10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsروح القرآن

Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اگر اللہ تعالیٰ جلدی کرتا لوگوں کو عذاب پہنچانے میں جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی۔ ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

وَلَوْ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّاسْتِعْجَا لَھُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْھِمْ اَجَلُھُمْ ط فَنَذَرُالَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (یونس : 11) (اگر اللہ تعالیٰ جلدی کرتا لوگوں کو عذاب پہنچانے میں جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی۔ ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ ) سابقہ رکوع میں پروردگارِ عالم نے اسلام کے تین بنیادی عقائد کو بیان فرمایا ہے اور بطور خاص آخرت کے عقیدے پر زور دیا گیا ہے کیونکہ توحید اور رسالت کے عقائد کو تسلیم کرلینا بےمعنی رہتا ہے اگر آخرت کو تسلیم نہ کیا جائے کیونکہ جو آدمی اس بات سے بیخبر یا بےنیاز ہے کہ ایک دن ہم سب کو دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں ہماری حاضری ہوگی۔ وہاں اس زندگی میں کیے ہوئے ایک ایک عمل سے متعلق سوال کیا جائے گا اور پھر اسی پر ہماری جزاء و سزا کا انحصار ہوگا۔ ایسے شخص کی زندگی میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی لیکن جب کسی آدمی کو اس جوابدہی کا یقین ہوجاتا ہے اور وہ حتمی انداز میں یہ جان لیتا ہے کہ قیامت کے بعد اگلی زندگی شروع ہوگی اور اس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی پر ہے تو اس کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ وہ ایسی ہر سوچ اور ہر عمل سے بچتا ہے جو آخرت کی کامیابیوں کو گدلا سکتا ہے اور ایسے ہر تصور اور ہر عمل کی طرف مشتاقانہ لپکتا ہوا جاتا ہے جو اس کی آخرت کی زندگی کو سنوار سکتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا مستحق بناسکتا ہے۔ اب اس آیت کریمہ میں چند ایسی باتوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جن کی وجہ سے آخرت کے تصور کو نقصان پہنچتا ہے اور آدمی بڑھتے بڑھتے اس انتہا تک پہنچ جاتا ہے جس میں مشرکینِ عرب پہنچ چکے تھے۔ آخرت کے عقیدہ کو نقصان پہنچانے والے تصورات مشرکین کی بری عادتوں یا ان کے برے رویوں میں سے ایک بات یہ تھی کہ وہ بداعمالیوں اور فکرونظر کی کوتاہیوں سے ایسے بےپروا ہوگئے تھے کہ بڑی سے بڑی کو تاہی فکر اور بد ترین بداعمالی بھی انھیں بری محسوس نہیں ہوتی تھی۔ خیر و شر میں امتیاز کا ذوق بالکل مٹ چکا تھا۔ انھیں ان کی کسی کوتاہی یا گمراہی پر اگر توجہ دلائی جاتی تو بجائے اس پر غور کرنے کے وہ کہنے والے کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجاتے تھے۔ البتہ اپنی خواہشات کا ذوق اور انھیں پورا کرنے کی ہوس وہ روزافزوں تھی۔ زندگی کی ضروریات سے لے کر تعیشات تک ہر چیز ان کی نگاہوں میں رہتی تھی اور رات دن ان کے حصول میں لگے رہتے تھے اور جن چیزوں کو اپنی وسعت و امکان سے دور سمجھتے تھے ان کے لیے کبھی اپنی شرکاء کے سامنے اور کبھی اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرتے تھے اور پھر ایسی لجاجت اور بےصبری سے دعائیں مانگی جاتی تھیں کہ ہر روز اس بےقراری میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ پروردگار اس آیت کریمہ میں یہ فرما رہے ہیں کہ تم رات دن اپنی خواہشات کے حصول میں دیوانہ ہوئے جاتے ہو اور تمہاری یہ خواہشیں بےقراریوں میں ڈھلتی جاتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اگر تمہیں منہ مانگی چیزیں نہ ملیں تو تم شاید زندہ نہ رہ سکو، لیکن تمہیں کبھی بھول کر بھی اس کا خیال نہیں آتا کہ جس اللہ سے تم اس قدر الحاح وزاری سے دعائیں مانگتے ہو شب و روز اس کی کس قدر نافرمانی کرتے ہو۔ اس کی صفات اور حقوق میں تم نے کتنی قوتوں کو شریک کر رکھا ہے اور تمہارے اعمال اور اخلاق قدم قدم پر تمہاری نافرمانیوں کی داستان سناتے ہیں۔ تم جس طرح خواہشات کی طلب میں حریص واقع ہوئے ہو کبھی اس کا تھوڑا سا اظہار اپنے اعمال و اخلاق کی اصلاح کے لیے بھی کرسکو تو تمہاری زندگی سنور سکتی ہے۔ تمہیں دیوانگی تو اپنی خواہشات کو بروئے کار لانے کی ہے حالانکہ تمہاری بداعمالیاں وہ بار بار غضب الٰہی کو دعوت دیتی ہیں۔ جیسے تم اپنی طلب میں جلدی مچاتے ہو اگر اللہ تعالیٰ بھی تمہاری بداعمالیوں پر گرفت کرنے میں ایسی ہی جلدی کرتا تو اندازہ کرو کہ تم کس مصیبت میں مبتلا ہوجاتے بلکہ اندیشہ ہے کہ تمہارا نام و نشان مٹ جاتا لیکن ہماری رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم بیشک اپنی جھوٹی آرزوئوں کو پورا کرنے میں اندھے ہوجاؤ لیکن ہماری رحمت ضرور تمہیں مہلت دیتی رہے گی۔ دوسرا مطلب اس آیت کریمہ کا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب انھیں قیامت کے دن کی بازپرس اور جوابدہی سے متنبہ کیا اور انھیں آگاہی دیتے ہوئے یہ بھی بتلایا کہ جس طرح قیامت کا آنا یقینی ہے اور اس دن ایک ایک پل اور ایک ایک عمل کا حساب ناگزیر ہے اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر تم نے اللہ کے نبی پر ایمان لانے میں کوتاہی کی تو کسی وقت بھی اللہ کا عذاب نازل ہوسکتا ہے تو ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی بار بار تنبیہ کے بعد کہنا شروع کردیا کہ آپ ﷺ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہیں ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں بلکہ ہم محض اس کو ایک ڈھکوسلا سمجھتے ہیں، لیکن اگر آپ کو اس پر اصرار ہے تو پھر تم یہ عذاب لے کیوں نہیں آتے۔ آخر اس میں تاخیر کیوں ہورہی ہے۔ یہ ایسا بحری جہاز ہے جو کہ راستے میں لنگرانداز ہوگیا ہے کہ ہم تک پہنچ ہی نہیں پا رہا۔ قرآن کریم اس کے جواب میں انھیں ایک اصولی حقیقت سے آگاہ کررہا ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ زمین اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔ جس طرح زمین اور باقی کائنات اس کے احکام سے کبھی سرتابی کرنے کی جرأت نہیں کرتے اس طرح تمہیں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی کی مجال نہیں ہونی چاہیے۔ اس نے تمہیں ایک محدود آزادی اس لیے دے رکھی ہے اور اس کی وجہ سے تم رد یا قبول سے کام لے سکتے ہو لیکن حقیقت میں تمہاری بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ تم کبھی اس کے احکام سے انحراف نہ کرو اور اگر تم اس انحراف سے باز نہ آئو تو زمین اور اس کا گردوپیش تقاضا کرنے لگتے ہیں کہ ہم جبکہ اس کی ہر ضرورت پورا کرنے کے لیے اللہ کے حکم کے مطابق اس کے احکام کی تعمیل میں کوشاں رہتے ہیں بلکہ ہم نے اپنے آپ کو اس کا مسخر بنا رکھا ہے لیکن جب یہ اس حاکم حقیقی کے احکام کی پابندی نہیں کرتا تو حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اس کی فوری سزا ملنی چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت چونکہ ہر چیز پر حاوی ہے اس لیے پروردگار کبھی انسانوں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا جس طرح انسان اپنے مطلوبات کی طلب میں جلدبازی دکھاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اللہ کے احکام سے انحراف کی سزا میں بھی جلدی کی جائے لیکن پروردگار بجائے جلدی کرنے کے وہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے تاکہ انسان اگر سنبھلنا چاہے تو سنبھل جائے کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ بعض دفعہ ایک چیز کو نہیں سمجھتا لیکن وقت گزر نے ساتھ ساتھ اس کا ادراک کرنے لگتا ہے۔ بعض دفعہ حالات کا دبائو، حوادث کا جبر یا رسول کریم ﷺ کی دعوت اسے بدلنے پر آمادہ کردیتی ہے۔ ایسی کسی تبدیلی کی امید پر پروردگار انسان کو مہلت پہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور یہ اس کی ایسی رحمت ہے کہ اگر یہ نہ ہوتی تو انسان انتہائی بدنصیب واقع ہوتا کیونکہ غلطی کرجانا اور پھر اس پر اڑ جانا یہ اس کا مزاج ہے۔ اگر اس کی ہر غلطی پر پروردگار فوری پکڑنے لگتا تو قرآن کریم کہتا ہے کہ زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا باقی نہ رہتا کیونکہ یہ بہت مشکل ہے کہ انسان غلطی سے محفوظ رہے۔ اس لیے پروردگار نے اسے سنبھل جانے کا موقع فراہم کیا لیکن جب کوئی شخص اپنے بگاڑ میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور اس کے واپس پلٹنے کے امکانات کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جاتے ہیں تو ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ کی مہلت کا مفہوم دوسرا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بداعمالیاں کرنے والا اور گمراہیوں میں ڈوب جانے والا اگر واپس پلٹنا اور توبہ کرنا نہیں چاہتاتو ٹھیک ہے اسے اپنی روش پر بڑھنے دیا جائے تاکہ اسے کوئی ارمان نہ رہے اور ساتھ ہی اس کی فائل بھاری ہوتی چلی جائے اور جب اس کو اس کے جرائم کی پاداش میں پکڑا جائے تو یہ خود یا کوئی اس کا جاننے والایہ نہ کہہ سکے کہ اسے کیوں پکڑا گیا، اسے مہلت کیوں نہ دی گئی اور اس کے ساتھ مہربانی کا سلوک کیوں نہ کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم اس کی کسی گمراہی یا سرکشی کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کرتے تاکہ وہ یہ شکوہ نہ کرسکے : ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے اور نہ کائنات کی کوئی مخلوق ان کی گرفت پر تأسف کا اظہار کرسکے کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ کے کسی عظیم بندے کی موت کا وقت آتا ہے تو بعض دفعہ آسمان حرکت میں آتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے نافرمان بندوں پر اللہ کی گرفت آتی ہے تو کائنات کا ایک ذرہ بھی اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس لیے بعض قوموں پر عذاب کے سلسلے میں فرمایا گیا ہے : ” فَمَابَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئَ وَالْاَرْضُ “ پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین روئی۔ اللہ جب کسی قوم کو ڈھیل دیتا ہے تو قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان کے ساتھ رحمت کا سلوک پیش نظر ہوتا ہے تو انھیں مختلف قسم کی تکلیفوں اور آزمائشوں میں مبتلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ پریشان ہو کر اللہ کی طرف رجوع کریں لیکن جب وہ اس پر بھی اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے نافرمانیوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں تو پھر اللہ کا غضب حرکت میں آتا ہے تو ان لوگوں کے لیے رزق کشادہ کردیا جاتا ہے، آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، خوب بارشیں برستی ہیں، زمین کی قوت روئیدگی زمین کو سبزے کا لباس پہنا دیتی ہے۔ ہر طرف فصلیں لہلہانے لگتی ہیں، کاروبار میں ترقی ہوجاتی ہے، خوشحالی میں اضافہ ہوجاتا ہے تو گمراہ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے طور اطوار سے خوش ہے۔ اس لیے ہم پر نعمتوں کی بارش کررہا ہے۔ چناچہ وہ بجائے توبہ کی طرف پلٹنے کے معصیت میں اور دلیر ہوجاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کا غضب عذاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور ایسے لوگوں کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ مصائب اور تکالیف میں عام طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے لیکن خوشحالی اور عیش و عشرت میں انسان ہر نیکی کے کام سے دور، اللہ تعالیٰ سے بےنیاز اور شیطانی قوتوں کا دوست بن جاتا ہے۔ مشرکین مکہ کو بھی ایسی ہی صورتحال سے واسطہ تھا۔ کچھ ہی مدت پہلے ان پر قحط مسلط کیا گیا تھا۔ اس میں ان کا ہر چھوٹا بڑا چیخ اٹھا تھا اور بجائے اپنے شریکوں سے دعائیں کرنے کے اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگے تھے حتیٰ کہ ان کے بعض سرداروں نے نبی کریم ﷺ سے دعا کرنے کے لیے کہا تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی دعا سے ان کا قحط دور کردیا اور خوشحالی پلٹ آئی تو انھوں نے پھر وہی شرک شروع کردیا جو پہلے کرتے تھے اور ان کی سابقہ غفلتیں پھر لوٹ آئیں۔ شاید اس صورتحال کی طرف بھی اشارہ کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مزید مہلت دے دی ہے لیکن یہ مہلت ان کے لیے انتہائی عبرت خیز ثابت ہوگی۔ اس آیت ِ کریمہ میں دو باتیں تو بہت واضح ہیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ سختی کرنے کی بجائے ہمیشہ نرمی فرماتا ہے، انھیں عذاب دینے کی بجائے رحمت کا سلوک کرنا پسند فرماتا ہے۔ اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی رہتی ہے لیکن جب انسان اپنی بندگی کی حدود کو پامال کرتا ہوا سرکشی کی انتہا کو چھونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا ظہور ہوتا ہے جس سے نیک اور بد الگ الگ کردیئے جاتے ہیں۔ نیکوں کو جزاء ملتی ہے اور بروں کو سزا دی جاتی ہے۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر ذمہ داریاں ڈالتا ہے تو اس کی کوتاہیوں پر فوراً نہیں پکڑتا بلکہ اس کی توقعات سے بڑھ کر مہلت عمل دیتا اور سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ اصلاح کی قوتیں برابر اپنا کام جاری رکھتی ہیں لیکن جب بدنصیب لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو پھر وہ انھیں خوشحالیاں دے کر آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے۔ یہ مرحلہ قوموں کے لیے ہمیشہ گراں ہوتا ہے۔ وہ مچھلی کی طرح یہ سمجھتی رہتی ہیں کہ ہم پر یہ نعمتوں کی بارش اللہ کی رضا مندی کا ظہور ہے لیکن حقیقت میں اس ذریعے سے ان کی گرفت کا انتظام کیا جاتا ہے : مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پر شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

جب انسان کو کوئی سخت تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ لیٹا ہوا یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے کرتوت خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔

وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّدَعَانَالِجَنْبِیْہٖٓ اَوْقَاعِدًا اَوْقَآئِمًا ج فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاٗ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ ط کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن۔ (یونس : 12) جب انسان کو کوئی سخت تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ لیٹا ہوا یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے کرتوت خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔ مشرکینِ مکہ کے کردار کی بنیادی خرابی آیتِ کریمہ میں اگرچہ خطاب مشرکین مکہ سے ہے لیکن ان کی نخوت اور تمرد پر چوٹ لگانے کے لیے انھیں خطاب کے قابل نہیں سمجھا گیا اور بجائے ان کا ذکر کرنے کے انسان کے لفظ سے وہ بات فرمائی گئی ہے جس کی وہ چلتی پھرتی تصویر ہیں اور مزید اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں یا بعض من چاہی نشانیاں مانگتے ہیں لیکن جب پروردگار ان کے ان مطالبات کو درخورِاعتنانھیں سمجھتا تو آنحضرت ﷺ پر طنز کرنے لگتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ انھیں منہ مانگی نشانیاں اس لیے نہیں دکھائی جارہیں کہ ان میں ایک خاص بیماری ہے جس نے انھیں حسن کردار سے محروم کردیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جس قوم کا کردار کسی اعتبار سے بھی بھروسے کے لائق نہ ہو اس قوم کے نہ مطالبے لائق اعتنا ہوتے ہیں اور نہ اس کے وعدوں پر اعتبار کیا جاتا ہے اور کسی بھی قوم کے کھوکھلا اور کردار سے عاری ہونے کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ جب اس کو خوشی ملے تو خوشی میں بےقابو ہوجائے اور حقائق کے انکار پر اتر آئے اور ہلکی حرکتیں کرنے لگے اور جب اسے کوئی صدمہ پہنچے تو شکایتوں کے انبار لگا دے اور بےصبری کی انتہا کردے۔ مشرکینِ مکہ کی بھی سیرت و کردار کی خرابیوں نے انھیں اس طرح کا بنادیا تھا کہ جب انھیں کوئی بڑی مشکل پیش آتی تھی اور وہ یقین کرلیتے تھے کہ ہم جن قوتوں کو اللہ کی قدرتوں میں شریک سمجھتے ہیں اس مشکل میں مدد کرنا ان کے بس میں نہیں تو ایسے موقع پر وہ صرف اللہ کو پکارتے تھے اور ان کی پکار کا عالم یہ ہوتا تھا کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں کی برکھا برساتیں اور ان کا انگ انگ سراپا نیاز بن جاتا۔ آہ وزاری ان کا معمول بن جاتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کھا کر ان کی مشکل دور کردیتا۔ ان آیات کے نزول سے کچھ پہلے یہ لوگ قحط کی گرفت میں آئے۔ بارشیں رک گئیں، بادل کا کوئی آوارہ ٹکڑا تک بھی آسمان پر نظر نہ آتا تھا۔ ہر طرف فضاء میں دھول چھائی ہوئی دکھائی دیتی، کھیتیاں اجڑ گئیں، سبزے کی ایک ایک پتی مرجھا گئی، پانی کے جوہڑ خشک ہوگئے، جانوروں کے ریوڑبھوک اور پیاس سے مرنے لگے تو ان کے کردار کی یہی کمزوری سامنے آئی۔ انھوں نے نہ صرف اللہ کے سامنے گڑگڑانا شروع کیا بلکہ ابوسفیان نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ ﷺ کی قوم پر رحم کھائے و رنہ یہ قوم تباہ ہوجائے گی۔ چناچہ آپ ﷺ کی دعا سے جب یہ قحط ٹل گیا تو ان کے کردار کی دوسری کمزوری نے رنگ دکھانا شروع کردیا۔ وہ بہت جلد اس بات کو بھول گئے کہ ہم ایک خطرناک صورتحال سے اللہ کے سامنے آہ وزاری اور اپنی حالت کو بہتر بنانے کے وعدوں کے باعث نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اللہ کے رسول ﷺ نے ہمارے لیے دعائیں کی ہیں تو تب یہ قحط کا عذاب ہم سے ٹلا ہے لیکن اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، یہ ان کے کردار کی مستقل کمزوری ہے کہ جب ان کی مصیبت ٹل جاتی ہے جس نے انھیں ہلا کر رکھ دیا تھا تو وہ اس طرح بدل جاتے ہیں جیسے انھوں نے کبھی اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر رو رو کر دعائیں نہیں کی تھیں اور کبھی کسی مصیبت کی گرفت میں نہیں آئے تھے اور انھوں نے اس سے نکلنے کے لیے کبھی اللہ تعالیٰ سے وعدے نہیں کیے تھے۔ اخلاق و کردار کی یہ کمزوری صرف اس لیے ان میں پیدا ہوئی ہے اور اب ان کی طبیعتِ ثانیہ بن گئی ہے کہ وہ حد سے گزر جانے والے لوگ ہیں۔ اللہ کی ایک ایک حد کو پامال کرچکے ہیں۔ انسانی خصائص اور کریمانہ اخلاق سے تہی دامن ہوچکے ہیں۔ قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا قوم اللہ کی حدود کو پامال کرنے میں جری ہوجاتی ہے اور کوئی سا جرم اور کوئی سی گھٹیا حرکت کرتے ہوئے انھیں نہ اللہ کا خوف آتا ہے نہ انسانیت کی شرم مانع ہوتی ہے تو ایسی قوم پر اللہ تعالیٰ شیطان مسلط کردیتے ہیں۔ وہ ان کی بداعمالیوں کو بنا سنوار کر اس طرح ان کے سامنے پیش کرتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ بداعمالیوں کو نیک عمل سمجھنے لگتے ہیں۔ خیر و شر کے امتیاز سے محروم ہوجاتے ہیں۔ حسن و قبح کی پہچان ان کی نگاہوں سے نکل جاتی ہے۔ وہ ہر چیز کو شیطان کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ نہایت چابکدستی سے بدترین اعمال و اخلاق کو خوبصورت ترین اعمال کی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ شیطان کا کام انسان کو بہکانا ہے اور وہ کبھی بھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جو احسانات فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ انھیں عقل کی دولت سے بہرہ ور فرمایا ہے۔ اگر عقل خواہشاتِ نفس کی پیروکار نہیں بنتی اور اس کا میزان خواہشات سے آلودہ نہیں ہوتا تو وہ عموماً انسان کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور جو معاملات انسانی عقل سے بالا ہوتے ہیں پروردگار عالم ایسے معاملات میں اپنے فرشتوں کے ذریعے انسان کو رہنمائی بھی دیتا ہے اور حفاظت بھی فرماتا ہے لیکن جب آدمی خواہشِ نفس کی پیروی میں اندھا ہوجاتا ہے اور بجائے اقدار انسانی سے محبت کرنے کے درہم و دینار، عہدہ و منصب اور شہرت کی ہوس کا شکار ہوجاتا ہے اور یہی چیزیں اس کا محبوب بن جاتی ہیں تو پھر وہ اللہ کی حفاظت سے نکل جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب شیطان کو اس پر حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور پروردگار نہ صرف اسے اپنی حفاظت سے محروم کردیتا ہے بلکہ شیطان کے حملوں کے امکانات پیدا فرما دیتا ہے۔ اسی بات کی خبر دیتے ہوئے قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے وَمَنْ یَعْشُ عَنْ ذِکْرِالرَّحْمٰنِ نُقَیِضْ لَہٗ شَیْطَانَاً فَھُوَلَہٗ قَرِیْنٌ اور جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں۔ وہ اس کا مستقل ساتھی بنا رہتا ہے۔ وہ ہر گمراہی میں نہ صرف اس کا ساتھ دیتا ہے بلکہ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ برے سے برے عمل کو اسے خوشنما بناکے دکھاتا ہے۔ چاریاری، شراب کی مجلسیں اور عیاشیاں اس کے وسائل کو چاٹتی چلی جاتی ہیں لیکن شیطان اسے اس طرح ان چیزوں کا خوگر بنا دیتا ہے کہ وہ ان سے الگ ہونا اپنی موت سمجھتا ہے۔ ایسا فرد یا ایسی قوم اس سوار کی مانند ہوجاتے ہیں جو اپنے گھوڑے کے قابو آگیا ہو۔ وہ اس وقت تک اس کی پشت سے چمٹا رہتا ہے جب تک وہ اسے کسی کھائی میں پھینک نہیں دیتا۔ مشرکینِ مکہ اسراف کا شکار ہوکراسی صورتحال سے دوچار تھے۔ شیطان ان کا ساتھی بن چکا تھا۔ وہ نہ صرف اس کی محبت کے اسیر تھے بلکہ شیطان کی غلامی ان کا سرمایہ حیات بن چکی تھی۔ جس طرح سیاسی اور تہذیبی غلامی انسان کے ضمیر کی آواز کو خاموش کردیتی ہے اور ایسے غلاموں کی بصیرت پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح وہ لوگ جو شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور اس کی غلامی ان کا طرہ امتیاز بن جاتی ہے۔ وہ بھی سیرت و کردار کی ہر خصوصیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا : بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرفت پر کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا آج امت مسلمہ بالعموم اور پاکستان میں بسنے والی مسلمان قوم بالخصوص ایسے ہی آزار کا شکار ہے۔ اللہ نے پاکستان جیسا عظیم ملک دے کر ہم پر احسان بھی فرمایا تھا اور ذمہ داریوں سے گراں بار بھی کیا تھا۔ ہمیں صرف اس ملک کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کی آزادی ہی نہیں بخشتی تھی بلکہ اس ملک کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا بھی ہماری ذمہ داری تھی۔ ریاست مدینہ کے بعد یہ پہلی ریاست تھی جو اسلام کے نام پر بنی تھی لیکن ہم نے آہستہ آہستہ اس کے مقاصد کو نظرانداز کردیا اور اپنی زندگی الاٹمنٹوں اور دولت کے حصول، عہدہ و منصب کی پرستش اور جنگ زرگری کے لیے وقف کردی۔ ہم نے اسلامی شریعت کی حدود کو اس طرح پامال کیا کہ اس کا احساس بھی مٹ گیا۔ چناچہ اسی اسراف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شیطانی قوتوں کو ہم پر مسلط کردیا۔ آج ہم ان سے نجات کے لیے اگر کوشش کرتے ہیں تو شیطانی وسائل اور قوتیں ہمارے راستے میں حائل ہوجاتی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں اور اپنی بدحالی کا شکوہ کرتے ہیں تو ادھر سے ایک ہی آواز آتی ہے : جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

بیشک ہم نے تم سے پہلے کئی عظیم قوموں کو ہلاک کیا جب وہ زیادتیاں کرنے لگے اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایسے نہیں تھے کہ ایمان لاتے۔ اسی طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا لا وَجَآئَ تْہُمْ رُسُلُُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَمَا کَانُوْا لِیْؤْمِنُوْا ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (یونس : 13) (بیشک ہم نے تم سے پہلے کئی عظیم قوموں کو ہلاک کیا جب وہ زیادتیاں کرنے لگے اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایسے نہیں تھے کہ ایمان لاتے۔ اسی طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں) ۔ اس آیت کریمہ میں ” قرن “ کا لفظ آیا ہے۔ اس کا معنی عموماً (ایک عہد کے لوگ یا صدی) ہوتا ہے لیکن قرآن کریم اسے عام طور پر ایسی قوم کے معنی میں استعمال کرتا ہے جو اپنے دور میں غیرمعمولی عروج کی مالک رہی ہو۔ سابقہ امتوں کی ہلاکت سے عبرت دلائی جارہی ہے روئے سخن مشرکینِ مکہ کی طرف ہی ہے۔ انھیں توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم منہ پھاڑ کر اللہ کے نبی سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو اور جب عذاب نہیں آتا تو تم سجھتے ہو کہ یہ محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں حالانکہ عذاب میں تاخیر اللہ کی طرف سے رحمت ہے۔ کوئی شخص یا کوئی قوم اپنی نادانی سے اگر اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہے تو وہ اگرچہ عذاب کی مستحق بھی ہوچکی ہو جب بھی اللہ کی رحمت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے سنبھلنے کا موقع دیتی ہے۔ عذاب کے آنے میں تاخیر دراصل ایک موقع ہوتا ہے کہ شاید یہ نادان سنبھل جائے لیکن جس کی نادانی حد سے بڑھ جاتی ہے وہ سنبھلنے کی بجائے اور دلیر ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو یہاں خطاب فرمایا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی بڑی بڑی قومیں گزر چکی ہیں۔ تمہیں ان سے کوئی نسبت نہیں۔ وہ وسیع حکومتوں کی مالک تھیں، ان کی حکومتوں کا پھریرا وسیع خطہ ارض پر لہراتا تھا، ان کی طاقت اور قوت کی دھاک دنیا پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ان کے وسائل کا کوئی شمار نہ تھا، ان کی فوجی قوت لاجواب تھی، زمین سے دھاتوں کی صورت میں ان کے لیے دولت اگلی جارہی تھی لیکن جب انھوں نے اللہ کے نبیوں کے سامنے تمرد اور انکار کا شیوہ اختیار کیا حتیٰ کہ وہ اللہ کے رسولوں کو قتل کرنے پر تل گئے تو بالآخر ان پر خدا کا عذاب ٹوٹا۔ ان میں سے کتنی قومیں ہیں جن سے تم بھی واقف ہو۔ تمہارے تجارتی قافلے ان کے کھنڈرات سے گزرتے ہیں۔ ان کی تاریخ سینہ بہ سینہ تم تک پہنچی ہے۔ تم اگر کسی نصیحت سے اثر قبول کرنے کے قابل نہیں رہے تو ان قوموں کی تاریخ سے سبق سیکھو۔ قوم عاد، قوم ثمود ، قوم فرعون اور قوم لوط کی تاریخ سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ آج ان کے کھنڈرات ان کی ہلاکت اور تباہی پر نوحہ کناں ہیں۔ ان کے تراشے ہوئے محلات جہاں ان کی ترقی کی علامت ہیں وہیں ان کی بدنصیبی کے گواہ بھی ہیں۔ تم آخر ان کی تاریخ کے وارث کیوں بننا چاہتے ہو۔ تم حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے وارث ہو۔ قوم بنی اسرائیل جو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد تھی کتنی دفعہ عذاب کا شکار ہوئی۔ تم بجائے ان کے راستے پر چلنے کے اپنا حق وراثت ادا کرو اور جن قوموں پر اللہ کا عذاب آیا ان کی تاریخ سے عبرت پکڑو اور اچھی طرح یقین کرلو کہ ان پر عذاب صرف اس لیے آیا کہ انھوں نے اللہ کے رسولوں پر ایمان لانے سے انکار کردیا حالانکہ وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے۔ انھوں نے ہر لحاظ سے ان پر اتمامِ حجت کیا لیکن جب ان کا انکار جرم کی صورت اختیار کرگیا اور ان کے ظلم کا ہاتھ اللہ کے نبیوں اور ایمان لانے والوں تک دراز ہوتا چلا گیا تو پھر اللہ تعالیٰ کا غضب حرکت میں آیا اور ان پر وہ عذاب ٹوٹا جو ہمیشہ مجرموں پر آتا رہا ہے۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

