نابکار قوم اللہ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ ان آیات کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایسے ہی احساسات سے بہرہ ور ہیں اور وہ اپنی قوم کو بچانے کے لیے آخری باتیں کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ اللہ کے حکم سے اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں اللہ کی طرف سے جو دین لے کر آیا ہوں اسے سمجھانے، آسان کرنے اور دلوں میں اتارنے میں میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تم نے ہر ممکن طریقے سے میری دعوت کو روکنے کی کوشش کی لیکن میں کبھی حالات سے متاثر نہیں ہوا تمہاری اذیتوں اور مخالفتوں نے مجھے تمہاری طرف سے کبھی لاتعلقی پر مجبور نہیں کیا لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ برسوں کی محنت و ریاضت کے باوجود تم اب تک میرے دین کے بارے میں شک وشبہ میں مبتلا ہو اور تم اب تک یہ امید لگائے بیٹھے ہو کہ ممکن ہے کہ میں اپنے دین میں کوئی تبدیلیاں پیدا کردوں۔ کسی پتھر پر بھی بوند بوندگرتی رہے تو اس میں بھی سوراخ ہوجاتا ہے لیکن تمہارے دل تو معلوم ہوتا ہے کہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں۔ تمہارے دلوں کی سنگینی نے ہر سنگینی کو مات کردیا ہے۔ تم اب تک وہی پرانی باتیں دہراتے نظر آتے ہو۔ اب وقت آگیا ہے کہ میں تم سے صاف صاف کچھ باتیں کہوں۔ تمہیں پہلی بات تو یہ معلوم ہونی چاہیے کہ انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ کسی نہ کسی بڑائی کے سامنے جھکتا ہے، کوئی نہ کوئی عظمت اسے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کرتی ہے۔ انسان بنیادی طور پر بندہ ہے۔ بندگی اس کی فطرت اور جبلت ہے۔
بحث طلب دو باتیں ہیں پہلی بات یہ ہے کہ عبادت، عبودیت اور عبدیت جس کا ترجمہ عام طور پر بندگی کیا جاتا ہے وہ کیا ہے ؟ قرآن کریم نے ہمیں جو اس کا مفہوم سمجھایا ہے وہ چار مفاہیم کا مرکب ہے۔ یعنی عبدیت یا عبادت اس بندگی کو کہتے ہیں جو عاجزانہ فرمانبرداری سے شروع ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے کبھی غیر مشروط اطاعت کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر غلامی میں ڈھل جاتی ہے۔ اور اگر اسے مذہبی تقدس حاصل ہوجائے تو یہی غلامی پرستش کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ بندگی کی یہی وہ چاروں صورتیں ہیں جس نے انسانوں کو پہلے عزت نفس سے محروم کیا پھر اسے اس کے اپنے مقام و مرتبہ سے بیخبر بنایاحتی کہ ایک وقت آیا جب وہ پوری طرح اپنے آپ کو گم کر بیٹھا اور انسانی غلامی اور انسانوں کی پرستش کی زنجیروں میں جکڑا گیا چناچہ اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات جس کا آنحضرت ﷺ انکار فرما رہے ہیں وہ یہی ہے کہ اے مشرکین مکّہ تم نے جس طرح اپنی فرمانبرداری اور غیر مشروط اطاعت کے جس طرح بعض آستانے یا طاقت وقوت کے بعض مراکز چن لیے ہیں اور جس طرح تم نے ہر تخت وتاج کے مالک اور ہر بےپناہ قوت کے علمبردار کے سامنے غلامی کی روش اختیار کی ہے اور جہاں کہیں تمہیں مشیخیت اور تقدس کی جھلک نظر آئی ہے تو تم نے اپنا سرمایہ پرستش جس طرح اس کے سامنے ڈھیر کردیا ہے میں یہ کام ہرگز نہیں کرسکتا۔ کیونکہ مال و دولت، قوت و طاقت، تخت وتاج اور سلطنت ایسی چیزیں نہیں ہیں جن کے سامنے انسانیت کو بطور خراج پیش کردیا جائے۔ آج جو لوگ ان قوتوں کے مالک ہیں ضروری نہیں کل بھی وہی مالک رہیں۔ یہ آنی جانی چیزیں ہیں، یہ انسانی ضرورتیں ہیں اور انسان کے جہد وعمل کا حاصل اور سرمایہ ہیں۔ یہ نہ خود انسان ہیں نہ انسانیت سے عبارت ہیں۔ اصل قابل ذکر چیز اور قابل افتخار مخلوق جس کے سر پر اللہ نے عظمت کا تاج سجایا ہے وہ حضرت انسان ہے اور اس کی انسانیت ہے جو شخص خود انسان اور انسانیت کو ان مصنوعی قوتوں کے سامنے جھکنے پر مجبور کرتا ہے اسے اندازہ ہی نہیں کہ وہ اس کائنات پر کتنا بڑا ظلم کر رہا ہے اور اللہ کے فیصلوں پر کیسی بےاعتمادی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ انسان کہ کائنات کی بیشمار مخلوقات جس کی خادم بنائی گئی ہیں اور بیشمار عناصرجس کی تسخیر میں دے دیئے گئے ہیں اور جس کے مرتبہ ومقام کا حال یہ ہے کہ :
بشر جو اس تیرہ خاکداں میں پڑا یہ اس کی اپنی فروتنی ہے
وگرنہ قندیلِ عرش میں بھی اسی کے جلوے کی روشنی ہے
غیر اللہ کی بندگی کرنے والے اس مرتبہ ومقام سے گر کر نہ جانے اپنے لیے کیا مقام تجویز کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے آپ نے صاف صاف فرمایا کہ تم نے اپنے سے کہتر اور کمتر مخلوقات کے سامنے یا اپنی جیسی مخلوقات کے سامنے جس طرح بندگی کا سرمایہ ڈھیر کیا ہے میں یہ کام ہرگز نہیں کرسکتا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں یہ ایک ایسا نقطہ ہے جس سے پاؤں پھسل جائیں تو انسان ذلتوں کی اتھاہ وادی میں جا گرتا ہے کیونکہ انسان کی کہانی صرف یہ ہے۔
گرے اگر تو بس ایک مشت خاک ہے انساں
بڑھے تو وسعت کونین میں سما نہ سکے
دوسری بحث طلب بات یہ ہے کہ بندگی کا مستحق کون ہے۔ وہ کون ذات ہے جس کے سامنے انسان کو جھکنا چاہیے، جس کے سامنے دست سوال دراز ہونا چاہیے۔ حاضر و غائب جس سے محبت کرنی چاہیے اور جس کی ناراضگی سے ڈرنا چاہیے اور جس کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ ہر وقت مجھے دیکھتا ہے۔ میرا ہر عمل اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ کمزوریوں میں وہی میرا سہارا ہے اور توانائیوں میں وہی میرا آستانہ ہے۔ نہ وہ سوتا ہے اور نہ اسے اونگھ آتی ہے۔ موت وحیات جس کے قبضے میں ہے وہی ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور راہ معیشت اس پر کھولی۔ اور زندگی گزارنے کے ڈھب سکھائے جس ذات بالا قدر میں یہ صفات ہوں گی وہی میری بندگی کا مستحق ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ صفات میرے جیسے انسانوں میں ہوسکتی ہیں۔ کیا یہ قدرتیں مخلوقات میں ممکن ہیں چناچہ اس آیت کریمہ میں اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے رسول ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں بندگی اس اللہ کی کروں گا اور اس کی غلامی کا دم بھروں گا اور اس کی غیر مشروط اطاعت کروں گا اور اس کی پرستش کروں گا جس کے قبضے میں، اے مشرکین مکہ تمہاری اور تمام انسانوں کی جان ہے۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور وہ جب چاہے تمہاری جان قبض کرسکتا ہے۔ تم جن قوتوں کے سامنے جھکتے ہو اور جن کو تم نے خدائی کے منصب پر فائز کر رکھا ہے اور جن سے تم مرادیں مانگتے ہو اور جنھیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے بتاؤ ان میں کون ہے جو زندگی اور موت کا مالک ہو۔ بڑے بڑے فراعنہ و نماردہ ربوبیت کے دعوے دار بن کر اٹھے لیکن بالآخر موت کی ایک پھونک کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔ جن کی ہیبت و جبروت سے زمین کانپتی تھی اور اہل زمین لرزہ براندام رہتے تھے۔ ان میں سے کون ہے جو موت کے چنگل سے بچ سکا ہے جنھیں یہ غلط فہمی رہی کہ ناممکن کا لفظ ان کی ڈکشنری میں نہیں۔ وہ بھی ذلت کے ساتھ موت کی وادیوں میں اتر گئے۔ آدمی کی ساری عظمتیں اس کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہیں اور زندگی ہی میں وہ قسم قسم کی گمراہیوں میں مبتلا ہوتا ہے اور اپنے بارے میں اسے صحیح اندازہ نہیں ہو پاتا اس لیے خاص طور پر موت کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ تم اگر حقیقت آشنا بننا چاہتے ہو تو اس آئینہ میں اپنے آپ کو اور عظمت کے دعوے داروں کو دیکھنے کی کوشش کرو۔ جس سے تمہیں یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ کائنات کی حقیقی قوت مخلوق نہیں بلکہ اس کا خالق ہے۔ مخلوق کے تمام دعوے فریبِ نظر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اقبال نے ٹھیک کہا ؎
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زمان نہ مکاں لا اِلٰہ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں لا اِلٰہ الا اللہ
کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور صداقت یہی ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو انسانوں اور دیگر مخلوقات کی بھی بندگی کی مستحق ہے۔ اللہ کا آخری رسول چونکہ ان صداقتوں کا آخری اعلان کرنے والا بن کر آیا ہے اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ ان بنیادی صداقتوں کے اعلان اور انطباق میں کوئی کمی اور کوئی خلا باقی نہ رہے۔ اس لیے نبی کریم ﷺ ان کے شریکوں کی بندگی سے انکار کرنے کے بعد اس مثبت حقیقت کا اعلان فرما رہے ہیں کہ میں تو اس اللہ کی بندگی کروں گا جو تمہاری زندگیوں کا مالک ہے۔ وہ جب چاہتا ہے تم سے زندگی چھیننے کی قدرت رکھتا ہے۔ تمہارے سارے دعوے اور تمہاری قوت وہیبت کا سارا طمطراق تمہاری زندگی کے ساتھ وابستہ ہے یہی وہ روشنی ہے جس نے تمہیں چکاچوند میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کس قدر بےوقوفی کی بات ہوگی اگر ان قوتوں کے سامنے سر جھکایا جائے جو اس چکا چوند میں مبتلا ہیں۔ اور جن کی بےبسی کا عالم یہ ہے کہ جب آخری وقت آتا ہے تو ایک لمحہ کے لیے کمی بیشی نہیں کرسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے غیر معمولی اقتدار کا دعویٰ کرنے والے نہ اپنی زندگی پر قدرت رکھتے ہیں اور نہ موت پر۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو زندگیاں دے سکیں یا کسی اور کو موت سے بچا سکیں۔ حضور فرماتے ہیں میں تو اس اللہ کے سامنے بندگی کے لیے جھکوں گا جو تمہیں موت دیتا ہے اور تمہاری موت جس کے قبضے میں ہے۔ اس لیے اس کے سامنے صرف مجھے ہی نہیں جھکنا چاہیے بلکہ تمہیں بھی جھکنا چاہیے کیونکہ تمہیں بھی زندگی وموت دینے والا وہی ہے۔ اور مزید فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اتنی بڑی حقیقت کو صرف ایک علمی امانت نہ سمجھوں بلکہ میں اس کا مومن بن کر رہوں۔ مجھے ہر صورت اس بات کا یقین ہو کہ کائنات کی سب سے بڑی ذات جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے وہ اللہ کی ذات ہے اور اسی کے قبضے میں ساری کائنات کی زندگی ہے وہ جب چاہے گا اس کو فنا کے گھاٹ اتار دے گا۔ انسان اسی کی قدرت سے پیدا ہوتے ہیں اور اسی کی قدرت سے مرتے ہیں۔ جس طرح ایک غریب کی جان نکلتی ہے اسی طرح تخت وتاج کا مالک بھی موت کا شکار ہوتا ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس حقیقت کا یقین اپنے اندر پیدا کروں۔ اللہ کا نبی تو سرتاپا یقین و ایمان ہوتا ہے۔ یہاں دراصل انسانوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ تمہیں اس حقیقت پر یقین ہونا چاہیے جب تک تم اس حقیقت سے یقین کی حدتک بہرہ ور نہیں ہوتے اس وقت تک تمہارے اندر سے گمراہی کا خناس نہیں نکل سکتا۔ ہر زندہ شخص جس نے سر پر کوئی کلغی سجا لی ہے وہ دماغی فتور سے کبھی نہیں نکل سکتا تاوقتیکہ اسے موت کا یقین نہ ہو اور موت کے مالک و خالق کو حاضر وناظر نہ سمجھے۔ ورنہ انسان کمزور ہوتے ہوئے بھی مصنوعی قوت کے طلسم سے آزاد نہیں ہوسکتا۔ سوداء نے ٹھیک منظر کشی کی :
