Ayah 10:4اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا ط وَعْدَاللّٰہِ حَقًّاط اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ م بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ۔ (یونس : 4)
(اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بیشک وہی خلق کا آغاز کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا پانی ہے اور دردناک عذاب ہے۔ بسبب اس کے کہ وہ کفر کرتے تھے۔ )
عقیدہ آخرت کے اساسی حقائق
میں اس سے پہلے یہ عرض کرچکا ہوں کہ مکی سورتوں میں زیادہ تر عقائد کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ چناچہ گزشتہ آیتوں میں عقیدہ توحید اور عقیدہ رسالت کو بیان کیا گیا ہے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں اسلام کا تیسرا عقیدہ، عقیدہ آخرت کو بیان فرمایا جارہا ہے۔ عقیدہ آخرت کی بنیاد چند حقائق پر ہے۔
1 اس بات کو دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔ وہ یہاں ایک محدود وقت کے لیے آیا ہے اور دنیا میں اس کے آنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ دوسری دنیا یعنی آخرت کے لیے تیاری کرے اور اپنی زندگی اس طریقے اور ان احکامات کے مطابق گزارے جن کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے اور جسے اسلامی شریعت کہتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا شکر بجالائے اور ان تمام حقوق کو ادا کرے جو اسلامی شریعت نے اس پر عائد کیے ہیں اور وہ دنیا میں، دنیا کا بندہ بننے کی بجائے اللہ کا بندہ بن کر رہے۔ اس کا ہر فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق ہو اور اس کی سوچ اور اس کے اعمال پر اسلامی شریعت کا پہرا ہو۔ وہ زندگی کی ضروریات حاصل کرے لیکن ان کے حصول کا ذریعہ اسلامی شریعت سے پوچھے۔ وہ اپنی محنت اور اپنی ہمت کے مطابق اکتساب کرے لیکن اس کا طریقہ اور اس کا مقصد وہ ہو جو اسلام نے متعین کیا ہے۔ اپنی زندگی اور اپنی صلاحیتوں اور اپنے مال و دولت کو اللہ کی امانت جانے اور امانت کا حق ادا کرنے کی فکر کرے اور ہر لمحہ اپنے ذہن میں اس بات کو مستحضر رکھے کہ کسی وقت بھی موت کا پیغام آسکتا ہے۔ اس کا آنا جس قدر ناگہانی ہے اسی طرح یقینی بھی ہے۔ یہ تصور جس قدر دل و دماغ میں پختہ ہوتا جاتا ہے زندگی ویسے ویسے پاکیزہ تر ہوتی جاتی ہے اور جیسے ہی اس تصور سے غفلت شروع ہوتی ہے۔ زندگی میں بگاڑ کی راہیں کھل جاتی ہیں۔ اس لیے اللہ کے ہر نبی اور اس کی ہر کتاب نے سب سے زیادہ انسانوں کے لیے اس بات پر زور دیا کہ موت کو ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو۔ تمہارے ہر کام میں مہلت ہوسکتی ہے لیکن موت کے وقت میں مہلت نہیں ہوسکتی۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک لمحہ بھی ادھراُدھر نہیں ہوسکتا۔ امام رازی ( رح) نے سورة العصر کی تفسیر میں لکھا کہ میں بازار سے گزر رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک برف بیچنے والا برف کا بلاک سامنے رکھے دہائی دے رہا ہے کہ لوگو ! رحم کھائو اس آدمی پر جس کا سرمایہ گھلتا جارہا ہے، اگر تم اسے خرید لو گے تو اس کے دام کھرے ہوجائیں گے اور اگر خریدنے میں تاخیر کروگے تو برف گھل جانے کے باعث اس کے دام ضائع ہوجائیں گے۔ امام صاحب ( رح) فرماتے ہیں کہ مجھے معاً خیال آیا کہ برف کے گھلنے میں تو ایک وقت لگتا ہے، نہ وہ اس سے پہلے گھل سکتی ہے اور نہ بعد میں، لیکن عمر کی صورت میں جو سرمایہ میرے پاس ہے اس کے گھلنے میں تو ایک لمحہ بھی صرف نہیں ہوتا۔ پانی کا بلبلہ بھی اتنی جلدی نہیں ٹوٹتا جتنی جلدی بعض دفعہ انسانی عمر ختم ہوجاتی ہے۔ شیخ سعدی مرحوم نے ٹھیک فرمایا کہ ہر سانس پر آدمی کے ذمے دو شکر واجب ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک سانس، سانس کے آنے اور واپس جانے سے مکمل ہوتا ہے۔ اگر سانس پیٹ کے اندر جا کر واپس نہ آئے تو موت واقع ہوجاتی ہے اور اگر باہر آکر واپس نہ جائے تو تب بھی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے ایک سانس پر دو شکر لازم ہوئے۔ اس سے اندازہ فرمائے کہ انسان کی زندگی کتنی بےثبات اور ناپائیدار ہے۔ کتنی دفعہ دیکھا ہے کہ آدمی اچھا بھلا باتیں کررہا ہے کہ اچانک سانس رکا اور چلتا بنا۔ اچھا بھلا سویا، اٹھنا نصیب نہ ہوا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جان بلب مریض بعض دفعہ بچ جاتے ہیں اور تیماردار دوسری دنیا کو سدھار جاتے ہیں۔ ڈوبنے والے کو بچا لیا جاتا ہے اور بچانے والے بعض دفعہ ڈوب جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے زندگی کتنی بےاعتبار ہے اور یہ بےاعتباری انسان کے لیے کس قدر احتیاط کا تقاضہ کرتی ہے، لیکن یہاں تو ایک توجہ طلب بات اور بھی ہے کہ آدمی اگر ایسے کسی ناگہانی حادثے سے محفوظ بھی رہے تب بھی یہ ایسا سرمایہ ہے جو ہر وقت گھلتا رہتا ہے۔ آدمی کام کررہا ہو یا سو رہا ہو، رو رہا ہو یا ہنس رہا ہو، دکھ میں ہو یا راحت میں، ظلم کررہا ہو یا ظلم سہ رہا ہو، حاکم ہو یا محکوم کوئی لمحہ ایسا نہیں جب یہ سرمایہ گھلنے سے رک جاتا ہو۔ برف کو فریزر میں رکھ کر گھلنے سے بچایا جاسکتا ہے لیکن انسانی زندگی کو اس دنیا میں کہیں قرار نصیب نہیں۔ ہر وقت اس کا حال یہ ہے :
ہو رہی ہے عمر مثل برف کم
رفتہ رفتہ لحظہ لحظہ دم بدم
سانس ہے اک رہ رو ملک عدم
دفعۃً اک روز یہ جائے گا تھم
اندازہ کیجیے یہ زندگی کس قدر بےثبات، بےقرار اور ناپائیدار ہے اور کس قدر تلخ ہے یہ حقیقت کہ انسان اس کی ناپائیداری اور بےثباتی کو کبھی یاد رکھنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے سامنے جنازے اٹھتے ہیں، حادثے ہوتے ہیں، چھوٹے بھی مرتے ہیں اور بڑے بھی اور کتنی دفعہ جنازے کو کندھا دینے کا موقع ملتا ہے اور بعض دفعہ تو آدمی اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارتا ہے لیکن قبر سے نکلنے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ جسے مرنا تھا وہ مرگیا ہے مجھے موت نہیں آئے گی۔ کس قدر حیرت انگیز ہے یہ بات کہ موت اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور انسان سب سے زیادہ اسی سے بیخبر نہیں تو بےنیاز ضرور ہے بلکہ کسی کو اگر موت کی یاد دلائی جائے تو اسے برا لگتا ہے اور وہ قبرستان میں جا کر بھی اس طرح درّانہ وار گھومتا ہے کہ اسے خیال ہی نہیں ہوتا کہ ایک دن مجھے یہیں آنا ہے اور یہی شہر خموشاں میری اصل منزل ہے۔” سودا “ نے ایسے ہی لمحہ کو محفوظ کرتے ہوئے کہا ہے :
کل پائوں ایک کاسہ سر پر جو جا پڑا
ہرچند وہ استخوانِ شکستہ سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کر چل راہ بیخبر
میں بھی کبھی کسی کا سرِ پر غرور تھا
چناچہ آخرت کی یاددہانی کے لیے اسلام سب سے پہلے موت کو یاد رکھنے پر زور دیتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ موت ہی وہ چیز ہے جو خواہشات اور غفلت کو توڑ دینے والی ہے۔