اب ہم نے تمہیں ان کے بعد زمین میں ان کا جانشین بنایا ہے تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ م بَعْدِھِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعمَلُوْنَ ۔ (یونس : 14) (اب ہم نے تمہیں ان کے بعد زمین میں ان کا جانشین بنایا ہے تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ) عرب کی کتنی قومیں تباہ کردی گئیں اور بنی اسرائیل اپنی بداعمالیوں اور بداطواریوں کے باعث دنیا کی امامت کے منصب سے معزول کردیئے گئے۔ (اب تمہیں اے عرب کے لوگو) اس سرزمین میں ان کا جانشین بنایا گیا ہے اس لیے نہیں کہ تم عرب کے وسائل سے فائدہ اٹھائو، تم ان کے کھنڈرات پر حکومت کرو اور جیسے انھوں نے اپنی من مرضی کی زندگی گزاری تم بھی ویسی ہی زندگی گزارو بلکہ تمہیں اس لیے ان کے بعد اس سرزمین میں اٹھایا گیا ہے اور تمہاری طرف اللہ کے آخری رسول کو مبعوث کیا گیا ہے اور زندگی کے ضابطے کے طور پر تمہاری طرف آخری کتاب بھیجی گئی ہے تاکہ ہم یہ دیکھیں کہ تم اس سرزمین میں کیسے زندگی گزارتے ہو۔ تم ان کی تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہو یا ان جیسا بن کر رہنے کو کافی سمجھتے ہو۔ تم اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کی رہنمائی میں زندگی گزارتے اور اپنی فرائض ادا کرتے ہو یا تم بھی یہ سمجھتے ہو کہ ہمیں حیوانوں کی طرح اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہے۔ ہم میں کامیاب وہ ہے جو زیادہ سے زیادہ کلغیاں سر پر سجائے، جو دولت کے انبار اکٹھے کرے، جس کے شب و روز نفس کے عیش میں گزرتے ہوں۔ اگر ایسا ہے تو پھر تمہاری منزل وہی ہے جہاں وہ قومیں پہنچی ہیں جن پر اللہ کا عذاب آیا اور اگر تم اس انجام تک پہنچنا نہیں چاہتے ہو تو پھر اس بات کو دل و دماغ میں بٹھا لو کہ تم ہر وقت اللہ کی نگاہ میں ہو۔ اس نے تمہیں زندگی عیش کرنے کے لیے نہیں دی بلکہ اس لیے دی ہے تاکہ وہ تمہارے اعمال کا جائزہ لے۔ وہ دیکھے کہ تم نے اس کی عطا کردہ زندگی جیسی نعمت کو کس طرح گزارا، تمہاری جوانی کیسے گزری، تمہارا مال کہاں سے آیا اور کہاں خرچ ہوا، لیکن یہ سوچ اسی صورت نصیب ہوسکتی ہے کہ تم اللہ کے رسول پر ایمان لائو، ان کی صحبت سے فائدہ اٹھائو، ان پر جو کتاب اتری ہے اسے آویزہ گوش بھی بنائو اور وظیفہ عمل بھی۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے نتیجے میں تم دنیا میں بھی سرخرو ہوسکتے ہو اور آخرت میں بھی کامیاب ہوسکتے ہو۔ اے کاش ! قرآن کریم کی اس ہدایت کی روشنی میں پاکستان میں بسنے والے لوگ بھی کبھی اپنا جائزہ لے سکیں۔ ہم ہندوستانی آبادی کا ایک حصہ تھے۔ یہاں انسانوں کے وسیع جنگل میں ہماری ایک محدود تعداد تھی۔ یہاں کی خونخوار اکثریت نہ صرف ہمارا خون نچوڑتی تھی بلکہ ہمارا دین بھی ان کے ہاتھوں خطرے میں تھا اور آئندہ بننے والی جمہوری حکومت میں ہمارے حقوق کی بازیافت کی کوئی امید نہ تھی۔ فاتح اور حکمران قوم کفر میں ہم آہنگی کی وجہ سے اکثریت کے ساتھ تھی۔ اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے پاکستان جیسی نعمت ہمیں عطا فرمائی، اپنا ملک ملا، اپنا وطن ملا، اپنی خوشیاں اور اپنے غم ملے، ہمیں اپنی زندگی بنانے کا موقع ملا، ہمیں آزادی ملی جس میں ہم اپنے دین کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزار سکتے تھے۔ یہاں سے جانے والوں کا ہمیں جانشین بنایا گیا اور یہ سب کچھ اس لیے عطا ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ برابرہماری نگران رہے کہ ہم اس امانت کا حق ادا کرتے ہیں یا نہیں اور جن وعدوں پر ہم نے یہ ملک حاصل کیا، کیا وہ وعدے ایفا کرتے ہیں یا نہیں لیکن اس کا کیا، کیا جائے : ہم کو لازم تھا بدلتے نظم میخانہ تمام ہم نے بدلا ہے مگر بس ایک میخانے کا نام
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ردوبدل کرو۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے مجھے یہ اختیار نہیں ہے کہ میں اس میں اپنی طرف سے کچھ ترمیم کردوں۔ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ لا قَالَ الَّذِیْنَ لاَیَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِھٰذَآ اَوْبَدِّلْہُ ط قُلْ مَایَکُوْنُ لِیْ ٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآیِٔ نَفْسِیْ ج اِنْ اَتَّبِعُ اِلاَّ مَایُوْحٰیٓ اِلَیَّ ج اِنِّیْ ٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (یونس : 15) ( جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ردوبدل کرو۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے مجھے یہ اختیار نہیں ہے کہ میں اس میں اپنی طرف سے کچھ ترمیم کردوں۔ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ) مشرکینِ مکہ کی جانب سے قرآن میں ترمیم کا مطالبہ گزشتہ آیات کریمہ میں ہم نے دیکھا ہے کہ پروردگار نے ان کی کمزوریوں کو کھول کر بیان کیا ہے اور انھیں سمجھایا ہے کہ تمہاری قومی اور اخلاقی زندگی اس لیے تباہی کا شکار ہوئی ہے کہ تم میں یہ یہ کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ تم برسوں سے اس راستے پر چل رہے ہو جو ان قوموں کا راستہ ہے جو اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ تم ان کے کھنڈرات سے گزرتے ہو، تمہیں ان کی تباہی کے اسباب سے پوری طرح آگاہی ہے۔ تمہارے لیے عافیت اسی میں ہے کہ یہ تباہی کا راستہ چھوڑ کر اللہ کے رسول پر ایمان لائو اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہیں ان قوموں کا جانشین بنایا گیا ہے تو یقیناً تم سے اس بات کی امید کی جاتی ہے کہ تم اپنے اندر وہ صفات پیدا کرو گے جس کی تعلیم اللہ کے رسول نے دی ہے اور کتاب خداوندی جن کی رہنما ہے اور ان برائیوں اور ضلالتوں سے بچو گے جس کے نتیجے میں پہلی قومیں تباہ ہوئیں لیکن جب قوموں کا زوال اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ان میں قبولیت کی استعداد یا تو مرجاتی ہے اور یا نہ ہونے کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ مشرکینِ مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ اتنی واضح تنقید اور توضیح کے بعد بھی بجائے اس کے کہ اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرتے الٹا یہ مطالبہ کرنے لگے کہ یہ قرآن جو ہمیں سنایا جارہا ہے اگرچہ اس کی آیات بالکل واضح اور اپنے مفہوم میں قطعی ہیں لیکن ہمارے لیے قابل قبول نہیں کیونکہ ان میں وہ باتیں کہی جاتی ہیں جنھیں تسلیم کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ اگر وہ باتیں آپ اس قرآن کریم سے نکال دیں یا اس قرآن کی بجائے اور قرآن لے آئیں جس میں اس طرح کی باتیں نہ ہوں تو پھر شاید ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے بتوں پر تنقید کریں اور شریعت کے وہ احکام لائیں جو ہمارے رسم و رواج کے خلاف ہوں۔ حلال و حرام کی ایسی پابندیاں لگائیں جس سے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے۔ ایسے مکارمِ اخلاق کی تعلیم دیں جس میں ہماری خواہشات نفس کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ اگر آپ واقعی اس بات پر مصر ہیں کہ ہم آپ پر ضرور ایمان لائیں تو اولاً تو قرآن دوسرا بدل کر لایئے لیکن اگر یہ منظور نہیں تو ایسی ترمیمات تو ضرور کردیجیے جس میں ہمارے طرززندگی کے لیے بھی گنجائش نکل سکے۔ آپ شوق سے خدا پرستی کی تعلیم دیجیے لیکن ہماری نفس پرستی اور دنیا پرستی کے لیے تو گنجائش ہونی چاہیے۔ مشرکین کی اصل گمراہیاں مشرکینِ مکہ دراصل یہ سمجھتے تھے کہ یہ کتاب یقیناً محمد ﷺ نے خود لکھی ہے۔ وہ اللہ کی طرف اسے نازل کردہ نہیں مانتے تھے۔ اس لیے وہ آپ پر زور دیتے تھے کہ آپ اسے واپس لے لیجئے یا اس میں کچھ ترمیمیں کرنا گوارا کرلیجئے اور دوسری خرابی ان کی یہ تھی کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے ان کے لیے ہر وہ کام جائز تھا جس سے دنیا میں معاملات کو سلجھایا جاسکے یا کسی طرح کام چلایا جاسکے۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کل کو اللہ کے یہاں اس کی جوابدہی ہوسکے گی یا نہیں۔ اس لیے نبی کریم ﷺ سے آیت کے دوسرے حصے میں جو جواب دلوایا گیا ہے اس میں دونوں باتیں نمایاں ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ میں اس کتاب میں اپنی طرف سے کسی تبدیل کرنے کا مجاز نہیں کیونکہ یہ کتاب اللہ کا کلام ہے، میری تصنیف نہیں۔ تم نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے اور کانوں میں ڈاٹ لگا لی ہے تو اور بات ہے ورنہ تم بھی جانتے ہو کہ وہ کلام کسی انسان کے کلام کے مشابہ نہیں۔ جس طرح اللہ کی ذات بےمثال ہے اسی طرح اس کا کلام بھی بےمثال ہے۔ اس کے الفاظ، اس کی تراکیب، اس کے جملے، اس کے محاورے، اس کی تلبیحات، اس کی ضرب الامثال، اس کی پیشگوئیاں، اس کے علمی محاکمے، اس کی تبشیر، اس کا انذار، اس کے وعدے، اس کی وعید کوئی چیز ایسی نہیں جس کی نظیرلانا انسان کے بس میں ہو۔ اس کلام کی شیرینی، اس کی بندش اور چستی، اس کی تاثیر اور قوت، اس کا ابلاغ اور اس کی گہرائی، اس کا اجمال اور اس کی وسعت کوئی چیز بھی انسان کی طاقت میں آنے والی نہیں۔ اس کے باوجود تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے وہ کلام لکھا ہے اس لیے مجھے اس میں ترمیم کرنے کا اختیار ہے تو اس کے سوا اور کیا ہے کہ تمہاری عقلوں پر ماتم کیا جائے۔ تمہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ میں جس زبان میں بات کرتا ہوں اور جس اسلوب میں نصیحت کرتا ہوں اور جس سطح سے خطاب کرتا ہوں اور جس طرح حالات سے متأثر ہوتا ہوں ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے کلام میں نظر نہیں آتی۔ اس کی ہر ادا انسانی ادائوں سے ماورا ہے اور اس کا ہر انداز انسانی انداز سے جدا ہے تو پھر تم نے یہ کیسے سمجھ لیا ہے کہ وہ کلام میرا ہے اور میں اس میں تبدیلی کا مجاز ہوں اور پھر تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ چونکہ وہ اللہ کا کلام ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں تو میرا کام اس کا امین بن کردکھانا ہے۔ میں اس کا ایسا پیروکار ہوں جو باقی سب کے لیے نمونہ اور اسوہ ہے۔ مجھے ہر صورت میں اور ہر طرح کے حالات میں اس کی کتاب کی پیروی بھی کرنی ہے اور اس کی حفاظت بھی کرنی ہے اور اگر خدا نہ کرے میں اس کے کسی لفظ کو بدلنے کی کوشش کروں یا اس کی کسی بات کو تبدیل کردوں یا کوئی نئی چیز اپنی طرف سے داخل کردوں تو باوجود اس کے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور مجھے اللہ نے ساری کائنات پر فضیلت دی ہے۔ میں اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ تم قیامت کو تسلیم نہ کرو لیکن قیامت کا آنا یقینی ہے جس طرح تمہیں حساب دینا ہے اسی طرح مجھے بھی حساب دینا ہے۔ میں اس آنے والے دن کے عذاب سے خوفزدہ ہوں۔ میں جانتا ہوں وہاں صرف اللہ کا فضل کام آئے گا اور یہ اسی کو شامل حال ہوگا جس نے اس کی فرمانبرداری کی ہوگی۔ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اسی بات کا ذکر فرمایا گیا ہے اور وہاں تیور اور بھی تیکھے ہیں وہاں فرمایا گیا ہے وَلَوْتَقَوَلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لاََخْذَنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَاگر ( ہمارا رسول) اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کے ہماری طرف منسوب کردے، ہم اسے دائیں ہاتھ سے گرفتار کرلیں، پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیں۔ اندازہ کیجیے کہ نبی کریم ﷺ معصوم ہیں۔ آپ ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپ ﷺ قرآن کریم کے امین ہیں، قرآن آپ کے دل پر نازل ہوا، آپ کسی طرح بھی نہ اس میں کوئی تحریف کرسکتے ہیں اور نہ ترمیم کرسکتے ہیں لیکن انسانوں کو سمجھانے کے لیے یہ فرمایا جارہا ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت اور اس کی حقانیت اس قدر حتمی اور لازمی ہے کہ اگر ہمارا رسول بھی اس میں کسی کمی بیشی کی جرأت کرے تو ہم اسے بھی گرفتار کرلیں گے۔ تو تم نے کس امید پر یہ بات کہہ دی کہ آپ کوئی اور قرآن لے آئیں یا اس میں کوئی ترمیم کردیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں میرا کام اللہ کے کلام کو بدلنا نہیں بلکہ اس کا اتباع کرنا ہے۔ اگر تم واقعی راہ راست اختیار کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں بھی اس کا بلاکم وکاست اس کتاب کا اور میرا اتباع کرنا ہوگا۔ ورنہ اس کے سوا نجات کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ قرآن تم کو کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس سے کبھی باخبر نہ کرتا۔ میں اس سے پہلے ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

قُلْ لَّوْشَآئَ اللّٰہُ مَاتَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَلاَ اَدْرٰکُمْ بِہٖ صلے ز فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (یونس : 16) (اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ قرآن تم کو کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس سے کبھی باخبر نہ کرتا۔ میں اس سے پہلے ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ ) قرآن کے منزل من اللہ ہونے کی دلیل گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکینِ مکہ آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کررہے تھے۔ کہ اگر آپ اس کتاب کو جو بقول آپ کے اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے قابل قبول بنانا چاہتے ہیں تو یا تو نیا قرآن لایئے اور یا اس میں ہماری خواہش کے مطابق تبدیلیاں کردیجیے۔ یہ مطالبہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ قرآن پاک کو اللہ کی طرف سے ” منزل “ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے آنحضرت ﷺ کی تصنیف خیال کرتے تھے۔ آپ نے گزشتہ آیت کریمہ میں بھی اس کا جواب پڑھا۔ اب اس آیت کریمہ میں ایک نہایت واضح اور ناقابل تردیددلیل دی جارہی ہے جو چند مقدمات پر مشتمل ہے جسے ہم ایک ترتیب سے عرض کرتے ہیں۔ 1 پہلا مقدمہ یہ ہے کہ اے مکہ کے رہنے والوتم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کہیں باہر سے نہیں آیا بلکہ تمہارے اسی شہر اور اس شہر کے سربراہ قبیلے قریش کا ایک فرد ہوں۔ میرے قرابت داروں سے یہ شہر بھرا ہوا ہے۔ میرے دادا قبیلہ قریش کے سردار تھے۔ آج بھی میرا خاندان عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میرے والد میرے پیدا ہونے سے پہلے دنیا سے چلے گئے۔ میں یتیمی کا داغ لے کر پیدا ہوا۔ داد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد اگرچہ شفیق چچا نے سہارا دیا لیکن وہ چونکہ قلیل المال اور کثیرالعیال تھے۔ ان کی مالی مجبوریوں کے پیش نظر مجھے بکریاں چرانی پڑیں، انھیں کے دودھ پر میری گزربسر تھی اور اسی دودھ سے میں اپنے چچا کے اہل خانہ کی بھی خدمت بجالاتا تھا۔ شعور کی عمر آئی تو کاروبار میں ہاتھ ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے امکانات پیدا کیے تو کاروبار میری ضرورت کی کفایت کے لیے کافی ہوگیا۔ پھر مکہ ہی کے معزز خاندان میں میری شادی ہوئی۔ اللہ نے بچیاں دیں، ان کے رشتے بھی اپنے ہی قبیلے میں طے پائے۔ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں شب و روز گزرتے رہے۔ مکہ کا باسی ہوتے ہوئے جن حالات سے وہاں کے رہنے والوں کا واسطہ تھا انھیں سے میں بھی گزرتا رہا۔ دوسرے قبیلوں سے اگر تلخیاں پیدا ہوئیں تو انھیں سلجھانے میں میرا ناخن تدبیر بھی کام کرتا رہا۔ کوئی مشاورت ہوتی میں بھی اس میں اپنا فرض ادا کرتا۔ شہر کی معاشرت اور معیشت کا کوئی تقاضا ایسا نہیں جسے پورا کرنے میں، میں نے دلچسپی نہ لی ہو۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ میری تمام مصروفیات کا دائرہ یہی شہر اور یہیں کے حالات تھے۔ میرے تمام تعلقات اسی شہر کے رہنے والوں سے تھے۔ میری تمام قرابت داریاں اسی شہر میں پھیلی ہوئی تھیں۔ میں چونکہ ایک فعال زندگی گزاررہا تھا۔ اس لیے ہر وقت اس شہر کے لوگوں سے میرا ملنا جلنا تھا۔ ان تمام باتوں سے اس کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ میری شخصیت کا تانا بانا اسی شہر سے تیار ہوا اور میرے مزاج اور میرے رویئے کی تشکیل میں اسی شہر کے حالات نے بنیادی کردار ادا کیا۔ 2 سرزمین مکہ باوجود اس کے کہ اللہ کے گھر کی وجہ سے حرم بھی تھا اور محترم بھی۔ اللہ کے گھر کی نسبت سے اسے ایک مرکزیت حاصل تھی اور پاکیزگی بھی۔ پورے عرب کے لیے یہ شہر مرکزعقیدت بھی تھا اور مرکزاعصاب بھی۔ حج وعمرہ کی ادائیگی کے لیے ہر طرف سے آنے والوں اور عبادت کرنے والوں کا سجدہ گاہ بھی تھا اور دارالامان اور پناہ گاہ بھی۔ بایں ہمہ یہاں کے رہنے والے اسی سیرت و کردار اور اسی تہذیب کے پیکر تھے جس کا چلن پورے عرب میں دکھائی دیتا تھا۔ یہاں ہر طرح کی اخلاقی گراوٹ پائی جاتی تھی اور ہر طرح کا شرک پورے زوروں پر تھا۔ دیانت و امانت اور عدالت و رحمت کا دور دور تک نشان نہ تھا۔ معمولی معمولی باتوں پر برافروختہ ہو کر لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجانا ان کا روز کا کھیل تھا۔ شرم و حیاء عفت اور پاکدامنی ان کے نزدیک قابل تعریف تو تھی لیکن اجتماعی عمل میں اس کا کوئی حصہ نہ تھا۔ عقیدے اور عمل، اخلاق اور معاملات کی خرابیاں ہوا اور پانی کی مانند تمام عرب کی طرح اس بلدامین میں بھی پھیلی ہوئی تھیں۔ 3 اس شہر کی بنیاد اگرچہ اللہ کے عظیم رسولوں نے رکھی۔ انھیں کے ہاتھوں اس زمین پر اللہ کا پہلا گھر تعمیر ہوا۔ انھیں کی دعائوں سے اس گھر کو مرکزیت ملی۔ انھیں کی التجاؤں سے اس شہر کے رہنے والوں کے لیے رزق کا سامان ہوا۔ بایں ہمہ ان عظیم رسولوں کا علم اس شہر سے اٹھ چکا تھا۔ ان کی شریعت یا ان کی شخصیت کا کوئی شعبہ بھی باقی نہ رہا تھا۔ یہاں کے لوگ بھی باقی لوگوں کی طرح فطری سادگی پر زندگی گزار رہے تھے۔ نوشت و خواند کی حد تک بھی کوئی پڑھا لکھا آدمی بمشکل دستیاب ہوتا تھا۔ علم و تہذیب کی کوئی خوبی، شرافت کی کوئی قدر، تہذیب انسانی کا کوئی پرتو ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا تھا۔ جہالت اور امیت پر فخر کیا جاتا تھا۔ شرک ان کے لیے باعث ندامت ہونے کی بجائے باعث فخر بن چکا تھا۔ ایک حیوانی زندگی تھی جس میں کسی کو بھی تبدیلی گوارا نہ تھی۔ صلاحیتوں کی کمی نہ تھی لیکن جہالت کی مٹی میں مل کر وہ مٹی ہوچکی تھیں۔ مندرجہ بالا تین مقدمات یا تین نکات کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ کیجیے کہ اس ماحول میں آنکھیں کھولنے والے اور تربیت پانے والے بچے کے بارے میں آپ کیا امید قائم کرسکتے ہیں۔ کیا ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والا نوجوان شرم و حیاء کا پیکر ہوسکتا ہے۔ کیا جہالت پر جان دینے والے ماحول میں اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ اچانک کسی کے منہ سے فصاحت و بلاغت اور علم و حکمت کے چشمے ابلنے لگیں گے۔ کیا ایک محدود ماحول اور امیت کے سائے میں عمر گزارنے والے شخص سے توقع کی جاسکتی ہے کہ کبھی وہ دنیا کا امام اور رہنما بن کر اٹھے گا کہ دنیا اس سے علم بھی سیکھے گی، تہذیب بھی حاصل کرے گی اور اخلاق کی دولت بھی پائے گی۔ وہ ایک ایسی زندگی کا مناد بن کر اٹھے گا جس کا ایک سرا اگر اس دنیا میں ہوگا تو دوسرا سرا آخرت میں ہوگا اور دونوں میں اس طرح کا مضبوط تعلق ہوگا جس میں علم کی روشنی بھی ہوگی اور زہد و پارسائی کی پاکیزگی بھی، جس میں نفس کی پیروی کی بجائے نفس کو قابو رکھنے کی تعلیم بھی ہوگی اور تربیت بھی، جس کے نتیجے میں شرک سے معمور سرزمین کلمہ توحید سے منور ہوجائے گی۔ ڈنگروں کی طرح زندگی گزارنے والے لوگ اخلاق کے معلم بن کر اٹھیں گے۔ اگر علم و عقل کی بارگاہ سے اس کا جواب مانگا جائے تو یقیناً نفی میں ہوگا۔ اس لیے کہ کوئی عقلمند آدمی یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ جھلستے ہوئے ریگستان سے کبھی حباب بھی اٹھ سکتے ہیں اور کبھی خزاں رسیدہ چمن میں پھول بھی کھل سکتے ہیں اور کبھی کانٹوں کی باڑ پر کلیاں بھی چٹک سکتی ہیں اور کبھی درندہ صفت انسانوں میں رحمت و مؤدت کے پیکر بھی سراٹھا سکتے ہیں۔ اگر عقل کے نزدیک یہ سب کچھ واقعی ناممکن ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ محمد ﷺ اگر اللہ کے رسول نہیں تھے تو جاہل معاشرے میں پل کر وہ سب سے بڑے عالم کیسے ہوگئے جنھوں نے کبھی کسی مکتب کا منہ نہ دیکھا تھا اور کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا تھا ان کی زبان سے علم کے سوتے کیسے پھوٹنے لگے۔ انھوں نے پتھر دل انسانوں میں زندگی گزاری تھی۔ تو ان کی زبان سے محبت کے پھول کیسے جھڑنے لگے اور ان کی ذات ہیروں سے بڑھ کر تابانی کا پیکر کیسے بن گئی۔ انھوں نے کبھی کسی مذہبی رہنما کی صحبت نہیں اٹھائی تھی تو وہ دنیا کے لیے ہدایت کا استعارہ کیسے ٹھہرے۔ وہ اسی زبان میں گفتگو کرتے تھے جو قریش اور بنوسعد کی زبان تھی لیکن اچانک ان کی زبان سے ایسی کتاب کی آیات کیسے سنائی دینے لگیں کہ جس کتاب کی ایک آیت کا مقابلہ بھی دنیا بھرکے فصیح وبلیغ انسان نہ کرسکے۔ اگر کسی آدمی میں غور و فکر کی تمام صلاحیتیں اور غیرجانبداری کی تمام مروتیں اور علم کے تمام تقاضے مر نہیں گئے تو وہ یقیناً اس سے ہٹ کر اور کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ایسے ماحول میں پلنے والا نوجوان نہ شرم و حیاء کا پیکر ہوسکتا ہے اور علم و معرفت کا سرچشمہ۔ اس کی زبان سے ایسا شعر تو سنا جاسکتا ہے جو امرؤالقیس کے اشعار سے بھی بہتر ہو لیکن ایسے کلام کی امید نہیں کی جاسکتی جس کی مثال لانے سے پوری دنیا عاجز ہو۔ ایسے ماحول میں اٹھنے والا کوئی شخص کسی بھی قبیلے کا کامیاب سردار تو ہوسکتا ہے لیکن صرف دنیا کا نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی دنیا کا رہنما نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ سب کچھ صحیح ہے تو پھر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ صاف اس بات کو تسلیم کرلیجئے کہ محمد ﷺ اپنی ذات میں سب کچھ ہوسکتے تھے لیکن وہ، وہ نہیں ہوسکتے تھے جیسا تم انھیں دیکھتے ہو۔ ان کے اندر قصی، عبدمناف یا عبدالمطلب کی ذہانت تو ہوسکتی تھی لیکن وہ رحمت اللعالمین نہیں ہوسکتے تھے۔ وہ مکہ والوں سے حُسنِ اخلاق کے سرٹیفکیٹ تو لے سکتے تھے لیکن وہ کبھی سیدالمرسلین نہیں کہلا سکتے تھے۔ اس لیے ان کی شخصیت، ان کی سیرت اور ان کے کمالات کو دیکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ کی یہ مشیت تھی کہ وہ دنیا پر احسان کرے اور ایسی ذات والا تبار کو دنیا کی رہنمائی کے لیے بھیجے اور اس کے اندر وہ تمام کمالات اور خوبیاں پیدا کردے جو آج تک کسی میں جمع نہ ہوسکیں اور قیامت تک کے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ان کی ذات کو مینارہ نور بنا دے۔ عقل سلیم اس کے سوا کوئی اور فیصلہ دینے سے عاجز ہے : حُسنِ یوسف دم عیسیٰ یدِبیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بیشک مجرم فلاح پانے والے نہیں بنیں گے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (یونس : 17) (اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بیشک مجرم فلاح پانے والے نہیں بنیں گے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ کے رسول کی صداقت اور قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے پر جو واقعی اور مشاہداتی دلائل دیئے گئے ہیں جو شخص ان دلائل کو بھی تسلیم نہیں کرتا یا ان دلائل سے لاجواب ہونیکے بعد اس کے نتیجے کو قبول نہیں کرتا تو اس سے دو ہی باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کا نبی، نبی ہو کر بھی اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور ایک جھوٹی بات اس کی طرف منسوب کرتا ہے اور اگر یہ بات نہیں تو پھر دوسری بات یہ کہ قرآن ِ کریم کو منزل من اللہ ماننے سے انکار کرنے والا خود اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اور اس کی آیات اور اس کے احکام کا انکار کررہا ہے۔ ان دونوں باتوں میں سے کوئی سی بات بھی ہو ہر شخص اسے تسلیم کرے گا کہ اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ ظلم سے مراد یک ایسی بات ہے جو سراسر فطرت اور عقل کے خلاف ہو اور کوئی بھی سلیم الفطرت اور صحیح العقل آدمی کبھی اسے تسلیم نہ کرسکے بلکہ وہ محسوس کرے کہ یہ ایک ایسی بات کہی جارہی ہے جو قابل تسلیم حقائق کے بالکل خلاف اور الٹ ہے اور اگر اس لحاظ سے اس آیت کریمہ پر غور کیا جائے تو اس بات کی تائید کیے بغیر چارا نہیں کیونکہ ایک ایسی پاکیزہ ذات جس نے چالیس سال تک بگڑے ہوئے انسانوں میں زندگی گزاری لیکن اس کے باوجود اس کی سیرت، ہر طرح کے عیوب اور نقائص سے پاک رہی۔ اس کی قوم کے جاننے والے لوگ بالاتفاق اسے صادق اور امین کہتے بھی رہے اور مانتے بھی رہے۔ ایسی ذات بابرکات سے کوئی عقل والا آدمی کبھی یہ توقع نہیں کرسکتا کہ اس نے بندوں کے ساتھ تو کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا شروع کردے۔ اس لیے کہ معمولی کردار کا آدمی بھی اللہ کریم کے بارے میں بات کہتا ہوا جھجکتا ہے۔ وہ ساری دنیا سے جھوٹ بول سکتا ہے، بہتان باندھ سکتا ہے لیکن اللہ کے بارے میں ایسی جسارت کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ چہ جائیکہ اس ذات کے بارے میں ایسا تصور کیا جائے جس نے انسانوں کے ساتھ بھی کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی افترا نہ کیا ہو۔ ان سب باتوں کا ایک ہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ اللہ کے رسول کی طرف جھوٹ کا انتساب خلاف دیانت بھی ہے اور خلاف عقل بھی۔ البتہ دوسری بات خودبخود ثابت ہوجاتی ہے کہ منکرین اللہ کی آیات کی تکذیب کررہے ہوں۔ اس لیے ان کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے لیکن اگر وہ ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر اس کا کون فیصلہ کرے گا کہ ظالم اللہ کے رسول تھے یا ان کا انکار کرنے والے۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مجرم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ اللہ کے رسول اور اس کے مخالفین کے درمیان جب حق و باطل کی کشمکش ہوتی ہے تو فلاح اور غلبہ ہمیشہ اللہ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کو ملتا ہے۔ دنیا میں بھی بتدریج حق کو ہی غلبہ ملتا ہے اور آخرت میں تو ان کی کامیابی میں کوئی شبہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ بعض لوگ جب کبھی جھوٹی نبوت کے دعویٰ کرنے والوں یا اہل باطل کو پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں تو انھیں یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ اللہ تو فرماتا ہے کہ مجرم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ جھوٹی نبوت کا دعویٰ یا حق کے ساتھ آویزش سے بڑا جر م اور کیا ہوسکتا ہے تو پھر ایسے لوگ کس طرح کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ درحقیقت ایسا کہنے والے تین باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ پہلی یہ بات کہ یہ آیت کریمہ نبی کریم ﷺ اور مخالفین کی مخالفت اور آویزش کے تناظر میں آئی ہے اس سے جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف اپنا رسول بھیجتا ہے تو اگر قوم اس کی دعوت کو قبول کرلیتی ہے تو وہ فلاح یاب ہوجاتی ہے لیکن اگر اس کا انکار کردیتی ہے تو حق و باطل کی کشمکش کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اہل باطل اہل حق کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن رسول اور اس پر ایمان لانے والے برابر دین کے غلبے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ بالآخر ایک وقت آتا ہے جب دین غالب آجاتا ہے۔ کبھی تو رسول کی زندگی میں ہو اور کبھی اس کے بعد ہو۔ لیکن اگر وہ قوم بالاجماع رسول کی دعوت ماننے سے انکار کردیتی ہے تو اللہ اپنے رسول اور اس کے متبیعین کو وہاں سے نکال لیتا ہے اور مخالفین پر عذاب کا کوڑا برستا ہے اور انھیں مٹا دیا جاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ رسول تو دنیا میں موجود نہیں لیکن اہل حق کی کشمکش اہل باطل سے جاری ہے۔ اسی صورت میں جب تک اہل حق تقویٰ ، اخلاص اور جہاد کی مطلوب قوت میدان میں نہیں لے آتے اس وقت تک اہل باطل کو ڈھیل ملتی رہتی ہے۔ پروردگار ان کی رسی دراز کرتا چلا جاتا ہے اور اس کشمکش میں اہل حق بھی کام آتے ہیں لیکن ان کی فلاح و کامیابی پر اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حقیقی فلاح قیامت کے دن ہمارے انتظار میں ہے۔ یہاں کی فلاح یہ ہے کہ اللہ کے دین کے غلبے کے لیے آدمی سب کچھ قربان کردے۔ اور قیامت کی فلاح یہ ہے کہ وہاں اس کا ایسا بدلا ملے جس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تیسری بات یہ کہ ” فلاح “ طویل عمر، دنیاوی خوشحالی یا دنیاوی فروغ کو نہیں کہتے۔ اسلام کی اصطلاح میں حقیقی فلاح وہ ہے جس پر کسی خسران کا سایہ نہ پڑے۔ دین کی جو بنیادی صداقتیں ہیں ان پر یقین اور عمل میں کوئی کمی نہ آئے۔ حق کے راستے پر چلنے والا ہمیشہ حق کی پہچان بنا رہے۔ دنیاوی پریشانیاں آئیں تو ان پر صبر و استقامت کی تصویر بن جائے اور یہ یقین رکھے کہ آج کی ایک ایک مصیبت کل کے ایسے اجر وثواب کی ضامن بنے گی جس کے سامنے دادودہش اور انعام و اکرام کے تمام پیمانے ٹوٹ جائیں گے۔ ایسی فلاح اور کامیابی یقیناً صرف اللہ اور رسول کے فرمانبرداروں کو ہی نصیب ہوتی ہے، مجرموں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