کل پاؤں اک کاسہ سر پر جو جا پڑا
ہرچند وہ استخوانِ شکستہ سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کر چل راہ بیخبر
میں بھی کبھی کسی کا سرپرغرور تھا
اگلی آیت کریمہ میں پروردگار نے توحید کی اساس کو مزید مستحکم کرنے اور اس کی عمارت کے دروبست کو مزید محفوظ کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک کے حوالے سے امت کو مزید ہدایات عطا فرمائی ہیں۔ خطاب اگرچہ مشرکین سے ہے لیکن جس بات کی طرف انھیں دعوت دی جارہی ہے وہ درحقیقت ایمان لانے والوں کی ضرورت ہے۔ اس لیے بالواسطہ توحید کا وہ پیراہن پیش کیا جارہا ہے جو صرف ان لوگوں کو راست آئے گا جو اس دعوت کے نتیجے میں کشمکش کے جانگسل مراحل سے گزر کر وجود میں آئیں گے۔ اس میں بطور خاص جس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب ایک شخص غیر اللہ کی غلامی سے نکل کر اللہ کی غلامی میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس غلامی کو بھی ابتداء میں ایک ڈھیلا ڈھالا پیراہن سمجھتا ہے۔ جس میں مختلف قسم کی غلامیوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس لیے ان تمام راستوں کا بند کرنا جس میں شرک کا کوئی واہمہ بھی داخل ہوسکتا ہواز بس ضروری ہے۔ اسی طرح دل و دماغ میں یہ بات اتارنا بھی بےحد لازمی ہے کہ اللہ کی بندگی میں جس طرح کسی اور کے لیے کوئی گنجائش نہیں اسی طرح اس میں شخصی کمزوریوں کے لیے بھی کوئی امکان نہیں۔ جس طرح آدمی نماز کی نیت باندھ کر جہتِ قبلہ سے رخ نہیں پھیر سکتا بلکہ تکبیر تحریمہ سے لے کر آخری سلام تک اس کی جہت اور اس کے ارتکاز میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ وہ ناک کی سیدھ پر کھڑا ہوتا ہے اور اسی سیدھ پر مختلف اعمال بجا لا کر نماز کو مکمل کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح آنحضرت ﷺ کی زبان سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مجھے یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ اسلامی زندگی کا یہ سفر اللہ کی بندگی کے سواء کسی اور کی بندگی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ زندگی کے کسی مرحلے میں بھی کسی اور طرف رخ نہیں پھیرا جاسکتا۔ زندگی میں ہزاروں ماؤف لمحے آتے ہیں، مختلف حوالوں سے آدمی ذہنی تحفظات کا شکارہوتا ہے۔ اولاد کی محبت بہت سی کمزوریوں کا باعث بنتی ہے ان میں سے ہر موقع آدمی کو اپنی جہت بدلنے پر مجبور کرتا ہے کسی نہ کسی تاویل کے بہانے آدمی حالات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ یہ آیت کریمہ سیدھا خط کھینچ کر یہ بتارہی ہے کہ دیکھنا اپنی ذات کو سمیٹ کر رکھنا، اپنا رخ بدلنے کی کوشش نہ کرنا، کوئی دنیوی فائدہ اگر شرعی احکام کو ڈھیلا کر کے ملتا نظر آتا ہو تو کبھی اس طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھنا۔ خوشیوں کے موقع پر شیطانی بہکاوے غیراسلامی حرکات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کبھی ان بہلاو وں کی طرف متوجہ نہ ہونا اور اس روش کو مزید مستحکم کرنے کے لیے فرمایا کہ حنیف بن کر زندگی گزارو۔ تمہیں اپنے رفقاء ِکار میں رشوت کے نتیجے میں کار، کوٹھی اور بنگلہ کی سہولتوں سے بہرئہ ور دوست ملیں گے ان کی عیش و عشرت سے معمور زندگی تمہارے بچوں کو اکسائے گی اور تمہیں اپنے گھر سے عجیب و غریب لیکچر سننے پڑیں گے۔ دیکھنا ہر طرف سے کٹ کر رہ جانا اور یکسو ہو کر اسی رخ پر زندگی گزارتے چلے جانا جسے نبی کریم ﷺ نے اپنا راستہ قرار دیا ہے۔ حق و باطل کی آمیزش کے مختلف مواقع آئیں گے اپنی عافیت کے لیے نفس دلیلیں بھی گھڑے گا۔ احباب بھی اونچ نیچ سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ بار بار تمہارے کانوں میں یہ بات ڈالی جائے گی کہ ہمیں دنیا میں رہنا ہے تو دنیا سے لڑائی مول لے کر اور بالکل اس سے کٹ کر تو نہیں رہا جاسکتا اس طرح سو مقامات ہیں جس میں صحیح اور غلط کی شرکت کے امکانات کھل کر سامنے آئیں گے۔ ایسے حال میں حق کو رہنما بنا کر باطل سے منہ پھیرلینا یہ وہ حقیقی رویہ ہے جس کا یہاں حکم دیا گیا ہے بقول اقبال :
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
اسی رویہ سے توحید کے حقیقی تقاضے پورے ہوسکتے ہیں اس میں جس طرح شخصیت کی تمام کمزوریوں کا علاج ہوجاتا ہے اسی طرح اس وسعت کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے جو توحید کا حقیقی تقاضا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ توحید کا صرف یہ تقاضا نہیں ہے کہ توحید خالص کا راستہ پوری استقامت کے ساتھ چلتے رہو بلکہ اس کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں سے بھی الگ ہوجاؤ جو کسی بھی شکل اور ڈھنگ کا شرک کرتے ہوں۔ عقیدے ہی میں نہیں عمل میں بھی انفرادی طرز زندگی میں ہی نہیں، اجتماعی نظام ِ حیات میں بھی۔ معبدوں اور پرستش گاہوں ہی میں نہیں، درسگاہوں میں بھی، عدالتوں میں بھی، قانون سازی کی مجلسوں میں بھی، سیاست کے ایوانوں میں بھی، معیشت کے بازاروں میں بھی۔ غرض ہر جگہ ان لوگوں کے طریقوں سے اپنا طریقہ الگ کرلو جنھوں نے اپنے افکار و اعمال کا پورا نظام خدا پرستی اور ناخدا پرستی کی آمیزش پر قائم کر رکھا ہے۔
شرک کے بطلان پر دلیل
” وَلاَ تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ الخ اس آیت کریمہ میں شرک کے بطلان پر دلیل دی جارہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین بھی اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ اسباب کی دنیا میں انسان انسانوں کے کام آتے ہیں بلکہ بہت سی دوسری مخلوقات ہیں جن سے انسان اپنی ضروریات میں مدد لیتا ہے۔ باربرداری کے جانور بوجھ اٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔ دودھ دینے والے جانور دودھ کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ کتنے جانوروں سے انسان گوشت خوری کی ضرورت پوری کرتا ہے اسی طرح کتنے پرندے ہیں جو انسان کے دسترخوان کی زینت ہیں۔ اسی طرح ہوا، پانی، آگ اور مٹی سے ہم اپنی کتنی ضرورتوں میں مدد لیتے ہیں۔ بجلی نے ہماری زندگی کو کس طرح آسان کردیا ہے۔ مختلف دھاتوں سے ہم نے جو سواریاں تیار کی ہیں وہ ہمیں کس طرح اُڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اسی طرح انسان انسانوں کے کام آتا ہے کوئی جسمانی قوت کے ذریعے، کوئی دماغی صلاحیت کے باعث، کوئی اپنے اثرورسوخ کے واسطے سے، کوئی اپنی ایجادات کی صورت میں، غرضیکہ اسباب کی ایک دنیا ہے جس میں ہم گھرے ہوئے ہیں اور زندگی اسی طرح گزر رہی ہے کسی کو ہم فائدہ پہنچا رہے ہیں اور کوئی ہمیں فائدہ پہنچا رہا ہے کسی کا نفع وضرر ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہمارا نفع وضرر کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ یہ جو کچھ ہم نے عرض کیا یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا سکتا لیکن اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں کوئی شخص اللہ کے اذن کے بغیر کسی کے کام نہیں آسکتا۔ مختلف اشیاء اور مختلف دھاتیں جس طرح انسان کی خدمت کر رہی ہیں یہ کبھی ممکن نہ ہوتا اگر اللہ تعالیٰ ان میں خدمت کا جذبہ پیدانہ کرتا اور ہمارے اندر قوت تسخیر نہ ہوتی اور کتنے ایسے جانور ہیں جو جسمانی قوت اور قامت میں وسعت کے باوجود انسان کے سامنے سر جھکائے رکھتے ہیں۔ وہ ان سے خدمت لیتا ہے اور وہ کبھی انکار نہیں کرتے۔ وہ ہر وقت انسان کے سامنے سرتسلیم خم کیے رکھتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ قدرت نے انھیں ان کے مقصد تخلیق سے آگاہی عطا فرمائی ہے اور یہی چیز اس کا اذن ہے۔ اسی طرح ایجادات کی صورت میں انسان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ یقینا اللہ کی توفیق سے ہیں کیوں کہ وہی ذہنوں کو اس طرف لگاتا ہے اور وہی مطلوبہ اشیاء کو مسخر کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ انسان اسباب کی دنیا میں اگرچہ مختلف مخلوقات سے مدد لیتا اور ضروریات پوری کرتا ہے۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے اذن الٰہی کام کر رہا ہے ورنہ انسان کے لیے یہ کبھی ممکن نہ ہوتا۔ البتہ جو چیزیں اور جو قوتیں اسباب سے ماوراء ہیں اور جن تک انسان کی رسائی براہ راست نہیں ہوسکتی ان میں تو سراسر انسان اللہ ہی کا محتاج ہے کوئی اور قوت اس کے کام نہیں آسکتی۔ اور درحقیقت یہی زندگی کا وہ دائرہ ہے جس میں انسان غیر اللہ کو اللہ کا شریک بناتا ہے۔ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ جس کو بھی شریک بناتا ہے وہ یقینا اللہ کی مخلوق ہے اور ہر مخلوق اپنی بقاء اور بقاء کے امکانات اور اپنی طبعی ضرورتوں کے لیے اللہ کی محتاج ہے تو کس قدر حماقت کی بات ہے کہ ایک محتاج کو اللہ کا شریک سمجھ کر اس کے سامنے دست سوال دراز کیا جائے۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر بلکہ اس کے مقابلے میں ان قوتوں کو ہرگز مت پکاروجو نہ نفع دے سکتی ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسباب کی دنیا میں وہ اللہ کے اذن اور اس کی طرف سے قوت کی فراہمی کے محتاج ہیں۔ اور بالائے اسباب وہ سراسر اللہ کی محتاج ہیں کیونکہ وہاں کسی اور کے لیے ہرگز دم مارنے کی مجال نہیں ہیں۔ اور اگر اتنی واضح دلیل کے بعد بھی (آنحضرت ﷺ کو خطاب فرما کر دیگر نوع انسانی کو سنایا جا رہا ہے) کوئی غیر اللہ کو پکارتا اور نفع وضرر میں مدد طلب کرتا ہے۔ تو وہ درحقیقت اپنے اوپر ظلم کرتا ہے کیونکہ اللہ نے جو اسے مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے اور مخلوقات میں جو اس کی حیثیت ہے اور جس طرح اس کو مسجود ِملائک بنایا گیا ہے وہ جیسے ہی دوسروں کے سامنے جھکتا اور دست سوال دراز کرتا ہے تو وہ اپنی تمام حیثیتوں کو گم کردیتا ہے۔ اسے مخدوم بنایا گیا ہے وہ خادم بن جاتا ہے۔ اسے مسجود بنایا گیا ہے وہ ساجد بن جاتا ہے۔ اپنی اصل حیثیت کھو دینا اور برعکس حیثیت کو قبول کرلینایہی وہ ظلم ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ جس سے انسانوں کو اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