2 آخرت کے بارے میں دوسرے جس تصور پر زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ تم زندگی میں جو کچھ کرتے ہو چاہے لوگوں کے سامنے کرو یا تنہائی میں، چاہے روشنی میں کرو یا تاریکی میں ہرحال میں اللہ اسے جاننے والا ہے۔ اس کی نگاہ برابر تمہارے تعاقب میں رہتی ہے۔ اس کے دو فرشتے ہر وقت تمہارے دونوں کندھوں پر رہتے ہیں۔ وہ ہر وقت تمہارے اعمال کو محفوظ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ تم اپنے اعمال اور خیالات کو بھول سکتے ہو لیکن اللہ کے علم میں اور تمہارے نامہ اعمال میں وہ ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ چناچہ یہی تمہارا نامہ اعمال تمہارے خلاف یا تمہارے حق میں قیامت کے دن حجت بنے گا۔ وہ جب تمہاری ایک ایک بات کو تمہارے سامنے کھول کر رکھ دے گا تو تم حیران ہو کر کہو گے کہ ہائے میری شامت اعمال یہ رجسٹر کیسا ہے جس نے میری کسی چھوٹی بڑی بات کو چھوڑا نہیں۔ اسی کو گواہ بنا کر اللہ تعالیٰ ہر شخص کا حساب لے گا۔ نیکیاں بھی تلیں گی اور برائیاں بھی۔ اسی کے مطابق جزاء اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ اس لیے جس طرح موت کو یاد رکھنا ضروری ہے اسی طرح اس حقیقت کو بھی مستحضر رکھنا ضروری ہے کہ میرا اصل سرمایہ ایمان اور حُسنِ عمل ہے۔ یہی وہ سکہ ہے جو قیامت میں کام آئے گا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی رشتہ کام آئے گا اور نہ کوئی نسبت۔ مال و دولت اور عہدہ و منصب سب یہیں دھرے رہ جائیں گے۔
3 جس طرح ہر شخص کا مرنا ضروری ہے کیونکہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں جسے موت سے رستگاری ہو ” امیرمینائی “ نے ٹھیک کہا :
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمدمرسل ﷺ نہ رہے کون رہے گا
اسی طرح یہ دنیا بھی ہمیشہ نہیں رہے گی۔ ایک دن آئے گا جب اس کائنات کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ ہر زندہ موت کی نذر ہوجائے گا۔ ہر چیز ہلاکت کے گھاٹ اتر جائے گی۔ پھر اک وقت آئے گا جب قبریں پھٹیں گی اور لوگ زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکلیں گے اور جس کسی کی قبر کا نشان بھی نہیں ہوگا اسے بھی اللہ تعالیٰ اٹھا کھڑا کریں گے۔ ایک محشر بپا ہوگا، سب لوگ محشر میں جمع ہوں گے۔ خداوندذوالجلال کی عدالت سجے گی، ہر انسان وہاں اپنے حساب کتاب کے لیے پیش ہوگا۔ نیک لوگ جنت میں جائیں گے اور برے لوگ جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔
عمل کی آمادگی کے دو سبب
ان تین بنیادی تصورات کے مجموعے کو آخرت کہتے ہیں۔ یہ کیونکہ دنیا کے بعد آنے والی دنیا ہے اس لیے اس کو آخرت کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن کریم اس عقیدے پر اس لیے زور دیتا ہے کہ اگر یہ عقیدہ ذہنوں سے محو ہوجاتا ہے تو پھر انسان کو راہ راست پر رکھنے والی کوئی چیز نہیں کیونکہ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ صرف دو سبب سے آمادہ عمل ہوتا ہے یا عمل میں اصلاح کی فکر کرتا ہے۔ وہ دو سبب ترغیب اور ترہیب کہلاتے ہیں۔ ترغیب کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی انسان کو یہ یقین دلادیا جائے اور رغبت پیدا کردی جائے کہ تم اگر یہ کام کرو گے تو اس کے بدلے میں تمہیں فلاں فلاں چیزیں مل سکتی ہیں تو اگر وہ چیزیں اس کی نگاہ میں قدر و قیمت کی حامل ہوں تو وہ ضرور اس کے حصول کے لیے محنت کرتا بلکہ جان مارتا ہے۔ راتوں کو جاگ کر چراغوں کی لو پر آنکھوں کو سینک کر جو لوگ حصول علم کے لیے محنت کرتے ہیں ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جو اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ بیشتر لوگ ایسے ہیں جو اس لیے محنت کا عذاب جھیلتے ہیں تاکہ اس کے نتیجے میں ان کو کوئی ڈگری ملے اور ڈگری اس لیے حاصل کرتے ہیں تاکہ کسی بہتر نوکری کو حاصل کرسکیں۔ کوئی بہتر تنخواہ پاسکیں اور اس طرح آسودہ زندگی گزار سکیں۔ دن بھر چلچلاتی دھوپ میں ایک مزدور محنت کرتا ہے صرف اس لیے تاکہ وہ اجرت حاصل کرسکے۔ کاروباری لوگ شب و روز محنت کرتے ہیں، سونا بھی نصیب نہیں ہوتا صرف اس لیے تاکہ بیش از بیش دولت حاصل کرسکیں۔ اسلام نے بھی آخرت کے لیے ترغیب سے کام لیا۔ اس نے کہا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے محنت کرو گے اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو گے اور شریعت کی پابندی کرو گے تو یقین جانو تمہیں قیامت کے دن جنت عطا ہوگی جس کی نعمتوں کو نہ تمہاری آنکھوں نے دیکھا نہ تمہارے کانوں نے سنا اور نہ کبھی تمہارے دل میں ان نعمتوں کا تصورگزرا اور پھر قرآن و سنت نے بعض دفعہ ان نعمتوں کی تفصیلات بھی بیان فرمائیں تاکہ ترغیب کا عمل مکمل ہو۔ چناچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان نہ صرف شریعت کی پابندی کے لیے محنت کرتے تھے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کی بلندی کے لیے دنیا کا ہر دکھ اٹھاتے تھے اور اگر اس راستے میں شہادت نصیب ہوتی تھی تو زخمی ہو کر گرتے ہوئے بھی بجائے چیخنے چلانے کے ان کی زبان پر یہ جملہ ہوتا تھا فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَۃِ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جنت کی بیش بہا نعمتوں کے حصول کے لیے جان دینا بھی کوئی بڑی قیمت نہیں۔ ٹھیک کہا کسی شاعر نے :
بہرِغفلت یہ تری ہستی نہیں
دیکھ جنت اس قدر سستی نہیں
دوسری چیز ہے ترہیب، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو یہ آگاہی دی جائے کہ اگر تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی بجائے شیطان کی اطاعت کی اور اگر تم نے رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی بجائے خواہشات نفس کا اتباع کیا یا طاغوت کی بندگی کی تو پھر یاد رکھو ممکن ہے کہ دنیا میں تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچے رہو لیکن قیامت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور جہنم کے عذاب سے نہیں بچ سکو گے اور یہ عذاب ایسا سخت ہے کہ اس کا تصور بھی تمہیں ہلا ڈالنے والا ہے۔ چناچہ ہم جو صحابہ کرام ( رض) کو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کے دربار میں روتا ہوا دیکھتے ہیں اور بڑے سے بڑا اللہ کا ولی عمر بھر اس کے عذاب اور اس کے غضب سے لرزاں اور ترساں رہتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز پانچویں خلیفہ راشد ہیں اور حضرت حسن بصری تابعین کے سرخیل ہیں لیکن وہ اللہ کے غضب اور جہنم سے ڈر کر اس طرح روتے کہ دیکھنے والے کہتے کہ ایسا لگتا تھا جیسے جہنم ان دونوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ انسان یا ترغیب سے کام کرتا ہے یا ترہیب سے۔ آخرت کے تصور میں یہ دونوں محرک شامل ہیں۔ اس لیے یہاں قرآن کریم نے خاص طور پر فرمایا کہ تمہیں اسی کی طرف پلٹنا اور لوٹنا ہے یعنی ایک دن سب انسانوں کو اسی کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ اگلے جملے میں قیامت کے وقوع پر عقلی دلیل دی گئی ہے کیونکہ مشرکین عرب کو عقلی طور پر قیامت کے آنے سے انکار تھا۔ وہ اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہر زندہ چیز موت کا شکار ہوجائے گی اور کائنات کا ایک ایک کرہ شکست و ریخت کی نذر ہوجائے گا اور پھر ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ زندگی آئے گی اور تمام انسانوں کو زندہ کرکے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا۔ وہاں حساب کتاب ہوگا اور اسی کے مطابق جزاء سزا ہوگی۔ انھیں چونکہ اصل انکار دوبارہ زندہ ہونے سے تھا اس لیے سب سے پہلے عقلی طور پر اسی کا جواب دیا گیا۔ ارشاد فرمایا :