” وَاِنْ یَمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ “ الخ اگر انسان کے اندر ایمان کی قوت نہ ہو تو وہ ہمیشہ ایک خلا میں رہتا ہے اور یہی خلاء بھرنا اس کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا معمول یہ ہے کہ کبھی اسے کسی نقصان سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ نقصان سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی آستانہ تلاش کرتا ہے یا کوئی مددگار ڈھونڈتا ہے اور کبھی اسے کہیں سے فائدہ پہنچنے کی امید ہوتی ہے تو اسے اندیشے پریشان کرنے لگتے ہیں کہ ممکن ہے کہ راستے کے موانع اس فائدہ کو مجھ تک نہ پہنچنے دیں چناچہ اس کے تحفظ کے لیے کسی بڑی ذات کی پناہ تلاش کرتا ہے تو یہیں سے شرک کو غذا ملتی ہے اور شرک کی ابتداء ہوجاتی ہے۔ حالانکہ ہر غور وفکر کرنے والا آدمی یہ جانتا ہے کہ نفع وضرر کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے اگر وہ کسی کو ضرر پہنچانا چاہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ کسی کو فائدہ پہنچانا چاہے تو راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
مزیدبرآں ایک حقیقت اور بھی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے بندوں کے لیے غفور بھی ہے رحیم بھی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے بندوں سے رحمت کا معاملہ کرتا ہے کوئی اور کسی کو اگر فائدہ پہنچاتا ہے تو اس کا بدلہ بھی چاہتا ہے اور نقصان پہنچاتا ہے تو سرتاپا انتقام بن جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا کسی سے معاوضہ نہیں چاہتا اور کوئی اگر معاوضہ دینا چاہے بھی تو دے نہیں سکتا کیونکہ خالق کے فضل و کرم کا مخلوق کیا معاوضہ دے سکتی ہے اور اگر وہ کسی کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ بھی اس کے عدل کا تقاضا ہوتا ہے ورنہ نقصان برائے نقصان اس کے یہاں کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جس ذات کے رحم و کرم اور عدل و احسان کا یہ عالم ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی قوتیں بھی بےپناہ ہوں اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اس کی صفات یا اس کے حقوق میں کسی کو دخیل مانناحماقت بھی ہے اور دناءت بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
Ayah 10:108قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْج فَمَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَاج وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (یونس : 108)
(کہہ دیجیے ! اے لوگو آگیا تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے تو جو ہدایت قبول کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے اور جو بھٹکتا ہے اس کا وبال اسی پر آئے گا اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ )
آخری تنبیہہ
اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ پوری نوع انسانی کو ہے لیکن روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے۔ کیونکہ سابقہ آیات میں بھی انہی سے خطاب تھا اور یہی لوگ چونکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اولین مخاطب ہیں اور انہی میں سے ایمان لانے والے اسلامی قوت کا ہر اول دستہ بنیں گے۔ اس لیے ان کی ہدایت کے لیے بطور خاص زور دیا جا رہا ہے۔ اس آیت کریمہ میں بظاہر تو ایک بہت بڑی خبر دی گئی ہے بلکہ نوید سنائی گئی ہے لیکن حقیقت میں شاید آخری تنبیہ کی جارہی ہے کہ قریش کے لوگو ! اللہ نے نوع انسانی کی ہدایت کے لیے جو سرمایہ نازل کیا ہے اور جو حق اتارا ہے وہ تمہارے پاس آچکا ہے۔ کسی معمولی حکمران کی طرف سے آنے والا حکم اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے اگر بجا طور پر اس کا احترام نہ کیا جائے اور اسے تسلیم کرنے سے پس وپیش کیا جائے تو وہ حکمران حتی المقدور سزا دیتا ہے۔ یہ قرآن کریم جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ یہ خالق کائنات کا اہل زمین کے نام آخری پیغام ہے اس پیغام کی قبولیت اس پر ایمان اور اس پر عمل کے نتیجے میں اہل زمین فلاح و کامرانی کے مستحق ٹھہریں گے۔ بصورتِ دیگروہ دنیا میں بھی عذاب کا شکار ہوسکتے ہیں اور آخرت میں بھی جہنم کا ایندھن بن سکتے ہیں۔ اس لیے تمہیں سوچنا چاہیے کہ تمہاری زندگیاں اب اسی پیغام سے وابستہ ہیں تمہاری قسمت کے فیصلے اسی سے ہوں گے۔ تم میں سے جو شخص اس ہدایت کو قبول کرلے گا وہ اپنی زندگی بنا لے گا اور جو اس سے روگردانی کرے گا وہ اپنی قسمت بگاڑ لے گا۔ ایک منارئہ نور ہے جس کی روشنی راہ چلنے والوں کو راستہ بھی دکھا سکتی ہے اور آنکھیں بند کرنے والوں کو محرومی کا شکار بھی کرسکتی ہے۔ یہ ایسا آب حیات ہے جس کے نتیجے میں ہمیشہ کی زندگی بھی نصیب ہوسکتی ہے اور جس سے انکار کی صورت میں محرومی مقدر بھی بن سکتی ہے۔ یاد رکھو میں نے تمہاری طرف سے ہر طرح کی مخالفت برداشت کی اور ہر طرح کا دکھ اٹھایا اور آج بھی تمہاری ہمدردی اور غم گساری میں شب وروز جل رہا ہوں لیکن اس تمام جدوجہد کا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دوں اور بقدر ہمت تمہیں اس کی ترغیب دے کر ایمان کے لیے راستہ صاف کر دوں۔ لیکن اگر تم میری کاوشوں سے کوئی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے ہو تو پھر یاد رکھو کہ میں تم پر وکیل بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں۔ تمہاری اس روش کے نتیجے میں تم پر کیا گزرتی ہے میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں اور نہ میں تمہاری کوئی مدد کرسکوں گا۔
Ayah 10:109وَاتَّبِعْ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْکَ واصْبِرْ حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ جصلے وَہُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ ۔ ع
(یونس : 109)
(اے پیغمبر ! آپ پیروی کیجیے اس چیز کی جو تم پر وحی کی جاتی ہے اور ثابت قدم رہئے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردیں اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو ہدایت اور تسلی
قریش کو آخری تنبیہہ کے بعدنبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ مخالفین کے رویے کی پرواہ نہ کریں اللہ کی طرف سے آپ پر جو کچھ نازل کیا جارہا ہے اس کی پیروی کریں اور حالات سے کبھی متاثر نہ ہوں۔ بعض دفعہ حالات کی شدت آدمی کو رکنے پر مجبور بھی کردیتی ہے لیکن آپ اللہ کے نبی ہیں ان کی مخالفتیں آپ کا راستہ نہیں روک سکتیں آپ کی پشت پر اللہ کی تائید ونصرت ہے۔ آپ کی استقامت اور ثابت قدمی مخالفین کے لیے یا تو ہدایت کا راستہ کھول دے گی یا اللہ کا فیصلہ قریب آجائے گا۔ اور فیصلہ جس کے ہاتھ میں ہے وہ قریش کی کاروائیوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور آپ کی مساعی کریمہ بھی اس کے سامنے ہیں اس لیے آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ یہ لوگ اپنے انجام سے ضرور دوچار ہو کر رہیں گے۔ کیونکہ ہمیشہ سے سنۃ اللہ یہی ہے۔