اِنَّہٗ یَبْدَؤُاالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ” بیشک وہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا۔ “ اس سے پہلے ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا پکا اور سچا وعدہ ہے۔ ہر پیغمبر اور اس کی امت نے اس کی سچائی پر گواہی دی ہے لیکن تمہیں نہ جانے کیوں قیامت کے آنے میں شبہ ہے حالانکہ قیامت کا آنا بعض مسلمات کا جواب بھی ہے اور عقل کا تقاضہ بھی۔ تم جس طرح اللہ کو خالق مانتے ہو اور اس کی قوت تخلیق میں کسی اور کو شریک نہیں سمجھتے اسی طرح تم اس بات کو بھی مانتے ہو کہ اللہ کی ذات قادر مطلق ہے۔ اس کے لیے کسی چیز کی تخلیق ناممکن تو دور کی بات ہے مشکل بھی نہیں ہے۔ جب تم اس کو کائنات کا اور خود اپنا خالق تسلیم کرتے ہو تو پھر یہ کس قدر بےعقلی کی بات ہے کہ تم یہ کہنے لگو کہ اللہ تعالیٰ ایک دفعہ تو کائنات کو پیدا کرچکا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ وہ ایک دفعہ پیدا کرنے کے بعد اپنی صفت تخلیق اور صفت قدرت سے محروم ہوگیا حالانکہ جو شخص بھی اللہ کی صفات کا معمولی فہم بھی رکھتا ہے وہ اس بےہودگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اللہ کسی حالت میں اپنی صفات سے محروم ہوسکتا ہے اور یا اس کی کسی صفت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ وہ اگر ایک دفعہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو دوبارہ اسے پیدا کرنے میں کس طرح دشواری پیش آسکتی ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت قدرت کو دلیل بنا کر مشرکین کی اس غلطی کو بار بار واضح فرمایا۔
سورة نازعات آیت 27 تا 33 میں فرمایا :
ئَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآئُ ط بَنَاھَا۔ وقفہرَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا۔ لا وَاَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا۔ ص وَلْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا۔ ط اَخْرَجَ مِنْھَا مَآئَ ھَا وَمَرْعٰھَا۔ ص وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا۔ لا مَتَاعَا لَکُمْ وَلْاَنْعَامِکُمْ ۔ ط
(تمھاری تخلیق مشکل ہے یا آسمان کی ؟ اللہ نے آسمان کو پیدا کیا اور اس نے چھت کو بلند کرنے کے بعد اس کو استحکام بخشا۔ رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا۔ اس کے بعد زمین کو بچھایا، ان میں سے پانی نکالا، چارہ پیدا کیا اور پہاڑوں کو اس پر کھڑا کردیا۔ یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے مویشوں کے لیے متاع ہے۔ یعنی جو خالق ومالک ان تمام باتوں پر قدرت رکھتا ہے آخر وہ تمہاری ہمہ گیر موت اور دوبارہ زندگی پر قدرت کیوں نہیں رکھتا۔ )
سورة بنی اسرائیل میں فرمایا :
” وَقَالُوْا اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّرِفَاتًائَ اَنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا “ (بنی اسرائیل : 42)
(اور وہ بولے کہ جب ہم ہڈی اور چورا ہوجائیں گے تو پھر کیسے نئے اٹھا کر بنائے جائیں گے۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا وہ ان جیسے لوگوں کو دوبارہ بھی بنا سکتا ہے۔ )
سورة روم میں فرمایا کہ خدا وہی ہے جو خلق کو آغاز کرتا ہے، پھر اس کو دوبارہ خلق کرے گا اور یہ دوبارہ خلق کرنا اس کے لیے آسان ہے۔
سورة یٰسین میں فرمایا :
قَالَ مَنْ یُحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْم۔ قُل یُحْیٖھَا الَّذِیْ اَنْشَاھَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۔
(یٰسین : 78 تا 79)
” وہ بولے کون ان کھوکھلی و سڑی ہڈیوں کو زندہ کرے گا۔ آپ کہہ دیجیے وہی جس نے پہلی دفعہ ان کو بنایا۔ “
سورة قیامہ میں ارشاد فرمایا :
” اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ لَنْ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ بَلٰی قَادِرِیْنَ عَلٰی اَنْ نَسْوِیْ بَنَانَہٗ “
(کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو پھر جمع نہ کرسکیں گے۔ ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ چھوٹی ہڈیوں، ریشوں اور رگوں سے اس کی انگلیوں کے پورے بنا ڈالیں)
یعنی جس پروردگار نے چھوٹی ہڈیوں، ریشوں اور رگوں سے ایسے پوروں کو ترتیب دیا ہے کہ جو آج بھی دستاویزی ثبوت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اربوں کھربوں انسانوں کی تخلیق کے باوجود کسی ایک انسان کے انگوٹھے کا نشان دوسرے انسان سے نہیں ملتا۔ جو خالق کائنات اس بات پر قادر ہے کیا وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌ م بِمَا کَانُوْا یَکْفِرُوْنَ ۔
(تاکہ وہ بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے عدل کے ساتھ اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا پانی ہے اور دردناک عذاب ہے، ان کے کفر کی پاداش میں)
قیامت کا وقوع عدل کا تقاضا ہے
آیت کا یہ جملہ قیامت کے آنے پر دلیل بھی ہے اور قیامت کے وقوع کا مقصد بھی۔ یعنی قیامت محض شکست و ریخت کا نام نہیں۔ نہ ازسرنو نئی دنیا بسانے کا نام ہے بلکہ اس کے لانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نیکوں کو نیکی کا بدلہ ملے اور بروں کو برائی کی سزا ملے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک اہم ترین صفت، صفت عدل بھی ہے۔ انسانوں کو شریعت کا پابند کرنا اور زمین پر خلافت کا قیام اور خلافت کو حکومت کے ساتھ قوت فراہم کرنا اور اللہ اور رسول کے بعد عادل حکمرانوں کی اطاعت کا حکم، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا اظہار ہے اور دنیا میں چونکہ اس صفت کو پوری طرح بروئے کار نہیں لایا جاسکتا اس لیے قیامت کا آنا عدل کا تقاضہ بھی ہے اور عقل کی اپیل بھی۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عدل کو تسلیم کرتا ہے اور پھر بھی وہ قیامت کے آنے سے انکار کرتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ وہ یا تو عدل کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا اور یا وہ عقل سے تہی دامن ہے۔
عدل کا ایک معنی ہے تلافی مافات۔ یعنی نقصان کو پورا کرنا۔ اس عدل کے بیشمار مناظر ہمارے سامنے ہیں۔ جب ہم کسی درخت کی شاخوں کو کاٹ دیتے ہیں تو نئی شاخیں ان کی جگہ لے لیتی ہیں۔ جب ہم کسی جنگل کا کوئی ٹکڑا درختوں سے صاف کردیتے ہیں تو وہاں نئے پودے اور نئی بوٹیاں اگ آتی ہیں۔ جب تلوار وغیرہ سے کسی حصہ جسم کا گوشت کٹ جاتا ہے تو قدرت نیا گوشت پیدا کردیتی ہے۔ ہم کنویں سے کتنا ہی پانی نکالیں، زمین کی رگوں سے اتنا ہی پانی اس میں آجاتا ہے۔ یہ حقیقتِ عدل ہے جو حیات کی ہر سطح میں پائی جاتی ہے اور جس پر ارض و سما کا نظام قائم ہے اس عدل کا تقاضا ہے کہ جب ہم سے یہ دنیا چھن جائے تو ہمیں ایک اور ایسی دنیا ملنی چاہیے جہاں اس زندگی کی تمام ناانصافیوں کی تلافی ہو۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں جو لوگ انسانیت کے سب سے بڑے محسن رہے ہیں ان میں انبیاء بھی ہیں اور مصلحین امت بھی۔ وہ سب سے زیادہ ستائے گئے۔ انھوں نے انسان کو راہ راست دکھانے اور پنجہ استبداد سے چھڑانے کے لیے بےاندازہ مصائب اٹھائے لیکن اس کے بدلے میں جن پر انھوں نے احسان کیا ان کی طرف سے انھیں کیا ملا ؟ کوئی سپردِدار ہوا اور کوئی سپردِنار۔ کسی کو قتل کیا گیا تو کسی کو زندہ دیوار میں چن دیا گیا۔ انھیں اس زندگی میں سوائے مصیبتوں اور تکلیفوں کے کچھ نہیں ملا۔ بقول شاعر :
زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے
وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے
اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ جنھوں نے انسانیت کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی وہ دنیا میں ظلم و استبداد کی علامت بن کر رہے اور جنھوں نے خالق کائنات کے مقابلے میں اپنی ربوبیت کا صور پھونکا، وہ ہمیشہ عیش و عشرت کی زندگی گزارتے اور زندگی کی نعمتوں سے فیضاب ہوتے رہے۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ جب چنگیز کے پوتے ہلاکو خان نے 1258 ء میں بغداد پر حملہ کیا تھا تو وہاں 7 دن میں 19؍ لاکھ شہری موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ ہلاکو اور اسی نوع کے دیگر قزاقوں اور قاتلوں کو ان جرائم کی سزا کیا ملی ؟ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بیوہ کا اکلوتا بیٹا جو اس کے بڑھاپے کا سہارا تھا کسی قاتل کی گولی کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہ باقی زندگی پولیس کے چکر کاٹتی، دربدر ٹھوکریں کھاتی اور شب و روز آنسو بہاتی گزار دیتی ہے۔ اولاً تو اس کے قاتل پکڑے نہیں جاتے اور پکڑے بھی جائیں تو انھیں سزا نہیں ملتی۔ وہ رات دن یہ کہہ کہہ کر تخت الٰہی کو ہلاتی رہتی ہے۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مظلوم کے اوقات
اور پھر کتنے لوگ ایسے ہیں جو تخت اقتدار پر بیٹھ کر لاکھوں آدمیوں کی محرومیوں کا باعث بنتے ہیں یا ان کے قتل کا سبب ٹھہرتے ہیں اور کتنے ایسے تخریب کار ہیں جو گاڑی کی پٹڑی اکھاڑ کر یا بم پھینک کر سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں کو لقمہ اجل بنا دیتے ہیں۔ اولاً تو ان کو سزا نہیں ملتی اور اگر ملتی بھی ہے تو ان کی ایک جان سینکڑوں اور ہزاروں جانوں کا عوض تو نہیں بن سکتی۔ ایک جان تو ایک جان کا بدلہ ہوسکتی ہے، باقیوں کا بدلہ کون دے گا ؟ اگر اللہ عادل ہے اور عدل اس کی صفت ہے تو اسی صفت عدل کا تقاضہ ہے کہ ایسی دنیا ہونی چاہیے اور ایک ایسی عدالت قائم ہونی چاہیے جہاں انسانیت کے محسنوں اور قاتلوں کو اپنے اپنے کیے کا بدلہ ملے۔ محسن لافانی مسرتوں سے ہمکنار ہوں اور مجرم قہرو عذاب کا شکار ہوں۔
Ayah 10:5ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآئً وَّ الْقَمَرَ نُوْراً وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتٗعْلَمُوْا عَدَدَالسِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط مَاخَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ ج یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔
(یونس : 5)
(وہی ہے جس نے سورج کو درخشاں اور چاند کو نور بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم جان لو سالوں کا شمار اور حساب۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کارخانہ بےمقصد نہیں بنایا۔ وہ تفصیل سے بیان کرتا ہے اپنی قدرت کی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ )
گزشتہ مضمون کی مزید تسہیل
گزشتہ آیت کریمہ میں قیامت کے وقوع اور اللہ کی صفت عدل کے اظہار پر مسکت اور شافی دلائل دیئے گئے۔ اب اس آیت کریمہ میں اسی بات کی مزید تسہیل اور وضاحت کے لیے کچھ ایسی باتیں ارشاد فرمائی جارہی ہیں جسے ہر روز ہماری آنکھیں دیکھتیں اور ہر رات ہمارے دل محسوس کرتے ہیں جن کے ساتھ ہماری سرگرمیاں وابستہ اور ہماری خاموشیاں پیوستہ ہیں جن کی اہمیت، افادیت اور عظمت کو دیکھتے ہوئے دل و دماغ سرنگوں ہوجاتے ہیں اور جن کی ہمہ گیری اور وسعتوں کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جس شخص کو بھی اللہ نے دو آنکھیں دے رکھی ہیں اور اس کے اندر حواس پوری طرح کارفرما ہیں۔ وہ جب آفتابِ عالم تاب کو افق مشرق پر جلوہ افروز ہوتے دیکھتا ہے اور پھر اس کی کرنوں کو ضیاء کے جام لنڈھاتے ہوئے محسوس کرتا ہے اور پھر جس کی تاثیر کبھی سمندروں سے بھاپ اٹھاتی اور کبھی غلے اور پھلوں کو پکاتی ہوئی نظر آتی ہے اور جس کی گرمی سے ہر گھر کا چولہا جل رہا ہے اور جس کی حدت اور تمازت سے انسانی زندگی کا انجن رواں دواں ہے۔ وہ جب مشرق سے طلوع ہوتا ہے تو اس کی ایک ایک کرن تاریکی کے آخری حصے تک کا تعاقب کرتی ہے اور پھر جب وہ اپنی مقررہ راہ سے گزرتے ہوئے شام کے وقت پردہ شب میں محجوب ہوجاتا ہے تو کون ہوش و خرد رکھنے والا شخص ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے سحر میں ڈوب نہیں جاتا اور پھر کون ہے کہ جو اس کی عظمت اور افادیت کے سامنے مبہوت ہو کر نہیں رہ جاتا اور سوچنے پر مجبور نہیں ہوجاتا کہ جس مخلوق کی قدوقامت، وسعت، عظمت، ہیبت اور ہمہ گیری کا یہ عالم ہے، اس کا خالق کیسا ہوگا۔ جس نے اس کرہ کی گرمی میں کروڑوں ایٹم بموں کی طاقت بھردی ہے جو وہ ہر وقت اگلنے میں مصروف ہے۔ وہ بجائے اس کے کہ زمین کی مخلوقات کو بھسم کرکے رکھ دے۔ انھیں زندگی کی نوید دیتا اور ان کے لیے زندگی بخش ثابت ہوتا ہے۔ جب شام ہوتی ہے تو چاند آہستہ آہستہ افق سے ابھرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی روشنی ذاتی نہیں بلکہ سورج سے حاصل کرتا ہے۔ اسی لیے اس کی روشنی کو نور اور سورج کی روشنی کو ضیاء کہا گیا ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ سورج کی روشنی جس میں ایک تپش ہے اور حدت ہے اور آنکھیں جس کا سامنا نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے اندر پارے سے بڑھ کر چمک اور سفیدی رکھتی ہے لیکن وہی روشنی جب چاند کے پیمانہ سے ہو کر گزرتی ہے تو اس کا رنگ روپہلی ہوجاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سورج اگر چاندی بکھیرتا ہے تو یہ سونا بکھیر رہا ہے۔ اس کی روشنی بجائے گرمی کے ٹھنڈک اور سکون دیتی ہے، غلے میں گداز اور پھلوں میں مٹھاس پیدا کرتی ہے۔ یہ دونوں اپنے اپنے سفر پر آگے پیچھے رواں دواں رہتے ہیں لیکن کیا مجال جو سورج چاند کو جا پکڑے یا رات دن سے آگے نکل جائے۔ اس نے ہر ایک کی منزلیں مقرر کردی ہیں، لیکن اس آیت کریمہ میں صرف چاند کی منزلوں کے تعین اور تقرر کا ذکر فرمایا اور اس کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ تم اس کی مدد سے دنوں اور سالوں کا حساب کرسکتے ہو۔ اسلامی شریعت میں شمسی کیلنڈر ممنوع نہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں اس کی اجازت دی گئی ہے لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پسندیدہ قمری کیلنڈر ہے کیونکہ یہ ایسا کیلنڈر ہے جس سے ہر دور میں ہر سطح کا آدمی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اسے جاننا کوئی مشکل نہیں کیونکہ چاند زمین کے گرد گردش کرتا ہے اور اپنی گردش کے فلک کو 27 دن، 7 گھنٹوں اور 43 منٹوں میں طے کرتا ہے لیکن اسے اس جگہ پر پہنچنے کے لیے جہاں وہ سورج سے نور حاصل کرسکے مزید اڑھائی دن لگتے ہیں۔ اس لیے نیا چاند 29/ 30 دن کے بعد دکھائی دیتا ہے۔ علماء فلک نے چاند کے لیے 28 منزلیں مقرر کی ہیں اور ہر منزل کو اس کے ستارے یا ستاروں کے مجموعہ سے موسوم کیا ہے جہاں وہ ہر رات پہنچ جاتا ہے۔ جب تک چاند ان منزلوں میں ہوتا ہے وہ آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے پھر اگر مہینہ 29 دن کا ہو تو ایک رات اور اگر 30 کا ہو تو 2 رات نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے اور پھر ازسرنومنزل اول سے گردش شروع کردیتا ہے۔ اس طرح سے انسانوں کے لیے سالوں کی گنتی، دن رات کا تعین اور مہینوں کا تقرر آسان ہوگیا۔ ہر شخص بڑی آسانی سے ہر علاقے میں چاہے میدانی ہو یا پہاڑی، اپنے اوقات معلوم کرسکتا ہے۔ اسلام میں عبادات کا نظام قمری حساب سے رکھا ہے اور باقی زندگی کے معاملات کو ہماری مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ شمسی حساب سے رکھو یا قمری حساب سے، لیکن یہ یاد رہے کہ قمری حساب چونکہ ہجرت سے متعلق ہے اس لیے اس کی اسلامی اور تاریخی حیثیت بھی ہے۔ بنابریں یہ ازبس ضروری ہے کہ ہجری تقویم کی عظمت و افادیت نظرانداز نہ ہونے پائے۔ شمسی تقویم سے فائدہ اٹھایا جائے لیکن ہجری تقویم متروک نہ ہونے پائے۔
جس پروردگار نے ہماری زندگی کو آسان اور رواں دواں کرنے کے لیے شمس و قمر کو تخلیق فرمایا اس کی روشنی سے ہماری زندگی آسان کی اور ان کی گردش سے ہمیں تقویم عطا فرمائی۔ اس کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ کائنات کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ وہ ایک دفعہ مخلوق کو پیدا کرکے اپنی قوت کھو چکا ہے۔ اب کائنات کا نظام ایسے اتفاق اور مفروضوں سے چل رہا ہے جنھیں عقل کے لیے تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ اسی طرح اس نظام کو دیکھ کر کون باور کرسکتا ہے کہ یہ ازخود وجود میں آنے والا نظام ہے اور اس کے پیچھے کوئی حکمت نہیں۔ گویا یہ کسی کباڑیئے کا مال گودام ہے حالانکہ اس کا ایک ایک گوشہ اس کے خالق کی عظیم قدرت اور اس کی بےپایاں رحمت و ربوبیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کی ہر مخلوق کی تخلیق میں نہایت اعلیٰ درجہ کا اہتمام، بینظیر ترتیب اور نظم دکھائی دیتا ہے۔ اللہ نے اس کی ہر چیز کو ایک مقصد دے کر پیدا فرمایا ہے۔ پانی کے ایک قطرے، ریت کے ایک ذرے اور پھول کی ایک پنکھڑی اور درخت سے پھوٹنے والی ایک کونپل سے لے کر آسمان کے ستاروں، سیاروں اور ثوابت پر نظر ڈالی جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے خالق کی تخلیق ہے جس کی قدرت و حکمت کی کوئی انتہاء نہیں۔ جس نے ہر چیز کو بامقصد اور باغایت بنایا۔ نہ یہاں پھول بےمقصد کھلتا ہے اور نہ بےسبب کانٹے کی نوک تیز ہوتی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے انسان جیسے گل سرسبدکو بےمقصد زندگی دے کر پیدا کردیا ہے۔ اسے عقل جیسی نعمت کھیل تماشے کے لیے عطا کی گئی ہے۔ اس پر وحی الٰہی اس لیے اترتی رہی ہے کہ وہ گھروندے بناتا رہے اور توڑتا رہے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ نے ان میں سے کوئی چیز بھی بےمقصد نہیں بنائی اور وہ اپنی بعض مخلوقات کی طرف توجہ دلاکر تمہارے سامنے اپنی نشانیاں کھولتا ہے تاکہ تمہیں حقیقت شناسی میں آسانی ہو۔
Ayah 10:6اِنَّ فِی اخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ۔ (یونس 6)
(بےشک گردش لیل و نہار میں اور جو کچھ پیدا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو متقی ہے۔ )
دلائل آفاق نہایت سہل انداز میں
قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ دلائل میں فلسفیانہ انداز اختیار نہیں کرتا اور ایسی بات کو دلیل میں پیش نہیں کرتا جس کا سمجھنا عام انسانی عقل کے لیے دشوار ہو۔ وہ بالکل سامنے کی بات کرتا ہے اور براہ راست انسان کی فطرت اور اس کے دل پر دستک دیتا ہے۔ وہ ایسے بدیہیات سے حقائق کو استنباط کرتا ہے جو انسان کے معمول کا حصہ اور اس کی جانی پہچانی چیزیں ہیں۔ لیل و نہار کی گردش ہمارا روز مرہ ہے۔ کون زندہ شخص ہے جسے دن کے اجالے اور رات کی تاریکی سے واسطہ نہیں پڑتا۔ ہر آدمی دیکھتا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے دن نکلتا ہے اور سورج کی گرمی اور روشنی ہماری معیشت کا سامان کرتی ہے۔ زندگی کی ساری ہمہ ہمی اسی سبب سے ہے اور رات کی خاموشی اور اس میں چاند کی لوریاں دیتی ہوئی روشنی آرام اور راحت کا بستر بچھا دیتی ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سورج نے نکلنے سے انکار کردیا ہو یا اس نے چاند کو روشنی بہم پہنچانے سے تخلف کیا ہو یا شب و روز کی گردش میں کبھی فرق آیا ہو، اگر ایسا ہوتا تو کبھی موسم وجود میں نہ آتے۔ اگر زمین کا رخ سیدھا سورج کی طرف ہوتا تو ہم بہار اور خزاں سے محروم ہوجاتے۔ اگر زمین کی گردش میں تبدیلی آجاتی تو جون کا طویل دن ہمیں بھسم کردیتا اور دسمبر اور جنوری کی طویل رات ہر چیز کو جما دیتی۔ گردش کے معمولی تغیر سے ہماری تمام جنتریاں غلط ہوجاتیں سورج جیسا کرہ اپنے بےپناہ حجم اور اپنی بےپناہ قوت کے باعث کچھ بھی کرسکتا ہے اور زمین کی گردش میں کبھی بھی تغیر واقع ہوسکتا ہے لیکن حیرانی ہے کہ ہزارہا سال سے جب سے ان کی تخلیق ہوئی ہے کبھی کوئی تغیر واقع نہیں ہوا۔
ایک اور پہلو سے بھی غور کیجیے کہ زمین اور آسمان آپس میں تخالف کی نسبت رکھتے ہیں اور رات اور دن کا نظام ایک دوسرے سے یکسر متضاد ہے۔ زمین کے پہلو میں سمندر اور دریا ہیں اور سورج آگ برساتا ہے۔ کبھی اس کا خطرہ پیدا نہیں ہوا کہ وہ پانی کو خشک کردے گا بلکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس کی کرنیں سمندر سے ڈول بھر بھر کر فضاء میں ابر کی چادریں بچھا دیتی ہیں اور جب زمین آبیاری کی درخواست کرتی ہے تو یہی بادل اس کے جواب میں پانی برساتا ہے۔ زمین نہ تو پانی کو نگلتی ہے کہ دلدل بن جائے اور نہ اگلتی ہے کہ آبیاری نہ ہوسکے۔ زمین سے نکلنے والی ہر کونپل کو سورج کی گرمی جلانے کی بجائے پالتی اور پختہ کرتی ہے۔ غور کیجیے کہ کس طرح سورج اور چاند زمین اور آسمان اور ان کی گردشوں میں قدم قدم پر تضاد اور تخالف ہے لیکن بجائے اس تخالف کے اظہار کے ہمیں توافق نظر آتا ہے جس کے نتیجے میں انسانی ضرورتیں پوری ہورہی ہیں۔ یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اگر متخالف عناصر رکھنے والے کرے اپنی مرضی میں آزاد ہوتے اور کسی بالادست قوت کے قانون نے انھیں باندھ نہ رکھا ہوتا تو زمین پر ایک تباہی اور ہلاکت کی حکومت ہوتی۔ بجائے انسانی ضرورتیں پوری ہونے کے انسانی زندگی ناممکن ہوجاتی۔ اسی حیران کن حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس گردش لیل و نہار اور آسمانوں اور زمین کی مخلوق میں نشانیاں ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے نہیں جو نشانیوں کو دیکھ کر وہیں مبہوت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کائنات کا حسن و جمال دنگ کردیتا ہے۔ اس جہاں کی وسعتیں، فراخیاں، بلندیاں اور پستیاں ان کی چشم ہوش کو خیرہ کردیتی ہیں۔ وہ ہر چیز کے ظاہر تک پہنچ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی تحقیق کی معراج تک پہنچ گئے ہیں۔ وہ پھول کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس کے رنگ و بو اور اس کی خوشبو سے اس طرح فائدہ اٹھانا ہے جس سے ہمارا مشام جاں معطر ہوجائے یا زیادہ سے زیادہ ہم اس سے گل قند بنا سکیں لیکن وہ کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اگر مقصود صرف خوشبو ہوتی تو پھر یہ خوبصورت رنگ و روپ جو پھول کو عطا کیا گیا ہے اس کی کیا ضرورت تھی اور اگر صرف اس سے گل قند ہی بنانا تھی تو خوشبو کی بھی کیا حاجت تھی۔ یہ چیزیں بھی اس سے مقصود تھیں لیکن اصل مقصود اس خالق کی معرفت تھی جس کی صفت تخلیق نے ایسی حیرت انگیز مخلوقات کو وجود بخشا، لیکن یہ حکمت و دانش ان کو نصیب ہوتی ہے جن کی نگاہیں دنیا کی رعنائی اور زیبائی، قوت و تاثیر اور خوبی و کمال میں اٹک کر نہیں رہ جاتیں بلکہ وہ ان کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے اور اس کے دیدار سے مشرف ہوتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی دولت عطا کی ہے۔
Ayahs 10:7–8اِنَّ الَّذِیْنَ لاَیَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا وَرَضُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَاطْمَأَنُّوْا بِھَا وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ۔ لا اُولٰٓئِکَ مَاْ وٰھُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (یونس 7۔ 8)
(حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور وہ دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانانارِ جہنم ہے۔ ان برائیوں کی پاداش میں جن کا وہ اکتساب کرتے تھے۔ )
انسان کا اصل روگ اور اس کا صحیح علاج
پیشِ نظر آیات کریمہ میں پروردگار آخرت کے ثبوت اور حقیقتِ نفس الامری کے لیے ایک تجرباتی دلیل پیش فرما رہے ہیں جس کی صداقت کی تائید انسانوں کا عمل کرتا ہے اور یہ ایک ایسی پختہ دلیل ہے جو تاریخ کے ہر دور میں موجود رہی ہے اور کوئی قوم بھی اس کے اظہار میں پیچھے نہیں رہی۔ امرواقعہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے اعمال کے اعتبار سے دو طرح کے رہے ہیں، اچھے اور برے۔ معاشرے کے لیے مفید اور نقصان دہ۔ انسانیت کی دلیل اور انسانیت کے لیے تہمت۔ قابل فکر اور قابل تقلید اور قابل شرم اور قابل نفرت۔ تاریخ کے ہر دور میں آپ کو ایسے انسان ملیں گے اور آج بھی دنیا ان دونوں طرح کے انسانوں سے بھری ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسانوں کی یہ تقسیم ہر دور کی ایک حقیقت رہی ہے اور کسی دور کو آپ اس سے خالی نہیں پاتے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟
بہتر انسانوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اچھے انسان پیدا ہوں اور انسانوں کو اچھائی اور بھلائی کی طرف مائل کیا جائے تاکہ انسانیت کی قسمت میں پتھر نہ پڑیں اور انسانی زندگی الجھنوں کی شکار نہ ہو۔ چناچہ ہر دور کی طرح اس دور میں بھی جب 1400 لوگوں نے اس پر غور کیا تو ان کی سوچ کا نتیجہ مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے آیا۔ اگر ہم اسے لپیٹ کر بیان کریں تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے انسانوں کے بگاڑ کا ذمہ دار چند عوارض کو ٹھہرایا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر یہ عوارض دور کردیئے جائیں تو انسان کو انسانیت کے جامہ میں لایا جاسکتا ہے۔ وہ عوارض کم و بیش ہوسکتے ہیں لیکن عموماً مندرجہ ذیل عوارض پر سمجھدار لوگوں کا اتفاق رہا۔ (1) جہالت، (2) ضروریات زندگی کا فراہم نہ ہونا یعنی غربت کا عام ہوجانا (3) قانون سے بیخبر ی، (4) قانون کی بالادستی کا فقدان، (5) احتسابی اداروں کا کمزور پڑجانا یا کرپٹ ہوجانا، (6) حکومت کا عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں عوام میں انارکی۔ یہ وہ اسباب ہیں جن پر ہمیشہ اہل دانس کا اتفاق رہا کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی سبب انسانی بگاڑ کا باعث ہوتا ہے اور اگر ان اسباب کو دور کردیا جائے تو انسانی اخلاق اور انسانی رویوں میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔ تاریخ کے گزشتہ ادوار کو تو چھوڑیئے لیکن آج کا انسان جن حالات سے گزر رہا ہے انھیں ہم دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ آج کی دنیا تین حصوں میں تقسیم ہے۔ (1) ترقی یافتہ، (2) ترقی پذیر، (3) پسماندہ۔ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی بحث کو تو چھوڑیئے لیکن ترقی یافتہ ملکوں میں سے بیشتر کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم نے اپنے معاشروں، اپنے سماج اور اپنے ملکوں میں مندرجہ بالا خرابی کے اسباب میں سے کوئی سبب باقی نہیں رہنے دیا۔ علم کی اشاعت کے لیے تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیا گیا۔ غربت کے علاج کے لیے گزارہ الائونس مقرر کردیا گیا اور حکومتوں کو رفاہی شکل دے دی گئی۔ جابجا قانونی ادارے کھول دیئے گئے اور وکلاء کی سہولت ہر شخص کو مہیا کردی گئی۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنادیا گیا اور انصاف کو گھروں کی دہلیز تک پہنچا دیا گیا۔ احتسابی ادارے اس قدر مضبوط ہوگئے کہ جرم کرنے والا ان کی نگاہوں سے مخفی نہیں رہ سکتا۔ کیمرے کی آنکھ ہر وقت ان کے تعاقب میں رہتی ہے۔ حکومتیں اس قدر مستحکم کردی گئیں کہ وہاں کبھی بحران سر نہیں اٹھاتا۔ اس طرح سے ان اسباب میں سے ایک ایک سبب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے ممالک جنت کا نمونہ بن جائیں اور وہاں کسی شخص کے جان و مال اور عزت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو، لیکن نہایت دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ان ملکوں کے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی طرف سے جو سالانہ رپورٹیں چھپتی ہیں انھیں دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ رپورٹیں انھیں ملکوں کی ہیں۔ وہاں تو جرائم کی شرح پسماندہ ملکوں کو بھی شرماتی ہے۔ وہاں بھی جان مال اور عزت اسی طرح خطرے میں ہے جیسے پسماندہ ممالک میں، بلکہ انتہائی ترقی یافتہ ممالک جو دنیا پر خدائی کے دعویدار ہیں ان کی خودسری، ظالمانہ روش، انسان دشمنی، انسانوں کی تقسیم اور اپنے ملکی اور قومی مفادات کے لیے دوسرے ملکوں کو ادھیڑ ڈالنا اور ظلم کی داستانیں رقم کردینا جیسی حرکتوں میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان کی قوت اور تباہی کے وسائل کی وسعت کے سامنے انسانیت کا مستقبل روزبروز تاریک تر ہوتا جارہا ہے۔ ایسی صورتحال کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ ان اسباب کے دور کردینے سے انسان میں بہتری آسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے آج تک انسان کے جن عوارض کو حقیقت میں عوارض سمجھا ہے وہ انسانیت کے عوارض ضرور ہیں لیکن وہ حقیقی نہیں۔ انسان کا مرض کچھ اور ہے اور یہ اسباب صرف اس کے مظاہر ہیں۔ قرآن کریم نے ان آیات کریمہ کو انسان کے اصل روگ کی نشاندہی کی ہے اور پھر اس کا اصل علاج بتایا ہے اور اس کے لیے محض مفروضوں پر گفتگو نہیں کی اور نہ الفاظ کی طلسم آرائی سے کام لیا اور بلکہ اس کے ثبوت کے لیے تاریخ سے گواہی دلوائی ہے۔ پیشتر اس کے کہ میں اس حقیقی روگ کا ذکر کروں جس نے ہمیشہ انسانی زندگی کو تاراج کیا ہے اور اس کا حقیقی علاج آپ کے سامنے لائوں۔ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس علاج پر مبنی ایک تجربہ جو کہ 1400 سال پہلے کیا گیا تھا اس کا آپ سے ذکر کروں۔ اس سے آپ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ جب ہمارے سامنے ایک کامیاب تجربہ موجود ہے۔ اور جبکہ ہم بار بار کے تجربات سے ناکامی کے زخم اٹھا چکے ہیں تو ہمیں اسے اختیار کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے۔ اس تجربہ کے حوالہ سے یہ بات چیت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جن لوگوں میں اس کا تجربہ کیا گیا ایسا نہیں تھا کہ ان کا بگاڑ معمولی نوعیت کا تھا بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ جزیرہ عرب جس کو سب سے پہلے اس تجربہ کے لیے چنا گیا اور پھر اسے بیس (Base) بنا کر باقی پوری نوع انسانی کو وہ نسخہ کیمیا مہیا کیا گیا، وہ نفرتوں، عداوتوں اور جرائم کا جہنم بنا ہوا تھا۔ قدم قدم پر قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ لوٹ مار کو بہادری اور دل اوری سمجھا جاتا تھا۔ گھر کے باہر انسان کی جان اور گھر کے اندر اس کی عزت و عصمت ہر لمحہ خطرے میں تھی۔ خود اپنے جگر کے ٹکڑوں کو زندہ درگور کرتے ہوئے انھیں کبھی رحم نہیں آتا تھا۔ ماں، باپ اور بہن کے رشتے پامال ہوچکے تھے۔ راہ چلتے قافلے بھی لٹنے سے محفوظ نہیں رہتے تھے۔ انسان اپنی شقاوت اور بدبختی کی انتہا کو پہنچ چکا تھا لیکن تجربہ کرنے والے نے انسانی اصلاح کا جب آغاز کیا تو اس نے نہایت اعتماد کے ساتھ یہ کہا کہ لوگو ! آج جب تم اپنے جزیرے کو جہنم بنا چکے ہو ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ ایک عورت تن تنہا مکہ سے حیرہ تک اکیلی سفر کرے گی اور اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جیسے جیسے یہ تجربہ آگے بڑھتا گیا وہ جزیرہ عرب جہاں کبھی نفرتوں اور عداوتوں کے کانٹے اگتے تھے اور جہاں کسی کی جان و مال اور آبرو کو کوئی پناہ نہیں تھی اسی جزیرے میں محبت و الفت اور امن و آشتی کے پھول کھلنے لگے۔ حتیٰ کہ صرف 23 سال کے عرصہ میں 12 ؍لاکھ مربع میل علاقے میں ایک ایسا کوثر و تسنیم میں دھلا ہوا معاشرہ پروان چڑھا جس کی نظیر چشم فلک نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ تجربہ اور اس کے نتیجے میں پیش آمدہ انقلاب وہ تھا جسے آج سے 1400 سال پہلے سرکارِدوعالم ﷺ نے برپا فرمایا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ اس انقلاب میں علم کی طاقت بھی تھی اور انسانی اختیاج کے دور کرنے کو بھی مناسب جگہ دی گئی تھی۔ اس میں قانون کو بالادست بھی بنایا گیا تھا، اس میں کسی حد تک احتسابی ادارے بھی اپنا کام کررہے تھے لیکن اس میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا تھا وہ اس حقیقی مرض کو دور کرنا تھا جس کی وجہ سے ہمیشہ انسان بگڑتا ہے اور پھر اس بگاڑ سے نہ اسے تعلیم روکتی ہے اور نہ دولت مندی اس کا ہاتھ روکتی ہے۔ ہندوستان کا آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن جو شاہی خاندان کا فرد اور اپنے ملک میں وزیر دفاع بھی رہا اور پھر لارڈ ہونے کی وجہ سے مالی استحکام بھی رکھتا تھا۔ بایں ہمہ یہ چیزیں اس کو جرم کرنے سے نہ روک سکیں اور وہ اپنے ڈیری فارم میں دودھ میں پانی ملاتے ہوئے پکڑا گیا اور عدالت نے اسے جرمانہ کی سزا بھی دی۔ اس کے پاس دولت تھی، علم تھا وہ سب کچھ تھا جو انسان کو بظاہر انسان بننے کے لیے کافی ہے لیکن چونکہ اس کے حقیقی مرض کا علاج نہیں کیا گیا تھا تو وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک صالح انسان نہ بن سکا۔ اقبال مرحوم نے ٹھیک کہا تھا :
زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوز جگر ہے علم ہے سوز دماغ
اسلام نے یہی سوز جگر دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جرائم کا اصل سبب نہ فقر و افلاس ہے نہ ناخواندگی نہ احتسابی محکموں کی قلت اور نہ قانون سے بےشعوری بلکہ ان جرائم کا اصل سبب وہ بیمار ذہنیت ہے جس نے افق سے افق تک پھیلی ہوئی اس دنیا کو اپنا سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ جو اس مادی دنیا کے اس طرف جھانکنے کی صلاحیت سے محروم ہے اور جس کے نزدیک صرف چند روزہ زندگی کے مادی منافع اور نفسانی لذتیں ہی انسان کی معراج ہیں۔
انسان کے ذہن میں جرم کا بیج دراصل اس وقت پڑتا ہے جب وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ میرے نفع و ضرر کی ساری کائنات صرف اسی دنیاوی زندگی میں سمٹی ہوئی ہے اور میری لذت و راحت اور رنج و تکلیف کی انتہا قبر کے کنارے ہونے والی ہے۔ لہٰذا اگر میں نے یہاں زیادہ سے زیادہ دولت زیادہ سے زیادہ شہرت اور زیادہ سے زیادہ لذت و آسائش حاصل نہ کی تو گویا اپنی ساری عمر برباد کردی اور ہمیشہ کے لیے محروم ہوگیا۔ محرومی کا یہ خوف ہی دراصل سارے جرائم کی بنیاد ہے اور یہ خوف اس آخرت ناآشنا ذہنیت سے پیدا ہوتا ہے جو مرنے کے بعد کسی ابدی زندگی کی قائل نہیں۔ جو یہ سمجھتی ہے کہ جب موت میری آنکھیں بند کردے گی تو پھر وہ کبھی نہیں دیکھ سکیں گی۔ جسے آخرت کی پیش گوئیاں معاذاللہ محض افسانہ معلوم ہوتی ہیں یہی خیالات ہیں جو انسان کی ہوس کو بھڑکا بھڑکا کر ایک نہ مٹنے والی بھوک اور نہ بجھنے والی پیاس میں تبدیل کردیتے ہیں پھر انسان کو لذت و راحت کی کسی منزل پر قرار نہیں آتا۔ وہ عیش و آرام کے کسی درجے پر قانع نہیں ہوتا۔ دنیاوی محرومی کا خوف ایک بھوت کی طرح اس کے اعصاب پر مسلط ہوجاتا ہے اور اسے دنیا طلبی کے جنون میں مبتلا کرکے اس مقام پر لے آتا ہے جہاں اپنی اور صرف اپنی ہوس کے تسکین کے سوا زندگی کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے اسے بدتر سے بدتر راستہ اختیار کرتے ہوئے بھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ لہٰذا جب تک یہ بیمار ذہنیت ختم نہ ہو اس وقت تک انسانوں کی کوئی تہذیب جرائم کو ختم نہیں کرسکتی۔ قانون اور اس کی تنفیذ کے ادارے خواہ کتنے ترقی یافتہ ہوجائیں لیکن اگر انسان میں یہ آخرت فراموش ذہنیت باقی ہے تو وہ ان کی ہر چال کا جواب اور ہر تدبیر کا توڑ ایجاد کرتی رہے گی۔ موجودہ دنیا کا تجربہ شاہد ہے کہ جو انسانی ذہانت جرائم کی تحقیق و تفتیش کے ترقی یافتہ طریقے دریافت کرسکتی ہے وہ ارتکابِ جرائم کے نئے نئے ڈھنگ نکالنے پر بھی قادر ہے اور جب آگے بڑھنے کی رفتار دونوں طرف برابر ہو تو مجرم اور اس کا تعاقب کرنے والے کے درمیان ہمیشہ ایک ہی فاصلہ برقرار رہے گا اور اس میں کبھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔ مختصر یہ کہ انسانی سیرت و کردار کی اصلاح کے لیے اگر کوئی نسخہ کامیاب ہوسکتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں آخرت کا تصور راسخ کیا جائے اور اسے یقین دلادیا جائے کہ یہاں کی دنیا اصل دنیا نہیں، یہاں کا رنج و راحت ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔ ایک ابدی اور پائیدار زندگی آگے آنے والی ہے جسے آخرت کہتے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیشی ہوگی اور دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اگر آج اس حقیقت کا ادراک نہ کیا گیا اور زندگی من مرضی سے گزاری اور خواہشات نفس کے اتباع کو اپنا معمول بنائے رکھا تو یہ زندگی بھی دکھوں اور مصیبتوں میں گزرے گی اور آخرت میں جہنم ٹھکانا ہوگا۔
Ayahs 10:9–10اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَھْدِیْمِ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِہِمْ ج تَجْرِیْ مِنْ تَحِتِھِمُ الْاَنْھٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَتَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ ج وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ ع (یونس : 9۔ 10)
(یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال کرتے رہے، انھیں ہدایت کرے گا ان کا رب، ان کے ایمان کی وجہ سے، بہتی ہیں ان کے نیچے سے نہریں وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ پاک ہے تو اے خدا اور ان کی دعا اس میں (یہ ہوگی) سلامتی ہو، اور اس کی دعا کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ ساری تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ )
آخرت کی فکر کا انجام
سابقہ آیت میں ان انسانوں کا انجام بتایا گیا ہے جو آخرت سے غافل اور دنیا کی زندگی سے جی لگا کے بیٹھ جاتے ہیں اور ایک سے ایک بڑھ کر نشانی انھیں آخرت کی یاد دلاتی ہے لیکن وہ غفلت کے مارے کبھی اس کی طرف آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے بلکہ دنیا ہی کی زندگی کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں بالآخر ان کا انجام یہ ہوگا کہ جہنم ان کا ٹھکانا ہوگا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں دوسری طرح کے لوگوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے جنھوں نے اللہ کے نبی کی دعوت کو قبول کیا اور اس بات پر یقین لے آئے کہ یہاں کی زندگی حقیقی زندگی نہیں بلکہ یہ آخرت کی زندگی کی تیاری کے لیے ایک مہلت عمل ہے۔ یہاں رہ کر قدم قدم پر آزمائشیں ہیں جن کے ذریعے انسانوں کا امتحان لیا جاتا ہے کہ تم دنیا ہی کو اپنی منزل سمجھتے ہو یا اس دنیا کو اس طرح برتو گے اور اس طرح اس میں زندگی گزارو گے کہ جس سے تم آخرت میں سرخرو ہوسکو۔ چناچہ جن لوگوں نے اللہ کے نبی کی ہدایت پر آخرت کو اپنی منزل بنا لیا اور اپنے اعمال کو اس قالب میں ڈھال لیا جس کی ہدایت لے کر اللہ کے نبی آئے تھے اور زندگی کا ہر عمل اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق انجام دیا۔ مرتے دم تک اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کی۔ اعلائے کلمۃ الحق کو اپنا مقصد سمجھا اور ہر قدم اس طرح اٹھایا جس کا آخرت میں جواب دیا جاسکے۔ چناچہ یہ لوگ ایمان اور عمل صالح لے کر جب دنیا سے گزر جائیں گے تو اللہ انھیں جنت کا راستہ دکھائے گا۔ یہاں اس آیت میں ہدایت دینے سے مراد جنت تک پہنچانا ہے کیونکہ ہدایت کبھی راستہ دکھانے کو کہتے ہیں اور کبھی مطلوب تک پہنچانے کو کہتے ہیں۔ اللہ کے نبی نے جو راستہ دکھایا، یہ اس راستے پر چلتے رہے اور اسی پر زندگی گزاری۔ آخر ایک وقت آیا کہ اللہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انھیں جنت تک پہنچا دیا۔ پھر اس جنت کا شوق تیز کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں جو جنت دی جائے گی اس کے نیچے سے ندیاں رواں ہوں گی جس کے باغات میں نعمتوں کی بہار لہلہائے گی اور ایسی ایسی نعمتیں میسر آئیں گی جو انسان کے ادراک سے بھی بالاتر ہے۔ چناچہ مومن اپنی آنکھوں سے اللہ کے رسول کے وعدوں اور قرآن کریم کی بشارتوں کا مصداق چاروں طرف پھیلی ہوئی نعمتوں کی شکل میں دیکھیں گے تو بےساختہ زبان سے سُبْحٰنَکَ اللَّھُمَّ کے الفاظ نکلیں گے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یا اللہ تو پاک ہے اس بات سے کہ تیرا کوئی وعدہ غلط ثابت ہو۔ ہم نے جو سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا۔ ہم نے جو گمان کیا تھا وہ سچا ثابت ہوا۔ پھر اپنی کامیابیوں اور کامرانیوں پر اہل جنت ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے۔ مبارک سلامت کا ایک شور ہوگا جو چاروں طرف گونج رہا ہوگا۔ تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ اسی کی تعبیر ہے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس آیت میں دعویٰ کا معنی دعا ہے لیکن جنت میں پہنچنے کے بعد کوئی ایسی نعمت نہیں ہوگی جس کے لیے اہل جنت دعا کرسکیں۔ جو کچھ ان کے سامنے ہوگا وہ ان کے تصور سے بھی فزوں تر ہوگا۔ اس لیے ان کی زبان سے دعا کی بجائے بار بارسبْحٰنَکَ اللَّھُمَّ نکلے گا۔ گویا یہی ان کی دعا ہوگی اور یہی ان کی تسبیح ہوگی۔ اور اس کلمہ تسبیح میں وہ ایسی لذت محسوس کریں گے کہ یہ بجائے خود ان کے لیے سب سے بڑی نعمت بن جائے گی۔ اور اگر ایک حدیث کو پیش نظر رکھا جائے تو پھر تو اس نعمت کا کیا کہنا ! حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بندہ میری حمدوثنا میں ہر وقت لگا رہے یہاں تک کہ اس کو اپنے مطلب کی دعا مانگنے کی بھی فرصت نہ رہے تو میں اس کو تمام مانگنے والوں سے بہتر عطا کروں گا۔ یعنی بےمانگے سب کچھ دے دوں گا۔ اس حیثیت سیسُبْحٰنَکَ اللَّھُمَّ کے دعا ہونے میں کیا شبہ ہے۔ اسی معنی کے اعتبار سے صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ کو جب کوئی تکلیف اور بےچینی پیش آتی تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ لاَاِلہ اِلاَّاللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْم، لاَاِلٰہَ اِلاَاللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم، لاَاِلٰہَ اِلاَاللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَرَبُّ الْاَرْضِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْم۔
اللہ کی طرف سے برستی ہوئی نعمتوں اور چاروں طرف پھوٹتے ہوئے خوشیوں کے فواروں اور اہل جنت کے چہروں سے ابلتی ہوئی مسرتوں اور فرشتوں کی زبانوں سے تہنیت اور خوش آمدید کے کلموں سے فضاء میں ایک ایسی روحانیت کا ارتعاش پیدا ہوگا جس سے ہر جنتی کے دل میں اہتزاز کی لہر اٹھے گی وہ بےساختہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِ الْعٰلَمِیْنَ پکارے۔